نظم: ۔۔۔اگر تم ساتھ نہ دو ٭ نعیم صدیقی

نعیم صدیقی صاحب کی ایک طویل نظم پیشِ خدمت ہے:

"۔۔۔اگر تم ساتھ نہ دو"
رفیقۂ حیات سے

اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
تم آؤ فرض بلاتا ہے
دنیا میں تغیر آتا ہے
ایک طوفاں جوش دکھاتا ہے
اک فتنہ شور مچاتا ہے
ہم لوگ ابھی آزاد نہیں
ذہنوں کی غلامی باقی ہے
تقدیر کی شفقت سے حاصل
تدبیر کی خامی باقی ہے
سینوں کے حرم سُونے ہیں ابھی
امّیدوں سے آباد نہیں
چہروں کی چمک اک دھوکا ہے
کوئی بھی جوانی شاد نہیں
چھوڑی ہیں جڑیں زنجیروں نے
ان میں سے کسی کو نوچیں تو
اعصاب تڑخنے لگتے ہیں
آزادی سے کچھ سوچیں تو
اندام چٹخنے لگتے ہیں
ان زنجیروں کو کیا کیجے!
ہے ان سے گہرا پیار ہمیں
ان زنجیروں کے بجنے کی
لگتی ہے بھلی جھنکار ہمیں
مغرب کے اصولوں کے بندھن
افسوس نہ اب تک ٹوٹ سکے
ہم کہنہ مشق بھکاری ہیں!
مشکل ہے کہ عادت چھوٹ سکے
کب بویا اپنا بیج کوئی
جو نم پائے اور پھوٹ سکے
تقلید کے ایسے خوگر ہیں
آزاد روی سے ڈرتے ہیں
'معشوق' جو ہم سے روٹھ گیا
تصویر پہ اس کی مرتے ہیں
اغیار لکیریں کھینچ گئے
ہم لوگ فقیری کرتے ہیں
محنت سے کمائی کی نہ کبھی
خیرات سے جھولی بھرتے ہیں
گو دورِ غلامی بیت گیا
ملت کی خودی کو پیس گیا
ہم جیت کے بازی ہار گئے
اور دشمن ہر گھر جیت گیا
اس حال میں گو مایوس نہیں
بڑھنے کی ہمت کرتا ہوں
پر تم سے بھید چھپاؤں کیا
دل بیٹھ نہ جائے ڈرتا ہوں
اس وقت اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
جو کام ہمارے ذمے تھا
وہ کام ابھی تو باقی ہے
تمہید بہت ہی خوب سہی
اتمام ابھی تو باقی ہے!
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا
انسان بناؤ تم جیسے
تہذیب بھی ویسی بنتی ہے
تہذیب ہے عورت کے بس میں
وہ کیسی نسلیں جنتی ہے
وہ کیسے مرد بناتی ہے
وہ کیا اخلاق سکھاتی ہے
کیا جذبے اکر گھول کے وہ
بچے کو دودھ پلاتی ہے
کس کیفیت کی مستی میں
وہ میٹھی لوری گاتی ہے
گر رنج نہ ہو تو صاف کہوں
یہ تم ہی تو تھیں! کیا بھول گئیں!
خود تم نے نظامِ باطل کو
گودی میں سپاہی پال دئیے
بیداد کی کل یاں کیسے چلی؟
تم نے ہی تو پرزے ڈھال دئیے
ابلیس نے مانگے کارندے
تو تم نے اپنے لال دئیے
تم نے تو کلیجوں کے ٹکڑے
منڈی میں لا کر ڈال دئیے
تم سے جو تقاضے دین کے تھے
افسوس کہ تم نے ٹال دئیے
ہے مرد کی ذمے جتنی خطا
اتنی ہی تو ذمہ دار ہو تم
اب میں کفارہ دیتا ہوں
کیا ساتھ مرے تیار ہو تم؟
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!

٭٭٭

لڑنا ہے درونِ در تم کو
بیرونِ در کے فتنوں سے
میں اپنی جان لڑاؤں گا
قلعے کی تم رکھوالی ہو
قلعے سے باہر دشمن پر
دیکھو گی، میں چھا جاؤں گا
تم نسوانیت کو بدلو
احساسِ فرض دلا کر میں
مردوں کو مرد بناؤں گا
تم اچھے پرزے ڈھال کے دو
میں نظم تمدن کی کل کو
پھر دین کے ڈھب پر لاؤں گا
عورت کا تغافل تھا جس نے
ہٹلر، چرچل اور اسٹالن
اس دنیا میں بن جانے دئیے
عیشوں میں یہ ظالم مست رہی
جنگاہ میں خنجر جذبوں کے
سو بار یہاں تن جانے دئیے
ہاتھوں میں لٹیروں کے یونہی
تہذیب کے مخزن جانے دئیے
عورت نے خزاں کے قبضے میں
اخلاق کے گلشن جانے دئیے
ہر جنگ کے پردے کے پیچھے
عورت کی خطائیں رقصاں ہیں
عورت کے تغافل کے مارے
یہ غیر مکمل انساں ہیں
یہ ہر خواہش کے بندے ہیں
اور خواہش ہی میں غلطاں ہیں
افکار پریشان ہیں ان کے
افکار، کہ مار پیچاں ہیں؟
یہ دانش مند درندے ہیں!
افسوس کے ان کے ہاتھوں سے
کتنے ہی گھرانے ویراں ہیں
مستقبل کو ان فتنوں سے
عورت ہی بچانے والی ہے
قوموں کے مٹانے والی ہے
قوموں کے بچانے والی ہے
جس نقشے پر بھی یہ چاہے
نسلوں کو اٹھانے والی ہے
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
زنداں جو فرنگی حکمت کا
دوصدیوں میں تعمیر ہوا
اب اس پر سنگیں پہرے ہیں
یہ ایک اٹل تقدیر ہوا
ہم اس کے نگہباں ہیں خود ہی
ہم آپ ہیں پہرہ دار اس کے
ہم اس کے پجاری ہیں اب تک
گو جا بھی چکے معمار اس کے
اٹھ جان! کہ اپنے آپ سے ہم
اک سخت بغاوت کر دیکھیں
خود آپ ہی اپنے جذبوں پر
اک سخت شقاوت کر دیکھیں
افرنگ نے جانے سے پہلے
یاں انڈے بچے دے ہی لئے
باطل نے وراثت بھی چھوڑی
اور ساتھ ہی وارث چھوڑ دئیے
باہر کے فرنگی بھاگ چکے
اب گھر کے "فرنگی" باقی ہیں
قرآن کے تھے جو لوگ امیں
وہ کفر کی مے کے ساقی ہیں
جس دین پہ ایماں ہے
اس دین کی یہ تذلیل کریں
قرآں کے حقائق کو ظالم
تاویلوں سے تبدیل کریں
کیا ہم یہ سہہ بھی سکتے ہیں؟
کیا ہم چپ رہ بھی سکتے ہیں
اب تم کو، مجھ کو، دونوں کو
ان باطل کے معماروں کی
تعمیروں سے ٹکرانا ہے
اب تم کو، مجھ کو، دونوں کو
طوفانوں سے لڑ جانا ہے
پر تم سے اگر یہ ہو نہ سکے
تو جاؤ الگ ہی بیٹھ رہو
کچھ مجھ پر کرم فرماؤ نہیں
آوارگی و عریانی سے
للہ مجھے بہکاؤ نہیں
خواہش کے کھلونوں سے جانم!
بچوں کی طرح بہلاؤ نہیں
یہ سرخی، غازہ، کاجل کیا!
یہ چوڑی، بالی، چھاگل کیا!
یہ جادو کے سب چھل بل کیا!
آخر یہ ذہنی ہل چل کیا!
کرنوں کی تراوش سے حاصل؟
جلوؤں کی نمائش سے حاصل؟
اس آگ کی بارش سے حاصل؟
جس سیل میں تم بہتی ہو، بہو
پر مجھ کو بہا لے جاؤ نہیں
میں حق کا سپاہی ہوں مجھ پر
جادو کی طرح سے چھاؤ نہیں
سینے کو مرے گرماؤ نہیں
تڑپاؤ نہیں، تڑپاؤ نہیں
جو چاہو کرو آزاد ہو تم!
پر فرض سے میں آزاد نہیں
تم عیاشی کو چاہو تو
فن اس کا مجھ کو یاد نہیں
میں تم کو کروں مجبور تو کیوں؟
جبار نہیں، شداد نہیں
پر تم جو میرا ساتھ نہ دو
کیا یہ مجھ پر بے داد نہیں
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
٭٭٭

میں تنہا بھی بڑھ سکتا ہوں
اور شاید بڑھتا جاؤں گا
میں حق کی خونی راہوں میں
جو چوٹ بھی آئی کھاؤں گا
اللہ سے یہ امید بھی ہے
اک دن منزل کو پاؤں گا
پر کھلتی ہے تنہائی تو!
تڑپاتی ہے یکتائی تو!
للہ! تم اس کا پاس کرو
حساس ہو تم! احساس کرو
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
تن کا تو ساتھ نباہا ہے
کیا من کا ساتھ نباہو گی؟
مجھ کو جو تم نے چاہا ہے
پر کیا حق کو بھی چاہو گی؟
اب آگے ایک دوراہا ہے
اب راہ تمہاری کیا ہو گی؟
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو!
پھر مجھ کو خدا ہی کافی ہے!
گر تم سے رفاقت ہو نہ سکے
تو جذبۂ راہی کافی ہے!
تم لڑنے سے کتراؤ تو
ایمانِ سپاہی کافی ہے!
پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں
تم ساتھ رہو تو بہتر ہے
پیچھے نہ ہٹو تو بہتر ہے!
آگے کو چلو تو بہتر ہے!
اے جان! اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا!
٭٭٭

احساسِ خودی کی کمزوری!
یہ عذر کے تم اک عورت ہو
تم ہمت ہو، تم قوت ہو!
تم طاقت ہو، تم جرات ہو!
تم اک پُر جوش جسارت ہو
تم اک با رعب شجاعت ہو
تم اک رنگین قیامت ہو
تم عزت، عفت، عصمت ہو
تم عظمت، شوکت، رفعت ہو
تم رحمت، راحت، شفقت ہو
تم نصف انسانیت ہو!
کیا عذر تراشو گی آخر؟
جب حشر میں پوچھا جائے گا
کیا اپنے قویٰ سے کام لیا؟
جب کفر سے دیں کی ٹکر تھی
تو تم نے کس کا ساتھ دیا؟
اس وقت کہو گی کیا بولو؟
ہر عذر کو کانٹے پر تولو!
آنکھیں تو اٹھاؤ، لب کھولو!
اے جان اگر تم ساتھ نہ دو
تو تنہا مجھ سے کیا ہو گا؟
٭٭٭
(نعیم صدیقی)
 
Top