نظم - میرا خدا ہے لامکاں - برائے اصلاح

شہزی مشک

محفلین
خدا جب ہے میرا لامکاں
اسی سے مانگو گا سب جہاں

سنتا ہے سب کی میرا خدا
وہ نہیں ہے کسی سے جدا

رہے شہ رگِ جاں سے قریں
ہر اک راز کا تو ہے امیں

مجھے بھی اپنا بنا لے تو
میری قبول کر لے جستجو

تیرا نام لوں صبح و مسا
مجھے عشق اپنا کر عطا

رہے مشک بس آنکھ تر
اسے محبتوں کا امین کر
 

الف عین

لائبریرین
اے تو بروٹس!!! ویسے یہی خطرہ تھا مجھے تم سے بھی!!!
عزیزم @محمدخلیل الرحمٰن سے توجہ کی درخواست ہے، بلکہ @محمداسامہ سَرسَری سے بھی کہ اس کے اوزان درست کر دیں۔
 

شہزی مشک

محفلین
لیکن شیزی مشک، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے مت رہو، ذرا عروض سے شد بد حاصل کر لو۔
استادِ محترم ! مصروفیت کچھ اس طرف لیکر نہیں آتی لیکن کچھ اپنی سی کوشش کی اور ورق گردانی کی مگر اتنا اختلاف دیکھنے کو ملا بتائیں کیا۔۔۔۔۔;) خیر شہزی میاں لگے رہیں گے مگر حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ کچھ آسان بحر بتادیں جس پر مشق کی جاسکے۔۔۔ آپ کی عزت تو ہم پہلے دن سے ہی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔۔۔
 
جناب الف عین صاحب کے حکم سے کچھ تبدیلی کرکے اسے فعولن فعولن فعولن فعو کے وزن پر کرنے کی کوشش کی ہے۔
باقی اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے۔

جہاں آفریں میرا ہے لامکاں
اسی سے میں مانگوں گا سارا جہاں

دعا سب کی سنتا ہے میرا خدا
خبرگیری کرتا ہے سب کی سدا

رہے شہ رگِ جاں سے بھی وہ قریں
ہر اک راز کا ہے مرا رب امیں

بنالے الہٰی! مجھے اپنا تو
ہے ہر لمحہ مجھ کو تری جستجو

تیرا نام لیتا ہوں صبح و مسا
مجھے عشق اپنا خدا! کر عطا

عطا مشک کو کر خدا! چشم تر
سدا اس کو اپنا تو دیوانہ کر
 

الف عین

لائبریرین
اب اس ہوم ورک کے بعد اصلاح کے لائق ہو گئی ہے
جہاں آفریں میرا ہے لامکاں​
اسی سے میں مانگوں گا سارا جہاں​
۔۔لا مکاں خدا کا نام تو نہیں ہے!!
وہ ہے جو مرا مالک لا مکاں

دعا سب کی سنتا ہے میرا خدا​
خبرگیری کرتا ہے سب کی سدا​

رہے شہ رگِ جاں سے بھی وہ قریں​
ہر اک راز کا ہے مرا رب امیں​
۔۔دعائیہ تو نہیں ہے نا یہ!
رگِ جان سے بھی زیادہ قریں​

بنالے الہٰی! مجھے اپنا تو​
ہے ہر لمحہ مجھ کو تری جستجو​
÷ہر اک پل ہے مجھ کو تری جستجو​

تیرا نام لیتا ہوں صبح و مسا​
مجھے عشق اپنا خدا! کر عطا​
÷÷
مجھے عشق اپنا​
عطا​
کر​
خدا!​
عطا مشک کو کر خدا! چشم تر​
سدا اس کو اپنا تو دیوانہ کر​
// شیزی کہنا کیا چاہ رہے ہیں، یہ واضح نہیں، جو ان مصرعوں پر اصلاح دی جائے​
 

شہزی مشک

محفلین
جناب الف عین صاحب کے حکم سے کچھ تبدیلی کرکے اسے فعولن فعولن فعولن فعو کے وزن پر کرنے کی کوشش کی ہے۔
باقی اصلاح تو اساتذہ ہی فرمائیں گے۔

جہاں آفریں میرا ہے لامکاں
اسی سے میں مانگوں گا سارا جہاں

دعا سب کی سنتا ہے میرا خدا
خبرگیری کرتا ہے سب کی سدا

رہے شہ رگِ جاں سے بھی وہ قریں
ہر اک راز کا ہے مرا رب امیں

بنالے الہٰی! مجھے اپنا تو
ہے ہر لمحہ مجھ کو تری جستجو

تیرا نام لیتا ہوں صبح و مسا
مجھے عشق اپنا خدا! کر عطا

عطا مشک کو کر خدا! چشم تر
سدا اس کو اپنا تو دیوانہ کر

جزاک اللہ خیرا سَرسَری صاحب۔۔۔ آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں اور اُمید ہے کہ آپ ضرور مستقبل قریب میں بھی اسی طرح رہنمائی کرتے رہیں گے اور پرائیویٹ رابطہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے آپ سے۔۔۔۔۔۔
 

شہزی مشک

محفلین
عطا مشک کو کر خدا! چشم تر​
سدا اس کو اپنا تو دیوانہ کر​
// شیزی کہنا کیا چاہ رہے ہیں، یہ واضح نہیں، جو ان مصرعوں پر اصلاح دی جائے​

آداب عرض، انتہائی محترم استاد الف عین صاحب۔۔۔۔
رہے مشک بس آنکھ تر
اسے محبتوں کا امین کر

اس شعر میں کہنا چاہتا تھا کہ اے کردگار مجھے رونے والی آنکھ عطا کردے اور میرے دل سے کثافت و کدورتیں اگر کہیں ہوں تو نکال دے اور مجھے محبت کیلئے معمور کردے۔۔۔۔۔

اُمید کرتا ہوں کہ آپ میری تشریح کرنے کی سعی قبول فرمائیں گے اور مزید شفقت بھرے انداز سے اصلاح فرمائیں گے۔۔۔۔۔

سَرسَری بھائی کی "فعولن فعولن فعولن فعو" کے وزن کی کوشش کے مطابق شعر ڈھالنے کی اپنی سی کوشش کرتا ہوں۔۔۔۔۔
عطا مشک کو کر خدا! چشم تر​
سدا اس کو اپنا تو دیوانہ کر​
اسکو اس طرح کیا جاسکتا ہے کیا ؟
رہے مشک سدا یوں چشم تر
اسے معمور کردے چاہتوں پر

خیر اندیش
شہزی مشک
 

الف عین

لائبریرین
چاہتوں پر؟ یہاں چاہتوں ’سے‘ کا محل ہے۔ اور اس مصرع کی جو بحر ہے وہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے، سرسری کی فعولن فعولن فعولن فعول نہیں۔ بہر ھال سوچتا ہوں کچھ اس کا۔
اور ہاں تمہاری دستخط کا شعر بھی کیا تمہارا ہی ہے؟ شعر تو خوب ہے لیکن پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے۔
ہر شخص لڑ رہا ہے خود اپنی بقاء کی جنگ
 

شہزی مشک

محفلین
چاہتوں پر؟ یہاں چاہتوں ’سے‘ کا محل ہے۔ اور اس مصرع کی جو بحر ہے وہ مفاعیلن مفاعیلن فعولن ہے، سرسری کی فعولن فعولن فعولن فعول نہیں۔ بہر ھال سوچتا ہوں کچھ اس کا۔
اور ہاں تمہاری دستخط کا شعر بھی کیا تمہارا ہی ہے؟ شعر تو خوب ہے لیکن پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے۔
ہر شخص لڑ رہا ہے خود اپنی بقاء کی جنگ
جزاک اللہ خیرا استادِ محترم۔۔۔ جی حضرت وہ بھی میرا شعر ہے آپ کی اصلاح کے بعد ٹھیک کردیا گیا ہے۔۔۔۔ بہت بہت شکریہ۔۔۔۔۔
 
جزاک اللہ خیرا سَرسَری صاحب۔۔۔ آپ کی محبت کا شکر گزار ہوں اور اُمید ہے کہ آپ ضرور مستقبل قریب میں بھی اسی طرح رہنمائی کرتے رہیں گے اور پرائیویٹ رابطہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے آپ سے۔۔۔ ۔۔۔
حضرت میں خوب ابھی سیکھنے کے دور سے گزر رہا ہوں۔
پرائیوٹ رابطہ ذاتی مکالمے سے کیا جاسکتا ہے۔
 

شہزی مشک

محفلین
حضرت میں خوب ابھی سیکھنے کے دور سے گزر رہا ہوں۔
پرائیوٹ رابطہ ذاتی مکالمے سے کیا جاسکتا ہے۔
اب اسے آپکی عاجزی اور انکساری کہوں یا بڑا پن مگر کچھ بھی ہو، میں اچھا گمان رکھتا ہوں آپ کیلئے۔۔۔۔۔ آپ مجھے شامل کرلیں اپنی دوستوں کی لسٹ میں۔۔۔۔۔۔۔
 
اب اسے آپکی عاجزی اور انکساری کہوں یا بڑا پن مگر کچھ بھی ہو، میں اچھا گمان رکھتا ہوں آپ کیلئے۔۔۔ ۔۔ آپ مجھے شامل کرلیں اپنی دوستوں کی لسٹ میں۔۔۔ ۔۔۔ ۔
لیجیے جناب! میں نے تو آپ کی اقتدا ہی شروع کردی۔:)
 

الف عین

لائبریرین
یہ غزل تو ہے نہیں جو تخلص بھی شامل کرنا ضروری خیال کیا جائے۔ یوں بھی مشک اس بحر میں مشکل ہے فٹ ہونا۔
اس کے بارے میں سوچو۔
عطا کر خدایا مجھے چشمِ تر
مرا دل محبت سے معمور کر
 
Top