نظم اجتماعی - مفتی منیب الرحمن

آپ بتائیے کہ رویت ہلال کمیٹی کا کیا کام ہے؟
آپ کو اس بات کا جواب دیا جا چکا ہے کہ روئت ہلال کمیٹی کا کیا کام ہے۔
روئتِ ہلال کمیٹی کا کام ہے کہ ملک میں نئے مہینے کا چاند نظر آنے یا نہ آنے کی شرعی طور پرتصدیق کرے اور اسکا اعلان کرے۔ اب اس اعلان کے بعد حکومتِ وقت کا کام ہے کہ ملک میں اس فیصلے کو نافذکروائے۔۔۔ چنانچہ اگر ملک میں ایک سے زیادہ عیدیں ہوتی ہیں اور کچھ لوگ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ ہی بنانے پر مصر ہیں تو قصور حکومتِ وقت کا ہے روئیت ہلال کمیٹی کا نہیں۔۔۔ ۔:)
اور میرے بھائی وہ کمیٹی قانونی اور شرعی حیثیت کے اعتبار سے معتبر ہے شہادتوں کے قبول و رد میں شہادتوں کی واقعیت کا فیصلہ انھوں نے ہی کرنا ہوتا ہے اور وہ اگر غلط بھی کریں بحیثیت انسان ہونے کہ تو تب بھی قانونی اور شرعی اعتبار سے انکے لیے گنجائش موجود ہے انھے شرعی اعتبار سے پھر بھی ایک اجر ملے گا جبکہ قانونی اعتبار سے انکا فیصلہ ہی مؤثر ہوگا۔ آپ یہ بات کیوں نہیں سمجھ پارہے ۔کہ اللہ پاک نے انسانوں کو پیدا کیا اور انھے عقل جیسی نعمت سے نوازا اورانکی عقول میں تفاوت بھی رکھا لہذا ضروری نہیں ہوتا کہ ہر انسان اپنی عقل سے جو فیصلہ کرئے وہ سب کی عقول کے لیے قابل قبول بھی ہو۔ آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے خود شہادت دی مگر اسے قبول نہیں کیا گیا لہذا یہ کمیٹی کی بددیانتی ہے جبکہ میں عرض کررہا ہوں کہ اس ضمن آپ کا ایسا کہنا بجائے خود ایک زیادتی ہے کیونکہ کمیٹی تو شرعی اور قانونی اعتبار سے اپنا کام بخوبی انجام دے رہی ہے کیونکہ انکا کام ہی اس باب میں شہادتوں کا رد و قبول کرنا ہے لہذا شہادت دینا آپ کا کام تھا جو کہ آپ نے بخوبی انجام دیا جبکہ آپکی دی گئی شہادت کو قانونی اعتبارات سے ناپ تول کر اور شرعی معیارات پر جانچ پرکھ کرتے ہوئے رد و قبول کرنا کمیٹی کا کام تھا جس پر آپکو کوئی حق اعتراض قطعی حاصل نہیں اللہ اللہ تے خیر صلا

مگر آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ لیکن میں اب سوال کے جواب پر اصرار نہیں کرونگا کیونکہ ایسے لاحاصل بحث جاری رہے گی۔
آپ کی شہادتوں کو کمیٹی نے کسی وجہ سے قبول نہیں کیا تو اس پر احتجاج کرنا اور شکایت کرنا آپکا حق ہے۔ لیکن کمیٹی پر ایسے فرض سے کوتاہی کا کا الزام نا لگائیے جو انکا نہیں بلکہ حکومت اور عوام کا فرض تھا۔ :)
 

زیک

مسافر
بات رویت حلال ہلال کمیٹی کی چل نکلی ہے تو یہ بتائیے کہ اس میں کتنے فلکدان ہیں؟
 

قیصرانی

لائبریرین
آپ کو اس بات کا جواب دیا جا چکا ہے کہ روئت ہلال کمیٹی کا کیا کام ہے۔



مگر آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا۔ لیکن میں اب سوال کے جواب پر اصرار نہیں کرونگا کیونکہ ایسے لاحاصل بحث جاری رہے گی۔
آپ کی شہادتوں کو کمیٹی نے کسی وجہ سے قبول نہیں کیا تو اس پر احتجاج کرنا اور شکایت کرنا آپکا حق ہے۔ لیکن کمیٹی پر ایسے فرض سے کوتاہی کا کا الزام نا لگائیے جو انکا نہیں بلکہ حکومت اور عوام کا فرض تھا۔ :)
دیکھئے، میں ایک سے زیادہ مرتبہ شاید بتا چکا ہوں کہ ایک میں نہیں، بہت سے ایسے افراد جن سے سیاسی اختلاف رکھنے کے باوجود میں بھی انہیں متقی مانتا ہوں، جن کی گواہی کو مقامی ڈپٹی کمشنر نے منظور کر کے آگے بھیجا، اسے ریجکٹ کر کے اعلان کیا جا رہا ہے کہ کہیں سے بھی اطلاع موصول نہیں ہوئی (واضح رہے کہ لفظ مصدقہ کی بات نہیں ہوئی، سارا زور اطلاع پر تھا) کے باوجود اگر آپ نہیں ماننا چاہ رہے تو میں اصرار نہیں کروں گا :)
 

آبی ٹوکول

محفلین
اور مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ آپ لوگوں نے آخری بار اپنی معلومات کب چک کی تھیں ؟؟؟ فقط طنز کے تیر و تفنگ ہی برسانے آتے ہیں ہر معاملے میں بنا معلومات کے ؟؟؟؟ یا پھر کوئی اور کام دھندہ بھی ہے ؟؟؟؟ کون نہیں جانتا کہ روئت ہلال کمیٹی کو پاکستان کے موسمیاتی ادارے کا بھی تعاون حاصل ہوتا ہے پچھلے کچھ سالوں سے جب سے میڈیا کے توسط سے ہر سال مسجد قاسم خان والوں نے امت میں انتشار کا بیج بویا ہے تب سے میں خصوصیت کے ساتھ اس ایشو کو میڈیا پر فالو کرتا رہا ہوں ہر مرتبہ محکمہ موسمیات کی تائید روئیت ہلال کمیٹی کو ہی حاصل رہی ایون ایک آدھ مرتبہ تو مسجد قاسم خان والوں نے چاند ہونے کا اعلان تب بھی کردیا جبکہ روئیت بصری تو دو ر خود محکمہ موسمیات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے مطابق چاند کی برتھ ہونا بھی ممکن نہ تھا خیر اس موضوع پر بہتر ہے کہ مفتی منیب الرحمان صاحب کے ایک انٹرویو کہ چند ایک اقتباسات شئر کردوں ۔۔۔
اذکار ۔ چاند دیکھنے کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ۔

مفتی منیب الرحمن: چونکہ بنیادی طور پر چاند رمضان اور عید کادیکھا جاتا ہے تو رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عید مناؤ۔چانددیکھنے کا مدار ہمارے نزدیک روئیت بصری پر ہے اور پاکستان میں اب تک جو نظام چل رہا ہے اس میں فیصلے روئیت بصری پرہی ہوتے ہیں اگرچہ ہم سائنسی معلومات سے استفادہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی حرج کی بات بھی نہیں کہ باقی بہت سے شعبوں میںبھی ہم سائنسی معلومات سے استفادہ کررہے ہیں مثلاً نماز کے اوقات کے تعین میں گھڑیاں دیکھتے ہیں کوئی بھی شخص آج روزہ افطار کرنے کیلئے ایسا نہیں کرتا جیسے پہلے وقتوں میں لوگ گھر سے باہر نکل کرآسمان دیکھا کرتے تھے کہ افطار کا وقت ہوگیا ہے یا نہیں اب تو تمام علماء بھی اور عوام بھی گھڑیوںاور جدید الات پر اعتماد کرتے ہیں ۔

اذکار ۔ پاکستا ن میں چاند دیکھنے کے بارے میں ہمیشہ اختلاف رہا ہے اسکی بنیادی وجہ کیا ہے ۔

مفتی منیب الرحمن: اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب گورنمنٹ کے کنٹرول میں نہیں ہے اس وجہ سے یہاںاختلاف کا ماحول قائم ہے، جن ممالک میں ہمیں اختلاف نظر نہیں آتا ان کے بارے میں یہ مت سوچیں کہ وہاں عوام میں دورائے موجود نہیںہیں بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہاںمذہبی اختیارات گورنمنٹ کے پاس ہوتے ہیں اور گورنمنٹ کی اتھارٹی ہے جو حکم گورنمنٹ کی طرف سے آتا ہے اس سے مان لیا جاتا ہے اور اس پر کسی کو چوں چراں کرنے کی اجازت نہیں ہوتی آپ یہ دیکھیں کہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں چاند کا اعلان ہونے کے بعد ہر شخص تبصرے کرے گا، کالم نگا رکالم لکھے گا، ٹیلی ویژن پر پروگرامات ہونگے ماہرین پہلے اور بعد میں رائے دیں گے یہ سب کچھ کسی اور ملک میں نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں جو فضا اور مزاجقائم ہے اس کو دوسرے ممالک پر قیاس کرنا درست نہیں یہاں کس چیز میں گورنمنٹ کی اتھارٹی چل رہی ہے کہ ہم کہیں کہ صرف یہی ایک شعبہ رہ گیا جس کی اصلاح باقی ہے لیکن پھر بھی غنیمت ہے کہ غالب اکثریت چاند دیکھ کر روزہ رکھتی اور عید مناتی ہے ۔

اذکار: سعودی عرب نے سالانہ ہجری کلینڈر تیار کرلیا ہے کیاہمارے ہاں ایسا ممکن نہیں ۔

مفتی منیب الرحمن: عالمی سطح پر چانددیکھنے کے بارے میں جوفساد پیداہوا ہے وہ سعودی عرب کے معاملات کی وجہ سے ہوا ہے اگرانکے ہاں یہ مسئلہ درست ہوجائے توساری دنیا میں یہ مسئلہ ختم ہوجائیگا۔

اذکار: آپ کویہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے 8سال گزرگئے اس سے آپ نے کیساپایا۔

مفتی منیب الرحمن:اس دور میں جبکہ میڈیا کاایک بہت بڑاسیلاب آچکاہے میں نہیں ،میری جگہ کوئی بھی شخص اس ذمہ داری کوقبول کرے گا تووہ مشکلات میں گرفتار ہوگاکیونکہ ہمارے ہاں کسی کے پاس کھانے کوہے یانہیں مگرموبائل فون ہے اورہرشخص اپنی جگہ پرٹیلیفون کرکے ہم سے بحث کرتاہے میڈیاوالے اپنی جگہ ہمارے تعاقب میں رہتے ہیں اگرمیڈیا والے ضابطہ قائم کر لیںکہ ہم انتشار کی چیزوں کوکم ہائی لائٹ کریںگے توکافی چیزیں کنٹرول ہوجائیں گی لیکن ہمارامیڈیا مصلح کاکارکردارادا کرناچاہتا ہے مگراپنے آپ کو مستثنیٰ کرکے اور یہ تودرست نہیں ، گزشتہ سال پورے پنجاب میں دوتین مقامات پرلوگوں نے نمازعید ادا کی تواسکو اس قدرہائی لائٹ کیاگیا جسکی انتہانہیں قانون اوراداروں کے فیصلوں کااحترام نہیں توکچھ بھی نہیں۔

اذکار: آپ اس ذمہ داری کے عوض حکومت سے کیا مراعات پاتے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ آپ پرنوازشات کی بارش ہوتی ہے

مفتی منیب الرحمن:ہمارے اس کام میں توپیسے کانام ہی نہیں ہے نہ تنخواہ ہے نہ وظیفہ ہے اور نہ ہی الاؤنس ملتے ہیں بلکہ ملک بھر میں رابطہ کیلئے موبائل فون بھی ہمیں اپنے استعمال کرنے پڑھتے ہیں اورجب شہرسے باہراجلاسوں میں شرکت کیلئے ہم جاتے ہیں توایک رات کی رہائش اورجہاز کاٹکٹ حکومت دیتی ہے اسکے علاوہ گھرسے ایئرپورٹ آنے جانے کاخرچ اور ایئر پورٹ سے ہوٹل تک آنے جانے کاحکومت صرف تین سوروپے دیتے ہیں جوایک طرف کیلئے بھی کافی نہیں ہوتا۔میں سمجھتاہوں کہ انگریز نے جاتے ہوئے ہمارے حکمرانوں کوکہاتھاکہ تمام مقامات پر کھل کرپیسہ خرچ کرنامگرجب دین کی بات آئے تو اس پر ایک روپیہ بھی نہ لگانا۔ ہمیں جوگاڑی اور مراعات دی جاتی ہیںوہ بھی انتہائی ناقص ونامکمل ہیں۔

اذکار: آپ کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ آپ ایک ٹیلیفون کال پرچاند کافیصلہ بدل کر ساری قوم کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔

مفتی منیب الرحمن: ہماری ذمہ داری میں وفاقی حکومت نے کبھی بھی کوئی مداخلت نہیں کی جنرل ضیاء الحق کے دورسے میں اس شعبے سے وابستہ ہوں اسکے بعدبے نظیر ،نواز شریف اور مشرف کے دورگزرے مگرکسی نے بھی کسی قسم کی مداخلت نہیں کی مشرف مذہبی اعتبار سے جیساکیساتھا مگراس نے بھی کبھی اس حوالے سے کوئی رابطہ یابات نہیں کہی۔ ہمیں بھی اپنی آخرت کی فکر دامن گیر ہے ہم بھی اچھے برے کی پہچان رکہتے ہیں اورہم مکمل کوشش کرکے اس ذمہ داری کونبھار رہے ہیں۔

اذکار: آپ نے کروڑوں لوگوں کیلئے کئے جانیوالے فیصلے کی اس ذمہ داری کوکیساپایا۔

مفتی منیب الرحمن: رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کاکام انتہائی مشکل کام ہے عوام ہردوصورت مین خوش نہیں ہوتے مولانا عبداللہ جومجھ سے قبل یہ ذمہ داری نبھا رہے تھے نے ایک دفعہ چانددیکھنے کیلئے پشاور کے لوگوں سے مشورہ کیا اوریہ فیصلہ کیاکہ پورے ملک میں ایک عید کیلئے چاند دیکھنے کی کوشش کرینگے مگرانکی یہ کوشش اس وجہ سے ناکام رہی کہ ان لوگوں نے ہٹ درمی نہ چھوڑی اورمولانا کومجبوراً انکوانکی مرضی پرچھوڑنا پڑا
۔
اذکار: آپ کی کمیٹی میں کون لوگ شریک ہیں۔

مفتی منیب الرحمن: ہماری کمیٹی یں تمام مکاتب فکر کے لوگ اور محکمہ موسمیات کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔


ربط
 

محمد امین

لائبریرین
دیکھئے، میں نے جن افراد کی بات ہے، ان میں سےکئی افراد جماعت اسلامی کے اراکین اور عہدے دار ہوتے تھے جن کے بارے میں بھی یہ گمان رکھتا تھا کہ وہ دیانت دار ہیں اور ان کی شہادت قبول ہونی چاہئے تھی، باوجود سیاسی اختلاف کے، اگر وہ رد ہوتے ہیں تو مفتی منیب کو تو میں ذاتی طور پربھی نہیں جانتا، میں کیوں انہیں کسی قابل سمجھوں؟
میرا خیال ہے کہ مفتی منیب کے ہم فقہ افراد کے علاوہ شاید ہی کوئی بندہ ملے جو ان پر اعتبار کرتا ہو :)

منصور بھائی رویتِ ہلال کمیٹی میں ہر فرقے اور فقہ کے افراد شامل ہیں، بریلوی، دیوبندی، شیعہ، سلفی وغیرہ۔۔۔ اور ان کی زونل کمیٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ چئیرمین کے بریلوی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ساری کی ساری کمیٹی ہی بریلوی ہے ۔۔ مفتی منیب پر میرا تو یہ خیال ہے کہ دوسرے مسالک کے افراد اور علماء بھی اعتماد کرتے ہیں کم از کم رویتِ ہلال کی حد تک۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
بات رویت حلال ہلال کمیٹی کی چل نکلی ہے تو یہ بتائیے کہ اس میں کتنے فلکدان ہیں؟

رویتِ ہلال کمیٹی جب چاند دیکھتی ہے تو جامعہ کراچی کا فلکیات کا ڈیپارٹمنٹ، محکمہ موسیات اور سپارکو کے ماہرین ساتھ ہوتے ہین۔ حتیٰ کہ اکثر تو سپارکو اور محکمہ موسمیات میں ہی چاند دیکھا جاتا ہے۔۔۔
 
Top