نشاط و غم - صادق اندوری

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 28, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ٭ کردار خوش مقام کی سچائی دے گیا
    جو دار کو حیات کی انگڑائی دے گیا
    بکھر کچھ اس طرح کہ فلک تک ہوا بلند
    میرا وجود موت کو اونچائی دے گیا
    کہتے ہیں وقت ہوتا ہے مرہم مگر غلط
    یہ اور میرے زخموں کو گہرائی دے گیا
    میں نے تو کی تھی گرم ہواؤں کی آرزو
    موسم ستم ظریف تھا ، پروائی دے گیا
    کھا کھا کے تیز دھوپ پگھل جاؤں ایک دن
    وہ سائبان کی جگہ انگنائی دے گیا
    صادقؔ خلوص دوست کا احسان مند ہوں
    جو میرے شعر شعر کو اچھائی دے گیا
    ""(جولائی 1982)
    ٭ بزم نشاط ۔ اندور کے طرحی مشاعرے میں مصرعہ طرح تھا ؏ وہ بال و پر کو قوت گویائی دے گیا۔ مگر مرحوم کے عروضی مزاج نے فارسی اور عربی قوافی مناسب نہیں سمجھے جن کی ’ی‘ گرانا جائز نہیں ۔ اس لیے خالص اردو قافیوں میں غزل کہی ہے۔ ا ۔ ع
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تیری آنکھوں نے جو مرنے کی سزا دی ہے مجھے
    تیرے ہونٹوں نےتو جینے کی دعا دی ہے مجھے
    میری اکھڑی ہوئی سانسوں کو ملا ہے ٹھہراؤ
    تم نے پاس آکے جو دامن کی ہوا دی ہے مجھے
    اے نگاہ غلط انداز ذرا تو ہی بتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کون ہے جس نے محبت کی ادا دی ہے مجھے
    لمس نے تیرے جگایا مرے مردہ دل کو
    شکریہ تیرا، جوانی کی فضا دی ہے مجھے
    میرے جذبات مہکنے ہی رہیں گے پیہم
    آپ نے زلفوں کی خوشبو جو سنگھادی ہے مجھے
    اس کو احسان کہوں تیرا کہ معراج وفا
    دل میں جوبات چھپی تھی، وہ بتادی ہے مجھے
    تم نے پھیلا کےہر ایک سمت تبسم کی بہار
    آف مہکے ہوئے پھولوں کی ردا دی ہے مجھے
    جب بھی اٹھتے ہیں تری سمت ہی اٹھتے ہیں قدم
    جانے کس قسم کی یہ جنبش پا دی ہے مجھے
    کچّے زخموں سے مرا جسم سجا کر صادق
    میرے ماحول نے رنگین قبا دی ہے مجھے
    ""( مئی 1982)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    شہر تا شہر پر ایک شور سا داناؤں میں
    باڑھ کیا آئی ہے دیوانوں کی صحراؤں میں
    آج سوکھے ہوئے پتے سے بھی کم قیمت ہیں
    نام کل تک تھا ہمارا چمن آراؤں میں
    میں نے بدلی ہوئی ہر راہ کو سمتیں دی ہیں
    سر فہرست مرا نام ہے داماؤں میں
    میری غیرت پہ ہے انگشتہ بدنداں ہر شخص
    ’’ اب کے ڈوبا ہوں تو سوکھے ہوئے دریاؤں میں‘‘
    اس کو کیا کیجئے، اک نقش بھی روشن نہ ہوا
    مختلف رنگ بھرے ہم نے تمناؤں میں
    غم کے شعلوں کو ہوا دیتے ہو تم کیا مطلب
    عمر بھر جلتا رہوں آگ کے دریاؤں میں !
    کار فرما جو رہا ہاتھ کسی کا صادق
    کھل اٹھے پھول سلگتے ہوئے صحراؤں میں
    ""(مئی 1982)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    حیات کا ہمہ رنگی سے سلسلہ رکھنا
    غم و خوشی کا مناسب مقابلہ رکھنا
    وجود ہست عدم کا نقیب ہوتا ہے
    یہ بات ذہن میں نے فیض و بے صلہ رکھنا
    عمل کی راہ مسلسل خار زار حیا ت
    قدم قدم پہ سنبھل کر معاملہ رکھنا
    شہود حق کے لیے ہے جہاد مستلزم
    اخیر شب میںہوس سے مجادلہ رکھنا
    غم و خوشی متوازن کبھی نہیں ہوتے
    تمام عمر نظر میں یہ مسئلہ رکھنا
    اٹھائے رکھنا مصائب بخندہ پیشانی
    خدا کی ذات سے لیکن نہ کچھ گلہ رکھنا
    جو اپنی ذات کا عرفان ہے تجھے مقصود
    من اور تو سے الگ شغل لا الٰہٰ رکھنا
    نظام خالق کو نین ہے یہی صادق
    حیات و موت میں دو گز کا فاصلہ رکھنا
    "" (اپریل 1982)
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    گھر گھر کے ہر ایک رخ سے ہستی پہ جو چھائے ہیں
    یا غم کے شکنجے میں یا موت کے سائے ہیں
    مٹی کا خمیر آخر کچھ اتنا مکمل تھا
    ہر آئینہ خانے میں چہرے نظر آئے ہیں
    اے زور حوادث رک، اے مویر زمانہ تھم
    سورج کے کڑے نیزے سر تک اُتر آئے ہیں
    محفل میں اجالوں کا فقدان نہ ہو کیوں کر
    روشن تھے دیے جیتنے خود ہم نے بجھائے ہیں
    حسیں وقت نظر اٹھی ، پردہ تھا نہ منظر تھا
    آئینے میں اپنے ہی چہرے نظر آئے ہیں
    اسے وقت کے پیکانو ! ممنون رہو میرے
    جو زخم دئے تم نے، وہ دل میں سجائے ہیں
    کچھ صلح کل ایسا ہے مسلک مرا سے صادقؔ
    سب ہی مری نظروں میں اپنے نہ پرائے ہیں
    ""(اپریل 1982)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دیدۂ دل جو حقیقت نگراں ہوتا ہے
    زندگانی کا ہر اک راز عیاں ہوتا ہے
    آب و آتش کےسمندر میں رواں ہوتا ہے
    عشق تو بے خبر سود و زیاں ہوتا ہے
    جا چکا قافلہ زیست کا سامان وجود
    وقت رخصت ہے، مسافر بھی رداں ہوتا ہے
    کہیں ملتی ہی نہیں قرب و یقیں کی منزل
    عمر بھر سلسلہ وہم و گماں ہوتا ہے
    زندگی سلسلہ کرب سے تعبیر سہی
    پھر بھی اک شائبہ عشرت جاں ہوتا ہے
    ہو نہ آفات و مصائب سے اگر عہدہ برا
    جسم خود اپنے لیے بار گراں ہوتا ہے
    اس طرح ٹوٹے ہمیں اخلاق کے معبد جس پر
    سنگ بنیاد بھی اب مرثیہ خواں ہوتا ہے
    اک تنوع نہ ہو تخلیق سخن میں جب تک
    اپنا ہر نقش بھی عکس دگراں ہوتا ہے
    تم جو بچھڑے تو کچھ ایسا ہوا دل کا عالم
    جیسے بجھتے ہوئے شعلے میں دھواں ہوتا ہے
    خشک و بد وضع سہی تیری غزل اے صادقؔ
    پھر بھی ہر شعر میں کچھ لطفِ بیاں ہوتا ہے
    ""(فروری 1982)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خلوص اور وفا کو رواں دواں کرلیں
    ہر ایک سنگ کو آئینہ جہاں کرلیں
    ہر ایک شعلہ روضاں کو حرز جاں کر لیں
    حصار زیست کو اک دن دھواں دھواں کر لیں
    نشیب راہ کو اونچا مقام اپنا ہے
    زمین کہ اتنا اچھا بس کہ آسماں کر لیں
    نہ منتشر ہوں کتاب حیات کے اوراق
    کچھ ایسے ڈھنگ سے شیراسہ بندیاں کر لیں
    سپہر دل سے اگا کر کوئی نیا سورج
    اندھیرے جسم کی رگ رگ کو ضو فشاں کر لیں
    نہ جس سے نغمہ ہی پھوٹے نہ حرف شوق ابھرے
    یہی ہے وقت ، قلم ایسی انگلیاں کر لیں
    یہ خشک پتے بھی صادق وجود رکھتے ہیں
    کبھی انہیں بھی شریک نشاط جاں کر لیں
    ""(اکتوبر 1981)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ کیا ہوا کہ ہر اک رسم و راہ توڑ گئے
    جو میرے ساتھ چلے تھے، وہ ساتھ چھوڑ گئے
    وہ آئینے جنہیں ہم سب عزیز رکھتے تھے
    وہ پھینکے وقت نے پتھر کہ توڑ پھوڑ گئے
    ہمارے بھیگے ہوئے دامنوں کی شان تو دیکھ
    فلک سے آئے ملک اور گنہ نچوڑ گئے
    بپھرتی موجوں کو کشتی نے روند ڈالا ہے
    خوشا وہ عزم کہ طوفاں کا زور توڑ گئے
    رہے گی گونج ہماری توایک مدت تک
    ہمارے شعر کچھ ایسے نقوش چھوڑ گئے
    ان آئے دن کے حوادث کو کیا کہوں صادقؔ
    مری طرف ہی ہواؤں کا رخ یہ موڑ گئے
    ""(اگست 1981)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    چہرے سے عیاں موت کی تاثیریں ہیں
    سانسیں ہیں کہ ٹوٹی ہوئی زنجیریں ہیں
    کون ان میں سے بنتی ہے دل و جاں کا سکوں
    نظروں کے مقابل کئی تصویریں ہیں
    میں فرش پہ پانی کے رواں تھا کل رات
    رک خواب تھا جس کی کئی تعبیریں ہیں
    جھکنے کو ہے تمکین جہاں میرے حضور
    روشن مری پیشانی کی تحریریں ہیں
    تم پاس تھے تکمیل تمنا کو مگر
    سب الٹی مرے خواب کی تعبیریں ہیں
    صادق نہیں محفل میں کوئی رمز نشاں
    بیکار یہ سب آپ کی تقریریں ہیں
    ""(اپریل 1981)
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    آئے نہ اجل میں نے یہ تاویل بہت کی
    اے عمر رواں تو نے تو تعجیل بہت کی
    با کوشش پیہم کبھی ڈھب پر نہیں آیا
    ابلیس نے تو منتِ جبریل بہت کی
    تا عمر میسر نہ ہوا گوہر مقصود
    موجوں نے اشارات کی تعمیل بہت کی
    سوکھےہوئے پتوں کو گلے سے نہ لگایا
    لوگوں نے ان اوراق کی تذلیل بہت کی
    تم پاس نہ آئے کبھی ارباب نظر کے
    خود اپنے مفادات کی تشکیل بہت کی
    تحریف کا مجھ پر نہ چلا وار کبھی بھی
    دانش نے سعی صورت انجیل بہت کی
    صادقؔ نہ سراغ ان کا ملا تا دم آخر
    ہر چند فن و علم کی عقیل بہت کی
    "" (نومبر 1977)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دل کی تسکین پا کے رکھ لی ہے
    یاد ان کی بسا کے رکھ لی ہے
    آگ دل میں دبا کے رکھ لی ہے
    انسوؤں سے بجھا کے رکھ لی ہے
    تیرے ہونٹوں کی تازگی ہم نے
    چشم بد سے بچا کے رکھ لی ہے
    تیری آنکھوں سے چھین کر پیے عشق
    روشنی پاس لا کے رکھ لی ہے
    ایک ایک لو بد اشک حسرت کی
    آستین میں چھپا کے رکھ لی ہے
    چاندنی کی سجی سجائی رات
    بیت اخراں میں لا کے رکھ لی ہے
    آج پرچھائیوں کا ماتم کیوں
    شکل اپنی مٹا کے رکھ لی ہے
    ان کے غم کی خلش مگر صادقؔ
    طاق دل بر اٹھا کے رکھ لی ہے
    ""(اکتوبر 1977)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بھنور بھنور میں نگاہیں دھواں دھواں دل ہے
    رہ حیات میں مرغولۂ رواں دل ہے
    ترے غرور نےسنو لا دیا تمنا کو
    اب ایک کشمکش نو کے درمیاں دل ہے
    رہے خیال یہ ہنگام امتحانِ وفا
    سنبھل کے مشقِ ستم ہو کہ ناتواں دل ہے
    نہ چھیڑ، دیکھ اسے، ایمان و آگہی دشمن
    نہ جانےکتنے حقائق کا رازداں دل ہے
    فصیل درد کی اونچائیاں ہوئیں اتنی
    جدھر بھی دیکھئے تا حد آسماں دل ہے
    خرد ہو، جہل ہو، وہم و یقیں ہو اے صادق
    ہر اک کشاکش ہستی کا ترجماں دل ہے
    "" (جولائ1977)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ٭ کردار خوش مقام کی سچائی دے گیا

    جو دار کو حیات کی انگڑائی دے گیا

    بکھر کچھ اس طرح کہ فلک تک ہوا بلند

    میرا وجود موت کو اونچائی دے گیا

    کہتے ہیں وقت ہوتا ہے مرہم مگر غلط

    یہ اور میرے زخموں کو گہرائی دے گیا

    میں نے تو کی تھی گرم ہواؤں کی آرزو

    موسم ستم ظریف تھا ، پروائی دے گیا

    کھا کھا کے تیز دھوپ پگھل جاؤں ایک دن

    وہ سائبان کی جگہ انگنائی دے گیا

    صادقؔ خلوص دوست کا احسان مند ہوں

    جو میرے شعر شعر کو اچھائی دے گیا

    ""(جولائی 1982)

    ٭ بزم نشاط ۔ اندور کے طرحی مشاعرے میں مصرعہ طرح تھا ؏ وہ بال و پر کو قوت گویائی دے گیا۔ مگر مرحوم کے عروضی مزاج نے فارسی اور عربی قوافی مناسب نہیں سمجھے جن کی ’ی‘ گرانا جائز نہیں ۔ اس لیے خالص اردو قافیوں میں غزل کہی ہے۔ ا ۔ ع
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,966
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کون ہے جس نے محبت کی ادا دی ہے مجھے

    لمس نے تیرے جگایا مرے مردہ دل کو

    شکریہ تیرا، جوانی کی فضا دی ہے مجھے

    میرے جذبات مہکنے ہی رہیں گے پیہم

    آپ نے زلفوں کی خوشبو جو سنگھا دی ہے مجھے

    اس کو احسان کہوں تیرا کہ معراجِ وفا

    دل میں جوبات چھپی تھی، وہ بتا دی ہے مجھے

    تم نے پھیلا کےہر ایک سمت تبسم کی بہار

    آف مہکے ہوئے پھولوں کی ردا دی ہے مجھے

    جب بھی اٹھتے ہیں تری سمت ہی اٹھتے ہیں قدم

    جانے کس قسم کی یہ جنبشِ پا دی ہے مجھے

    کچّے زخموں سے مرا جسم سجا کر صادق

    میرے ماحول نے رنگین قبا دی ہے مجھے

    ""( مئی 1982)
     

اس صفحے کی تشہیر