میراث فصل گل ھے تیرا بانکپن تمام ۔ شفیع حیدر دانش

ماظق

محفلین
میراث فصل گل ھے تیرا بانکپن تمام
افشا یہ راز کر گئی موج ھوائے شام

کس بےرخی سےیار نے شانے جھٹک دئیے
دوران گفتگو بھی جو آیا تمھارا نام

اک ربط مُستمر سے یہ پہچان تو ھوئی
خنداں ھے ھار کے بھی عشق نیک نام

محو طواف تھیں نظریں رقیب کی
وہ پھر بھی لے گئے مری آنکھوں کا پیام

لیلائے شب کو دیکھئیے گزری ھے اس طرح
جیسے عروس صبح کو ھو آحری سلام

سوئی نہیں فراق میں کلیاں تمام رات
گلشن میں ھم نے دیکھا ھےایسا بھی انتظام

یہ زندگی یہ موت یہ محشر کے سلسلے
دانش ملا ھے ھم کو یہ جیون بھی ناتمام
 

نبیل

تکنیکی معاون
فصل گل پر پہلے تو میرا ماتھا ٹھنکا تھا لیکن ارسال کنندہ کا نام دیکھ کر جان میں جان آئی۔ :)
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ ماظق خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!

نیچے جو دو شعر لکھ رہا ہوں ان میں کچھ مسئلہ ہے کہ وزن سے خارج ہو رہے ہیں، پہلے شعر کا دوسرا مصرع اور دوسرے شعر کے دونوں مصرعے، پلیز پھر چیک کرلیں، نوازش۔

اک ربط مُستمر سے یہ پہچان تو ھوئی
خنداں ھے ھار کے بھی عشق نیک نام

محو طواف تھیں نظریں رقیب کی
وہ پھر بھی لے گئے مری آنکھوں کا پیام
 
Top