شفیع حیدر دانش

  1. م

    انتخابِ کلام شفیع حیدر دانش

    نواؤں میں طرب باقی نہیں ہے اداسی بے سبب باقی نہیں ہے مسل ڈالا کسی نے دل کو لے کر کوئی ارمان اب باقی نہیں ہے بڑی شوخی سے آئے میکدے میں مگر مے کی طلب باقی نہیں ہے کہوں کیسے کہ ہو گا پھر سویرا بظاہر تو سبب باقی نہیں ہے نگاہ شوق میں دانش تری اب وہ پہلا سا ادب باقی نہیں ہے
  2. م

    میراث فصل گل ھے تیرا بانکپن تمام ۔ شفیع حیدر دانش

    میراث فصل گل ھے تیرا بانکپن تمام افشا یہ راز کر گئی موج ھوائے شام کس بےرخی سےیار نے شانے جھٹک دئیے دوران گفتگو بھی جو آیا تمھارا نام اک ربط مُستمر سے یہ پہچان تو ھوئی خنداں ھے ھار کے بھی عشق نیک نام محو طواف تھیں نظریں رقیب کی وہ پھر بھی لے گئے مری آنکھوں کا پیام لیلائے شب کو...
  3. م

    وہ آنسوؤں کی جھیل میں کھِلتے ھوئے کنول - شفیع حیدر دانش

    وہ آنسوؤں کی جھیل میں کھِلتے ھوئے کنول تجھ پر نظر جمائے ھیں اے دِل ذرا سنبھل ھم جستجوئے یار میں مفلوج کیا ھوئے اب پیکرِ خیال بھی ھونے لگا ھے شل آ جا کہ تیرے نام کروں یارِ خوش دیار گنجینہء خیال میں اُبھری ھے جو غزل دیکھو ذرا سنبھال کے اے دستِ ناشناس اس شیشہء حیات کا کوئی نہیں بدل ڈھونڈوں...
Top