حفیظ تائب مہ صفا کی تجلیوں سے چمک اٹھا ریگ زار بطحا ۔

ام اویس نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 5, 2021

  1. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    2,375
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مہِ صفا کی تجلیوں سے چمک اٹھا ریگ زارِ بطحا
    تمام ُدور و دراز عالم ، تمام قرب و جوار بطحا

    خدائے برتر نے جس کو چاہا ، زمانے بھر نے جسے سراہا
    وہ ہے اطاعت گزار اسرا، وہ ہے صداقت شعار بطحا

    وہ جوہرِ دو دمان ہاشم ، خدا کی نعمت کا ہے جو قاسم
    رسائی جس کی ہے لا مکاں تک ، وہ بے بدل شہسوار بطحا

    وہ ارض پر نور بس رہی ہے ، مری نگاہوں میں میرے دل میں
    فدائے طیبہ نظر ہے میری تو فکر و فن ہے نثار بطحا

    یہ آرزو ہے کہ زود تر ہو زیارتِ روضہ پیمبر
    وہ دن پھر آئے خدا دکھائے مجھے بھی لیل و نہار بطحا

    برس پڑے گر سحاب رحمت ، چھٹے نہ پھر کیوں غبار کلفت
    کھلیں نہ کیوں ذہن و دل کے غنچے ، جو دیکھ لوں میں بہار بطحا

    عزیز ہے جان و دل سے مجھ کو وطن کی عزت وطن کی حرمت
    عزیز تر لیکن ان سے تائب ہے آبروئے دیار بطحا
     

اس صفحے کی تشہیر