مہدی حسن مہدی حسن: سائیکلوں کی دکان سے عوام کے دلوں تک

فاتح

لائبریرین
مہدی حسن کی سائیکلوں کی دکان تھی منٹگمری میں۔ اس کے ایک ماموں تھے، نہال عبداللہ نام تھا ان کا۔ میں جب کراچی میں تھا لاہور آنے سے پہلے میری تقرری وہاں ہوئی تھی اسسٹنٹ ڈائیریکٹر کے طور پر۔ تو نہال عبداللہ وہاں بڑا اچھا گانےوالے تھے بڑے خوش گلو، سیکھے ہوئے ، تربیت یافتہ تھے اچھی غزل گایا کرتے تھے۔ دو تین بندے تھے گانے والے جن میں وہ سب سے اچھا گاتے۔ نہال کی آواز بہت اچھی تھی ۔ پھر میں لاہور آگیا۔ کچھ عرصے کے بعد ایک صاحب آئے اور کہا کہ "میرا نام مہدی حسن ہے مجھے نہال عبداللہ نے بھیجا ہے آپ کے پاس اور کہا ہے کہ وہ آپ کے لئے کچھ کرینگے ۔ آپ انہیں گانا سنائیے اور جیسا وہ مشورہ دیں ویسا آپ کریں۔"

وائس آف امریکہ کے لئےریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل سید سلیم گیلانی کے ساتھ ڈاکٹر عابدہ رپلی کے انٹرویو سے اقتباس (مکمل انٹرویو پڑھیں)
 

قیصرانی

لائبریرین
میرے والد جب ڈاکٹری کے سلسلے میں‌ ہاؤس جاب سے فارغ ہوئے تو ان کی نوکری کوٹ مٹھن میں "پیر" کالے میاں کے ہاں ہوئی تھی۔ ابو بتاتے ہیں کہ مہدی حسن بھی وہاں بطور گلوکار کام کرتے تھے۔ ایک دن "پیر" صاحب کو کسی بات پر غصہ آیا تو انہوں نے حکم دیا کہ مہدی حسن کے کپڑے اتار کر اسے نکال دو۔ اور واقعتاً مہدی حسن کے کپڑے اتار کر اسے نکال دیا گیا۔ اس کے کچھ عرصہ کے بعد مہدی حسن کو کسی ریڈیو سٹیشن میں ملازمت ملی اور پھر وہ "پیر" صاحب سے ملنے آئے اور "پیر" صاحب نے ان کی‌خطا "معاف" کرکے انہیں‌آنے کی اجازت دی
 

فاتح

لائبریرین
"پیر" صاحب نے ان کی‌خطا "معاف" کرکے انہیں‌آنے کی اجازت دی
واہ! اس "ایمان افروز" واقعہ سے تو پیر صاحب کی "دریا دلی" کا درس ملتا ہے۔

میرے والدین بچپن میں میری کسی شرارت پر سزا کے طور پر مجھ سے کچھ دیر کے لیے بات نہیں‌کرتے تھے اور میں نے بھی اب یہی طریقہ اختیار کیا۔ لگتا ہے اس پیر کے ساتھ ویسا کچھ سلوک ہوا ہو گا اور اس نے اسی طریق کی تقلید میں بہتری جانی۔
 

فاتح

لائبریرین
ارے نہیں ساجد بھائی! ایسا کچھ نہیں ہے بس مہدی حسن میرے پسندیدہ ترین گلوکاروں میں سے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے متعلق ایک دھاگا شروع کر دیا۔ مزید پڑھیے:۔

بھولی ہوئی ہوں داستان
از ماہ پارہ صفدر، بی بی سی اردو، لندن

زبان میں لکنت اور ویل چیئر پر بیٹھے ، آنسوؤں سے لبریز، چپ چاپ خلاؤں میں گھورتے ہوئے شخص سے ملتے ہوئے میں ا ُس مہدی حسن کو تلاش کرتی رہی جو کبھی لفظوں اور سروں سے اٹھکھیلیاں کیا کرتا تھا اور محفل میں موجود ا ُس کے پرستار اس کی آواز کی اٹھان ، لے اور سوز پر جھوم جھوم اٹھتے تھے۔ (مکمل انٹرویو پڑھیں اور سنیں)
 

تیشہ

محفلین
مہندی حسن ۔۔ میرے بھی پسندیدہ گلوکار ہیں ۔ ۔


animated0137.gif
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ فاتح صاحب، مہدی حسن کے انٹرویوز کے ربط دینے کیلیے۔ مہدی حسن غزل گائیکی میرے بھی پسندیدہ ترین گلوکار ہیں۔ کیا خوب اور لا جواب غزلیں گائی ہیں شہنشاہِ غزل نے۔

کسی زمانے میں میرے پاس انکی ایک ویڈیو کیسٹ تھی، شاید لوک ورثہ والوں کی تھی، اس میں ان کا ساتھ ساتھ انٹرویو بھی تھا۔ سائیکلوں کی دکان والی بات انہوں نے خود بھی بتائی تھی، تقسیم اور ہجرت کے بعد نامساعد حالات میں انکو یہ کام کرنا پڑا۔ اس کیسٹ میں انکی تقریباً سبھی مشہور غزلیں تھیں جو چیز مجھے خاص طور پر پسند آئی تھی، وہ راجھستان کا لوک گیت "مانڈ" تھا "کیسریا بالموا پدھارو مارے دیس"۔ اور ایک مزے کی بات جو انہوں نے اور بتائی وہ یہ تھی کہ ایک افریقی فلم میں انہوں نے کسی افریقی زبان میں بھی گانا گایا تھا۔

خیر، اللہ تعالٰی انکو صحت عطا فرمائے۔

۔
 

باباجی

محفلین
مہدی حسن
جانِ غزل
سُروں کے شہنشاہ

ان جیسا غزل گائیک اب شاید ہی کوئی سُننے کو ملے
میں روزانہ رات کو ان کی کوئی نہ کوئی غزل ضرور سنتا ہوں
زیادہ تر "یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے" سنتا ہوں
یا پھر میر کی غزل ہے" آکے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد"

ان کی ادائیگی اور لہجے کی مٹھاس بہت مزہ اور سکون دیتی ہے
 

محمداحمد

لائبریرین
مہدی حسن اور منٹگمری (ساہیوال)
یہ تو میرا شہر ہے
کچھ پتہ ہے کسی کو کہ دکان شہر میں کس جگہ تھی؟

بھیا اب دوکان بہت پیچھے رہ گئی اور مہدی حسن بہت آگے نکل گئے ہیں، اب ان کی پہچان ان کا فن، اک کی آواز ہے۔ اب آپ اسی راستے سے اُنہیں تلاش کیجے۔ :)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
بھیا اب دوکان بہت پیچھے رہ گئی اور مہدی حسن بہت آگے نکل گئے ہیں، اب ان کی پہچان ان کا فن، اک کی آواز ہے۔ اب آپ اسی راستے سے اُنہیں تلاش کیجے۔ :)

لیکن پھر بھی آخر وہ دوکان ایک قومی ورثہ تھی
آخر وہ شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی تھی
تو اُس کا کوئی تو نام و نشان ہو گا۔
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
مہدی حسن
جانِ غزل
سُروں کے شہنشاہ

ان جیسا غزل گائیک اب شاید ہی کوئی سُننے کو ملے
میں روزانہ رات کو ان کی کوئی نہ کوئی غزل ضرور سنتا ہوں
زیادہ تر "یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے" سنتا ہوں
یا پھر میر کی غزل ہے" آکے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد"

ان کی ادائیگی اور لہجے کی مٹھاس بہت مزہ اور سکون دیتی ہے

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد تو بہت ہی خوب ہے
البتہ جو مزہ رنجش ہی سہی اور اب کے ہم بچھڑے میں آتا ہے وہ بہت کم غزلوں میں مجھے ملتا ہے۔
 
Top