مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں (فعولن فعولن فعولن فعل)

نوید ناظم

محفلین
اگر لاکھ ہو دلکشی کچھ نہیں
بِنا آپ کے زندگی کچھ نہیں

ہم اُن کی گلی میں بھلا کیوں گئے
ارے بات یہ ہے کہ جی' کچھ نہیں!

اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''

بتنگڑ بنانا تھا بس غیر کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں

مِرا غم تو لفظوں میں ڈھل بھی گیا
مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں

تمھیں رات گمراہ جو کر گئی
تمھارے لیے روشنی کچھ نہیں

مِری بات کو وقت خود کھولے گا
ابھی چپ رہوں گا، ابھی کچھ نہیں

اُسے دیکھ کر ہوں خود اپنا رقیب
مِری خود سے بھی دوستی کچھ نہیں

اگر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
 

نوید ناظم

محفلین
بہت عمدہ نوید بھائی۔
ایک مشورہ ہے

اگر یوں ہو جائے؟
مری بات خود وقت ہی کھولے گا
مشورہ خوب ہے آپ کا۔۔۔ اس میں '' کھولے'' کا ''ے'' گرایا جا رہا ہے' پچھلا تجربہ یہ رہا کہ اساتذہ نے ''ے'' کا اس طرح دبنا پسند نہیں کیا' اس لیے متبادل میں خائف رہا ہوں۔ اس بارے محمد ریحان قریشی بھائی کیا کہتے ہیں پتہ نہیں۔
 
مشورہ خوب ہے آپ کا۔۔۔ اس میں '' کھولے'' کا ''ے'' گرایا جا رہا ہے' پچھلا تجربہ یہ رہا کہ اساتذہ نے ''ے'' کا اس طرح دبنا پسند نہیں کیا' اس لیے متبادل میں خائف رہا ہوں۔ اس بارے محمد ریحان قریشی بھائی کیا کہتے ہیں پتہ نہیں۔
ے تو آپ کے مصرع میں بھی گرا ہوا ہے۔ :)
کھلے گی مری بات خود وقت پر
 
اوہ ہو' ابھی دیکھا میں نے بھی۔۔۔۔۔ آپ والا مصرع زبردست ہے اگر ''ے'' کا دبنا ٹھیک ہے تو ورنہ تو کچھ اور لانا پڑے گا۔۔۔۔ محمد ریحان قریشی بھائی رہنمائی فرمائیں
دبایا تو جا سکتا ہے۔ اقبال کا مصرع ہے
دفعِ مرض کے واسطے پِل پیش کیجیے​
مگر اس سے روانی مجروح ہوتی ہے۔
 
آخری تدوین:

نوید ناظم

محفلین
بات کا بتنگڑ بنایا جاتا ہے، غیر کو بتنگڑ کس طرح بناتے ہیں؟
بہت شکریہ سر، شکر ہے ہماری دعائیں رنگ لائیں اور آپ تشریف لے آئے۔:)
سر یہاں پر مراد یہ تھا کہ "
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر نے
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
آپ نے فرما رکھا ہے کہ "نے" پنجابی ہے اس لیے "غیر کو" لکھا۔۔۔۔ بتنگڑ کا تعلق تو بات ہی سے تھا جو دوسرے مصرع میں موجود ہے۔ آپ ہی کچھ حکم فرما دیں۔۔۔۔
 

عاطف ملک

محفلین
اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''
ارے واہ۔۔۔۔۔مجھے تو بہت ہی پسند آیا
گر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
یہ بھی خوبصورت ہے۔
بہت عمدہ غزل ہے۔
ڈھیر ساری داد۔
بہت شکریہ سر، شکر ہے ہماری دعائیں رنگ لائیں اور آپ تشریف لے آئے۔:)
سر یہاں پر مراد یہ تھا کہ "
بتنگڑ بنانا تھا بس غیر نے
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
آپ نے فرما رکھا ہے کہ "نے" پنجابی ہے اس لیے "غیر کو" لکھا۔۔۔۔ بتنگڑ کا تعلق تو بات ہی سے تھا جو دوسرے مصرع میں موجود ہے۔ آپ ہی کچھ حکم فرما دیں۔۔۔۔
نوید بھائی جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے
یہاں "غیر نے" بہتر معلوم ہوتا ہے "غیر کو" کی نسبت۔۔۔۔۔
"غیر کو" پڑھنے پر عام تاثر یہی ہوتا ہے جو استادِ محترم نے فرمایا کہ غیر کو بتنگڑ بنانے کا ذکر ہے۔
اس کے علاوہ میری رائے میں روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے اس غزل کی۔
ایک بار غور کر لیجیے۔
فقط ذاتی رائے۔
سلامت رہیں۔
 

الف عین

لائبریرین
اوہو، مراد ’غیر کے ذریعے بات کا بتنگڑ بنایا جانا تھا۔ لیکن الفاظ سے یہ ظاہر نہیں ہوا۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
 

نوید ناظم

محفلین
اوہو، مراد ’غیر کے ذریعے بات کا بتنگڑ بنایا جانا تھا۔ لیکن الفاظ سے یہ ظاہر نہیں ہوا۔ الفاظ بدل کر کوشش کریں
بہت شکریہ سر۔۔۔
مصرع بدل دیا، اب شعر یوں ہو گیا ہے۔۔۔۔
رقیب آ کے الجھا گیا بات کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں
 

نوید ناظم

محفلین
ارے واہ۔۔۔۔۔مجھے تو بہت ہی پسند آیا

یہ بھی خوبصورت ہے۔
بہت عمدہ غزل ہے۔
ڈھیر ساری داد۔

نوید بھائی جہاں تک مجھے سمجھ آئی ہے
یہاں "غیر نے" بہتر معلوم ہوتا ہے "غیر کو" کی نسبت۔۔۔۔۔
"غیر کو" پڑھنے پر عام تاثر یہی ہوتا ہے جو استادِ محترم نے فرمایا کہ غیر کو بتنگڑ بنانے کا ذکر ہے۔
اس کے علاوہ میری رائے میں روانی بہتر بنائی جا سکتی ہے اس غزل کی۔
ایک بار غور کر لیجیے۔
فقط ذاتی رائے۔
سلامت رہیں۔
تعریف اور رائے، دونوں کے لیے ممںون ہوں عاطف بھائی!
 
اگر لاکھ ہو دلکشی کچھ نہیں
بِنا آپ کے زندگی کچھ نہیں

ہم اُن کی گلی میں بھلا کیوں گئے
ارے بات یہ ہے کہ جی' کچھ نہیں!

اگر دل میں کچھ ہو توہو آپ کے
لبوں پر تو ہے پھر وہی '' کچھ نہیں''

بتنگڑ بنانا تھا بس غیر کو
اجی اصل میں بات تھی کچھ نہیں

مِرا غم تو لفظوں میں ڈھل بھی گیا
مِرے پاس اب ان کہی کچھ نہیں

تمھیں رات گمراہ جو کر گئی
تمھارے لیے روشنی کچھ نہیں

مِری بات کو وقت خود کھولے گا
ابھی چپ رہوں گا، ابھی کچھ نہیں

اُسے دیکھ کر ہوں خود اپنا رقیب
مِری خود سے بھی دوستی کچھ نہیں

اگر کچھ بچا ہو تو کہہ لیجئے
کسر خیر باقی رہی کچھ نہیں
بہت خوب، داد قبول فرمائیں
 
Top