ولی دکنی مُکھ ترا آفتابِ محشر ہے ۔ ولی دکنی

فرخ منظور

لائبریرین
مُکھ ترا آفتابِ محشر ہے
شور اس کا جہاں میں گھر گھر ہے

رگِ جاں سوں ہوا ہے خوں جاری
یاد تیری پلک کی نشتر ہے

پہنچتا ہے دلوں کو ہر جاگہ
غم ترا روزیِ مقدر ہے

مُکھ ترا بحرِ حسن ہے جاناں
زلف پُر پیچ موجِ عنبر ہے

بات میٹھی ترے لباں کی قسم
حسد انگیز شِیر و شکّر ہے

قد سوں تیرے کدھیں نہ پایا پھل
حق میں میرے درخت بے بر ہے

تجھ بن اے نور بخش محفلِ دل
حالِ مجلس تمام ابتر ہے

آگ ہی ہے بقدرِ نیزہ بلند
شمع نئیں آفتابِ محشر ہے

دُودِ آتش کیا ہے سرمۂ چشم
داغِ دل دیدۂ سمندر ہے


صفحۂ دل پہ درد کوں لکھنے
رشتۂ آہ تارِ مسطر ہے

آج جیوں آرسی ہوئے ہیں عزیز
خود نمائی جنھوں کا جوہر ہے

سادہ رو ہیں ہمیشہ باعزت
آبِ نِس دن محیطِ گوہر ہے

مجکوں پہنچی ہے آرسی سوں یہ بات
صاف دل وقت کا سکندر ہے

سیر دریائے معرفت کو سنوار
کشتیِ دل اگر قلندر ہے

اے ولیؔ کیا ہے حاجتِ قاصد
نامہ میرا پرِ کبوتر ہے

(ولیؔ دکنی)
 
واہ ۔۔۔ زبر دست ۔ سدا شاد آباد رہیں ہمارے فرخ بھائی :)
یہ زبان اور لب و لہجہ ہمارے خاندان کے عمر رسیدہ افراد خصوصا خواتین میں ابھی بھی مستعمل ہے۔اگر چہ اب اتنی عام نہیں ۔
 

فرخ منظور

لائبریرین
واہ ۔۔۔ زبر دست ۔ سدا شاد آباد رہیں ہمارے فرخ بھائی :)
یہ زبان اور لب و لہجہ ہمارے خاندان کے عمر رسیدہ افراد خصوصا خواتین میں ابھی بھی مستعمل ہے۔اگر چہ اب اتنی عام نہیں ۔

دکنی زبان میں میں نے ایک دلچسپ بات بھی دیکھی ہے کہ دکنی کے بہت سے الفاظ جوں کے توں پنجابی میں بھی مستعمل ہیں۔ یا یوں کہیے کہ بہت سے الفاظ پنجابی کے دکنی میں بھی مستعمل ہیں۔
 
Top