ملالہ کا ملال اور قوم کی دھمال

عاطف بٹ نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 10, 2012

لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
  1. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    محترم بھائی کچھ لوگ جذبات میں بہتے فرمان الہی "وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ " کے کلمہ طیبہ کو نادانستہ فراموش کر دیتے ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    جب بڑے بڑے صحافتی ادارے ایک ہی رُخ پر بہہ رہے ہون اور انہیں تصویر کا دوسرا رُخ نظر ہی نہیں آرہا ہو تو فیس بُک کے انفرادی یوزرز کہاں کے علامہ ہیں کہ متوازن گفتگو کرسکیں۔ جس گھر کی بیسیوں بیٹے بیٹیاں روزانہ قاتلانہ حملوں میں مارے جارہے ہوں، وہاں صرف معصوم ایک بیٹی کے غم میں شام غریباں منعقد کرنا ،گریباں چاک کرنا، مجلس اور ماتم برپا کرنا، کیا دیگر مقتولین بیٹے بیٹیوں کے خون کے ساتھ ناانصافی نہیں ؟؟؟ کیا اب مقتولین اور مظلومین میں بھی فرق کیا جائے گا کہ فلاں فلاں کے قتل پر شور برپا کیا جائے اور فلاں فلاں کے قتل پر خامشی؟؟؟ اللہ اکبر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
    • زبردست زبردست × 1
  3. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    سیدھی سی بات ہے کہ جب بنیاد ہی ٹیڑھی ہوگی تو آسمان تک جانے والی دیوار بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی۔۔۔اس وقت دو نظریات اور دو سوچوں کا پاکستان میں ٹکراؤ ہے۔ طالبان کی تمام آئیڈیالوجی قرآن کی اس بنیادی تعلیم کی نفی کرتی ہے کہ :
    لا اکراہ فی الدّین۔۔۔یعنی دین میں کوئی جبر نہیں۔
    اب جن حضرات نے جبر کے سائے میں ہی شقی القلب اورسخت گیر ملّاؤں سے دین کے نام پر جو کچھ سیکھا اور جس طرح سیکھا، انکا فہمٰ دین بھی ویسا ہی ہوگا۔ جس عمارت کی بنیاد ہی ٹیڑھی ہے وہ آسمان تک بھی چلی جائے تو ٹیڑھی ہی جائے گی۔ یہ فکری ٹیڑھ پن ان لوگوں کے رویوں انکے اعتقادات اور انکی نفسیات میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔۔۔
    دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    تعجب ان لوگوں پر نہیں، تعجب تو ان لوگوں پر ہے جو بظاہر پڑھ لکھ کر بھی ان پڑھ اور بے شعور ہی رہ جاتے ہیں جنکا فہمٰ دین ایسا ہے کہ انکو فاشزم پر مبنی یہ طالبانی سوچ اوراسلام کو بزور نافذ کرنے کا مودودی فلسفہ ہی اسلام کے زیادہ قریب لگتا ہے ۔
    کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے۔۔۔۔۔
    فقیہہ و صوفی و شاعر کی ناخوش اندیشی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 1
  4. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یوسف بھائی، بالکل سادہ سی بات ہے کہ جو جتنا مشہور ہو گا اس کی خبر بھی اتنی ہی بڑی بنے گی۔ لیکن یہ فرض کرنا کہ جو لوگ ملالہ پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں انہیں ڈرون حملوں سے کوئی دکھ نہیں ہوتا، ناانصافی کی بات ہے۔ مجھے ملالہ پر ہوئے حادثے کا دلی افسوس ہے، لیکن ساتھ ساتھ میں ڈرون حملوں اور امریکی نواستعماریت کا بھی شدت سے مخالف ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 3
  5. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    اور میں یہ بھی پوچھنا چاہوں گا کہ مضروبہ کو آپ نے کس بنیاد پر 'گوروں کے ایجنٹ' کے لقب سے نوازا ہے۔ باقی پاکستانی میڈیا کی ہیجان/سنسنی انگیزی پر آپ کی تنقید بجا ہے۔ یہ ہم سب ہی مانتے ہیں کہ پاکستانی الیکٹرونک میڈیا کچرا ہے۔
     
    • متفق متفق × 4
  6. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    مجھے آج بھی ان شگفتہ سیرت اور بزلہ سنج خان صاحب کو یہ جملہ نہیں بھولتا جو اکثر اسی ریسٹورنٹ میں ناشتہ کرتے نظر آتے تھے جہاں میرا آنا جانا تھا، لیکن ہماری کبھی آپس میں گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ ایک دن ریسٹورنٹ کے مدراسی مالک نے ان سے پوچھا کہ "خان صاحب آپ کونسے علاقے کا ہے؟" تو جواب میں خان صاحب نے ہنستے ہوئے فرمایا کہ:
    "میں جس علاقے کا رہنے والا ہوں وہ جنت جیسا ہے، لیکن لوگ دوزخی ہیں"۔۔۔:D:LOL::laugh:
    امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ وہ کونسا علاقہ تھا۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  7. Muhammad Qader Ali

    Muhammad Qader Ali محفلین

    مراسلے:
    1,014
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    یہاں بھی کون حق ہے کون باطل ہے اچھا دھمال ہے
    مجھے عاطف بٹ صاحب، ساجد بھائی اور یوسف ثانی کی باتیں اچھی لگیں
    خاص طورپر ساجد بہت ہی اچھی طرح سمجھاتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  8. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    " ملالہ " اس موت و زندگی کے مرحلے سے گزر اک ایسا منطرنامہ تخلیق کر چکی ہے ۔ جس میں پاکستان کی 1980 سے لیکر آج تک کی کہانی پوری معنویت سے روشن ہے ۔ یہ جو شور بپا ہے کہ " ملالہ " کو کوریج دیئے جاتے دیگر ان حالات کا نشانہ بنتے زندگی سے بچھڑ جانے والوں کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے ۔ تو عرض ہے کہ " ملالہ " ہی وہ آواز بن کر ابھری ہے ۔ جس نے انتہا پسندی دہشتگردی کا نشانہ بننے والی مطلوم و بے بس آوازوں کو ایسی صدا کا روپ دیا ہے ۔ جو اب ضمیر کی چبھن بن کر ان تمام روحوں کو اذیت دے رہی ہے ۔ جو کہ کسی بھی صورت اس انتہا پسندی اور دہشت گردی کی حمایت کرتے رہے ۔ خاموش رہنا مناسب جانتے تھے ۔ اور آج بھی چونکہ " ملالہ " پر حملہ اسی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت سے مربوط ہے تو " ملالہ " کی کوریج گراں گزر رہی ہے ۔
    ان " علاماؤں " نےجانے کیسے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ " ملالہ " پر حملے کی مذمت کرنے والے انتہا پسندی دہشت گردی ڈرونز کا نشانہ بننے والے بے گناہوں کی موت پر ہمیشہ خاموش رہے ۔؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • متفق متفق × 1
  9. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    حسان بھائی! آپ کی بات درست ہے کہ جو جتنا مشہور ہوگا، اس کی اتنی ہی بڑی خبر بنے گی۔ لیکن ایک مشہورفرد کے زخمی ہونے پر اخبارات کے درجنوں کالم سیاہ کردینا اور درجنوں افراد کے قتل پر ایک کونے میں خبر دینا اور بھول جانا کیا یہی صحافتی دیانت داری ہے؟؟؟ مجھے بھی ملالہ پر حملہ کا اتنا ہی دکھ ہے، جتنا کسی اور کو۔۔۔ لیکن میڈیا کی نا انصافی پر بھی مجھے افسوس ہے کہ وہ صرف ان مظلومین کے حق میں اپنے وسائل کا بھرپور استعمال کرتا ہے، جسے امریکہ و برطانیہ ”مطلوم“ ڈیکلیئرڈ کرے۔ مظلوم تو مظلوم ہوتا ہے، خواہ ملالہ ہو یا درجنوں گمنام خواتین و حضرات جو روزانہ قتل کئے جارہے ہیں، جن کی ایف آئی آر بھی نہیں کٹتی، جن کی مذمت میں اسمبلیاں بھی نہیں بولتیں، جن کے لئے حکومت بھی خاموش رہتی ہے۔ ہر بے گناہ قتل کو ظلم سمجھا جائے۔ ورنہ دہشت گردی کی نئی فصل اگتی رہے گی
     
    • متفق متفق × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  10. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    میں یہ پوچھنا چاہوں گا کہ گوروں کو آخر ملالہ سے کیا ہمدردی ہے، جو وہ اس کے دکھ کو ”انٹرنیشنلی اون“ کررہے ہیں؟؟؟ ایک طرف وہ ڈرون حملوں کے ذریعہ ہمارے بیٹوں بیٹیوں کو قتل کررہے ہین۔ دوسری طرف وہ ہماری ایک مضروبہ بیٹی کے غم میں مگر مچھ کے آنسو کیوں بہا رہے ہیں؟؟؟ یہ کونسا عدل و انصاف ہے۔ پاکستانی میڈیا بھی ”گوروں کے ”اشارہ“ پرہی یہ سب کچھ کر رہا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  11. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    وہ بات سارے فسانے میں جسکا ذکر نہ تھا
    وہ بات انکو بہت ناگوار گذری ہے۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • متفق متفق × 1
  12. پپو

    پپو محفلین

    مراسلے:
    6,999
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    میری بات بڑی مختصر ہے بٹ صاحب اور پاکستانی بھائی

    کسی کو استعمال کیا گیا جان بوجھ کر اور کوئی استعمال ہوگیا انجانے میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 4
    • متفق متفق × 3
  13. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    اجی گورے جائیں جہنم میں، آپ اپنی بات کیجئے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کیا وہ لوگ جو ملالہ جیسی آوازوں کو بزور طاقت خاموش کروادیں، جو آئے دن لڑکیوں کے پرائمری سکولوں کو بم سے اڑاتے پھریں، جو علم کو دینی اور دنیاوی دو حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصے پر اپنی اجارہ داری مسلط کرنے پر مصر ہوں اور دوسرے حصے اور اسکے طلباء و طالبات کو نظرِ حقارت سے دیکھیں اور اپنی فہمِ دین کو دوسروں پر زبردستی نافذ کرنا چاہیں ۔۔۔کیا آپ اس قسم کے اسلام اور اس قسم کے مسلمانوں کے حامی ہیں یا نہیں۔۔۔اگر نہیں تو کھل کر بات کیجئے اور ایسا کیوں ہے کہ اس سوچ اور انکے حاملین کے خلاف کوئی بھی بات ہو تو آپ بے وقت کی راگنی چھیڑ دیتے ہیں۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1
  14. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,915
    موڈ:
    Asleep
    ڈرون سے مرنے والے بھی معصوم بچے ہیں۔ آپ کے میڈیا والوں کو ان سے کیا دشمنی ہے؟ وہ بھی اسی ملک کے ہیں۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے ہمارا میڈیا کافی کنزروٹیو رجحانات رکھتا ہے۔ ڈرون حملوں میں مرنے والے لوگ زیادہ تر قبائلی علاقوں میں ہوتے ہیں اور وہاں طالبان کی حکومت ہے اور فوج بھی صحافیوں کو نہیں جانے دیتی اور جو صحافی جاتے ہیں وہ بے چارے قتل کر دئے جاتے ہیں۔ ہم تب ہی تو کہتے ہیں کہ اگر میڈیا آزاد ہو تو ہمیں قبائلی علاقوں، بلوچستان، گلگت بلتستان کی بھی خبریں ملنی چاہیے۔
    "ہمارے آقا" وغیرہ اور یہ سب باتیں صرف لفاظی ہے۔ میڈیا پرایوئٹ ہے- ڈان اور ٹریبیون جیسے لیفٹ ونگ اخباروں سے لے کر نوائے وقت اور امت جیسے رائٹ ونگ اخبار یہاں موجود ہیں۔ کوئی تو ان کو رپورٹ کرے، اگر کر سکے تو؟
    اگر آپ کے خیال میں سب کے سب صحافت کے ادارے بکے ہوئے ہیں تو آپ کو تو صحافت سے ناتا ہی توڑ دینا چاہیے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  15. Muhammad Qader Ali

    Muhammad Qader Ali محفلین

    مراسلے:
    1,014
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ان شاء اللہ چند دنوں میں یہ بھی معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا پھر میڈیا کو نیا کسٹمر مل جائے گا۔
    ایک اور ہماری خاتون امریکہ بربریت کا شکار ہے اس کو شاید سب بھول گئے۔
     
    • متفق متفق × 2
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  16. یوسف-2

    یوسف-2 محفلین

    مراسلے:
    4,043
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی حکومت براہ راست ظلم کر رہی ہے اور بیٹی ملالہ بالواسطہ ”امریکی ظلم“ کا نشانہ بنی ہے قادر بھائی! امریکہ اور اس کے اتحادی ہر طریقہ سے مسلم کشی میں مصروف ہیں۔ آپ نے خیبر پولس کا بیان نہیں پڑھا کہ ملالہ کے قاتل افغانستان سے آئے تھے اور افغانستان پر کن کی حکومت اور وہاں سے کون دہشت گردوں کو پاکستان بھیج رہا ہے، اس پر شاید ہم لوگوں کی نظریں ہیں ہی نہیں۔ :eek:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  17. Muhammad Qader Ali

    Muhammad Qader Ali محفلین

    مراسلے:
    1,014
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    جام کے ساتھ جام چھلکانے سے سرحدوں کی حفاظت نہیں ہوتی۔ ہر طرف اندھیر نگری ہے کیسہ بھر کر جب مصیبت یا عذاب آئے تو پتلی گلی سے نکل جائنگے یہ دوہر شہریت کے علمبردار خواہ جو بھی ہو۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  18. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    یقیناّ یہ لوگ افغانستان سے ہی آئے ہونگے ۔ لیکن یقیناّ یہ کوئی گورا یا امریکی نہیں ہوگا بلکہ "فرزندانِ توحید" میں سے ہی کوئی ہوگا۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ یقیناّیہ لوگ بالواسطہ طور پر امریکی ایجنڈے ہی کیلئے استعمال ہورہے ہیں لیکن یہ بھی ایک یقینی بات ہے کہ ایسے لوگوں کو استعمال کرنے کیلئے کوئی بھی گورا یا امریکی یا کوئی کافر براہِ راست ان لوگوں کے ساتھ میل جول نہیں رکھتا اور نہ ہی یہ لوگ اسکو مانیں گے، اس کام کیلئے گمراہ قسم کے مذہبی شدت پسند مولوی استعمال کئے جاتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ اور خضر کے واقعے کا قرآن سے حوالہ دیکر ان عقل کے اندھے مذہبی جنونیوں کے جنوں کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں کہ ہاں ہاں سب ٹھیک ہے خضر نے بھی تو ایک چھوٹے سے بچے کو قتل کیا تھا، تم لوگ بھی یہ سب دین ہی کیلئے کر رہے ہو جاؤ جاؤ حوریں تمہارے اسقبال کیلئے بے چین ہیں۔۔۔حضور کبھی ان نام نہاد مولویوں اور ان علم کے موتیوں پر بھی کبھی کچھ تبصرہ کیا کیجئے:arrow:
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  19. ساجد

    ساجد محفلین

    مراسلے:
    7,113
    موڈ:
    Question
    یوسف بھائی ، میرا خیال ہے کہ سارے گورے ایک ہی صف میں شمار نہیں کئے جا سکتے انہی میں سے بہت سارے لوگ اپنی حکومتوں کو غیر متوازن پالیسیوں پر تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں اور سماجی طور پر ظلم کے خلاف آواز بھی بلند کرتے ہیں لیکن ان کی حکومتوں کا معاملہ ان سے الگ ہے۔
    ان حکومتوں کو ملالہ سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے؟؟؟۔اس کا جواب ہے" کچھ بھی نہیں"۔تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ "مذمت" میں اس قدر پیش پیش کیوں ہیں؟۔ کیا روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے خود کش حملوں اور ڈرونز اٹیک میں بھی پاکستانی ہی نہیں مارے جاتے تب ان کی مذمتیں کہاں ہوتی ہیں؟؟؟۔...........لا محالہ اب میرے کچھ ساتھی ایک مختلف زاوئے سے مجھے دیکھنے لگ گئے ہوں گے کہ شاید میں اس واقعے کو کسی اور طرف لے جا رہا ہوں........نہیں جناب ، میں تو ایک نقطہ سامنے لا رہا ہوں۔
    دیکھئے !!!!! دو دن قبل میں نے عمران خان کی جنوبی وزیرستان ریلی پر اس مراسلے میں کیا لکھا ہے ۔ اب سمجھئے کہ جبکہ اس ریلی کے بعد مغرب اور امریکہ میں عوامی اور پارلیمانی سطح پر ڈرون حملوں کے خلاف ایک رائے مظبوط ہونے لگی تھی۔ ملالہ جیسا واقعہ رونما کرنا کس کی ضرورت تھی؟۔ اور اب اس واقعے کی مذمت سے اپنے اوپر پڑی شک کی گرد جھاڑنے کی کوشش کون کر رہا ہے؟۔ اور یہ سوچئے کہ اس حملے کے لئے ملالہ کا انتخاب کیا کچھ ظاہر نہیں کرتا ؟۔ یہی نا کہ کم سے کم وہ حکومتیں داخلی طور پر اپنے پالیمنٹیرینز اور عوام کو ڈرون حملوں کا ایک جواز فراہم کر کے خاموش کر سکیں اور اس عوامی رائے عامہ کو ڈی فیوز کر سکیں جو ڈرون حملوں کے خلاف ان کا سر درد بننے جا رہا تھا ۔ دوم،،،، بین الاقوامی سطح پر اپنی پالیسیوں کی نا مقبولیت اور نا معقولیت پر پردہ ڈال سکیں۔ سوم،،،،،پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھیں اور اس کے عوام کو اس قدر کنفیوز کر دیں کہ وہ ان کی بد معاشیوں کے خلاف متحد نہ ہو سکیں بلکہ الٹا انہیں نجات دہندہ سمجھنے لگیں۔ حالانکہ ایسے خونریز واقعات انہی کے گماشتوں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔ بے شک ان کا نام طالبان ہو یا کوئی اور۔
    دراصل ان حکومتوں کا معاملہ "چور مچائے شور" کے مصداق ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 5
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  20. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,915
    موڈ:
    Asleep
    جب بھی آپ ایک بات سے دوسری بات نکالتے ہیں تو اس کے لئے ثبوت دینا لازمی ہوتا ہے۔ ورنہ آپ کی باتوں کو کوئی سنجیدہ نہیں لے گا۔
     
    • متفق متفق × 2
لڑی کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

اس صفحے کی تشہیر