ملالہ کا ملال اور قوم کی دھمال

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

سید ذیشان

محفلین
یہ بھی عجیب بات ہے آپ دہشت گردوں کو یہ بتائیں کہ اگلی بار وہ تسلی کر کے مارا کریں ۔ یا مزید تربیت دیں وہ ان کو ۔ میرے لیے تو اس مین شکوک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ دہشت گردی طالبان نے کی ہے جیسا کہ انہوں نے قبول کیا ہے اور میں شکر کرتا ہوں کہ وہ ناکام ہوئے ہیں اور ملالہ زندہ ہے ۔ اور امید کرتا ہوں طالبان ہمیشہ ناکام و نامراد ہوں اور سارے کے سارے مارے جائیں یہاں تک کہ زمین ہر ایک ایسا نا رہے جو کہہ سکے کہ میں طالبان گروپ کا ہوں

اور میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گا سرخ کی گئی تحریر میں " اور امید کرتا ہوں طالبان ہمیشہ ناکام و نامراد ہوں اور سارے کے سارے مارے جائیں یہاں تک کہ زمین ہر ایک ایسا نا رہے جو کہہ سکے کہ میں طالبان گروپ کا ہوں" اور جو کوئی بھی ان کا ہمدرد ہو۔
 

عسکری

معطل
عاطف بھائی خوب لکھا آپ نے۔خصوصاً
اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ کسی کی قدر نہیں کرتے وہ مغرب ہم سے زیادہ مردم شناس ہے اس میں کوئی شق ہے؟ مسلمانوں نے اب تک کسے سراہا ہے ؟ ساری دنیا میں تعلیم عمل کارکردگی دکھانے والوں کو عزت ایوارڈز انعامات کیا کیا نہیں دیا جاتا اور ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے
pakistan....jpg


اس لیے ہم ان کو فالو کرتے ہیں اور میں تب تک کرتا رہوں گا جب تک ہمارے ملک سوسائٹی اور قوم ہیرے کی پہچان خود سے نہیں کر لیتی
 

عاطف بٹ

محفلین
نکلنے کا راستہ بھی ہے اور حل بھی ہے ایسا نہیں کہ ہم بند گلی میں ہیں ۔اب ان باتوں کو کر کے کیا فائدہ ہمیں ان سے عبرت تو لینی ہے پر ان کو لے کر کوسنا اور حسرت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ہمیں لڑنا ہے اپنا آپ اس سے نکالنا ہے اور آگے بڑھنا ہے ۔ وقت کبھی رکا نہیں کرتا دنیا ایسی لاکھوں موومنٹس دیکھ چکی ہے ہر چیز دائمی نہیں ہوتی ۔ انسرجنسی کو شکست ہوئی ہے اور ہو گی ۔ صرف یہ قوم حکومت اور فوج ایک ہو کر ڈٹ جائیں تب ورنہ جب احساس ہو گا تب بہت دیر ہو چکی ہو گی ۔ آج آپ کسی افغان سے پوچھیں تو اس کی خواہش یہی ہے کہ ان کے ملک سے اسلحہ طالبان ڈرگز ختم ہو جائیں ہم بھی ویسا ہی سوچیں ابھی بھی ہمارے پاس وقت ہے ۔ یہ طالبان کوئی ایسی چیز نہیں یہاں زمین کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔ایک دن ہو گا جب یہ تاریخ کی کتابوں میں بھی شاید نا ملیں۔
میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں اور میری زندگی کا ہر لمحہ میرے مذہب اور ملک پر قربان مگر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب تب تک شرمندہء تعبیر نہیں ہوگا جب تک ہم امریکی جھولی سے نہیں اٹھیں گے۔ بات بات پر تو ہم ان سے امداد مانگنے چل پڑتے ہیں تو اپنے پاؤں پر خاک کھڑے ہوں گے۔
 

عسکری

معطل
میں آپ سے پوری طرح متفق ہوں اور میری زندگی کا ہر لمحہ میرے مذہب اور ملک پر قربان مگر ایک خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب تب تک شرمندہء تعبیر نہیں ہوگا جب تک ہم امریکی جھولی سے نہیں اٹھیں گے۔ بات بات تو ہم ان سے امداد مانگنے چل پڑتے ہیں تو اپنے پاؤں پر خاک کھڑے ہوں گے۔
جی یہ تو ہے ۔ اور یہ امداد تب تک مانگی جاتی رہے گی جب تک ہم اپنا آپ نہیں بدل دیتے ۔ اگر پاکستان میں ٹیکس کلچر بجلی چوری اور دوسری سرکاری املاک کی چوری کرپشن اور بے ایمانی 90 فیصد کم ہو جائے تو جی ڈی پی 1 ٹریلین ڈالر تک ہے اصل مسئلہ عوامی سوچ اور عوام کی خود غرضی ہے جو چاولوں کی پلیٹ پر ووٹ دے آتے ہیں اور لفظ استمال کرتے ہیں سرکاری مال جبکہ یہ ان بے وقوفوں کا اپنا مال ہے سرکار بذات خود کچھ نہیں بلکہ عوام خود ہے اس کی لوٹ مار بند ہونی چاہیے ۔ ایڈ تب تک چلے گی جب تک ایمانداری ہم میں نہیں آ جاتی ۔
 

عاطف بٹ

محفلین
اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ کسی کی قدر نہیں کرتے وہ مغرب ہم سے زیادہ مردم شناس ہے اس میں کوئی شق ہے؟ مسلمانوں نے اب تک کسے سراہا ہے ؟ ساری دنیا میں تعلیم عمل کارکردگی دکھانے والوں کو عزت ایوارڈز انعامات کیا کیا نہیں دیا جاتا اور ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے
pakistan....jpg


اس لیے ہم ان کو فالو کرتے ہیں اور میں تب تک کرتا رہوں گا جب تک ہمارے ملک سوسائٹی اور قوم ہیرے کی پہچان خود سے نہیں کر لیتی
مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر آپ انہی کی فوج میں بھرتی ہوجائیں تو مناسب ہوگا کیونکہ ہم ہیروں کی قدر کرنا نہیں جانتے!
میرے بھائی، یہ ہم ہیں کون؟ میں اور آپ تو اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ کسی ایک مسئلے پر دلائل و براہین مل جانے کے باوجود اپنی رائے تک نہیں بدلنا چاہتے تو ملک کہاں سے بدلے گا؟
 

عسکری

معطل
مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ پھر آپ انہی کی فوج میں بھرتی ہوجائیں تو مناسب ہوگا کیونکہ ہم ہیروں کی قدر کرنا نہیں جانتے!
میرے بھائی، یہ ہم ہیں کون؟ میں اور آپ تو اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ کسی ایک مسئلے پر دلائل و براہین مل جانے کے باوجود اپنی رائے تک نہیں بدلنا چاہتے تو ملک کہاں سے بدلے گا؟
میں وہی تو پوچھ رہا ہوں آپ نے الٹا مجھے ہلانا شروع کر رکھا ہے ۔ کیوں نا دنیا مغرب کو فالو کرے جب مشرق میں جہالت بے ایمانی دھوکہ دہی کرپشن کے ساتھ لائق لوگ بے وقعت ہوں؟
 

عاطف بٹ

محفلین
میں وہی تو پوچھ رہا ہوں آپ نے الٹا مجھے ہلانا شروع کر رکھا ہے ۔ کیوں نا دنیا مغرب کو فالو کرے جب مشرق میں جہالت بے ایمانی دھوکہ دہی کرپشن کے ساتھ لائق لوگ بے وقعت ہوں؟
مجھے پورا یقین ہے کہ جس دن میں سنور جاؤں گا اس روز پورا ملک سنور جائے گا، قوم سنور جائے گی۔ اندھیروں پر تنقید کرنے کی بجائے ہم سب کو خود چراغ بننا ہوگا، چاہے اس چراغ کی روشنی کتنی ہی مدھم کیوں نہ ہو۔ ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر بدلنا ہوگا تاکہ یہ ملک ترقی کرسکے، یہ قوم فلاح پاسکے۔
 

عسکری

معطل
مجھے پورا یقین ہے کہ جس دن میں سنور جاؤں گا اس روز پورا ملک سنور جائے گا، قوم سنور جائے گی۔ اندھیروں پر تنقید کرنے کی بجائے ہم سب کو خود چراغ بننا ہوگا، چاہے اس چراغ کی روشنی کتنی ہی مدھم کیوں نہ ہو۔ ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر بدلنا ہوگا تاکہ یہ ملک ترقی کرسکے، یہ قوم فلاح پاسکے۔
بالکل اور میں دوبارہ عزم کرتا ہوں کہ میں نے جیسے آج تک اس ملک کو ذرا بھر بھی نقصان نہیں دیا ویسے آگے بھی کروں گا ۔ اپنے تمام واجبات جیسے آج تک ادا کیے ہیں آگے بھی کرتا رہوں گا اور جیسے اس ملک کی تعمیر و ترقی امن و آتشی میں اپنا حصہ ڈالا آگے بھی ڈالتا رہوں گا ۔ سب لوگ اس عزم کا اعادہ کرو کہ اپنی اپنی جگہ پاکستان کی حکومت اور اداروں کے زمہ واجب ایک ایک پائی ادا کرو گے اور کبھی اس ملک کی چوری نہیں کرو گے ۔ اگر ایک سال تک سارے پاکستانی پابند ہو جائیں تو 40 فیصد مشکلیں ختم ہو جائیں ہماری ۔
 

نایاب

لائبریرین
مجھے پورا یقین ہے کہ جس دن میں سنور جاؤں گا اس روز پورا ملک سنور جائے گا، قوم سنور جائے گی۔ اندھیروں پر تنقید کرنے کی بجائے ہم سب کو خود چراغ بننا ہوگا، چاہے اس چراغ کی روشنی کتنی ہی مدھم کیوں نہ ہو۔ ہم سب کو اپنی اپنی سطح پر بدلنا ہوگا تاکہ یہ ملک ترقی کرسکے، یہ قوم فلاح پاسکے۔
بالکل اور میں دوبارہ عزم کرتا ہوں کہ میں نے جیسے آج تک اس ملک کو ذرا بھر بھی نقصان نہیں دیا ویسے آگے بھی کروں گا ۔ اپنے تمام واجبات جیسے آج تک ادا کیے ہیں آگے بھی کرتا رہوں گا اور جیسے اس ملک کی تعمیر و ترقی امن و آتشی میں اپنا حصہ ڈالا آگے بھی ڈالتا رہوں گا ۔ سب لوگ اس عزم کا اعادہ کرو کہ اپنی اپنی جگہ پاکستان کی حکومت اور اداروں کے زمہ واجب ایک ایک پائی ادا کرو گے اور کبھی اس ملک کی چوری نہیں کرو گے ۔ اگر ایک سال تک سارے پاکستانی پابند ہو جائیں تو 40 فیصد مشکلیں ختم ہو جائیں ہماری ۔
شکر واجب ہے کہ یہاں مچی " دھمال " وجد آفریں ٹھہرتے اپنی اپنی اصلاح کی بنیاد بنی ،
اللہ تعالی ہم سب روشن سوچ سے نوازے آمین
محترم بٹ بھائی بلا شبہ دل سے نکلی بات اثر رکھتی ہے ۔ اور اس آپ کی تحریر نے ہمیں خود سے اک اچھا عہد کرنے کا موقع دیا ۔
جزاک اللہ خیراء
 

منصور مکرم

محفلین
کہتے ہیں ہوا کی مخالف سمت میں اُڑنا ایک انتہائی مشکل کام ہے اور ایسا کرنے والوں کو اکثر نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہ تحریر بھی بہاؤ مخالف سوچ کی عکاس ہے اور اسے پڑھ کر اگر آپ کا ہمیں گالی دینے کو دل چاہے تو آپ یہ حق محفوظ رکھتے ہیں اور اگر آپ کی دلآزاری ہو تو اس کے لئے ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں۔ اس تحریر کا مقصد کسی کا دل دُکھانا نہیں بلکہ صرف تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی ایک کوشش ہے۔
گزشتہ روز چودہ سالہ بچی ملالہ یوسفزئی پر حملہ ہوا۔ اس بزدلانہ فعل کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ اخبارات اور ابلاغ کے دیگر ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔ مذکورہ کالعدم تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایک خبررساں ادارے سے ٹیلیفون پر رابطے کے دوران بتایا کہ ملالہ طالبان مخالف سوچ رکھتی ہے اور منفی پراپیگنڈہ کررہی ہے، اس وجہ سے اس پر حملہ کیا گیا۔
حملے کے بعد تمام ٹیلیویژن چینلز پر ایک ایسا ہنگامہ بپا ہوا جو رات گئے تک تھمنے میں نہ آسکا۔ آج کے تمام قومی اخبارات کی شہ سرخی بھی یہی واقعہ بنا اور سرورق پر اس واقعے یا ملالہ سے متعلق دیگر خبروں نے بھی خوب جگہ پائی۔ صدر مملکت اور وزیراعظم کے علاوہ کئی سیاسی راہنماؤں نے اس واقعے کی بھرپور مذمت کی۔ اس موقع پر کشور ناہید کی نظم "وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے" بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر کئی جگہ دیکھنے کو ملی۔
ملالہ پر ہونے والے افسوسناک حملے کی مذمت امریکہ نے بھی کی اور ہمارے ہاں عوامی حلقوں میں بھی اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس قبیح عمل کی مذمت میں اٹھنے والی ہر آواز جائز، ہر نعرہ برحق اور ہر کوشش لائق ستائش ہے مگر کیا ملالہ وہ پہلا انسان یا پاکستانی ہے جس پر ایسا کوئی حملہ ہوا ہے؟ کیا ہمارے ہاں ہر انسان یا پاکستانی پر ہونے والے حملے کے بعد ایسی ہی افراتفری مچتی ہے؟ کیا پاکستان میں کسی بچے پر ہونے والے ہر حملے کی مذمت یونہی کی جاتی ہے؟ کیا یہاں کسی حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے ہر بچے کو علاج معالجے کی ایسی ہی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں؟ آئیے ذرا کچھ حقائق پر نظر ڈال کر ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔
ہم نے ملالہ کی ڈائری کے وہ صفحات پڑھے ہیں جو وہ 2009ء میں تقریباً دس برس کی عمر میں 'گل مکئی' کے فرضی نام سے لکھ کر برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس کو مبینہ طور پر بھجواتی رہی ہے۔ ان صفحات میں بہت صاف اور سلیس اردو میں عموماً روزمرہ باتوں کو قلمبند کیا گیا اور خصوصی توجہ طالبان کی فکر اور ان کی سرگرمیوں پر رکھی گئی ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ملالہ نے جب جنوری 2009ء میں یہ ڈائری لکھنے کا آغاز کیا اس وقت ساتویں جماعت کی طالبہ تھی اور آج پونے چار برس گزرنے کے بعد وہ آٹھویں جماعت میں ہے۔
دی بیورو آف انویسٹیگیٹیو جرنلزم کی ایک رپورٹ کے مطابق جون 2004ء سے ستمبر 2012ء تک پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں کے نتیجے میں 176 بچے شہید ہوئے۔ معروف برطانوی جریدے گارڈین کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2006ء میں ایک مدرسے پر کئے جانے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں 69 بچے شہید ہوئے جبکہ بعض پاکستانی صحافیوں کے مطابق یہ تعداد 85 ہے۔ ان میں سے کئی بچوں کی عمریں دس برس سے کم تھیں۔ ان میں سے کئی بچے جنگ اور امن کی تعریف سے بھی واقف نہیں تھے۔ اس وقت جرنیلی صدارت چل رہی تھی اور روشن خیالی کا دور دورہ تھا۔ حملے کا شکار ہونے والے بچے چونکہ انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے تھے، سو نہ تو کسی کو انسانی حقوق کا خیال آیا، نہ ہی کوئی نظم کہی گئی اور نہ ذرائع ابلاغ نے اس حوالے سے شور مچانا مناسب سمجھا۔
لاہور، کراچی یا کسی بھی بڑے شہر کے کسی سکول کے باہر کوئی کریکر چلنے سے بھی چند بچے زخمی ہوجائیں تو ان بچوں کے اوصاف و فضائل پر ایسی ایسی رپورٹیں ٹیلیویژن پر چلائی جاتی ہیں اور ایسے ایسے نغمے اور نوحہ نما نظمیں پیش کی جاتی ہیں کہ جی چاہتا ہے ان لوگوں کے ٹکڑے کردیں جو ان ننھے سقراطوں اور معصوم ارسطوؤں کی جان کے در پے ہوگئے ہیں۔ لیکن وزیرستان یا اس سے ملحقہ علاقوں میں کسی ڈرون حملے کے نتیجے میں شیرخوار بچوں کے چیتھڑے بھی اُڑ جائیں تو محض چند سیکنڈز کی ایک خبر اور کچھ پٹیاں چلا کر اپنا 'صحافتی فریضہ' ادا کردیا جاتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی اردو سروس پاکستان کے اندر کن سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اس ادارے کے ذریعے کن خیالات اور نظریات کی ترویج کی جارہی ہے اس بحث کو ہم کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال تو سوال یہ ہے کہ مذکورہ کالعدم تحریک سے جڑے ہوئے جنگجو جو ہماری انتہائی تربیت یافتہ فوج کے خلاف کارروائیاں کرنے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں، کیا اتنے ہی غیرتربیت یافتہ ہیں کہ ایک چودہ سالہ نہتی بچی پر 'ناکام حملہ' کرکے بھاگ کھڑے ہوئے؟ ملالہ کی تصویریں دنیا بھر میں شائع ہوچکی ہیں تو پھر حملہ آوروں کو یہ پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ گاڑی میں بیٹھی بچیوں میں سے ملالہ یوسفزئی کون ہے؟ ملالہ کے ساتھ تو سیکیورٹی اہلکار نہیں ہوتے اور مبینہ طور پر اسے دھمکیاں بھی ملتی رہی ہیں تو اس پر اب سے پہلے حملے کرنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ حالیہ دنوں میں ملالہ نے کون سی ایسی اہم سرگرمی کی تھی جس کی وجہ سے اس پر حملہ کیا گیا؟ کیا اس طرح کی کارروائیوں سے وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش تو نہیں کی جارہی؟ اور آخر میں ہم یہ بھی جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ مغرب کی مخالفت کے باوجود ہم لوگ ان کی طرف سے ہی چنے اور نمایاں کئے گئے لوگوں کو کیوں اپنے معاشرے میں تبدیلی اور اثبات کی علامت سمجھتے ہیں؟؟؟
اطلاعات کے مطابق ملالہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ملالہ کو صحت، تندرستی اور لمبی زندگی عطا فرمائے، آمین!
ہمم م م م م آپکی بات میں وزن ہے۔میں بھی کچھ ایسے ہی سوچ رہا تھا ۔لیکن ان سوچوں کو ایک ترتیب نہ دئے سکا۔ بس دال مین کچھ کالا کالا سا نظر آرہا تھا، اس کالے کا تعین نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ کچھ لوگ جو کہ بطاہر تو اپنے نظر آتے ہیں لیکن اغیار کے نوتوں پر پلے بڑئے ہیں ،وہ اس کالے کو سامنے لانے کے بجائے اپنے مفاد کیلئے اس کو مزید چھپانے کی کوشش میں ہیں۔

رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ حملہ آور افغانستان کے پہاروں کو کراس کرکے آئے تھے ۔لیکن باتیں شمالی وزیر ستان کے اپریشن کی ہو رہی ہیں۔اور میرئے خیال میں سوات کے ساتھ کسی طرح بھی شمالی وزیرستان کی سرحد نہیں ملتی کہ حملہ آور فرار ہو کر شمالی وزیر ستان مین پناہ گزین ہوں۔

جو لوگ خون بہانے کے عادی ہوں ،اور انکی روزی ہی اپنوں کے خون بہانے سے آتی ہو، تو وہ ملالہ پر حملہ کے سبب کچھ زیادہ ہی غمزدہ ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟:lightning:
 

عاطف بٹ

محفلین
شکر واجب ہے کہ یہاں مچی " دھمال " وجد آفریں ٹھہرتے اپنی اپنی اصلاح کی بنیاد بنی ،
اللہ تعالی ہم سب روشن سوچ سے نوازے آمین
محترم بٹ بھائی بلا شبہ دل سے نکلی بات اثر رکھتی ہے ۔ اور اس آپ کی تحریر نے ہمیں خود سے اک اچھا عہد کرنے کا موقع دیا ۔
جزاک اللہ خیراء
نایاب بھائی، اگر میں کسی بھی اصلاح اور بہتری کا باعث بن سکوں تو میرے لئے اس سے بڑی خوشی کی بات اور کوئی نہ ہوگی!
اللہ ہم سب کو ہدایت اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 

منصور مکرم

محفلین
اس میں تو کوئی بھی شک نہیں کہ پہلی ہی نظر میں اس واقعے کے ڈانڈے وزیرستان میں آپریشن کے ساتھ جڑتے نظر آتے ہیں ۔
لیکن اس واقعے کے فوری بعد " احسان اللہ احسان " طالبان سپوکسمین کا اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ملالہ کو اپنی ہٹ لسٹ پر ہونے کا اعتراف کرنا اس معاملے کو الجھا گیا ہے ۔۔ ۔

میرئے خیال میں تو کچھ ادارئے ایسے کئی (احسانوں ) کو پہلے ہی فون کے پیچھے بٹھا کر رکھتی ہیں ،اور پھر واقعہ کے بعد وہ (احسان) اسکی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے۔

ویسے آپس کی بات کہ کس نے دیکھا ہے کہ فون کے پیچھے کون ہے۔۔۔۔۔۔:umbrella:

مجھے ایک واقعہ یاد ایا کہ امریکہ مین کسی پاگل نے فائرنگ کرکے کچھ لوگوں کو قتل کیا ،تو اسی طرح ایک (احسان) نے فون کرکے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اب عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہے۔
 

منصور مکرم

محفلین
یہ ایک اور شتر مرغ کہانی ہے ریت میں اپنا سر تو دبا رکھا ہے دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کر رہا ہے رائٹر
بات تو آپکی صحیح ہے لیکن شتر مرغ کے تعین میں فرق ہے۔ہم شتر مرغ کسی اور مخلوق کو کہتے ہیں جو کہ اپنے آپ کو قانون سے ماوراء سمجھتی ہے۔
 

منصور مکرم

محفلین
اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ہم لوگ کسی کی قدر نہیں کرتے وہ مغرب ہم سے زیادہ مردم شناس ہے اس میں کوئی شق ہے؟ مسلمانوں نے اب تک کسے سراہا ہے ؟ ساری دنیا میں تعلیم عمل کارکردگی دکھانے والوں کو عزت ایوارڈز انعامات کیا کیا نہیں دیا جاتا اور ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے
pakistan....jpg


اس لیے ہم ان کو فالو کرتے ہیں اور میں تب تک کرتا رہوں گا جب تک ہمارے ملک سوسائٹی اور قوم ہیرے کی پہچان خود سے نہیں کر لیتی

آپکے جذبے کی قدر کرتا ہوں۔
اگر آپکی بات کو میں کچھ اور آگے بڑھاوں کہ ہم انکے اچھے کاموں میں انکو فالو کریں ،تاکہ ہمائے اپنوں کو ہیروں کی پہچان کی عادت دلوا دی جائے
 

نایاب

لائبریرین
میرئے خیال میں تو کچھ ادارئے ایسے کئی (احسانوں ) کو پہلے ہی فون سے پیچھے بٹھا کر رکھتی ہیں ،اور پھر واقعہ کے بعد وہ (احسان) اسکی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے۔

ویسے آپس کی بات کہ کس نے دیکھا ہے کہ فون کے پیچھے کون ہے۔۔۔ ۔۔۔ :umbrella:

مجھے ایک واقعہ یاد ایا کہ امریکہ مین کسی پاگل نے فائرنگ کرکے کچھ لوگوں کو قتل کیا ،تو اسی طرح ایک (احسان) نے فون کرکے اسکی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اب عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہے۔
محترم درویش بھائی اس واقعے کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے ۔
اور طالبان کے کسی دھڑے کی جانب سے اس " ذمہ داری احسان " کی تردید نہیں کی گئی ۔
سو " عقل مند را اشارہ کافی " مناسب جملہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

منصور مکرم

محفلین
محترم درویش بھائی اس واقعے کو چوبیس گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے ۔
اور طالبان کے کسی دھڑے کی جانب سے اس " ذمہ داری احسان " کی تردید نہیں کی گئی ۔
سو " عقل مند را اشارہ کافی " مناسب جملہ ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہان لیکن وہ امریکہ والے واقعے کی تردید کو تو شائد کئی سال گذر چکے لیکن اب تک اس کی بھی تردید نہیں ہو سکی ۔

اسکا کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔:idontknow:
 

نایاب

لائبریرین
ہان لیکن وہ امریکہ والے واقعے کی تردید کو تو شائد کئی سال گذر چکے لیکن اب تک اس کی بھی تردید نہیں ہو سکی ۔

اسکا کیا کرنا ہے۔۔۔ ۔۔۔ ۔:idontknow:
محترم بھائی
وہ تردید کس نے کی تھی ۔؟؟؟؟؟؟؟؟
اس واقعے کے تصدیقی وڈیوز تو بہت دیکھے ہیں ۔
 
ملالہ۔۔۔ ملالہ ۔۔ ملامہ ۔۔ ایک ایسی لڑکی جو دنیا کہ سب سے بڑے دھشت گرد ابامہ کو ناصرف آپنا آئدیل مانتی ھے بلکہ اس کو امن کا علمبردار کہتی ھے بلکہ بے نظیر جیسی سیکولر نظریات والی عورتوں کی فین ھے
وہ زخمی ھوتی ھے تو حکومت حملہ آوروں کی اطلاع
دینے پر ایک 10000000 کروڑ کے انعام کا علان کرتی ھے اس بے غیرت حکومت سے ایک سوال دنیا میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کرنے والوں کو قتل کرنے پر کتنے کروڑ کا اعلان کیا تھا ۔۔۔۔؟؟ اور جو ڈرون حملوں میں مرتے ہیں ان کو کون سے ملٹری اور سب سے اچھے ھسپتال میں لایا جاتا ھے ۔۔۔ لعنت اس سارے گورکھ دندھے پر ۔۔۔۔ محترم بھائیوں اور بہنو آنکھیں کھولو اور آپنے دشمن کو پہچانو ۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top