مقدس گائے، ڈان ، سائرل المیدہ اور شریف حکومت

غصیل پرندہ

محفلین
جس ملک سے عدل اٹھ جائے، جہاں عدالت اور جج نا ہنجار ہوں۔ اور سمجھتے ہیں کہ وہ قادر مطلق ہیں۔ اس ملک ، اس قوم کو صرف اللہ تعالی ہدایت دے سکتےہیں۔ مجھے غصہ اس سوچ سے ہے۔ جو قاتل کو معصوم اور معصوم کو قاتل ثابت کرنے پر تل جاتی ہے۔

چند متنازعہ بنائے گئے کیس یا واقعات پر دئیے گئے رد عمل کی بنیاد پر کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ ملک سے عدل اٹھ گیا ہے۔
آپ کی تسلی کے لئیے عرض کروں کہ آسیہ بی بی کا کیس کا فیصلہ نہیں ہوا کہ ممتاز قادری کو سزا سنا کر عمل بھی کردیا گیا۔ کم از کم یہ بات تو طے ہے کی قانون کی بالا دستی ہے، چاہے عوامی رائے کا دباؤ جتنا بڑھ جائے۔
 

ربیع م

محفلین
محض آسیہ کا واقعہ ہی کیا ناانصافی کا نمونہ ہے، آسیہ کا ڈھنڈورا پیٹنا پس پردہ کئی کہانیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
اور پر مزاح یہ کہ کھینچ تان کر ہر واقعہ میں جس کا آسیہ یا عدالتی نظام سے کوئی دور دور کا تعلق بھی نہیں آسیہ بی بی کو زبردستی گھسیڑا جا رہا ہے۔
تعجب ہے!!!
 
مدیر کی آخری تدوین:

وجی

لائبریرین
یہاں جس کو جو موقعہ ملا ہے اسنے اپنی عطا کی گئی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے ۔
مگر ایک بات یاد رکھے اگر کسی قوم سے 'خیر 'اٹھ جاتا ہے تو پھر قوم کا ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔
خیر کو کسی بھی معنی میں لے سکتے ہیں۔ کوئی ملک کا خیر خواں ہے تو کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ذرا غور کریں اس آرٹیکل پر کہ یہ بات کس نے کی کہ حافظ سعید اور ان جیسے لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔
سوال یہ بنتا ہے کہ ابھی یہ سوال کیوں کر اٹھایا گیا ؟؟ حافظ سعید جیسے لوگوں کے خلاف کون یا کس ملک کی طرف سے پریشر ہے
کس کی خیر خواہی ہورہی ہے ، دراصل ۔
کچھ عرصہ پہلے کشمیر کشمیر ہورہا تھا۔ اب کیوں نہیں ہورہا ہمارے ٹی وی چینلز پر ۔
کون کس کا خیر خواں ہے ؟؟
 
ایک بار پھر عرض کروں گا کہ بات ہے اس شیطانی سوچ کی جو انسان کو "اختلاف کی سزا موت" کے فلسفے پر قائم کردیتی ہے اور اس کے بعد وہ ہزار حیلے بہانے کرتا رہتا ہے۔کہ وہ خود ہی درست ہے۔ اس کا ہی فیصلہ درست ہے۔ لیکن وہ خوب جانتا ہے کہ اس کے خیال، اس کے فیصلے کو پذیرائی نہیں ہوگی ۔ اس لئے وہ "اختلاف کی سزا موت " کی سوچ کو مانتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو میری دی ہوئی مثالوں میں صرف نام، چیز یا جگہ ہی نظر آتے ہیں ۔ لیکن جس سوچ اور جس اصول کی مخالفت کو ان مثالوں سے اجاگر کررہا ہوں وہ مشکل سے نظر آتے ہیں۔

اتفاق ایسا ہے کہ تازہ ترین واقعہ آسیہ نورین، سلمان تاثیر، ممتاز قادری کا ہے۔ یہ ایسے ہی کردار ہیں جیسے ہابیل اور قابیل۔ یہاں کردار اہم نہیں بلکہ وہ اصول اہم ہے جس کی بے دردی سے پامالی ہوئی۔ اس اصول کی پامالی کس نے کی ؟ سابقہ جسٹس نذیر احمد غازی نے؟ سابقہ چیف جسٹس خواجہ شریف نے ؟ یا سابقہ جسٹس نذیر اختر نے؟ کیوں یہ سابقہ جج ایک قاتل کو بچانے کےلئے نکل کھڑے ہوئےِ؟ دوبارہ کہوں گا کہ ہمیں نا تو ان سابقہ ججوں سے کچھ لینا ہے اور نا ہی آسیہ، سلمان ، ممتاز سے ۔۔۔

اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے طے کرلیا تھا کہ "اختلاف کی سزا موت" ، پھر لاکھ حیلے بہانے سے اس قتل کی حمایت کی۔ تو اہم بات یہ ہے کہ ایسی سوچ کس طور پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کے جج، جن سے انصاف کی توقع ہے ، سیاسی قتل میں مصروف ہیں اور مصر ہیں کہ وہ انتظامیہ پر اپنی برتری ہر قیمت پر جتا کر رہیں گے۔ افتخار چوہدری اور گیلانی کیس کس کو یاد نہیں۔ بات یہ ہے کہ جس ملک کی عدلیہ پر شیطان سوار ہوجائے ، وہ ملک کس طور پنپ سکتا ہے۔ یہ لوگ عاشق رسول بنے پھرتے ہیں لیکن کسی یکجائی سے امت احمد مرسل کو مقامی نہیں کرتے ۔ انہیں اصولوں کی پامالی کرتے ہیں جو رسول اکرم نے عطا فرمائے، قتل کو فروغ دیتے ہیں ۔ قاتل کی پیروی کرتے ہیں۔ جو کسی غریب ، یا کمزور کو عدل فراہم کرنا چاہے اس کو قابیل کی طرح بناء کسی وارننگ کے قتل کرتے ہیں۔

دوسری طرف انتظامیہ کا یہ حال ہے کہ وہ سائیرل المیدا جیسے چھوٹے سے رپورٹر کے خلاف سارے شریفوں کو لے کر آجاتی ہے۔ آزادی تحریر و تقریر کو پابند سلاسل کرتی ہے۔ اور عدلیہ اور مقننہ دونوں سے کتے بلی کا بیر پال رکھا ہے ۔ یہ استثنائی یا دند متنازعہ مثالیں نہیں ہیں ۔ یہ شیطانی سوچیں 1980 کے بعد سے پروان چڑھی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف شیطانی سوچیں اور شیطانی اصولوں کی پیروکاری ہورہی ہے ۔ قرآنی اور سبحانی اصولوں پر سوچوں کا ارتقاء نہیں ہورہا ۔

پھر ایک بار کہوں گا کہ مقصد کسی ایک شخص یا کچھ اشخاص کی کردار کشی نہیں ہے ۔ پاکستانی معاشرے کی سوچوں کا ارتقاء کا رخ کس طرف ہونا چاہئے ، یہ بات اہم ہے۔

والسلام
 

صائمہ شاہ

محفلین
غصہ آپ کو شریفوں سے ہے، نکال آپ وطن پر رہے ہیں۔
ہزاروں آئے ہیں ، لاکھوں آئیں گے۔ لاتعداد گمنامی کی دلدل میں غائب ہیں اور ہوجائیں گے۔ ملک میں اب بھی سچ بولنے والے اور نا انصافی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والے موجود ہیں۔
اور پیشے کی بنیاد کب سے لوگ معمولی ہونے لگے۔ اسی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
کیا خاکروب ہونا جرم ہے کہ جس کا کیس سپریم کورٹ نہیں سن سکتی؟
خاکروب ہونا جرم نہیں مگر اقلیت ہونا جرم ہے اور اس کا ثبوت اقلیتوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں ہیں ، کہاں ہیں وہ سب اچھے اور سچے لوگ جو ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ؟؟؟؟
 

ربیع م

محفلین
خاکروب ہونا جرم نہیں مگر اقلیت ہونا جرم ہے اور اس کا ثبوت اقلیتوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں ہیں ، کہاں ہیں وہ سب اچھے اور سچے لوگ جو ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ؟؟؟؟
جب اچھے سچے اور کھرے لوگ دیار غرب میں مزے لوٹیں تو یہاں کون قربانی کا بکرا بننا پسند کرے گا۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
جب اچھے سچے اور کھرے لوگ دیار غرب میں مزے لوٹیں تو یہاں کون قربانی کا بکرا بننا پسند کرے گا۔
اس بات سے وطن عزیز میں رہنے والے سچے کھرے لوگوں کی سچائی پر کیا اثر پڑتا ہے ؟؟؟؟؟؟ یا پڑنا چاہیے ؟؟؟؟؟
 
یہ کہ ہمیں بھی باہر جانے کا موقع دیا جائے۔۔۔بوری بستر چُک کے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں ڈالنے والی سمائیلی۔۔:sneaky:
اس بات سے وطن عزیز میں رہنے والے سچے کھرے لوگوں کی سچائی پر کیا اثر پڑتا ہے ؟؟؟؟؟؟ یا پڑنا چاہیے ؟؟؟؟؟
 

غصیل پرندہ

محفلین
ایک بار پھر عرض کروں گا کہ بات ہے اس شیطانی سوچ کی جو انسان کو "اختلاف کی سزا موت" کے فلسفے پر قائم کردیتی ہے اور اس کے بعد وہ ہزار حیلے بہانے کرتا رہتا ہے۔کہ وہ خود ہی درست ہے۔ اس کا ہی فیصلہ درست ہے۔ لیکن وہ خوب جانتا ہے کہ اس کے خیال، اس کے فیصلے کو پذیرائی نہیں ہوگی ۔ اس لئے وہ "اختلاف کی سزا موت " کی سوچ کو مانتا ہے اور اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو میری دی ہوئی مثالوں میں صرف نام، چیز یا جگہ ہی نظر آتے ہیں ۔ لیکن جس سوچ اور جس اصول کی مخالفت کو ان مثالوں سے اجاگر کررہا ہوں وہ مشکل سے نظر آتے ہیں۔

اتفاق ایسا ہے کہ تازہ ترین واقعہ آسیہ نورین، سلمان تاثیر، ممتاز قادری کا ہے۔ یہ ایسے ہی کردار ہیں جیسے ہابیل اور قابیل۔ یہاں کردار اہم نہیں بلکہ وہ اصول اہم ہے جس کی بے دردی سے پامالی ہوئی۔ اس اصول کی پامالی کس نے کی ؟ سابقہ جسٹس نذیر احمد غازی نے؟ سابقہ چیف جسٹس خواجہ شریف نے ؟ یا سابقہ جسٹس نذیر اختر نے؟ کیوں یہ سابقہ جج ایک قاتل کو بچانے کےلئے نکل کھڑے ہوئےِ؟ دوبارہ کہوں گا کہ ہمیں نا تو ان سابقہ ججوں سے کچھ لینا ہے اور نا ہی آسیہ، سلمان ، ممتاز سے ۔۔۔

اہم بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے طے کرلیا تھا کہ "اختلاف کی سزا موت" ، پھر لاکھ حیلے بہانے سے اس قتل کی حمایت کی۔ تو اہم بات یہ ہے کہ ایسی سوچ کس طور پیدا ہوگئی ہے کہ پاکستان کے جج، جن سے انصاف کی توقع ہے ، سیاسی قتل میں مصروف ہیں اور مصر ہیں کہ وہ انتظامیہ پر اپنی برتری ہر قیمت پر جتا کر رہیں گے۔ افتخار چوہدری اور گیلانی کیس کس کو یاد نہیں۔ بات یہ ہے کہ جس ملک کی عدلیہ پر شیطان سوار ہوجائے ، وہ ملک کس طور پنپ سکتا ہے۔ یہ لوگ عاشق رسول بنے پھرتے ہیں لیکن کسی یکجائی سے امت احمد مرسل کو مقامی نہیں کرتے ۔ انہیں اصولوں کی پامالی کرتے ہیں جو رسول اکرم نے عطا فرمائے، قتل کو فروغ دیتے ہیں ۔ قاتل کی پیروی کرتے ہیں۔ جو کسی غریب ، یا کمزور کو عدل فراہم کرنا چاہے اس کو قابیل کی طرح بناء کسی وارننگ کے قتل کرتے ہیں۔

دوسری طرف انتظامیہ کا یہ حال ہے کہ وہ سائیرل المیدا جیسے چھوٹے سے رپورٹر کے خلاف سارے شریفوں کو لے کر آجاتی ہے۔ آزادی تحریر و تقریر کو پابند سلاسل کرتی ہے۔ اور عدلیہ اور مقننہ دونوں سے کتے بلی کا بیر پال رکھا ہے ۔ یہ استثنائی یا دند متنازعہ مثالیں نہیں ہیں ۔ یہ شیطانی سوچیں 1980 کے بعد سے پروان چڑھی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف شیطانی سوچیں اور شیطانی اصولوں کی پیروکاری ہورہی ہے ۔ قرآنی اور سبحانی اصولوں پر سوچوں کا ارتقاء نہیں ہورہا ۔

پھر ایک بار کہوں گا کہ مقصد کسی ایک شخص یا کچھ اشخاص کی کردار کشی نہیں ہے ۔ پاکستانی معاشرے کی سوچوں کا ارتقاء کا رخ کس طرف ہونا چاہئے ، یہ بات اہم ہے۔

والسلام
محترم جناب،
معذرت کے ساتھ آپ کی باتیں بجا لیکن خود تضادات کا مجموعہ ہیں۔
آپ نے خود فرمایا کہ اپنی سوچ کو لوگ مکمل ٹھیک مانتے ہیں اور دوسروں کی سوچ رد کرتے ہیں۔ یعنی اختلاف رائے کے لئیے عدم برداشت۔
تو کیا آپ ان لوگوں کی سوچ کو رد نہیں کر رہے جن سے آپ اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ در حقیقت آپ بھی اپنی ہی سوچ کو بلکل ٹھیک مان کر فلاں فلاں جج وغیرہ کی ذاتی رائے کو ریجیکٹ کر رہے ہیں۔
اور جناب من۔
ایک دو ججوں کی سوچ کو آپ کیسے سپریم کورٹ، ۴ ہائیکورٹ، انگنت سٹی کورٹس و سیشن کورٹس کی مجموعی سوچ قرار دے سکتے ہیں۔
آگے آپ پھر انہی کورٹس کے ہمدرد بن کر انتظامیہ کو ان کا دشمن قرار دے رہے ہیں۔
پھر آپ کا شکوہ ہے کہ قرانی اصول و سوچ کی بجائے شیطانی سوچ کا پرچار ہے۔
اور اگر یہ ہی بات کوئی مذہبی شخص یا طبقہ کہہ دے تو محترم آپ جیسے وسیع الذہن لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بات کرتے ہیں۔
 

غصیل پرندہ

محفلین
خاکروب ہونا جرم نہیں مگر اقلیت ہونا جرم ہے اور اس کا ثبوت اقلیتوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں ہیں ، کہاں ہیں وہ سب اچھے اور سچے لوگ جو ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں ؟؟؟؟
محترمہ یہ اقلیت والا راگ نہ ہی الاپا جائے تو بہتر ہے۔
معاشرے میں موجود ہر شخص یکساں نا انصافی کا شکار ہے۔ لیکن جب بھی کوئی ظلم اقلیت کے ساتھ ہوا تو اسی معاشرے کے اچھے اور بہادر لوگوں نے اسے اجاگر کیا۔
معاشرہ کبھی اقلیتوں کے خلاف نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔
 

ربیع م

محفلین
اس بات سے وطن عزیز میں رہنے والے سچے کھرے لوگوں کی سچائی پر کیا اثر پڑتا ہے ؟؟؟؟؟؟ یا پڑنا چاہیے ؟؟؟؟؟
وطن عزیز کے سچے اور کھرے لوگوں کی باتیں شاید آپ کیلئے کافی تلخ ہوں۔
کیونکہ عین ممکن ہے ان کے سچے اور کھرے ہونے کے پیمانے آپ کے پیمانوں سے میل نا کھاتے ہوں۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
محترمہ یہ اقلیت والا راگ نہ ہی الاپا جائے تو بہتر ہے۔
معاشرے میں موجود ہر شخص یکساں نا انصافی کا شکار ہے۔ لیکن جب بھی کوئی ظلم اقلیت کے ساتھ ہوا تو اسی معاشرے کے اچھے اور بہادر لوگوں نے اسے اجاگر کیا۔
معاشرہ کبھی اقلیتوں کے خلاف نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔
کون سے معاشرے میں غصیل پرندہ صاحب ؟؟؟؟؟
آپ کے معاشرے میں ؟؟؟؟
ہرگز نہیں
آپ کے معاشرے میں لال مسجد والے اس ناانصافی کا شکار نہیں جس کی مجرم آسیہ بی بی ہے تو آپ بھی اپنے برابری کے مظالم اور یکساں محرومی کا گھسا پٹا راگ مت الاپیں یہاں پر
 

نایاب

لائبریرین
کیا کوئی محترم دوست " عدلیہ " کی جانب سے انے والے کسی ایسے فیصلے کی مثال دے سکتا ہے جو کہ واقعی "انصاف " کے معیار پر پورا اترتا ہو ۔
اور عدل کی مثال ہو ۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
سب سیاسی اور مذہبی جبر کے عکاس فیصلے ہی ملیں گے ۔۔۔۔جو کہ خود وقت گزرنے کے بعد اسی " عدلیہ " کی نگاہ میں " مشکوک " ہو چکے ۔
آج وزیر داخلہ کا بیان ہے کہ سرل المیدا نے یہ خبر افشاء کر کے دشمن کا بیانیہ مضبوط کیا ۔ یہ نہیں کہا کہ خبر جھوٹ تیار کی ۔
پاکستان ہے ہی صرف " مقدس گائیوں " کے لیئے ۔۔۔۔ جو ان کی جانب انگلی اٹھائے اس کا سر تن سے جدا اور وہ بھی باقاعدہ عدالتی فیصلے کے ذریعے ۔۔۔
اللہ ہی ہے جو پاکستانی قوم کو پاکستانی معاشرے میں سچی " اسلامی رواداری " کو ترویج دینے کی توفیق سے نوازے ۔ اور اقلیتوں کے ساتھ عدل و انصاف ہو پائے ۔اور توفیق ملتی ہی انہیں ہے جو کہ توفیق کے متلاشی ہوں ۔ باقی جنت کمانی بہت آسان ہے پاکستان میں ۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 

غصیل پرندہ

محفلین
کون سے معاشرے میں غصیل پرندہ صاحب ؟؟؟؟؟
آپ کے معاشرے میں ؟؟؟؟
ہرگز نہیں
آپ کے معاشرے میں لال مسجد والے اس ناانصافی کا شکار نہیں جس کی مجرم آسیہ بی بی ہے تو آپ بھی اپنے برابری کے مظالم اور یکساں محرومی کا گھسا پٹا راگ مت الاپیں یہاں پر
مسئلہ اسی سوچ کا ہی تو ہے۔
تیرا مرے تو شہید۔۔۔
میرا مرے تو ہلاک۔۔۔
جب آپ نے ماننا ہی نہیں کہ ظالم کسی مذہب، فرقے اور گروپ سے منسلک نہیں۔ تو بحث لا حاصل۔
اگر آپ کی بات کو پیمانہ مان لیا جائے تو غیر مسلم اقوام کی یہ منطق بھی ٹھیک ماننی ہوگی کہ تمام مسلمان دہشتگرد ہیں۔ مان لیں پھر؟
 

ربیع م

محفلین
مسئلہ اسی سوچ کا ہی تو ہے۔
تیرا مرے تو شہید۔۔۔
میرا مرے تو ہلاک۔۔۔
جب آپ نے ماننا ہی نہیں کہ ظالم کسی مذہب، فرقے اور گروپ سے منسلک نہیں۔ تو بحث لا حاصل۔
اگر آپ کی بات کو پیمانہ مان لیا جائے تو غیر مسلم اقوام کی یہ منطق بھی ٹھیک ماننی ہوگی کہ تمام مسلمان دہشتگرد ہیں۔ مان لیں پھر؟
اور اس پر طرہ یہ کہ الزام بھی فریق مخالف پر لگایا جاتا ہے۔
 

نایاب

لائبریرین
پچھلے بیس سال میں ہوئی دہشت گردی کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو مشکل ہی سے کوئی " غیر اسلامی " نام مل پائے گا ۔
اپنے پاکستان میں دیکھوں تو " مسلمان ' ہی مسلمان کو شہید کر رہا ہے ۔ اور غیر مسلم کی بات چھوڑہی دوں کہ اقلیت کے بارے کیا آواز بلند کرنی ۔ ؟
شاید ایسے ہی ختم ہوجائیں غیر مسلم ۔۔۔۔
کہاں کا عدل کہاں کا انصاف ۔۔۔۔۔؟
زبردست کا ٹھینگا سر پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سرل المیدا اس ٹھینگے کا شکار ۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 

ربیع م

محفلین
پچھلے بیس سال میں ہوئی دہشت گردی کی تاریخ اگر دیکھی جائے تو مشکل ہی سے کوئی " غیر اسلامی " نام مل پائے گا ۔
شاید کم علمی ہے آپ کی بلیک واٹر اور ریمنڈ ڈیوس جیسے قصے ابھی اتنے پرانے نہیں ہوئے کہ باآسانی بھلائے جا سکیں۔
 
ایک دو ججوں کی سوچ کو آپ کیسے سپریم کورٹ، ۴ ہائیکورٹ، انگنت سٹی کورٹس و سیشن کورٹس کی مجموعی سوچ قرار دے سکتے ہیں۔
ہر انسٹی ٹیوشن ایک پیرامڈ کی طرح ہوتا ہے۔ اس مخروط کی چوٹی کو دیکھ کر آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کس سوچ کی بنیاد سے بنا ہے۔ اس لئے کہ سوچ کی بنیاد اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ کون اس انبار میں سے اوپر جائے گا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے چیف جسٹس اور دوسرے ججوں کی سوچ قرآن کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے تو ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہ سارا نظام ہی اس طرح بنا ہے۔ پھر ایک قاتل کی پشت پناہی کرے کتنے لوگ نکل آئے۔ یہ بات سب کے سامنے ہے۔

پھر وہ شخص جو ایک ایسی کمزور عورت کی جان بچانے نکلا تھا جس کے خلاف کوئی چشم دید گواہ کسی عدالت میں پیش نہیں ہوا، اس کا خون نا صرف سڑک پر بہا یا گیا ، اس کی حمایت میں کتنے لوگ نکلے یہ بھی سب کے سامنے ہے۔ یہ صرف مثالیں ہیں ۔

پھر اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان ، سارا پاکستان، ججوں ، مققنہ اور انتظامیہ سمیت یہ نہیں جانتا کہ توہین قرآن و رسول کے لئے کتنے چشم دید گواہ پیش کئے جائیں گے ؟ کیا آپ بناء کسی چشم دید گواہ کی گواہی کے ، اپنی عمر کے دس سال کسی جیل میں گذارنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر نہیں تو اس قانون کو کس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

اگر کل کوئی قسم کھا کر یہ گواہی دوں کہ ان تین ججوں نے رسول اکرم کی شان میں گستاخی کی ہے تو ان تینوں ججوں کے بچنے کی کیا راہ ہوگی؟
یہ کس طرح بچیں گے ؟

تو کیا وجہ ہے کہ ایک کمزور عورت کو چشم دید گواہوں کی عدالت میں پیشی کے بغیر، بغیر جرح کے پھانسی کی سزا سنا دی جائے؟ اور گواہوں کی غیر موجودگی کو ایک ٹیکنیکل ڈیٹیل کا نام دے کر نظر انداز کردیا جائے؟

تو کیا یہ ایک شیطانی اصول کی پیروی نہیں ہے؟ کہ "اختلاف کی سزا موت"؟؟؟؟
 
Top