معروف اسماء کی وجہ تسمیہ بیان کیجے

محمداحمد

لائبریرین
گذشتہ صفحات میں کراچی کے کچھ علاقوں کا ذکر ہوا۔

نارتھ کراچی میں کچھ بس اسٹاپس کے نام بھی بڑے دلچسپ ہیں۔ جیسے کریلا اسٹاپ، صنوبر، دو منٹ، اللہ والی، بابا موڑ وغیرہ۔

دو منٹ کے اسٹاپ کےلئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ کسی دور میں یہاں کوئی خاص بس غالبا (دو زبر کی کی نہ جانے کہاں گئی) 4 جے بس دو منٹ کے لئے رُکا کرتی تھی۔ صنوبر نام سے اپارٹمنٹس ہیں۔ باقی ناموں کی بابت میں کچھ کہنے سے عاری ہوں۔
 

علی وقار

محفلین
وادیء مہران کی وجہ تسمیہ کیا ہے اس کا مجھے علم نہیں ہے۔ :)
یہ تو طے شدہ بات ہے کہ یہ فارسی زبان کا لفظ ہے تاہم اس بات پر اتفاق نہیں کہ یہ نام کیوں رکھا گیا۔

فارسی میں مہران کے معانی ہیں،
۱- به معني دارنده‌ي مهر. ۲-(اَعلام) ۱) نام يكي از خاندان‌هاي هفتگانه‌ي عصر ساساني (ويس پوهر) مقر افراد اين خاندان پارس بوده است، ۲) نام پدرِ اورند سردار ايراني در عهد انوشيروان و نيز نام چند تن اشخاص در ايران باستان، ۳) نام شهرستانی در غرب استان ایلام. ربط

جب کہ ایک جگہ یہ تفصیلات میسر آئیں،
فارسی لفظ ہے، جو لفظِ ’’مہر‘‘ (آفتاب کا مترادف) سے بناہے۔ باقی قدیم لغات میں دریائے سندھ کو دریائے مہران، اور وادی سندھ کو وادی مہران کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خراسان کے علاقہ میں ’’مہران ‘‘ نام کی ایک نہر (جیحون) ہے اور ’’اصفہان‘‘ میں ایک بستی بھی ’’مہران‘‘ نام کی ہے۔ ربط
 

علی وقار

محفلین
بد نما ناموں کے اس سلسلہ میں چڑ کو امر کردینے کی ایک مثال نارتھ کراچی کا کریلا موڑ ہے۔ اس مقام پر ایک سبزی فروش اپنا ٹھیلا لےکر کھڑا ہوتا تھا جسے لوگ کریلا کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اس سبزی فروش کے انتقال کے بعد اس جگہ کو اسی سبزی فروش سے منسوب کردیا گیا اور یہ کریلا اسٹاپ موڑ ہوگیا۔ ربط
 
نہاری
نہاری ایشیا سمیت کئی ممالک میں ذوق و شوق سے کھائی جاتی ہے۔
اس سالن کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ نہاری کا لفظ عربی کے لفظ نھار سے نکلا ہے جس کے معنی صبح سویرے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا صبح سویرے ہی کھایا جاتا ہے اس لیے اس نہاری کہا جاتا ہے۔
نہاری بنانے کی ابتداء، یا تو جامع مسجد دہلی کی پچھلی گلیوں سے ہوئی، جہاں سے زیادہ تر دہلی والوں کا تعلق ہے یا پھر بہت سے لکھنؤ کے دلدادہ سمجھتے ہیں کہ اس کا آغاز اٹھارویں صدی کے آخر میں مغل سلطنت کے زوال کے بعد، نواب اودھ کے باورچی خانوں سے ہوا۔
 

محمداحمد

لائبریرین
نہاری
نہاری ایشیا سمیت کئی ممالک میں ذوق و شوق سے کھائی جاتی ہے۔
اس سالن کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ نہاری کا لفظ عربی کے لفظ نھار سے نکلا ہے جس کے معنی صبح سویرے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا صبح سویرے ہی کھایا جاتا ہے اس لیے اس نہاری کہا جاتا ہے۔
نہاری بنانے کی ابتداء، یا تو جامع مسجد دہلی کی پچھلی گلیوں سے ہوئی، جہاں سے زیادہ تر دہلی والوں کا تعلق ہے یا پھر بہت سے لکھنؤ کے دلدادہ سمجھتے ہیں کہ اس کا آغاز اٹھارویں صدی کے آخر میں مغل سلطنت کے زوال کے بعد، نواب اودھ کے باورچی خانوں سے ہوا۔

یعنی ہم نہار منہ یہ نہاری کھا سکتے ہیں۔ :)

نہار منہ سے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بس صبح صبح بستر چھوڑتے ہی (بلکہ وہ بھی ضروری نہیں ہے) جبکہ منہ ابھی ٹوتھ پیسٹ اور چلو بھر پانی کی کلی سے بھی بے نیاز ہو۔ ایسے میں اگر کوئی چیز کھائی جائے تو وہ نہار منہ کہلائے گی۔ :):):)

کچھ لوگ نہار منہ چار لڈو کھانے کی شرط بھی رکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ایک لڈو کھانے پر توآپ نہار منہ نہیں رہے، سو اب دوسرا تیسرا اور چوتھا لڈو نہار منہ نہیں کہلائے گا۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس قسم کی شرط تو دو لڈوؤں پر بھی رکھی جا سکتی ہے، چار ہی کیوں؟ شاید کبھی ماضی میں کسی ستم ظریف نے ایک ساتھ دو لڈو منہ میں رکھ لیے ہوں۔ :) :) :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
وادیء مہران کی وجہ تسمیہ کیا ہے اس کا مجھے علم نہیں ہے۔ :)

اس کی وجۂ تسمیہ غالباً یہ ہے کہ اس علاقے میں بہت ساری چیزوں کے نام میں مہران آتا ہے ۔ ہر شہر میں آپ کو مہران بیکری ، مہران ڈرائی کلینرز ، مہران آٹو شاپ ، مہران ٹیلرز، مہران جیولرز وغیرہ عام مل جائیں گے۔ انگریزوں نے اتنے سارے مہران جگہ جگہ دیکھے تو پوری وادی کا نام ہی وادیِ مہران رکھ دیا۔ میری ناقص سمجھ میں تو یہی آتا ہے۔ آگے کی بات محققین جانیں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اس سالن کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ نہاری کا لفظ عربی کے لفظ نھار سے نکلا ہے جس کے معنی صبح سویرے ہوتے ہیں۔ یہ کھانا صبح سویرے ہی کھایا جاتا ہے اس لیے اس نہاری کہا جاتا ہے۔
صبح صبح نہاری کھانے میں مسئلہ یہ ہے کہ تین چار دن کے بعد پھر بھوک لگنے لگتی ہے ۔😑
 

محمداحمد

لائبریرین
صبح صبح نہاری کھانے میں مسئلہ یہ ہے کہ تین چار دن کے بعد پھر بھوک لگنے لگتی ہے ۔😑
جبھی ہم نہاری صبح صبح کھانے کے بجائے شام کو کھاتے ہیں۔ :)

اور اگر مغز نہاری اور نلی نہاری اسپیشل کھالیں تو تین چار ماہ کا کولیسٹرول با آسانی پورا ہو جاتا ہے۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
اجرک کی بارے میں یہ کہانی سنائی جاتی ہے۔

کسی زمانے میں سندھ میں کوئی بادشاہ / راجہ تھا جو روزانہ ایک نئی چادر پہنا کرتا تھا۔ اس کے لئے روز ایک سے ایک شاندار چادر تیار کی جاتی۔ اور وہ ایک چادر ایک دن سے زیادہ نہیں پہنتا تھا۔ ایک روز اسے ایک ایسی چادر پیش کی گئی جو اسے بہت پسند آئی (یہ آج کل کی مروجہ اجرک تھی)۔ بادشاہ کو یہ چادر اتنی پسند آئی کہ جب اگلے دن اُسے نئی چادر پیش کی گئی تو اُس نے کہا "اج رکھ" یعنی آج رہنے دو۔ تب سے اس چادر کا نام اجرک پڑ گیا۔ واللہ اعلم!
 

محمداحمد

لائبریرین
بچپن میں کلکتہ شہر کے حوالے سے یہ بات پڑھی تھی۔

جب انگریز ہندوستان کے شہر کلکتہ پہنچے تو اُنہیں ایک کسان نظر آیا جو کھیت میں کام کر رہا تھااور اُس کے قریب گھاس کا ایک بڑا سا گٹھا رکھا ہوا تھا۔ انگریزوں نے کسان سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے ، کسان سمجھا کہ کہ شاید گھاس کے گٹھے کی بابت استفسار کیا جا رہا ہے۔ اُس نے کہا "کل کٹا ہے"۔ تب سے اس شہر کا نام کلکٹہ یا کلکتہ پڑھ گیا۔

اس بات کی صداقت کی بابت البتہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ :)

صلائے عام ہے یارانِ تحقیق داں کے لئے۔ :) :)
 

محمداحمد

لائبریرین
اسی طرز پر ایک لطیفہ بھی سُن لیجے۔

مکران ڈیویژن کی ایک نواحی بستی میں ایک حلوائی کڑاہی میں بیسن کی بد شکل گولیاں بنابنا کر تل رہا تھا۔ ہوا تیز تھی۔ آنچ ٹھیک طرح سے کڑاہی کو نہیں لگ رہی تھی اور بیسن کی گولیاں پک ہی نہیں رہیں تھیں کہ حلوائی نے شدید جھنجھلاہٹ کے عالم میں چلا کر کہ:
"پکو ڑےےے!"۔

تب سے بیسن کی ان گولیوں کو پکوڑے کہا جانے لگا۔ :ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو کرسٹوفر کولمبس کی امریکا دریافت سے چار پانچ سو سال قبل سب سے پہلے اسکنڈے نیویا کے مہم جو لیف ایرکسن Leif Errikson نے شمالی امریکا کے ساحل پر اپنے جہاز لنگر انداز کیے تھے اور ایک چھوٹی سی بستی بھی قائم کی تھی لیکن دنیا میں عام طور پر یہی مشہور ہے کہ امریکا کو سب سے پہلے کولمبس نے دریافت کیا تھا۔ امریکا کا نام البتہ ایک اطالوی مہم جو امیریگو وسپوچی Amerigo Vespucci کے نام پر رکھا گیا کیونکہ اس نے نودریافت شدہ براعظم کے نقشے وغیرہ بنانے میں تحقیقی کام کیا تھا۔
چونکہ یہ لڑی احمد بھائی کی ہے اس لیے اس میں سے مسکرائے بغیر گزرنا منع ہے۔ :) چنانچہ سچا واقعہ ہے کہ ایک شام پیرس کے مشہور اوپیرا میں فرانس کا ایک مشہور موسیقار اپنے آرکسٹرا کے ساتھ ریہرسل کررہا تھا۔ آرکسٹرا میں حصہ لینے کے لیے ایک امریکی وائلن نواز خصوصی طور پر امریکا سے آئی تھی۔ دورانِ مشق وہ وائلن پر بار بار غلط سُر بجا دیتی تھی اور پورے آرکیسٹرا کو دوبارہ سے ریہرسل شروع کرنا پڑتی تھی۔ موسیقار اس صورت حال سے بہت جھلایا ہوا تھا لیکن خاتون ہونے کی وجہ سے احتراماً اس کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ جب آٹھویں دفعہ بھی اس نے اپنی غلطی دہرائی تو موسیقار ضبط نہ کرسکا اور چلا اٹھا: "لعنت ہو کولمبس پر!"
یہ واقعہ چند سال پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو سنایا تھا۔ اس قدر متاثر ہوئے کہ تب سے کولمبس کے متعلق فرنچ موسیقار کا وہ بصیرت افروز بیان ان صاحب کا گویا تکیۂ کلام بن چکا ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ جب کبھی پاکستان میں یا دنیا میں کہیں بھی کسی برے واقعہ کی خبر سنتے ہیں تو وہ فوراً علی الاعلان کولمبس کی شان میں گستاخی فرماتے ہیں اور پھر داد طلب نظروں سے سامعین کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔
کچھ دن پہلے دوستوں سے فون پر بات ہورہی تھی تو میں نے کہا پاکستان بہت یاد آتا ہے۔ وہ فوراً بولے: لعنت ہو کولمبس پر!
:):):)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اجرک کی بارے میں یہ کہانی سنائی جاتی ہے۔

کسی زمانے میں سندھ میں کوئی بادشاہ / راجہ تھا جو روزانہ ایک نئی چادر پہنا کرتا تھا۔ اس کے لئے روز ایک سے ایک شاندار چادر تیار کی جاتی۔ اور وہ ایک چادر ایک دن سے زیادہ نہیں پہنتا تھا۔ ایک روز اسے ایک ایسی چادر پیش کی گئی جو اسے بہت پسند آئی (یہ آج کل کی مروجہ اجرک تھی)۔ بادشاہ کو یہ چادر اتنی پسند آئی کہ جب اگلے دن اُسے نئی چادر پیش کی گئی تو اُس نے کہا "اج رکھ" یعنی آج رہنے دو۔ تب سے اس چادر کا نام اجرک پڑ گیا۔ واللہ اعلم!

بچپن میں کلکتہ شہر کے حوالے سے یہ بات پڑھی تھی۔

جب انگریز ہندوستان کے شہر کلکتہ پہنچے تو اُنہیں ایک کسان نظر آیا جو کھیت میں کام کر رہا تھااور اُس کے قریب گھاس کا ایک بڑا سا گٹھا رکھا ہوا تھا۔ انگریزوں نے کسان سے پوچھا کہ یہ کون سی جگہ ہے ، کسان سمجھا کہ کہ شاید گھاس کے گٹھے کی بابت استفسار کیا جا رہا ہے۔ اُس نے کہا "کل کٹا ہے"۔ تب سے اس شہر کا نام کلکٹہ یا کلکتہ پڑھ گیا۔

اس بات کی صداقت کی بابت البتہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ :)

صلائے عام ہے یارانِ تحقیق داں کے لئے۔ :) :)
احمد بھائی ، آپ بھی؟!
اگر آپ اجازت دیں تو میں بآوازِ بلند لاحول پڑھو لوں ۔:D
 
Top