"معافی" سے متعلق کچھ خیالات

معاف وہی کر سکتا ہے، جو معافی مانگنا جانتا ہو، جو معافی مانگنے کےعمل سے گزرا ہو؛ جس کا سر کبھی خطا کرنے کے بعد، بوجہ ندامت کسی کے سامنے جھکا ہو، جس کی آنکھیں آنسوؤں سے پرنم ہوئی ہوں اور جس کے کندھے خطا کے بوجھ تلے جھکے ہوں۔ جو اس تجربے سے ہی نہ گزرا، وہ معاف کرنے والا نہ بن سکا۔ معاف کرنے والا اس تجربے سے گزر چکا ہوتا ہے اور ان لطیف جذبات کی قدروقیمت خوب جانتا ہے۔ بعد ازاں اس کی یہی تپسیا اسے بلند ظرف اور معافی مانگنے والے سے بلند درجہ بناتی ہے۔
یہ بھی درست کہ انسان سے معافی مانگنے والا ہی رب کے سامنے اپنی خطاؤں پہ نادم ہو پاتا ہے۔ جو کسی انسان کے سامنے نہ جھک پایا، وہ ربِ جلیل کے سامنے جھکنے کا سلیقہ نہ سیکھ پایا، مردود قرار پایا۔ جھک جانے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا، یہ تو اسکا بڑائی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر معمولی دِ کھنے والا یہ عمل، انسان کے رکوع و سجود کی مخلصی کا باعث بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بہت عمدہ اور مفید تجربہ گاہ (دنیا) سے نواز رکھا ہے۔ یہ جو چھوٹی چھوٹی رنجشیں اور ناراضگیاں ہوتی ہیں، یہ مجازاً تو زحمت، لیکن حقیقتاً خدا کی رحمت ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے درجات کو بلند کرنے اور آپس میں اخوت کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ہی ہماری طرف بھیجی جاتی ہیں۔ ان کے آ جانے پر ایک دوسرے سے معافی مانگ لی جائے، تو نا صرف خدا کے سامنے جھکنے جیسے انمول عمل سے آشنائی ہو جائے بلکہ ہمارے آپس کے معاملات بھی بہت آسان ہو جائیں۔
تو خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معافی مانگنے اور دوسروں کو معاف کر دینے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔


پی-ایس: پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر ہو سکے تو تحریر کے متن پر تنقید کر کے بہتری کی راہ سُجھائیں۔ مشکور ہوں گا۔
نعمان مرزا (میونخ)۔
 

زبیر مرزا

محفلین
جزاک اللہ - جناب میری نظرمیں توبہترین تحریر ہے لہذا میں توتنقید سے زیادہ
تبصرے(تعریف) کا حق دارپاتا ہوں - اندازتحریر اورزاویہ فکر بابا(اشفاق احمد) سا ہے
لہذا دعا بھی ان کی ہی پیش ہے اللہ تعالٰی آپ کوآسانیاں عطافرمائے اورآسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطافرمائے
 

مہ جبین

محفلین
یہ بھی درست کہ انسان سے معافی مانگنے والا ہی رب کے سامنے اپنی خطاؤں پہ نادم ہو پاتا ہے۔ جو کسی انسان کے سامنے نہ جھک پایا، وہ ربِ جلیل کے سامنے جھکنے کا سلیقہ نہ سیکھ پایا، مردود قرار پایا۔ جھک جانے والا کبھی چھوٹا نہیں ہوتا، یہ تو اسکا بڑائی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے۔ ظاہری طور پر معمولی دِ کھنے والا یہ عمل، انسان کے رکوع و سجود کی مخلصی کا باعث بنتا ہے۔​
اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بہت عمدہ اور مفید تجربہ گاہ (دنیا) سے نواز رکھا ہے۔ یہ جو چھوٹی چھوٹی رنجشیں اور ناراضگیاں ہوتی ہیں، یہ مجازاً تو زحمت، لیکن حقیقتاً خدا کی رحمت ہوتی ہیں۔ یہ ہمارے درجات کو بلند کرنے اور آپس میں اخوت کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے ہی ہماری طرف بھیجی جاتی ہیں۔ ان کے آ جانے پر ایک دوسرے سے معافی مانگ لی جائے، تو نا صرف خدا کے سامنے جھکنے جیسے انمول عمل سے آشنائی ہو جائے بلکہ ہمارے آپس کے معاملات بھی بہت آسان ہو جائیں۔​
تو خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں معافی مانگنے اور دوسروں کو معاف کر دینے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔​


سو فیصد متفق ہوں آپکے خیالات سے
ماشاءاللہ بہت اچھے انداز میں "معافی " کےمفہوم کو واضح کیا ہے
نعمان رفیق مرزا ، اللہ آپکے قلم میں اور زیادہ روانی اور تاثیر عطا فرمائے آمین
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
زبیر مرزا بھائی کی محبت ہے کہ ہم کو یہاں آواز دی۔ اور اتنی عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی۔ لیکن ہم اس میں کیا تنقید کر سکتے ہیں۔ زبیر بھائی۔۔۔ تنقیدی نگاہ کے لیے کچھ تعمیری علم بھی تو ہونا چاہیے۔۔۔ اور اس سے ہم کوسوں دور۔۔۔ :)
اور اس بات سے صد متفق ہوں کہ معاف وہی کر سکتا ہے۔ جو اس عمل سے گزرا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے۔ صرف معافی نہیں، یہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔ چاہے محبت ہو۔ چاہے دشمنی ہو۔ کہتے ہیں کہ وہ آدمی اچھا دوست نہیں ہو سکتا جس کا دشمن نہ ہو۔ اسی طرح کھلا ظرف بھی وہی پاتا ہے۔ جو اختلاف کرنے اور سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ لیکن جہاں آپ نے بات کی کہ اللہ کے سامنے بھی وہی نادم ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے نادم ہوتا ہے۔ تو اس بات سے تھوڑا سا اختلاف بہرحال ہے۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کو اتنے مقرب تھے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں کبھی کسی کے سامنے نادم نہ ہونے دیا۔ لیکن یہ خاص لوگ ہیں۔ عمومی لوگوں پر آپ کی بات صادق آتی ہے۔
بہت عمدہ تحریر ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ جزاکٔ اللہ
 

تلمیذ

لائبریرین
بہت اچھی تحریر ہے مرزا صاحب۔
حد سے بڑھی ہوئی ' انا ' ہی سب کام بگاڑتی ہے۔بس انسان اس پر قابو پالے تو 'ستے ای خیراں' ہیں۔
 

نایاب

لائبریرین
اک روشن تحریر
معافی مانگنا ۔۔۔توبہ کرنا ۔۔
معافی دینا ۔۔۔۔۔۔۔ توبہ قبول کر لینا
معافی مانگنا ۔ اعتراف ہوتا ہے اپنی غلطی اپنی حماقت اپنی نادانی کا ۔چاہے دانستہ ہو یا کہ نادانستہ
اور ابن آدم کی سرشت میں شامل ہے یہ غلطی یہ نادانی یہ حماقت کرنا ۔
حضرت آدم علیہ السلام کی دعا
حضرت یونس علیہ السلام کی صدا
اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ کوئی بندہ بشر اس سے پاک نہیں ۔ اور جو اپنی کوتاہی پر نادم ہوتے معافی چاہے ۔ وہی مقبول بارگاہ ٹھہرتا ہے ۔ اور جو اپنی کوتاہی پر غرور کرتے معافی مانگنے کو اپنی ہتک جانے وہ راندہ درگاہ قرار پاتا ہے ۔
آپ جناب نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جناب " ابن مکتوم رض " سے سورہ عبس کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد کا طرز عمل روشن نصیحت ہے کہ ۔ احساس ہوتے ہی معذرت میں تاخیر نہ کی جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

باباجی

محفلین
کیا لکھا جائے یہاں
کیونکہ جس موضؤع پر نعمان رفیق مرزا صاحب نے لکھا ہے
اس پر تنقید ہو ہی نہیں سکتی ہاں سوچ کا زاویہ الگ ہو سکتا ہے
اور ہم کیا ہماری اوقات کیا
اللہ ہمیں لوگوں سے معافی مانگنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے
اور راقم کو اللہ بہت خؤش رکھے اور اپنی نعمتوں سے نوازے
جزاک اللہ خیر
 

سید زبیر

محفلین
بہت ہی خوبصورت انداز تحریر۔۔۔۔ بےشک معاف کرنا بہت مشکل امر ہے ۔۔۔۔اسی لیے اس کے درجات بھی بلند ھیں ۔ اللہ بہتبڑا معاف کرنے والا ہے اور جو بندے معافی اور در گذر سے کام لیتے وہ اللہ کو بھی پسند ھوتے ہیں ۔۔۔ اللہ ہمیں نیک عم کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
 
خوبصورت تحریر ہے جناب آپ کی۔

میری نظر میں تو معافی کا طلبگار اپنی انا کو شکست دے کر دوسرے کی انا کو سرخرو ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے اور غلطی پر اصرار نہ کرنے کے ارفع عمل کو رواج دیتا ہے۔ معافی کی طلب انسان کی انکساری اور خود احتسابی کی واضح دلیل بھی ہوتی ہے۔
 

نیلم

محفلین
بہت اچھی تحریر ہے ،،اس تحریر کو پڑھ کے اشفاق احمد کی ایک تحریر یاد آگئی ،معافی کے موضوع پر۔ویسے کسی کی غلطی ظلم یا زیادتی پر کسی انسان کو معاف کرنا بہت ہمت کا کام ہے،جس طرح معاف کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے اسی طرح معافی مانگنے میں بھی دیر نہیں کرنی چایئے ۔کیونکہ جب تک وہ انسان معاف نہ کرئے جیسے تکلیف پہنچائی گئی ہے تو اللہ بھی معاف نہیں کرتا۔۔۔۔
،،،اشفاق احمد کو بھی پڑھئے انہوں نے کیا کہا معافی کے متعلق،
ہم سب کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین Connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہےئ لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔ تو اس صورت میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔ اس لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا کرتے تھے کہ، "انسان کے معاملے میں بہت احتیاط کیا کرو اور کوئی ایسا گناہ یا غلطی کی سرزدگی سے بچا کرو جو انسان سے متعلق ہو، کیونکہ انسان سے کیے گناہ یا ظلم کی معافی اس سے ملے گی۔ اگر تم سے خدا کا گناہ ہوجاتا ہے تو یہ اور بات ہے وہ رحیم و کریم ہے اور ہر جگہ موجود ہے، اس سے معافی کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے (موت سے پہلے)۔ اگر وہ انسان کھو گیا تو مارے جاؤ گے"۔
 
@
نایاب بھائی باباجی محمود احمد غزنوی بھائی نیلم مہ جبین آپا
تلمیذ صاحب سید زبیر صاحب نیرنگ خیال میاں جی
لیں جناب ہم نے احباب کوٹیگ کیا ہے وہ آکے آپ کی تحریرپرتبصرے فرمائیں
بہت شکریہ زبیر آپ کا۔ آپ نے تو دھنک رنگ بکھیر دیے۔ممنون ہوں آپ کا۔
اشفاق صاحب کو مکمل طور پر پڑھا نہیں، لیکن جب چھوٹا تھا، تو ان کا لکھا ایک کھیل، من چلے کا سودا،ٹی-وی پر نشر ہوا کرتا تھا۔ میرے والد صاحب کو جتنا پسند تھا، اتنا ہی مجھے برا لگا کرتا تھا۔ چھوٹا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا۔ سو، وہ واحد دن ہوا کرتا تھا کہ میرے والد صاحب شام 07:30 بجے ٹی-وی کے سامنے، اور میں بستر میں ہوا کرتا تھا۔ بستر میں جاتے وقت ناراضی کا خوب اظہار کیا کرتا کہ یہ کیسا کھیل ہے، جس میں نہ تو کچھ ہوتا ہے، اور نہ ہی کچھ سمجھ آتی ہے۔ تو، اشفاق صاحب دینے والے تھے۔ دیکھیے، میں انھیں گالی دیتا (ان کے کھیل پہ مایوسی ظاہر کر کے) اور وہ پھر بھی مسکراتے رہتے۔جاننے والے تھے نا۔ لوگ کہتے ہیں، میری تحریر میں ان کا رنگ ہے، تو شائد انھی کا فیض ہے جو میرے قلم کو رواں رکھتا ہے۔تو بات کہنے کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ میں کم عقل اور جلد باز ٹھہرا۔ دوسرے یہ کہ اصلی فقیر وہی ہے جوگالی سن کے بھی مسکرائے، اور کچھ نہ کچھ دے جائے۔اللہ تعالٰی اشفاق صاحب کی اور ہم سب کی بھی مشکلات کو ہمارے لیے آسان فرمائے (آمین)۔
 
زبیر مرزا بھائی کی محبت ہے کہ ہم کو یہاں آواز دی۔ اور اتنی عمدہ تحریر پڑھنے کو ملی۔ لیکن ہم اس میں کیا تنقید کر سکتے ہیں۔ زبیر بھائی۔۔۔ تنقیدی نگاہ کے لیے کچھ تعمیری علم بھی تو ہونا چاہیے۔۔۔ اور اس سے ہم کوسوں دور۔۔۔ :)
اور اس بات سے صد متفق ہوں کہ معاف وہی کر سکتا ہے۔ جو اس عمل سے گزرا ہے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے۔ صرف معافی نہیں، یہ سب پر لاگو ہوتا ہے۔ چاہے محبت ہو۔ چاہے دشمنی ہو۔ کہتے ہیں کہ وہ آدمی اچھا دوست نہیں ہو سکتا جس کا دشمن نہ ہو۔ اسی طرح کھلا ظرف بھی وہی پاتا ہے۔ جو اختلاف کرنے اور سننے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ لیکن جہاں آپ نے بات کی کہ اللہ کے سامنے بھی وہی نادم ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے نادم ہوتا ہے۔ تو اس بات سے تھوڑا سا اختلاف بہرحال ہے۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کو اتنے مقرب تھے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں کبھی کسی کے سامنے نادم نہ ہونے دیا۔ لیکن یہ خاص لوگ ہیں۔ عمومی لوگوں پر آپ کی بات صادق آتی ہے۔
بہت عمدہ تحریر ہے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ جزاکٔ اللہ
نیرنگ خیال: شکریہ صاحب۔ آپ نے بجا فرمایا۔ ایسے لوگ تو معصوم ہوتے ہیں۔ اللہ کے بہت نزدیک، بہت بلند مرتبے والے۔
 
خوبصورت تحریر ہے جناب آپ کی۔

میری نظر میں تو معافی کا طلبگار اپنی انا کو شکست دے کر دوسرے کی انا کو سرخرو ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے اور غلطی پر اصرار نہ کرنے کے ارفع عمل کو رواج دیتا ہے۔ معافی کی طلب انسان کی انکساری اور خود احتسابی کی واضح دلیل بھی ہوتی ہے۔
جناب، آپ نے سمندر کو کُوزے میں بند کر دیا۔ بہت خوب!
 
بہت اچھی تحریر ہے ،،اس تحریر کو پڑھ کے اشفاق احمد کی ایک تحریر یاد آگئی ،معافی کے موضوع پر۔ویسے کسی کی غلطی ظلم یا زیادتی پر کسی انسان کو معاف کرنا بہت ہمت کا کام ہے،جس طرح معاف کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے اسی طرح معافی مانگنے میں بھی دیر نہیں کرنی چایئے ۔کیونکہ جب تک وہ انسان معاف نہ کرئے جیسے تکلیف پہنچائی گئی ہے تو اللہ بھی معاف نہیں کرتا۔۔۔ ۔
،،،اشفاق احمد کو بھی پڑھئے انہوں نے کیا کہا معافی کے متعلق،
ہم سب کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ معافی اور درگزر، یہ ایک پھول کی مانند ہیں۔ اس کے باعث انسان ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں اور یہ "معافی" انسانوں کے مابین Connectivity کا کام دیتی ہے۔ جو لوگ معافی مانگنے سے محروم ہو جاتے ہیں وہ انسان کے درمیان رابطے اور تعلق کے پل کو توڑ دیتے ہیں اور ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے کہ ان کو خود کسی وجہ سے آدمیوں اور انسانوں کے پاس جانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہےئ لیکن وہ پل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ہم ایک انسان سے کوئی زیادتی کرتے ہیں یا انسان کا کوئی گناہ کرتے ہیں اور پھر وہ انسان خدانخواستہ فوت ہو جاتا ہے یا برطانیہ یا کینیڈا جا کر آباد ہو جاتا ہے تو پھر ہمیں اس انسان کے پاس جا کر معافی مانگنے میں بڑی مشکل درپیش ہوتی ہے لیکن اگر ہم خدا کے گناہگار ہوں اور ہمارا ضمیر اور دل ہمیں کہے کہ "یار تو نے یہ بہت بڑا گناہ کیا تجھے اپنے رب سے معافی مانگنی چاہیے"۔ تو اس صورت میں سب سے بڑی آسانی یہ ہوتی ہے کہ ہمیں اپنے خدا کو کہیں جا کر ڈھونڈنا نہیں پڑتا، تلاش نہیں کرنا پڑتا کیونکہ وہ تو ہر جگہ موجود ہے ۔ اس لئے ہمارے بابے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمارے بابا جی اکثر و بیشتر یہ کہا کرتے تھے کہ، "انسان کے معاملے میں بہت احتیاط کیا کرو اور کوئی ایسا گناہ یا غلطی کی سرزدگی سے بچا کرو جو انسان سے متعلق ہو، کیونکہ انسان سے کیے گناہ یا ظلم کی معافی اس سے ملے گی۔ اگر تم سے خدا کا گناہ ہوجاتا ہے تو یہ اور بات ہے وہ رحیم و کریم ہے اور ہر جگہ موجود ہے، اس سے معافی کسی بھی وقت مانگی جا سکتی ہے (موت سے پہلے)۔ اگر وہ انسان کھو گیا تو مارے جاؤ گے"۔
شکریہ سر۔ بہت عمدہ تحریر شئیر کی آپ نے۔ ممنون ہوں۔
 

عائشہ عزیز

لائبریرین
@
بہت شکریہ زبیر آپ کا۔ آپ نے تو دھنک رنگ بکھیر دیے۔ممنون ہوں آپ کا۔
اشفاق صاحب کو مکمل طور پر پڑھا نہیں، لیکن جب چھوٹا تھا، تو ان کا لکھا ایک کھیل، من چلے کا سودا،ٹی-وی پر نشر ہوا کرتا تھا۔ میرے والد صاحب کو جتنا پسند تھا، اتنا ہی مجھے برا لگا کرتا تھا۔ چھوٹا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا۔ سو، وہ واحد دن ہوا کرتا تھا کہ میرے والد صاحب شام 07:30 بجے ٹی-وی کے سامنے، اور میں بستر میں ہوا کرتا تھا۔ بستر میں جاتے وقت ناراضی کا خوب اظہار کیا کرتا کہ یہ کیسا کھیل ہے، جس میں نہ تو کچھ ہوتا ہے، اور نہ ہی کچھ سمجھ آتی ہے۔ تو، اشفاق صاحب دینے والے تھے۔ دیکھیے، میں انھیں گالی دیتا (ان کے کھیل پہ مایوسی ظاہر کر کے) اور وہ پھر بھی مسکراتے رہتے۔جاننے والے تھے نا۔ لوگ کہتے ہیں، میری تحریر میں ان کا رنگ ہے، تو شائد انھی کا فیض ہے جو میرے قلم کو رواں رکھتا ہے۔تو بات کہنے کے دو مقاصد تھے۔ ایک یہ کہ میں کم عقل اور جلد باز ٹھہرا۔ دوسرے یہ کہ اصلی فقیر وہی ہے جوگالی سن کے بھی مسکرائے، اور کچھ نہ کچھ دے جائے۔اللہ تعالٰی اشفاق صاحب کی اور ہم سب کی بھی مشکلات کو ہمارے لیے آسان فرمائے (آمین)۔
بھیا مجھے بھی من چلے کا سودا ڈرامہ بہت پسند ہے۔ پر میں نے ڈرامہ پڑھا ہے دیکھا نہیں :)
 
Top