1. اردو محفل سالگرہ پانزدہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی پندرہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

معائب سخن

ذوالفقار نقوی نے 'بزم سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 1, 2020

  1. ذوالفقار نقوی

    ذوالفقار نقوی محفلین

    مراسلے:
    384
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Happy
    السلام علیکم محترم احباب...

    مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن مفاعلاتن...

    اس بحر میں شعر کہتے ہوئے... کوئی لفظ ایسا نہ باندھا جائے کہ جو دوسرے رکن اور تیسرے رکن میں تقسیم ہو رہا ہو...

    اس عیب کو کیا کہتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,226
    موڈ:
    Asleep
    وعلیکم السلام

    ایسی بحر کو تو مقطع بحر کہتے ہیں۔ دوسرے اور آخری رکن کو مفاعلاتان سے بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور یہ اس صورت میں ہے جب کوئی لفظ دوسرے رکن پر ہی ختم ہو جائے اور اس کا آخری حرف نہ گرایا جائے۔ باقی جو آپ کا سوال ہے، اس کو عیب کہا جائے گا یا نہیں، اس کے بارے میں کچھ پڑھا نہیں ہے۔ محمد وارث مجھ سے بہتر جانتے ہیں اس بارے میں۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,150
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اس عیب کو رکن کا ٹوٹنا یا شکستِ ناروا کہتے ہیں، لیکن یہ عیب صرف وہاں وارد ہوتا ہے جہاں مقطع بحر ہو یعنی وہ بحر جس کا ایک مصرع مزید دو مساوی ارکان میں تقسیم ہو جیسے

    مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
    فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
    فعلاتن مفاعلن فعلاتن مفاعلن
    فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن

    اور اسی قسم کی دیگر بحریں۔ مثال کے طور پر اگر مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن میں پہلے مفاعیلن پر لفظ ٹوٹتا ہے تو وہ شکستِ ناروا عیب ہوگا۔

    دوسری بات یہ ہے کہ اول فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن ایک معروف بحر نہیں ہے، دوم یہ بحر مقطع بحر بھی نہیں ہے، جیسے مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن ایک مقطع بحر نہیں ہے، سو فاعلاتن چار بار میں یہ عیب واقع نہیں ہوگا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • معلوماتی معلوماتی × 3
    • زبردست زبردست × 1
  4. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    1,939
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Devilish
    نقوی صاحب شاید اس بحر کی بات کر رہے ہیں:
    فعول فعلن فعول فعلن فعول فعلن فعول فعلن

    بحرِ مقطع تو خیر یہ بھی نہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    9,140
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بحر مقطع میں مقطع یا تلفظ بر وزن مُقَدَّم ہو گا شاید ۔
    یعنی بحرِ مُقَطَّع ۔
    یاد پڑتا ہے کہ حسرت موہانی کی کتاب نکات سخن میں اس سے متعلق اچھی بحث تھی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  6. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,226
    موڈ:
    Asleep
    واقعی میں یہ مقطع بحر نہیں ہے۔ تصحیح کا شکریہ۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. ذوالفقار نقوی

    ذوالفقار نقوی محفلین

    مراسلے:
    384
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Happy
    تمام دوستوں کا بہت شکریہ
     
  8. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,975
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    ریحان ، یہ بحث تو میرا خیال ہے کہ فیصل ہوچکی ۔ اب مفاعلاتن کو اردو عروض میں آٹھ حرفی رکن مانا جاچکا ہے ۔ اور مذکورہ بحر (مفاعلاتن چار بار) کو بحرِ جمیل کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ میری رائے میں یہی آسان بات ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. ظہیراحمدظہیر

    ظہیراحمدظہیر محفلین

    مراسلے:
    2,975
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    بہت آسان اچھے انداز میں بات سمجھائی ہے آپ نے ۔ اللہ آپ کے علم و فضل میں اور اضافہ فرمائے ۔
    مقطع بحور کے علاوہ میرے خیال میں مثمن مضاعف بحروں پر بھی یہ اصول لاگو ہوتا ہے کہ چوتھے اور پانچویں ارکان کے درمیان لفظ تقسیم نہ ہو۔ پہلے چار اور دوسرے چار ارکانوں میں فقرے مکمل ہونے چاہئیں ۔ مثال کے طور پر متدارک مثمن مخبون مضاعف ۔ فعِلن آٹھ بار ۔ ( انشا جی اٹھو اب کوچ کرو ۔ ) وغیرہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. ذوالفقار نقوی

    ذوالفقار نقوی محفلین

    مراسلے:
    384
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Happy
    دوستوں کا بہت متشکر و ممنون ہوں
     

اس صفحے کی تشہیر