مسلمان بے گناہوں کا خون نہیں بہاتا

بلال

محفلین
بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہمارا پیارا وطن پاکستان آج کل بے شمار مسائل کا شکار ہے کچھ لوگ تو اب پاکستان کو مسائلستان کہتے ہیں۔ ویسے تو کئی مسائل ہیں لیکن آج ہم خود کش حملوں کو دیکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پاک فوج جب کہیں آپریشن کرتی ہے تو وہ لوگ جواب میں خود کش حملے کرتے ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لئے کچھ باتیں تصور کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کی فوج سرا سر غلطی پر ہے اور جن کے خلاف آپریشن کر رہی ہے وہ مسلمان ہیں اور اسلام کی سر بلندی کے لئے کوشاں ہیں۔ جنہیں آج کل طالبان کہا جاتا ہے یا وہ خود کہلواتے ہیں۔ ایک بات یاد رہے کہ ہم افغانی طالبان کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ پاکستانی طالبان کا ذکر کر رہے ہیں اور نہ ہی افغانی طالبان کا پاکستانی طالبان سے رشتہ ناتہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ ایک علیحدہ اور لمبی بحث ہے۔ اچھا تو ہم اپنے تصورات میں واپس آتے ہیں کہ پاکستانی فوج غلطی پر ہے اور طالبان اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ پاکستانی فوج تو ہے ہی غلطی پر اس لئے وہ جو بھی کرے غلط ہے لیکن ہم اُن لوگوں کے کردار کو دیکھتے ہے جو اسلام اور مسلمان کے لئے لڑ رہے ہیں یعنی پاکستانی طالبان۔۔۔
پاکستانی فوج امریکہ کے کہنے پر یا خود اپنی مرضی سے طالبان کے علاقے پر حملہ کرتے ہیں تو جواب میں طالبان خود کش حملے کرتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ خود کش حملہ پاکستانی فوج پر ہے یا کسی اور پر؟؟؟ یہ بات سب جانتے ہیں کہ خود کش حملے فوج پر بھی ہوتے ہیں اور عام عوام پر بھی۔ فوج پر ہونے والے حملوں کو چھوڑ کر عام عوام پر ہونے والے حملوں کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کے لئے لڑنے والے کیا کر رہے ہیں؟؟؟
اسلامی تعلیمات اور تاریخ کھول کر دیکھیں تو ایک بات صاف صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے ہر کام کے قوانین اور قواعد و ضوابط بنائے ہیں اور مسلمانوں کو اُن پر چلنے کا کہا گیا ہے۔ حضورﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے کی جنگوں کو دیکھیں تو جب بھی کوئی اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو اُس کو جنگ کے قوانین یاد دلائے جاتے جن میں سے صرف ایک جس کو تقریباً ایک عام مسلمان بھی جانتا ہے۔ وہ یہ کہ "جو تہمارے خلاف ہتھیار نہ اُٹھائیں انہیں کچھ نہیں کہنا" یعنی عام الفاظ میں یوں کہ جو لوگ تم سے نہیں لڑتے اُن سے تم نے نہیں لڑنا اور نہ ہی انہیں کوئی نقصان پہنچانا ہے بے شک وہ کوئی بھی ہوں۔
یہاں دیکھا جائے تو وہ لوگ جن کے خلاف لڑنے سے منع کیا جا رہا ہے وہ لوگ ہیں تو دشمن کے اور دشمن کے علاقے کے اور ہو سکتا ہے کہ وہ کفار ہوں۔ لیکن پھر بھی عام عوام سے لڑنے سے منع کیا گیا۔ ہم اس ایک اصول کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ کفار عوام، دشمن کے لوگ، ظاہر ہے جن کے لوگ ہوں گے تو ہمدردیاں بھی اُن کے ساتھ ہوں گی لیکن پھر بھی عام عوام کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
اب ہم نے صرف ایک اسلامی جنگی اصول کو دیکھ لیا۔ اب دیکھتے ہیں اسلام کے لئے لڑنے والے طالبان کو۔۔۔ طالبان کی دشمن اگر فوج ہے تو فوج سے لڑیں لیکن بے گناہ پاکستانی عوام کو کیوں مار رہے ہیں؟؟؟ طالبان پر حملہ فوج کرتی ہے لیکن طالبان کمزور عوام پر خود کش حملہ کیوں کرتے ہیں؟؟؟ اس غریب عوام کو روٹی نہیں مل رہی لیکن یہ انتقامی کاروائی میں بھوکی عوام کا گوشت کیوں کھاتے ہیں؟؟؟ ملک بحرانوں کا شکار ہے لیکن ملکی تنصیبات کو تباہ کر کے ملک کو اور کھوکھلا کیوں کرتے ہیں؟؟؟ یہاں ویسے ہی بھائی بھائی سے خوف زدہ ہے پھر چیتھڑے اڑا کر عوام میں خوف کیوں پیدا کیا جا رہا ہے؟؟؟ کیا قصائی کم پڑ گئے جو خود کش حملہ کے ذریعے اپنا اور عوام کا گوشت کیا جا رہا ہے؟؟؟
اِن باتوں کو دیکھ کر ایک بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ جو شر پسند عناصر عام عوام پر حملے کرتے ہیں اور اُن کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں وہ کسی طرح سے بھی اسلامی جنگی اصولوں پر نہیں چل رہے اور نہ ہی اسلام اور مسلمانوں کی خاطر لڑ رہے ہیں بلکہ ذاتی مفادات، بیرونی یا اندرونی شیطانی طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ جن کا مقصد اسلام، مسلمانوں اور جہاد کو بدنام کرنا ہے۔ یہ سرا سر اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر عام عوام سے نظریاتی اختلاف ہے تو تبلیغ کریں، سچی باتیں بتائیں اور لوگوں کے دل جیتیں۔ جنگ میں عام عوام کو مارنا اور نظریات کے اختلاف پر لوگوں کو قتل کرنا یہ کہاں لکھا ہے؟؟؟
میں تمام لوگوں سے جو اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں ہاتھ جوڑ کر گزارش کرتا ہوں خدا کے لئے عام عوام کو مت مارو۔ ہمیں سمجھو ہم امن چاہتے ہیں، ہم علم چاہتے ہیں، ہم ترقی چاہتے ہیں، ہم اسلام کی سر بلندی چاہتے ہیں۔ ہم اسلام کے اُس دشمن سے لڑنے والے ہیں جو ہم سے لڑتا ہے۔ ہم بے گناہوں پر ظلم نہیں کرتے۔ لیکن طالب تم کیسے انسان ہو؟؟؟ جو خود کومسلمان بھی کہتے ہو اور بے گناہوں کا خون بھی بہاتے ہو؟؟؟ جبکہ "مسلمان بے گناہوں کا خون نہیں بہاتا"۔۔۔
احمد فراز بھی کہہ کر چلا گیا ہم پھر سے اُس کی یاد تازہ کرتے ہوئے اُس کا پیغام سناتے ہیں
تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو
ہم لوگ محبت والے ہیں، تم خنجر کیوں لہراتے ہو
اس شہر میں نغمے بہنے دو، اس شہر میں ہم کو رہنے دو
ہم پالن ہار ہیں پھولوں کے، ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے، ہم پیار سکھانے والے ہیں
اس شہر میں پھر کیا دیکھوگے، جب حرف یہاں مرجائےگا
جب تیغ سے لے کٹ جائے گی، جب شعر سفر کرجائےگا
جب قتل ہوا سب سازوں کا، جب کال پڑا آوازوں کا
جب شہر کھنڈر بن جائے گا، پھر کس پر سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں، جب دیکھوگے، ڈر جاؤ گے
 

شمشاد

لائبریرین
جزاک اللہ بلال بھائی۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ طالبان جو ان خود کش حملوں میں ملوث ہیں ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ ظالم اور اسلام سے بھٹکے ہوے لوگ ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم سبکو ان کی شیطانی کاوائیوں سے محفوظ رکھے اور انہیں ہدایت عطا فرمائے۔
 

بلال

محفلین
جزاک اللہ بلال بھائی۔ آپ نے بہت اچھا لکھا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ طالبان جو ان خود کش حملوں میں ملوث ہیں ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ ظالم اور اسلام سے بھٹکے ہوے لوگ ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم سبکو ان کی شیطانی کاوائیوں سے محفوظ رکھے اور انہیں ہدایت عطا فرمائے۔

شکریہ شمشاد بھائی کہ آپ نے میری تحریر پسند کی۔۔۔
اس تحریر سے میں اپنے عام لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں جو طالبان کے خودکش حملوں کی حمایت کرتے ہیں اور ہر جگہ بحث کرتے ہیں کہ طالبان بالکل ٹھیک ہیں۔۔۔ اب دیکھتے ہیں وہ حضرات کیا جواب عنایت کرتے ہیں۔۔۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو اسلام کی صحیح سمجھ دے اور سیدھے راستے پر چلائے۔۔۔آمین
 

بلال

محفلین
کمال ہے۔۔۔ طالبان ہم نے خود ہی تو بنائے تھے۔۔۔۔۔ اب رو کیوں رہے ہیں؟

عارف بھائی اگر طالبان پاکستان نے ہی بنائے تھے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ طالبان (یا کوئی بھی آپ کا اپنا) غلط کرے تو اسے منع نہ کیا جائے، اس کی مخالفت نہ کی جائے۔۔۔
جب اولاد کوئی غلط کام کرتی ہے تو والدین سمجھاتے بھی ہیں اور سختی بھی کرتے ہیں جبکہ اولاد اُن کی اپنی ہوتی ہے۔۔۔
اب بندہ والدین کو کہہ دے کہ "کمال ہے۔۔۔ خود پیدا کئے تھے۔۔۔ اب رو کیوں رہے ہو؟"
کیا خیال ہے؟؟؟
 
عارف بھائی اگر طالبان پاکستان نے ہی بنائے تھے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ طالبان (یا کوئی بھی آپ کا اپنا) غلط کرے تو اسے منع نہ کیا جائے، اس کی مخالفت نہ کی جائے۔۔۔
یہی طالبان جس پر آج " دہشت گرد " کا ٹپہ لگا ہوا ہے اُس وقت مجاہدین میں شمار ہوتے تھے جب امریکہ کا روس سے سرد جنگ چھڑا ہواتھا ۔
ان ہی مجاہدین کو ٹرینِنگ اور اسلحہ دیا پاکستان ہی کے واسطے سے ۔
ان کا مقصد تھا ۔ " روس کو شکست " ۔ جیسے ہی مقصد پورا ہوگیا ۔ پھر یہ ان کے لیے کوئی کام کے نہ رہے ۔
سب حقائق آپ لوگوں کے سامنے ہیں ۔ ضیاء الحق کو امریکہ نے استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں اپنے ایک سفیر سمیت اڑادیا ۔
صدام کو بھی استعمال کیا ۔ بعد میں اس کے ساتھ کیا کیا ؟

یہی مجاہدین یا طالبان اگر اس وقت غلط نہیں تھے تو آج کیسے غلط ہوئے ؟
اور اگر یہ یہی خود کش حملے آج حرام ہے تو 1965ء میں جب پاکستانیوں نے انڈیا کے خلاف کیے تھے اس وقت کیوں حرام نہیں تھے ۔؟
اسی کو کہتے ہیں دوغلی پالیسی ۔۔۔
دورخی چھوڑ جا یک رنگ ہوجا
یا سر ا سر موم یا سنگ ہو جا

میری اپنی رائے خود کش حملوں کے متعلق یہ ہے کہ جب تک کوئی واضح اور مستند روایت سامنے نہ لائی جائے تب تک اس کو جائز نہیں‌کہہ سکتے ۔
اور کرنے والا اس حدیث کے ضمن میں شمار ہوگا ۔
”جو شخص اپنے آپ کو مارتا ہے (جان بوجھ کر) تو یقیناوہ جہنم میں رہے گا ہمیشہ کے لئے“ (بخاری :۸۷۷۵، مسلم 109،110)
اور اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
” اور اپنے آپ کو قتل مت کرو ، یقینا اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے“ ( سورة النساء:آیت نمبر 29)
 

شمشاد

لائبریرین
دیکھیں خود کش حملے جو 1965 کی جنگ میں پاک بھارت جنگ میں کیئے گئے تھے ان کو موجودہ دور کے خود کش حملوں سے نہ ملائیں۔ ان حملوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ حملے اپنے ملک کو بچانے کے لیئے کیئے گئے تھے، یہ اپنے ہی بے گناہ مسلمان بھائی بندوں کو مار کر کون سا ملک بچا رہے ہیں۔

اچھا اگر حملے کرنے ہی ہیں تو ان پر جا کر کریں جو ان کے خلاف پالیسی بناتے ہیں، جو ان کے خلاف فوج کو استعمال کر رہے ہیں۔ وہ تو اپنے محل نما رہائش گاہوں میں سخت پہرے میں چین کی نیند سوتے ہیں اور حملہ ہونے کے بعد جو بیان دیتے ہیں وہ بھی ان کا اپنا نہیں بلکہ ان کے سیکریٹری یا پی آر او کا لکھا ہوا ہوتا ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
قیصرانی بھائی آپ کی بات بالکل درست ہے لیکن ہر ایک نے انسانیت کے درجے مختلف بنائے ہوئے ہیں۔ کوئی جان بچانے کو انسانیت سمجھتا ہے اور کوئی جان لینے کو۔
 

بلال

محفلین
یہی طالبان جس پر آج " دہشت گرد " کا ٹپہ لگا ہوا ہے اُس وقت مجاہدین میں شمار ہوتے تھے جب امریکہ کا روس سے سرد جنگ چھڑا ہواتھا ۔
ان ہی مجاہدین کو ٹرینِنگ اور اسلحہ دیا پاکستان ہی کے واسطے سے ۔
ان کا مقصد تھا ۔ " روس کو شکست " ۔ جیسے ہی مقصد پورا ہوگیا ۔ پھر یہ ان کے لیے کوئی کام کے نہ رہے ۔
سب حقائق آپ لوگوں کے سامنے ہیں ۔ ضیاء الحق کو امریکہ نے استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں اپنے ایک سفیر سمیت اڑادیا ۔
صدام کو بھی استعمال کیا ۔ بعد میں اس کے ساتھ کیا کیا ؟

یہی مجاہدین یا طالبان اگر اس وقت غلط نہیں تھے تو آج کیسے غلط ہوئے ؟
[/color]

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم

محترم مون لائیٹ آفریدی بھائی سب سے پہلے تو آپ کو بتاتا جاؤں کہ میرا موضوع اُن لوگوں پر یا اُن طالبان پر تھا جو خود کش حملے کر کے بے گناہ انسانوں کو مارتے ہیں اور پھر اُن کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔
رہی بات افغانی طالبان کی تو محترم آپ نے خود فرما دیا ہے کہ امریکہ نے طالبان کو استعمال کیا اور پاکستان ہی کے واسطے سے ٹریننگ اور اسلحہ دیا،،، اور جب امریکہ کا مقصد پورا ہوا تو انہیں طالبان کو دہشت گرد قرار دے دیا۔۔۔
اب دیکھئے کیا طالبان کو پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اُن کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔ ذرا غور کرو کہ یہی طالبان اپنا مقصد نکالنے کے لئے امریکہ اور پاکستان کی مدد سے روس کو شکست دیتے ہیں۔۔۔ کیسی عجیب بات ہے کہ امریکہ کے جدید اسلحہ سے روس کو شکست دینے والے طالبان کو آج تک یہی پتہ نہیں چلا کہ وہ کیوں اور کس کے لئے لڑ رہے ہیں؟؟؟ اس کا مطلب تو صاف ہوا کہ طالبان ایک قسم کے ربوٹ ہیں جن کو ہتھیار دے کر کمانڈ دے دی گئی تھی کہ روس کے خلاف لڑو۔۔۔ طالبان بیچاروں کو تو آج تک یہ نہیں پتہ چلا کہ پہلے انہیں استعمال کر کے روس کے ٹکرے کئے گئے۔ اب انہیں طالبان کو استعمال کر کے پاکستان کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں امریکہ نے ابھی انہیں طالبان کو استعمال کر کر کے اور ناجانے کیا کیا کروانا ہے؟؟؟ آخر طالبان کو اس بات کی کیوں سمجھ نہیں آتی؟؟؟



اور اگر یہ یہی خود کش حملے آج حرام ہے تو 1965ء میں جب پاکستانیوں نے انڈیا کے خلاف کیے تھے اس وقت کیوں حرام نہیں تھے ۔؟
اسی کو کہتے ہیں دوغلی پالیسی ۔۔۔
دورخی چھوڑ جا یک رنگ ہوجا
یا سر ا سر موم یا سنگ ہو جا
[/color]

میرے بھائی شائد آپ نے میری تحریر غور سے نہیں پڑھی۔۔۔ میں نے کب کہا کہ جو دشمن تم سے لڑتے ہیں اُن سے تم نہ لڑو۔۔۔ میرے بھائی میں نے کہا تھا کہ جنگ میں تم بے گناہوں کو نہیں مار سکتے اور یہی اسلام کے جنگی اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔۔۔
1965ء کی جنگ میں اگر پاکستان نے خود کش حملے کئے تھے تو وہ اپنے دشمن جو اُن سے لڑنے آیا تھا اُس کے خلاف کئے تھے۔ کیا پاکستان نے جنگ کے میدان کو چھوڑ کر معصوم بے گناہوں پر خود کش حملے کئے تھے؟؟؟ دیکھو جب دشمن تم سے لڑتا ہے تو اُس سے میدان جنگ میں لڑنا بھی تو اپنی موت کو آواز دینے کے برابر ہوتا ہے جو کہ اگر خاص اسلام کی خاطر کیا جائے تو جہاد کہلاتا ہے۔ لیکن دشمن کے بے گناہ لوگوں کو (جو نہیں لڑتے) مارنا کہاں کا جہاد ہے یہ بات کہاں لکھی ہے؟؟؟
لڑو صرف اُس سے جو تم سے لڑتے ہیں بے گناہ کو مت مارو۔۔۔
یہی سب میری تحریر کا مقصد تھا اور جو میں نے اُس میں واضح کر دیا تھا۔ میری گذارش تو یہ ہے کہ اگر پاک فوج طالبان سے لڑتی ہے اور طالبان پاک فوج کو دشمن سمجھتے ہیں تو طالبان اگر اسلام کے اصول کو مانتے ہیں تو پھر پاک فوج سے لڑیں (دونوں میں غلط درست کا فیصلہ یہاں نہیں کر رہا) بے گناہ، معصوم پاکستانیوں کا خود کش حملے سے قتلِ عام کیوں کرتے ہیں؟؟؟ اگر یہ خود کش حملے طالبان نہیں کروا رہے تو پھر ذمہ داری کیوں قبول کرتے ہیں؟؟؟ بیانات کی تردید کیوں نہیں کرتے؟؟؟ اگر آپ کا سوال ہو کہ طالبان کو میڈیا میسر نہیں اس لئے وہ یہ نہیں کر رہے تو میں یہاں اس پر تفصیلی بات کر چکا ہوں۔۔۔
ویسے بھی میرے بھائی یہ سب میرے خیالات ہیں۔ جو میں باقی تک پہنچا رہا ہوں۔ آپ کا دل مانتا ہے تو قبول کریں۔۔۔ نہیں مانتا تو نہ کریں۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ کیونکہ میں اپنے نظریات و خیالات کو بس دوسروں تک پہنچا رہا ہوں۔۔۔ کسی پر مسلط نہیں کر رہا۔۔۔

والسلام
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department


سب حقائق آپ لوگوں کے سامنے ہیں ۔ ضیاء الحق کو امریکہ نے استعمال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں اپنے ایک سفیر سمیت اڑادیا ۔
[/color]

جس حادثے ميں جرنل ضياالحق جاں بحق ہوئے تھے اس ميں امريکی سفير آرنلڈ رافيل اور امريکی ملٹری ايڈوازری گروپ کے صدر ہربٹ واسم بھی شامل تھے۔ يہ مفروضہ ميں بہت سے اردو فورمز پر پڑھ چکا ہوں کہ افغانستان ميں روسی افواج کی شکست کے بعد امريکہ کے ليے جرنل ضيا کی "ضرورت" ختم ہو گی تھی اس ليے انھيں مروا ديا گيا۔ يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ ايک "غير ضروری" اور "استعمال شدہ جرنل" کو راستے سے ہٹانے کے ليے اپنے دو انتہائ اہم افسران کو از خود موت کی گھاٹ اتار دے؟ ايک طرف تو يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ سی – آی – اے اتنا بااختيار ادارہ ہے کہ کسی بھی ملک کا نظام تبديل کرسکتا ہے پھر جرنل ضيا کو مروانے کے ليے ايسی پرواز کا انتخاب کيوں کيا گيا جس ميں خود ان کے اپنے سينير افسران شامل تھے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
 

arifkarim

معطل
جس حادثے ميں جرنل ضياالحق جاں بحق ہوئے تھے اس ميں امريکی سفير آرنلڈ رافيل اور امريکی ملٹری ايڈوازری گروپ کے صدر ہربٹ واسم بھی شامل تھے۔ يہ مفروضہ ميں بہت سے اردو فورمز پر پڑھ چکا ہوں کہ افغانستان ميں روسی افواج کی شکست کے بعد امريکہ کے ليے جرنل ضيا کی "ضرورت" ختم ہو گی تھی اس ليے انھيں مروا ديا گيا۔ يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ ايک "غير ضروری" اور "استعمال شدہ جرنل" کو راستے سے ہٹانے کے ليے اپنے دو انتہائ اہم افسران کو از خود موت کی گھاٹ اتار دے؟ ايک طرف تو يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ سی – آی – اے اتنا بااختيار ادارہ ہے کہ کسی بھی ملک کا نظام تبديل کرسکتا ہے پھر جرنل ضيا کو مروانے کے ليے ايسی پرواز کا انتخاب کيوں کيا گيا جس ميں خود ان کے اپنے سينير افسران شامل تھے؟

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
درست، جنرل ضیاء کی موت خدا کی تقدیر تھی، یا یہ کہیے کہ خدا کی مار تھی۔ جبھی تو 4 انجنوں والا جہاز بھی کاغذ کی طرح ہوا میں ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا!
 
جس حادثے ميں جرنل ضياالحق جاں بحق ہوئے تھے اس ميں امريکی سفير آرنلڈ رافيل اور امريکی ملٹری ايڈوازری گروپ کے صدر ہربٹ واسم بھی شامل تھے۔ يہ مفروضہ ميں بہت سے اردو فورمز پر پڑھ چکا ہوں کہ افغانستان ميں روسی افواج کی شکست کے بعد امريکہ کے ليے جرنل ضيا کی "ضرورت" ختم ہو گی تھی اس ليے انھيں مروا ديا گيا۔ يہ کيسی منطق ہے کہ امريکہ ايک "غير ضروری" اور "استعمال شدہ جرنل" کو راستے سے ہٹانے کے ليے اپنے دو انتہائ اہم افسران کو از خود موت کی گھاٹ اتار دے؟ ايک طرف تو يہ الزام لگايا جاتا ہے کہ سی – آی – اے اتنا بااختيار ادارہ ہے کہ کسی بھی ملک کا نظام تبديل کرسکتا ہے پھر جرنل ضيا کو مروانے کے ليے ايسی پرواز کا انتخاب کيوں کيا گيا جس ميں خود ان کے اپنے سينير افسران شامل تھے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov


http://usinfo.state.gov


اجی حضرت یہ بات بہت پرانی ہو چکی ہے کہ یہ افسران کسی پلان کے تحت اسی فلائیٹ میں شامل تھے ۔ میری معلومات کے مطابق انہیں آخری لمحوں میں فلائیٹ میں آنے کی دعوت دی گئی تھی اور کیونکہ دعوت دہندہ ایک ملک کا صدر تھا لہذا سفارتی مجبوریوں سے انہیں سوار ہونا پڑا اور اگر انہیں انکی ذاتی حیثیت میں یہ علم ہوتا کہ یہ طیارہ اڑا دیا جائے گا تو وہ کبھی بھی اس طیارے میں سوار نہیں ہوتے ۔


حوالہ کے لئے کتاب فاتح دیکھئے
 
آخری تدوین از فیصل عظیم : 09-09-2008 بوقت 04:00 Am. وجوہات: غیر ارادی غلطی کی وجہ سے دل آزاری کا شائیبہ تھا لہذا اسے درست کیا

شمشاد بھائی آپ کے سوال پر ہی میں نے یہ تدوین کی تھی ۔ اب اس کے بعد بھی اس موضوع کو چھیڑنا چہ معنی دارد
 
Top