مسجد کے آداب

محمد فہد نے 'اِسلامی تعلیمات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 24, 2019

  1. محمد فہد

    محمد فہد محفلین

    مراسلے:
    1,490
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Inspired
    مساجداﷲ کا گھر ہیں اور توحید کا گہوارہ ہیں وہاں اﷲ کے سوا کسی اور کو پکارنا جائز نہیں۔مساجد کی عزت اور تعظیم کے لیے کچھ آداب کو پیش رکھنا ضروری ہے۔
    ١۔مساجد میں داخل ہوتے وقت دایاں پاؤں پہلے اندر رکھنا چاہیے اور یہ دعاپڑھنی چاہے۔

    "اللَّهُمَّ افْتَحْ لي أبْوابَ رَحْمَتِك"
    یااﷲ میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے﴿مسلم﴾
    ۲۔مسجد میں فضول باتوں سے پرہیز کیا جائے ،بدن لباس پاک صاف ہو،بہتر ہے کہ گھر سے مسجد میں باوضو ہو کر جائیں۔
    ۳۔مسجد میں داخل ہونے کے بعد دو رکعت نفل پڑھناسنت ہے ،اس کو تحیتہ المسجد کہتے ہیں۔فرض نماز مسجد میں پڑھنا واجب ہے،بلاعذر گھر میں نماز قبول نہیں ہوتی۔
    ۴۔جب لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو ان کے سامنے سے گزرنا منع ہے۔اس کے بارے میں میں حدیث میں وعید آئی ہے۔
    ۵۔سجدوں کو پاک صاف رکھنا اور گردوغبار جھاڑنا مسلمانوں کے ذمہ ہے۔
    ٦۔مسجد میں بدبو دار چیزیں لے کر آنا اور کھا کر جانا منع ہے،اگر کوئی ناگوار بدبودار چیز کھائی ہو پیاز،لہسن وغیرہ توٹھ پیسٹ یا مسواک کے زریعہ منہ صاف کرکےجانا چاہے،مسجد میں خوشبو لگا کر جانا چاہے۔
    ۷۔مسجد میں خریدؤفروخت کرنا جائز نہیں ہے۔
    ۸۔مسجد میں تھوکنا یا ناک کا فضلہ پھیکنا منع ہے
    9۔مسجد میں دیر سے آنے والوں کو اگلی صف میں جانے کے لیے لوگوں کے کندھے پھلانگ کرجانامنع ہے کیونکہ اس سے پہلے آنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔
    ١۰۔جب دوسرے لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو بلند آواز سے ذکر کرنا حتی کہ تلاوت قرآن مجید بھی منع ہے کیونکہ اس سے دوسروں کی عبادت میں خلل پڑتاہے۔
    ١١۔مسجدوں میں کوئی ایسی گفتگو نہ کی جائے جس سے دوسروں کی تحقیر ہوتی ہو،نہ ہی کوئی ایسی حرکت کی جائے جو دوسروں کی اذیت کا باعث ہو۔
    ١۲۔مسجد کا امام تقویٴ،علم اور عمل کی بناء پر مقرر کیاجاناچاہیے جو علم،تقوئ و دینداری میں سب سے برتر ہو۔
    ١۳۔مسجد میں جاتے ہوئے وقار اور ادب سے مدنظر رکھا جاہے،خاموشی سے داخل ہوجائے اگر کوئی بات کرنی پڑے تو آہستہ سے کی جائے۔زیادہ وقت تلاوت قرآن،نوافل،اور نماز میں صرف کیا جائے۔
    ١۴۔مسجد سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھنی چائیے:

    "اللَّهُمَّ إِني أسألُك مِنْ فَضْلك"
    "الہی!میں تیرے فضل کا سائل ہوں"(مسلم)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. محمد فہد

    محمد فہد محفلین

    مراسلے:
    1,490
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Inspired
  3. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی لائبریرین

    مراسلے:
    18,838
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ماشاءاللہ فہد بھائی آپ نے بہت عمدہ معلومات فراہم کی مگر بھائی آپ کی توجہ میں اقتباس والی بات کی جانب کروانا چاہتا ہوں ۔ یہ فتویٰ جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی جانب سے دیا گیا ہے ۔اس کےمطابق قبول نہ ہونے والی کوئی روایات شامل نہیں البتہ گناہ گار ہونے کی واضع دلیل موجود ہے ۔قبول نہ ہونا اور گناہ ہونا دو الگ حالتیں ہیں ۔
    بلاعذر گھر میں نماز پڑھنا عادت بنا لینا گناہ ہے، شفیق ومہربان نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت ترک کرنے والوں کے متعلق شدید وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں، بہت سی روایات میں یہ مضمون وارد ہے کہ اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں اپنے جوانوں کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیتا اور نماز قائم کرتا اور جوانوں کو حکم دیتا کہ ان لوگوں کے گھروں کو آگ سے جلادیں جو جماعت میں نہیں آتے۔اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یا تو کھلا ہوا منافق جماعت ترک کرتاتھا یا پھر ایسا مریض جو دو آدمیوں کے سہارے بھی نہ آسکتاہو، ورنہ مریض بھی دو آدمیوں کے سہارے گھسٹتے قدموں آکر مسجد کی جماعت میں شامل ہوتے تھے ۔ اس لیے مرد کے لیے بلاعذر گھر میں نماز کا معمول بنانا گناہ ہے، مسجد میں ہی جماعت سے نماز ادا کرنا چاہیے، البتہ اگر کبھی عذر کی وجہ سے جماعت رہ جائے تو گھر میں نماز پڑھنے میں حرج نہیں۔
    لنک
     
    آخری تدوین: ‏فروری 25, 2019

اس صفحے کی تشہیر