الف عین
ظہیر احممد ظہیر
محمد خلیل الرحمٰن
[@محمّد احسن سمیع:راحل
مرے سر پہ زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو
---------یا
محبّت کو اپنی مرے نام کر دو
---------
زمانے سے کہہ دو ہمیں ہے محبّت
رہے شک نہ کوئی اسے عام کر دو
-----------
میں دیکھوں جدھر بھی نظر تم ہی آؤ
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو
--------
تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں
یہ اب دور مجھ سے تو الزام کر دو
----------
حفاظت تمہاری فریضہ ہے میرا
ہے کوئی اگر ،دور ابہام کر دو
-------
محبّت بسی ہے تمہاری ہی دل میں
مجھے تم جو چاہو تہہِ دام کر دو
---------
مخالف ہمارے جو رستے میں آئیں
جو چاہو بُرا ان کا انجام کر دو
-------
اگر ہے یہ دنیا ستانے پہ مائل
تمہیں حق ہے ان کو بے آرام کر دو
----------
محبّت بنا زندگی ہے ادھوری
مرا عام دنیا میں پیغام کر دو
-------
سبق تم کو دیتا رہے گا یہ ارشد
جو سازش کرے اس کو ناکام کر دو
------------
 

الف عین

لائبریرین
مرے سر پہ زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو
---------یا
محبّت کو اپنی مرے نام کر دو
--------- کیا 'فارغ البال' ہو گئے؟
سر پر تو آپ کی ہی زلفیں ہونی چاہیے نا! بھابھی کی تو شانے پر ہوں گی!
خیر، مزاح برطرف، 'سر' کی بجائے 'مجھ' ہی کہیں
دوسرا مصرع دوسرا متبادل بہتر ہے

زمانے سے کہہ دو ہمیں ہے محبّت
رہے شک نہ کوئی اسے عام کر دو
----------- ٹھیک

میں دیکھوں جدھر بھی نظر تم ہی آؤ
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو
-------- پہلا مصرع بے ربط ہے، رنگ کی مناسبت والا کچھ مصرع ہو تو بات بنے

تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں
یہ اب دور مجھ سے تو الزام کر دو
---------- دوسرے مصرعے میں 'تو' بھرتی کا ہی ہے، پھر کہیں مصرع

حفاظت تمہاری فریضہ ہے میرا
ہے کوئی اگر ،دور ابہام کر دو
------- یہ بھی ربط مضبوط نہیں

محبّت بسی ہے تمہاری ہی دل میں
مجھے تم جو چاہو تہہِ دام کر دو
--------- ٹھیک

مخالف ہمارے جو رستے میں آئیں
جو چاہو بُرا ان کا انجام کر دو
------- محبوب اکیلے ہی، آپ کچھ نہیں کہیں گے مخالفین کو ؟

اگر ہے یہ دنیا ستانے پہ مائل
تمہیں حق ہے ان کو بے آرام کر دو
---------- بے فارسی لفظ ہے، اس کی ے نہیں گرائی جا سکتی

محبّت بنا زندگی ہے ادھوری
مرا عام دنیا میں پیغام کر دو
------- درست

سبق تم کو دیتا رہے گا یہ ارشد
جو سازش کرے اس کو ناکام کر دو
------------ مقطع بھی عجیب ہی ہے، دوسرا کہو
 

صابرہ امین

لائبریرین
مرے سر پہ زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو
---------یا
محبّت کو اپنی مرے نام کر دو
--------- کیا 'فارغ البال' ہو گئے؟
سر پر تو آپ کی ہی زلفیں ہونی چاہیے نا! بھابھی کی تو شانے پر ہوں گی!
خیر، مزاح برطرف، 'سر' کی بجائے 'مجھ' ہی کہیں
دوسرا مصرع دوسرا متبادل بہتر ہے
السلام علیکم استادِ محترم الف عین ، ارشد چوہدری بھائی
اصلاح دیکھ کر کچھ اشعار ذہن میں آ گئے۔ شائد کسی کام کے ہوں ۔

یہاں آ ؤ زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو


میں دیکھوں جدھر بھی نظر تم ہی آؤ
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو
-------- پہلا مصرع بے ربط ہے، رنگ کی مناسبت والا کچھ مصرع ہو تو بات بنے

مجھے رنگ ڈالو تم الفت سے اپنی
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو

تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں
یہ اب دور مجھ سے تو الزام کر دو
---------- دوسرے مصرعے میں 'تو' بھرتی کا ہی ہے، پھر کہیں مصرع

تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں!!
تم اب دور مجھ سے یہ الزام کر دو


حفاظت تمہاری فریضہ ہے میرا
ہے کوئی اگر ،دور ابہام کر دو
------- یہ بھی ربط مضبوط نہیں
نہیں ہے نظر میں تمہارے سوا اب
یا
تمہارے سوا اب نہیں کوئی دل میں
اگر دل میں ہے، دور ابہام کر دو

مخالف ہمارے جو رستے میں آئیں
جو چاہو بُرا ان کا انجام کر دو
------- محبوب اکیلے ہی، آپ کچھ نہیں کہیں گے مخالفین کو ؟

اگر ہم کو چھینے کبھی کوئی تم سے
جو چاہو بُرا اس کا انجام کر دو

اگر ہے یہ دنیا ستانے پہ مائل
تمہیں حق ہے ان کو بے آرام کر دو
---------- بے فارسی لفظ ہے، اس کی ے نہیں گرائی جا سکتی

اگر ہو یہ دنیا ستانے پہ مائل
تمہیں حق ہے تم بھی یہی کام کر دو
 
آخری تدوین:

Khursheed

محفلین
السلام علیکم استادِ محترم الف عین ، ارشد چوہدری بھائی
اصلاح دیکھ کر کچھ اشعار ذہن میں آ گئے۔ شائد کسی کام کے ہوں ۔

یہاں آ ؤ زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو
۔۔۔۔۔۔

اگر ہو یہ دنیا ستانے پہ مائل
تمہیں حق ہے تم بھی یہی کام کر دو
مبارک ہو
نہ صرف شاعری بلکہ استادی
سکول والی استادی نہیں بلکہ
شاعروں والی استادی میں بھی ماشاللہ مابدولت قدم رکھ چکی ہیں
 

صابرہ امین

لائبریرین
مبارک ہو
نہ صرف شاعری بلکہ استادی
سکول والی استادی نہیں بلکہ
شاعروں والی استادی میں بھی ماشاللہ مابدولت قدم رکھ چکی ہیں
ارے توبہ توبہ ۔ کہاں ہم اور کہاں یہ منصب :tremble::tremble::tremble:
بس کچھ اشعار ذہن میں آگئے ۔ اساتذہ کی اصلاح نے کچھ باریکیاں سمجھائیں تو سوچا آزما کر دیکھ لیں۔
 

Khursheed

محفلین
ارے توبہ توبہ ۔ کہاں ہم اور کہاں یہ منصب :tremble::tremble::tremble:
بس کچھ اشعار ذہن میں آگئے ۔ اساتذہ کی اصلاح نے کچھ باریکیاں سمجھائیں تو سوچا آزما کر دیکھ لیں۔

لگتا ہے آپ فی البدیہ شاعری کر لیتی ہیں جو قدرتی صلاحیت ہے اور بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے
 

صابرہ امین

لائبریرین
لگتا ہے آپ فی البدیہ شاعری کر لیتی ہیں جو قدرتی صلاحیت ہے اور بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے
ہماری پرانی لڑیاں مت دیکھیے گا خوامخواہ آپ کو صدمہ ہو گا ۔ یہ سب اللہ تعالی کا بے حد کرم اور اساتذہ کرام خاص طور پر میرے پیارے استادِ محترم@الف عین اور محترم ظہیر احمد ظہیر صاحب کی شفقت اور نظرِ کرم ہے- اللہ ان سب کو جزائے خیر دے ۔ آمین
 
صابرہ بہن آپ کے متبادل اشعار بہت پسند آئے۔انہوں نے سوچنے کی نئی راہ دکھائی ہے۔آئندہ بھی مشوروں سے نوازتی رہیں مجھے خوشی ہو گی ۔شکریہ
 

صابرہ امین

لائبریرین
صابرہ بہن آپ کے متبادل اشعار بہت پسند آئے۔انہوں نے سوچنے کی نئی راہ دکھائی ہے۔آئندہ بھی مشوروں سے نوازتی رہیں مجھے خوشی ہو گی ۔شکریہ
مجھے بے حد خوشی ہے کہ آپ جیسے قابل شخص نے ہم ناچیز کی رائے کو اہمیت دی۔ کسی اور کے تو کیا ہیں اپنے اشعار میں کوئی خامی نظر نہیں آتی جب تک کے اساتذہ ان کی طرف اشارہ نہ کریں۔ استادِ محترم کی اصلاح کے نکات نے ہی مدد دی۔
جی بالکل، اگر ذہن نے کچھ کام کیا تو ضرور آپ کے سامنے اپنی رائے پیش کی جائے گی۔ گرین سگنل جو مل گیا ہے۔ :D
 
الف عین
نوٹ--- طبیعت کچھ ناساز تھی اس لئے اتنے دن حاضر نہ ہو سکا۔ کچھ خاص بات تو نہیں تھی، بس پرانی بیماری (جوڑوں کا درد) بعض اوقات شوخیاں کرنے لگتی ہے۔صحیح اشعار کو چھوڑ کر باقی کی تصحیح کی کوشش کی ہےاور ساتھ میں صابرہ بہن کے اشعار بھی لکھ دئے ہیں ۔جن کو آپ درست قرار دیں گے شاملِ غزل کر لوں گا۔
-----------------
کبھی مجھ پہ زلفوں کی تم شام کر دو
محبّت کو اپنی مرے نام کر دو
-------یا
یوں زلفیں بکھیرو کہ تم شام کر دو
مرے نام ہونٹوں کے یہ جام کر دو
--------
یہاں آو زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو (صابرہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-------------------------
مرے گھر کو رنگو یوں چاہت سے اپنی
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو
----------یا
محبّت کے رنگوں کو ایسے بکھیرو
مرے گھر کے رنگیں در و بام کر دو
------------
مجھے رنگ ڈالو تم الفت سے اپنی
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو (صابرہ)
-----------------------
محبّت تمہاری نہیں میرے دل میں
خدارا یہ اب دور الزام کر دو
------------
تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں
تم اب دور مجھ سے یہ الزام کر دو (صابرہ ) بحر میں نہیں
------------------------ح
حصارِ محبّت مہیا کروں گا
-------یا
حصارِ محبّت سدا تم کو دوں گا
ہے کوئی اگر دور ابہام کر دو
------------
تمہارے سوا اب نہیں کوئی دل میں
اگر دل میں ہے ، دور ابہام کر دو (صابرہ )
-----------
ستانے پہ مائل اگر ہو یہ دنیا
تو حکمت سے کوشش کو ناکام کر دو
-----------
اگر بے وفائی کرے تم سے ارشد
زمانے میں اس کو بھی بدنام کر دو
 
آخری تدوین:
الف عین
نوٹ--- طبیعت کچھ ناساز تھی اس لئے اتنے دن حاضر نہ ہو سکا۔ کچھ خاص بات تو نہیں تھی، بس پرانی بیماری (جوڑوں کا درد) بعض اوقات شوخیاں کرنے لگتی ہے۔صحیح اشعا کو چھوڑ کر باقی کی تصحیح کی کوشش کی ہےاور ساتھ میں صابرہ بہن کے اشعار بھی لکھ دئے ہیں ۔جن کو آپ درست قرار دیں گے شاملِ غزل کر لوں گا۔
-----------------
کبھی مجھ پہ زلفوں کی تم شام کر دو
محبّت کو اپنی مرے نام کر دو
-------یا
یوں زلفیں بکھیرو کہ تم شام کر دو
مرے نام ہونٹوں کے یہ جام کر دو
--------
یہاں آو زلفوں کی تم شام کر دو
یوں اپنی محبّت مرے نام کر دو (صابرہ )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-------------------------
مرے گھر کو رنگو یوں چاہت سے اپنی
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو
----------یا
محبّت کے رنگوں کو ایسے بکھیرو
مرے گھر کے رنگیں در و بام کر دو
------------
مجھے رنگ ڈالو تم الفت سے اپنی
محبّت سے رنگیں در و بام کر دو (صابرہ)
-----------------------
محبّت تمہاری نہیں میرے دل میں
خدارا یہ اب دور الزام کر دو
------------
تمہاری محبّت نہیں میرے دل میں
تم اب دور مجھ سے یہ الزام کر دو (صابرہ ) بحر میں نہیں
------------------------ح
حصارِ محبّت مہیا کروں گا
-------یا
حصارِ محبّت سدا تم کو دوں گا
ہے کوئی اگر دور ابہام کر دو
------------
تمہارے سوا اب نہیں کوئی دل میں
اگر دل میں ہے ، دور ابہام کر دو (صابرہ )
-----------
ستانے پہ مائل اگر ہو یہ دنیا
تو حکمت سے کوشش کو ناکام کر دو
-----------
اگر بے وفائی کرے تم سے ارشد
زمانے میں اس کو بھی بدنام کر دو
 

الف عین

لائبریرین
مجھ کو صابرہ امین کے اشعار ہی بہتر لگ رہے ہیں۔
تم اب دور... بالکل بحر میں ہے، تُمَب تقطیع ہو گا، الف کا م سے وصال کے ساتھ۔
آخری دو شعر
پہلا واضح نہیں، کس کی کوشش؟
مقطع قابلِ قبول ہے
 
Top