مرے دل کی راحت ہے نامِ مدینہ----برائے اصلاح

الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
@ محمّد احسن سمیع راحل؛
شاہد شاہنواز
@سیّد عاطف علی
-----------
فعولن فعولن فعولن فعولن
----------
مرے دل کی راحت ہے نامِ مدینہ
خدایا میسّر ہو شامِ مدینہ
------------
جہاں جا کے پائی تھی تسکین دل نے
نہیں بھولتا وہ قیامِ مدینہ
-----------
دلوں کے لئے ہے یہ راحت کا باعث
اگر دل میں ہے احترامِ مدینہ
-----------
مدینے سے دوری مجھے کھا رہی ہے
کیا میں نے اب ہے مرامِ مدینہ
------------
مدینے کی گلیوں کی رونق نہ بھولی
مجھے یاد ہے وہ خرامِ مدینہ
-------------
زمیں پر ہے جیسے ہو روشن ستارا
میں کیسے بھلا دوں مقامِ مدینہ
--------
کرو تم نہ نفرت جہاں میں کسی سے
سکھاتا ہے سب کو پیامِ مدینہ
-------------
تمنّا ہے ارشد کی مرنے سے پہلے
ہو قسمت میں اس کی قیامِ مدینہ
----------یا
عطا کر دے اس کو قیامِ مدینہ
----یا
ہو قسمت پھر اب قیامِ مدینہ
 
آخری تدوین:
مکرمی ارشد صاحب، آداب!
ایک مشورہ ہے، امید ہے آپ غور کریں گے اور برا نہیں مانیں گے۔ اس نعت پر ایک بار خود تنقیدی نظر ڈالیں۔ کل ۱۰ اشعار ہیں۔ ان کو کم کرکے ۷ تک محدود کردیں۔ دیکھیں جو اشعار آپ کو خود نعت کے عمومی معیار سے کم یا قافیہ پیمائی محسوس ہوتے ہوں، انہیں نکال دیں۔ جب آپ اس طرح تنقیدی نظر سے اپنے اشعار کو دیکھیں گے تو جو اشعار آپ برقرار رکھنا چاہ رہے ہوں گے، ان کی بھی بہتر صورتیں ذہن میں از خود آئیں گی۔

دعاگو،
راحلؔ۔
 
مکرمی ارشد صاحب، آداب!
ایک مشورہ ہے، امید ہے آپ غور کریں گے اور برا نہیں مانیں گے۔ اس نعت پر ایک بار خود تنقیدی نظر ڈالیں۔ کل ۱۰ اشعار ہیں۔ ان کو کم کرکے ۷ تک محدود کردیں۔ دیکھیں جو اشعار آپ کو خود نعت کے عمومی معیار سے کم یا قافیہ پیمائی محسوس ہوتے ہوں، انہیں نکال دیں۔ جب آپ اس طرح تنقیدی نظر سے اپنے اشعار کو دیکھیں گے تو جو اشعار آپ برقرار رکھنا چاہ رہے ہوں گے، ان کی بھی بہتر صورتیں ذہن میں از خود آئیں گی۔

دعاگو،
راحلؔ۔
راحل بھائی اس میں برا منانے والی کیا بات ہے ،میں نے اسی لئے زیادہ لکھے ہیں تاکہ کچھ نکالے جا سکیں۔آپ جس شعر کو ہلکا سمجھیں بلا جھجک نکال دیجئے۔ جو بہتر ہیں ان میں کمزوریوں کی نشاندہی کر دیں تاکہ بہتری لا سکوں،بلکہ آپ سے درخواست کرنی تھی کہ میری کوئی بات بری لگے تو بلا تردد بتا دیجئےتاکہ معذرت کر سکوں
 

الف عین

لائبریرین
پہلی بات تو یہ کہوں کہ ارشد بھائی اصل مراسلے میں ترمیم نہ کیا کریں، اب میں در و بام والا مصرع ڈھونڈتا ہی رہ گیا!
دوسرے، میں ہمیشہ یہی کہتا ہوں کہ خود تنقید و اصلاح کریں اپنی۔ اس کی طعی ضرورت نہیں کہ دوسرے نشاندہی کریں یہ فلاں شعر نکال دو، تب ہی نکالا جائے ۔ ایسی نظر پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ایسے اشعار پوسٹ ہی نہ کریں جن میں محض قافیہ پیمائی بلکہ تک بندی ہو!
 

الف عین

لائبریرین
مرے دل کی راحت ہے نامِ مدینہ
خدایا میسّر ہو شامِ مدینہ
------------ درست

جہاں جا کے پائی تھی تسکین دل نے
نہیں بھولتا وہ قیامِ مدینہ
----------- درست

دلوں کے لئے ہے یہ راحت کا باعث
اگر دل میں ہے احترامِ مدینہ
----------- درست

مدینے سے دوری مجھے کھا رہی ہے
کیا میں نے اب ہے مرامِ مدینہ
------------
مدینے کی گلیوں کی رونق نہ بھولی
مجھے یاد ہے وہ خرامِ مدینہ
------------- یہ دونوں اشعار قافیہ پیمائی لگتے ہیں

زمیں پر ہے جیسے ہو روشن ستارا
میں کیسے بھلا دوں مقامِ مدینہ
-------- ہے اور ہو دونوں ایک ساتھ اچھے نہیں لگتے۔ 'ہو جیسے کہ روشن ستارہ' کافی ہے۔ اگرچہ دوسرے مصرعے میں یہ توجیہ نہیں کی گئی ہے کہ ستارہ ہی کیوں لگتا ہے، کچھ اور کیوں نہیں؟

کرو تم نہ نفرت جہاں میں کسی سے
سکھاتا ہے سب کو پیامِ مدینہ
------------- ٹھیک

تمنّا ہے ارشد کی مرنے سے پہلے
ہو قسمت میں اس کی قیامِ مدینہ
----------یا
عطا کر دے اس کو قیامِ مدینہ
----یا
ہو قسمت پھر اب قیامِ مدینہ
... پہلا متبادل ہی قبول کیا جا سکتا ہے تو باقی کی ضرورت؟ جب کہ باقی مصرعوں میں محض کچھ الفاظ کی الٹ پھیر ہے۔ شاید اس لیے کہ در و بام کو بدلنا تھا اور جلدی میں اسی مراسلے کی تدوین کرتے وقت ہر ممکنہ صورت بغیر سوچے سمجھے لکھ دینی پڑی! خود غور کرنا سیکھیں۔ یہاں اسی فورم میں دوسروں کی شاعری بھی پڑھا کریں اور ان سے سبق سیکھیں۔ اکثر اصلاح کے متمنیوں کی زبان و بیان میں غلطی ہوتی ہے لیکن خیالات میں کچھ نہ کچھ ندرت ضرور دیکھی جائے گی، عمران سرگانی، آنس معین وغیرہ کی غزلوں میں ہی دیکھ لیں جو آج کل تیزی سے پوسٹ کی جا رہی ہیں
 
اساتذۂ کرام جناب الف عین جناب ظہیراحمدظہیر جناب سید عاطف علی اور دیگر کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنا چاہوں گا۔
ارشدؔ بھائی کی نعت پڑھ کر حضرت والا جناب حکیم محمد اخترؔ صاحبؒ کی ایک نعت یاد آگئی، جس میں انہوں نے اضافت سے قافیہ کا کام لیا تھا۔ اشعار کچھ یوں تھے۔

مبارک تجھے ہو اے ارضِ مدینہ
نبیﷺ کا شہر ہے، یہ شہرِ مدینہ

نگاہوں میں سلطانیت ہیچ ہوگی
جو پائے گا دل میں پیامِ مدینہ

سکونِ جہاں تم کہاں ڈھونڈتے ہو
سکونِ جہاں ہے نظامِ مدینہ

کیا اضافت سے قافیہ کا کام لیا جاسکتا ہے؟ ایسی ہی ایک کاوش میرے مرحوم عمِ محترم نے بھی کی تھی، بلکہ وہ تو اضافت سے قافیے کے جواز کے قائل تھے۔

دعاگو،
راحلؔ۔
 

الف عین

لائبریرین
ایک دو قوافی ایسے ہوں جن میں اضافت سے قافیہ بنایا گیا ہو تو انہیں صوتی قوافی کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں محفل میں ہی ایسا کلام پیش کیا گیا تھا۔ لیکن مکمل غزل میں ایسے قوافی ہوں، انہیں قبول کرنے میں مجھے تو تامل ہی ہو گا۔
 
اساتذۂ کرام جناب الف عین جناب ظہیراحمدظہیر جناب سید عاطف علی اور دیگر کی خدمت میں ایک سوال پیش کرنا چاہوں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔
کیا اضافت سے قافیہ کا کام لیا جاسکتا ہے؟ ایسی ہی ایک کاوش میرے مرحوم عمِ محترم نے بھی کی تھی، بلکہ وہ تو اضافت سے قافیے کے جواز کے قائل تھے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
اضافت سے پیدا ہونے والے اِشباع کو قافیہ بنانا تو درست نہیں ہے ۔ ایسا کرنے سے حرفِ روی قائم نہیں ہوسکے گا کہ جو قافیہ کی بنیادی شرط ہے۔
 
اضافت سے پیدا ہونے والے اِشباع کو قافیہ بنانا تو درست نہیں ہے ۔ ایسا کرنے سے حرفِ روی قائم نہیں ہوسکے گا کہ جو قافیہ کی بنیادی شرط ہے۔
میں نے بھی حکیم اختر صاحب کی نعت سے متاثر ہو کر یہ اشعار لکھے تھے ۔ ایک نقطہ سمجھنے کو ملا ، آئندہ خیال رکھوں گا
 
میں نے بھی حکیم اختر صاحب کی نعت سے متاثر ہو کر یہ اشعار لکھے تھے ۔ ایک نقطہ سمجھنے کو ملا ، آئندہ خیال رکھوں گا
جناب آپ کی نعت کے قوافی تو بالکل درست ہیں۔ مقام ، قیام ، احترام وغیرہ درست قوافی ہیں۔ میرا مراسلہ تو راحل کے سوال کا جواب ہے۔ اور اس نعت سے متعلق ہے جو انہوں نے اپنے مراسلے میں لکھی۔ ذرا غور فرمائیے گا ۔
 
جناب آپ کی نعت کے قوافی تو بالکل درست ہیں۔ مقام ، قیام ، احترام وغیرہ درست قوافی ہیں۔ میرا مراسلہ تو راحل کے سوال کا جواب ہے۔ اور اس نعت سے متعلق ہے جو انہوں نے اپنے مراسلے میں لکھی۔ ذرا غور فرمائیے گا ۔
شکریہ
 
Top