"مرے خدا !مجھے اک اور زندگی دے دے" کی طرح پر میری اک آزاد نظم

"مرے خدا! مجھے اک اور زندگی دے دے"
بہت سے کام ادھورے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ کتنے خواب جو تعبیر تک نہیں پہنچے
وہ کتنے لفظ جو بس زیرِ لب رہے اب تک
وہ کتنے علم کہ جن پر عمل کیا ہی نہیں
وہ داستان کہ جس کو تمام کر نہ سکا
کئی گلے ہیں جنہیں دور کرنا لازم ہے
وہ خامیاں ہیں کہ جن کو درست کرنا ہے

یہ سارے کام تو چاہے ہوئے، ہوئے نہ ہوئے
پر ایک کام کی خاطر مجھے پلٹنا ہے
میں ایک روٹھے ہوئے کو منا نہیں پایا

اسے منا لوں تو سمجھوں گا کامیاب ہوں میں
اسے منا لوں تو پھر قابلِ حساب ہوں میں

ہاں اسکے ساتھ مجھے ایک گھر بسانا تھا
مرے خدا! میں وہ اک گھر بسا نہیں پایا
جو دل کا حال ہے اسکو بتا نہیں پایا
میں ایک روٹھے ہوئے کو منا نہیں پایا

"مرے خدا! مجھے اک اور زندگی دے دے"
 
Top