مری تو ایسے قبیلے میں سانس رکتی ہے

ثامر شعور

محفلین
تری وفا تری چاہت اگر نہ حاصل ہو
یہی بہت ہے مری آرزو میں شامل ہو

میں جس عذاب سے گزروں مگر دعا ہے مری
مجھے بھلانا ترے واسطے نہ مشکل ہو

تو اس کا بوجھ مرے ہاتھ میں تھما دینا
جو ایک عہد ترے فیصلے میں حائل ہو

جو تیری آ نکھ میں اترے نئی رتوں کی طرح
وہ پہلا خواب مری خواہشوں کا حاصل ہو

مری تو ایسے قبیلے میں سانس رکتی ہے
ہر ایک حق کا محافظ جہاں پہ باطل ہو

ترے خیال کی حاجت ہے مری سانسوں کو
مرے وجود میں کچھ اس طرح سے شامل ہو

غرور اترے وہاں اس کی انتہاؤں کا
خرد جو عشق کے ثامرؔ کبھی مقابل ہو​
 

صائمہ شاہ

محفلین
خوب
مری تو ایسے قبیلے میں سانس رکتی ہے
ہر ایک حق کا محافظ جہاں پہ باطل ہو

میاں صاحب کی کابینہ کی عکاسی کرتا ہوا مصرعہ " ہر ایک حق کا محافظ جہاں پہ باطل ہو "
 

ابن رضا

لائبریرین
بہت شکریہ ۔

رضا بھائی کیسے؟ تفصیل؟

"مشکل "قافیہ میں کوئی "اِشکال" والی بات تو محسوس نہیں ہوئی۔:)۔

ثامر بھائی قطعی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتا البتہ میرے خیال میں عمومی طور پر تو ایسی کوئی قید نہیں کہ دخیل(وہ متحرک حرف جو الف ساکن اور روی کے درمیان آتا ہے) کی تکرار لازم ہو یعنی کامل کے ساتھ منزل اور مشکل قافیہ کیا جا سکتا ہے
تاہم اگر مطلع میں باندھے گئے قوافی میں روی سے پہلے دخیل اور تاسیس (دخیل سے قبل الف ساکن ) موجود ہوتو پھر تمام ابیات میں اسکا اطلاق لازم قرار دیا جاتا ہے
جیسا کہ آپ کے قوافی حاصل شامل وغیرہ میں لام روی ہے تو صاد مکسور اور میم مکسور دخیل ہیں اور اس سے قبل الف ساکن تاسیس ہے۔دونوں مصرعوں میں دخیل موجود ہے۔گویا باقی تمام ابیات میں دخیل کی تکرارمطلع نے لازم کردی۔

تردید یا تصدیق کے لیے شیخ صاحب
 
آخری تدوین:

ابن رضا

لائبریرین
عمدہ غزل۔
مجھے کہیں اشکال محسوس نہیں ہوا
استادِ محترم مذکور اشکال کچھ کتب میں علمِ قافیہ کے قواعد پڑھتے ہوئے ہوا تھا جن میں سرِ دست ایک حوالہ بھی ذیل میں دے رہا ہوں برائے مہربانی وضاحت فرما دیں تاکہ آئندہ کے لیے سند رہے ۔اور بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکے۔
d2d_zps9a24564e.jpg
 

ثامر شعور

محفلین
استادِ محترم مذکور اشکال کچھ کتب میں علمِ قافیہ کے قواعد پڑھتے ہوئے ہوا تھا جن میں سرِ دست ایک حوالہ بھی ذیل میں دے رہا ہوں برائے مہربانی وضاحت فرما دیں تاکہ آئندہ کے لیے سند رہے ۔اور بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکے۔

بہت شکریہ ابن رضا بھائی۔ میں مطلع کی دوبارہ کوشش کرتا ہوں

مگر افتخار عارف صاحب کی اس غزل میں تو دل کا قافیہ استعمال ہوا ہے

للہ الحمد کہ پھر شکر کے قابل ہوا میں
خود کو دیکھا جو نظر بھر کے تو کامل ہوا میں

جسم ہی جسم تھا لذت میں نہایا ہوا جسم
ہجر کی آگ سے گزرا ہمہ تن دل ہوا میں
 
آخری تدوین:

ثامر شعور

محفلین
سبحان اللہ ۔۔۔۔!

بہت اچھی غزل ہے ثامر بھائی ۔

خوش رہیے۔

بہت شکریہ احمد بھائی

مری تو ایسے قبیلے میں سانس رکتی ہے
ہر ایک حق کا محافظ جہاں پہ باطل ہو


واہہہہہہہہ
بہت عمدہ
بہت شکریہ بلال بھائی
 

ثامر شعور

محفلین
واہ ثامر بھئی۔ خوب نازک لہجہ ہے۔ ۔۔۔۔۔ سانس اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے یا مؤنث۔
اور یہاں ایک ٹائپو بھی ہے شاید۔مری کی جگہ میری ہوگا۔
میں نے تو مونث ہی استعمال کیا ہے مگر میرے خیال میں مذکر بھی استعمال ہو سکتا ہے:)
متفق : میری ہی ہونا چاہے تھا
 
Top