اسکین دستیاب مراۃ العروس

محب علوی نے 'اردو نثر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 5, 2021

  1. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    12,470
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    مراۃ العروس گفتگو دھاگہ

    مراۃ العروس ڈپٹی نذیر احمد کا مشہور ناول ہے جس میں شامل دو بہنیں اکبری اور اصغری اردو ادب میں شہرہ آفاق حیثیت رکھتی ہیں اور ان پر متعدد ٹی وی ڈرامے بھی بن چکے ہیں۔ ویکی پیڈیا سے اقتباس

    ریختہ ربط
    مراۃ العروس ریختہ لنک
     
  2. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 6

    باب پہلا

    تمہید کے طور پر عورتوں کے لکھنے پڑھنے کی ضرورت اور ان کی حالت کے مناسب کچھ نصیحتیں

    جو آدمی دنیا کے حالات میں کبھی غور نہیں کرتا اس سے زیادہ کوئی احمق نہیں۔ غور کرنے کے واسطے دنیا میں ہزاروں طرح کی باتیں ہیں لیکن سب سے عمدہ اور ضروری آدمی کا اپنا حال ہے کہ جس روز سے آدمی پیدا ہوتا ہے، زندگی میں اس کو کیا کیا باتیں پیش آئیں اور کیونکہ اس کی حالت بدلا کرتی ہے۔

    انسان کی زندگی میں سب سے اچھا وقت لڑکپن کا ہے۔ اس عمر میں آدمی کو کسی قسم کا فکر نہیں ہوتا۔ ماں باپ نہایت شفقت اور محبت سے اس کو پالتے اور جہاں تک بس چلتا، اس کو آرام دیتے ہیں۔ اولاد کو اچھا کھانے، اچھا پہننے سے ماں باپ کو خوشی ہوتی ہے۔ بلکہ ماں باپ اولاد کے آرام کے واسطے اپنے اوپر تکلیف اور رنج تک گوارا کر لیتے ہیں۔ مرد جو باپ ہوتے ہیں، کوئی محنت مزدوری سے کماتے ہیں، کوئی پیشہ کر کے، کوئی سوداگری، کوئی نوکری غرض جس طرح بن پڑتا ہے اولاد کی آسائش کے واسطے روپے کے پیدا کرنے میں کوتاہی نہیں کرتے۔ عورتیں جو ماں ہوتی ہیں، اگر باپ کی کمائی گھر کے خرچ کو کافی نہیں ہوتی، بعض اوقات خود بھی محنت کیا کرتی ہیں۔ کوئی ماں سلائی کا کام سیتی ہے، کوئی گوٹا بنتی ہے، کوئی ٹوپیاں کاڑھتی، یہاں تک کہ کوئی مصیبت کی ماری ماں چرخہ کات کر، چکی پیس کر، ماما گیری کر کے بچوں کو پالتی ہے، اولاد کی محبت جو ماں کو ہوتی ہے ہرگز بناوٹ اور ظاہر داری کی نہیں ہوتی بلکہ سچی اور دلی محبت ہے اور خدائے تعالیٰ نے جو بڑا دانا ہے یہ مامتا

    Page 7

    اس لئے ماں باپ کے پیچھے لگا دی ہے کہ اولاد پرورش پائے۔ ابتدائے عمر میں بچے نہایت ہے بس ہوتے ہیں، نہ بولتے نہ سمجھتے، نہ چلتے، نہ پھرتے۔ اگر ماں باپ محبت سے اولاد کو نہ پالتے تو بچے بھوکوں مر جاتے۔ کہاں سے ان کو روٹی ملتی، کس طرح کپڑا بہم پہنچاتے اور کیوں کر بڑے ہوتے؟ آدمی پر کیا موقوف ہے، جانوروں میں بھی اولاد کی مامتا بہت سخت ہے۔ مرغی بچوں کو دن بھر پروں میں چھپائے بیٹھی رہتی ہے اور اناج کا ایک دانہ بھی اس کو ملتا ہے تو آپ نہیں کھاتی بچوں کو بلا کر چونچ سے ان کے آگے سرکا دیتی ہے اور اگر چیل یا بلی اس کے بچوں پر حملہ کرنا چاہے تو مطلق اپنی جان کا خیال نہ کر کے لڑنے اور مرنے کو موجود ہو جاتی ہے۔ غرض ہو نہ ہو یہ خاص محبت ماں باپ کو صرف اس لئے خدا نے دی ہے کہ ننھے ننھے بچوں کو جو ضرورت ہو، اٹکی نہ رہے۔ بھوک کے وقت کھانا اور پیاس کے وقت پانی۔ سردی سے بچنے کو گرم کپڑا اور ہر طرح کی آرام کی چیز وقت مناسب پر مل جائے۔ دیکھنے سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ پھڑک اس وقت تک رہتی ہے جب تک بچوں کو اس کی ضرورت اور احتیاج ہوتی ہے۔ جب مرغی کے بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ ان کو پردوں میں چھپانا چھوڑ دیتی ہے اور جب بچے چل پھر کر اپنا پیٹ بھرنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو مرغی کچھ بھی ان کی مدد نہیں کرتی بلکہ جب بہت بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کو اس طرح مارنے دوڑتی ہے گویا وہ ان کی ماں نہیں۔ آدمی کے ماں باپ کا بھی یہی حال ہے۔ جب تک بچہ ہوتا ہے، ماں دودھ پلاتی ہے اور اس کو گود میں لادے لادے پھرتی ہے۔ اپنی نیند خراب کر کے بچے کو تھپک تھپک کر سلاتی ہے۔ جب بچہ اتنا سیانا ہوا کہ کھچڑی کھانے لگا، ماں دودھ بالکل چھڑا دیتی ہے اور وہی دودھ جس کو برسوں پیار سے پلاتی رہی، سختی اور بے رحمی سے نہیں پینے دیتی۔ کڑوی چیزیں لگا لیتی ہے اور بچہ ضد کرتا ہے تو مارتی اور گھرکتی ہے۔ چند روز کے بعد بچوں کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ گود میں لینا تک ناگوار ہوتا ہے۔ کیا تم نے اپنے چھوٹے بھائی بہن کو اس بات پر مار کھاتے نہیں دیکھا کہ ماں کی گود سے نہیں اُترتے۔ ماں خفا ہو رہی ہے کہ کیسا ناہموار بچہ ہے ایک دم نہیں چھوڑتا۔ ان باتوں سے یہ سے یہ مت سمجھو کہ ماں کو محبت نہیں رہی۔ نہیں نہیں محبت تو ویسی ہی ہے، مگر ہر حالت کے ساتھ ایک خاص طرح کی محبت ہوتی ہے۔ اولاد کا حال یکساں نہیں رہتا۔ آج دودھ پیتے ہیں، کل کھانے لگے، پھر پاؤں چلنا سیکھا۔ بچہ کتنا بڑا ہوتا گیا اس قدر محبت کا

    Page 8

    رنگ بدلتا گیا۔ اور زیادہ بڑے ہو کر لڑکے اور لڑکیاں پڑھنے اور لکھنے اور کام کرنے کے واسطے ماریں کھاتے ہیں۔ اگرچہ بے وقوفی بچے نہ سمجھیں مگر ماں باپ کے ہاتھوں سے جو تکلیف بھی تم کو پہنچے وہ ضرور تمہارے اپنے فائدے کے واسطے ہے۔ تم کو دنیا میں ماں باپ سے الگ رہ کر بہت دنوں جینا پڑے گا۔ کسی کے ماں باپ تمام عمر زندہ نہیں رہتے۔ خوش نصیب ہیں وہ لڑکے اور لڑکیاں جنہوں نے ماں باپ کے ہوتے ہی ایسا ہنر اور ایسا ادب سیکھا جس سے ان کی تمام زندگی خوشی اور آرام میں گزری، اور نہایت بد قسمت ہے وہ اولاد جنہوں نے ماں باپ کی زندگی کی قدر نہ کی اور جو آرام ماں باپ کی وجہ سے ان کو میسر ہوا اس کو اکارت اور ایسے اچھے فراغت اور بے فکری کے وقت کو سستی اور کھیل کود میں ضائع کیا۔ عمر بھر رنج و مصیبت میں کاٹی۔ آپ عذاب میں رہے اور ماں باپ کو اپنے سبب عذاب میں رکھا۔ مرنے پر کچھ موقوف نہیں، شادی بیاہ ہوئے پیچھے اولاد ماں باپ سے جیتے جی چھوٹ جاتی ہے۔ لڑکوں لڑکیوں کو ضرور سوچنا چاہیے کہ ماں باپ سے الگ ہوئے پیچھے ان کی زندگی کیوں کر گزرے گی۔

    دنیا میں بہت بھاری بوجھ مردوں کے سر پر ہے۔ کھانا کپڑا اور روز مرہ کے خرچ کی سب چیزیں روپے سے حاصل ہوتی ہیں اور سارا کھڑاک روپے کا ہے۔ عورتوں کو بڑی خوشی کی بات ہے کہ اکثر روپیہ پیدا کرنے کی محنت سے محفوظ رہتی ہیں۔ مردوں کو دیکھو روپے کے لئے کیسی کیسی سخت محنتیں کرتے ہیں۔ کوئی بھاری بوجھ سر پر اٹھاتا ہے، کوئی لکڑیاں چیرتا، سُنار، لوہار، ٹھٹھیرا، کسیرا، کندلہ گر، زرکوب، دبیکہ، تار کش، ملمع ساز، جڑیا، سلمہ ستارہ والا، بٹیہ، جلد ساز، مینا ساز، قلعی گر، سادہ گر، صیقل گر، آئینہ ساز، زر دوز، منھیار، نعل بند، نگینہ ساز، کامدانی والا، سان گر، نیا ریا، ڈھلیہ، بڑھئی، خرادی، ناریل والا، کنگھی ساز، بنس پھوڑ، کاغذی، جولاہا، رفو گر، رنگریز، چھیی، دستار بند، درزی، علاقہ بند، نیچہ بند، موچی، مہر کن، سنگ تراش، حکاک، معمار، دبگر، کمہار، حلوائی، تیلی، تنبولی، رنگ ساز، گندھی وغیرہ جتنے پینے والے ہیں۔ کسی کا کام جسمانی اور دماغی تکلیف سے خالی نہیں اور روپے کی خاطر یہ تمام تکلیف مردوں کو سہنی اور اُٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن اس بات سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عورتوں کو کھانے اور سو رہنے کے سوا دنیا کا کوئی کام مطلق نہیں، بلکہ خانہ داری کے تمام کام عورتیں ہی کرتی ہیں۔ مرد اپنی کمائی عورتوں کے آگے لا کر رکھ دیتے ہیں اور

    Page 9

    عورتیں اپنی عقل سے اس کو بندوبست اور سلیقے کے ساتھ اُٹھاتی ہیں، پس اگر غور سے دیکھو تو دنیا کی گاڑی جب تک ایک پہیہ مرد کا اور دوسرا عورت کا نہ ہو چل نہیں سکتی۔ مردوں کو روپیہ کمانے سے اتنا وقت نہیں بچتا کہ اس کو گھر کے کاموں میں صرف کریں۔ اے لڑکو! وہ بات سیکھو کہ مرد ہو کر تمہارے کام آئے اور اے لڑکیو! ایسا ہنر حاصل کرو کہ عورت ہونے پر تم کو اس سے خوشی اور فائدہ ہو۔ بے شک عورت کو خدا نے مرد کی نسبت کسی قدر کمزور پیدا کیا ہے۔ لیکن ہاتھ پاؤں کان، آنکھ، یاداشت، سوچ سمجھ، سب چیزیں مردوں کے برابر عورتوں کو دی گئی ہیں۔ لڑکے ان ہی چیزوں سے کام لے کر ہر فن میں طاق اور ہنر میں مشّاق ہو جاتے ہیں۔ لڑکیاں اپنا وقت گڑیاں کھیلنے اور کہانیاں سننے میں کھوتی ہیں۔ ویسی ہی بے ہنر رہتی ہیں اور جن عورتوں نے وقت کی قدر پہچانی اور اس کو کام کی باتوں میں لگایا، ہنر سیکھا، لیاقت حاصل کی، وہ مردوں سے کسی بات میں ہیٹی نہیں رہیں ۔ ملکہ وکٹوریہ کو دیکھو، عورت ذات ہو کر کس دھوم اور کس شان اور کس ناموری اور کس عمدگی کے ساتھ اسے پورے ملک کا انتظام کر رہی ہیں کہ دنیا میں کسی بادشاہ کو آج تک یہ بات نصیب نہیں۔ جب ایک عورت نے سلطنت جیسے کٹھن کام کو اور سلطنت بھی ماشاء اللہ اس قدر وسیع کہ ایسے نازک وقت بات منہ سے نکلی اور اخبار والوں نے بتنگڑ بنایا، اتنی مدّت دراز تک سنبھالا اور ایسا سنبھالا کہ جو سنبھالنے کا حق ہے تو اب عورتوں کی خدادار قابلیت میں کلام کرنا نری ہٹ دھرمی ہے۔

    بعض نادان عورتیں خیال کرتی ہیں کہ کیا لکھ پڑھ کر ہم کو مردوں کی طرح نوکری کرنی ہے لیکن اگر کسی عورت نے لکھ پڑھ لیا ہے اور اس نے نوکری نہیں کی تو اس کا لکھا پڑھنا اکارت بھی نہیں گیا۔ اس کو اور بہتیرے فائدے پہنچے جن کے مقابلے میں نوکری کی کچھ بھی حقیقت نہیں۔ جو لوگ علم کو صرف نوکری کا وسیلہ سمجھ کر پڑھتے ہیں ان کو علم کی قدر نہیں۔ سچ پوچھو تو علم کے آگے نوکری ایسی ہے جیسے سودے کے ساتھ روکھن۔ کہاں سے قوّتِ بیان لائیں کہ تم کو علم کے فائدے سمجھائیں۔ ظاہر کی دو آنکھیں تو ہمارے تمہارے سب کے منہ پر ہیں۔ کبھی اندھے فقیروں کی دُعا سنو۔ کس حسرت سے کہتے ہیں "بابا آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔" شائد کوئی بھی ایسا سنگدل نہ ہو گا جس کو اندھوں کی معذوری اور بے کسی پر رحم نہ آتا ہو، لیکن دل کے اندھے جن کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، ان سے

    Page 10

    کہیں زیادہ قابلِ رحم ہیں۔ انگریزوں کی ولایت میں تو اندھوں کی تعلیم کا ایسا عمدہ انتظام ہے کہ اندھے ٹٹول ٹٹول کر اچھی طرح اخبار اور کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے اندھے بھی بعض ایسے بلا کے ذہین ہوتے ہیں کہ سوئی پروئیں، سیئیں، اکیلے سارے شہر کے گلی کوچوں میں بے دھڑک دوڑے دوڑے پھریں۔ کھوٹا کھرا روپیہ پرکھیں۔ قرآن شریف کا حفظ کر لیا تو اندھے کے لئے گویا ایک معمولی بات ہے، غدر سے پہلے شہر میں گنتی کے دو چار مادر زاد اندھے مولوی بھی تھے۔ غرض آنکھوں کا اندھا ہونا مصیبت ہے مگر نہ ایسی کہ جیسے دل کا اندھا (یعنی جاہل ہونا) لیکن افسوس کوری دل کے نقصانات سے لوگ واقف نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عالم و فاضل ہونا تو درکنار ہزار پیچھے ایک بھی پڑھا لکھا نظر نہیں آتا۔

    یہ تو مردوں کا ذکر ہے جن کو پڑھ لکھ کر روٹی کمانی ہے۔ عورتوں میں پڑھنے لکھنے کا چرچا اس قدر کم ہے کہ دلی جیسے غدار شہر میں اگر مشکل سے سو سوا سو عورتیں وہ بھی شاید حرف شناس نکلیں بھی تو اس کو چرچا نہیں کہہ سکتے۔ پھر اگر چرچا نہ ہو تو خیر چنداں مضائقے کی بات نہیں۔ مصیبت تو یہ ہے کہ اکثر عورتوں کے لکھانے پڑھانے کو عیب اور گناہ خیال کرتے ہیں۔ ان کو خدشہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو لکھنے پڑھنے سے عورتوں کی چار آنکھیں ہو جائیں۔ لگیں غیر مردوں سے خط و کتابت کرنے اور خدا نخواستہ کل کلاں کو ان کی پاکدامنی اور پردہ داری میں کسی طرح کا فتور واقع ہو۔ یہ صرف شیطانی وسوسے ہیں اور ملک کی خصوصاً عورتوں کی بد قسمتی لوگوں کو بہکا اور بھڑکا رہی ہے۔ اوّل تو ہم ایک ذری کی بات یہی پوچھتے ہیں کہ علم انسان کی اصلاح کرتا ہے یا الٹا اس کو بگاڑتا اور خرابی کے لچھن سکھاتا ہے؟ اگر بگاڑتا ہے تو مردوں کو بھی پڑھنے لکھنے کی مناہی ہونی چاہیے تا کہ بگڑنے نہ پائیں اور مرد بگڑیں گے تو کبھی کبھی ان کا بگار عورتوں میں اثر کرے گا پر کرے گا۔ دوسرے انصاف شرط ہے۔ بے شک بعض پڑھے لکھے مرد بھی آوارہ بد وضع ہوتے ہیں۔ لیکن کیا علم نے ان کو آوارگی اور بد وضعی سکھائی؟ نہیں نہیں آوارگی اور بد وضعی انہوں نے بری صحبت میں سیکھی یا کھجلی اور کوڑھ کی طرح ان کو اڑ کر لگی اور پڑھ لکھ کر ان کی برائی مثلاً چھٹانک بھر ہے تو نہ پڑھنے کی صورت میں یقین جانو ضرور سیر سوا سیر ہوئی۔ بایں ہمہ مثلاً سو پڑھے لکھوں پر نظر ڈالو تو کوئی اکا دُکا شامت زدہ خراب ہو تو ہو ورنہ خدا نے چاہا تو اکثر

    Page 11

    نیک، بھلے مانس ماں باپ کا ادب کرنے والے بھائی بہنوں سے محبت رکھنے والے، بڑے کو بڑے اور چھوٹے کو چھوٹے کی جگہ سمجھنے والے دنگے فساد اور بری صحبت سے دور بھاگنے والے، روزے رکھنے والے، سچ بولنے والے، غریبوں پر ترس کھانے والے، غصّے کے پی جانے والے بزرگوں کی نصیحت پر چلنے والے، لحاظ شرم والے، جیسا کھانا کپڑا میسر آیا شکر گزاری کے ساتھ کھانے والے ملیں گے۔ ہماری بھی ساری عمر ایسے ہی لوگوں میں گزری ہے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ جو شخص علم کو بدنام کرتا ہے۔ آسمان پر تھوکتا اور چاند پر خاک ڈالتا ہے۔ بے شک بعض برے لوگوں نے بری کتابیں بھی دنیا میں پھیلا دی ہیں۔ اردو میں ایسی کتابیں بہت کم ہیں اور جو ہیں سلسلہ درس سے خارج ہیں اور ان کا پڑھنا اور سننا کیا مرد کیا عورت سب ہی کے حق میں زبوں ہے۔ لیکن اس خیال سے کہ آنکھ بری جگہ بھی پڑ سکتی ہے یا زبان سے بعض نالائق کوسنے، جھوٹ بولتے، گالیاں بکتے، بلا ضرورت قسم کھانے یا لوگوں کے پیٹھ پیچھے ان کی بدیاں روتے ہیں جس کو غیبت کہتے ہیں، نہ آنکھیں پھوڑی جاتی ہیں نہ زبان کاٹی جاتی ہے۔ تو صرف علم نے کیا قصور کیا ہے کہ ایک لغو اور بے حاصل احتمال کی بنیاد پر عورتوں کو اس کے بے انتہا دینی اور دنیاوی فائدوں سے محروم رکھا جائے؟ کیا اتنا نہیں ہو سکتا کہ بیہودہ کتابوں کو مستورات کی نظر سے نہ گزرنے دیں؟ علاوہ بریں آدمی کے دل کو خدا نے بنایا ہے آزاد۔ جب انسان کو کسی کام پر مجبور کیا جائے تو وہ چار و ناچار اس کام کو کرتا ہے، مگر نہ اس عمدگی اور خوبی کے ساتھ جیسا کہ خود اپنے دل کے تقاضے سے۔ کہاں تو دوسروں کی زبردستی اور کہاں اپنا شوق۔ مثلاً لڑکے بعض تو وہ ہیں جن کو خود پڑھنے کا مطلق شوق نہیں۔ اس واسطے کے نادان ہیں، بے سمجھ ہیں۔ اتنا نہیں جانتے کہ آج جی لگا کر پڑھ لکھ لیں گے تو بڑے ہوئے پیچھے ہمارے ہی کام آئے گی۔ دنیا میں ہماری عزّت و آبرو ہو گی۔ ان ہی دو حرفوں کی بدولت خدا ہم کو امیر کر دے گا۔ لوگ ماری وقعت اور تعظیم کریں گے۔ دنیا اور دین دونوں میں ہمارا بھلا ہو گا۔ تو ایسے بد شوق لڑکے کبھی خوشی سے مدرسے نہیں جاتے۔ گھر والوں نے زبردستی دھکیل دیا یا مکتب کے لڑکے آئے اور ٹانک کر لے گئے۔ زبردستی گئے، بے دلی سے بیٹھے رہے، چھٹی ملی، نہ کچھ پڑھا نہ لکھا، کورے واپس آئے۔ دوسری قسم کے لڑکے وہ ہیں جن کی قسمت میں خدا نے کچھ بہتری لکھی ہے۔ وہ آپ سے بے کہے، بے بھیجے، بے بلائے وقت سے پہلے مدرسے

    Page 12

    کو دوڑے چلے جاتے ہیں۔ جاتے ہی آموختہ پڑھا، مطالعہ کیا، سبق لیا اور آخر وقت تک اس میں لگے لپٹے رہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ ان دونوں قسم کے لڑکوں میں کسی سے امید کی جا سکتی ہے کہ لکھ پڑھ کر امتحان پاس کرے گا، گھر بیٹھے اس کو نوکری کے لئے بلاوے آئیں گے۔ زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں۔ بے شک جس کو شوق ہے اسی کو فوق ہے۔

    اسی طرح ہماری عورتوں میں حیا، پاکدامنی، پردہ داری، نیکی جو کچھ سمجھو خدا کے فضل و کرم سے بھری ہے۔ مگر برا مانو بھلا، بات ابھی تک ہے مجبوری کی۔ یعنی مذہب اور ملکی رواج اور مردوں کی حکومت نے عورتوں کو زبردستی نیک بنا رکھا ہے لیکن اگر خود عورتوں کے دل سے نیکی کا تقاضا ہو تو سبحان اللہ نور علىٰ نور۔ ایک تو سونا کھرا، اوپر سے ملا سہاگہ۔ کیا کہنا ہے۔ مگر دل سے نیکی کے تانے کے پیدا ہونے کی علم کے سوا اور کوئی تدبیر نہیں۔ بس جو لوگ عورتوں کو علم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں گویا ان کو کسی اور حقیقی اور پاکیزہ اور بے لوث اور کھری اور پائیدار نیک دلی سے روکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو خدا نے جاہل رہنے کے لئے نہیں بنایا۔ جس حالت میں عورتیں اب ہیں اس کے لئے ان کو عقل کی کیا ضرورت ہے؟ بس خدا نے جو عورتوں کو اتنی ساری عقل دی ہے، ضرور کسی بڑے کام کے لئے دی ہے۔ یعنی علم حاصل کرنے کے لئے۔ لیکن اگر عورتیں عقل سے علم حاصل کرنے کا کام نہ لیں تو ان کی مثال ایسی ہو گی جیسے ہندوؤں کے جوگی جو اپنا ہاتھ سکھا کر مصلحت الہٰی کو باطل کرتے ہیں۔ کیوں صاحب، ہاتھ کا خشک اور بے کار کر دینا بہتر یا اس کو نیک کام میں لا کر دنیا کا فائدہ اور دین کا ثواب حاصل کرنا بہتر؟ مسلمانوں کی تشفی کے لئے تو شاید اس سے بڑھ کر اور کوئی بات ہو نہیں سکتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سربرآوردہ تھیں۔ ایک دن دونوں بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں کہ رسول پاک آ نکلے اور حضرت عائشہ کی طرف اشارہ کر کے حضرت حفصہ سے بیان فرمایا کہ ان کو بھی لکھنا سکھاؤ۔ ہر چند پردہ نشینی کی وجہ سے دنیا کے بہت سے کام عورتوں کو معاف ہیں لیکن پھر بھی خیال کرو تو عورتیں نری نکمی نہیں ہیں۔

    خانہ داری بدون عورت کے ایک دن نہیں چل سکتی۔ مرد کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو ممکن نہیں کہ عورت کی مدد کے بدون گھر چلا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کے مرنے کو

    Page 13

    خانہ ویرانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پس اگر دنیا کے کسی کام میں بھی بکار آتی ہے تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ خانہ داری کے اتنے بھاری کام میں جو مردوں کے سنبھالے نہ سنبھلے بکار آمد نہ ہو۔ پر یوں کہو کہ لوگوں کو اپنے معاملات میں غور کرنے اور سوچنے کی عادت نہیں۔ اگلے لوگ بری یا بھلی جو راہ نکال گئے ہیں دائیں بائیں کچھ نہیں دیکھتے۔ بھیڑوں کی طرح اس پر آنکھیں بند کئے چلے جاتے ہیں۔ خانہ داری منہ سے کہنے کو تو ایک لفظ ہے مگر اس کے معنی اور مطالب پر نظر کرد تو پندرہ بیس کے فرق سے خانہ داری اور دنیا داری ایک ہی ہے۔ خانہ داری میں جو کام کرنے پڑتے ہیں ان کی فہرست منضبط نہیں ہو سکتی، شادی، غمی، تقریبات، مہمان داری، لین دین، نسبت نامہ، پیسنا، پکانا، سینا پرونا، خدا جانے کتنے بکھیڑے ہیں۔ جس نے گھر کیا ہو اسی کو کچھ خبر ہو گی۔ لیکن اس خانہ داری میں اولاد کی تربیت تو جیسی چاہیے بے علم کی ہونی ممکن نہیں۔ لڑکیاں تو بیاہ تک اور لڑکے اکثر دس برس کی عمر تک گھروں میں تربیت پاتے ہیں اور ماؤں کی خو بو ان میں اثر کر جاتی ہے۔ پس اے عورتو! اولاد کی اگلی زندگی تمہارے اختیار میں ہے۔ چاہو تو شروع سے ان کے دلوں میں ایسے اونچے ارادے اور پاکیزہ خیال بھر دو کہ بڑے ہو کر نام و نمود پیدا کریں اور تمام عمر آسائش میں بسر کر کے تمہارے شکر گزار رہیں اور چاہو تو ان کے افتاد کو ایسا بگاڑ دو کہ جوں جوں بڑے ہوں خرابی کے لچھن سیکھتے جائیں اور انجام تک اس ابتداء کا تاسف کیا کریں۔

    لوگوں کو بولتا آیا اور تعلیم پانے کا مادہ حاصل ہوا۔ اگر ماؤں کو لیاقت ہو تو اسی وقت سے بچوں کو تعلیم کر چلیں۔ کتب یا مدرسے بھیجنے کے انتظار میں لڑکوں کے کئی برس ضائع ہو جاتے ہیں۔ بہت چھوٹی عمر میں نہ تو خود لڑکوں کو مدرسے جانے کا شوق ہوتا ہے اور نہ ماؤں کی محبت اس بات کو گوارا کرتی ہے کہ ننھے ننھے بچے جو ابھی اپنی ضرورتوں کے ضبط پر قادر نہیں ہیں استاد کی قید میں رکھے جائیں۔ لیکن اگر مائیں چاہیں اسی وقت میں ان کو بہت کچھ سکھا پڑھا دیں۔ لڑکے مدرسے میں بیٹھنے کے بعد بھی مدتوں تک بے دلی سے پڑھا کرتے ہیں اور کہیں بہت دنوں میں ان کی استعداد کو ترقی ہوتی ہے۔ اس تمام وقت میں ان کو ماؤں سے یقیناً بہت مدد مل سکتی ہے۔ اوّل تو ماؤں کی شفقت اور دل سوزی کہاں؟ دوسرے رات دن کا برابر پاس رہتا۔ جب ذرا طبیعت متوجہ دیکھی جھٹ کوئی حرف پہچنوا دیا۔ یا کچھ گنتی

    Page 14

    ہی یاد کرا دی۔ کہیں پورپ پچھم کا امتیاز بتا دیا۔ مائیں تو باتوں باتوں میں وہ سکھا سکتی ہیں اور ماؤں کی تعلیم میں ایک یہ کتنا بڑا لطف ہے کہ لڑکوں کی طبیعت کو وحشت نہیں ہونے پاتی اور شوق کو ترقی ہو جاتی ہے۔ اولاد کی تہذیب ان کی پرورش کی تدبیر، ان کی جان کی حفاظت ان کے اختیار میں ہے۔ اگر خدا نخواستہ کہیں اس سلیقے میں کمی ہے تو اولاد کی زندگی معرضِ خطر میں ہے۔ ایسا کون کم بخت ہو گا جس کو ماؤں کی محبت میں کلام ہو۔ لیکن وہی محبت اگر نادانی کے ساتھ برتی جائے تو ممکن ہے کہ بجائے نفع کے الٹا نقصان پہنچائے۔ ذرا انصاف کرو، کیا ہزاروں جاہل اور کم عقل مائیں ایسی نہیں ہیں جو اولاد کے ہر ایک مرض کو نظر گزار اور پرچھانواں اور جھپٹا اور آسیب سمجھ کر بجائے دوا کے جھاڑ پھونک اتار کیا کرتی ہیں؟ ورنہ مناسب علاج کا اثر تم ہی سمجھ لو کیا ہوتا ہو گا۔ غرض یہ ہے کہ کل خانہ داری کی بلکہ یوں کہو کہ دنیا داری کی درستی موقوف ہے عقل پر اور عقل کی علم پر۔ اس بات کو ہر کوئی تسلیم کرے گا کہ عورت میں سب سے بڑا ہنر یہ ہونا چاہیے کہ جس کے پلّے بندھی ہے، آپ اس سے راضی رہے اور اس کو اپنے سے راضی اور خوش رکھے۔

    تم نے بہشت اور دوزخ کا نام سنا ہو گا۔ سچ مچ کی دوزخ اور بہشت تو دوسرے جہان کی چیزیں ہیں، مرے پیچھے ان کی حقیقت کھلے گی لیکن ان کی شکلیں گھر گھر دنیا میں موجود ہیں اور ان کی پہچان کیا ہے؟ میاں بی بی کے آپس کا پیار و اخلاص۔ جس گھر میں میاں بیوی محبت اور ساز گاری سے زندگی بسر کرتے ہیں، بس سمجھ لو کہ ان کو دنیا ہی میں بہشت ہے اور اگر آئے دن کی لڑائی ہے، جھگڑا ہے، یہ اس سے خفا وہ اس سے ناراض تو جانو دونوں جیتے ہی جہنم میں ہیں۔ ساز گاری کے ساتھ ساری مصیبتیں انگیز کی جا سکتی ہیں بلکہ اس کی ایذا تک محسوس نہیں ہوتی اور سازگاری نہیں تو زندگی میں کچھ مزہ داری نہیں۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ساز گاری کے لئے عورتوں کو زیادہ اہتمام کرنا ہو گا اس لئے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا پلہ بالکل ہلکا ہے۔ کچھ راہ چلتے کی صاحب سلامت نہیں کہ تم روٹھے ہم چھوٹے بلکہ مرنے بھرنے کا تعلق ہے۔ ساز گاری پیدا کرنے کے لئے جو تدبیریں عورت کے اختیار کی ہیں ان سب میں پھر سے بہتر ہمارے سمجھنے میں لیاقت ہے۔ لڑکیاں شرم کے مارے منہ سے نہ کہیں لیکن دل سے تو ضرور جانتی ہیں کہ کوار پتے کے تھوڑے دن اور ہیں۔ اور بیائی جائیں گی۔ بیاہے پیچھے بالکل نئی طرح کی زندگی بسر کرنا پڑتی ہے جیسا کہ تم

    Page 15

    ماں اور نانی اور خالہ اور کنبے کی تمام عورتوں کو دیکھتی ہو۔ کوار پتے کا وقت تو بہت تھوڑا ہے۔ اس وقت کا اکثر حصہ تو بے تمیزی میں گزر جاتا ہے۔ وہ پہاڑ سی زندگی تو آگے آ رہی ہے جو طرح طرح کے جھگڑوں اور انواع و اقسام کے بکھیڑوں سے بھری ہوئی ہے۔ اب تم غور کرو کہ تم کوئی انوکھی لڑکی تو ہو نہیں کہ بیاہ ہو چکے تم کو کچھ اور بھاگ لگ جائیں گے۔ جو دنیا جہان کی بہو بیٹیوں کو پیش آتی ہے وہ تم کو بھی پیش آئے گی۔ پس سوچنا چاہیے کہ بیاہ ہوئے پیچھے عورتیں کس طرح پر زندگی بسر کرتی ہیں، کیسی ان کی عزت کی جاتی ہے، کہاں تک مرد ان کی خاطر داری کرتے ہیں۔ خاص لوگوں کی حالت پر غور مت کرو۔ بعض جگہ اتفاق سے زیادہ ملاپ ہوا، عورت مرد پر غالب آ گئی اور جہاں زیادہ ناموافقت ہوئی، عورت کا دفتر بالکل اٹھ گیا۔ یہ تو بات ہی الگ ہے۔ ملک کے عام دستور اور عام رواج کو دیکھو۔ سو عام دستور کے موافق ہم تو عورتوں کی کچھ خاص قدر دیکھتے نہیں۔ ناقصات العقل تو ان کا خطاب ہے۔ تریاہٹ، تریا چرتر مردوں کے زبان زد، عورتوں کے مکر کی مذمت قرآن میں موجود ان کید کن عظیم یعنی مرد لوگ عورتوں کی ذات کو بے وفا جانتے ہیں؎

    اسپ وزن و شمشیر وفا دار کہ دید

    ایک شاعر نے عورتوں کی وجہ تسمیہ میں بھی ان کی مذمت پیدا کی ہے؎

    اگر نیک بودے سرانجام زن

    زنان را مزن نام بورے نہ زن

    یہ سب باتیں کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔ خانہ داری کے برتاؤ میں دیکھو تو گھر کی ٹہل خدمت کے علاوہ دنیا کا کوئی عمدہ کام بھی عورتوں سے لیا جاتا ہے یا کسی عمدہ کام کے صلاح یا مشورے میں عورتیں شریک ہوتی ہیں؟ جن گھروں میں عورتوں کی بڑی عزت اور بڑی خاطر داری ہے، وہاں بھی جب عورت سے پوچھا جاتا ہے تو یہی "کیوں بی، آج کیا ترکاری پکے گی؟ لڑکی کے لئے ٹاٹ بافی جوتی منگلواؤ گی یا ڈیڑھ حاشیہ کی؟ چھالیہ مانگ چندی لو گی یا جہازی، زردہ پوربی لینا منظور ہے یا امانت خانی؟ رضائی کو اودی گوٹ لگے گی یا سرمئی؟" اس کے سوا کوئی عورت بتا دے کہ کبھی مردوں نے اس سے بڑی بڑی باتوں میں صلاح لی ہے یا کوئی برا کام اس کے اختیار میں چھوڑ دیا ہے؟ پی اے عورتو! کیا تم کو ایسے برے حالوں میں جینا ناخوش نہیں آتا؟ اپنی بے اعتباری اور بے وقری پر افسوس نہیں ہوتا؟ کیا

    Page 16

    تمہارا جی نہیں چاہتا کہ مردوں کی نظروں میں تمہاری عزت ہو، تمہاری عقل پر ان کو اعتماد اور بھروسا ہو؟ تم نے اپنے ہاتھوں اپنا وقار کھو رکھا ہے۔ اپنے کارن نظروں سے گری ہو۔ تم کو قابلیت ہو تو مردوں کو کب تک خیال نہ ہو گیا؟ تم کو لیاقت ہو تو مردوں کو کہاں تک پاس نہ ہو گا؟ مشکل تو ہے کہ تم صرف اسی روٹی دال پکا لینے اور پھٹا پرانا سی لینے کو لیاقت سمجھتی ہو۔ پھر جیسی لیاقت ہے، ویسی قدر ہے۔ تمہاری اس بالفعل کی حالت اور جہالت پر ایک بد عقلی اور ایک مکر و فریب کیا اگر دنیا بھر کے الزام تم پر لگائے جائیں تو واجب اور سارے جہان کی برائیاں تم میں نکالی جائیں تو بجا۔

    اے عورتو! تم مردوں کے دل بہلاؤ اور ان کی زندگی کا سرمایہ عیش، ان کی آنکھوں کی بہار و باغ، ان کی خوشی کو زیادہ اور ان کے غم غلط کرنے والیاں ہو۔ اگر تم کو مردوں سے بڑے کاموں کے انتقام کا سلیقہ ہو تو مرد تمہارے پاؤں دھو دھو کر پیا کریں اور تم کو اپنا سرتاج بنا کر رکھیں۔ تم سے بہتر ان کا غم گسار، تم سے بہتر ان کا صلاح کار، تم سے بہتر ان کا خیر خواہ اور کون ہو گا۔ لیکن بڑے کاموں کا سلیقہ تم کو حاصل ہو تو کیوں کر؟ گھر کی چار دیواری میں تو تم قید ہو۔ کسی سے ملنے کی تم نہیں، کسی سے بات کرنے کی تم نہیں۔ عقل ہو یا سلیقہ آدمی سے آدمی سیکھتا ہے۔ مرد لوگ پڑھ لکھ کر عقل و سلیقہ حاصل کرتے ہیں اور جو لکھے پڑھے ہیں وہ بھی ہزاروں طرح کے لوگوں سے ملتے اس سے دس قسم کی باتیں سنتے ہیں۔ اس پردے سے تم کو نجات کی امید نہیں۔ بہت کچھ ہمارے ملکی دستور اور رواج نے اور کسی قدر مذہب نے پردہ نشینی کو عورتوں پر فرض واجب کر دیا ہے اور اب اس رواج کی پابندی نہایت ضروری ہے۔ پس سوائے پڑھنے لکھنے کے اور کیا تدبیر ہے، تمہاری عقلوں کو ترقی ہو؟ بلکہ مردوں کی نسبت عورتوں کو پڑھنے لکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ مرد تو باہر کے چلنے پھرنے والے ٹھہرے۔ لوگوں سے مل جل کر بھی تجربہ حاصل کر لیں گے۔ تم گھر میں بیٹھی بیٹھی کیا کرو گی؟ سینے کی بقچی سے کیا کرو گی؟ سینے کی بقچی سے عقل کی پڑیا نکال لو گی یا اناج کی کوٹھڑی سے تجربے کی جھولی بھر لاؤ گی؟ پڑھنا لکھنا سیکھو کہ پردے میں بیٹھے بیٹھے ساری دنیا کی سیر کر لیا کرو۔ علم حاصل کرو کہ گھر کے گھر میں زمانے بھر کی باتیں تم کو معلوم ہوا کریں۔ پھر سمجھنے کی باتیں تم کو معلوم ہوا کریں۔ پھر سمجھنے کی بات ہے کہ دنیا ان ہی چند گھروں سے عبارت نہیں ہے جس میں تم رہتی یا آتی جاتی ہو

    Page 17

    اور نہ دلی یا ان ہی تھوڑے سے شہروں سے عبارت ہے جن کے نام تم نے سنے ہیں۔ خیر تمام دنیا کے حالات بیان کرنے کا تو یہ محل نہیں۔ تم کو شوق ہو تو پڑھ لکھ کر جغرافیہ اور تاریخ کی کتابوں کی سیر کرنا تب جاؤ گی کہ دنیا کتنی بڑی ہے۔ کیسے کیسے رد و بدل اس میں ہوتے آئے ہیں۔

    بہر کیف، اس وقت کا یہ رنگ ہے کہ سارے ہندوستان پر انگریز قابض ہیں۔ ان لوگوں میں مرد، عورت، امیر، غریب، نوکری پیشہ، سوداگر، اہل حرفہ، کاریگر، زمیندار، کاشتکار سب کے سب پڑھے لکھے ہوتے ہیں اور اس سے خدا نے ان کو ترقی دی ہے کہ کہاں ان کی ولایت اور کہاں ہندوستان، چھ سات ہزار میل کا فاصلہ اور بیچ میں سمندر۔ مگر علم کے زور سے اس ملک میں آئے، علم ہی کے زور سے اس کو اس خوبی اور عمدگی کے ساتھ چلا رہے ہیں کہ روئے زمین کی کسی سلطنت میں ایسا امن و انصاف اور ایسا انتظام نہیں۔ کہتے ہیں اور سچ کہتے ہیں، دانش مند منصف اور خدا ترس بادشاہ کو رعیّت اپنی اولاد سے بڑھ کر پیاری ہوتی ہے۔ پس انگریز جس دن سے اس ملک میں آئے اسی دن سے اس بات کے پیچھے پڑے ہیں کہ ہندوستان کے جو لوگ امتحان پاس کرتے ہیں ان کو نوکری ملتی ہے۔ سو خدا کے فضل سے اتنا تو ہوا ہے کہ لکھنے پڑھنے کا بہت رواج ہو گیا ہے اور ہوتا جاتا ہے۔ یہی ایک ڈھنگ ہے تو کوئی دن کو وھوبی، سقے، مزدور تک لکھنے پڑھنے لگیں گے۔ بھلا پھر ان پڑھ اور جاہل اشراف لوگوں کی، مرد ہوں یا عورت، کی عزت باقی رہ جائے گی؟

    انگریزی عملداری میں ہزاروں قسم کی نئی چیزیں چل پڑی ہیں۔ ان میں سے ایک عجیب اور بڑے کام کی ریل ہے جس کی وجہ سے مہینوں کے رستے گھنٹوں میں طے کیے جاتے ہیں اور وہ بھی کس سہولت اور آسائش کے ساتھ کہ سفر کا سفر اور تفریح کی تفریح۔ یہی سبب ہے کہ لوگ جیسے پردیس کے کام سے گھبراتے تھے، اب سفر کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ یہ ہماری یاد کی بات ہے کہ جب کوئی حج کا ارادہ کرتا تو یہ سمجھ کر گھر سے نکلتا کہ بس مجھے کو لوٹ کر آنا نہیں۔ یا اب ریل اور دخانی جہازوں کے طفیل میں یہ حال ہو گیا ہے کہ ذیقعد میں گھر سے نکلے، محرم کے آخر ہوتے ہوتے مکے مدینے دونوں کی زیارت کر کے اصل خیر سے آ موجود ہوئے۔ اور لوگوں میں تو خیر مگر نوکری پیشہ تو شاذ و نادر کوئی گھر کے گھر میں موجود ہو ورنہ جس کو سنو پردیس۔ لیکن پردیس سے آپس کے تعلقات تو نہیں

    Page 18

    چھوٹتے۔ ایک بار بڑے دن کی تعطیل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ذرا گور کھپور اور دلی کے فاصلے تو دیکھو اور باوجودیکہ گورکھپور سے دلی تک برابر ریل نہ تھی، آٹھ دن کی چھٹی میں آنے جانے کو اور پورے پانچ دن دلی میں ٹھہرنے کو دیکھو۔ بھلے کو انگریزی عمل داری ہو گئی تھی کہ ہم نے کبھی یہ آرام دیکھ لئے۔

    خیر تو عرض یہ کہ میں چھٹی میں دلی آیا ہوا تھا کہ ایک بی بی اپنے میاں کے نام خط لکھوانے آئیں۔ بتاتی گئیں، میں لکھتا گیا۔ بہت سی باتیں ان کے منہ تک آتی تھیں مگر لحاظ کے مارے کہہ نہیں سکتی تھیں۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ خدا نے تمہاری روزی تو اتاری پردیس میں اور پردیس بھی مہینے دو مہینے کا نہیں بلکہ ساری عمر کا۔ اس سے تم آپ لکھنا کیوں نہیں سیکھ لیتیں؟ تو وہ بڑی حسرت کے ساتھ کہنے لگیں، بھلا کہیں اب میری عمر لکھنا سیکھنے کی ہے؟ بال بچوں کے بکھیرے میں پندرہ پندرہ دن گزر جاتے ہیں کہ سر دھونے کی نوبت نہیں آتی۔ بچپن میں قرآن پڑھا تھا۔ خیر شکر ہے استانی جی کی برکت سے بھولا تو نہیں مگر مشکل سے گھڑیوں میں جا کر کہیں ایک مہینہ بھی چھوڑ دوں تو سارا قرآن سپاٹ ہو جائے۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ جب تم کو قرآن یاد ہے تو لکھنا سیکھ لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ ہر روز ایک گھنٹے بھی توجہ کرو تو کارروائی کے قدر دو تین مہینے میں آ سکتا ہے۔ آخر اردو تو تم پڑھ لیتی ہو گی۔ وہ بولیں، ہاں، کچھ یوں ہی سی اٹک اٹک کر اور اکثر لفظ رہ جاتے ہیں۔ مگر چھپا ہوا خاصی طرح نکال لیتی ہوں۔ میں نے کہا بس تو تم کو استاد کی ضرورت بھی نہیں۔ نقل کرتے کرتے لکھنا آ جائے گا۔ ان بی بی نے دل میں میری بات کو تسلیم تو کیا مگر کہنے لگیں، شرم سی آتی ہے۔ تب تو میں نے ان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا کہ دوسروں کے پاس حاجت لے جاتے ہوئے، دوسروں کی خوشامد کرتے ہوئے، دوسروں پر چبا چبا کر اپنے حالات ظاہر کرتے ہوئے تم کو شرم نہیں آتی اور لکھنا سیکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ کیا لکھنا کچھ عیب ہے یا گناہ ہے؟ میں نے سنا کہ اس کے بعد سے ان بی بی نے اپنا خط کسی سے نہیں لکھوایا اور پھر تو ان کو لکھنے کا ایسا شوق ہوا کہ جن بیبیوں کے مرد پردیس میں تھے خط لکھنے کو اب ان کے سر ہوتی تھیں۔

    لکھنے کو لوگوں نے نام بدنام کر رکھا ہے کہ مشکل ہے، مشکل کچھ بھی مشکل نہیں۔ لیکن فرض کرو کہ پڑھنے کی نسبت لکھنا کسی قدر مشکل ہے بھی تو ویسے ہی اس کے مصنفین

    Page 19

    بھی ہیں۔ جو شخص پڑھنا جانتا اور لکھنا نہیں جانتا اس کی مثال اس گونگے کی سی ہے جو دوسروں کی سنتا اور اپنی نہیں کہہ سکتا۔ اگر کوئی شخص شروع شروع میں کسی کتاب سے، زیادہ نہیں ایک سطر دو سطر روز نقل کر لیا کرے اور اسی قدر اپنے دل سے بنا کر کیا کرے اور اصلاح لیا کرے اور نقل کرنے اور لکھنے میں جھینپتے اور جھجھکتے نہیں تو ضرور چند مہینوں میں لکھنا سیکھ جائے گا۔ خوش خطی سے مطلب نہیں، لکھنا ایک ہنر ہے جو ضرورت کے وقت بہت کام آتا ہے۔ اگر غلط ہو یا حرف بد صورت اور نا درست لکھے جائیں تو بے دل ہو کر مشق کو موقوف مت کرو۔ کوئی کام ہو، ابتدا میں اچھا نہیں ہوا کرتا۔ اگر کسی بڑے عالم کو ایک ٹوپی کترنے اور سینے کو دو، جس کو بھی اتفاق نہ ہوا ہو وہ ضرور ٹوپی خراب کرے گا۔ چلنا پھرنا جو تم کو اب ایسا آسان ہے کہ بے تکلف دوڑی دوڑی پھرتی ہو تم کو شاید یاد نہ رہا ہو کہ تم نے کس مشکل سے سیکھا۔ مگر تمہارے ماں باپ اور بزرگوں کو بخوبی یاد ہے کہ پہلے تم کو سہارے بیٹھنا نہیں آتا تھا۔ جب تم کو گود سے اتار کر نیچے بٹھاتے، ایک آومی پکڑے رہتا تھا یا تکیے کا سہارا لگا دیتے تھے۔ پھر تم نے گر پڑ کر گھٹنوں چلنا سیکھا، پھر کھڑا ہونا، لیکن چارپائی پکڑ کر۔ پھر جب تمہارے پاؤں زیادہ مضبوط ہو گئے، رفتہ رفتہ چلنا آ گیا۔ مگر صد ہا مرتبہ تمہارے چوٹ لگی اور تم کو گرتے سنا۔ اب وہی تم ہو کہ خدا کے فضل سے ماشاء اللہ دوڑی دوڑی پھرتی ہو۔ اسی طرح ایک دن لکھنا بھی آ جائے گا۔ اور فرض کرو تم کو لڑکوں کی طرح اچھا لکھنا نہ بھی آیا تاہم بقدر ضرورت تو ضرور آ جائے گا۔ اور یہ مشکل تو نہ رہے گی کہ دھوبن کی دھلائی اور پیسنے والی کی پسائی کے واسطے دیوار پر لکیریں کھینچتی پھرو یا کنکر پتھر جوڑ کر رکھو۔ گھر کا حساب کتاب، لینا دینا، زبانی یاد رکھنا بہت مشکل ہے اور بعض مردوں کی عادت ہوتی ہے کہ جو روپیہ پیسہ گھر دیا کرتے ہیں اس کا حساب پوچھا کرتے ہیں۔ اگر زبانی یاد نہیں ہے تو مرد کو شبہ ہوتا ہے کہ یہ روپیہ کہاں خرچ ہوا اور آپس میں ناحق بد گمانی پیدا ہوتی ہے۔ اگر عورتیں اتنا لکھنا بھی سیکھ لیا کریں کہ اپنے سمجھنے کے واسطے کافی ہو تو کیسی اچھی بات ہے۔

    لکھنے پڑھنے کے علاوہ سینا پرونا، کھانا پکانا یہ دونوں ہنر ہر ایک لڑکی کو سیکھنے ضرور ہیں۔ کسی آدمی کو حال معلوم نہیں ہے کہ آئندہ اس کو کیا اتفاق پیش آئے گا۔ بڑے امیر اور بڑے دولت مند یکایک غریب اور محتاج ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی ہنر ہاتھ میں پڑا ہوتا ہے،

    Page 20

    ضرورت کے وقت کام آتا ہے۔ یہ ایک مشہور بات ہے کہ اگلے وقتوں کے بادشاہ باوجود دولت ثروت کے ضرور کوئی ہنر سیکھ رکھا کرتے تھے تا کہ مصیبت کے وقت کام آئے۔ یاد رکھو! دنیا میں کوئی حالت قابلِ اعتبار نہیں۔ اگر تم کو اس وقت آرام و فراعت میسر ہے، خدا کا شکر کرو کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہمارے گھر میں برکت اور فراغت دی ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تم اس آرام کی قدر نہ کرو یا آئندہ کے واسطے اپنا اطمینان کر لو کہ یہ آرام ہم کو ہمیشہ کے واسطے حاصل رہے گا۔ آرام کے دنوں میں عادتوں کو درست رکھنا ضرور ہے۔ اگرچہ خدا نے تم کو نوکر چاکر بھی دیے ہوں لیکن تم کو اپنی عادت نہیں بگاڑنی چاہیے۔ شاید خدا نخواستہ مقدور باقی نہ رہے تو یہ عادت بہت تکلیف دے گی۔ آپ اٹھ کر پانی نہ پینا یا چھوٹے چھوٹے کاموں میں نوکروں یا چھوٹے بھائی بہنوں کو تکلیف دینا اور آپ احدی بن کر بیٹھے رہنا نامناسب اور عادت کے بگاڑنے کی نشانی ہے۔ تم کو اپنا کام سب آپ کرنا چاہیے۔ بلکہ اگر تم چست و چالاک رہو تو گھر کے بہت کام تم اٹھا سکتی ہو۔ اور اگر تم تھوڑی سی محنت بھی اختیار کرو تو اپنی ماں کو بہت کچھ مدد اور سہارا لگا سکتی ہو۔ خوب غور کر کے اپنا کوئی کام ایسا مت چھوڑو جس کو میں اپنے ہاتھوں کرے یا دوسروں کو اس واسطے بلاتی اور تکلیف دیتی پھرے۔ رات کو جب سونے لگو، اپنا بچھونا اپنے ہاتھ سے بچھا لیا کرو اور صبح سویرے اٹھ کر آپ تہہ کر کے احتیاط سے مناسب جگہ رکھ دیا کرو۔ اپنے کپڑوں کی گٹھڑی اپنے اہتمام میں رکھو۔ جب کپڑے بدلنے ہوں، اپنے ہاتھ سے پھٹا اُدھر درست کر لیا کرو۔ میلے کپڑوں کی احتیاط کرو۔ جب تک دھوبن کپڑے لینے آئے، ان کو علیحدہ کھونٹی پر لٹکا رکھو۔ اگر کپڑے بدل کر میلے کپڑے اٹھا کر نہ رکھو گی تو شاید چوہے کاٹ ڈالیں یا پڑے پڑے زیادہ میلے ہو جائیں اور دھوبن ان کو خوب صاف نہ سکے۔ یا شاید زمین کی نمی اور پینے کی تری سے ان میں دیمک لگ جائے۔ پھر دھوبن کو اپنے میلے کپڑے آپ دیکھ کر دیا کرو اور جب دھو کر لائے خود دیکھ لیا کرو۔ شاید کوئی کپڑا کم لائی ہو یا کہیں سے پھاڑ نہ دیا ہو، کہیں پر داغ باقی نہ رہ گئے ہوں۔ اس طرح جب تم اپنے کپڑوں کی خبر رکھو گی، تمہارے کپڑے خوب صاف دھلا کریں گے اور کوئی کپڑا گُم نہ ہو گا۔ جو زیور تم پہنے رہتی، بڑے داموں کی چیز ہے۔ شام کو سونے سے پہلے اور صبح کو جب سو کر اُٹھو، خیال کر لیا کرو کہ سب ہیں یا نہیں۔ اکثر بے خبر لڑکیاں کھیل کود میں زیور گِرا دیتی ہیں

    Page 21

    اور کئی کئی دن کے بعد ان کو معلوم ہوتا ہے کہ بالی گر گئی، چھلا نکل پڑا۔ کیا معلوم ذرا سی چیز کس کی نظر پڑ گئی اور اس نے اٹھا لی یا کہیں مٹی میں دب دبا گئی۔ تب وہ غافل لڑکیاں زیور کے واسطے افسوس کر کے روتی اور تمام گھر کو جستجو میں حیران کر مارتی ہیں۔ اور جب ماں باپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لڑکی زیور کو احتیاط سے نہیں رکھتی اور کھو دیتی ہے تو وہ بھی دریغ کرنے لگتے ہیں۔

    تم کو ہمیشہ یہ خیال کرنا چاہیے کہ گھر کے کاموں میں کون سا کام تمہارے کرنے کا ہے۔ بے شک چھوٹے بھائی بہن اگر روتے اور ضد کرتے ہیں تو تم ان کو سنبھال سکتی ہو تا کہ ماں کو تکلیف نہ دیں۔ منہ دھلانا، ان کے کھانے اور پانی کی خبر رکھنا، کپڑا پہنانا، یہ سب کام اگر تم چاہو تو کر سکتی ہو۔ لیکن اگر تم اپنے بھائی بہنوں سے لڑو اور ضد کرو تو تم خود اپنا وقار کھوتی اور ماں کو تکلیف دیتی ہو۔ وہ گھر کا کام سیکھے یا تمہارے مقدمے کا فیصلہ کیا کرے۔ گھر میں جو کھانا پکتا ہے، اس کو اس غرض سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ کب پک چکے گا اور کب ملے گا۔ گھر میں جو کتا اور بلی یا دوسرے جانور پلے ہیں وہ اگر پیٹ بھرنے کی امید سے کھانے کے منتظر رہیں تو مضائقہ نہیں۔ لیکن تم کو غور کرنا چاہیے کہ سالن کس طرح بھونا جاتا ہے، نمک کس انداز سے ڈالتے ہیں۔ اگر ہر ایک کھانے کو غور سے دیکھا کرو تو یقین ہے چند روز میں تم پکانا سیکھ جاؤ گی اور تم کو وہ ہنر آ جائے گا جو دنیا کے تمام ہنروں میں سب سے زیادہ ضرورت کی چیز ہے۔ معمولی کھانوں کے علاوہ تکلف کے چند کھانوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ کباب، پلاؤ، میٹھے چاول، زردہ، متنجن، چٹنی، فرنی سب مزے دار کھانے ہیں۔ ہر ایک کی ترکیب یاد رکھنی چاہیے۔ بعض کھانے تکلف کے تو نہیں ہوتے لیکن ان کا مزیدار پکاتا تعریف کی بات ہے۔ جیسے مچھلی، کریلے۔ سینا تو چنداں دشوار نہیں، قطع کرنا البتہ عقل کی بات ہے۔ دل لگا کر اس کو معلوم کر لینا بہت ضرور ہے۔ عورتوں کے سب کپڑوں کو قطع کرنا خاص کر ضرور سمجھ لینا چاہیے۔ ہم نے اکثر ہے وقوف عورتوں کو دیکھا ہے کہ اپنے کپڑے دوسری عورتوں کے پاس قطع کرانے کے لئے پھرا کرتی ہیں اور ان کو تھوڑی سی بات کے لئے بہت سی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔ مردانے کپڑوں میں انگرکھا کسی قدر مشکل ہے۔ تم اپنے بھائیوں کے انگرکھے قطع کیا کرو۔ دو چار انگرکھے قطع کرنے سے سمجھ میں آ جائے گا۔
     
  3. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    --------------------
    ریختہ صفحات 54 تا 60
    --------------------

    صفحہ 54

    باب دسواں
    بیاہی ہوئی لڑکیوں کے لئے عمدہ نصیحت

    اصغری کے نام شادی ہو جانے کے بعد دور اندیش خان نے جو خط لکھا، وہ دیکھنے کے لائق ہے۔ اتفاق سے ہم کو اس کی نقل ہاتھ آ گئی تھی۔ وہ خط یہ ہے :
    آرام دل و جانم برخوردار اصغری خانم سلمہا اللہ تعالیٰ۔ دعا اور اشتیاق دیدہ بوسی کے بعد واضح ہو کہ تمہارے بھائی خیر اندیش کے لکھنے سے تمہاری رخصت کا حال معلوم ہوا۔ برسوں سے یہ تمنا دل میں تھی کہ اس فرض کو میں اپنے اہتمام خاص سے ادا کروں مگر حاکم نے رخصت نہ دی، مجبور رہا۔ یہ بات تم پر ظاہر ہوئی ہو گی کہ سب بچوں میں تم سے مجھ کو ایک خاص طرح کا انس تھا اور میں اس بات کو بطور اظہار احسان نہیں لکھتا بلکہ تم نے اپنی خدمت گزاری اور فرماں برداری سے خود میرے اور سب کے دل میں جگہ پیدا کی تھی۔ آٹھ برس کی عمر سے تم نے میرے گھر کا تمام بوجھ اپنے سر پر اٹھا رکھا تھا۔ مجھ کو ہمیشہ یہ بات معلوم ہوتی رہی کہ تمہارے سبب بیگم یعنی تمہاری ماں کو بڑی بے فکری حاصل ہے۔ جب کبھی اس اثنا میں مجھ کو گھر جانے کا اتفاق ہوا، تمہارا انتظام دیکھ کر ہمیشہ میرا جی خوش ہوا۔ اب تمہارے رخصت ہو جانے سے ایسا نقصان ہوا کہ اس کی تلافی شاید اس عمر میں ہونے کی مجھ کو امید نہیں ہو سکتی۔ خدا تم کو جزائے خیر دے اور اس خدمت کے صلے میں میری دعاؤں کا اثر تم پر ظاہر ہو۔ خیر اندیش خاں کے خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تم نے اکبری خانم سے زیادہ جہیز نہیں لینا چاہا۔ اس سے تمہاری بلند نظری اور عالی ہمتی ثابت ہوتی ہے۔ مگر میں اس کا نعم البدل بھیجتا ہوں۔ وہ یہ خط ہے۔ اس کو تم بطور دستور العمل کے اپنے پاس رکھو اور ان نصیحتوں پر عمل کرو۔ ان شاءاللہ تعالیٰ ہر ایک مشکل تم پر آسان ہو گی اور اپنی زندگی آرام و آسائش میں بسر کرو گی۔

    صفحہ 55
    سمجھنا چاہیے کہ بیاہ کیا چیز ہے۔ بیاہ صرف یہی بات نہیں کہ رنگین کپڑے پہنے، مہمان جمع ہوئے ، مال و اسباب و زیور پایا۔ بلکہ بیاہ سے نئی دنیا شروع ہوتی ہے۔ نئے لوگوں سے معاملہ کرنا اور نئے گھر میں رہنا پڑتا ہے۔ جس طرح پہلے بچھڑوں پر جوا رکھا جاتا ہے، آدمی کے بچھڑوں کا جوا بیاہ ہے۔ بیاہ ہوا، لڑکی بی بی بنی، لڑکا میاں بنا۔ اس کے یہی معنی ہیں کہ دونوں کو پکڑ کر دنیا کی گاڑی میں جوت دیا۔اب یہ گاڑی قبر کی منزل تک ان کو کھینچنی پڑے گی۔ پس یہ بہتر ہے کہ دل کو مضبوط کر کے اس مہم کا سر انجام کیا جائے اور زندگی کے دن جس قدر ہوں، عزت و آبرو، صلح کاری، اتفاق سے کاٹ دیے جائیں۔ ورنہ لڑائی ، بھڑائی، جھگڑے، بکھیڑے، شور و شر، فساد اور ہائے واویلا سے دنیا کی مصیبت اور بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    اب تم کو، اے میری پیاری بیٹی اصغری خانم، سوچنا چاہیے کہ میاں بی بی میں خدا نے کتنا فرق رکھا ہے۔ مذہب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ آدم علیہ السلام بہشت میں اکیلے گھبرایا کرتے تھے۔ ان کے بہلانے کو خدا نے حضرت حوا کو جو سب سے پہلی عورت دنیا میں ہو گزری ہیں، پیدا کیا۔ پس عورت کا پیدا کرنا صرف مرد کی خوش دلی کے واسطے تھا اور عورت کا فرض ہے، مرد کو خوش رکھنا۔ افسوس کہ دنیا میں کس قدر کم عورتیں اس فرض کو ادا کرتی ہیں۔ مردوں کا درجہ خدا نے عورتوں پر زیادہ کیا، نہ صرف حکم دینے سے بلکہ مردوں کے جسم میں زیادہ قوت اور ان کی عقلوں میں روشنی دی ہے۔ دنیا کا بندوبست مردوں کی ذات سے ہوتا ہے۔ مرد کمانے والے اور عورتیں ان کی کمائی کو مناسب موقع پر خرچ کرنے والیاں ہیں اور اس کی نگہبان ہیں۔ کنبہ بطور کشتی کے ہے اور مرد اس کے ملاح ہیں۔ اگر ملاح نہ ہو تو کشتی پانی کی موجوں میں ڈوب جائے گی یا کسی کنارے پر ٹکر کھا کر پھٹ جائے گی۔کنبے میں اگر مرد منتظم نہیں تو اس میں ہر طرح کی خرابی کا احتمال ہے۔ کبھی نہیں خیال کرنا چاہیے کہ دنیا میں خوشی صرف دولت سے حاصل ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی شک نہیں کہ دولت اکثر خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ بہت بڑے اور اونچے گھروں میں لڑائی اور فساد ہم زیادہ پاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ صرف دولت سے تو خوشی نہیں ہوتی۔ برخلاف اس کے اکثر خاندانوں میں خوشی صرف اتفاق اور صلح کاری کے سبب ہے۔ وہ دال روٹی اور گاڑھے دھوتر میں زیادہ آرام سے ہیں، بہ نسبت نوابوں اور بیگموں کے جن کا تمام عیش

    صفحہ 56
    آپس کی ناسازگاری سے تلخ رہتا ہے۔ اے میری پیاری بیٹی اصغری خانم! اتفاق پیدا کرو اور صلح کاری کو غنیمت جانو۔
    اب دیکھنا چاہیے کہ اتفاق کن باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔ نہ صرف اس بات سے کہ بی بی اپنے میاں سے محبت کرے بلکہ محبت کے علاوہ اس کو میاں کا ادب کرنا بھی لازم ہے۔ بڑی نادانی ہے اگر بی بی میاں کو برابر کے درجے میں سمجھے۔ بلکہ اس زمانے میں عورتوں نے ایسا خراب دستور اختیار کیا ہے جو ادب کے بالکل خلاف ہے۔ جب چند سہیلیاں آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتی ہیں تو اکثر یہ تذکرہ ہوتا ہے کہ فلانی کا میاں اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ رکھتا ہے۔ ایک کہتی ہے " بوا، میں نے تو یہاں تک ان کو دبایا ہے کہ کیا مجال جو میری بات کو کاٹیں یا الٹ کر جواب دیں"۔ دوسری فخر کرتی ہے " جب تک لوگ گھڑیوں خوشامد نہ کریں ، میں کھانا نہیں کھاتی"۔ تیسری بڑائی مارتی ہے " میں تو دس مرتبہ پوچھتے ہیں تب ایک جواب مشکل سے دیتی ہوں"۔ چوتھی ڈینگ کی لیتی ہے " چاہے وہ پہروں نیچے بیٹھے رہیں، بندی کو پلنگ سے اترنا قسم ہے"۔ پانچویں شیخی بگھارتی ہے " جو میری زبان سے نکلتا ہے، پورا کرا کے رہتی ہوں"۔ شادی بیاہ کے ٹونے ٹوٹکے بھی اس غرض سے نکلے ہیں کہ میاں مطیع و فرمانبردار رہے، کہیں تو دلہن کی جوتی پر کاجل پاڑ کر میاں کے سرمہ لگایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمر بھر جوتیاں کھاتا رہے اور چوں نہ کرے۔ کہیں نہاتے وقت دلہن کے پاؤں کے انگوٹھے کے تلے بیڑا رکھا جاتا ہے اور میاں کو کھلایا جاتا ہے۔ اس کے یہ معنی کہ پیروں پڑتا رہے۔ ان باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ عورتیں مردوں کا درجہ اور اختیار کم کرنے پر آمادہ ہیں۔ لیکن یہ تعلیم بہت بری ہے اور ہر گز قباحت سے خالی نہیں۔ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے۔ اگر دباؤ زبردستی سے کوئی ان کو زیر کرنا چاہے تو ناممکن ہے۔ بہت آسان ترکیب ان کو زیر کرنے کی خوشامد اور تابعداری ہے اور جو احمق عورت اپنا دباؤ ڈال کر مرد کو زیر کرنا چاہتی ہے وہ بڑی غلطی میں ہے۔ وہ شروع میں تخم فساد بوتی ہے اور ان کا انجام ضرور فساد ہو گا۔ اگرچہ اس کو بالفعل نہیں سمجھتی۔ اصغری خانم! میری صلاح یہ ہے کہ تم گفتگو اور نشست و برخاست میں بھی اپنے میاں کا ادب ملحوظ رکھنا۔ مذہب میں میاں بی بی کے متعلق بہت سے احکام ہیں اور چونکہ تم نے قرآن کا ترجمہ اور اردو کے بہت سے مذہبی رسالے پڑھے ہیں، میں امید کرتا ہوں کہ وہ احکام

    صفحہ 57
    تھوڑے بہت ضرور تمہارے خیال میں ہوں گے۔ ان احکام کا مجموعہ خانہ داری کے لئے بڑا دستور العمل ہے۔ مگر افسوس ہے لوگ خدا اور رسول صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکموں کی تعمیل میں تن دہی نہیں کرتے اور انہیں انواع اقسام کی خرابیاں پیش آتی ہیں۔ میں نے حدیث کی کتاب میں پڑھا تھا کہ اگر خدا کے سوائے دوسرے کو سجدہ کرنا روا ہوتا تو پیغمبر صاحب فرماتے ہیں کہ بی بی کو حکم دیتا کہ اپنے میاں کو سجدہ کیا کرے۔ بس اسی بات سے تم خیال کر سکتی ہو کہ میاں بی بی میں کیا نسبت ہے۔ اب اس کے ساتھ ملکی رواج کو ملاؤ کہ بی بی نہ تو میاں کو چھوڑ سکتی ہے، نہ بدل سکتی ہے، نہ اس سے کسی وقت کسی حال میں بے نیاز ہو سکتی ہے تو سوائے اس کے کہ سچے دل سے آپ اس کی ہو رہے اور اطاعت سے، فرماں برداری سے ، خوشامد سے ، جس طرح ممکن ہو، اس کو اپنا کر کے ، عافیت کی، عزت و آبرو کی زندگی بسر کرے، دوسری تدبیر ہے اور نہ ہونی ممکن ہے۔
    کیا وجہ ہے شادی بیاہ ایسے چاؤ سے ہوتا ہے اور چوتھی کے بعد ہی بہو سے ساس نندوں کا بگاڑ شروع ہو جاتا ہے؟ یہ مضمون غور کے قابل ہے۔
    بیاہ کے پہلے تک لڑکا ماں باپ میں رہا اور صرف ان ہی کے ساتھ اس کو تعلق تھا۔ ماں باپ نے اس کو پرورش کیا اور یہ توقع کرتے رہے کہ بڑھاپے میں ہماری خدمت کرے گا۔ بیاہ کے بعد بہو ڈولی سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ماں باپ کو چھوڑ دیں۔ پس لڑائی ہمیشہ بہوؤں کی طرف سے شروع ہوتی ہے۔ اگر بہو کنبے میں مل کر رہے اور کبھی ساس کو معلوم نہ ہو کہ بیٹے کو ہم سے چھڑانا چاہتی ہے تو ہر گز فساد پیدا نہ ہو۔ یہ تو سب کوئی جانتا ہے کہ بیاہ کے بعد ماں باپ کے ساتھ تعلق چند روزہ ہے۔ آخر گھر الگ ہو گا۔ میاں بی بی جدا ہو کر رہیں گے۔ دنیا میں یہی ہوتی آئی ہے۔ لیکن نہیں معلوم کم بخت بہوؤں میں بے صبری کہاں کی پڑ جاتی ہے کہ جو کچھ ہونا ہو اسی دم ہو جائے۔ بہوؤں میں ایک عیب چغلی کا ہوتا ہے جو بنیاد فساد ہے۔ وہ یہ کہ سسرال کی ذرا ذرا سی بات آکر ماں سے لگاتی ہیں اور مائیں خود بھی کھود کر پوچھا کرتی ہیں۔ لیکن اس کہنے اور پوچھنے سے سوائے اس کے کہ لڑائیاں پڑیں اور جھگڑے کھڑے ہوں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بعض بہوئیں اس طرح کی مغرور ہوتی ہیں کہ سسرال میں کیسا ہی اچھا کھانا اور کیسا ہی اچھا کپڑا ان کو ملے ، ہمیشہ حقارت سے دیکھتی ہیں۔ ایسی باتوں سے میاں کی دل شکنی ہوتی

    صفحہ 58
    ہے۔ اصغری! اس کی تم کو بہت احتیاط چاہیے۔ سسرال کی ہر ایک چیز قابل قدر ہے اور تم کو ہمیشہ کھانا کھا کر اور کپڑے پہن کر بشاشت ظاہر کرنی چاہیے جس سے معلوم ہو کہ تم نے پسند کیا۔ نئی دلہن کو اس بات کا خیال بھی ضرور رکھنا چاہیے کہ سسرال میں بے دلی سے نہ رہے۔ اگرچہ اوپری ہونے کے سبب اجنبی لوگوں میں جی نہیں لگتا، لیکن جی کو سمجھانا چاہیے۔ نہ یہ کہ روتے گئے، وہاں رہے تو روتے رہے۔ جاتے دیر نہیں ہوئی، آنے کا تقاضا شروع ہوا۔ رفتہ رفتہ انس پیدا کرنے کے واسطے چالوں کا رواج بہت پسندیدہ ہے۔ اس سے زیادہ میکے کا شوق ظاہر کرنا سسرال والوں کو ضرور ناپسند ہوتا ہے۔
    گفتگو میں درجہ اوسط ملحوظ رہے۔ یعنی نہ اتنی بہت کہ خود بخود بک بک، نہ انتی کم کہ غرور سمجھا جائے۔ بہت بکنے کا انجام برا ہوتا ہے۔ جب رات دن کی بکواس ہو گی، ہزاروں طرح کا تذکرہ ہو گا ، نہیں معلوم کس تذکرے میں کیا بات منھ سے نکل جائے۔ نہ اتنی کم گوئی اختیار کرنا چاہیے کہ بولنے کے واسطے لوگ خوشامد اور منت کریں۔ ضد اور اصرار کسی بات پر زیبا نہیں۔ اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہو، اس وقت ملتوی رکھو۔ پھر کسی دوسرے وقت بطرز مناسب طے ہو سکتی ہے۔ فرمائش کسی چیز کی نہ کرنی چاہیے۔ فرمائش کرنے سے آدمی نظروں سے گھٹ جاتا ہے اور اس کی بات ہیٹی پڑ جاتی ہے۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تم کو اپنے ہاتھوں سے کرنا عار نہ سمجھنا چاہیے۔ چھوٹوں پر مہربانی اور بڑوں کا ادب ہر دل عزیز ہونے کے واسطے بڑی عمدہ تدبیر ہے۔ اپنا کوئی کام دوسروں کے ذمے نہیں رکھنا چاہیے اور اپنی کسی چیز کو بے خبری سے پڑا نہ رہنے دو کہ دوسرے اس کو اٹھا لیں گے۔ جب دو آدمی چپکے چپکے باتیں کریں ، ان سے علیحدہ ہو جانا چاہیے، پھر ان کی تفتیش بھی مت کرو کہ یہ آپس میں کیا کہتے تھے اور خواہ مخواہ یہ بھی مت سمجھو کہ کچھ ہمارا ہی تذکرہ تھا۔ اپنا معاملہ شروع سے ادب لحاظ کے ساتھ رکھو۔ جن لوگوں میں بہت جلد حد درجے کا اختلاط پیدا ہو جاتا ہے، اسی قدر جلد ان میں رنجش پیدا ہونے لگتی ہے۔ فقط میں چاہتا ہوں کہ تم ہر روز بلا ضرورت بھی اس خط کو کم سے کم ایک دفعہ پڑھ لیا کرو تاکہ اس کا مطلب پیش نظر رہے۔ والدعا۔
    حررہ
    خیر اندیش خان

    صفحہ 59
    باپ کا خط پا کر اصغری کے دل میں جوش محبت نے عجیب اثر پیدا کیا اور بے اختیار رونے کو جی چاہا۔ لیکن نئی بیاہی تھی، سسرال میں رو نہ سکی۔ ضبط کو کام میں لائی اور باپ کے خط کو آنکھوں سے لگا بہت احتیاط سے وظیفے کی کتاب میں رکھ لیا۔ ہر روز بلا ناغہ اس کے مطلب پر غور کرتی تھی۔

    باب گیارہواں
    بیاہ کے بعد اصغری کا برتاؤ اور بتدریج انتظام خانہ داری میں اس کا دخل

    جب تک اصغری نئی بیاہی ہوئی رہی تو اس کا جی بہت گھبراتا۔ اس واسطے کہ دفعتاً ماں کا گھر چھوڑ کر نئے گھر اور نئے آدمیوں میں رہنا پڑا۔ یہ تو کام اور انتظام کی خوگر تھی، بے شغل ایک گھڑی چین نہ تھا، یہاں مہینوں بند کوٹھڑی میں چپ چاپ بیٹھنا پڑا۔ ماں باپ کے گھر میں جو آزادی حاصل تھی، باقی نہ رہی۔ یہاں سسرال میں آتے ہی اس کی ہر ایک بات کو لوگ دیکھنے اور تاکنے لگے۔ کوئی منھ دیکھتا ہے، کوئی چوٹی کی لمبائی کو ناپتا ہے، کوئی قد کی اٹھان کو تاڑتا ہے، کوئی زیور ٹٹولتا ہے، کوئی کپڑے پہچانتا ہے۔ کھاتی ہے تو لقمے پر نظر۔ نوالہ کتنا بڑا کھولا۔ کیوں کر چبایا اور کس طرح نگلا۔ اٹھتی ہے تو دیکھتے ہیں کہ دوپٹہ کیوں کر اوڑھا۔ پائنچے کس طرح اٹھائے۔ سوتی ہے تو وقت پر نگاہ ہے۔ کس وقت سوئی، کب اٹھی۔ الغرض جملہ حرکات و سکنات اس کی زیر نظر تھیں۔ ایسی حالت میں اصغری کو سخت تکلیف ہوتی تھی لیکن از بس کہ عاقلہ اور تربیت یافتہ تھی، ایسے سخت امتحان میں کامل نکلی اور سب ادائیں اس کی سسرال والوں کو بھائیں۔ بات کی نہ تو اس قدر بہت کہ لوگ کہیں، لڑکی ہے، چار دن کی بیاہی ہوئی، کس بلا کی بک بک لگا رکھی ہے۔ نہ اتنی کم کہ بدمزاج اور توزے پیٹی سمجھیں۔ کھانا کھایا تو نہ اتنا زیادہ کہ محلے میں چرچا ہو، نہ ایسا کہ ساس نندیں سر

    صفحہ 60
    تھکا کر بیٹھ رہیں اور یہاں اثر نہ ہو۔ سوئی تو نہ اتنا سویرے کہ چراغ میں بتی پڑی، لاڈو میری تخت چڑھی، اور نہ اتنی دیر تک کہ گویا مُردوں سے شرط باندھ کر سوئی تھی۔
    دستور ہوتا ہے کہ نئی دلہن کو محلے کی لڑکیاں گھیرے رہا کرتی ہیں۔ اصغری کے پاس بھی جب دیکھو، دس پانچ موجود۔ لیکن اصغری نے کسی سے خصوصیت پیدا نہ کی۔ اگر کوئی لڑکی تمام دن بیٹھی رہ گئی تو یہ نہ کہا کہ بوا اپنے گھر جاؤ۔ اگر کوئی نہ آئی تو یہ نہ پوچھا کہ بوا تم کہاں تھیں؟ اصغری کے اس طرز ملاقات سے رفتہ رفتہ لڑکیوں کا انبوہ کم ہو گیا۔ خصوصاً محلے کی کمیّوں کی لڑکیاں تو چاٹ آشنا ہوتی ہیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ نہ تو پان پر پان ملتا ہے نہ کچھ سودے سلف کا چرچا ہے، کھسیانی ہو کر چھ سات دن میں آپ ہی آپ سے الگ ہو گئیں۔ اصغری نے پہلے ہی اپنی نند محمودہ سے رابطہ بڑھایا۔ محمودہ لڑکی تو تھی ہی، تھوڑے سے التفات میں رام ہو گئی۔ دن بھر اصغری کے پاس گھسی رہا کرتی۔ بلکہ ماں کسی کسی وقت کہہ بھی اٹھتی کہ اس بھاوج پر اتنی مہربان ہو۔ بڑی بھاوج کے تو سائے سے بھاگتی پھرتی تھیں۔ محمودہ اس کا جواب دیتی، " وہ تو ہم کو مارتی تھیں۔ ہماری چھوٹی بھابی جان تو ہم کو پیار کرتی ہیں"۔
    محمودہ کی ملاقات سے اصغری نے اپنا کام خوب نکالا۔ اول تو تمام گھر بلکہ تمام کنبے اور محلے کا حال محمودہ سے پوچھ پوچھ کر معلوم کیا اور جو بات شروع میں شرم و لحاظ کے سبب خود نہ کہہ سکتی تھی، محمودہ کے ذریعے سے کہا کرتی۔ اصغری نے گھر کے کام میں بتدریج اس طرح دخل دینا شروع کیا کہ شام محمودہ سے روئی منگا کر چراغ کی بتیاں بٹ دیا کرتی۔ ترکاری بنا لیتی، محمودہ کا پھٹا ادھڑا کپڑا سی دیتی، ساس اور میاں کے لئے پان بنا دیا کرتی۔ شدہ شدہ باورچی خانے تک جانے اور ماما عظمت کو بھوننے بگھارنے میں صلاح دینے لگی۔ یہاں تک کہ اصغری کی رائے پر کھانا پکنے لگا۔ جب سے اصغری نے کھانے میں دخل دینا شروع کیا، گھر والوں نے جانا کہ کھانا بھی عجیب نعمت ہے۔ پھر تو یہ حال ہو گیا کہ جس دن اصغری کسی وجہ سے ماما عظمت کی صلاح کار نہ ہوتی ، کھانا پھکا پھکا پھرتا۔
    --------------------------
    ریختہ صفحات 54 تا 60 مکمل
    --------------------------
     
    آخری تدوین: ‏فروری 11, 2021
  4. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 46

    وہ ازار بند خاص لاہور کا بنا ہوا نہایت عمدہ تھا۔ چوڑا چکلا, کلابتوں کی لچھے دار ہڑیں۔

    محمد عاقل نے کہا "دو روپے سے کسی طرح کم نہیں۔"

    مزاج دار: "چار آنے کو لیا ہے۔"

    محمد عاقل : "سچ کہو۔"

    مزاج دار: "تمہارے سر کی قسم، چار ہی آنے کو لیا ہے۔"

    محمد عاقل : "بہت سستا ہے۔ کہاں سے مل گیا؟"

    مزاج دار : "ایک حجن بڑی نیک بخت ہے۔ بہت دنوں سے گلی میں آیا کرتی ہے۔ کسی بیگم کا ہے۔ بیچنے کو لائی تھی۔"

    یہ کہہ کہ سرمہ ناد علی، فیروزے کی انگوٹھی بھی مزاج دار نے دکھائی۔ طمع ایسی چیز ہے کہ بڑا سیانا آدمی بھی دھوکا کھا جاتا ہے۔ جنگلی جانور، مینا، طوطا، لعل، بلبل آدمی کی شکل سے بھاگتے ہیں، لیکن دانے کی طمع سے جال میں پھنس جاتے ہیں اور زندگی بھر قفس میں قید رہتے ہیں۔ اسی طرح محمد عاقل اپنا فائدہ دیکھ کر خوش ہوا۔ اور جب مزاج دار نے کہا کہ وہ حجن بیگم کا تمام اسباب جو بکنے کو نکلے گا میرے پاس لانے کا وعدہ کر گئی ہے تو محمد عاقل نے کہا "ضرور دیکھنا چاہیے۔ لیکن ایسا نہ ہو چوری کا مال ہو۔ پیچھے خرابی پڑے۔ ہاں حجن کوئی ٹھگنی نہ ہو۔"

    مزاج دار نے کہا "خدا خدا کرو! وہ جن ایسی نہیں ہے۔"

    غرض بات گئی گزری ہوئی۔ محمد عاقل سے جو آج ایسی باتیں ہوئیں، لونگوں پر مزاج دار کا اعتقاد جم گیا۔ اگلے دن زلفن کو بھیج حجن کو بلایا اور آج مزاج دار بیٹی بنیں اور حجن کو ماں بنایا۔ رات کے وقت محمد عاقل سے پھر حجن کا ذکر آیا۔ محمد عاقل نے کہا "دیکھو ہوشیار رہنا، اس بھیس میں کٹنیاں اور ٹھگنیاں بہت ہوا کرتی ہیں۔" لیکن طمع نے خود محمد عاقل کی عقل پر ایسا پردہ ڈال دیا کہ اتنی موٹی بات وہ نہ سمجھا کہ دو روپے کا مال چار آنے میں کوئی بے وجہ بھی دے دیتا ہے۔ محمد عاقل کو مناسب تھا کہ قطعاً حجن کے آنے کی ممانعت کرتا اور سب چیزیں اس کو پھروا دیتا۔ مزاج دار کو اتنی عقل کہاں تھی کہ اس تہہ کو سمجھتی۔ کئی دن کے بعد مزاج دار نے ان سے پوچھا "کیوں بی، آج کل بیگم کا کوئی سامان نہیں لاتیں؟"

    Page 47

    حجن نے جان لیا کہ اس کو چاٹ اچھی لگ گئی ہے۔ کیا تمہارے ڈھب کی کوئی چیز نکلے تو لاؤں۔" دو چار دن کے بعد جھوٹے موتیوں کی ایک جوڑی لائی اور کہا "لو بی، خود بیگم کی نتھ کے موتی ہیں۔ نہیں معلوم ہزار کی جوڑی ہے یا پانچ سو کی۔ پنا مل جوہری کی دکان پر میں نے دکھائی تھی۔ لٹو ہو ہو گیا۔ دو سو روپے زبردستی میرے پلے باندھ دیتا تھا۔ میں بیگم سے پچاس روپے میں لائی ہوں۔ تم لے لو۔ پھر ایسا مال نہ ملے گا۔"

    مزاج دار نے کہا "پچاس روپے نقد تو میرے پاس نہیں ہیں۔"

    حجن نے کہا "کیا ہوا بیٹی۔ پنجیاں بیچ کر لے لو۔ نہیں تو آج یہ موتی بک جائیں گے۔" حجن نے ایسے ڈھب سے کہا کہ مزاج دار فوراً زیور کا صندوق اُٹھا لائی اور حجن کو پہنچیاں نکال حوالے کر دیں۔ حجن نے مزاج دار کا زیور دیکھ کر کہا "اے ہے! کیسی بے احتیاطی سے زیور مولی گاجر کی طرح ڈال رکھا ہے۔ بیٹی دهگدگی میں ڈورا ڈلواؤ۔ بالی پتے گلو بند، بازو بند میلے چکٹ ہو گئے ہیں۔ میل سونے کو کھائے جاتا ہے۔ ان کو اجلواؤ۔"

    مزاج دار نے کہا "کون ڈورا ڈلوائے اور کون اجلوا کر لائے۔ ان سے کہتی ہوں تو وہ کہتے ہیں مجھے فرصت نہیں۔"

    جن نے کہا "اوئی بیٹی! یہ کون سال بڑا کام ہے۔ لو، موتی رہنے دو۔ میں ابھی ڈورا ڈلواؤں۔ اور جو زیور میلا ہے، نکال دو۔ میں ابھی اجلوا دوں۔"

    مزاج دار نے سب زیور حوالے کیا۔ حجن نے کہا "زلفن کو بھی ساتھ کر دو۔ سنار کے پاس بیٹھی رہے۔ میں پٹوے سے ڈورے ڈلواؤں گی۔"

    مزاج دار نے کہا "اچھا۔" یہ کہہ کر زلفن کو آواز دی۔ آئی تو حجن نے کہا "لڑکی، ذرا میرے ساتھ چل۔ سنار کی دکان پر بیٹھی رہیو۔"

    حجن نے زیور لیا۔ زلفن کے ساتھ ہوئی۔ گلی سے باہر نکل کر حجن نے رومال کھولا اور زلفن سے کہا، "لاؤ اجلوانے کا الگ کر لیں اور ڈورا ڈلوانے کا الگ۔ زیور کو الگ کرتے کرتے حجن بولی "ایں! ناک کی کیل کیا ہوئی؟"

    زلفن نے کہا "اسی میں ہو گی۔ ذرا بھر کی تو چیز ہے۔ اس پوٹلی میں دیکھو۔"

    پھر حجن آپ ہی آپ بولی۔ "اے ہے! پان وان کے ڈھکنے پر رکھی رہ گئی۔ اری زلفن، دوڑ کر جلدی سے لے آ۔"

    Page 48

    زلفن بھائی بھائی آئی اور دروازے سے چلائی "بی بی، ناک کی کیل پان دان کے ڈھکنے پر رہ گئی ہے۔ حجن نے مانگی ہے۔ جلدی دو۔ حجن گلی کے نکڑ پر دیبا بنیے کی دکان کے آگے بیٹھی ہے۔"

    یہ کہنا تھا کہ مزاج دار بہو کا ماتھا ٹھنکا۔ زلفن سے کہا۔ "باؤلی ہوئی ہے؟ کیسی کیل؟ میرے پاس کہیں تھی؟ تو نے دیکھی ہے؟ اری کم بخت! دوڑ دیکھ حجن کہیں چلی نہ جائے۔"

    زلفن الٹے پاؤں دوڑی گئی۔ حجن کو اِدھر اُدھر دیکھا، کہیں پتہ نہ تھا۔ مزاج دار سے آ کر کہا "بی حجن کا تو کہیں پتہ نہیں۔ میں بازار تک دیکھ آئی۔ اتنی دیر میں نہیں معلوم کہاں غائب ہو گئی۔"

    یہ سن کر مزاج دار سر پیٹنے لگی۔ "ہائے! میں لٹ گئی! ہائے میں لٹ گئی! ارے لوگو! خدا کے لئے دوڑیو۔"

    موم گروں کے چھتے تک لوگ دوڑے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ کہیں کی بہتی بہاتی مہینے بھر سے کرائے پر آ کر رہی تھی۔ چار دن سے مکان چھوڑ چلی گئی۔ اب کیا ہو سکتا تھا۔ محمد عاقل نے آ کر سنا تو سر پیٹ لیا اور بیوی سے کہا "اری! تو گھر کو خاک سیاہ کر کے چھوڑے گی۔ میں تو تجھ کو پہلے سے جانتا ہوں۔"

    مزاج دار نے کہا "چل دور ہو۔ اب باتیں بنانے کھڑا ہوا ہے۔ ازار بند دیکھ کر تو نے مجھ سے کہا تھا کہ بیگم کا اسباب ضرور دیکھنا۔"

    غرض خوب مزے کی لڑائی دونوں میاں بی بی میں ہوئی۔ تمام محلہ جمع ہو گیا۔ بات پر بات چلی تو معلوم ہوا کہ اس حجن نے کنچنی کی گلی میں احمد بخش خان کی بی بی کا تمام زیور اس حیلے سے ٹھگ لیا کہ ایک فقیر سے دونا کرا دوں گی۔ روئی کے کڑے میں میاں مستیا کی بیٹی سے ایسی محبت بڑھائی کہ اس کا زیور بہانے سے اڑا لے گئی۔ غرض زیور تو گیا گزرا ہوام باتیں بہت سی رہ گئیں۔ برتن چوری جا چکے تھے۔ زیور یوں غارت ہوا۔ ہزار روپے کے موتیوں کی جوڑی جو لوگوں نے دیکھی تو تین پیسے کی تھی۔ تھانے میں اطلاع ہوئی۔ لوگوں نے بطور خود بہت ڈھونڈا، حجن کا سراغ نہ ملا پر نہ ملا۔

    اکبری کو جہیز میں جو کپڑے ملے تھے ان کا حال سنئے۔ جب تک ساس کے ساتھ

    Page 49

    رہیں، ساس دسویں دن نکال کر دھوپ دے دیا کرتی تھیں۔ شروع برسات میں الگ ہو کر رہیں ۔ کپڑوں کا صندوق جس کوٹھڑی میں جس طرح رکھا گیا تھا تمام برسات گزر گئی اس کو دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ وہیں اسی طرح رکھا رہا۔ جاڑے کی آمد میں دولائی کی ضرورت ہوئی تو صندوق کھولا گیا۔ بہت سے کپڑوں کو دیمک چاٹ گئی تھی۔ چوہوں نے کاٹ کاٹ کر بغارے ڈال دیے تھے۔ کوئی کپڑا سلامت نہیں بچنے پایا۔

    اکبری کا جتنا حال تم نے پڑھا اس سے تم کو معلوم ہوا ہو گا کہ اکبری کو نانی کے لاڈ پیار نے زندگی بھر کیسی مصیبت میں رکھا۔ لڑکپن میں اکبری نے نہ تو کوئی ہنر سیکھا نہ کچھ اس کے مزاج کی اصلاح ہوئی۔ جب اکبری نے اس سے جدا ہو کر الگ گھر کیا، برتن بھانڈا، کپڑا زیور سب کچھ اس کے پاس موجود تھا۔ چونکہ خانہ داری کا سلیقہ نہیں رکھتی تھی، چند روز میں تمام مال و اسباب خاک میں ملا دیا اور ایک ہی برس میں ہاتھ کان سے ننگی رہ گئی۔ اگر محمد عاقل بھی اس کی طرح کا احمق اور بد مزاج ہوتا تو شاید ایک دوسرے سے قطع تعلق ہو جاتا لیکن محمد عاقل نے ہمیشہ عقل و شرافت کو برتا۔ ہم کو اکبری کے اتنے حالات موجود ہیں کہ اگر ہم سب کو لکھنا چاہیں تو ایسی تین چار کتابیں بنیں۔ مگر اکبری کے حالات پڑھنے سے کبھی تو غصہ آتا ہے اور کبھی طبیعت کڑھتی ہے۔ اس سے اس کے زیادہ حالات لکھنے کو جی نہیں چاہتا۔ اس کی چھوٹی بہن اصغری کا حال کیوں نہ لکھیں کہ بات بات پر پڑھنے والوں اور سننے والوں سب کا جی خوش ہو جائے۔

    باب نواں

    اصغری کا بیاہ اور اس کا مختصر حال

    یہ لڑکی اپنی ماں کے گھر ایسی تھی جیسے گلاب کا پھول یا آدمی کے جسم میں آنکھ۔ ہر ایک طرح کا ہنر، ہر ایک طور کا سلیقہ اسے حاصل تھا۔ دانائی، ہوشیاری، ادب، قاعدہ، غربت، نیک دلی، ملن ساری، خدا ترسی، حیا، لحاظ سب صفتیں خدا نے اصغری کو عنایت کی

    Page 50

    تھیں۔ لڑکپن سے اس کو کھیل کود، ہنسی اور چھیڑ سے نفرت تھی۔ پڑھنا یا گھر کا کام کرنا۔ کبھی اس کو واہیات بکتے یا کسی سے لڑتے نہیں دیکھا۔ محلے کی جتنی عورتیں تھیں سب اس کو بیٹیوں کی طرح چاہتی تھیں۔ بے شک زہے قسمت اس ماں اور باپ کی کہ جن کی بیٹی اصغری تھی اور خوش نصیب اس گھر کے جس میں اصغری بہو بن کر جانے والی تھی۔ اب خدا کے فضل و کرم سے اصغری کی عمر تیرہ برس کی ہوئی۔ بات تو اس کی محمد کامل سے ٹھیری ٹھہرائی تھی اب چرچا ہونے لگا کہ مہینہ اور دن مقرر ہو جائے۔ ادھر اکبری کی ماں اکبری کے ڈھنگ دیکھ دیکھ کر ڈر گئی تھی۔ مثل ہے، دودھ کا جلا چھاچھ کو چھونک پھونک کر پیتا ہے، اکبری کے تصور سے اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔ در پردہ محمد کامل کی ماں کا ارادہ تھا کہ چھوٹے لڑکے کی منگنی کسی اور جگہ کروں کہ محمد عاقل کو کسی طرح معلوم ہو گیا اور اس نے ماں سے کہا۔ "اماں میں نے سنا ہے کہ تم محمد کامل کی منگنی چھڑانی چاہتی ہو۔"

    ماں نے کہا "کیا بتاؤں بیٹا۔ بڑی سوچ میں ہوں۔ کیا کروں، کیا نہ کروں۔ تم سے میری آنکھ سامنے نہیں ہوتی۔ خدا نے مجھ کو تمہارا گنہگار بنا دیا۔ دیکھئے محمد کامل کی قسمت کیسی ہے۔"

    محمد عاقل نے کہا "اماں میں جو کہتا ہوں، اصغری ہزار لڑکیوں میں ایک ہے۔ عمر بھر چراغ لے کر ڈھونڈو گی تو اصغری جیسی لڑکی نہ پاؤ گی۔ صورت سیرت دونوں میں خدا نے اس کو لائق فائق بنایا ہے۔ ہرگز اندیشہ مت کرو۔ بسم اللہ کر کے بیاہ ڈالو اور بڑی بہن پر جو خیال کرو تو آپ نے سنا ہو گا۔؎

    نہ ہر زن زنست و نہ ہر مرد مرد

    خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد

    اپنا اپنا مزاج ہے اور اپنی اپنی طبیعت؎

    گل جو چمن میں ہیں ہزار، دیکھ ظفر ہے کیا بہار

    سب کا ہے رنگ جدا جدا، سب کی ہے بو الگ الگ

    تمہاری بڑی بہو کو لا حول ولا قوۃ اصغری سے کیا نسبت؎

    چہ نسبت خاک را با عالم پاک

    اور خدارا میری بات کا یقین کرو۔ مجھ کو اپنے بارے میں تم سے ذرا بھی شکایت

    Page 51

    نہیں۔ اس خیال کو طبیعت سے نکال ڈالو۔ میں خوب جانتا ہوں کہ کوئی کسی کے دل میں نہیں گھستا۔ ظاہر حال پر سب کی نظر پڑا کرتی ہے اور انجام کی خبر خدا کو ہے۔ یوں تو جس کو بٹھاؤ گی کامل کی بی بی ہو گی۔ تمہاری بھوج ہو گی اور ہماری بھاوج۔ مگر اماں، پھر کہتا ہوں کہ اصغری میری جانی بوجھی ہوئی لڑکی ہے۔ وہ شاید بڑی بہو کو بھی ٹھیک کر لے گی۔ ہے تو چھوٹی مگر سارا محلہ اس کا ادب کرتا ہے اور وہ ہے بھی اس قابل۔ دیکھو خدا کے لئے کہیں اصغری کو نہ چھوڑنا۔"

    محمد عاقل نے جو اصغری کی اس قدر تعریف کی تو بات پکی ہو گئی۔ غرض دونوں سمدھیانے کی صلاح سے یہ امر قرار پایا کہ بقر عید کے اگلے دن کی اصل خیر سے نکاح ہو۔ اصغری کا باپ دور اندیش خاں پہاڑ پر نوکر تھا۔ اس کو خط گیا۔ خط پہنچتے ہی خاں صاحب کی باچھیں ہی تو کھل گئیں۔ اصغری کو سب بچوں میں بہت چاہتا تھا۔ فوراً رخصت کی درخواست کی۔ جواب صاف ملا۔ بہت زور مارے، ایک نہ چلی۔ جاڑے کی آمد تھی۔ دورہ شروع کو تھا۔ حاکم کو بھی بہانہ معقول تھا۔ دور اندیش خاں کو رخصت نہ ملنے سے بہت رنج ہوا۔ مگر بندگی و بے چارگی کیا کرتا، قہر درویش برجان درویش۔ چپ ہو کر بیٹھ رہا۔ لیکن بڑا بیٹا خیر اندیش تھا۔ پانسو روپے نقد دے کر اس کو گھر روانہ کیا اور سب پس و پیش سمجھا دیا۔ گھر پر زیور، کپڑا، برتن سب پہلے موجود تھا۔ خیر اندیش خاں نے مکان پر پہنچ کر چاول، گھی، گیہوں، مصالحہ، نمک سب بقدر ضرورت خرید لیا۔ اصغری کے کپڑوں میں مصالحہ اٹکنا شروع ہوا۔ ماں کا ارادہ تھا کہ اصغری کو بڑی بہن سے بڑھ چڑھ کر جہیز دے۔ جوڑے بھی اس سے زیادہ ہوں۔ برتن بھی استعمال کے وزنی دیے جائیں۔ زیور کے عدد بھی زیادہ ہوں۔ اصغری آخر اس گھر میں رہتی تھی۔ جو بات ہوتی اس کو ضرور معلوم ہو جاتی۔ جب اصغری نے سنا کہ مجھے کو آپا سے زیادہ جینز ملنے والا ہے تو اس کو رنج ہوا اور اس فکر میں ہوئی کہ کسی تدبیر سے اماں کو منع کر دوں۔ آخر اپنی خالہ زاد بہن تماشا خانم سے شرماتے شرماتے کہا۔ "میں نے ایسا سنا ہے۔ مجھ کو اس کا نہایت سوچ لگا ہے۔ کئی دن سے نہایت فکر میں تھی۔ الہٰی کیا کروں! اچھا ہوا تم آ نکلیں۔ بوجہ ہم عمری تم سے کہنے میں تامل نہیں۔ کوئی اماں کو اتنی بات سمجھا ہے کہ مجھ کو آپا سے زیادہ ایک چیز نہ دیں۔"

    تماشا خانم نے سن کر کہا۔ "تم بھی بوا کوئی تماشے کی عورت ہو۔ وہی کہاوت ہے،

    Page 52

    گدھے کو نون دیا، اس نے کہا میری آنکھیں دکھتی ہیں۔ خدا دلواتا ہے۔ تم کیوں انکار کرو؟؛

    اصغری نے کہا "تم دیوانی ہو، اس میں کئی قباحتیں ہیں۔ آپا کے مزاج سے تم واقف ہو۔ ان کو ضرور رنج ہو گا۔ ناحق اماں سے بدمزگی ہو گی۔ مجھ سے بھی ان کو بدگمانی پیدا ہو گی۔"

    تماشا خانم نے کہا "بوا، اس میں بدمزگی کی کیا بات ہے؟ اپنی اپنی قسمت ہے۔ اور سمجھے کو سو طرح کی باتیں ہیں۔ ان کی بسم اللہ کی شادی ہوئی۔ روزہ کشائی ہوئی۔ چار برس تک منگنی رہی۔ تہوار ان کا کونسا نہیں ہوا؟ ان کی کسر ادھر سمجھ لیں۔"

    اصغری نے کہا "سچ ہے، مگر نام تو جہیز کا ہے۔ چھوٹی کو زیادہ ملے گا تو بڑی کو رنج ہی ہو گا۔ ایک محلے کا رہنا روز کا ملنا ملانا۔ جس بات سے دلوں میں فرق پڑے، وہ کیوں کی جائے؟"

    تماشا خانم نے کہا "بہن، ناحق تم اپنا نقصان کرتی ہو۔ اجی مہینے دو مہینے میں سب بھول جائیں گے۔"

    اصغری نے کہا "ارے بی، اللہ اللہ کرو۔ نفع نقصان کیا؟ کہیں ماں باپ کے دینے سے پوری پڑتی ہے اور جہیز سے عمریں کٹتی ہیں؟ خدا اپنی قدرت سے دے۔ تم اس بات میں اصرار مت کرو۔ نہیں تو میں کوئی دوسری تدبیر کروں گی۔"

    عرض اصغری کی ماں کی تک یہ بات پہنچ گئی اور وہ بھی سوچ سمجھ کر اپنے ارادے سے باز رہیں۔ دل میں کہنے لگیں۔ "دینے کے سو ڈھب ہیں۔ دوسری جگہ سمجھ لوں گی۔ الغرض روز مقررہ کو سماعت نیک میں نکاح ہو گیا۔ مبارک سلامت ہونے لگی۔ خیر اندیش خاں ایسا منتظم آدمی تھا کہ اکیلے نے نہایت خوبی کے ساتھ بہن کا بیاہ کر دیا۔ براتیوں کی مدارات اعلىٰ قدر مراتب خوب ہوئی۔ حق حقوق والوں کو خاصی طرح راضی کر دیا۔ جب اصغری کی رخصت کا وقت آ پہنچا، گھر میں آفت برپا تھی۔ ماں پر تو نہایت درجے کا صدمہ تھا۔ محلے کی بیبیوں کا یہ حال تھا کہ آ آ کر اصغری کو گلے لگا کر روتی تھیں اور ہر ایک کے دل سے دعا نکلتی تھی۔ اصغری ان دعاؤں کا بڑا بھاری جہیز لے کر سسرال میں داخل ہوئی۔ وہاں کی جو رسمیں تھیں ادا ہوئیں۔ رونمائی کے بعد اصغری خانم کو تمیزدار بہو کا خطاب ملا۔ آگے

    Page 53

    چل کر تم کو معلوم ہو جائے گا کہ اصغری خانم نے خانہ داری کو کس طرح سنبھالا، کیا کیا مشکلیں اس کو پیش آئیں اور اس نے اپنی عقل سے کیوں کر اس کو رفع کیا۔

    ذرا اصغری کی حالت کا اکبری کی حالت سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ اصغری ماں کی دوسری بیٹی اور ساس کی دوسری بہو تھی۔ دونوں طرف ارمان اور حوصلے اکبری کے بیاہ میں نکل چکے تھے۔ اکبری سولہ برس کی بیاہی گئی تھی اور اصغری بیاہ کے وقت پوری تیرہ برس کی بھی نہ تھی۔ جب اکبری کا بیاہ ہوا اس کا دولہا محمد عاقل دس روپے کا نوکر تھا اور اصغری کا دولہا محمد کامل ہنوز پڑھ رہا تھا۔ محمد عاقل کی نسبت محمد کامل کم علم اور کم عقل تھا۔ اکبری کامل دو برس تک بچوں کے بکھیڑے سے آزاد رہی اور اصغری کو خدا نے بیاہ کے دوسرے برس ہی چھوٹی سی عمر میں ماں بنا دیا۔ اکبری کو بھی شہر سے باہر نکلنے کا اتفاق نہیں ہوا اصغری برسوں سفر میں رہی۔ پس بہرحال، اصغری کی حالت اکبری کے مقابلے میں اچھی نہ تھی مگر اصغری کو چھٹپن سے تربیت ہوئی تھی۔ روز بروز گھر میں برکت زیادہ ہوتی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ اکبری کا نام بھی کوئی نہیں جانا اور خانم کے بازار میں تمیز دار بہو کا یہ عالی شان محل کھڑا ہے کہ آسمان سے باتیں کرتا ہے اور اصغری خانم کے نام ہی سے وہ خانم بازار مشہور ہوا۔ جوہری بازار میں وہ اونچی مسجد جس میں حوض اور کنواں ہے، تمیز دار بہو ہی کی بنوائی ہوئی ہے۔ خاص بازار سے آگے بڑھ کر لال ڈگی کی بغل میں تمیز گنج اسی کا ہے۔ مولوی محمد حیات کی مسجد میں اب تک بیس مسافروں کو اس لنگر خانے سے خمیری روٹی اور چنے کا قلیہ دونوں وقت پہنچا کرتا ہے۔ قطب صاحب میں اولیاء مسجد کے برابر سرائے اسی تمیزدار بہو کی بنائی ہوئی ہے۔ رمضان کے رمضان فتح پوری میں بمبئی کے چھاپے کے پانسو قرآن اس کی طرف سے تقسیم ہوا کرتے ہیں۔ ہزار کمبل آتے جاڑے مسکینوں کو اس کے گھر سے ملتے تھے۔

    جب خیر اندیشی خان نے اپنے باپ دور اندیش خاں کو اطلاع کی کہ خدا کے فضل و کرم سے خیر و خوبی کے ساتھ ہمشیرہ عزیزہ کا عقد ذی الحجہ کی گیارہویں تاریخ مہر فاطمہؓ پر ہو گیا، دور اندیش خان نے دو رکعت نماز نفل شکرانہ ادا کی۔ لیکن بیٹی کی مفارقت کا قلق بہت دنوں تک رہا۔
     
  5. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 61

    باب بارہواں

    اصغری نے ماما عظمت کی چوری پکڑی وہ لگی اس سے دشمنی کرنے

    ساس بہووں کی لڑائی بھی کچھ معمولی بات ہے۔ اصغری یوں لڑنے کے قابل نہ تھی تو اس کا ہنر باعثِ فساد ہوا۔ ماما عظمت اس گھر میں ایسی دخیل کار تھی کہ کاموں کا مدار ایک اس ماما پر تھا۔ سودا سلف، کپڑا غرض جو کچھ بازار سے آتا سب ماما عظمت کے ہاتھوں آتا۔ زیور تک عظمت بنوا کر لاتی۔ جس چیز کی ضرورت ہوتی تو ماما عظمت کی معرفت لی جاتی۔ غرض یہ کہ ماما عظمت مردوں کی طرح اس گھر کی منتظم تھی۔ جب سے اصغری نے کھانے میں دخل دیا تو ماما عظمت کا غبن ظاہر ہونے لگا۔ ایک دن پسندوں کے کباب پک رہے تھے اور اصغری باورچی خانے میں بیٹھی ہوئی ماما عظمت کو بتاتی جاتی تھی۔ جب گوشت پس کر تیار ہوا اور دہی مصالحے ملنے کا وقت آیا اصغری نے ماما سے کہا "دہی مجھے چکھا لو۔ کھٹا اور باسی ہو گا تو کباب بگڑ جائیں گے۔" ماما نے دہی کا دونا نکال اصغری کے ہاتھ میں دیا۔ اصغری نے چکھا تو کھٹا چونا۔ کئی دن کا باسی۔ نیلا نیلا پانی الگ اور دہی کی پھٹکیاں پھٹکیاں الگ۔ اصغری نے کہا "اے ہے کیسا برا دہی ہے ۔ یہ تو ہرگز کبابوں میں ڈالنے کے لائق نہیں۔ ماما جلد جاؤ اور ٹکے کا اچھا تازو میٹھا دہی دیکھ کر لاؤ۔"

    ماما نے کہا "اوئی بیوی! سیر بھر گوشت کے کبابوں میں ٹکے کا دہی! اونٹ کے منہ میں زیرہ کیا ہو گا؟ یہ دہی جو تم نے ناپسند کیا ایک آنے کا ہے۔"

    اصغری کو سن کر حیرت ہوئی۔ بولی کہ ہمارے گھر تو آئے دن کباب پکتے رہا کرتے ہیں۔ ہمیشہ سیر بھر گوشت میں ڈیڑھ پیسے کا دہی پڑتا تھا۔ اس حساب سے تو ٹکے کا میں نے زیادہ سمجھ کر منگوایا کہ کباب خوب نرم اور سرخ ہوں۔

    Page 62

    ماما نے کہا "بیوی، تم اپنے محلے کا حساب کتاب رہنے دو۔ بھلا کہاں چاندنی چوک اور کہاں ترکمان دروازہ۔ جو چار چاندنی چوک میں پیسے کی ہے وہ یہاں ایک آنے کی نہیں ملتی۔ یہ خاک ملا تو اجڑی نگری سونا دیس ہے۔ یہاں ہر چیز کا توڑا ہے۔ ہر شے کا قحط رہتا ہے۔"

    چونکہ کھانے میں دیر ہوتی تھی، اصغری یہ سن کر چپ ہو رہی اور ماما سے کہا " خیر، جتنے کا ہو جلد لاؤ۔" لیکن اصغری ایسی بھولی نہ تھی کہ ماما کی بات کو تسلیم کر لیتی۔ اپنے دل میں کہنے لگی "ضرور دال میں کچھ کالا ہے۔ دمڑی چھدام فرق ہو تو مضائقہ نہیں۔ یہ غضب کہ ایک شہر کے دو محلوں میں سُگئے چوگنے کا فرق!" اس وقت سے اصغری بھی تاک میں ہوئی۔ اگلے دن ماما پان لائی تھی۔ اصغری نے دیکھ کر کہا "تم بالکل ہرے پتّے اُٹھا لاتی ہو۔ ان میں نہ تو لذت ہوتی ہے نہ کچھ مزا ہوتا ہے۔ اب تو جاڑے کی آمد ہے۔ کرارے پکے پان ڈھونڈ کر لایا کرو۔"

    ماما نے کہا۔ "پکے پکے پان تو پیسے کے دو آتے ہیں اور یہاں اللہ رکھے آدھی ڈھولی روز کا خرچ ہے۔ اس خیال سے میں نئے پان لاتی ہوں۔"

    اتنے میں اصغری کے اپنے گھر سے اس کی اپنی ماما کفایت النساء خیر صلاح کی خبر کو آ نکلی۔ پانوں کا تذکرہ تو در پیش تھا ہی، اصغری نے اپنی ماما سے پوچھا۔ "کیوں بی کفایت النساء، تم کو آج کل کیسے پان ملتے ہیں؟"

    کفایت نے کہا "بیوی پیسے کے بارہ۔"

    اصغری نے صندوقچہ کھول کر دو پیسے کفایت النساء کے ہاتھ میں دیے اور کہا "اسی محلے کے پنواڑی سے پان لے آؤ۔"

    کفایت النساء بڑے بڑے کرارے دلدار تیس پان لے آئی۔ اصغری نے کہا "چاندنی چوک کی نسبت بھی پیسے پیچھے تین پان زیادہ ملے۔"

    کفایت النساء نے کہا "بیوی، یہ محلہ شہر کا پھاٹک ہے۔ جو چیز شہر میں آتی ہے اسی دروازے سے آتی ہے۔ گوشت، اناج، پان، یہ چیزیں اس محلے میں سستی ملتی ہیں۔ البتہ ہری ترکاری سبزی منڈی سے سیدھے کابلی دروازے سے ہو کر شہر میں جاتی ہے۔ وہ کسی قدر مہنگی ملتی ہو گی۔ پرانے پان تیس ملے، نئے لیتی تو چالیس ملتے۔"

    Page 63

    اصغری نے کہا "یہ نامراد ماما عظمت تو ہر چیز میں یوں ہی آگ لگاتی ہے۔ کفایت النساء تم دو چار دن یہاں رہو۔ میں اماں سے کہلا بھیجوں گی۔ وہاں کا کام دو چار دن میں ہر کوئی دیکھ بھال لے گا۔"

    کفایت النساء نے کہا "بیوی میں حاضر ہوں۔ خدا نہ کرے، کیا یہاں وہاں دو گھر ہیں؟"

    غرض چار دن کفایت النساء کے ہاتھوں ہر طرف کا سودا بازار سے آیا اور ہر چیز میں ماما عظمت کا غبن ثابت ہوا۔ لیکن یہ سب باتیں اس طرح ہوئیں کہ اصغری کی ساس کو خبر تک نہ ہوئی۔ اصغری نے جانا یا کفایت النساء نے یا ماما عظمت نے۔ اس واسطے کہ اصغری بہت مروت اور لحاظ کی عورت تھی۔ اس نے سمجھا کہ اسی بڑھیا ماما عظمت کو بد نام اور رسوا کرنے سے کیا فائدہ۔ رات کے وقت کھانے سے فارغ ہو کر کوٹھے پر اصغری پان کھا رہی تھی۔ کفایت النساء بھی پاس بیٹھی ہوئی تھی۔ اتنے میں ماما عظمت آئی۔ کفایت نے کہا "کیوں بوا عظمت، یہ ماجرا کیا ہے؟ چوری کون نوکر نہیں کرتا۔ دیکھو، یہ گھر والی موجود ہے۔ سات برس تک برابر ان کی خدمت کی۔ کئی برس سے گھر کا سب کاروبار یہ اٹھائے ہوئے تھیں۔ اللہ رکھے امیر گھر اور امیری خرچ۔ ہزاروں روپے کا سودا ان ہی ہاتھوں سے آیا۔ حق دستوری یہ کیوں کر کہیں کہ نہیں لیا۔ اتنا لیا تو ہم نوکروں کا دھرم ہے۔ خدا بخشے، چاہے مارے، لیکن اس سے زیادہ ہضم نہیں ہو سکتا ۔ آگے بڑھ کر نمک حرامی میں داخل ہے۔"

    عظمت نے کہا "بوا، میرا حال کون نہیں جانتا۔ اب میری بلا چھپائے۔ میں تو چراتی اور لوٹتی ہوں۔ لیکن نہ آج سے بلکہ سدا سے میرا یہی کام ہے۔ ذرا میری حالت پر بھی نظر کرو کہ اس گھر میں کسی بلا کا کام ہے۔ اندر باہر میں اکیلی آدمی۔ اور نوکریوں کا کام میرے اکیلے دم پر پڑتا ہے۔ پھر، بوا بے مطلب تو کوئی اپنی ہڈیاں یوں نہیں پیلتا۔ بیوی کئی مرتبہ مجھ کو موقوف بھی کر چکی ہیں۔ پھر آخر مجھے ہی کو بلوایا۔ سمجھ کا پھیر ہے۔ کوئی یوں سمجھا کوئی یوں سمجھا۔ چار آدمی کے بدلے میں اکیلی ہوں۔ چار کی تنخواہ بھی مجھے اکیلی کو ملنی چاہیے۔"

    اس ماما عظمت کی حقیقت اس طرح ہے کہ یہ عورت پچیس برس سے اس گھر میں تھی اور ہمیشہ لوٹنے پر اتارو۔ ایک دن کی بات ہو تو چھپ چھپا جائے،' آئے دن اس پر شبہ


    Page 64

    ہوتا رہتا تھا۔ مگر تھی چالاک۔ گرفت میں نہیں آتی تھی۔ کئی مرتبہ نکالی گئی۔ جب موقوف ہوئی، بنئے، بزاز، سنار، قصائی، کنجڑے جن سے ان کی معرفت اچاپت قرض اُٹھتی تھی، تقاضے کو موجود ہوئے۔ اس ڈر کے مارے پھر بلائی جاتی تھی۔ یوں چوری اور سر زوری ماما عظمت کی تقریر میں لکھی تھی۔ جتا کر لیتی اور بتا کر چراتی۔ دکھا کر نکالتی اور لکھا کر مکر جاتی۔ گھر میں آمدنی کم اور عادتیں بگڑی ہوئی۔ کھانے میں امتیاز، کپڑے میں تکلف۔ سب کارخانہ قرض پر تھا اور قرض کی آڑھت ماما عظمت کے دم سے تھی۔ کھلے خزانے کہتی تھی کہ میرا نکالنا آسان بات نہیں۔ گھر نیلام کرا کے نکلوں گی۔ اینٹ سے اینٹ بجا کر جاؤں گی۔ اصغری نے جو حساب کتاب میں روک ٹوک شروع کی تو ماما عظمت اصغری کی جانی دشمن ہو گئی اور اپنے بچاؤ کے لئے بدلہ لینے کی نظر سے تدبیریں سوچنے لگی اور اس فکر میں ہوئی کہ کامل اور اس کی ماں سے اصغری کو برا بنائے ۔ اصغری کو اس کی مطلق خبر نہ تھی۔ بلکہ اصغری نے جب دیکھا کہ ماما گھر کی مختار کل ہے، نہ اپنی عادت سے باز آئے گی نہ نکلے گی تو پھر اپنے جی میں کہا کہ پھر ناحق کی جھک جھک سے کیا فائدہ۔ میں مفت میں ماما سے کیوں بری ہوں۔ باورچی خانے کا جانا اور کھانے میں دخل دینا موقوف کیا۔ گھر والوں کو اصغری کے ہاتھ کی چاٹ لگ گئی تھی۔ پہلے ہی وقت سے منہ بنانے لگے۔ کوئی کہتا "اے ہے گوشت منہ میں کچر کچر ہوتا ہے۔" کوئی کہتا "دال میں نمک زہر ہو گیا ہے۔ زبان پر نہیں رکھی جاتی۔" لیکن اصغری سے کون کہہ سکتا تھا کہ تم کھانا پکواؤ۔ مجبوراً جیسا برا بھلا ماما عظمت پکا ریندھ کر رکھ دیتی، کھانا ہی پڑتا تھا۔

    باب تیرھواں

    اصغری پر ماما کا پہلا وار

    ایک دن، برسات کے موسم میں، بادل گھرا ہوا تھا۔ ننھی ننھی پھوار پڑ رہی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ محمد کال نے کہا "آج تو کڑھائی کو دل چاہتا ہے۔ لیکن بشرطیکہ تمیز دار بہو اہتمام کریں۔ اصغری کوٹھے پر رہا کرتی تھی۔ اس کو خبر نہیں کہ محمد کامل

    Page 65

    نے کڑھائی کی فرمائش کی۔ ماما عظمت گھی، شکر، بیسن وغیرہ سامان لے آئی اور کامل سے کہا "صاجزادے، لیجیے، سودا تو میں لے آئی۔ جاؤں، بہو صاحب کو بلا لاؤں۔"

    کوٹھے پر گئی تو اصغری سے کڑھائی کا بھی تذکرہ تک نہیں آیا۔ اسی طرح الٹے پاؤں اتر آئی اور کہا "بہو کہتی ہیں میرے سر میں درد ہے۔" ماما عظمت سے معمولی کھانا تو پک نہیں سکتا تھا، کڑھائی کیا خاک تلتی۔ سب چیزوں کا ستیاناس ملا کر رکھ دیا۔ کس چاؤ سے تو محمد کامل نے فرمائش کی تھی۔ بدمزہ پکوان کھا کر بہت اداس ہوا۔ کوٹھے پر گیا تو بی بی کو دیکھا بیٹھی ہوئی اپنا پائجامہ سی رہی ہیں۔ جی ہی میں بہت نا خوش ہوا کہ ایں! سینے کو سر میں درد نہیں اور ذرا کڑھائی کو کہا تو درد سر کا بہانہ کر دیا۔

    یہ پہلی ناخوشی محمد کامل کو اصغری سے پیدا ہوئی۔ اور دستور ہے کہ میاں بیوں میں بگاڑ اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پیدا ہوتا ہے۔ از بس کہ اکثر چھوٹی کی عمر میں بیاہ ہو جاتا ہے، خدا کے فضل سے عقل مصلحت اندیش نہ میاں میں ہوتی ہے نہ بی بی میں۔ اگر ذرا سی بات بھی خلاف مزاج دیکھی تو میاں اپنے کو اکڑائے بیٹھے ہیں اور بی بی الگ منہ اوندھائے لیٹی ہیں۔ اور جب ایک جگہ کا رہنا سہنا ہو تو مخالفت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بیشتر واقع ہونا کیا تعجب ہے، یہ مخالفت کثرت سے ہوتے ہوتے دونوں طرف سے لحاظ پاس جاتا ہے اور تمام عمر جوتوں میں دال بٹتی رہتی ہے۔ سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ میاں بی بی شروع سے اپنا معاملہ دوسروں کے ساتھ صاف رکھیں اور ادنیٰ رنجش کو پیدا نہ ہونے دیں ورنہ یہی چھوٹی چھوٹی رنجشیں جمع ہو کر آخر کو فسادِ عظیم ہو جائیں گی۔ رنجش کو پیدا نہ ہونے دینے کی حکمت یہ ہے کہ جب کوئی ذرا سی بات بھی خلافِ مزاج واقع ہو اس کو دل میں نہ رکھیں۔ رو در رو کر کہہ صاف کر لیا کریں۔ اگر محمد کامل بی بی سے بطور شکایت پوچھتا کہ کیوں صاحب ذرا سا کام نہ ہو سکا تم سے اور درد سر کا بہانہ کر دیا؟ اس وقت دو چار باتوں میں معاملہ طے ہو جاتا اور ماما عظمت کی فطرت کھل پڑتی لیکن محمد کامل نے منہ پر تو لگائی مہر اور دل میں دفتر شکایت لکھ چلا۔ اصغری کو محمد کامل کی کم التفاتی سے کھٹکا ہوا اور سمجھی کہ خدا خیر کرے! لڑائی کا آغاز نظر آتا ہے۔ ساس کو دیکھا تو ان کو بھی کسی قدر مکدر پایا۔ حیرت میں تھی کہ الہیٰ کیا ماجرا ہے!

    Page 66

    باب چودھواں

    اصغری پر ماما کا دوسرا وار

    ابھی یہ بات طے نہیں ہوئی تھی کہ ماما نے ایک شرارت اور کی۔ رمضان کا قرب تھا۔ محمد کامل کی ماں نے ماما عظمت سے کہا "ماہ رمضان آتا ہے۔ ابھی سے سب تیاری کر چلو۔ برتن چھوٹے بڑے سب قلعی کرانے ہیں، مکان میں برس بھر ہوا سفیدی نہیں ہوئی۔ لالہ ہزاری مل سے کہو کہ جس طرح ہو سکے کہیں سے پچاس روپے دے۔ عید کا خرچ سر پر چلا آتا ہے۔"

    ماما عطمت بولی "تمیز دار بہو اپنی ماں کے ہاں مہمان جائیں گی اور سنا ہے تحصیلدار بھی آنے والے ہیں۔ ضرور دونوں بیٹیوں کو بلا بھیجیں گے۔ بلکہ ایک جگہ تو اس بات کا مذکور تھا کہ تمیز دار بہو کا ارادہ ہے کہ باپ کے ساتھ چلی جائیں۔ بہو جائیں گی تو چھوٹے صاجزادے بھی جائیں گے۔ پھر بیوی تمہاری اکیلا دم ہے۔ مکان میں قلعی ہو کر کیا ہو گی اور برتن قلعی ہو کر کیا ہوں گے؟ ہزاری مل کم بخت تو ایسا بے مروت ہو گیا کہ ہر روز تقاضے کو اس کا آدمی دروازے پر کھڑا رہتا ہے۔ وہ قرض کیوں کر دے گا۔"

    محمد کامل کی ماں یہ سن کر سرد ہو گئی۔ سرد ہونے کی بات ہی تھی۔ میاں تو جس دن سے لاہور گئے، پھر کر گھر کی شکل نہ دیکھی۔ چھٹے مہینے برسویں دن جی میں خیال آیا تو کچھ خرچ بھیچ دیا ورنہ کچھ سروکار نہیں۔ محمد عاقل ماں سے الگ ہو چکا تھا۔ صرف کامل کا دم گھر میں تھا۔ اس کے گئے پیچھے مطلع صاف تھا۔ محمد کامل کی ماں نے ماما سے پوچھا "اری، سچ بتا۔ تمیز دار بہو ضرور جائیں گی؟"

    ماما بولی "بیوی، جانے نہ جانے کی تو خدا جانے۔ جو سنا تھا کہہ دیا۔"

    محمد کامل کی ماں نے پوچھا "اری کم بخت، کس سے سنا؟ کیوں کر معلوم ہوا؟"

    Page 67

    ماما بولی "سننے کی تو پوچھو تو کفایت النساء سے میں نے سو روپے قرض مانگے تھے۔ اس نے کہا کہ میں دے تو دیتی لیکن پہاڑ پر جانے والی ہوں۔ تب میں نے اس سے حال پوچھا تو معلوم ہوا کہ سب بات ٹھیک ٹھاک ہو چکی ہے۔ بس اتنی دیر ہے کہ تحصیل دار آئیں، عید کی صبح کو یہ سب روانہ ہو جائیں گے۔ اور سننے پر کیا منحصر ہے، خدا کو دیکھا نہیں تو عقل سے پہچانا ہے۔ بیوی، کیا تم کو تمیزدار بہو کے ڈھنگوں سے نہیں سمجھ پڑتا؟ دیکھو پہلے تو بہو گھر کا کام کاج بھی دیکھتی بھالتی تھیں، یا تو کوٹھے پر سے نیچے اترنا بھی قسم ہے۔ خط باپ کے نام چلے آتے ہیں۔ سوائے جانے کے ایسا کون سا معاملہ ہے؟"

    محمد کامل کی ماں یہ حال سن کر سناٹے میں رہ گئی۔ اسی سوچ میں بیٹھی تھی کہ محمد کامل باہر سے آیا۔ کامل کو پاس بلا کر پوچھا "محمد کامل، ایک بات پوچھتی ہوں۔ سچ سچ بتاؤ گے؟“

    محمد کامل نے کہا "اماںِ بھلا ایسی کون سی بات ہے جو تم سے چھپاؤں گا؟"

    محمد کامل کی ماں نے جو کچھ ماما سے سُنا تھا حرف بحرف محمد کامل سے کہا۔

    محمد کامل نے کہا "اماں، میں سچ کہتا ہوں، مجھ کو اس کی مطلق خبر نہیں۔ نہ مجھ سے تمیزدار بہو نے اس کا تذکرہ کیا۔"

    محمد کامل کی ماں بولی "ہمارے سامنے کا بچہ اور ہم سے ہی باتیں بناتا ہے۔ اتنی بڑی بات اور تجھ کو خبر نہیں ؟"

    محمد کامل نے کہا "تم کو یقین نہیں آتا۔ تمہارے سر کی قسم، مجھ کو معلوم نہیں۔"

    اتنے میں ماما بھی آ تنلی۔ محمد کامل کی ماں نے کہا "کیوں بی عظمت، محمد کامل تو کہتا ہے مجھ کو معلوم نہیں۔"

    ماما نے کہا "میاں تم برا مانو یا بھلا مانو۔ تمہاری بیوی جانے کی تیاری تو کر رہی ہیں۔ تم سے شاید چھپاتی ہوں۔ یہ مزاج دار بہو نہیں کہ ان کے پیٹ میں بات نہیں سماتی تھی۔ یہ تمیز دار بہو ہیں کہ کسی کو اپنا بھید نہ دیں۔"

    محمد کامل کی ماں نے پوچھا "بھلا محمد کامل، یہ بات سچ کہو تو تمہارا کیا ارادہ ہے؟"

    محمد کامل نے کہا "بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ تم کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔ اور تمیز دار بہو کی بھی ایسی کیا زبردستی ہے کہ بے پوچھے گچھے چلی جائیں گی۔ میں آج تمیز دار بہو

    Page 68

    سے پوچھوں گا کہ کیوں جی کیا بات ہے۔"

    محمد کامل کی ماں نے کہا "اس نامراد ماما کی بات کا کیا اعتبار ہے۔ ابھی بہو سے بھی مذکور مت کرو۔ جب تحقیق ہو جائے گی، اس وقت دیکھا جائے گا۔"

    اس طرح کی باتوں سے ماما عظمت اصغری کو ساس اور میاں سے برا بنانے کی فکر میں تھی اور اصغری سے ہر چند کسی نے کچھ کہا سنا نہیں، لیکن وہ بھی ان سب کو قیافے سے سمجھ گئی تھی کہ ضرور کچھ کشیدگی ہے۔ اصغری کے پاس محمودہ بڑی جاسوس تھی۔ ذرا ذرا سی بات اصغری سے کہتی اور ماما کی بد ذات بھی سب اصغری پر کھل گئی تھی۔ لیکن اصغری ایسی احمق نہ تھی کہ جلد بگڑ بیٹھتی۔ وہ اس فکر میں ہوئی کہ اس معاملے میں اپنی طرف سے کچھ كہا سننا مناسب نہیں۔ آخر کبھی نہ کبھی بات کھلے گی۔ اصغری نے اپنے دل میں کہا کہ بھلا عظمت رہ تو سہی۔ انشاء اللہ تعالیٰ تجھ کو بھی کیسا سیدھا بناتی ہوں۔ اب یہاں تک تیرے مغز چل گئے ہیں کہ گھر کے گھر میں فساد ڈلواتی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ تجھ کو وہاں ماروں گی کہ پانی نہ ملے اور ایسا تجھ کو اُجاڑوں گی کہ محلے میں آنا نصیب نہ ہو۔

    ماما عظمت کی شامت سر پر سوار تھی۔ تیسرا وار اصغری پر اور صحیح کیا۔

    باب پندرھواں

    اصغری پر ماما کا تیسرا وار

    ہزاری مل کو تو عادت تھی کہ جب کبھی ماما عظمت کو اپنی دکان کے سامنے آتے جاتے دیکھتا تو ادبدا کر چھیڑتا کہ کیوں ماما ہمارے حساب کتاب کا بھی کچھ فکر ہے؟ اور ساتویں آٹھویں دن گھر پر تقاضا کہلا بھیجتا۔ ایک دن حسبِ معمول ماما عظمت سودا سلف کو باہر جاتی تھی۔ ہزاری مل نے ٹوکا۔ ماما بولی "اے لالہ، یہ کیا تم نے مجھ سے آئے دن کی چھیڑ خانی مقرر کی ہے؟ جب مجھ کو دیکھتے ہو تقاضا کرتے ہو۔ جن کو دیتے ہو، ان سے مانگو۔ ان سے تقاضا کرو۔ میں بے چاری غریب آدمی، ٹکے کی اوقات۔ مجھ سے اور مہاجنوں کے لین دین

    Page 69

    سے واسطہ؟"

    "ہزاری مل نے کہا "یہ بات تم نے کیا کہی کہ مجھ سے واسطہ نہیں؟ دکان سے تو تم لے جاتی ہو۔ ہاتھ کو ہاتھ پہچانتا ہے۔ ہم تو تم کو جانتے ہیں اور تمہاری ساکھ پر دیتے ہیں۔ ہم گھر والوں کو کیا جانیں۔"

    ماما نے کہا "اے لالہ، ہوش میں آؤ۔ ایسے گھر کے بھولے، میری ایسی کیا حیثیت تم نے دیکھ لی؟ میرے پاس نہ جائیداد، نہ دولت اور تم نے سینکڑوں روپے آنکھ بند کر کے مجھ کو دے دیے۔ اگر مجھ کو دیا ہے تو تم کو بھی قسم ہے، جاؤ مجھی سے لے لینا۔ میرے محل جو کھڑے ہوں گے۔ سرکار میں عرضی لگا کر نیلام کرا لینا۔"

    ماما کی ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں سن کر ہزاری مل بہت سٹپٹایا اور لگا ماما سے ملاوٹ کی باتیں کرنے "آج تو تم کسی سے لڑ کر آئی معلوم ہوتی ہو۔ بتاؤ تو کیا بات ہے؟ بیوی صاحب نے کچھ کہا یا صاحب زادے کچھ خفا ہوئے؟ یہاں تو آؤ بات سنو۔"

    ادھر تو ماما سے یہ کہا اور ادھر دکان پر جو لڑکا بیٹھتا تھا ایک پیسہ اس کے ہاتھ میں دیا کہ دوڑ کر دو گلوریاں بنوا کر لاؤ اور دیکھ ذرا سا زردہ بھی الگ ہتھیلی میں لیتے آئیو۔ جب ماما بیتھ گئی تو پھر ہزاری مل نے ہنس کر پوچھا۔ "معلوم ہوتا ہے آج ضرور کسی سے لڑی ہو۔"

    ماما نے کہا "خدا نہ کرے۔ کیوں لڑنے لگی۔ بات پر بات میں نے بھی کہہ دی۔ رتی برابر جھوٹ کہا ہو تو لو میرا کان پکڑ لو۔"

    ہزاری مل: "یہ تو ٹھیک ہے۔ بہوار تو مالک کے ہاتھ ہے۔ پر تمہارے ہاتھوں سے ہوتا ہے یا نہیں؟ نہ تو ہمارے نام رقعہ نہ چٹھی۔ تم نے مالک کے نام جو مانگا سو دیا۔"

    ماما : "ہاں یوں کہو۔ اس سے میں کب مکرتی ہوں؟ ہزاروں میں کہہ دوں لاکھوں میں کہہ دوں۔ اور ہماری بیوی بھی (روئیں روئیں سے دعا نکلتی ہے) بے چاری کبھی تکرار نہیں کرتیں۔"

    ہزاری مل : "ماما، بیگم صاحب تو حقیقت میں بڑی امیر ہیں۔ واہ! کیا بات ہے۔" پھر ہزاری مل نے آہستہ سے پوچھا "چھوٹی بہو صاحب کا کیا حال ہے؟ کیسی ہیں؟ اپنی بڑی بہن کے ڈھنگوں پر ہیں یا اور طرح کا مزاج ہے؟"

    ماما : "لالہ کچھ نہ پوچھو۔ بیٹی تو امیر گھر کی ہیں پر دل کی بڑی تنگ ہیں۔ دمڑی کا سودا بھی

    Page 70

    جب تک چار مرتبہ پھیر نہ لیں پسند نہیں آتا۔ ہاں خدا رکھے ہنر سلیقہ تو دنیا کی بہو بیٹیوں سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ کھانا عمدہ سے عمدہ، سینے میں درزیوں اور مغلانیوں کو مات کیا ہے۔ لیکن لالہ امیری کی بات نہیں۔ اول اول تو مجھ پر بھی روک ٹوک شروع کی تھی۔ سو لالہ تم جانے پر میرا کام کیا بے لاگ ہوتا ہے۔ آخر کو تھک کر بیٹھ رہیں۔ بیگم صاحب تو دلی آدمی ہیں۔ ان ہی کے دم قدم کی برکت سے گھر چلتا ہے۔ ہم غریب بھی ان ہی کا دامن پکڑے ہوئے ہیں۔ بہتیرا لوگوں نے بیگم صاحب کو بھڑکایا، لیکن خدا سلامت رکھے۔ ان کے دل پر میل نہ آیا اور کسی طرح کا کلام انہوں نے منہ پر نہ رکھا۔"

    ہزاری مل: "سنا ہے چھوٹی بہو کو بڑا بھاری جہیز ملا۔"

    ماما نے چھرٹتے کہا "خاک! بڑی سے بھی اترتا ہوا۔"

    ہزاری مل: "بڑا ترجب ہے! ان کے بیاہ کے وقت تو خاں صاحب تحصیل دار تھے۔ بڑی بیٹی سے زیادہ دینا لازم تھا۔"

    ماما: "اے ہے! تحصیل دار کا کچھ دوش نہیں۔ اس بے چارے نے تو بڑی بڑی تیاریاں کی تھیں، یہی چھوٹی کھوٹی منہ بولی تھیں۔ اماں باوا کی خیر خواہی کے مارے کہہ کہہ کے سب چیزیں کم کرائیں۔"

    ہزاری مل: "اگر یہی حال ہے تو بڑی بہن کی طرح یہ بھی الگ گھر لیں گی۔"

    ماما: الگ کرنا کیسا، یہ تو بڑے گُل کھلائیں گی۔ بڑی بہو بد مزاج تھیں لیکن دل کی صاف۔ اور یہ زبان کی میٹھی اور دل کی کھوٹی۔ کوئی کیسا ہی جان مار کر کام کرے، ان کی خاطر تلے نہیں آتا۔ بات بھی کہیں گی تو تہہ کی۔ منہ پر کچھ، دل میں کچھ۔ نہ باب، یہ عورت ایک دن نباہ کرنے والی نہیں۔ اب تو پہاڑ پر باپ کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔"

    ہزاری مل: "لاہور سے ان دنوں کوئی خط آیا؟"

    ماما: "ہر روز انتظار رہتا ہے۔ نہیں معلوم کیا سب ہے۔ کوئی خط نہیں آیا۔ بیوی خرچ کی راہ دیکھ رہی ہیں۔ رمضان سر پر آ رہا ہے۔ بلکہ پرسوں، اترسوں مجھ سے کہتی تھیں، ہزاری مل سے پچاس روپے اور قرض لانا۔"

    ہزاری مل قرض کا نام سن کر چونک پڑا اور کہا "پچھلا حساب چکا دیں تو آگے کو کہا

    Page 71

    انکار ہے۔ بڑی بی دیکھنا، بیگم صاحب کو اچھی طرح سمجھا کر کہہ دینا کہ جہاں سے بن پڑے، روپے کا فکر کریں۔ اب میرے ساجھی میرے روکے میں نہیں رکتے۔ ایسا نہ ہو کل کلاں کو مجھے بات دینی آ جائے۔"

    ماما: "تمہارا روپیہ خدا ہی نکلوائے گا تو نکلے گا۔ بیگم صاحب کہاں سے دیں گی۔ بال بال تو قرض دار ہو رہی ہیں۔ مودی الگ جان کھاتا ہے، بزاز جدا شور مچاتا ہے۔"

    ہزاری مل: "مجھ کو دوسرے لین داروں سے کیا واسطہ؟ ہماری دکان کا حساب تو بیگم صاحب کو بے باق کرنا ہی پڑے گا۔ میں تو بیگم صاحب کی سرکار کا بڑا لحاظ کرتا ہوں، لیکن میرا ساتھی چھدامی لال اب کسی طرح نہیں مانتا۔ اگر وہ یہ حال سن پائے تو آج نالش کر دے۔"

    ماما: یہ سب حال بیگم صاحب سے کہہ تو میں دوں گی، لیکن گھر کا ذرا ذرا حال مجھ کو معلوم۔ نالش کرو، فریاد کرو، نہ روپیہ ہے نہ دینے کی گنجائش۔ روپیہ ہوتا تو قرض کیوں لیا جاتا؟"

    اتنی باتوں کے بعد ماما عظمت ہزاری مل سے رخصت ہو کر سودا سلف لے کر گھر میں آئی تو محمد کامل کی ماں نے پوچھا "تو بازار جاتی ہے تو ایسی بے فکر ہو جاتی ہے کہ کھانا پکانے کا کچھ خیال تجھ کو نہیں رہتا۔ دہکھ تو، کتنا دن چڑھا ہے۔ اب کس وقت گوشت چڑھے گا، کب پکے گا، کہ کھانا ملے گا؟"

    ماما : "بیوی، موئے ہزاری مل کے جھگڑے میں اتنی دیر ہو گئی۔ وہ جانہار ہر روز مجھ کو آنے جانے پر ٹوکا کرتا ہے۔ آج میری جان جل گئی اور میں نے کہا کہ کیا تو نے مجھے روز کی چھیٹر خانی مقرر کی ہے۔ کیوں مرا جاتا ہے۔ ذرا صبر کر۔ لاہور سے خرچ آنے دے تو تیرا اگلا پچھلا سب حساب کتاب بے باق ہو جائے گا۔ وہ موا تو میرے سر ہو گیا اور بھرے بازار میں لگا مجھ کو فضيحت کرنے۔"

    محمد کامل کی ماں : "ہزاری مل کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ تو ایسا نہ تھا۔ آخر برسوں سے ہمارا اس کا لین دین ہے۔ سویرے بھی دیا ہے، دیر کر کے بھی دیا ہے۔ کبھی اس نے تکرار نہیں کی۔"

    ماما: "بیوی، کوئی اور مہاجن دکان میں ساجھی ہوا ہے۔ اس موئے نے جلدی مچا رکھی ہے۔ جس جس پر لینا تھا، سب سے کھڑے کھڑے وصول کر لیا۔ جس نے نہیں دیا، نالش کر دی۔

    Page 72

    ہزاری مل نے کہا کہ بیگم صاحب سے بہت بہت ہاتھ جوڑ کر میری طرف سے کہہ دینا کہ میرے بس کی بات نہیں۔ جس طرح ہو سکے، دو چار دن میں روپے کی راہ نکال دیں، ورنہ چھدامی لال ضرور نالش کر دے گا۔"

    اس خبر کو سنتے ہی محمد کامل کی ماں کو سخت تردد پیدا ہوا۔ امیر بیگم، ان کی چھوٹی بہن، خانم بازار میں رہتی تھیں۔ وہ ذرا خوش حال تھیں۔ محمد کامل کی ماں نے ماما عظمت سے کہا کہ لاہور سے تو خط کا جواب تک نہیں آتا، خرچ کی کیا امید ہے۔ اگر سچ مچ ہزاری مل نے نالش کر دی تو کیا ہو گا؟ میرے پاس تو اتنا اثاثہ بھی نہیں کہ بیچ کر ادا کر دوں گی۔ اور نالش ہونے پر دنیا میں بھی بے عزتی ہے۔ نام تو سارے شہر میں بد ہو گا۔ ڈولی لے آؤ۔ میں امیر بیگم کے پاس جاتی ہوں۔ دیکھوں وہاں کوئی صورت اگر نکل آئے۔

    ماما : "بیوی، نالش تو ہوئی دھری ہے۔ جس نے منہ سے کہا، اس کو کرتے کیا دیر لگتی ہے۔ اور چھوٹی بیگم بے چاری کے پاس کہاں سے روپیہ آیا؟ وہ تو ان دنوں خود حیران ہیں۔"

    محمد کامل کی ماں: "آخر پھر کچھ کرنا تو پڑے گا۔"

    ماما نے پاس جا کر چپکے سے کہا "مہینے بھر کے واسطے تمیز دار بہو اپنے کڑے دے دیتیں تو بات رہ جاتی۔ بالفعل ان کڑوں کو گروی رکھ آدھے تہائی ہزاری مل کے بن جاتے۔ مہینے بھر میں میاں یا تو خرچ بھیج دیتے یا میں کسی اور مہاجن سے لے آتی۔"

    محمد کامل کی ماں : "اری، تو کوئی دیوانی ہوئی ہے؟ خبردار! ایسی بات مجھ سے بھی مت نکالنا۔ اگر رہنے کا مکان تک بھی بک جائے تو بلا سے۔ مجھ کو منظور ہے۔ لیکن بہو سے کہنے کا منہ نہیں۔"

    ماما : "بیوی، میں نے تو اس خیال سے کہا کہ بہو ہوئی، بیٹی ہوئی، کچھ غیر نہیں ہوتیں۔ اور کیا خدا نہ کرے بیچ ڈالنے کی نیت ہے۔ مہینے بھر کا واسطہ ہے۔ چیز صندوقچے میں نہ پڑی رہی، مہاجن کے پاس رکھی رہی، جس میں اس کی خاطر جمع رہے۔"

    محمد کامل کی ماں : "پھر بھی بہو بیٹی میں بڑا فرق ہوتا ہے اور بہو بھی نئی بیاہی ہوئی کہ اگر سچ پچھو تو ابھی اچھی طرح اس کی گھونگھٹ بھی نہیں کھلی۔ بھلا اس سے کوئی ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ خبردار! پھر زبان سے ایسی بات مت نکالو۔ ایسا نہ ہو محمودہ کے کان پڑ جائے اور بہو سے جا لگائے۔"

    Page 73

    ماما: "صاحبزادی تو ابھی کھڑے ہوئے سن رہی تھیں۔ مگر ابھی ان کو ان باتوں کی سمجھ نہیں۔ "

    محمد کامل کی ماں : "ڈولی لے آؤ۔ میں بہن تک جاؤں تو سہی۔ پھر جیسی صلاح ٹھہرے گی دیکھا جائے گا۔"

    محمد کامل کی ماں تو سوار ہو خانم کے بازار سدھاریں اور محمودہ نے سب حال تمیز دار بہو کو جا سنایا۔


    باب سولہواں

    خط اصغری کی طرف سے۔ ماما کی شرارتوں کا دفعے کا آغاز

    اصغری کو اور کچھ تو نہ سوجھی، فوراً اپنے بڑے بھائی خیر اندیش خاں کو یہ خط لکھا :

    جناب برادر صاحب معظم مکرم سلامت

    تسلیمات کے بعد مطلب ضروری عرض کرتی ہوں کہ مدت سے میں نے اپنا حال آپ کو نہیں لکھا۔ اس واسطے کہ جو عریضہ جناب والد صاحب کی خدمت میں بھیجتی ہوں آپ کی نظر سے بھی گزرا ہو گیا۔ اب ایک خاص بات ایسی پیش آئی ہے کہ آپ ہی کی خدمت میں اس کا عرض کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔ وہ یہ کہ جب سے میں سسرال آئی، کسی طرح کی تكليف مجھ کو نہیں پہنچی اور بڑی آپا کو جن باتوں کی شکایت رہا کرتی تھی، آپ کی دعا سے وہ باتیں میرے ساتھ نہیں ہیں۔ سب لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں خوش رہتی ہوں۔ لیکن ایک ماما عظمت کے ہاتھوں سے وہ ایذا ہے جو کسی بد مزاج ساس اور بد زبان نند سے بھی نہ ہوتی۔ یہ عورت اس گھر کی پرانی ماما ہے اور اندر باہر کا سب کام اسی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس عورت نے گھر کو لوٹ کر خاک سیاہ کر دیا۔ اتنا قرض ہو گیا ہے کہ اس کے ادا ہونے کا سامان نظر نہیں آتا۔ کسی طرح کا بندوبست گھر میں نہیں ہے، میں نے چند روز معمولی کاروبار خانہ داری میں دخل دیا تھا تو ہر چیز میں غبن، ہر بات میں فریب پایا گیا۔ میری روک ٹوک سے ماما میری دشمن ہو گئی اور اس دن سے ہر روز تازہ فساد کھڑا کئے

    Page 74

    رہتی ہے، اب تک ہر چند کوئی قباحت کی بات پیدا نہیں، لیکن اس ماما کا رہنا مجھ کو سخت ناگوار ہے۔ مگر اس کا نکلنا بھی بہت دشوار ہے۔ تمام بازار کا قرض اس کی معرفت ہے۔ موقوفی کا نام بھی سن پائے تو قرض خواہوں کو جا بھڑکائے۔ پھر قرض کا نہ حساب ہے نہ کتاب۔ زبانی تکوں پر سب کا لینا دینا ہو رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ سب لوگوں کا حساب اور قرض لینے کا دستور آئندہ کے واسطے موقوف ہو۔ ماما نکال دی جائے۔ یقین ہے کہ جناب والد صاحب کے ساتھ آپ بھی رمضان میں تشریف لائیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ مہربانی فرما کر لاہور ہو کر آئیں اور ابا جان کو جس طرح بن پڑے کم سے کم دو ہفتے کے واسطے اپنے ساتھ لوا لائیے۔ آپ سب لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ بخوبی طے ہو جائے گا۔ میں اس خط کو سخت تشویش کی حالت میں لکھ رہی ہوں۔ مہاجن آمادۂ نالش ہے۔ ماما نے صلاح دی ہے کہ میرے کڑے گروی رکھے جائیں۔ اماں جان روپے کے بندوبست کے واسطے اسی وقت خالہ جان کے پاس گئی ہیں۔

    فقط

    ادھر تو اصغری نے بھائی کو خط لکھا اور ادھر اپنی خالہ سے کہلا بھیجا کہ میں اکیلی ہوں۔ بوا تماشا خانم کو دو دن کے واسطے بھیج دیجیے۔ میں نے سنا ہے کہ وہ آپ کے یہاں مہمان آئی ہوئی ہیں۔ غرض شاموں شام بی تماشا خانم آ پہنچیں۔ ڈولی سے اترتے ہی پکاری "اللہ بی اصغری! ایسا بھی بے مروت کوئی نہ ہو۔ میں نے خالو ابا کا خط تم سے منگوا بھیجا تھا۔ تم نے نہ دیا۔"

    اصغری نے کہا "اوئی! کون مانگے آیا؟"

    تماشا خانم بولی ”دیکھو یہی ماما عظمت موجود ہیں۔ کیوں بی، اس جمعے کو تم ہمارے گھر گئی تھیں۔ میں نے تم سے کہہ دیا تھا یا نہیں؟"

    عظمت بولی "ہاں بی بی، انہوں نے کہا تھا، مجھ کم بخت ستری، بہتری کو بات یاد نہیں رہتی۔ یہاں آتے آتے گھر کے دھندے میں بھول گئی۔"

    اصغری نے آہستہ سے کہا "تم کو تو لوٹنا اور فساد ڈلوانا یاد رہتا ہے۔" اور تماشا خانم سے کہا "خط موجود ہے اور ایک اور نئی کتاب بھی آئی ہوئی ہے۔ بڑے مزے کی باتیں اس میں ہیں۔ وہ بھی تم لیتی جانا۔"

    Page 75

    اصغری نے ماما کا سب حال ذرا ذرا تماشا خان سے کہا۔ تماشا خانم مزاج کی تھیں بڑی تیز، اسی وقت جوتی لے کر اٹھیں اور ماما کو مارنے چلیں۔ اصغری نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا "خدا کے لئے آپ ایسا غضب مت کرنا۔ ابھی جلدی مت کرو۔ سب بات بگڑ جائے گی۔"

    تماشا خانم نے کہا "تم یوں ہی پس و پیش لگا کر اپنا وقر کھوتی ہو۔ بوا، اگر میں تمہاری جگہ ہوتی، خدا کی قسم مردار کو مارے جوتیوں کے ایسا سیدھا بناتی کہ عمر بھر یاد رکھتی۔"

    اصغری نے کہا "دیکھو انشاء اللہ اس نمک حرام پر مفت کی مار پڑے گی۔ کوئی دن کی دیر ہے۔"

    اس کے بعد تماشا خانم نے پوچھا۔ " تمہاری ساس اپنی بہن کے یہاں کس غرض سے گئی ہیں؟"

    اصغری نے کہا "وہ بے چاری بھی اس نامراد ماما کے ہاتھوں در بدر ماری ماری پھرتی ہیں۔ کوئی مہاجن ہے، اس کا کچھ دینا ہے، ماما نے آج آ کر کہا تھا کہ وہ نالش کرنے والا ہے، اسی کے روپے کی فکر میں گئی ہیں۔

    تماشا خانم نے ماما سے پوچھا "عظمت، کون سا مہاجن ہے؟"

    عظمت بولی "ہزاری مل۔"

    تماشا خانم: "وہی ہزاری مل نا جس کی دکان جوہری بازار میں ہے؟"

    عظمت: "ہاں بیوی وہی۔"

    یہ سن کر تماشا خانم نے اصغری سے کہا "اس سے تو ہماری سسرال میں بھی لین دین ہے۔ بھلا کیا موئے کی طاقت ہے جو نالش کرے۔ میں یہاں سے جا کر تمہارے بھائی جان سے کہوں گی۔ دیکھو تو کیسا ٹھیک بناتے ہیں۔

    دو دن تماشا خانم اصغری کے پاس رہیں، تیسرے دن رخصت ہوئیں اور چلتے چلتے کہہ گئیں کہ "بوا اصغری، تم کو میرے سر کی قسم۔ جب تمہارے سسرے آئیں اور یہ سب معاملہ مقدمہ پیش ہو، مجھ کو ضرور بلوانا اور عظمت کو تو بس میرے حوالے کر دینا۔"

    وہاں محمد کامل کی ماں کو ان کی بہن نے ٹھہرا لیا کہ اے ہے آپا! کبھی کبھار تو تم آتی ہو۔ بھلا ایک ہفتہ تو رہو۔ لیکن آدمی ہر روز یہاں تمیز دار کی خیر خبر کو آتا تھا۔
     
  6. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    PAGE 76

    باب سترھواں

    ماما کی چوتھی شرارت

    ماما عظمت نے بیٹھے بٹھائے ایک بد ذاتی اور کی۔ ان دنوں لاٹ صاحب کی آمد آمد تھی۔ شہر کی صفائی کے واسطے حاکم کی طرف سے بہت تاکید ہوئی۔ ہر محلے اور ہر کوچے میں اشتہار لگائے گئے کہ سب لوگ اپنے اپنے کوچے اور گلیاں صاف کریں۔ دروازوں پر سفیدی کرا لیں۔ بد روئیں صاف رکھیں۔ اگر کسی جگہ کوڑا پڑا ملے گا تو جرمانہ کیا جائے گا۔ اس مضمون کا ایک اشتہار اس محلے کے پھاٹک پر بھی لگایا گیا۔ ماما عظمت جا کر محلے کے پھاٹک ہے وہ اشتہار اُکھاڑ لائی اور چپکے سے اپنے دروازے پر لگا رہا۔ پھر اندھیرے منہ خانم کے بازار میں محمد کامل کی ماں کو خبر کرنے دوڑی گئی۔ ابھی مکان کے کواڑ بھی نہیں کھلے تھے کہ اس نے جا آواز دی۔ کامل کی ماں نے آواز پہچانی اور کہا "ارے دوڑو! کواڑ کھولو! عظمت ایسے وقت کیوں بھاگی آئی ہے۔"

    عظمت سامنے آئی تو پوچھا "مام خیریت ہے؟"

    عظمت بولی "بیوی مکان پر اشتہار داشتار کیا ہوتا ہے۔ (اے ہے، مجھ بڑھیا کو تو سیدھا نام بھی نہیں آتا) لگا ہوا ہے۔ معلوم ہوتا ہے ہزاری مل نے نالش کر دی۔"

    محمد کامل کی ماں نے اپنی بہن سے کہا "لو بوا، میں تو جاتی ہوں۔ ہزاری مل کو بلوا کر سمجھاؤں گی۔ خدا اس کے دل میں رحم ڈالے۔"

    بہن بولی "آپا میں شرمندہ ہوں کہ مجھ سے روپے کا بندوبست نہ ہو سکا۔ لیکن میرے گلے کا توڑا موجود ہے۔ اس کو لیتی جاؤ۔ گروی رکھنے سے کام نکلے تو ورنہ بیچ ڈالنا۔"

    محمد کامل کی ماں نے کہا "میں توڑا لے جاتی ہوں مگر اس کا روپیہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ایک توڑے سے کیا ہو گا؟"

    Page 77

    بہن بولی "آخر انہوں نے بھی تو کہا ہے کہ میں کسی دوسرے مہاجن سے قرض لا دوں گا۔ تم بسم اللہ کر کے سوار ہو۔ وہ آتے ہیں تو میں ان کو بھی پیچھے سے بھیجتی ہوں۔"

    غرض محمد کامل کی ماں مکان پر پہنچی۔ دروازے پر اُتری۔ اشتہار لگا دیکھا افسوس کی حالت میں چپ آ کر بیٹھ گئیں۔ ساس کی آمد سن کر اصغری کوٹھے پر سے اتری۔ سلام کیا۔ ساس کو مغموم دیکھ کر پوچھا۔ "آج اماں جان، آپ کا چہرہ بہت اداس ہے۔"

    ساس: "مہاجن نے نالش کر دی ہے۔ روپے کی صورت کہیں سے نہیں بن پڑتی۔ امیر بیگم نے بھی جواب دے دیا اور مکان پر اشتہار لگ چکا۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔"

    اصغری : "آپ اس کا ہرگز فکر نہ کیجئے۔ اگر ہزاری مل نے نالش کر دی ہے تو پھر حرج نہیں۔ تماشا خانم کی سسرال میں اس کا لین دین ہے۔ تماشا خانم نے مجھ سے پکا وعدہ کیا ہے کہ ہزاری مل کو سمجھا دیں گی اور اگر نہیں مانے گا تو اس کے روپے کی کچھ سبیل ہو جائے گی۔ آپ اتنا فکر کیوں کرتی ہیں؟ ہزاری مل کو جو اپنی طرف سے کرنا تھا کر چکا۔"

    ساس: :کامل ہوتا تو میں اس کو ہزاری مل کے پاس بھیجتی۔"

    اصغری : "یوں آپ کو اختیار ہے۔ لیکن میرے نزدیک مہاجن سے ڈرنا کسی طرح مناسب نہیں ورنہ اس کو آئندہ کے والے دلیری ہو جائے گی اور آئے دن نالش کا ڈراوا دکھایا کرے گا۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ادھر کا اشارہ نہ ہو اور باہر سے کوئی دباؤ اس پر پڑ جائے کہ نالش کی پیروی سے باز رہے۔"

    محمد کامل کی ماں: "تماشا خانم ابھی لڑکی ہیں۔ کچہری دربار کی باتیں کیا جائیں۔ ایسا نہ ہو ان کے بھروسے میں کام بگڑ جائے اور موقع ہاتھ سے جاتا رہے۔"

    اصغری: تماشا خانم بے شک لڑکی ہیں مگر میں نے بات خوب پکی کر لی ہے اور مجھے کو اطمینان ہے۔"

    یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میاں مسلم نے دروازے پر آواز دی۔ اصغری نے کہا "دیکھے، مسلم آیا ہے۔ ضرور اس معاملے میں کچھ خبر لایا ہو گا۔" اصغری نے محمود کو اشارہ کیا۔ محمودہ کوٹھڑی میں چلی گئی۔ مسلم کو اندر بلایا اور پوچھا "مسلم، کیا خبر لائے۔"

    مسلم نے کہا "آپا نے تم کو سلام کہا ہے اور مزاج کا حال پوچھا ہے اور کہا ہے کہ ہزاری مل کو بلوایا تھا۔ بہت کچھ ڈرایا دھمکایا ہے۔ اس نے وعدہ کر لیا ہے کہ نالش نہ ہو

    Page 78

    گی۔"

    یہ بات سن کر محمد کامل کی ماں کو کسی قدر تسلی ہوئی۔ لیکن اصغری حیرت میں تھی کہ تماشا خانم نے تو یہ کہلا بھیجا کہ ہزاری مل نالش کر بیٹھا۔ یہ کیا بات ہے؟ اور اشتہار کا معاملہ بھی عجب ہے! میں گھر میں بیٹھی رہی۔ مجھ کو خبر نہیں۔ حاکم کا اشتہار ہوتا تو کوئی چپڑاسی پیادہ پکارتا، آواز دیتا۔ مسلم رخصت ہوا تو محمودہ سے اصغری نے کہا "جاؤ دروازے پر جو کاغذ لگا ہوا ہے اس کو چپکے سے اکھاڑ لاؤ۔" محمودہ کاغذ اکھاڑ لائی۔ اصغری نے پڑھا تو صفائی کا حکم تھا۔ نالش کا کچھ مذکور نہ تھا۔ سمجھ گئی کہ یہ بھی اس عظمت کی چالاکی ہے۔ ساس پر تو حال ظاہر نہیں کیا لیکن ان کا اچھی طرح اطمینان کر دیا کہ آپ دلجمعی سے بیٹھی رہیے۔ نالش کا ہر گز کھٹکا نہیں۔

    باب اٹھارھواں

    اصغری نے کس حکمت سے اپنے میاں کو شب برات میں انار پٹاخے پھوڑنے سے باز رکھا

    ساس نے کہا "تمہارے کہنے سے نالش کی طرف سے تو دلجمی ہوئی۔ لیکن شپب برات اور رمضان سر پر چلا آتا ہے۔ دونوں تہواروں میں خرچ ہی خرچ ہے۔ لاہور سے خط آنا موقوف ہے۔ خرچ کا فکر تو میرا لہو خشک کیے ڈالتا ہے۔

    اصغری نے کہا "رمضان کے تو ابھی بہت دن پڑے ہیں۔ خدا مسبب الاسباب ہے۔ اس وقت تک غیب سے کوئی سامان پیدا ہو جائے گا۔ ہاں شب برات کے چار ہی دن رہ گئے ہیں۔ سو شب برات کوئی ایسا تہوار نہیں جس میں بہت خرچ درکار ہو۔"

    ساس نے کہا "میرے گھر تو سال در سال شب برات میں بیس روپے اٹھتے ہیں۔ پوچھو، یہی عظمت خرچ کرنے والی موجود ہے۔"

    Page 79

    اصغری نے کہا "خرچ کرنے کا عجب ہے، لیکن ایک ضرورت کے واسطے اور ایک بے ضرورت۔ سو شب برات میں کوئی اسی ضرورت نہیں جس کے واسطے اتنا روپیہ درکار ہو۔"

    ساس نے کہا "بوا، پیر، پغمبر، بڑے بزرگوں کی فاتحہ مقدم ہے، پھر لوگوں کے گھر بھیجنا بھجوانا ضرور ہے۔ لو، کہنے کو تو ذرا سی بات ہے۔ پانچ روپے کی ایک رقم تو اصل خیر سے تمہارے میاں اور بی بی محمودہ کے انار پٹاخوں کی ہے۔ محمد کامل کا بیاہ ہو گیا ہے تو کیا ہے، خدا رکھے اس کے مزاج میں تو ابھی تک بچپن کی باتیں چلی آتی ہیں۔ جب تک سو انار، بیس گڈی پٹاخے نہ لے چکے گا، میری جان کھا جائے گا اور محمودہ بھی رو رو کر برا حال کر لے گی۔"

    اصغری: "اماں جان، مسلمانوں میں شب برات کی کچھ رسم سی پڑ گئی ہے، ورنہ دین میں تو اس کی کچھ اصل وصل ہی نہیں ہے۔ ہمارے ابا کو شب برات کی ایسی چڑ ہے کہ دوسروں کے یہاں کا آیا ہوا میٹھا نہ آپ کھائیں اور نہ ہم لوگوں کو کھانے دیں۔ اول تو ابا شہر میں جم ہی جم ہوتے ہیں، لیکن جس برس آپا کا بیاہ ہوا ان کو شب برات یہیں ہوئی تھی۔ اماں بہتیرا لڑیں، جھگڑیں مگر ابا نے کہا، میں تو یہ بدعت اپنے گھر میں ہونے دینے کا نہیں۔ اور یوں خرچ کو کہو تو مجھ سے دس کی جگہ بیس لو اور غریبوں کو دو پر شب برات کے نام سے تو میں ایک پھوٹی کوڑی دینے والا نہیں۔"

    اصغری کی ساس: "تمہارے سسرے کا بھی یہی کہنا ہے۔ شب برات کا حلوا، عید کی سویاں، بیوی کا کونڈا، صحنک، منت، عرش، قبروں کی چادر، پنکھا، بسنت، پھول والوں کی سیر، سلطان جی کی سترھویں، سہرا، کنگنا، منڈھا، نوبت، نقارہ، ڈھولک، ساچق، آرائش، مولوی تو سب ہی چیزوں کو منع کرتے ہیں۔ پر کم بخت دنیا بھی تو نہیں چھوڑی جاتی۔ اب کسی کے یہاں سے حصہ، بخرہ آئے تو خواہی نہ خواہی پڑتا ہے۔ اور یہ بھی نہیں ہو سکتا، جیسے ہمسائی کیا کرتی ہیں کہ لینا روا دینے کے نام کو الٹا توا۔ پھر گھر کے مردوں کے نام سے یوں تو کون دیتا ہے۔ برسوں دن تیوہار کے منانے ان کی ارواح کو دو چباتی اور کوڑی بھر میٹھے کا ثواب بن جاتا ہے تو اس سے کیا گئے گزرے ہوئے؟"

    اصغری : "ایسا ہی شب برات کا کرنا ضرور ہے تو فاتحہ کے واسطے پانچ چھ سیر کا میٹھا بہت ہو

    Page 80

    گا۔ رہا بھیجنا بھجوانا تو ادھر سے آیا ادھر گیا۔ اور محمودہ اب پٹاخوں کے واسطے ضد نہیں کریں گی۔ میں ان کو سمجھا لوں گی۔ غرض شب برات تو میری طرف سے آئی گئی ہوئی۔ اس کے واسطے آپ قرض کا فکر نہ کیجیے۔ کسی معمول میں بھی کمی ہو تو مجھ کو الاہنا دیجیے۔

    ساس سے تو یہ باتیں ہوئیں لیکن اصغری سوچ میں تھی کہ میاں کو انار پٹاخوں سے کسی طرح باز رکھوں گی۔ آخر کار اس حکمت سے اصغری نے میاں کو سمجھایا کہ بات بھی کہہ گزری اور میاں کو ناگوار بھی نہ ہوا۔ محمد کامل کے سامنے چھیڑ کر محمودہ سے پوچھا "کیوں بوا، تم نے شب برات کے واسطے کیا تیاری کی؟"

    محمودہ بولی "بھائی انار پٹاخے لائیں گے تو ہم کو بھی دیں گے۔"

    ابھی محمد کامل کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ اصغری نے کہا "بھائی ایسی واہیات چیز تمہارے لئے کیوں لانے لگے؟ انار پٹاخوں میں کیا مزا ہوتا ہے؟"

    محمودہ: "بھائی جان، جب انار پٹانے چھوٹتے ہیں تو کئی بہار ہوتی ہے۔"

    اصغری: "محلے میں سینکڑوں انار چھوڑیں گے۔ کوٹھے پر سے تم بھی دیکھ لینا۔"

    محمودہ: "واہ اور ہم نہ چھوڑیں؟"

    الصغری: "تم کو ڈر نہیں لگلتا؟"

    محمودہ : "میں اپنے ہاتھوں سے تھوڑے ہی چھوڑتی ہوں۔"

    اصغری : "پر جس طرح تم نے اپنے انار چھوٹتے دیکھے، ویسے ہی محلے کے۔ اور محمودہ سنو، یہ بہت برا کھیل ہے۔ اس میں جل جانے کا خوف ہے۔ ایک مرتبہ ہمارے محلے میں ایک لڑکے کے ہاتھ میں انار پھٹ گیا تھا۔ دونوں آنکھیں پھوٹ کر چوپٹ ہو گئیں۔ اس کو دیکھنا بھی ہو تو دور سے۔ اور محمود تم اماں جان کا حال دیکھتی ہو؟ اداس ہیں یا نہیں؟"

    محور: "اداس تو ہیں۔"

    اصغری: "کبھی تم نے یہ بھی غور کیا کہ کیوں اداس ہیں؟"

    محمودہ: "یہ تو معلوم نہیں۔"

    اصغری: "واہ! اسی پر تم کہتی ہو کہ میں اماں کو بہت چاہتی ہوں۔"

    محمودہ: "اچھی بھابھی جان، اماں کیوں اداس ہیں؟"

    اصغری: "خرچ کی تنگی ہے۔ مہاجن قرض نہیں دیتا۔ اس سوچ میں ہیں کہ محمودہ اناروں

    Page 81

    کے واسطے ضد کرے گی تو کہاں سے دوں گی۔"

    محمودہ: "تو ہم انار نہیں منگائیں گے۔"

    اصغری: "شاباش! شاباش! تم بہت ہی اچھی بیٹی ہو (اور محمودہ کو گلے لگا کر پیار کیا)۔"

    محمودہ : "اگلے برس جب خدا کرے گا اماں کا ہاتھ بافراغت ہو گا، ابا خرچ بھیجیں گے تو اب کے بدلے کے انار پٹاخے بھی ہم سب ہی چھوڑیں گے۔ کیوں نہ بھابھی جان؟"

    اصغری: "چھوڑ تو لو گی مگر محمودہ انار پٹاخوں کا چھوڑنا گناہ کی بات ہے۔ اللہ میاں بڑے ناراض ہوتے ہیں۔"

    محمودہ: "اے ہے، پھر یہ سب لوگ جو اتنی آتش بازی چھوڑتے ہیں؟"

    اصغری : "لوگوں کی بھلی چلی۔ لوگ جھوٹ نہیں بولتے؟ چوری نہیں کرتے؟ پرایا حق نہیں مارتے؟"

    محمودہ: "پھر ہم کو اماں جان نے تو کبھی منع نہیں کیا۔"

    اصغری: "اس خیال سے کہ تمہارا جی کڑھے گا۔"

    محمودہ: بھلا اس میں گناہ کی کیا بات ہے؟ کسی کے لگ نہ جائے؟"

    اصغری: "محمودہ، اللہ تعالیٰ کے یہاں چل کر رتی رتی کا حساب دینا ہو گا۔ انار پٹاخے تو بڑے داموں کی چیز ہے، اگر کوئی آدمی پانی بھی بے سبب لنڈھاتا ہے، اس سے بھی اللہ میاں پوچھیں گے کہ تو نے ہمارا پانی بے وجہ لنڈھایا کیوں؟ اسی طرح پر وقت کا، روپے پیسے کا، کھانے کا، کپڑے کا، تندرستی کا، غرض خدا نے جتنی نعتیں اپنی مہربانی سے دی ہیں سب کا حساب کتاب دینا پڑے گا۔ اور جب تم بتاؤ گی کہ ہم نے اتنے پیسوں کے انار پٹاخے لئے اللہ میاں کہیں گے کہ تم نے یہی پیسے کسی غریب محتاج کو کیوں نہ دیے؟ لوگ بھوکے مریں اور کوڑی کوڑی کو ترسیں اور تم میری دی ہوئی دولت کو یوں آگ لگاؤ۔ اس وقت محمودہ تم کیا جواب دو گی؟ تم اللہ میاں سے ڈرتی نہیں؟"

    محمودہ: "اے ہے! بھابھی جان، اب کیا کروں؟"

    الصغری: "آگے کو توبہ کرو۔"

    محمودہ: "تو اللہ میاں میری خطا معاف کر دیں گے؟"

    اصغری: "بے شک، معاف کر دیں گے۔ وہ تم کو اماں جان سے بہت زیادہ چاہتے ہیں۔"

    Page 82

    محمودہ: "اللہ میاں مجھے اتنا کیوں چاہتے ہیں؟"

    اصغری : "اس واسطے چاہتے ہیں کہ انہوں نے تم کو بنایا ہے، پیدا کیا ہے۔ تم اپنے پالے ہوئے بلّی کے بچے کو کیسا چاہتی ہو۔"

    محور: "تو کیسے توبہ کروں؟"

    اصغری : "دل سے پکا ارادہ کر لو کہ پھر ایسا نہیں کرو گی۔"

    محمودہ: "میں انار پٹاخے منگوانے کی بھی نہیں، اور کوئی مفت بھی دے گا تو نہیں لوں گی۔

    اصغری نے پھر محمودہ کو پیار کیا۔ محمد کامل چپ بیٹھا ہوا یہ سب باتیں سنتا رہا۔ چونکہ معقول بات تھی اس کے دل نے قبول کر لی۔ اس وقت نیچے اتر کر ماں کے پاس گیا اور کہا "اماں میں نے سنا ہے تم شب برات کی سوچ میں بیٹھی ہو۔ تم میرا فکر مت کرو۔ مجھ کو انار پٹاخے درکار نہیں۔ اور محمودہ کہتی ہے کہ میں نہیں منگاؤں گی۔ اور ہم دونوں نے توبہ بھی کر لی ہے۔"

    غرض خرچ کی ایک رقم تو یوں کم ہوئی۔ فاتحہ کے واسطے دو روپے میں خاصا میٹھا بن گیا۔ بھیجنے کے واسلے اصغری نے خود اہتمام کیا۔ جب باہر سے حصہ آیا، گھر میں نہ ٹھہرنے دیا۔ دے کر آدمی باہر نکلا اور اس نے کہا، فلانی جگہ پہنچا دو۔ جس جس کو دینا تھا سب کو نام بنام پہنچ گیا اور دو روپے میں اچھی خاصی شب برات ہو گئی۔ عظمت یہ بندوبست دیکھ کر جل ہی تو گئی۔ اس واسطے کہ اس کی بڑی رقم ماری گئی۔ جتنا باہر سے آتا وہ سب لیتی اور جو گھر سے جاتا، آدھا اس میں سے نکالتی۔ اور شب برات کا حلوا جو خشک کر رکھتی تھی، مہینوں پنجیری کی طرح پھانکتی۔

    Page 83

    باب انیسواں

    اصغری کے باپ اور سسرے کا آنا، لوگوں کا حساب کتاب ہونا اور آخر کار ماما عظمت کا رسوا ہو کر نکالا جانا

    شب برات کے بعد اصغری کے باپ کی آمد شروع ہوئی اور نو دس دن بات کی بات میں گزر گئے۔ رمضان سے چار دن پہلے دور اندیش خاں صاحب دہلی میں داخل ہوئے۔ اصغری نے پہلے سے اپنے باپ کی سن رکھی تھی اور ساس اور میاں سے ٹھہر گیا تھا کہ جس دن تحصیل دار صاحب آئیں گے اسی دن میں ان سے ملنے جاؤں گی۔ جب اصغری کو باپ کے آنے کی خبر معلوم ہوئی فوراً ڈولی منگا جا پہنچیں۔ باپ نے گلے سے لگا لیا اور آب دیدہ ہوئے۔ دیر تک حال پوچھتے بتانے رہے اور اصغری سے کہا، آپ کے حکم کے مطابق خیر اندیش خاں لاہور گئے ہیں اور انشاء اللہ كل یا پرسوں سمدھی صاحب کو لے کر داخل ہوں گئے۔ ان کا ایک خط بھی مجھ کو راہ میں مل گیا تھا۔ سمدھی صاحب کو رخصت مل گئی ہے۔ غرض اس رات بھر اور اگلے دن بھر اصغری ماں کے یہاں رہی اور شام کے قریب باپ سے کہا کہ اگر اجازت دیتے تو آج میں چلی جاؤں۔

    باپ نے کہا "اجی، ایک ہفتہ تو رہو۔ ہم ان کو کہلا بھیجیں گے۔"

    اصغری نے کہا "جیسا آپ ارشاد فرمائیں، تعمیل کروں۔ لیکن ابا جان کے آنے سے پہلے گھر میں موجود رہنا، مصلحت معلوم ہوتا ہے۔"

    باپ نے سوچ کر کہا "ہاں، بات تو ٹھیک ہے۔"

    غرض اصغری باپ سے رخصت ہو مغرب سے پہلے گھر آ موجود ہوئیں۔ اگلے دن کھانے کے وقت مولوی محمد فاضل صاحب (محمد کامل کے باپ) بھی آ پنچے۔ یہ مولوی صاحب

    Page 84

    لاہور کے ایک رئیس کی سرکار میں مختیر تھے۔ پچاس روپے مہینہ تنخواہ مقرر تھی اور مکان اور سواری رئیس کے ذمے۔ خیر اندیش خاں اصغری کی تحریر کے موافق لاہور گیا اور اصغری کا خط مولوی محمد فاضل صاحب کو دکھایا۔ مولوی صاحب بہو کا خط دیکھ کر باغ باغ ہو گئے۔ اور یوں شاید رخصت نہ بھی لیتے، اب بہو کو دیکھنے کے اشتیاق میں رئیس سے بہت کہہ سن کر ایک مہینے کی رخصت لے کر خیر اندیش خاں کے ساتھ ہو لئے۔ چونکہ اصغری بیاہ کے بعد سسرے کے سامنے نہیں ہوئی تھی سسرے کو آتا دیکھ کر کوٹھے پر جا بیٹھی۔ کامل کی ماں حیرت میں تھی کہ یہ کیوں کر آ گئے! غرض کھانے کے بعد باتیں شروع ہوئیں۔ مولوی صاحب نے بیوی سے کہا "سنو صاحب، مجھ کو تمہاری چھوٹی بہو نے کھینچ بلایا ہے۔" پھر سب حال خط کا اور خیر اندیش خاں کے جانے کا بی بی سے بیان کیا اور کہا کہ بہو کو بلاؤ۔

    ساس کوٹھے پر گئیں اور کہا "بیٹی، چلو شرم کی کیا بات ہے۔ تم تو ان کی گودوں میں کھیلی ہو۔"

    اس کے کہنے سے اصغری اٹھ کر ساتھ ہو لی اور سر کو جھک کر سلام کیا اور ادب سے علیحدہ بیٹھ گئی۔ مولوی صاحب نے کہا "سنو بھائی۔ ہم تو صرف تمہارے بلائے ہوئے آئے ہیں۔ تمہارا خط دیکھ کر ہمارا جی بہت خوش ہوا۔ خدا تمہاری عمر اور نیک بختی میں برکت دے۔ حقیقت میں ہمارے گھر کے اچھے نصیب ہیں جو تم ہمارے گھر میں آئیں اور مجھے یقین ہوا کہ اس گھر کے کچھ دن پھرے۔ ان شاء اللہ تمہاری مرضی اور تمہاری رائے کے موافق سب انتظام کیا جائے گا۔"

    غرض دو چار دن تو مولوی صاحب ملنے ملانے میں رہے، پھر اول کے دو چار روز روزے کے سبب گھر کے کام کی طرف متوجہ نہ ہوئے۔ ایک دن بہو کو پاس بٹھایا اور ماما عظمت سے کہا "ہمارے رہتے سب حساب کتاب کر لو۔ جس جس کو دینا ہے سب لکھا دو تا کہ جس کو جتنا مناسب ہو دیا جائے اور جو باقی رہ جائے اس کی قسط بندی کر دی جائے۔"

    ماما نے کہا "ایک کا حساب ہو تو زبانی بھی یاد رکھا جائے۔ بنیا، بزاز، قصائی، کنجڑا، حلوائی، سب ہی کا دینا ہے۔ اور ہزاری مل کا بڑا بھاری حساب الگ ہے۔ جس کو جتنا ہو، مجھ کو دیجیے لے جا کر آپ کے نام جمع کرا دوں۔"

    Page 85

    مولوی صاحب تو سیدھے سادے آدمی تھے، دینے کو آمادہ ہو گئے۔ اصغری نے کہا۔ "یوں على الحساب دینے سے کیا فائدہ؟ پہلے ہر ایک کا قرضہ معلوم ہو تب اس کو سوچ سمجھ کر دینا چاہیے۔"

    ماما نے کہا "کھانے سے فراغت پاؤں تو جا کر ہر ایک سے پوچھ آؤں گی۔"

    اصغری: "پوچھ آنے سے کیا ہو گا؟ جس کو لینا ہو یہاں آ کر حساب کر جائے۔"

    ماما : "بیوی، آپ نے تو ایک بات کہہ دی۔ اب میں کہاں کہاں بلاتی پھروں اور وہ لوگ اپنے دھندے سے کب چھٹی پاتے ہیں جو میرے ساتھ چلے آئیں گے؟"

    اصغری : "کوئی روز روز کا بلانا نہیں ہے۔ ایک دن کی بات ہے۔ جا کر بلا لاؤ۔ شام کے کھانے کا کچھ بندوبست ہو جائے گا۔ تم آج یہی کام کرو۔ اور لینے والے تو دینے کا نام سن کر دوڑیں گے۔ ہزاری مل نالش کرنے دو دو کوس کچہری پر تو گیا یہاں آتے کیا اس کے پاؤں میں مہندی لگی ہے؟ اور دور کون ہے؟ کنجڑا، قصائی بنیا، حلوائی، سب اسی گلی میں ہیں۔ صرف بزاز اور ہزاری مل دور ہیں۔ ان کو کل پر رکھو۔ یہ مشکل حساب آج طے ہو جائے۔"

    ماما عظمت کی کسی طرح مرضی نہ تھی کہ حساب ہو، لیکن اصغری نے باتوں میں ایسا دبایا کہ کچھ جواب نہ بن پڑا۔ سب سے پہلے حلوائی آیا۔ پوچھا "لالہ، تمہارا کیا پاتا ہے؟"

    حلوائی: "تیس روپے۔"

    پوچھا گیا "کیا کیا چیز تمہارے یہاں سے آئی؟ تیس روپے تو بہت زیادہ بتاتے ہو۔"

    حلوائی : "صاحب، تیس روپے بھی کچھ بہت ہوتے ہیں۔ ایک رقم دس سیر شکر تو اسی شب برات کو آئی۔"

    محمد کامل کی ماں: "ارے! کیسی شکر؟ اب کے مرتبہ ہمارے گھر جو کچھ پکا پکایا بازار سے نقد آیا۔"

    یہ سن کر ماما عظمت کا رنگ فق ہو گیا اور حلوائی سے بولی "وہ دس سیر شکر تو نے ان کے حساب میں کیوں لکھ لی؟ وہ تو میں دوسرے کے واسطے لے گئی تھی اور تجھ کو جتا بھی دیا تھا۔"

    حلوائی : "مجھ سے تو تم نے کسی گھر کا نام نہیں لیا۔ اسی سرکار کے نام سے لائی ہو۔ ورنہ

    Page 86

    مجھے کیا فائدہ تھا کہ دوسرے کی چیز ان کے نام لکھ لیتا؟ اور مجھ سے تو اور کسی سرکار سے اچاپت بھی نہیں۔"

    غرض ماما کھسیانی باتیں کرنے لگی۔ مولوی صاحب نے کہا "بھلا شکر کی رقم تو رہنے دو۔ اور چیزیں بتاؤ۔"

    غرض اسی طرح بہت سی چیزیں اس نے بتائیں جو عمر بھر گھر میں نہیں آئی تھیں۔ چار سیر بالو شاہی مولود شریف کے واسطے اور مزہ یہ کہ یہاں کبھی کسی نے مولود کی مجلس نہیں کی۔ صرف چھ سات روپے تو سچ نکلے، باقی سب جھوٹ۔ مولوی صاحب کا جی جل گیا اور بے طرح ان کو غصہ آیا۔ پوچھا، "کیوں ری نمک حرام عظمت! ایسا ہی دنیا بھر کا قرض تو نے اس گھر پر کر رکھا ہے اور یوں تو نے گھر کو خاک میں ملایا ہے؟"

    حلوائی ہو چکا تو کنجڑا آیا۔ اس نے کہا "میاں میرا تو حساب معمولی ہے۔ دو آنے روز کی ترکاری؟"

    محمد کامل کی ماں : "ارے! سیر بھر ترکاری میرے گھر میں آتی ہے۔ دو آنے روز کی ہوئی؟"

    کنجڑا: "حضرت، میری دکان سے ماما تین سیر لاتی ہے۔"

    ماما: "تین سیر لاتی ہوں۔ سیر بھر تمہارے نام سے، سیر بھر اپنی بیٹی کے واسطے اور سیر بھر دوسرے گھر کے واسطے۔ میں کیا مکرتی ہوں؟ یہ موا سب تمہارے نام بتاتا ہے۔"

    کنجڑا : "اری بڑھیا بے ایمان! ہمیشہ سے تو اسی گھر کے حساب میں تین سیر لاتی رہی اور جب روپیہ ملا اس گھر سے ملا۔"

    قصائی اور بنئے کا حساب ہوا تو اس میں بھی ہزاروں فریب نکلے اور ثابت ہوا کہ ماما اسی گھر کے سودے میں اپنی بیٹی خیراتن اور اپنی دو تین ہمسائیوں کے گھر پورے کرتی تھی۔ اسی گھر کے نام سے سودا لاتی اور دوسری جگہ بیچ ڈالتی غرض شام تک پھٹکل حساب ہوا اور اب بزاز اور ہزاری مل باقی رہے۔ مولوی صاحب نے آہستہ سے یہ بھی کہا کہ ایسا نہ ہو عظمت بھاگ جائے۔

    اصغری : "گھر بار، لڑکے بچے، مکان چھوڑ کر کہاں بھاگ جائے گی؟ ہاں شاید غیرت مند ہو تو کچھ کھا پی لے۔ مگر ایسی غیرت مند ہوتی تو ایسا کام کیوں کرتی؟ تا ہم حفاظت ضرور ہے،

    Page 87

    لیکن فقط اسی قدر کہ باہر آتی جاتی کو کوئی دیکھتا رہے۔

    مولوی کے خدمت گار جو ساتھ آئے تھے، ایک کو چپکے سے کہہ دیا کہ ماما کو آتے جاتے دیکھتے رہو۔ جب کھانے سے فارغ ہوئی یا چپکے سے اُٹھی باہر چلی۔ خدمت گار دبے پاؤں پیچھے پیچھے ساتھ ہوا۔ ماما پہلے تو اپنے گھر گئی اور وہاں سے کچھ بغل میں مار تیر کی طرح سیدھی بزاز کے مکان پر جا کر اس کو آواز دی۔ بزاز گھبرا کر باہر نکلا کہ "بڑی بی، تم اس وقت کہاں؟"

    عظمت: "مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں۔ جس جس کا دینا ہے سب کا حساب ہوتا ہے۔ کل تم بھی بلائے جاؤ گے تو ایسی بات مت کرنا جس میں میری فضیحت ہو۔"

    بزاز : "حساب میں تمہاری فضیحت کی کیا بات ہے؟"

    ماما : "لالہ، تم تو جانتے ہو یہ کم بنت لالچ بہت برا ہوتا ہے۔ سرکار کے حساب میں اپنے واسطے بھی تمہاری دکان سے کبھی کبھی لٹھا، نین سکھ اور دریس لے گئی ہوں۔"

    بزاز : "کیا معلوم تم اپنے واسطے کیا لے گئی ہو؟"

    ماما: "مجھ کو اس وقت حساب کا تو ہوش نہیں، لیکن دو چار تھان، دریس اور لٹھے، نین سکھ کے اور دس گز اودا قند میرے حساب میں نکلے گا تو میرے ہاتھ کی چار چوڑیاں سولہ روپے کی ہیں گھس گھسا کر ایک روپیہ کم ہو گیا ہو گا۔ پندرہ روپے میرے نام سے کم کر دینا اور دو چار روپے جو میرے نام نکلیں گے، میں دینے کو موجود ہوں۔

    بزاز : "چوڑیاں تم دیتی ہو۔ خیر، میں لئے تو لیتا ہوں، لیکن رات کا وقت ہے۔"

    عظمت: "اس وقت میری عزت تمہارے ہاتھ ہے۔ جس طرح ہو سکے بچاؤ۔"

    بزاز سے رخصت ہو سیدھی ہزاری مل کے گھر پہنچی۔ وہ بھی حیران ہوا اور بولا کہ اس وقت تم کہاں؟ اس کے پاؤں پڑ کر رو کر کہنے لگی کہ مجھ سے ایک خطا ہو گئی ہے۔

    ہزاری مل: "بات تو کہو۔"

    عظمت: "چار مہینے ہوئے لاہور سے خرچ آیا تھا۔ اور مولوی صاحب نے سو روپے تم کو بھیجے تھے، وہ میرے پاس خرچ ہو گئے اور سرکار میں ڈر کے مارے میں نے ظاہر نہیں کیا۔ اب مولوی صاحب آئے ہوئے ہیں۔ تم کو حساب کے واسطے طلب کریں گے۔ میں اس روپے کا ٹھکانہ لگا دوں گی۔ تم اس رقم کو ظاہر مت کرنا۔"

    Page 88

    ہزاری مل: "دو چار روپے کی بات ہوتی تو میں چھپا بھی لیتا اکٹھے سو روپے تو میرے کیے چھپ نہیں سکتے۔"

    ماما: "کیا سو روپے کا بھی میرا اعتبار نہیں؟"

    ہزاری مل: "صاف بات تو یہ ہے کہ تمہارا ایک کوڑی کا بھی اعتبار نہیں۔ جس گھر سے تم نے عمر بھر پرورش پائی انہی کے ساتھ تم نے یہ سلوک کیا تو دوسرے کے ساتھ کب چوکنے والی ہو۔"

    عظمت: "ہاں لالہ، جب برا وقت آتا ہے تو اپنے دشمن ہو جاتے ہیں۔ خیر اگر تم کو اعتبار نہیں تو لو یہ میری بیٹی کی پہنچیاں اور جوشن رکھ لو۔"

    ہزاری مل: "ہاں یہ معاملے کی بات ہے۔ لیکن دن ہو تو مال پرکھا جائے۔ تب معلوم ہو کتنے کا ہے۔ لیکن اٹکل سے تو سب مال پچاس ساٹھ کا ہو گا۔"

    ماما: "اے ہے لالہ! ایسا غضب تو مت کرو۔ ابھی چار مہینے ہوئے نو عدد بنوائے تھے۔ سوا سو کی لاگت کے ہیں۔"

    ہزاری مل: "اس میں برا منانے کی کیا بات ہے۔ تمہاری چیز، سو کی ہو یا دو سو کی۔ کوئی نکالے لیتا ہے؟ تلوانے سے جتنی ٹھہرے معلوم ہو جائے گا۔"

    یہ سب بندوبست کر کے ماما گھر واپس آئی۔ مولوی صاحب کے خدمت گار نے پاؤں دبانے میں یہ سب حال مولوی صاحب سے بیان کیا اور محمد کامل کی ماں کے ذریعے اصغری کو معلوم ہوا۔ صبح ہوئی تو بزاز اور ہزاری مل طلب ہوئے۔ حساب میں کچھ حجت ہونے لگی۔ ماما چڑھ چڑھ کر بولتی تھی۔ بزاز نے کہا "تو بڑھیا ٹر ٹر کیوں کرتی ہے؟ اٹھا اپنی چوڑیاں۔ تو پندرہ روپے کی بتاتی تھی۔ بازار میں نو روپے کی آنکتے ہیں۔ ہزاری مل نے پہنچیاں اور جوشن سامنے رکھ دیے اور عظمت سے کہا۔ "نہیں صاحب، یہ مال ہمارے کام کا نہیں۔"

    مولوی صاحب نے بزاز اور ہزاری مل سے پوچھا "کیوں بھائی، یہ چیزیں کیسی ہیں؟"

    تب دونوں نے رات کی حکایت بیان کی اور عظمت کے منہ پر گویا لاکھوں جوتیاں پڑ رہی تھیں۔ جب حساب طے ہو گیا اور مولوی صاحب نے دینے کو روپیہ نکلا تو جتنا واجبی تھا آدھا آدھا سب کا دے دیا اور کہا کہ میں نے لاہور سے روپیہ منگایا ہے دس پانچ دن میں آتا ہے تو باقی بھی دے دیا جائے گا۔ سب لوگوں نے پوچھا کہ ماما کی طرف جو ہمارا نکالا، وہ ہم

    Page 89

    کس سے لیں؟ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ مسلم مکتب سے جاتے ہوئے ادھر آ نکلا اور یہ باتیں سنتا گیا۔ وہاں جا کر تماشا خانم سے کہا کہ آج تو آپا اصغری کے دروازے پر بڑی بھیڑ جمع ہے۔ ان کے سسرے حساب کر رہے ہیں۔ تماشا خانم سنتے کے ساتھ ڈولی میں چڑھ آ پہنی۔ اتری تو اصغری سے گلہ کیا کیوں جی، تم نے مجھ کو خبر نہ کی تو کیا ہوا۔"

    اصغری: ابھی تو حساب در پیش ہے۔ یہ بکھیڑا ہو چکا تو میں تم کو خبر کرتی۔"

    غرض مولوی صاحب نے لوگوں سے کہا کہ جو ماما سے لیتا ہے، وہ ماما سے لو اور عظمت کی طرف متوجہ ہو کر بولے۔ "حضرت، ان کا روپیہ ادا کرو۔"

    عظمت نے نیچی آنکھیں کر کے کہا "میرے پاس بیٹی کا زیور ہے۔ اس میں یہ لوگ اپنا اپنا سمجھ بوجھ لیں"۔ بیٹی کا تمام زیور کنجڑے، قصائی، بنئے، بزاز کے حساب میں آدھے داموں پر لگ گیا۔ ہزاری مل کے سو روپے کے واسطے رہنے کا ٹھیکرا گروی رکھنا پڑا۔ لکھا پڑھی کے کاغذ پر ہو کر چار بھلے مانسوں کی گواہی ہو گئی۔ مولوی صاحب نے عظمت سے کہا۔ "بس، اب آپ خیر سے سدھاریئے۔ تم جیسے نمک حرام، دغا باز، بے ایمان آدمی کا ہمارے گھر میں کچھ کام نہیں۔"

    اصغری : "ان میں نمک حرامی کے علاوہ ایک صفت اور بھی تھی۔ وہ یہ کہ گھر میں فساد ڈلوانے کی فکر میں تھیں۔ کیوں عظمت وہ کڑھائی کی بات یاد ہے جو محمودہ کے بھائی نے فرمائش کی تھی اور تو نے میری طرف سے جھوٹ جا کہہ دیا تھا کہ بہو کہتی ہیں میرے سر میں درد ہے۔ بول تو سہی؟ کب تو نے مجھ سے کہا تھا اور کب میں نے درد سر کا عذر کیا تھا؟"

    عظمت: "بیوی تم کوٹھے پر قرآن پڑھ رہی تھیں۔ میں کہنے کو اوپر گئی۔ تم کو پڑھتے دیکھ کر الٹی پھر آئی۔"

    اصغری: "بھلا پہاڑ پر جانے کی بات تو نے کس غرض سے کی تھی؟ میں نے تجھ سے صلاح کی تھی یا تو نے مجھ کو کہتے سنا تھا؟"

    اس کا کچھ جواب عظمت کو نہ آیا۔ پھر اصغری نے اشتہار نکال کر مولوی صاحب کے سامنے ڈال دیا اور کہا۔ "دیکھئے یہ بیوی عظمت ان گنوں کی ہیں۔ خود تو محلے کے پھاٹک سے اشتہار اکھاڑ لائی اور مکان پر لگایا اور خود اماں جان سے کہنے کو دوڑی گئی۔"

    Page 90

    اصغری یہ باتیں کہہ رہی تھی اور مولوی صاحب کا چہرہ سرخ ہو ہو جاتا تھا۔ ادھر تماشا خانم دانت پیس رہی تھی۔ مولوی صاحب نے کہا۔ "تجھ کو نکالنا ہی کافی نہیں۔ تو بڑی بد ذات عورت ہے۔" یہ کہہ کر اپنے خدمت گار کو آواز دی اور کہا۔ "بہادر، اس ناپاک کو کوتوالی لے جا۔ رقعے میں اس کا سب حال ہم لکھے دیتے ہیں۔"

    اصغری نے مولوی صاحب سے کہا "بس، اب یہ اپنی سزا کو پہنچ گئی۔ کوتوال سے اس کو معاف رکھیے اور ماما کو اشارہ کیا "چل دے۔" بلکہ دروازے تک ماما کے ساتھ گئی۔

    عرض ماما عظمت اپنے تکوں کے پیچھے یہاں سے نکالی گئی۔ گھر پہنچی تو بیٹی بلا کی طرح لپٹی۔ "میں نہ کہتی تھی اماں ایسی لوٹ تو نہ مچاؤ۔ سو دن چور کے تو ایک دن شاہ کا۔ ایسا نہ ہو کسی دن پکڑی جاؤ۔ تم کسی کی مانتی تھیں۔ خوب ہوا۔ جیسا کیا ویسا پایا۔ اب سسرال میں میرا نام تو بد مت کرو۔ جہاں تمہارا خدا لے جائے چلی جاؤ۔ میرے گھر میں تمہارا کام نہیں۔ زیور کو میں نے صبر کیا۔ تقدیر میں ہو گا تو پھر مل رہے گا۔" اس طور پر خدا خدا کر کے اصغری نے اپنے دشمن کو نکال پایا اور گھر کو عذاب سے نجات دی۔

    باب بیسواں

    گھر میں دوسری ماما رکھنے کی صلاح

    جب عظمت کا فیصلہ ہو گیا تو اصغری نے باپ کے پاس جانے کی پھر اجازت لی اور راضی خوشی رخصت ہو، ماں کے گھر آئی۔ ایک ہفتہ برابر یہاں رہی اور جس جس بات میں باپ سے صلاح لیتی تھی، اطمینان سے پوچھا گچھا۔

    خان صاحب: "عظمت نکل گئی؟"

    اصغری: "سب آپ کے طفیل سے بخیر انجام ہوا۔ یہ بڑے بھائی لاہور جاتے، نہ ابا جان آتے، نہ یہ برسوں کا حساب طے ہوتا، نہ عظمت نکلتی۔"

    خان صاحب: "اب گھر کا انتظام کیوں کر ہو گا؟"

    Page 91

    اصغری : "ماما کے نکلتے میں تو ادھر چلی آئی۔ اب انتظام کیسا مشکل ہے۔ اسی عظمت کی خرابی تھی۔ اب انشا اللہ میں سب دیکھ بھال لوں گی۔

    خان صاحب: "اور کیا کیا باتیں تم نے گھر میں ایجاد کیں؟"

    اصغری : "ابھی میں نے کچھ دیکھا بھالا نہیں۔ شروع سے عظمت کا جھگڑا درپیش آیا۔ اب البتہ ارادہ ہے کہ ہر ایک کو سوچوں اور انتظام کروں۔ خدا نے چاہا تو آپ کو خط کے ذریعے سے اطلاع دیتی رہوں گی۔"

    خان صاحب نے نکاح کے بعد سے اصغری کا دس روپے مہینہ مقرر کر دیا تھا۔ انہوں نے اصغری سے پوچھا "اگر تم کو خرچ کی تکلیف رہتی ہو تو میں کچھ روپے تم کو اور دیتا ہوں۔"

    اصغری : "وہی دس روپے میری ضرورت سے زیادہ ہیں۔ بلکہ آج تک کا روپیہ سب میرے پاس جمع ہے۔ زیادہ لے کر کیا کروں گی۔ جب ضرورت ہو گی تو میں خود مانگ لوں گی۔"

    غرض باپ سے اصغری رخصت ہو گئی۔ سسرال میں آ کر دیکھا کہ ساس چولہا پھونک رہی ہیں۔ اصغری نے حیرت سے پوچھا "ایں! اب تک کوئی ماما نہیں رکھی گئی؟"

    ساس: "آنے کو تو کئی عورتیں آئیں، پر تنخواہ سن کر ہمت نہیں پڑتی کسی کو نوکر رکھنے کی۔ عظمت بری تھی مگر آٹھ آنے مہینے پر تیس برس اس نے نوکری کی۔ اب جو ماما آتی ہے، دو روپے اور کھانے سے کم کا نام نہیں لیتی۔"

    اصغری: "ماما تو ایک میری نظر میں بھی ہے، لیکن خواہ وہ زیادہ مانگتی ہے۔ کفایت النساء کی چھوٹی بہن دیانت النساء۔ پکانا سینا سب جانتی ہے اور ایک دفعہ کفایت النساء نے بھی کہا تھا کہ کوئی اچھا ٹھکانا ہو تو دیانت النساء نوکری کرنے کو موجود ہے۔"

    محمد کامل کی ماں: "وہ کیا تنخواہ لے گی؟"

    اصغری : "وہ تو اپنے منہ سے تین روپے اور کھانا مانگتی ہے، لیکن سمجھانے سے شاید دو روپے پر راضی ہو جائے۔"

    محمد کامل کی ماں : "دو روپے اور کھانا دینا ہو تو دروازے پر بھوندو بھٹیارے کی بی بی چینا کی ماں منتیں کرتی ہے۔"

    اصغری: "چینا کی ماں کو تو میں چار آنے پر بھی نہ رکھوں۔"

    Page 92

    محمد کامل کی ماں: "اے کیوں؟"

    اصغری : "پاس کا رہنے والا آدمی برا۔ آنکھ بچی اور جو چیز چاہی گھر میں لے جا کر رکھ آئی۔ اور جب گھر سے گھر ملا ہے تو ہر گھڑی چینا کی ماں اپنے گھر جائے گی اور شاید رات کو بھی اپنے گھر رہے۔"

    محمد کامل کی ماں : "بخشو کی بیوی نے اپنی بیٹی زلفن کے واسطے مجھ سے کئی مرتبہ کہا ہے۔ زلفن تو سید فیروز کے بنگلے رہتی ہے۔"

    اصغری: "وہی زلفن نہ جو خوب بنی ٹھنی رہتی ہے؟"

    محمد کامل کی ماں: "بنی ٹھنی کیا رہی ہے، نئی بیاہی ہوئی ہے۔ نئے نئے کپڑے لتے کا ذرا شوق ہے۔"

    اصغری: "ایسا آدمی بھی نہیں رکھنا چاہیے۔"

    محمد کامل کی ماں : "خود زلفن کی ماں نوکری کرنے کو راضی ہے۔"

    اصغری : "ان کے ساتھ ایک دم چھلا چھوٹی بیٹی کا لگا ہوا ہے۔ وہ ایک دم ماں کو نہیں چھوڑتی۔ پس نام تو ایک آدمی کا ہو گا اور کھائیں گے دو دو۔"

    محمد کامل کی ماں: "اور تو کوئی آدمی میرے خیال میں نہیں آتا۔"

    اصغری: ؛دیکھو، اسی دیانت النساء کو بلاؤں گی۔"

    کامل کی ماں: "اور تنخواہ کا کیا ہو گا؟"

    اصغری: "ایمان دار آدمی تو کم تنخواہ پر ملنا محال ہے۔ ان لوگوں کو دو کی جگہ تین دینے گوں ہیں لیکن ماما عظمت جیسی کو آٹھ آنے دے کر گھر لٹوانا منظور نہیں۔ وہ کہاوت سچ ہے، گراں بہ حکمت ارزاں بہ علّت۔"

    اس وقت کھانا تو ساس بہوؤں نے مل کر پکا پکوا لیا۔ کھانے کے بعد اصغری محمودہ کو ساتھ لے کر کوٹھے پر چلی گئی۔ جب تک مولوی صاحب رہے اصغری نے کوٹھے پر سے اترنا بہت کم کر دیا تھا۔ صرف صبح و شام نیچے اترتی تھی۔ بلکہ محمودہ کو بھی منع کر دیا تھا کہ بے وقت نیچے مت جایا کرو۔ محمودہ تو لڑکی تھی اس نے پوچھا "اچھی بھابی جان، کیوں؟"

    اصغری نے کہا "بڑوں کے سامنے ہر وقت نہیں چلتے پھرتے۔"

    Page 93

    باب اکیسواں

    گھر کے خرچ کا تعین

    کھانے کے بعد گھر کے حساب کتاب میں مولوی صاحب سے اور بی بی سے لڑائی ہونے لگی۔ بی بی کو شکایت تھی کہ تم خرچ بہت تھوڑا بھیجتے ہو۔ یہاں شادی بیاہ، برادری کا لینا دینا، آنا جانا، تیز تیوہار سب مجھ کو کرنا پڑتا ہے۔ مولوی صاحب کہتے تھے کہ بیس روپے مہینہ تھوڑا نہیں ہے۔ تم کو انتقام کا سلیقہ نہیں۔ اسی سبب سے گھر میں بے برکتی رہتی ہے۔ اتنے میں مولوی صاحب نے محمودہ کو آواز دی۔ محمودہ آئی تو کہا "بھابی کو بلا کر لا۔"

    اصغری نے طلب کی خبر سنی تو حیران ہوئی کہ اس وقت کیوں بلایا۔ محمودہ سے پوچھا "کیا ہو رہا ہے؟" محمودہ نے کہا "لڑائی ہو رہی ہے۔" اصغری گئی تو مولوی صاحب نے کہا :

    "کیوں بیٹا، اب انتظام کون کرے گا۔"

    اصغری نے کہا "اماں جان کریں گی جس طرح اب تک کرتی تھیں۔"

    مولوی صاحب نے کہا "ان کے انتقام کا نتیجہ تو دیکھ لیا۔ بیس روپے مہینہ جس گھر میں آتا ہو اس کی یہی صورت ہوتی ہے کہ نا سلیقے کا کوئی برتن ہے نہ عزت کی کوئی چیز۔ اگر کسی وقت ایک چمچ شربت درکار ہو تو خدا نے چاہا اس کا سامان بھی گھر میں نہ نکلے گا۔"

    اصغری: "اماں جان کا اس میں کیا قصور ہے؟ عظمت نامراد نے گھر خراب کیا۔"

    مولوی صاحب: "ان میں انتظام کی عقل ہوتی تو عظمت کی کیا طاقت تھی؟ عظمت نوکر تھی یا گھر کی مختار تھی؟"

    اصغری : "پچیس برس کا پرانا آدمی جب لوٹنے پر کمر باندھے تو اس کے فریب کو کون جان سکتا ہے؟ ایسے پرانے آدمی پر تو شبہ بھی نہیں ہو سکتا۔"

    مولوی صاحب: "تم کو آخر شبہ ہوا یا نہ ہوا۔"

    Page 94

    اصغری: "مجھ کو کیا شبہ ہوا، اس نے نالش کا ذکر چھیڑ کر سوئی بھڑوں کو جگایا۔"

    اتنے میں ساس بولیں۔ "پچاس میں سے تم اپنے اکیلے دم کے واسطے تو تیس روپے رکھو اور یہاں کنبے کے واسطے بیس۔"

    مولوی صاحب : "گھر کا خرچ اور باہر کہیں برابر ہو سکتا ہے۔ تم نے تو مجھے کو اکیلا سمجھ لیا اور خدمت گار، سواری، مکان، کپڑا لتا؟"

    بیوی: "سواری اور مکان تو سرکار سے ملتا ہے۔"

    مولوی صاحب: "گھوڑا، دانہ گھاس تو مجھ کو اپنی گرہ سے کھلانا پڑتا ہے۔ چار روپے کا سائیس اور مکان کی مرمت۔ پھر سرکار دربار کے موافق حیثیت، لینا دینا، ہزار بکھیڑے ہیں۔ نہیں معلوم میں کسی طرح گزران کرتا ہوں۔"

    اصغری نے ساس کی طرف مخاطب ہو کر کہا "اماں جان بیس روپے میں تکرار کرنے سے فائدہ؟ جتنا ہے ہزار شکر ہے۔ خدا ابا جان کی کمائی میں برکت دے۔ یہ بھی ہزاروں ہیں۔"

    ساس: "بیٹی مجھ سے تو بیس میں گھر نہیں چلتا۔"

    اصغری نے اشارے سے اس کو روکا اور مولوی صاحب سے کہا "آپ چاہے دو روپے اور کم دیجئے لیکن جو کچھ دیں ماہ بہ ماہ ملا کرے۔ جب وقت پر پیسہ پاس نہیں ہوتا تو ناچار قرض لینا پڑتا ہے اور قرض سے گھر کی رہی سہی برکت بھی اڑ جاتی ہے۔"

    مولوی صاحب: "ہندوستانی سرکاروں میں تنخواہوں کا دستور قاعدہ بہت خراب ہے۔ کبھی چھٹے مہینے تقسیم ہوتی ہے کبھی برسویں دن ملتی ہے۔ اس سبب سے خرچ کا معمول نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہزاری مل سے میں کہہ جاؤ گا کہ ہر مہینے تم کو بیس روپے دے دیا کرے۔"

    اصغری: "مہاجن دے جائے گا تو وہ آپ سے سود مانگے گا۔"

    مولوی صاحب: "نہیں، سود کیا لے گا۔ ہماری سرکار میں بھی اس کا لین دین ہے۔ وہاں سے حکم آجائے گا۔"

    اصغری: "ہاں تو اس کا مضائقہ نہیں۔"

    غرض بیس روپے تنخواہ ٹھہر گئی۔ لیکن محمد کامل کی ماں کو ناگوار ہوا اور الگ لے جا کر اصغری سے گلہ کیا۔ اصغری نے کہا "گھر تو بیس میں انشاء اللہ میں چلا لوں گی۔ اس کا آپ

    Page 95

    کی فکر نہ کیجیے۔ اور مولوی صاحب واقع میں تیس روپے سے کم میں اپنی حیثیت درست نہیں رکھ سکتے۔ مختار کی نوکری میں اول تو اوپر سے آمدنی کی کوئی صورت نہیں اور ہو بھی تو مولوی صاحب کیوں لینے لگے؟ پس گئی بوٹی نپا شوربا۔ مولوی صاحب خود تکلیف میں رہیں اور دو چار روپے گھر میں زیادہ بھی آئے تو مناسب نہیں۔"

    یہ سن کر ساس چپ ہو رہیں۔

    باب بائیسواں

    ماما عظمت کی جگہ دیانت النساء رکھی گئی

    اصغری کا انتظام خانہ داری

    اصغری نے دیانت النساء کو بلا بھیجا اور کہہ سن کر دو روپے اور کھانے پر راضی کر لیا اور جتا دیا کہ دیانت النساء خبردار! کوئی بات ایسی نہ ہو کہ تمہارے اعتبار میں فرق آئے۔ جس طرح تمہاری بڑی بہن ہمارے گھر رہتی ہے اسی طرح تم رہنا۔

    دیانت النساء نے کہا "بیوی! خدا اس گھڑی کو موت دے کہ پرائے مال پر نظر کروں۔ ضرورت ہو تو تم سے مانگ کر کھا لوں اور نہ ملے تو بھوکی بیٹھی رہوں پر بے حکم نون تک چکھنا حرام سمجھتی ہوں۔"

    عید کے اگلے دن مولوی صاحب تو لاہور سدھارے اور ضرورت کی سب چیزیں اصغری نے اکٹھی منگوا لیں۔ اور آئندہ ہمیشہ فصل پر سستی دیکھ کر اکٹھی چیزیں لے رکھتی تھی۔ مرچ، پیاز، دھینا، اناج، دالیں، چاول، کھانڈ، گھی، لکڑی، اپلے، سکھانے کی ترکاریاں ہر چیز وقت مناسب پر خرید لی جاتی تھی۔ ماما ملا کر پانچ آدمی تھے۔ دونوں وقت میں سیر بھر گوشت آتا تھا۔ اس میں دیانت النساء دو طرح کا کر لیتی تھی۔ کبھی آدھے میں ترکاری اور آدھا سادہ۔ کبھی آدھے میں کباب۔ ان کے علاوہ دن کو ایک وقت دال، ساتویں دن پلاؤ

    Page 96

    اور چاولوں کا معمول تھا۔ گھر میں دو تین قسم کی چٹنی کوئی چاشنی دار کوئی عرق کوئی عرق منعناع کی، کوئی سرکے کی۔ دو چار قسم کا اچار مربہ بنا رکھا۔ ان کے علاوہ شربت انار، لیموں کی سکنجبین، شربت بنفشہ، شربت نیلو فر، شربت فالسہ کی ایک ایک بوتل بنا لی۔ ہر طرح کا ضروری سامان گھر میں رہا کرتا تھا۔ باوجود اس سامان کے پندرہ روپے سے زیادہ خرچ نہیں ہوتا تھا۔ پانچ روپے جو بچتے تھے اس سے بڑے بڑے پینسرے اور دس سیرے دو پتیلے ایک سینی، کچھ چھوٹے چمچے، دو لوٹے، ایک عدد چائے کے لوازم، اس قسم کی چیزیں خرید ہوئیں۔ دو صندوق بنوائے گئے۔ الماریاں ایک باورچی خانے میں، ایک اسباب کی کوٹھری میں۔ بیٹھنے کے تخت پرانے تھے وہ درست ہوئے۔ دو پلنگ تیار ہوئے۔ خلاصہ یہ کہ اصغری نے اسی بیس روپے میں گھر کو وہ جلا دی کہ ظاہر حال میں بڑی رونق معلوم ہوتی تھی۔ ہر چیز میں کفایت اور انتظام کو دخل دیا۔

    عظمت کے وقتوں میں ہمیشہ محمودہ کے واسطے تین چار پیسے کا روز سودا بازار سے آتا تھا۔ اس واسطے کہ کبھی دستر خوان میں ایک ٹکڑا نہیں بچا۔ اب دونوں وقت دو چار روٹیاں دستر خوان میں رہنے لگیں۔ کبھی بھنتے میں سے دو بوٹیاں محمودہ کے لئے نکال رکھیں۔ کبھی ایک چٹکی کھانڈ نکال دی۔ کبھی مربے کی ایک پھانک دے دی۔ روز کا سودا موقوف ہوا۔ کسی دن کبھی کبھار جو محمودہ کا جی چاہا تو کچھ منگوا لیا۔ اس گھر سے فقیر کو عمر بھر ایک چٹکی آٹا یا آدھی روٹی نہیں ملی تھی۔ اب دونوں وقت دو دو روٹیاں فقیروں کو بھی دی جانے لگیں۔ گھر میں جو کچھ اسباب تھا، عجب بے سلیقگی سے ساگ مولی کی طرح پڑا رہتا تھا۔ اب ہر ایک چیز ٹھکانے لگی۔ کپڑوں کی گٹھڑیاں ہیں تو کپڑے اچھی طرح تہہ کئے ہوئے ترتیب سے بندھے ہیں۔ اناج پانی کی کوٹھڑی میں ہر ایک شے احتیاط سے ڈھکی ہوئی ہے۔ برتن صاف ستھرے اپنی جگہ رکھے ہیں۔ چینی کے الگ، تانبے کے الگ۔ گویا گھر ایک کل تھی۔ جب کوک دیا کل اپنی معمول سے چلنے لگی۔ رفتہ رفتہ دو دو چار چار روپے پس انداز ہونے لگے اور اصغری ان کو بطور امانت علیحدہ جمع کرتی گئی۔ جب سے اصغری نے گھر کا اہتمام اپنے ہاتھ میں لیا، قرض لینا ختم ہو گیا۔ بھول کر بھی دمڑی چھدام تک کی چیز بازار سے ادھار نہ آئی۔ اصغری گھر کا سب حساب ایک کتاب میں لکھا کرتی تھی۔ جب کوئی چیز ہو چکنے پر آئی اور دیانت النساء نے اطلاع کی کہ بیوری دو دن کا اور ہے۔ اصغری نے کتاب

    Page 97

    نکال کر دیکھی کہ کس تاریخ کو کتنا گھی آیا اور کتنے روز کے حساب سے خرچ ہوا۔ اگر بے حساب ہوا تو دیانت سے باز پرس کی۔ مجال نہ تھی کہ کسی چیز میں فضول خرچی ہو اور بے حساب اٹھ جائے۔ پسائی والی کی پسائیاں اور دھوبن کی دھلائیاں تک کتاب میں لکھی جاتی تھیں۔

    باب تئیس واں

    اصغری نے اپنے میاں سے کھیل کود چھڑا کر

    اس کو پڑھنے پر متوجہ کیا

    جب ہر ایک چیز کا معمول بندھ گیا اور انتظام بیٹھ گیا، اصغری دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہوئی۔ محمد کامل پڑھتا لکھتا تو تھا لیکن ویسی ہی بے تدبیری اور بے شوقی سے جس طرح آزاد مختار لڑکے پڑھا کرتے ہیں۔ باپ تو باہر رہتے تھے۔ محمد عاقل گو بڑا بھائی تھا لیکن دونوں بھائیوں میں صرف ڈھائی برس کی بڑائی چھٹائی تھی۔ محمد کامل پر اس کا دباؤ کم تھا بلکہ نہیں تھا۔ پس محمد کامل صبح و شام سبق بھی پڑھتا تھا اور ہم عمر لڑکیوں میں گنجفہ۔ شطرنج، چوسر بھی کھیلا کرتا تھا۔ بعض مرتبہ کھیل میں مصروف ہوتا تو پہر پہر بھر رات گئے گھر آتا۔ اصغری کو یہ حال معلوم تھا۔ لیکن موقع ڈھونڈتی تھی کہ ایسے ڈھب سے کہنا چاہیے کہ ناگوار خاطر نہ ہو۔ ایک روز محمد کامل بہت رات گئے آیا اور شاید بازی جیت کر آیا تھا۔ خوش تھا۔ آنے کے ساتھ کھانا مانگا۔۔ دیانت النساء سالن گرم کرنے دوڑی۔ محمد کامل سمجھا کہ ابھی پکا رہی ہے۔ پوچھا "ابھی تک تمہاری ہنڈیا چولہے سے نہیں اتری؟"

    اصغری نے کہا "کئی دفعہ اتر اتر کر چڑھ چکی ہے۔ ایسے نا وقت تم کھانا کھاتے ہو کہ کھانا ٹھنڈا ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔ یا ایسا بندوبست کرو کہ سویرے کھا جایا کرو یا کھانا باہر منگوا لیا کرو۔ ادھر تمہارے انتظار میں اماں جان کو ہر روز تکلیف رہتی ہے۔

    محمد کامل : "تم لوگ میرے منتظر رہتے ہو؟ میں تو جانتا تھا کہ تم کھا لیا کرتی ہو گی۔"

    Page 98

    اصغری : "خدا رکھے، مردوں کے ہوتے عورتوں کو کھانا ٹھونس بیٹھنا کیا مناسب ہے؟"

    محمد کامل : "دو چار روز کی بات ہو تو گزر ہو سکتی ہے۔ اور میری ہی نا رضا مندی کا خیال ہے تو میں خوشی سے اجازت دیتا ہوں کہ تم لوگ کھانا کھا لیا کرو۔"

    اصغری اس وقت تو چپ ہو رہی۔ کوٹھے پر پھر محمد کامل نے خوب چھیڑ کر اسی بات کو كہا تو اصغری بولی "تعجب کی بات ہے۔ تم اپنے معمول کے خلاف نہیں کر سکتے اور ہم لوگوں سے کہتے ہو کہ اپنا معمول توڑ دیں۔ تم ہی سویرے چلے آیا کرو۔"

    محمد کامل : "کھانے کے بعد باہر نکلنے کو جی نہیں چاہتا اور مجھ کو نیند دیر سے آتی ہے۔ گھر میں بے خلل پڑے پڑے جی گھبراتا ہے۔ اس واسطے میں قصداً دیر کر کے آتا ہوں کہ کھانے کے بعد سو رہوں۔"

    اصغری : "شغل تو اپنے اختیار میں ہے۔ آدمی اپنے وقت کو ضبط کر لے تو ہزاروں کام ہیں۔ ایک پڑھنے کا شغل کیا کم ہے۔ میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھا کرتی تھی کہ آدھی آدھی رات تک کتاب دیکھتے اور جس دن اتفاق سے سو جاتے تو بڑا افسوس کیا کرتے تھے۔ تم پڑھنے میں محنت کم کرتے ہو۔ اسی واسطے بے شغلی سے تمہارا جی گھبراتا ہے۔"

    محمد کامل: "اور کیا محنت کروں؟ دونوں وقت میں پڑھ لیتا ہوں اور یاد کر لیتا ہوں۔"

    اصغری: "نہیں معلوم تم کیا پڑھنا پڑھتے ہو۔ جس دن عظمت کا حساب کتاب ہوا تھا، ابا جان تم سے حساب پوچھے تھے اور تم بتا نہیں سکتے تھے۔ مجھ کو شرم آتی تھی۔"

    محمد کامل: "حساب دوسرا فن ہے۔ میں عربی پڑھتا ہوں۔ اس سے اور حساب سے کیا واسطہ؟"

    اصغری : "پڑھنا لکھنا اسی واسطے ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی کام اٹکا نہ رہے۔ بڑے بھائی فارسی بہت بڑھ گئے ہیں، لیکن نوکری نہیں کی۔ ابا کہا کرتے ہیں کہ حساب کتاب اور کچہری کا کام جب تک نہ سیکھو گے نوکری کا خیال مت کرو۔ اب مال اندیش مدرسے میں پڑھتا ہے اور حساب کتاب میں بڑے بھائی سے زیادہ ہوشیار ہے۔ ابا اس سے بہت خوش ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ دو برس مدرسے میں اور پڑھو پھر تم کو کہیں نہ کہیں نوکری کرا دوں گا۔"

    کامل : "تم میں بھی مدرسے میں داخل ہو جاؤں؟"

    اصغری : "مدرسے میں داخل ہونے پر کیا منحصر ہے۔ یوں شہر میں کیا سکھانے والے نہیں

    Page 99

    ہیں؟ جتنا وقت تم کھیل میں ضائع کرتے ہو، اس میں صرف کیا کرو۔"

    محمد کامل: "کھیل کیا میں دن رات کھیلتا ہوں؟ کبھی گھڑی دو گھڑی کو بیٹھ گیا۔"

    اصغری: "کھیلنا افیون کی سی عادت ہے۔ تھوڑے سے شروع ہو کر بڑھتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ لت پڑ جاتی ہے اور پھر اس کا چھوٹنا مشکل ہوتا ہے۔ اول تو یہ کھیل گناہ ہیں۔ اس کے علاوہ آدمی کو دوسرے کمال حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ کام کاج کے آدمی کبھی نہیں کھیلتے۔ نکمے لوگ البتہ اسی طرح دن کاٹتے ہیں۔ ان کھیلوں میں جیسا بازی جیتنے سے جی خوش ہوتا ہے، ہارنے سے رنج بھی ہوتا ہے اور جس طرح وہ خوشی بے اصل ہوتی ہے، یہ رنج بھی ناحق ہوتا ہے۔ اور اکثر کھیلتے کھیلتے آپس میں مفت کی تکرار ہو جاتی ہے۔ میری صلاح مانو تو ان کھیلوں کو بالکل موقوف کرو۔ لوگ تمہارے منہ پر تو کچھ نہیں کہتے۔ لیکن پیچھے ہنستے ہیں۔ پرسوں اترسوں کی بات ہے کہ تم کو کوئی مردوا بلانے آیا تھا۔ ماما نے جواب دیا کہ باہر سدھار گئے ہیں۔ اس مردود نے طعنے کے طور پر اپنے ساتھ والے سے کہا میاں، ماسٹر حسینی کے مکان پر چلو۔ وہاں شطرنج کے جمگھٹے میں ملیں گے۔ ابا جان کا شہر میں بڑا نام ہے۔ لوگ ان کے معتقد ہیں۔ ایسی جگہ جانے سے آدمی بدنام ہوتا ہے۔ میں نے ابا جان کو افسوس کرتے سنا کہ ہائے ہماری تقدیر! دو لڑکوں میں کوئی بھی ایسا نہ ہوا کہ اس کو دیکھ کر جی خوش ہوتا۔ عاقل کو کچھ لکھایا پڑھایا تھا۔ اب وہ بھی اپنی نوکری کے پیچھے ایسا پڑا ہے کہ لکھا پڑھا بھی بھول گیا۔ یہ چھوٹے صاحب ہیں، ان کو کھیل کود سے فرصت نہیں۔ بلکہ ہمارے ابا جان کو بھی کسی نے اس کی خبر کر دی۔ مجھ سے پوچھتے تھے۔ میں نے کسی طرح اس وقت بات کو ٹال دیا۔"

    اصغری کی نصیحت نے محمد کامل پر بہت عمدہ اثر کیا اور اس نے کھیلنا بالکل چھوڑ دیا، پہلے کی نسبت عربی پر بھی زیادہ محنت کرنے لگا اور ایک مدرس سے مدرسے کے باہر حساب کتاب بھی سیکھنا شروع کر دیا۔ خدا نے وقت میں بڑی برکت دی ہے۔ اس کو انتظام کے ساتھ مصرف کرنے سے چند روز میں محمد کامل کی استعداد عربی بھی درست ہو گئی اور حساب اور ریاضی کی بھی کتابیں نکل گئیں۔

    Page 100

    باب چوبیسواں

    اصغری نے لڑکیوں کا مکتب بٹھایا

    محمد کامل تو ادھر مصروف رہا، اصغری نے اسی عرصے میں ایک اور کارخانہ جاری کیا۔ اس محلے میں حکیم روح اللہ خان ہڑے نامی گرامی آدمی تھے۔ حکیم صاحب خود تو سرکار مہاراجا پٹیالہ میں دیوان تھے لیکن گھر بار، لڑکے بچے سب اسی محلے میں تھے۔ مکان، محلات، نوکر چاکر، بڑا کارخانہ تھا اور یہ گھر شہر کے اونچے گھروں میں گنا جاتا تھا۔ اونچی جگہ رشتے ناطے، اونچے لوگوں سے راہ و رسم حکیم صاحب کے چھوٹے بھائی فتح اللہ خاں بہت مدت تک والی اندور کی سرکار میں مختارِ کُل رہے اور جب اس سرکار میں منشی عمو جان کو بڑا دخل ہوا، مصلحتِ وقت سمجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ لیکن لاکھوں روپیہ گھر میں تھا۔ نوکری کی کچھ پروانہ تھی۔ ہزاروں روپے کی املاک شہر میں خرید کر لی تھی۔ سینکڑوں روپے ماہواری کرائے کا چلا آتا تھا۔ بڑی شان سے رہتے تھے۔ ڈیوڑھی پر سپاہیوں کا گارد، اندر باہر تیس چالیس آدمی نوکر، گھوڑا، ہاتھی، پالکی بھی سواری کو موجودہ۔

    فتح اللہ خاں کی دو بیٹیاں تھیں، جمال آرا اور حسن آرا۔ جمال آرا نواب اسفند یار خاں کے بیٹے سے بیاہی گئی تھیں۔ لیکن ایسی ناموافقت ہوئی کہ آخر کار قطع تعلق ہو گیا۔ کچھ خدا نخواستہ طلاق نہیں ہوئی تھی لیکن کسی طرح کا واسطہ باقی نہیں رہا تھا۔ جہیز کا اسباب تک پھر آیا تھا۔ حسن آرا کی نسبت نواب جھجر کے خاندان میں ہوئی۔ ان لڑکیوں کی خالہ شاہ زمانی بیگم اسی محلے میں رہتی تھیں جس میں اصغری کا میکہ تھا۔ اس محلے میں تو اصغری کی لیاقت کا شور تھا۔ شاہ زمانی بیگم بھی اصغری کے حال سے خوب واقف تھیں۔ شادی بیاہ میں کئی مرتبہ ان کو دیکھا تھا۔ شاہ زمانی بیگم اپنی چھوٹی بہن حسن آرا کی ماں سے ملنے کے لئے آئیں۔ دنیا کا دستور ہے کہ کوئی فرد بشری رنج سے خالی نہیں اور یہ امر کچھ من
     
  7. الشفاء

    الشفاء لائبریرین

    مراسلے:
    2,932
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    -----------------------
    ریختہ صفحات 111 تا 115
    -----------------------


    صفحہ 111

    آئی، تیرھویں طشتری میں میں اکیلی تھی۔"
    اصغری : کیا تم نے دوہرا حصہ لیا؟
    حسن آرا : نہیں تو۔ میری طشتری آدھی ہی تھی۔ سب سے پوچھ لیجئے۔
    اصغری : تم برادری سے الگ کیوں رہیں؟
    حسن آرا تو چپ ہوئی، امتہ اللہ نے کہا " استانی جی، ان سب کے ساتھ کھاتے گھن آتی ہے۔"
    حسن آرا: نہیں استانی جی۔ گھن کی بات نہیں۔ میں دسترخوان پر سب لڑکیوں سے پیچھے آئی۔ اس لئے اکیلی رہ گئی۔ آپ محمودہ سے دریافت لر لیجئے۔
    امتہ اللہ: کیوں، تم ابھی تھوڑی دیر ہوئی میرا جھوٹا پانی پینے پر لڑ نہیں چکیں؟
    حسن آرا: میں لڑی تھی یا صرف اتنی بات کہی تھی کہ جتنی پیاس ہوا کرے ، اسی قدر پانی لیا کرو۔ گلاس میں جھوٹا پانی چھوڑ دینا عیب کی بات ہے۔
    پھر اصغری نے محمودہ سے پوچھا " وہ رسالہ خوان نعمت جو میں نے تم کو دیا تھا، اس میں کے تم سب کھانے پکا کر دیکھ چکیں یا ابھی نہیں؟
    محمودہ نے تھوڑی دیر تامل کر کے کہا، "میں اپنی دانست میں سب پکوا چکی ہوں بلکہ کئی کئی بار نوبت آ چکی ہے۔ جتنی بڑی لڑکیاں ہیں ، معمولی روز مرہ کے کھانوں کی ترکیب سب کو معلوم ہے ۔ اس کے علاوہ بھی ہر قسم کے کباب، سیخ کے، پسندوں کے ، شامی، گولیوں کے، کوفتے، معمولی پلاؤ ، قورمہ پلاؤ، کچی بریانی، نور محلی، زردہ ، متنجن، سموسے ، میٹھے سلونے، قلمی بڑے، دہی بڑے، سہال، سہو، گھی تلی دال ، کچوریاں، پاپڑا، بورانی، فیرینی، حلوا، سوہن، پپڑی کا، نرم اندر سے کی گولیاں، سب چیزیں بار بار پک چکی ہیں اور سب لڑکیوں نے پکتے دیکھیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے پکائی ہیں۔ اور یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے مکتب میں ہنڈ کلھیا کا تو نام ہے، جو چیز پکتی ہے خاصے ایک کنبے کے لائق پکتی ہے اور حسن آرا کو تو چٹنیوں اور مربوں سے بہت شوق ہے۔ یہ چیزیں ان کے سوائے اور لڑکیاں ذرا کم ہی جانتی ہیں۔"
    اس کے بعد اصغری نے سفیہن سے کہا " بوا اب تم کو یہاں کی ہنڈ کلھیا کا فائدہ تو معلوم ہو گیا ہو گا۔ رات زیادہ ہو گئی۔ بعض لڑکیوں کے گھر دور ہیں۔ اگر کل آؤ تو گڑیوں کی سیر تم کو دکھائیں اور شام تک رہو تو کہانیاں بھی سنوائیں۔

    صفحہ 112
    سب لوگ رخصت ہوئے ۔ سفیہن چلتے چلتے اصغری کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی کہ استانی جی ، للہ میرا قصور معاف کیجئے گا۔
    اگلے روز جو سفیہن آئی تو لڑکیوں کے کاڑھے ہوئے کشیدے، لڑکیوں کے بنے ہوئے گوٹے، لڑکیوں کے موڑے ہوئے گوکھرو، لڑکیوں کی بنائی ہوئی توئیاں اور چنیا، لڑکیوں کے قطع کئے ہوئے اور سیئے ہوئے مردانے اور زنانے کپڑے، اصغری نے سب دکھائے جن کے دیکھنے سے سفیہن کو نہایت اچھنبا ہوا۔ اس کے بعد لڑکیوں کی گڑیوں کے گھر دکھائے۔ ان کی گھروں میں خانہ داری کا سب لوازمہ فرش، فروش، گاؤ تکیے، اگالدان، چلمچی، آفتابہ، پٹاری، پردہ، چلمن، چھت گیری، پنکھا، مسہری، ہر طرح کے برتن، ہر طرح کا سامان آرائش، اپنے اپنے ٹھکانے سے رکھا ہوا تھا اور گڑیاں ایسی سجی ہوئی تھیں کہ عین مین شادی کے گھر میں مہمان جمع ہیں۔ جب گڑیوں کے گھروں کو دیکھ چکی تو اصغری نے سفیہن سے کہا کہ لڑکیاں کھیل کھیل میں گھر کا بندوبست، ہر طرح کی تقریبات، چھٹی، دودھ، چھٹائی، کھیر چٹائی، بسم اللہ، روزہ، منگنی ، عیدی، سانونی، محرم کی قفلیاں اور گوٹا، تیز تیوہار، ساچق، برسات، بہواڑ، بیاہ، چالے، چوتھی کی راہ و رسم سے واقفیت حاصل کرتی ہیں۔ بوا سفیہن، تمہاری لڑکی تو ابھی تھوڑے دنوں سے آتی ہے، جو لڑکیاں میرے مکتب میں بہت دنوں سے ہیں، جیسے یہ بیٹھی ام البنین، یا میری نند محمودہ یا حسن آرا، توبہ توبہ کر کے کہتی ہوں کہ اگر ان کو کسی بڑے بھرے پرے گھر کا انتظام اس وقت سونپ دیا جائے تو ان شاءاللہ ایسا کریں گی جیسے کوئی مشاق اور تجربہ کار کرتی ہے۔ میں صرف پڑھنے پر تاکید نہیں کرتی۔ پڑھنے کے علاوہ ان کو دنیا کا کام بھی بتاتی ہوں جو چند روز بعد ان کے سر پڑے گا۔
    یہ کہہ کر اصغری نے حسن آرا کو بلایا اور کہا کہ بوا، تمہاری گڑیا کا گھر تو خوب آراستہ ہے۔ صرف ایک کسر ہے کہ تمہاری گڑیوں کے پاس رنگین جوڑے نظر نہیں آتے۔ کیا تم کو رنگنا نہیں آتا؟
    حسن آرا: رنگ تو محمودہ بیگم نے مجھ کو بہت سے سکھا دیے ہیں۔ یوں ہی آلکسی کے مارے نہیں رنگے۔
    اصغری: بھلا بتاؤ تو؟
    حسن آرا: استانی جی، برسات کے رنگ، سرخ، نارنجی، گل انار، گل شفتالو، سروئی، دھانی،

    صفحہ 113
    اودا، جاڑے کے گیندئی، جوگیا، عنابی، کاہی، تیلی، کاکریزی، سیاہ، نیلا، گلابی، زعفرانی،کوکئی، کرنجوی، اور گرمی کے پیازی، آبی، چنپئی، کپاسی، بادامی، کافوری، دودھیا، خشخاشی، فالسئی، ملا گیری، سیندوریا رنگ تو بہت ہیں مگر میں وہی بیان کئے جو اکثر پہنتے ہیں۔
    اصغری: رنگوں کے نام تو تم نے بہت گنوا دیے، بھلا یہ تو بتاؤ کہ یہ سب رنگ تم کو رنگنے بھی آتے ہیں؟
    حسن آرا: میں نے ان ہی رنگوں کے نام لیے ہیں جو مجھ کو خود رنگنے آتے ہیں۔
    اصغری: بھلا بتاؤ تو سروئی کیوں کر رنگتے ہیں؟
    حسن آرا: کاہی قند اچھے گہرے رنگ کی آدھ گز منگوائی اور پانی کو خوب جوش کر کے پھٹکڑی کی ڈلی اوپر سے قند کا ٹکڑا ڈال کر ہلا دیا۔ پھٹکڑی کی تاثیر سے قند کا رنگ کٹ جائے گا۔ بس اس میں کپڑا رنگ لیا۔
    اصغری: بھلا قند نہ ملے؟
    حسن آرا: تو ٹیسو کے پھولوں کو جوش دے کر پھٹکڑی پیس کر ملا دی۔ سروئی ہو جائے گا۔ لیکن لکا کپاسی ہو گا۔ اچھا سروئی بے قند کے نہیں رنگا جاتا اور اگر قند کی جگہ بانات کا رنگ کاٹا جائے تو وہ عمدہ رنگ آتا ہے کہ سبحان اللہ! لیکن ان دنوں مجنٹن ایسا چلا ہے کہ سب رنگوں کو مات کیا ہے۔ کپڑے تو کپڑے مٹھائی کھانے کا گوٹا مجنٹن میں نہایت خوش رنگ رنگا جاتا ہے۔ بڑی آپا جان نے مجنٹن کے رنگ کا زردہ پکا کر بھیجا تھا۔ زعفران سے بہتر رنگ تھا۔
    اصغری خانم نے گھبرا کر پوچھا " حسن آرا کہیں تم نے وہ مجنٹن کے رنگے ہوئے چاول کھائے تو نہیں؟
    حسن آرا: میں نے کھائے تو نہیں ۔ لیکن استانی جی، کیوں؟ کچھ بری بات ہے؟
    اصغری خانم: اے ہے! مجنٹن میں سنکھیا پڑتی ہے۔ خبردار! مجنٹن کی کوئی چیز زبان پر مت رکھنا۔
    حسن آرا: میں نے تو مجنٹن کا رنگا ہوا گوٹا محرم میں بہت کھایا۔
    اصغری خانم: کیا ہوا۔ رمق برابر مجنٹن میں تو بہتیرا گوٹا رنگا جاتا ہے۔ اس سبب سے تم کو کچھ نقصان نہ ہوا۔ لیکن یاد رکھو کہ اس میں زہر ہے۔

    صفحہ 114
    حسن آرا: مجنٹن کی رنگی ہوئی مٹھائی لوگ منوں کھاتے ہیں۔
    اصغری خانم: بہت برا کرتے ہیں۔ زہر جب اپنی مقدار پر پہنچ جائے گا، ضرور اثر کرے گا۔

    شام ہوئی تو لڑکیاں اپنے اپنے کشیدے اور کتابیں معمول کے مطابق کھیلنے اور کہانیاں اور پہیلیاں کہنے سننے کو آ بیٹھیں۔ اصغری نے سفیہن سے کہا کہ یہاں چڑے چڑیا کی کہانیاں نہیں ہوتیں۔ کہانیوں کی ایک عمدہ کتاب ہے، منتخب الحکایات جس میں بڑی اچھی اچھی کہانیاں ہیں اور ہر ایک کہانی ایک سے ایک بڑھ کر ہے۔ اب یہ لڑکیاں اسی کتاب کی کہانیوں سے جی بہلائیں گی۔ کہانیاں کہنے سے ان کی تقریر صاف ہوتی ہے۔ ادائے مطلب کی استعداد بڑھتی جاتی ہے۔ اور جب کبھی مجھ کو فرصت ہوتی ہے تو میں کہانیوں کے بیچ بیچ میں ان سے الجھتی جاتی ہوں اور جیسی ان کی سمجھ ہے، یہ میری بات کا جواب دیتی ہیں۔ اگر نادرست ہوتا ہے ، میں بتا دیتی ہوں۔ پہیلیوں کے بوجھنے سے ان کی عقل کو ترقی اور ان کے ذہنوں کو تیزی ہوتی ہے۔ لیکن تم ان میں بیٹھ کر سیردیکھو۔ مجھ کو آج عالیہ کی ماں نے بلا بھیجا ہے۔ ان کے بچے کا جی اچھا نہیں۔ بہت بہت منتیں کہلا بھیجی ہیں۔ نہ جاؤں گی تو برا مانیں گی اور میرا جی نہیں مانتا۔
    سفیہن: ہاں، میں نے بھی سنا ہے کہ ان کے لڑکے نے کئی دن سے دودھ نہیں پیا۔ بیچاری بہت ہراساں ہو رہی ہیں۔ اے ہے! خدا کرے نگوڑا جیتا رہے۔ بڑی اللہ آمین کا بچہ ہے۔ دس برس میں پھڑک پھڑک کر خدا نے یہ صورت دکھائی ہے۔ عالیہ کے اوپر یہی تو ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ استانی جی، تم کو علاج کے واسطے بلایا ہو گا۔
    اصغری: علاج ولاج تو مجھ کو کچھ بھی نہیں آتا۔ ایک مرتبہ پہلے اسی لڑکے کو پیاس ہو گئی تھی۔ میں زہر مہرہ، بنسلوچین، گلاب کا زیرا، چھوٹی الائچی، زیرے کی گری، کباب، چینی، خرفہ ، اسی طرح کی دو چار دوائیں بتا دی تھیں۔ خدا کا کرنا، لڑکا اچھا ہو گیا۔
    سفیہن: استانی جی، تم تو ماشاءاللہ اچھی خاصی حکیم بھی ہو۔
    اصغری: اجی اللہ اللہ کرو۔ حکیموں کا درجہ تو بہت بڑا ہے۔ میں بے چاری کیا حکیمی کروں گی۔ پر بات یہ ہے کہ ہمارے میکے میں دوا درمن کا بہت خیال ہے۔ جب میں چھوٹی تھی، جو دوا آتی ، میں ہی اس کو چھانتی، بناتی اور خیال رکھتی۔ اسی طرح پرسنی سنائی دو چار دوائیں

    صفحہ 115
    یاد ہیں جس کو ضرورت ہوئی بتا دی۔ اور بچوں کا علاج تو عورتیں ہی کر لیا کرتی ہیں۔ جب مشکل آ پڑتی ہے تو حکیم کے پاس لے جاتے ہیں۔
    سفیہن: استانی جی، تم نے مہربانی کر کے مجھ کو اپنے مکتب کا سب انتظام تو دکھایا۔ اللہ ذرا دم کے دم ٹھہر جاؤ تو میں دیکھ لوں کہ لڑکیاں کیوں کر کہانیاں کہتی ہیں اور کہانیوں میں کیوں کر تم تعلیم کرتی ہو۔
    اصغری: بوا، مجھ کو تو دیر ہوتی ہے۔ پر خیر، تمہاری خاطر ہے۔ اچھا لڑکیو، آج کس کی باری ہے؟
    محمودہ: باری تو امتہ اللہ کی ہے لیکن فضیلت سے کہلائیے۔
    اصغری: اچھا فضیلت جس کتاب میں سے تمہارا جی چاہے، جلدی سے کوئی بہت چھوٹی سی کہانی پڑھو۔
    فضیلت نے کہانی شروع کی کہ ایک تھا بادشاہ ۔۔۔۔
    اصغری: بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟
    فضیلت: جیسے دہلی میں بہادر شاہ تھے۔
    اصغری: یہ تو تم نے ایسی بات کہی کہ جو دہلی اور بہادر شاہ کو جانتا ہو وہی سمجھے۔
    فضیلت: بادشاہ کہتے ہیں حاکم کو۔
    اصغری: تو کوتوال تھانے دار بھی بادشاہ ہیں؟
    ٍفضیلت: نہیں کوتوال تھانے دار تو بادشاہ نہیں ہیں۔ یہ تو بادشاہ کے نوکر ہیں۔
    اصغری: کیوں؟ کیا کوتوال حاکم نہیں ہے؟
    فضیلت: حاکم تو ہے لیکن بادشاہ سب سے بڑا حاکم ہوتا ہے اور سب پر حکم چلاتا ہے۔
    اصغری: ہمارا بادشاہ کون ہے؟
    فضیلت: جب سے بہادر شاہ کو انگریز پکڑ کر کالے پانی لے گئے، تب سے تو کوئی بادشاہ نہیں۔ یہ سن کر سب لڑکیاں ہنس پڑیں۔
    اصغری: فضیلت، تم بڑی نادان ہو۔ تم نے خود کہا کہ جو سب سے بڑا حاکم ہو اور سب پر حکم چلائے، وہ بادشاہ ہوتا ہے اور یہ بھی جانتی ہو کہ بہادر شاہ کو انگریز پکڑ کر کالے پانی لے گئے تو انگریز بادشاہ ہوئے یا نہ ہوئے؟
    -----------------------
    ریختہ صفحات 111 تا 115 مکمل
    -----------------------
     
    آخری تدوین: ‏فروری 15, 2021
  8. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 101

    جانب اللہ ہے۔ اگر ہر طرف سے خوشی ہی خوشی ہو تو انسان خدا کو بھی بھول کر بھی یاد نہ کرے اور نہ اپنے تئیں بندہ سمجھے۔ شاہ زمان کی چھوٹی بہن سلطان کو دنیا کے سب عیش میسر تھے لیکن لڑکیوں کی طرف سے رنجیدہ خاطر رہا کرتی تھیں۔ ادھر جمال آرا بیاہ برات ہو ہو کر اجڑی ہوئی گھر بیٹھی تھیں اور حسن آرا کے مزاج کی افتاد ایسی بُری پڑی تھی کہ اپنے گھر ہی میں سب سے بگاڑ تھا۔ نہ ماں کا لحاظ، نہ آپا کا ادب، نہ باپ کا ڈر۔ نوکر ہیں کہ آپ نالاں ہیں۔ لونڈیاں ہیں کہ الگ پناہ مانگتی ہیں۔ غرض حسن آرا سارے گھر کو سر پر اُٹھائے رہتی تھی۔ شاہ زمانی بیگم کے آنے سے چاہیے تھا کہ بڑی خالہ سمجھ کر حسن آرا دو گھڑی کو چپ ہو کر پیٹھ جاتی، کیا ذکر! شاہ زمانی بیگم کو پالکی سے اترے دیر نہ ہوئی تھی کہ لگاتار دو تین فریادیں آئیں کہ بیگم صاحب دیکھئے چھوٹی صاحبزادی نے میری نئی اوڑھنی لیر لیر کر ڈالی۔ اب مجھے کون بنا کر دے گا؟ سوسن نے فریاد مچائی کہ بیگم صاحب، چھوٹی صاحب زاری نے میرے گلے میں چلتا بھر لیا۔ گلاب بلبلا اٹھی کہ ہائے! میرا کان خونا خون ہو گیا۔ دائی چلّائی کہ دیکھئے میری لڑکی کم بخت کے ایسے زور سے لکڑی ماری کہ بازو میں بدھی پڑ گی۔ باورچی خانے سے مام نے دہائی دی، اچھی خدا کے لئے کوئی ان کو سمجھاتا۔ سالن کی پتیلیوں میں مٹھیاں بھر بھر کر راکھ جھونک رہی ہیں۔

    شاہ زمانی بیگم نے آواز دی۔ "حسنا، یہاں آؤ۔"

    خالہ کی آواز پہچان کے بارے حسن آرا چلی تو آئی لیکن نہ سلام نہ دعا۔ ہاتھوں میں راکھ، پاؤں میں کیچڑ۔ اسی حالت میں دوڑ خالہ سے لپٹ گئی۔ خالہ نے کہا "حنسا، تم بہت شوخی کرنے لگی ہو۔"

    حسن آرا نے کہا۔ "اس سنبل چڑیل نے فریاد کی ہو گی۔ یہ کہہ کر خالہ کی گود سے نکل لپک کر سنبل کا سر کھسوٹ لیا۔ بہتیرا خالہ ایں ایں کرتی رہی، ایک نہ سنی۔

    شاہ زمانی بیگم اپنی بہن کی طرف مخاطب ہو کر بولیں "بوا سلطانہ، اس لڑکی کے لئے تو خدا کے والے کوئی استانی رکھو۔"

    سلطانہ بیگم : باجی اماں، کیا کروں؟ مہینوں سے استانی کی تلاش میں ہوں۔ کہیں نہیں ملتی۔

    شاہ زمانی بیگم: اوئی بوا۔ تمہاری بھی کہاوت وہی ہے، ڈھنڈورا شہر میں، بچہ بغل میں۔

    Page 102

    خود تمہارے محلے میں مولوی محمد فاضل کی چھوٹی بہو، لاکھ استانیوں کی ایک استانی ہے۔

    سلطانہ: مجھ کو آج تک اطلاع نہیں۔ دیکھو میں آدمی بھیجتی ہوں۔

    یہ کہہ کر اپنے گھر کی داروغہ کو بلایا کہ مانی جی کوئی مولوی صاحب اس محلے میں رہتے ہیں، باجی اماں کہتی ہیں ان کی چھوٹی بہو بہت پڑھی لکھی ہیں۔ دیکھو، اگر استانی گیری کی نوکری کریں تو ان کو بلا لاؤ۔ کھانا کپڑا اور دس روپیہ مہینہ پان زردے کا خرچ ہم دینے کو حاضر ہیں۔ اور جب لڑکی پہلا سیپارہ ختم کرے گی اور ادب قاعدہ سیکھ جائے گی تو تنخواہ کے علاوہ استانی جی کو ہم یوں بھی خوش کر دیں گے۔

    مانی جی مولوی صاحب کے گھر آئیں۔ محمد کامل کی ماں سے صاحب سلامت ہوئی۔ پوچھا "اچھی بی، مولوی صاحب کی بیوی تم ہی ہو؟"

    دیانت النساء: "ہاں، یہی ہیں۔ آؤ بیٹھو۔ کہاں سے آئیں؟"

    مانی: "تمہاری چھوٹی بہو کہاں ہیں؟"

    محمد کامل کی ماں: "کوٹھے پر ہیں۔"

    مانی : "میں ان کے پاس اوپر جاؤں گی۔"

    دیانت النساء: آپ اپنا پتہ نشان بتائیے۔ بہو صاحب یہیں آ جائیں گی۔"

    مانی جی: "میں حکیم صاحب کے گھر سے آئی ہوں۔"

    محمد کامل کی ماں نے نام بنام سب چھوٹے بڑوں کی خیر و عافیت پوچھی اور مانی سے کہا۔ "تمیزدار بہو سے کیا کام ہے؟"

    مانی جی: "وہی آئیں تو کہوں۔"

    تمیز دار بہو کے نیچے اُترنے کا وقت آ گیا تھا، کیونکہ عصر کی نماز پڑھ کر اصغری نیچے اتر آتی تھی اور مغرب اور عشاء دونوں نمازیں نیچے پڑھا کرتی تھی۔ اصغری کو مانی جی نے دیکھا تو استانی گیری کی نوکری کے واسطے کہتے ہوئے تامل کیا۔ باتوں ہی باتوں میں اتنا کہا کہ بیگم صاحب کو اپنی چھوٹی لڑکی کا تعلیم کرانا منظور ہے۔ بڑی بیگم صاحب نے ذکر کیا تو بیگم صاحب نے مجھ کو بھیجا۔

    اصغری: "دونوں بیگم صاحبوں کو میری طرف سے بہت بہت سلام کہنا کہ جو کچھ برا بھلا مجھ کو آتا ہے، مجھ کو کسی طرح کا عذر نہیں۔ اسی واسطے انسان پڑھتا لکھتا ہے کہ دوسرے کو

    Page 103

    فائدہ پہنچائے۔ اور بڑی بیگم صاحب کو معلوم ہو گا کہ میں اپنے محلے میں کتنی لڑکیوں کو پڑھائی تھی اور میرا جی بہت چاہتا ہے کہ بیگم صاحب کی لڑکی کو پڑھاؤں۔ لیکن کیا کروں، نہ تو بیگم صاحب لڑکی کو یہاں بھیجیں گی اور نہ ان کے گھر میرا جانا ہو سکتا ہے۔

    مانی جی نے تنخواہ کا نام تو نہ لیا لیکن دبی زبان سے اتنا کہا کہ بیگم صاحب ہر طرح سے خرچ پات کی ذمے داری کرنے کو موجود ہیں۔

    اصغری: "یہ ان کی مہربانی ہے۔ ان کی ریاست کو یہی بات زیبا ہے لیکن ان کے زیرِ سایہ ہم غریب بھی پڑے ہیں تو خدا ننگا بھوکا نہیں رکھتا۔ بن داموں کے لونڈی بن کر خدمت کرنے کو تو میں حاضر ہوں اور اگر تنخواہ دار استانی درکار ہو تو شہر میں بہت ملیں گی۔"

    اس کے بعد مانی جی نے اصغری کا حال پوچھا اور جب سنا کہ تحصیل دار کی بیٹی ہے اور مولوی صاحب بھی پچاس روپے ماہواری کے نوکر ہیں تو ان کو ندامت ہوئی کہ نوکری کا اشارہ ناحق کیا۔ اصغری کی گفتگو سن کر مانی لٹو ہو گئی۔ ہر چند نوابی کارخانے دیکھے ہوئے تھے مگر اصغری کی شستہ تقریر سن کر دنگ ہو گئی اور معذرت کی کہ بی مجھ کو معاف کرنا۔

    اصغری : "کیوں تم مجھ کو کانٹوں میں گھسیٹی ہو؟ اول تو نوکری اور نوکری بھی حکیم صاحب کے گھر کی، کچھ عیب نہیں، گناہ نہیں۔ اور پھر ناواقفیت کے سبب اگر تم نے پوچھا تو کیا مضائقہ؟

    غرض مانی جی رخصت ہوئی اور وہاں جا کر کہا "بیگم صاحب استانی تو واقع میں لاکھ اُستانیوں کی ایک اُستانی ہے، جس کی صورت دیکھنے سے آدمی بن جائے۔ پاس بیٹھنے سے انسانیت حاصل کرے۔ سایہ پڑ جانے سے سلیقہ سیکھے۔ ہوا لگ جانے سے ادب پکڑے لیکن نوکری کرنے والی نہیں۔ تحصیل دار کی بیٹی ہے۔ رئیس لاہور کے مختار کی بہو۔ گھر میں ماما نوکر ہے۔ دالان میں چاندنی بچھی ہے۔ سوزنی گاؤ تکیہ لگا ہے۔ اچھی خوش گزارن زندگی، بھلا ان کو نوکری کی کیا پروا ہے۔

    شاہ زمانی بولیں "سچ ہے بوا سلطانہ، تم نے مانی جی کو بھیجا تو تھا لیکن مجھ کو یقین نہ تھا کہ وہ نوکری کریں گی۔"

    مانی جی : "لیکن وہ تو ایسی آدمی ہیں کہ مفت پڑھانے کو خوشی سے راضی ہیں۔"

    سلطانہ نے پوچھا "کیا یہاں آ کر؟"

    Page 104

    مانی جی: "بھلا بیگم صاحب جو نوکری کی پروا نہیں کرتا وہ یہاں کیوں آنے لگا۔"

    سلطانہ: "کیا لڑکی وہاں جایا کرے گی؟"

    شاہ زمانی : "اس میں قباحت کی بات ہے؟ دو قدم پر تو گھر ہے۔ اور مولوی صاحب کو تم نے ایسا کیا سمجھا، بھائی علی نقی خاں کی سگی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہیں۔"

    سلطانہ : "ایک حساب سے تو ہماری برادری ہے۔"

    شاہ زمانی : "لو خُدا نہ کرے، کہ ایسے ویسے ہیں۔ پہلے ان کا کام خوب بنا ہوا تھا۔ جب سے رئیس بگڑا ہے، بے چارے غریب ہو گئے۔ پھر بھی ماما ہمیشہ رہی۔ ڈیوڑھی پر بھی ایک دو آدمی رہتے ہیں۔"

    سلطانہ : "حسن آرا وہیں چلی جایا کرے گی۔"

    اگلے دن شاہ زمانی بیگم اور سلطانہ بیگم دونوں بیٹی حسن آرا کو لے کر اصغری کے گھر آئیں۔ باوجودے کہ اصغری کے یہاں غریبی سامان تھا لیکن اس کے انتظام اور سلیقے کے سبب بیگموں کی وہ مدارات ہوئی کہ ہر طرح کی چیز وہیں بیٹھے بیٹھے موجود ہو گئی۔ دو چار طرح کا عطر، جوگھڑا، الائچی، چکنی ڈلی، چائے، بات کی بات میں سب موجود ہو گیا۔ خوب مزے کی گلوریاں تیار ہو گئیں۔ دونوں بہنوں نے اصغری سے کہا کہ مہربانی کر کے اس کو دل سے پڑھا دیجیے۔

    اصغری: "اول تو خود مجھ کو کیا آتا ہے مگر جو چار حرف بزرگوں کی عنایت سے آتے ہیں انشاء اللہ ان کے بتانے میں اپنے مقدور بھر دریغ نہ کروں گی۔"

    چلتے ہوئے سلطانہ بیگم اصغری کو اشرفی دینے لگیں۔

    اصغری : "اس کی بھی ضرورت نہیں۔ بھلا یہ کیوں کر ہو سکتا ہے کہ میں پڑھائی آپ سے لوں۔"

    سلطانہ : "استغفر اللہ! پڑھوائی؟ مارا منہ ہے۔ بسم اللہ کی مٹھائی ہے۔"

    اصغری: "شروع میں تبرک کے طور پر مٹھائی بانٹ دیا کرتے ہیں۔ سو اشرفی کیا ہو گی بچوں کا منہ میٹھا کرنے کو سیر آدھ سیر مٹھائی کافی ہے۔"

    یہ کہہ کر دیانت کی طرف اشارہ کیا۔ وہ کوٹھری میں سے ایک قاب بھر کر مکتیاں نکال لائی۔ اصغری نے خود فاتحہ پڑھ کر پہلے حسن آرا کو دی اور بھری قاب دیانت کو اٹھا دی کہ

    Page 105

    سب بچوں کو بانٹ دو۔

    سلطانہ نے کہا "اچھا تم نے مجھ کو شرمندہ کیا۔"

    اصغری : "ہم بے چارے غریب کس لائق ہیں۔ لیکن یہاں جو کچھ ہے، وہ بھی آپ ہی کا ہے۔ البتہ میرا دینا یہی ہے کہ حسن آرا بیگم کو پڑھا دوں۔ سو خدا وہ دن کرے کہ میں آپ سے سرخ رو ہوں۔"

    غرض دنیا سازی کی باتیں ہو ہوا کر شام زمانی بیگم چلی گئیں اور حسن آرا کو اصغری کے حوالے کر گئیں۔

    باب پچیسواں

    اصغری کا انتظام مکتبی

    اصغری نے جس طرز پر حسن آرا کو تعلیم کیا، اس کی ایک کتاب جدا بنائی جائے گی۔ اگر یہاں وہ سب لکھا جاتا تو یہ کتاب بہت بڑھ جاتی۔ اس مقام پر اتنا ہی مطلب ہے کہ حسن آرا کے بیٹھتے ہی محلے کا محلہ ٹوٹ پڑا۔ جس کو دیکھو اپنی لڑکی کو لئے چلا آتا ہے۔ لیکن اصغری نے شریف زادیوں کو چن لیا اور باقیوں کو حکمت عملی سے ٹال دیا کہ میں آئے دن اپنی ماں کے گھر جاتی رہتی ہوں، پڑھنا پڑھانا جب تک جم کر نہ ہو بے فائدہ ہے۔ پھر بھی بیس لڑکیاں بیٹھی تھیں۔ لیکن اصغری کو کسی لڑکی سے لینے لوانے کی قسم تھی۔ بلکہ ایک دو روپیہ اس کا اپنا لڑکیوں پر خرچ ہو جاتا تھا۔ صبح سے دوپہر تک پڑھنا ہوتا اور پھر کھانے کے واسطے چار گھڑی کی چھٹی۔ اس کے بعد لکھنا اور پہر دن رہے سے سینا۔ سینے کا کام گنجائشی تھا۔ اس واسطے کہ نہ صرف سینا سکھایا جاتا تھا بلکہ ہر طرح کی جالی کاڑھنا، ہر ایک طرح کی سلائی، ہر ایک طرح کی قطع، مصالحہ بنانا اور ٹانگنا۔ اول اول تو اس کا سامان جمع کرنے میں اصغری کے دس روپے خرچ ہوئے۔ لیکن پھر تو اسی کام سے بچت ہونے لگی۔ جو کام لڑکیاں کرتیں، دیانت اس کو چپکے سے بازار میں لگا آتی۔

    Page 106

    اس طور پر رفتہ رفتہ مکتب کی ایک بڑی رقم جمع ہو گئی۔ جو لڑکی غریب ہوتی، اسی رقم سے اس کے کپڑے بنائے جاتے۔ کتاب مول لے دی جاتی۔ لڑکیوں کے پانی پلانے اور پنکھا جھلنے کے واسطے خاص ایک عورت نوکر تھی اور مکتب کی رقم سے اس کو تنخواہ ملتی تھی۔ لڑکیوں کا یہ حال تھا کہ اور استانیوں کے پاس جاتے ہوئے ان کا دم فنا ہوتا تھا، لیکن اصغری کی شاگردیں اس پر عاشق تھیں۔ ابھی سو کر نہیں اٹھی کہ لڑکیاں خود بخود آنی شروع ہوئی۔ پہر رات گئے تک جمع رہتی تھیں اور مشکل سے جاتی تھیں۔ اس واسطے کہ اصغری سب کے ساتھ دل سے محبت کرتی تھی اور پڑھانے کا طریقہ ایسا اچھا رکھا تھا کہ باتوں باتوں میں تعلیم ہوتی تھی۔ نہ یہ کہ صبح سے ریں ریں کا چرخہ جو چلا تو دن چھپے تک بند نہیں ہوتا۔ جس طرح اصغری کو اس کے باپ نے پڑھایا تھا اسی طرح اصغری اپنی شاگردوں کو پڑھاتی تھی۔ پس یہ لڑکیاں شاگرد کی شاگرد اور سہیلی کی سہیلی تھیں۔ جب کسی لڑکی کا بیاہ ہوا، کتب کی رقم سے اس کو تھوڑا بہت زیور چڑھایا جاتا تھا۔

    اگر اصغری اپنے مکتب کو پڑھانا چاہتی تو تمام شہر کے مکتب اجڑ جاتے۔ عورتیں اپنی لڑکیوں کے واسطے خوشامد کرتی تھیں اور خود لڑکیاں دوڑ دوڑ کر آتی تھیں۔ اس واسطے کہ وہ مکتبوں کی دن بھر کی قید، استانیوں کی سختی، پڑھنا کم مار کھانا، کام کرنا بہت۔ دن بھر پڑھے تو صرف دو حرف۔ صبح و شام تو معمولی مار اور جہاں چپ کی اور استانی جی کی نظر پڑ گئی، آفت آئی اور کام پوچھو تو صبح آتے کے ساتھ گھر میں جھاڑو دی۔ استانی جی اور استاد جی اور دس بارہ خلیفہ جی بلکہ پڑوسیوں تک کے بچھونے تہہ کیے اور چار چار پانچ پانچ نے مل کر کم بخت بھاری بوجھل چارپائیاں اٹھائیں۔ پھر دو چار کی شامت آئی تو سی پارہ لے کر بیٹھیں، منہ سے آواز نکلی اور استانی جی نے بینٹھی پھینٹنی شروع کی اور دو چار جو کسی اچھے کا منھ دہکھ کر آئی تھیں کام دھندے میں لگ گئیں۔ کسی نے استانی جی کے لڑکے کو گود میں لیا۔ بوجھ کے مارے کولہا ٹوٹا جاتا ہے لیکن مار کے ڈر سے گردن پر بلا سوار ہے اور وقت ٹالتی پھرتی ہیں۔ پیٹی ہوئی لڑکیوں کی آواز کان میں چلی آ رہی ہے۔ اس عذاب سے یہ مصیبت غنیمت معلوم ہوتی ہے۔ کسی نے رات کے جھوٹے برتن مانجے شروع کر دبے ہیں۔ کٹے پڑے گئے ہیں اور کندھے رہ رہ جاتے ہیں لیکن چھوٹی بہن پٹ رہی ہے اور چلا رہی ہے "اچھی اُستانی جی میں مر گئی۔ اچھی، میں تم پر واری گئی۔ اچھی، خدا کے لئے۔

    Page 107

    اچھی رسول کے لئے۔ اچھی می خلیفہ جی کی لونڈی ہو گئی۔ ہائے رے! ہائے رے! اوئی ماں! ان کاموں سے فراغت پائی تو مصالحہ پیسنے، آٹا گوندھنے، آگ سلگانے، گوشت بگھارنے کا وقت آیا۔ پھر دوپہر کو استانی جی ہیں کہ سو رہی ہیں اور معصوم بچے پنکھا جھل رہے ہیں اور دل ہی دل میں دعا مانگ رہے ہیں کہ الہی! ایسی سوویں کہ پھر نہ اٹھیں۔ غرض معمولی مار اور جہاں چپ کی اور استانی جی کی نظر پڑ گئی، آفت آئی۔ اور کام پوچھو تو صبح سبق یاد نہیں کرتیں۔ تمہارے سبب ہمارے کتب کا نام بدنام ہوتا ہے۔ میں تمہاری اماں جان کو بلا کر کہہ دوں گی کہ "بی تمہاری لڑکی یہاں نہیں پڑھتی۔ اس کو تم کسی دوسری استانی کے پاس بٹھاؤ۔" اتنا كہا کہ لڑکی کا دم فنا ہوا۔ پھر سبق ہے کہ نوک زباں پر یاد ہے یا جس نے سبق یاد نہیں کیا، اس سے کہا گیا کہ لڑکیاں دوپہر کو سنیں گی اور تم پڑھنا۔ یہ کہنا تھا کہ اس نے جلدی جلدی سبق حفظ کیا۔

    مکتب میں محمودہ اور حسن آرا دو خلیفہ تھیں۔ نہ یہاں جھاڑو دینی ہے، نہ بچھونے اٹھانے ہیں، نہ چار پائیاں ڈھونی ہیں، نہ برتن مانجھے ہیں، نہ خلیفاؤں کو لادے لاوے پھرنا ہے۔ بلکہ خود لڑکیوں پر ایک عورت نوکر تھی۔ محبت اور آرام، پڑھنا، لکھنا، سینا، تین کام۔ خوب شوق سے لڑکیاں تعلیم پاتی تھیں۔ اس مقام پر ،کتب کی ایک حکایت لکھی جاتی ہے جس سے اصغری کا طرزِ تعلیم مختصر طور پر معلوم ہو جائے گا۔

    باب چھبیسواں

    انتظام مکتب کے متعلق ایک دلچسپ حکایت

    سفیہن ایک عورت تھی اور فضیلت اس کی بیٹی، کوئی دس برس کی ہو گی۔ اس فضیلت کو خود بخود پڑھنے لکھنے اور سینے پرونے کا شوق تھا، سفیہن یہ چاہتی تھی کہ فضیلت تمام گھر میں جھاڑو دے، لیپے، پوتے، برتن مانجے، لیکن اس کا اپنے کاموں میں دل نہ لگتا۔ ماں کے کہے سنے سے کرتی مگر وہی بے دلی سے۔ سفیہن جو ایک دن فضیلت پر نا خوش ہوئی تو

    Page 108

    ساتھ لے جا کر اصغری کے مکتب میں بٹھا آئی اور کہا کہ استانی جی، یہ لڑکی بڑی مگمی ہے۔ جس کام کو کہتی ہوں ٹکا سا جواب دے رہی ہے، اس کو ایک ادب دو کہ گھر کے کام پر اس کا جی لگے۔ اصغری نے جو دیکھا تو فضیلت کو اپنے ڈھب کا پایا۔ ادھر فضیلت کو اپنی مرضی کی استانی ملی۔ نور کے تڑکے آتی تو دوپہر کو کھانا کھانے جاتی، کھانا کھایا اور پھر بھاگی۔ پانی مکتب میں آ کر پیتی اور تیسرے پہر کی آئی آئی کہیں چار گھڑی رات گئے جاتی۔ کبھی سفیہن اس کی خبر لینے مکتب میں آتی تو کئی دفعہ اس کو لڑکیوں کے ساتھ گڑیاں کھیلتے دیکھا۔ دو چار دفعہ ہنڈ کلیا پکاتے۔ ایک دن چار گھڑی رات گئی ہو گی، فضیلت کو جانے میں دیو ہوئی۔ سفیہن کا جی جل کر خاک ہو گیا اور بولی کہ "واہ استانی جی! اچھا تم نے لڑکیوں کا ناس مار رکھا ہے۔ جب کبھی فضیلت کو دیکھنے آئی کبھی میں نے اس کو پڑھتے نہ پایا۔ مکتب کیا ہے، اچھا کھیل خانہ ہے۔ تب ہی تو لڑکیاں دوڑ دوڑ کر آتی ہیں۔"

    سفیہن کی یہ بات سب ہی لڑکیوں کو ناگوار ہوئی اور خصوصاً اس کی لڑکی فضیلت کو مگر استانی جی کے ادب سے کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔ آخر خود استانی جی نے کہا کہ بوا اگر تمہاری مرضی کے موافق تمہاری لڑکی کی تعلیم نہیں ہوتی تو تم کو اختیار ہے کہ اپنی لڑکی کو اٹھا لے جاؤ۔ مگر مکتب پر ناحق کا الزام مت لگاؤ۔ بھلا میں تم سے پوچھتی ہوں، فضیلت نے مائی جی کے مکتب میں کتنے دنوں پڑھا؟"

    سفیہن نے کہا "میراں جی کے چڑھے چاند اس کو بٹھایا تھا۔ مدار پڑھا۔ خواجہ معین الدین بھر پڑھتی رہی۔ ماہ رجب سے تمہارے ہاں ہے۔"

    اصغری نے پوچھا ”مائی جی کے ہاں فضیلت نے کیا پڑھا؟"

    سفیہن نے کہا "تین مہینے میں والمحصنات کا پارہ اور آدھا لا یحب اللہ۔"

    امیری نے کہا "تین مہینے میں ڈیڑھ سی پارہ تو مہینے میں آدھا سی پارہ ہوا۔ یہاں تمہاری فضیلت ماہ رجب سے ہے اور اب خالی کا چاند چڑھا ہے۔ چار مہینے ہوئے وما ابری نفسی کا سی پارہ کل ختم ہوا یعنی ساڑھے سات سی پارے پڑھے۔ اس حساب سے مہینے پیچھے ایک سی پارے کے قریب ہوتا ہے۔ مائی جی کے مکتب سے دونا۔ اور جب فضیلت یہاں آئی تو کالی لکیر تک آپ کو کھینچنی نہیں آتی تھی۔ اب نام لکھ لیتی ہے اور بساط کے موافق حرف بھی برے نہیں ہوتے۔ بیس تک پوری گنتی نہیں جانتی تھی۔ اب پندرہ کا پہاڑا یاد کرتی

    Page 109

    ہے۔ سینے میں قینچی تک سیدھی بھرنی نہیں آتی تھی۔ اب اس کے ہاتھ کا بخنیہ دیکھو۔ لائیو عقیلہ، ذرا بقچہ۔ فضیلت نے جو کرتی میں بخیہ کیا ذرا ان کو دکھانا اور فضیلت کے ہاتھ کا کیکری مرمرا، بوٹیاں، لہریا، چھڑیاں، خانہ توڑ، دیکھت بھولی، خاکہ، تار شمار، چنبیلی کا جال، ترپن، بیل، برا بھلا جیسا کچھ ہو تو وہ بھی اُٹھاتی لاؤ۔"

    فضیلت بولی۔ "استانی جی میں جا کر لے آؤں۔" فضیلت دوڑی دوڑی جا اپنا کشیدہ اٹھا لائی۔ سفیہن ایک ایک بات کے دس دس جواب سن کر ہکا بکا ہو کر رہ گئی۔

    اصغری نے کہا "بوا، بولو۔ کچھ انصاف بھی ہے؟ چار مہینے میں تمہاری لڑکی اور کیا سیکھ لیتی۔"

    سفیہن تو ایسی شرمندہ ہوئی کہ گھڑوں پانی پڑ گیا۔ اب اُستانی جی سے آنکھ سامنے نہیں کر سکتی تھی۔ سفیہن کم بخت کے آنے سے محمودہ کی مزے کی کہانی تو رہ گئی، سب لڑکیاں لگیں اس کی طرف گھور گھور کر دیکھنے۔ سفیہن نے کہا "استانی جی، مجھ کو اس کی کیا خبر تھی۔ فضیلت دن بھر تو یہاں رہتی ہے۔ رات کو ایسی دیر کر جاتی ہے کہ کھانا کھایا اور سوئی۔ مجھ کو اس کے پوچھنے گچھنے کا اتفاق تو ہوتا نہیں۔ دو چار مرتبہ جو میں ادھر کو نکلی تو بھی گڑیاں کھیلتے پایا، کبھی ہنڈا کلہیا پکاتے، کبھی کہانیاں سنتے۔ اس سے مجھ کو خیال ہوا کہ یہ اپنا وقت کھیل کود میں کھوتی ہے۔ اب تو میرے منہ سے بات نکل گئی۔ معاف کیجئے۔"

    اصغری: "بے شک تمہارا شبہ بے جا نہیں تھا۔ لیکن میں کھیل ہی کھیل میں ان کو کام کی باتیں سکھاتی ہوں۔ ہنڈیا کلہیوں میں لڑکیاں ہر ایک طرح کے کھانے کی ترکیب سیکھتی ہیں۔ مصالحہ کا اندازہ، نمک کی اٹکل، ذائقے کی شناخت، بو باس کی پہچان ان کو آتی ہے۔ کیوں فضیلت پرسوں جمعہ تھا، تم لوگوں نے مل کر کتنا زردہ پکایا تھا؟ اس کی ترکیب اور حساب کتاب تو ہم کو سناؤ۔"

    فضیلت نے کہا "حساب تو محمودہ بیگم نے اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے مگر ترکیب میں نے بموجب آپ کے فرمانے کے خوب دھیان لگا کر دیکھ لی ہے اور اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہے۔ سیر بھر چاول تھے۔ پہلے ان کو لگن میں بھگویا۔ شاید دھیلے کی ہار سنگھار کی ڈنڈیاں منگوائی تھیں۔ پیسے بھر ملی تھیں۔ ان کو کوئی سیر پانی میں جوش دیا۔ جب ابال آ گیا اور رنگ کٹ گیا تو چھان کر عرق میں چاول نچوڑ کر ڈال دیے۔ چاول ادھ کچرے ہو گئے اور

    Page 110

    ایک کنی رہی تو چاولوں کو کپڑے پر پھیلا دیا کہ جتنا پانی ہے سب نکل جائے۔ پھر آدھ پاؤ گھی دیگچی میں لونگوں کا بگھار دے کر کڑکڑایا اور چاول ڈال دیے۔ اوپر سے چاولوں کے ہم وزن کھانڈ دی اور اٹکل سے اتنا پانی ڈال دیا کہ چاولوں کی جو ایک کنی باقی رہی تھی گل جائے۔ پھر کوئی ایک چھٹانک کشمش گھی میں کڑکڑا کر جب پھول گئی، چاولوں میں ڈال دی اور اوپر تلے انگارے رکھ دم دے دیا۔"

    اصغری : "ترکیب تو درست ہے لیکن چاولوں کو جو میں نے دیکھا تو بیٹھ گئے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم نے کپڑے پر پھیلا کر ٹھنڈے پانی سے ان کو دھویا نہیں۔" پھر اصغری سفیہن کی طرف مخاطب ہو کر بولی۔ "کیوں بوا؟ زردہ تو تمہاری لڑکی نے ٹھیک پکایا؟ یہ سب ہنڈ کلہیا کی بدولت۔ بوا محمودہ، تم اپنے زردے کا حساب تو سناؤ۔"

    محمودہ جا حساب کی کتاب اٹھا لائی اور کہا "استانی جی، چھ سیر کے چاول، سیر بھر پونے تین آنے کے اور ایک پیسے کی ڈنڈیاں اور لونگیں۔ دو سیر کا گھی ہے۔ پان پاؤ منگوایا۔ پاؤ بگھارتے وقت ڈالا اور چھٹانک بھر کشمش کڑکڑا کر دم دیتے وقت۔ ڈیڑھ آنے کا گھی ہوا اور چو سیری کھانڈ سیر بھر چار آنے کی، ایک پیسے کی کشمش۔ کل پونے گیارہ آنے کے پیسے خرچ ہوئے۔ دس لڑکیوں کا ساجھا تھا۔ پونے دو آنے تو میرے تھے اور فضیلت ایک، عقیلہ دو، حسن آرا تین، امتہ اللہ چار، عالیہ پانچ، سلمیٰ چھ، ام البنین سات، شکیلہ، جمیلہ، دونوں بہنیں نو۔ سب کا ایک ایک آنہ۔"

    اصغری : "محمودہ تم نے دھوکا کھایا۔"

    محمودہ نے سوچا تو کہا "ہاں استانی جی، چاولوں میں کوڑیاں بچیں، وہ نامراد بنئے نے ہضم کیں۔ اے ہے! ڈنڈیاں اور لونگیں ان ہی کوڑیوں میں آ جائیں تو ایک پیسہ بچتا۔ دیانت جا تو، بنئے سے کوڑیاں مانگ کر لا۔"

    اصغری: "ایں ایں کیا کرتی ہو؟ کوڑیوں کا معاملہ پرسوں کی بات۔ اب کچھ مت کہو۔ تمہاری غلطی کی سزا ہے کہ اتنا نقصان سہو۔" اصغری حسن آرا کی طرف مخاطب ہو کر بولی "زردے کی ترکیب اور لاگت تو معلوم ہوئی۔ بھلا دیگچہ بھرا سیر بھر زردہ تم نے کیا کیا؟"

    حسن آرا : "منجھولی دو رکابیاں چوڑی دار بھر کر تو اللہ کے نام کی مسجد میں بھیج دیں۔ باقی میں تیرہ طشتریاں بھری گئیں۔ مکتب میں ہم سب پچیس لڑکیاں ہیں۔ دو دو میں ایک ایک طشتری
     
  9. اوشو

    اوشو لائبریرین

    مراسلے:
    2,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 35۔۔۔ریختہ صفحہ 36

    اکبری کی ماں نے داماد سے کہا "کیوں بھائی، تم کو الگ رہنے میں کیا عذر ہے؟ خدا کا فضل ہے، خود نوکر ہو، خود کماتے ہو۔ کسی بات میں ماں کے محتاج نہیں۔ اپنا کھانا اپنا پہننا۔ پھر دوسرے کا دست نگر ہو کر رہنے سے کیا فائدہ؟ بیٹا بہو کیسے ہی پیارے ہوں، پھر بھی جو آرام الگ رہنے میں ہے، ماں باپ کے گھر کہاں۔ جو چاہا سو کھایا، جو چاہا سو پکایا۔ اور غور کرنے کی بات ہے، ماں باپ کے ساتھ رہ کر لاکھ کماؤ، پھر بھی نام نہیں۔ لوگ کیا جانیں تم اپنا کھاتے ہو یا ماں باپ کے سر پڑے ہو۔
    محمد عاقل نے کہا "آرام پوچھئے تو ہم کو جو اب حاصل ہے، الگ ہوئے پیچھے اس کی قدر معلوم ہو گی۔ دونوں وقت پکی پکائی کھا لی اور بے فکر ہو کر بیٹھ رہے۔ الگ ہونے پر آٹا، دال، گوشت، ترکاری، تیل، نمک، ایندھن سبھی کا فکر کرنا پڑے گا۔ اور آپ ہی انصاف سے فرمائیے، خانہ داری میں کتنے بکھیڑے ہیں۔ بے سبب ان سب آفتوں کو اپنے سر لینا میرے نزدیک تو عقل کی بات نہیں۔ رہا یہ کہ جو چاہا سو کھایا اور جو چاہا سو پکایا، تو یہ اب بھی حاصل ہے۔ ان ہی سے پوچھئے کبھی کوئی فرمائش کی ہے جس کی تعمیل نہ ہوئی ہو؟ برے کنبوں میں البتہ اس طرح تکلیف ہوا کرتی ہے۔ ایک دل میٹھے چاولوں کو چاہتا ہے، دوسرے کو بھونی کھچڑی چاہیے، تیسرے کو پلاؤ درکار ہے، چوتھے کو قورما کھانا منظور ہے، پانچویں کو پرہیزی کھانا حکیم نے بتایا ہے۔ دس کے واسطے دس ہنڈیاں روز کے روز کہاں سے آئیں؟ ہمارے یہاں کنبہ کون سا بہت بڑا ہے۔ فرمائش کریں تو ہم، نہ کریں تو ہم۔ اس کو بھی جانے دیجئے۔ اگر ان کو ایسا ہی لحاظ ہے تو آپ کھانے کا اہتمام کریں۔ خود والدہ کئی مرتبہ کہہ چکی ہیں۔ ان ہی سے پوچھئے کہا ہے یا نہیں؟ اور نام کو جو آپ نے فرمایا تو یہ تو میرے نزدیک محض خیال خام ہے۔ اپنے آرام سے کام ہے۔ لوگ جو چاہیں سو سمجھیں۔ اور فرض کیجئے لوگوں نے یہی جانا کہ ہم ماں باپ کے سر ہیں تو اس میں ہماری کیا بے عزتی ہے؟ ماں باپ ہیں، کوئی غیر تو نہیں۔ ماں باپ نے ہم کو پالا پرورش کیا، کھلایا پہنایا، پڑھایا لکھایا، شادی بیاہ کیا۔ ان سب باتوں میں بے عزتی نہیں ہوئی تو اب کون سا سرخاب کا پر ہم میں لگ گیا ہے کہ ان کا دست نگر ہونا ہماری بے عزتی کا موجب سمجھا جائے؟"
    ساس نے جواب دیا "اگر سب تمہاری طرح سمجھا کریں تو کیوں الگ ہوں؟ دنیا کا دستور ہے، ہوتی چلی آئی ہے اور ہوتی چلی جائے گی کہ بیٹے ماں باپ سے جدا ہو جاتے ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 36۔۔۔ریختہ صفحہ 37

    اور میں تو جانتی ہوں دنیا میں کوئی بہو ایسی نہ ہو گی جس کا میاں کماؤ ہو اور وہ ساس نندوں میں رہنا پسند کرے۔"
    محمد عاقل نے کہا "یہ آپ کا فرمانا درست ہے۔ اگر بیٹے ماں باپ سے جدا نہ ہوا کرتے تو شہر میں اتنے گھر کہاں سے آتے۔ لیکن ہر ایک کی حالت جدا ہے۔ الگ ہو کر رہنا میری حالت کے لئے ہر گز مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ دس روپے کا تو میں نوکر۔ اتنی آمدنی میں الگ گھر کا سنبھالنا نہایت مشکل نظر آتا ہے۔ اور پھر اس نوکری کا بھی اعتبار نہیں۔۔۔۔ خدا نخواستہ الگ ہوئے پیچھے نوکری جاتی رہی تو پھر باپ کے گھر آنا مجھ پر نہایت شاق ہو گا۔ اس وقت البتہ بے عزتی ہو گی کہ میاں الگ تو ہو گئے تھے، پھر جھک مار کر باپ کے ٹکڑوں پر آ پڑے۔ لوگوں کی ریس اس معاملے میں ٹھیک نہیں۔ آدمی کو اپنے حال پر نظر کرنی چاہیے۔ وہ نقل آپ نے سنی ہے کہ ایک شخص نے بازار سے نمک اور روئی مول لی۔ نمک خچر پر لادا اور روئی گدھے پر۔ راہ میں ایک ندی واقع ہوئی۔ ندی تھی پایاب۔ اس شخص نے خچر اور گدھے کو لدا لدایا پانی میں اتار دیا۔ بیچ ندی میں پہنچ کر خچر نے غوطہ لگایا۔ تھوڑی دیر بعد سر ابھارا تو گدھے نے پوچھا "کیوں خچر یار، یہ تم نے کیا کیا؟" خچر نے جواب دیا "بھائی، تم بڑے خوش قسمت ہو۔ تم پر لدی ہے روئی۔ اس کا بوجھ ہے ہلکا۔ مجھ کم بخت پر ہے نمک۔ بوجھ کے مارے میری کمر کٹ کر لہو لہان ہو گئی ہے۔ یہ ہمارا مالک ایسا بے رحم ہے کہ اس کو مطلق ہماری تکلیف کا خیال نہیں۔ اناپ شناپ جتنا چاہے، لاد دیتا ہے۔ میں نے سمجھا کہ منزل تک پہنچتے پہنچتے کمر ندارد ہے۔ آؤ غوطہ لگاو۔ نمک پانی بھیگ کر کچھ تو گل جائے گا۔ جس قدر ہلکے ہوئے، غنیمت۔ مالک بہت کرے گا چھ سات ڈنڈے اور مارے گا۔ سو یوں بھی راہ بھر ڈنڈے کھاتا آتا ہوں۔ دیکھو، اب میرا بوجھ آدھا رہ گیا ہے۔" گدھے بے وقوف نے بھی خچر کی ریس کر کے غوطہ لگایا۔ روئی بھیگ کر اور وزنی ہو گئی۔ سر ابھارا تو ہلا نہ جاتا تھا۔ خچر ہنسا اور کہا، کیوں بھائی گدھے، کیا حال ہے؟ گدھے نے کہا، یار، میں تو مرا جاتا ہوں۔ خچر نے کہا، اے احمق! تو نے میری ریس تو کی لیکن اتنا تو سمجھ لیتا کہ تیری پیٹھ پر روئی ہے، نمک نہیں۔ اماں جان، ایسا نہ ہو کہ لوگوں کی ریس کرنے سے میرا حال گدھے کا سا ہو۔"
    اس نے کہا۔ "بھائی، تم تو کسی سے قائل ہونے والے ہو نہیں۔ اور نہ میں تمہاری

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 37۔۔۔ریختہ صفحہ 38

    طرح منطق پڑھی ہوں۔ میں تو سیدھی بات یہ جانتی ہوں کہ دس روپے مہینا تم کماتے ہو۔ خدا کا فضل ہے۔ سستا سما ہے۔ بال نہیں، بچے نہیں۔ اللہ رکھے، دو میاں بی بی۔ خاصی طرح گوشت روٹی کھاؤ، نین سکھ، تن زیب پہنو، آئندہ کا فکر تمہاری طرح کیا کریں تو دنیا کا کار خانہ بند ہو جائے۔ نوکری تو نوکری، زندگی کا اعتبار نہیں۔ جتنے دن جینا ہے، ہنسی خوشی سے تیر کر دینے چاہئیں۔"
    محمد عاقل نے کہا "یہی تو میں سوچتا ہوں۔ خوشی الگ ہو کر رہنے میں یا ساتھ میں؟"
    ساس نے کہا "دلیل اور حجت سے کیا مطلب؟ سیدھی بات یہی کیوں نہیں کہتے کہ مجھ کو ماں سے الگ ہونا منظور نہیں ہے۔ ایک بات تم سے بی بی نے کہی۔ اس کو قبول کرنے میں تم کو اس بلا کا تامل ہے۔ اور پھر کہتے ہو کہ ہم ان کی خاطر داری میں کمی نہیں کرتے تھے آرام اور خوشی کیا چیز ہے؟ جس میں بی بی خوش ہو اور جس کو وہ آرام سمجھے۔"
    اس کے بعد باتوں میں رنجش تراوش ہونے لگی۔ محمد عاقل نے سکوت اختیار کیا۔ رات بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ محمد عاقل نے ساس سے کہا "اب آپ آرام کیجئے۔ میں اس مضمون کو پھر سوچوں گا۔" یہ لوگ تو سو رہے، محمد عاقل رات بھر اسی خیال کی ادھیڑ بن میں لگا رہا۔ صبح کو اتھا تو دیکھا تو اصغری جھاڑو دے رہی ہے۔ اس کو دیکھ کر اصغری نے سلام کیا اور کہا "بھائی صاحب، وضو کے واسطے گرم پانی موجود ہے۔"
    محمد عاقل نے کہا "نہیں بھائی۔ مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔"
    اصغری نے کہا "بھائی صاحب، چلے نہ جائیے گا۔ آپ کے واسطے چائے بنائی ہے، لیکن سادی پیجئے گا یا دودھ کی؟"
    اصغری بولی "آپ کی آواز کچھ بھاری بھری لگتی ہے۔ شاید نزلے کی تحریک ہے۔ دودھ ضرر کرے گا۔"
    محمد عاقل نے کہا "نہیں نزلے کی تحریک تو نہیں۔ رات کو اماں جان کے ساتھ بہت دیر تک باتیں کرتا رہا۔ بدخوابی البتہ ہے۔"
    محمد عاقل نماز پڑھ کر واپس آیا تو دیکھا کہ ساس نماز سے فارغ ہو کر پان کھا رہی ہیں۔ سلام کر کے بیٹھ گیا۔ اصغری نے سینی لا کر سامنے رکھ دی۔ چائے دان میں گرما گرم چائے،

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 38۔۔۔ریختہ صفحہ 39

    دو پیالیاں، دو چمچے اور ایک طشتری میں قند۔ محمد عاقل نے چائے پی۔ خوش ذائقہ رنگ، بو باس درست۔ پی کر جی باغ باغ ہو گیا۔ اکبری حسب عادت پڑی سوتی تھی۔ محمد عاقل نے کہا "اماں جان، ان کو بھی نماز کی تاکید کیجئے۔"
    ساس نے کہا "بیٹا، یہ اپنی نانی کی بہت چہیتی ہیں، ان کی محبت نے ان کی خصلت، ان کی عادت، سب خراب کر رکھی ہے۔ جب یہ چھوٹی تھیں اور میں کسی بات پر گھڑک بیٹھتی تو کئی کئی دن مجھ سے بولنا چھوڑ دیتی تھیں۔ اور یہ تو کیا مجال تھی کہ اکبری کو کوئی ہاتھ لگا دے۔ اکبری بات بات پر ضد کرتیں، چیزوں کو توڑتی پھوڑتیں۔ ان کے ڈر کے مارے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا۔ اسی بات پر اکبری کے باپ سے روز بگاڑ رہتا تھا۔"
    محمد عاقل رخصت ہونے لگا۔ چلتے چلتے ساس نے کہا "بیٹا، رات کی بات یاد رکھنا اور ضرور اس کا کچھ بندوبست کرنا۔"

    باب چھٹا

    ماں سے محمد عاقل کے الگ ہونے کی صلاح

    راہ میں محمد عاقل رات کی ان ہی باتوں کو سوچتا آیا۔ گھر میں پہنچا تو ماں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر فکر معلوم ہوتا ہے۔ سمجھا، ضرور آج سسرال میں لڑا۔ پوچھا "محمد عاقل، آخر میرے کہنے پر عمل نہیں کیا۔"
    محمد عاقل: اماں، سچ کہتا ہوں، لڑائی بھڑائی کچھ بھی نہیں ہوئی۔
    ماں: پھر سست کیوں؟
    محمد عاقل: کچھ بھی نہیں۔ سوتا اٹھ کر آیا ہوں۔ اس سبب سے شاید آپ کو میرا چہرہ اداس معلوم ہوتا ہو گا۔
    ماں: لڑکے! ہوش میں آ۔ تجھ کو سوتا اٹھ کر کبھی تھوڑا ہی دیکھا ہے۔ سچ بتا، کیا بات ہے؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 39۔۔۔ریختہ صفحہ 40

    محمد عاقل نے آخر مجبور ہو کر رات کا تمام قصہ ماں کے روبرو بیان کیا۔ سنتے کے ساتھ ہی ماں کو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ لیکن عورت تھی بڑی دانشمند، کہنے لگی "ہرچند میری تمنا یہ تھی کہ جب تک میرے دم میں دم ہے، تو سب کو اپنے کلیجے سے لگائے رہوں اور تم دونوں بھائی اتفاق سے رہو، لیکن میں دیکھتی ہوں تو سامان الٹے ہی الٹے نظر آتے ہیں۔ لو، آج میں تم سے کہتی ہوں کہ بیاہ کے بعد دوسرے مہینے سے مزاد دار بہت کا ارادہ الگ گھر کرنے کا ہے۔ تم جو دس روپے مہینے کے مہینے لا کر مجھ کو دیتے ہو، ان کو نہایت ناگوار ہوتا ہے۔ آئے دن میں تمہاری بی بی کی سہیلیوں سے سنتی رہتی ہوں کہ بہو بلی ماروں کے محلے میں مکان لیں گی، زلفن کو ساتھ لے جائیں گی۔ جس تک یہ سب لڑکیاں اکٹھی بیٹھتی رہتی ہیں، یہی مشورہ، یہی مذکورہ آپس میں رہا کرتا ہے، میں نے تمہاری خلیا ساس کے منھ پر ایک مرتبہ یہ بات بھی رکھ دی تھی کہ مزاج دار بہو کو اگر ہمارے ساتھ رہنا ناگوار ہے تو اپنا کھانا کپڑا الگ کر لیں۔ مگر رہیں اسی گھر میں۔ پھر تمہاری ساس سے معلوم ہوا کہ مزاج دار بہو کو یہ بھی منظور نہیں۔ آدمی بیاہ خوشی اور آسائش کے واسطے کرتا ہے۔ روز کی لڑائی، آئے دن کا جھگڑا نہایت بری بات ہے۔ اگر تمہاری بی بی کو یہی منظور ہے اور الگ رہنے سے ان کی خوشی ہے تو بسم اللہ۔ ہم کو عذر نہیں۔ جہاں رہو، خوش رہو۔ آباد رہو۔ خدا نے ایک مامتا اولاد کی ہمارے پیچھے لگا دی ہے۔ سو کبھی تم ادھر کو آ نکلے، ایک نظر دیکھ لیا، صبر آ گیا۔ گھر کے کام دھندے سے چھٹکارا ملا، میں آپ چلی گئی، تم کو دیکھ آئی۔"
    یہ کہنا تھا کہ محمد عاقل کا جی بھر آیا۔ بے اختیار رونا شروع کیا۔ سمجھا کہ آج ماں سے جدائی ہوتی ہے۔ ماں بھی روئی۔ تھوڑی دیر بعد عاقل نے کہا "میں تو الگ نہیں رہوں گا۔ بی بی رہے یا جائے۔"
    ماں نے کہا "ارے بیٹا۔ یہ بھی کہیں ہوتی ہے؟ اشرافوں میں کہیں بیبیاں بھی چھوٹتی ہیں؟ تم کو اپنی عمر انہی کے ساتھ کاٹنی ہے۔ ہمارا کیا ہے، قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ آج مرے، کل دوسرا دن۔ میری سلاح مانو، جو وہ کہیں سو کرو۔ ہم نے جس دن سے تمہارا بیاہ کیا، اسی دن سے تم کو الگ سمجھا۔ نہ تم انوکھے بیٹے، نہ میں انوکھی ماں۔ کون بیٹا ساری عمر ماں کے ساتھ رہا ہے؟"
    محمد عاقل نے اپنے دوستوں سے بھی صلاح پوچھی۔ سب نے یہی کہا کہ رفع فساد بہتر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 40۔۔۔ریختہ صفحہ 41

    ہے اور ساتھ رہنے پر کیا منحصر ہے، ماں سے الگ رہو اور ان کی خدمت و اطاعت کرو۔ جب سب لوگوں نے یہی صلاح دی، محمد عاقل نے بھی کہا، خیر الگ رہ کر بھی دیکھ لوں۔ اگر یہ عورت سنبھل جائے اور گھر کو گھر سمجھے، بدمزاجی، نافرمانی، بدزبانی چھوڑ دے تو الگ رہنا عیب نہیں، گناہ نہیں۔ یہی نہ کہ خانہ داری کی فکر کرنا پڑے گی اور تنگی سے گزرے گی۔ سو دنیا میں رہ کر فکر سے کسی حالت میں نجات نہیں۔ اب کچھ فکر نہیں تو ہر روز کا فساد بجائے خود عذاب ہے۔ اور تنگی رزق کا اندیشہ بھی بیجا ہے۔ جو مقدر میں ہے، بہر حال پہنچے گا۔ آدمی کی سعی و تدبیر کو اس میں کیا دخل ہے۔ یہ سوچ کر محمد عاقل نے الگ ہونے کا ارادہ مصمم کر لیا۔ اتفاق سے اسی کے مکان سے متصل ایک مکان بھی خالی تھا۔ ایک روپپیہ ماہواری کرائے پر ٹھہرا لیا، بلکہ سرقفلی دے کر سرخط بھی لکھ دیا، کنجی لے لی اور سسرال کہلا بھیجا کہ مکان قرار پا گیا ہے۔ اب آؤ تو نئے مکان میں اٹھ چلیں۔ اور اپنی ماں سے بھی کہہ دیا کہ یہی تار کش والا مکان لے لیا ہے۔ ماں نے جتنا اسباب مزاج دار بہو کا تھا، کپڑوں کے صندوق، برتن، فرش، مسہری، پلنگ، سب علیحدہ کوٹھری میں رکھوایا۔ شام کو مزاج دار بہو بھی آ پہنچیں۔ صبح کو اٹھ ماں نے کوٹھڑی کھول، محمد عاقل سے کہا "لو بھائی! اپنی چیزیں، دونوں میاں بیوی خوب دیکھ بھال لو۔"
    محمد عاقل نے کہا "اماں، تم کیا کہتی ہو؟ کوئی غیر جگہ تھی؟"
    ماں نے کہا "بیٹا، یہ بات نہیں۔ ایسا نہ ہو اٹھانے بٹھانے میں کوئی چیز ادھر ادھر ہو جائے۔" اور ماما سے کہا "عظمت تم اور ہمسائی یہ سب اسباب تارکش کے والے گھر میں پہنچا دو۔"
    اکبری کی سہیلیاں چنیا، رحمت، زلفن، سلمی، آ پہنچیں اور بات کی بات میں سارا اسباب اٹھا کر ادھر سے ادھر لے گئیں۔

    باب ساتواں

    اکبری کا الگ گھر اور اس کی بد انتظامی

    مزاج دار بہو ہنسی خوشی نئے گھر میں آ کر بسیں۔ تین دن تک دونوں وقت محمد عاقل کی ماں نے کھانا بھیجا۔ چوتھے دن محمد عاقل نے بی بی سے کہا "لو صاحب اب کچھ کھانے کا بدوبست شروع ہو۔"
    مزاج دار نے کہا "سب اسباب ابھی بے ٹھکانے پڑا ہے۔ یہ رکھا جائے تو فراغت سے ہنڈیا چولھے کو دیکھوں۔ ابھی تو مجھ کو فرصت نہیں۔"
    غرض سات روز تک تنور پر روٹی پکتی رہی۔ رات کو کباب اور دن کو کبھی ملائی اور کبھی دہی بازار سے منگواتے اور دونوں میاں بیوی روٹی کھا لیتے۔ آخر محمد عاقل نے روز کہہ کہہ کر مزاج دار سے کھانا پکوایا۔ مزاج دار نے کبھی کھانا پکایا نہ تھا۔ روٹی پکائی تو عجیب صورت کی۔ نہ گول نہ چوکھونٹی۔ ایک کان ادھر نکلا اور چار کان ادھر۔ کنارے موٹے۔ بیچ میں ٹکیا۔ کہیں جلی، کہیں کچی۔ دھوئیں میں کالی، اور دال جو پکائی تو پانی الگ، غرض مزاج دار


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 41۔۔۔ریختہ صفحہ 42

    ایسا لذیذ اور لطیف کھانا پکاتی تھی کہ جس کو دیکھ کر بھوک بھاگ جائے۔ سالن بد رنگ، بدمزہ، نمک کبھی زہر کبھی پھیکا پانی۔ دو ایک دن تو محمد عاقل نے صبر کیا، آخر کار اس نے اپنی ماں کے گھر کھانا شروع کر دیا۔ مزاج دار نے بھی اپنے آرام کا ٹھکانا کر لیا۔ دونوں وقت بازار سے کچوریاں اور ملائی، کندا، کھویا، ربڑی، کباب منگوا کر کھا لیا کرتی۔ کھانا جو پکتا، زلفن وغیرہ کھا کھا کر موٹی ہوئیں۔ ان کے بلیوں کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا لیکن دس روپے مہینے میں یہ چکوتیاں کیوں کر ہو سکتی تھی۔ چپکے چپکے اسباب بکنے لگا۔ مگر محمد عاقل کو اصلاً اس کی خبر نہ تھی۔
    ایک روز محمد عاقل تو نوکری پر گیا تھا، مزاج دار دوپہر کو سو گئی۔ چنیا جو آئی، اس نے دیکھا بہو بے خبر سو رہی ہیں۔ اس نے اپنے بھائی میرن کو جا کر خبر کی۔ وہ بڑا شاطر بدمعاش تھا۔ مزاج دار تو سوتی کی سوتی رہیں۔ میرن آ کے دن دہاڑے تمام برتن چرا کر لے گیا۔ مزاج دار اتھ کر جو دیکھیں تو گھر میں جھاڑو دی ہوئی ہے۔ کوٹھڑی کو قفل لگا ہوا تھا۔ اس کا اسباب تو بچا، جو چیز اوپر تھی ایک ایک کر کے سب لے گیا۔ اب پانی کو کٹورا نہ رہا۔ محمد عاقل نوکری پر سے آیا تو سن کر بہت مغموم ہوا۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ بی بی سے خوب لڑا اور خوب اپنا سر پیٹا۔ آخر رو دھو کر بیٹھ رہا۔ قرض دام کر کے ہلکی ہلکی دو پتیلیاں مول لایا۔ چھوٹے چھوٹے برتن ماں سے مانگ لئے۔ لگن، توا، رکابی ساس نے بھیج دیے۔ غرض کسی طرح کام چل نکلا۔

    باب آٹھواں

    ایک کٹنی کا اکبری کو ٹھگنا

    اتفاق سے ان دنوں ایک کٹنی شہر میں وارد تھی اور ہر جگہ اس کا غل تھا۔ محمد عاقل نے بھی بی بی سے کہہ دیا تھا کہ اجنبی عورت کو گھر میں مت آنے دینا۔ ان دنوں ایک کٹنی آئی ہوئی ہے۔ کئی گھروں کو لوٹ چکی ہے۔ لیکن مزاج دار شدت سے بےوقوف تھی۔ اس کی عادت تھی کہ ہر ایک سے جلد گھل مل جانا۔ ایک دن وہی کٹنی حجن کا بھیس بنا، اس گلی میں آئی۔ یہ مکار حجن بےوقوف عورتوں کو پھسلانے کے لئے طرح طرح کے تبرکات اور صدہا قسم کی چیزیں اپنے پاس رکھا کرتی تھی۔ تسبیح، خاک شفا، زمزمیاں، مدینہ منورہ کی کھجوریں، کوہ طور کا سرمہ، خانہ کعبہ کے غلاف کا ٹکڑا، عقیق البحر اور مونگے کے دانے اور ناد علی، پنج سورہ اور بہت سی دعائیں۔ گلی میں آ کر جو اس نے اپنی دکان کھولی تو بہت سی لڑکیاں جمع ہو گئیں۔ مزاج دار نے بھی سنا، زلفن سے کہا "گلی سے اٹھنے لگے تو حجن کو یہاں بلا لانا۔ ہم بھی تبرکات کی زیارت کریں گے۔ "زلفن جا کھڑی ہوئی اور حجن کو بلا لائی۔ مزاج دار نے بہت خاطر داری سے حجن کو پاس بتھایا اور سب چیزیں دیکھیں۔ سرمہ اور ناد علی دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 42۔۔۔ریختہ صفحہ 43

    چیزیں پسند کیں۔ حجن نے مزاج دار کو باتوں ہی باتوں میں تاڑ لیا کہ یہ عورت جلد ڈھب پر چڑھ جائے گی۔ ایک پیسے کا بہت سا سرمہ تول دیا اور دو آنے کو ناد علی حوالے کی۔ اور فیروزے کی ایک انگوٹھی تبرک کے طور پر اپنے پاس سے مفت دی۔ مزاج دار ریجھ گئیں۔
    اس کے بعد حجن نے سمندر کا حال، عرب کی کیفیت اور دل سے جوڑ کر دو چار باتیں ایسی کیں کہ مزاج دار نے کمال شوق سے سنا اور اس کی طرف ایک خاص التفات کیا۔ حجن نے پوچھا "کیوں بی تمہارے کوئی بال بچہ نہیں؟"
    مزاج دار نے آہ کھینچ کر کہا "ہماری تقدیر ایسی کہاں تھی؟"
    حجن نے پوچھا "بیاہ کو کتنے دن ہوئے؟"
    مزاج دار نے کہا "ابھی برس روز نہیں۔"
    مزاج دار کی بے عقلی کا اب حجن کو یقین ہوا اور دل میں کہنے لگی کہ اس نے تو اولاد کا نام سن کر ایسی آہ کھینچی جیسے برسوں کا امیدوار۔ حجن نے کہا "ناامیدی کی بات نہیں۔ تمہارے تو اتنے بچے ہوں گے کہ تم سنبھال بھی نہ سکو گی۔ البتہ بالفعل اکیلے گھر میں جی گھبراتا ہو گا۔ میاں کا کیا حال ہے؟"
    مزاج دار نے کہا "ہمیشہ مجھ سے ناخوش رہا کرتے ہیں۔"
    غرض پہلی ہی ملاقات میں مزاج دار نے حجن کے ساتھ ایسی بے تکلفی کی کہ اپنا حال جز و کل اس سے کہہ دیا اور حجن نے باتوں ہی باتوں میں تمام بھید معلوم کر لیا۔ ایک پہر کامل حجن بیٹھی رہی۔ رخصت ہونے لگی تو مزاج دار نے بہت منت کی کہ اچھی بی حجن، اب کب آؤ گی؟ حجن نے کہا "میری بھانجی موم گروں کے چھتے میں رہتی ہے اور بہت بیمار ہے۔ اسی کے علاج کے واسطے آگرے سے آئی ہوں۔ اس کے دوا معالجے سے فرصت کم ہوتی ہے۔ مگر ان شاء اللہ دوسرے تیسرے دن تم کو دیکھ جایا کروں گی۔"
    اگلے دن حجن پھر آ موجود ہوئی اور ایک ریشمی ازار بند لیتی آئی۔ مزاج دار دور سے حجن کو آتے دیکھ کر خوش ہو گئی اور پوچھا "یہ ازار بند کیسا ہے؟"
    حجن نے کہا "بکاؤ ہے۔"
    مزاج دار نے پوچھا "کتنے کا ہے؟"
    حجن نے کہا "چار آنے کا۔ محلے میں ایک بیگم رہتی ہیں، اب غریب ہو گئی ہیں۔


    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 43۔۔۔ریختہ صفحہ 44

    اسباب بیچ بیچ کر گزر کرتی ہیں۔ میں اکثر ان کی چیزیں بیچ دیا کرت ہوں۔"
    مزاج دار اتنا سستا ازار بند دیکھ کر لوٹ ہو گئی۔ فوراً پیسے نکال کر حجن کے ہاتھ پر رکھ دیے اور بہت گڑگڑا کر کہا "اچھی بی! جو چیز بکاؤ ہوا کرے، پہلے مجھ کو دکھا دیا کرو۔"
    حجن نے کہا "بہت اچھا۔ پہلے تم، پیچھے اور۔"
    اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوا کیں۔ چلتے ہوئے حجن نے ایک بٹوا نکالا، اس میں کپڑے اور کاغذ کی کئی تہوں میں تھوڑی لونگیں تھیں۔ ان میں سے دو لونگیں حجن نے مزاج دار کو دیں اور کہا کہ دنیا میں ملاقات اور محبت اس واسطے ہوا کرتی ہے کہ ایک دوسرے کو فائدہ ہو۔ ان میں سے دو لونگیں حجن نے مزاج دار کو دیں اور کہا کہ یہ دو لونگیں میں تم کو دیتی ہوں۔ ایک تو تم اپنی چوٹی میں باندھ لو، دوسری بہتر تھا کہ تمہارے میاں کی پگڑی میں رہتی۔ پر تمہارے میاں شاید یہ شبہ کریں۔ خیر تکیے میں سی دو اور ان کا اثر آج ہی دیکھ لینا۔ لیکن اتنی احتیاط کرنا کہ پاک صاف جگہ میں رہیں۔ اور اپنے قد کے برابر ایک کلاوہ مجھ کو ناپ دو۔ میں تم کو ایک گنڈا لا دوں گی۔ میں جب حج کو گئی تھی تو اسی جہاز میں ایک بھوپال کی بیگم بھی سوار تھیں۔ شاید تم نے ان کا نام بھی سنا ہو، بلقیس جہانی بیگم۔ سب کچھ خدا نے ان کو دے رکھا تھا۔ دولت کی کچھ انتہا نہ تھی۔ نوکر چاکر، لونڈی، خادم، پالکی نالکی سبھی کچھ تھا۔ ایک تو اولاد کی طرف سے انجیدہ رہا کرتی تھیں، کوئی بچہ نہ تھا، دوسرے نواب صاحب کو ان کی طرف مطلق التفات نہ تھا۔ شاید اولاد نہ ہونے کے سبب محبت نہ کرتے ہوں۔ ورنہ بیگم صورت میں چندے آفتاب، چندے مہتاب، اور حسن و دولت پر مزاج ایسا سادہ کہ ہم جیسے ناچیزوں کو برابر بٹھانا اور پوچھنا۔ بیگم کو فقیروں پر پرلے درجے کا اعتقاد تھا۔ ایک دفعہ سنا کہ تین کوس پر کوئی کامل وارد ہے۔ اندھیری رات میں گھر سے پیادہ پا ان کے پاس گئیں اور پہر تک ہاتھ باندھے کھڑی رہیں۔ فقیروں کے نام کے قربان جائیے ایک مرتبہ جو شاہ صاحب نے آنکھ اٹھا کر دیکھا، فرمایا کہ جا مائی، رات کو حکم ملے گا۔ بیگم کو خواب میں بشارت ہوئی کہ حج کو جا اور مراد کا موتی سمندر سے نکال لا۔ صبح کو اٹھکر حج کی تیاریاں ہونے لگیں۔ پانسو مسکین بیگم نے آپ کرایہ دے کر جہاز پر سوار کرائے۔ ان میں سے ایک میں بھی تھی۔ ہر وقت کا پاس رہنا، بیگم صاحبہ (الہی دونوں جہاں میں سرخ رو) مجھ پر بہت مہربانی کرنے لگیں اور سہیلی کہا کرتی تھیں۔ دس دن تک برابر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مراۃالعروس۔۔۔کتاب صفحہ 44۔۔۔ریختہ صفحہ 45

    جہاز پانی میں چلا۔ گیارہویں دن بیچ سمندر کے ایک پہاڑ دکھائی دیا۔ ناخدا نے کہا "کوہ حبشہ یہی ہے۔" ایک بڑا کامل فقیر اس پر رہتا تھا۔ جو گیا بامراد آیا۔ بیگم صاحب نے ناخدا سے کہا کہ کسی طرح مجھ کو اس پہاڑ پر پہنچاؤ۔ ناخدا نے کہا، حضور، جہاز تو پہاڑ تک نہیں پہنچ سکتا۔ البتہ اگر آپ ارشاد کریں تو جہاز کو لنگر کریں اور آپ کو ایک کشتی میں بٹھا کر لے چلیں۔ بیگم نے کہا، خیر یہی سہی۔ پانچ عورتیں بیگم کے ساتھ کوہ حبشہ پر گئی تھیں۔ ایک میں اور چار اور۔ پہاڑ پر پہنچے تو عجیب طرح کی خوشبو مہک رہی تھی۔ چلتے چلتے شاہ صاحب تک پہنچے۔ ہو کا مقام تھا۔ آدمی نہ آدم زاد۔ تن تنہا شاہ صاحب ایک غار میں رہتے تھے۔ کیسی نورانی شکل تھی، جیسے فرشتہ۔ ہم کو دعا دی، بیگم کو بارہ لونگیں دیں اور کچھ پڑھ کر دم کر دیا۔ مجھ سے کہا، چلی جا۔ آگرے اور دلی میں لوگوں کے کام بنا۔ بیٹی، ان بارہ لونگوں میں سے دو لونگیں یہ ہیں۔ ہم سب حج کر کے لوٹے تو نواب صاحب یا تو بیگم کی بات نہ پوچھتے تھے، یا یہ نوبت ہوئی کہ ایک مہینے آگے سے بمبئی میں آ کر بیگم کو لینے کو پڑے تھے۔ جوں ہی بیگم نے جہاز پر سے پاؤں اتارا، نواب صاحب نے اپنا سر بیگم کے قدموں پر رکھ دیا اور رو رو کر خطا معاف کرائی۔ چھ برس میں بھوپال میں حج سے واپس آ کر ٹھہری۔ فقیر کی دعا کی برکت سے لگاتار اوپر تلے اللہ رکھے چار بیٹے بیگم کے میرے رہتے ہو چکے تھے۔ پھر مجھ کو اپنا دیس یاد آیا۔ بیگم سے اجازت مانگی۔ بہت روکا، میں نے کہا کہ شاہ صاحب نے مجھ کو دلی، آگرے کی خدمت سپرد کی ہے مجھ کو وہاں جانا ضرور ہے۔ یہ سن کر بیگم نے چار و نا چار مجھ کو رخصت کیا۔ "
    دو لونگیں، اس کے ساتھ دو ورق کی حکایت دلچسپ۔ مزاج دار دل و جان سے معتقد ہو گئی۔ حجن تو لونگیں دے کر رخصت ہوئی، مزاج دار بہو نے غسل کر، کپڑے بدل، خوشبو لگا، ایک لونگ بسم اللہ کر کے اپنی چوٹی میں باندھی اور میاں کے پلنگ کی چادر اور تکیوں کے غلاف بدل ایک لونگ کسی تکئے میں رکھ دی۔ محمد عاقل جو گھر آیا، بی بی کو دیکھا، صاحب ستھری، پلنگ کی چادر بے کہے بدلی ہوئی۔ خوش ہوا اور التفات کے ساتھ باتیں کرنے لگا۔
    مزاج دار نے کہا "دیکھو ہم نے آج ایک چیز مول لی ہے۔" یہ کہہ کر ازار بند دکھایا۔
    محمد عاقل نے کہا "کتنے کو لیا ہے؟"
    مزاج دار نے کہا "تم آنکو، کتنے کا ہے۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  10. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 116

    فضیلت: ہاں، ہوئے تو سہی۔

    اصغری: اچھا، اب بتاؤ ہمارا کون بادشاہ ہے؟

    فضیلت: انگریز۔

    اصغری: کیا انگریز کسی خاص شخص کا نام ہے؟

    فضیلت: نہیں۔ سینکڑوں ہزاروں انگریز ہیں۔

    اصغری: کیا سب انگریز بادشاہ ہیں؟

    فضیلت: اور گیا۔

    یہ سن کر اور لڑکیاں ہنس پڑیں۔

    اصغری نے حسن آرا کی طرف اشارہ کیا کہ تم جواب دو۔

    حسن آرا : استانی جی، ہمارا بادشاہ ملکہ وکٹوریہ ہے۔

    اصغری : مرد ہے یا عورت؟

    حسن آرا: عورت ہے۔

    اصغری: کہاں رہتی ہیں؟

    حسن آرا: لندن میں۔

    اصغری: لندن کہاں ہے؟

    حسن آرا : انگریزوں کی ولایت میں ایک بہت بڑا شہر ہے۔

    اصغری: کتنی دور ہو گا؟

    حسن آرا : میں نے ایک کتاب میں چار ہزار کوس لکھا دیکھا ہے؟

    اصغری: کوس کتنا لمبا ہوتا ہے؟

    حسن آرا : استانی جی، سلطان نظام الدّین کو تین کوس کہتے ہیں۔

    یہ سن کر محمودہ ہنسی اور کہا کہ 1760 گز کا ہوتا ہے۔

    اصغری نے محمودہ سے پوچھا کہ اس مرتبہ میں جو قطب صاحب گئی تھی۔ اور تم بھی میرے ساتھ تھیں، تم نے دیکھا ہو گا کہ یہاں سے جاتیوں کو بائیس ہاتھ، فاصلے سے سڑک پر پتھر گڑے تھے اور ان پتھروں پر کچھ لکھا ہوا بھی تھا۔ بھلا وہ پتھر کیسے تھے؟

    محمودہ : میں اٹکل سے یہی سمجھی تھی کہ کوسوں کے پتھر ہیں۔ لیکن گاڑی ایسی تیز تھی کہ

    Page 117

    پتھروں پر نگاہ نہیں جمتی تھی۔ میں خوب نہیں پڑھ سکی کہ ان پر کیا لکھا تھا۔

    اصغری : وہ کوسوں کے پتھر نہیں، میلوں کے پتھر تھے، آدھے کوس کا میل ہوتا ہے۔ ہر میل پر پتھر گڑا ہے اس میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ یہاں سے دہلی اس قدر میل ہے اور قطب صاحب اتنے میل۔ اس کے بعد اصغری پھر حسن آرا کی طرف مخاطب ہوئی اور پوچھا "ہاں بوا، لندن کس طرف ہے؟"

    حسن آرا : اتر میں ہے۔

    اصغری: وہ ملک گرم ہے یا سرد؟

    حسن آرا: یہ تو میں نہیں جانتی۔

    محمودہ : بڑا سرد ہے۔ جتنا اتر کو جاؤ گرمی کم ہوتی جاتی ہے اور جتنا دکھن کو چلو گرمی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔

    سفیہن: اچھی استانی جی، عورت بادشاہ ہے؟

    اصغری: اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟

    سفیہن: تعجب کی کیا بات کیوں نہیں، عورت ذات کیا کرتی ہو گی؟

    اصغری : جو مرد بادشاہ کرتے ہیں، وہی عورت کرتی ہے۔ ملک کا بندوبست، رعیت کا پالنا۔

    سفیہن : عورت تو کیا خاک کرتی ہو گی، کرتے تو سب انگریز ہوں گے۔ برائے نام عورت کو بادشاہ بنا رکھا ہو گا۔

    اصغری: یہ سب انگریز ملکہ کے نوکر ہیں۔ ہر ایک کا کام الگ ہے، ہر ایک کا اختیار جدا ہے۔ اپنے اپنے کام پر سب مستعد رہتے ہیں۔ اور جب مرد بادشاہ ہوتے ہیں تب بھی اکیلا بادشاہ ساری دنیا کو اٹھا کر اپنے سر پر نہیں رکھ لیا کرتا۔ نوکر چاکر ہی سب کام کیا کرتے ہیں۔

    سفیہن: میرا جی تو قبول نہیں کرتا کہ عورت ذات بادشاہت کر سکے۔

    اصغری : تم نے بھوپال کی بیگم کا نام بھی سنا ہے؟

    سفیہن: کیوں، سنا کیوں نہیں؟ خود میرے سسر بھوپال میں نوکر ہیں۔

    اصغری : بس اسی طرح سمجھ لو۔ بھوپال ذرا سا ملک ہے اور ملکہ وکٹوریہ کے پاس بڑی سلطنت ہے۔ جس طرح بھوپال کی بیگم اپنے چھوٹے ملک کا بندوبست کرتی ہیں، ملکہ وکٹوریہ

    Page 118

    اپنی بڑی سلطنت کا انتظام کرتی ہیں۔ بھوپال چھوٹی سرکار ہے، نوکر چاکر کم ہیں اور تھوڑی تنخواہ پاتے ہیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی سرکار بڑی عالی جاہ سرکار ہے۔ بڑے کارخانے، لاکھوں نوکر، تنخواہیں بیش قرار۔

    سفیہن: اچھی، ملکہ کا کوئی میاں ہے؟

    اصغری : ہاں۔ مگر موت پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ چاند کو بھی خدا نے داغ لگا دیا ہے۔ کئی برس ہوئے ملکہ بیوہ ہو گئیں۔

    سفیہن: ملکہ کی کوئی اولاد ہے؟

    اصغری : ہاں، خدا رکھے بیٹے، پوتے، بیٹیاں، نواسیاں سب کچھ ہے۔

    سفیہن: اچھی، ملکہ اس ملک میں کیوں نہیں آتیں؟

    اصغری: وہاں بھی بڑا ملک ہے۔ وہاں کے کاموں سے فرصت نہیں ملتی۔ اور بادشاہوں کا جگہ سے ہلنا ایسی کیا آسان بات ہے؟ لیکن ان دنوں ان کا منجھلا بیٹا آنے والا ہے۔ بڑی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ میں نے اخبار میں دیکھا ہے۔

    سفیہن: اچھی، ملکہ کو ہزاروں کوس دور بیٹھے یہاں کی خبر ہوتی ہو گی؟

    اصغری : کیوں نہیں۔ ذرا ذرا خبر ہوتی ہے۔ ڈاک برقی پر رات دن خبریں آتی جاتی ہیں۔ ہزاروں اخبار ولایت جاتے ہیں۔

    سفیہن: ملکہ کو کیوں کر دیکھیں؟

    اصغری : کیوں کر بتاؤں؟ لیکن ان کی تصویر البتہ دیکھ سکتی ہو۔

    سفیہن: خیر، تصویر ہی دیکھ لیتے۔

    اصغری : ہوا تم بھی تماشے کی باتیں کرتی ہو۔ کیا تم نے روپیہ دیکھا ہے؟

    سفیہن: کیوں نہیں دیکھا۔

    اصغری : عورت کا چہرہ جو بنا ہے وہ ملکہ کی تصویر ہے۔ خطوں کے ٹکٹوں پر ملکہ کی تصویر ہے۔ اور میرے پاس ملکہ کی بڑی عمدہ تصویر ہے۔ میرے ابا کو کسی انگریز نے دی تھی۔ وہ انہوں نے میرے پاس بھیج دی تھی۔ محمودہ، زری میرا صندوقچہ تو اٹھا لاؤ۔

    صندوقچے میں سے اصغری نے ملکہ کی تصویر نکال کر دکھائی اور سب لڑکیوں نے نہایت شوق سے ملکہ کی تصویر کو دیکھا۔

    Page 119

    سفیہن: کیا اچھی تصویر ہے! عین مین ملکہ کھڑی ہیں۔ پس بولنے کی دیر ہے۔

    اصغری: بے شک یہ تصویر ہو بہو ملکہ کی ہے۔ روپے کے چہرے سے ملا کر دیکھو کتنا فرق ہے۔ یہ تصویر ہاتھ کی بنائی نہیں ہے۔ ایک آئینہ ہوتا ہے۔ اس کو مصالح لگا کر سامنے رکھ دیتے ہیں۔ خود بخود جیسے کا تیسا عکس اتر آتا ہے۔

    سفیہن: ملکہ کی صورت تو بہت ہی پاکیزہ ہے۔

    اصغری: اب صورت کی پاکیزگی کو کیا دیکھتی ہو۔ ایک تو عمر۔ دوسرے بیوگی کا رنگ۔ اور سب سے بڑھ کر ملک داری کے ترددات۔ پر ہاں، میں نے ملکہ کی اس وقت کی تصویر دیکھی تھی جب ان کا نیا نیا بیاہ ہوا تھا۔ بلا مبالغہ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے چودھویں رات کا چاند۔

    سفیہن : کیوں استانی جی، جب ملکہ کے بیٹے ہیں تو باپ کے مرنے پر بڑا بیٹا تخت پر کیوں نہ بیٹھا؟

    اصغری : یہ تخت ملکہ کے شوہر کا نہیں بلکہ ملکہ نے اپنے چچا سے پایا ہے۔ اور ملکہ نے تخت نشین ہونے کے بہت دنوں بعد اپنا بیاہ کیا۔

    سفیہن: ہاں تو یوں کہو کہ ملکہ کے شوہر بادشاہ نہ تھے۔

    اصغری : نہیں نہیں۔ مگر وہ شاہی خاندان سے تھے۔

    سفیہن: مجھے تو رہ رہ کر یہی خیال آتا ہے کہ عورت سے ملک کا بندوبست کیا ہوتا ہو گا۔

    اصغری: تم کیسی لغو اور لا یعنی باتیں کرتی ہو! تم نے ملکہ کو اپنی جیسی یا میری جیسی عورت سمجھ رکھا ہے۔ اس سے تم کو تعجب ہوتا ہے۔ لیکن بیوی بنو، خدا جن کے رتطے بڑے کرتا ہے، ویسا ہی حوصلہ اور ویسی ہی عقل بھی ان کو دیتا ہے۔ نہ سب مرد یکساں اور نہ سب عورتیں یکساں۔ ہم کو اس کا کیا سوچ پڑ گیا کہ ملکہ اپنی عقل سے ملک کا بندوبست کرتی ہیں، جیسا کہ واقعی ہے یا کرتے سب کچھ وزیر اور صلاح کار ہیں اور ملکہ صرف برائے نام ہیں، جیسا کہ تم شبہ کرتی ہو۔ ہم کو تو بس اتنا کرنا ہے کہ ملکہ کی عملداری میں (خدا ان کو سلامت رکھے) امن چین سے بیٹھے ہیں۔ کسی طرح کا زور نہیں، ظلم نہیں بھینٹ نہیں، بیگار نہیں، لوٹ نہیں گھسوٹ نہیں، مار نہیں، دھاڑ نہیں، لڑائی نہیں، جھگڑا نہیں۔ تم کو اس عمل داری کی جب قدر آئے کہ کسی دوسری عملداری میں جا کر رہو۔ اور گئی تو میں بھی نہیں اور خدا نہ لے جائے لیکن تاریخ کی کتابوں میں دیکھتی ہوں، اخبار پڑھتی ہوں، بعض

    Page 120

    ظالم بادشاہوں نے لوگوں کو ایسا ایسا ستایا ہے کہ ان کے حالات دیکھ کر کلیجا تھر کرنپنے لگتا ہے۔ اور اب بھی دنیا میں سبھی طرح کے بادشاہ ہیں۔ لیکن خلق اللہ کو جیسا کچھ آرام ہماری وکٹوریہ کی عمل داری میں ہے، روئے زمین پر کہیں نہیں۔ یہ سچ ہے کہ ملکہ یہاں ہمارے پاس رہتی ہوتیں تو ہم لوگوں کو ان کی ذات سے بہت فائدے پہنچتے۔ پھر بھی میں نے تحقیق سنا ہے کہ جب یہاں کی رعایا کی ذرا سی تکلیف بھی سن پاتی ہیں تو ان کا دل ہے چین ہو جاتا ہے۔ اور ملکہ کی رحمدلی اور خدا ترسی کی حکایتیں جو کبھی کبھی اخبار میں نظر سے گزرتی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بے شک ان کو لوگوں کی پرداخت کا بہت بڑا خیال ہے اور سمجھتی ہوں کہ ہو نہ ہو ملکہ نے اپنے بیٹے کو بھی اسی غرض سے بھیجا ہے کہ اپنی آنکھوں سے رعیت کا حال دیکھو اور مجھ سے آ کر کہو۔

    سفیہن: ملکہ کے بیٹے کب تک آنے والے ہیں؟

    اصغری : ابھی روانگی کی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔ مگر آنا ٹھہر چکا ہے۔ میں سمجھتی ہوں، اصل خیر سے شاید ڈیڑھ دو مہینے میں داخل ہو جائیں گے۔

    سفیہن: یہاں دلی میں بھی آئیں گے؟

    اصغری: ضرور۔ تمام ہندوستان میں پھریں گے۔ دلی تو بڑا مشہور شہر ہے۔ سینکڑوں برس تک مسلمان بادشاہوں کا دارالسلطنت رہا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہاں نہ آئیں۔

    سفیہن: ہم کو کیا، ہماری طرف سے آئے نہ آئے دونوں برابر۔ ہم ان کو دیکھ تو سکتے ہی نہیں۔

    اصغری : اور دیکھ بھی سکتیں تو کیا کرتیں؟ آنے دو میں ان کی تصویر بھی تم کو دکھا دوں گی۔

    سفیہن: استانی جی، اگر ملکہ کے بیٹے کی تصویر تمہارے پاس ہے تو ابھی دکھا دو نا۔

    اصغری: میرے پاس ہے بھی نہیں اور میں نے دیکھی بھی نہیں۔ مگر ابا کلکتہ کے دربار میں جانے والے ہیں۔ انہوں نے مجھ کو لکھا ہے کہ بن پڑا تو تمام شاہی خاندان کے لوگوں کی تصویریں تمہارے لئے لاؤں گا۔

    سفیہن: حسن آرا نے لندن کو چار ہزار کوس بتایا تو کہیں برسوں میں یہاں سے وہاں تک آتے جاتے ہوں گے۔

    Page 121

    اصغری: نہیں۔ سمندر سمندر ایک مہینے میں با فراغت پہنچ جاتے ہیں۔

    سفیہن: اے ہے! سمندر ہو کر جانا پڑتا ہے۔ نوج! انگریزوں کے بھی کیسے دل ہیں۔ ان کو سمندر سے ڈر نہیں لگتا؟ میرے تو سمندر کے نام سننے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔

    اصغری: سمندر سے ڈرنے کی کیا بات ہے؟ مزے میں جہاز میں بیٹھ لیے۔ اچھا خاصا خانہ رواں بن گیا۔

    سفیہن: اے ہے! استانی جی، ڈوبنے کا کیسا بڑا کھٹکا ہے۔ لو، پار سال کی بات ہے۔ نواب قطب الدّین خاں کے ساتھ میری خلیا ساس حج کو گئی تھیں۔ کچھ ایسی گھڑی کی گئیں کہ پھر لوٹ کر آنا نصیب نہیں ہوا۔

    اصغری خانم : ہاں، اتفاق کی بات ہے۔ جہاز کبھی کبھار ڈوب بھی جاتے ہیں اور اگر خدانخواستہ آئے دن ڈوبا کریں تو سفر دریاء کا کوئی نام نہ لے۔ اب تو دریا کا راستہ خشکی کی سڑکوں سے زیادہ آباد ہو رہا ہے۔ ہزاروں لاکھوں جہاز رات دن آتے جاتے رہتے ہیں۔ انگریز اور ان کے بیوی بچے اور کُل انگریزی اسباب سب جہاز کی راہ یہاں آتا ہے۔

    سفیہن: انگریزوں کی عورتوں کا کیا ذکر اور ہماری ان کی کیا ریس۔ وہ تو باہر پڑی پھرتیاں ہیں۔ سنتی ہوں، ننھے ننھے بچوں کو ولایت بھیج دیتی ہیں اور ان کا دل نہیں کڑھتا۔ نہیں معلوم کس قسم کی مائیں ہیں۔ کیونکر ان کے دل کو صبر آتا ہے۔ پھر باہر کی پھرنے والیاں اور پتھر کے کلیجے۔ ان کو ایک سمندر کیا، ہوا پر اڑنا بھی مشکل نہیں۔

    اصغری خانم : باہر کے پھرنے کی جو تم نے کہی تو ان کے ملک میں پردے کا دستور نہیں۔ غدر کے دونوں میں ہم لوگ ایک گاؤں میں بھاگ کر گئے تھے۔ وہاں بھی پردے کا دستور نہ تھا۔ سب کی بہو بیٹیاں باہر نکلتی تھیں۔ لیکن میں تو چار مہینے وہاں رہی۔ باہر کی پھرنے والیوں میں وہ لحاظ دیکھا کہ خدا ہم سب پردے والیوں کو نصیب کرے۔ اور بچوں کو ولایت بھیج دینے سے تم کیوں کر سمجھیں کہ اولاد کی محبت نہیں البتہ ان لوگوں کی محبت عقل کے ساتھ ہے۔ یہاں کی ماؤں کی طرح باؤلی محبت نہیں کہ اولاد کو پڑھنے سے روکیں، ہنر حاصل کرنے سے باز رکھیں، نام کو تو محبت اور حقیقت میں اولاد کے حق میں کانٹے بوتی ہیں۔ اولاد کو ناہموار اٹھاتی جاتی ہیں اور محبت کا نام بدنام کرتی ہیں۔

    یہاں پہنچ کر سب نے سکوت کیا اور فضیلت نے اپنی کہانی پھر شروع کی : اس بادشاہ

    Page 122

    کے کوئی بیٹا نہ تھا۔ اکیلی ایک بیٹی تھی۔ بادشاہ نے یہ سمجھ کر میرے بعد یہی لڑکی وارث سلطنت ہو گی، اس لڑکی کو خوب پڑھایا اور لکھوایا اور ملک داری کا قانون قاعدہ سب اچھی طرح سکھایا اور اپنے جیتے جی اسی کو ملک کا کام سونپ دیا۔ فضیلت یہاں تک پہنچی تھی کہ اصغری خانم نے کہا "بوا، تم جھپ جھپ مانی کہانی کہتی جاتی ہو اور میرے دل میں پوچھنے کی ہزاروں باتیں بھری ہیں۔ پر کیا کروں دن تو ہو چکنے پر آیا اور مجھے کو عالیہ کے گھر جانا ضرور ہے۔ شام کے وقت کسی کے گھر عیادت کو جانا بھی منع ہے۔ میں تو اب نہیں ٹھہر سکتی۔ تم لڑکیاں آپس میں کہو سنو۔" اور سفیہن سے کہا "لو بوا۔ اللہ بیلی۔ میں تو جاتی ہوں۔ تمہارا دل چاہے تو تم بیٹھی رہو یا کل پھر آ جانا۔ یہاں تو روز یہی ہوا کرتا ہے۔"

    غرض اصغری خانم تو عالیہ کے گھر روانہ ہوئیں اور سفیہن ایسی ریجھیں کہ پہر رات تک لڑکیوں میں بیٹھی رہ گئیں۔ اصغری خانم کے پیچھے محمودہ اور حسن آرا نے کہانی کے بیچ بیچ میں خوب خوب مزے کی باتیں نکالیں۔

    اس بیان سے اصغری کے مکتب کا انتظام اور اس کی تعلیم اور تلقین کا طریقہ بخوبی ظاہر ہے۔ اصغری بے شک حسن آرا کو بہت چاہتی تھی اور اس سے زیادہ اپنی نند محمودہ کو۔ حسن آرا کو اس خوبی سے پڑھایا کہ دو ہی برس میں اچھی خاصی طرح بے تکلف اردو لکھ پڑھ لیتی تھی۔ نہ اگلی سی بد مزاجی باقی رہی نہ پہلا سا چڑچڑا پن۔ بڑی غریب، لکھی پڑھی، ہنر مند، ہوشیار، نیک، پیاری بیٹی بن گئی۔ جمال آرا کا برسوں کا اجڑا ہوا گھر اصغری کی بدولت خدا نے پھر آباد کیا۔ لیکن یہ تمام قصہ دوسری کتاب میں لکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ حکیم جی کا تمام گھر، چھوٹے بڑے، اصغری کے پاؤں دھو دھو کر پیتے تھے۔ سلطانہ بیگم نے لاکھ لاکھ جتن کیے کہ اصغری کچھ لے مگر اس خدا کی بندی نے اپنی آن نہ توڑی۔ جب حسن آرا کا بیاہ ہونے لگا تو بڑے حکیم صاحب نے مولوی محمد فاضل کا دباؤ ڈال کر ہزار روپے کے جڑاؤ کڑے دیے اور کہا "سنو! تم میری پوتی اور نواسیوں کے برابر ہو۔ میں تم کو استانی گیری کی رو سے نہیں دیتا۔ بلکہ اپنا بچہ سمجھ کر دیتا ہوں۔ اور نہ لو گی تو مجھ کو سخت ملال ہو گا۔ ادھر مولوی صاحب نے سمجھایا تو اصغری نے کڑے لے لیے۔

    Page 123

    باب ستائیسواں

    اصغری اپنے میاں کو نوکری کے رستے پر لگاتی ہے

    ادھر تو اصغری اپنے مکتب میں مصروف تھی، ادھر محمد کامل بے روز گاری سے گھبراتا تھا۔ ایک دن اصغری سے کہنے لگا "اب میرا دل بہت گھبراتا ہے۔ اگر تمہاری صلاح ہو تو میں تحصیل دار صاحب کے پاس پہاڑ پر چلا جاؤں اور ان کے ذریعے سے نوکری تلاش کروں۔"

    اصغری نے تھوڑی دیر تامل کر کے کہا کہ نوکری تو بہت ضرور ہے۔ اس واسطے کہ تم دیکھتے ہو کیسی تنگی سے گھر میں گزر ہوتی ہے۔ ابا جان اب بڈھے ہوئے۔ مناسب یہ ہے کہ وہ گھر بیٹھیں اور تم کما کر ان کی خدمت کرو۔ علاوہ اس کے محمودہ بڑی ہوتی جاتی ہے۔ میں اس کی منگنی کی فکر میں ہوں۔ اور خدا راس لائے تو ارادہ یہ ہے کہ بہت اونچی جگہ اس کا بیاہ ہو اور میں تدبیر کر رہی ہوں۔ انشاء اللہ اسی برس اس کی بات ٹھہری جاتی ہے۔ لیکن اس کے واسطے بڑا سامان درکار ہو گا۔ اس وقت تک کسی قسم کی کوئی چیز موجود نہیں۔ بھائی جان اول تو الگ ہیں اور پھر ایسی تھوڑی نوکری میں ان کی بسر اوقات نہیں ہو سکتی، دوسرے کو کہاں دے سکتے ہیں۔ بس سوائے اس کے تم نوکری کرو اور کوئی صورت نہیں۔ لیکن پہاڑ پر جانے کی میری صلاح نہیں۔ ابا تو تمہارے واسطے کوشش کریں گے اور غالب ہے کہ جلد تر تم کو اچھی نوکری مل جائے گی۔ لیکن کسی کا سہارا پکڑ کر نوکری کرنا کچھ ٹھیک سی بات نہیں۔ بلا سے تھوڑی ہو، پر اپنے قوت بازو سے ہو۔ گو ابا کوئی غیر نہیں ہیں۔ رشتے میں بھی تم سے ان کا ہاتھ اونچا ہے۔ ان سے لینا کیا بلکہ مانگنا بھی عیب نہیں۔ پھر بھی خدا کسی کا احسان مند نہ کرے۔ سدا کو آنکھ جھک جاتی ہے۔ انہوں نے منہ پر نہ رکھا تو اللہ رکھے کنبے میں سو آدمی ہیں رو در رو نہ کہیں گے تو پیٹھ پیچھے ضرور کہیں گے کہ دیکھو سسرے کے

    Page 124

    سہارے نوکر ہو گئے۔

    محمد کامل: پھر کیا کرو؟ لاہور چلا جاؤں؟

    اصغری : لاہور میں کیا دھرا ہے؟ رئیس کی سرکار خود تباہ ہے۔ ابا جان کو بھی نہیں معلوم، پہلے کا لحاظ مان کر وہ کس طرح پچاس روپے دیتا ہے۔ نئے آدمی کی گنجائش اس کی سرکار میں کہاں؟

    محمد کامل: اور بہت سرکاریں ہیں۔

    اصغری : جب سے انگریزی عملداری ہوئی، سب رئیس اسی طرح تباہ ہیں۔ پچھلے نام نمود کو نباہتے ہیں۔ اس سے دس پانچ صورتیں ان کے یہاں لگی لپٹی رہتی ہیں ۔ سو بھی کیا خاک برسوں تنخواہ نہیں ملتی۔

    محمد کامل: پھر کیا علاج؟

    اصغری: انگریزی نوکری تلاش کرو۔

    محمد کامل : انگریزی نوکری تو بے سعی سفارش کے نہیں ملتی۔ ہزاروں لاکھوں آدمی مجھ سے بہتر بہتر مارے مارے پھرتے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا۔

    اصغری : ہاں سچ ہے۔ لیکن جب آدمی کسی بات کا ارادہ کرے تو خدا پر توکل کر کے ناامیدی کا تصور ذہن میں نہ آنے دے۔ مانا کہ ہزاروں نوکری کی جستجو میں لا حاصل پھرتے ہیں لیکن جو نوکر ہیں وہ بھی تو تم ہی جیسے آدمی ہیں۔ اور سو بات کی ایک بات تو یہ ہے کہ نوکری تقدیر سے ملتی ہے۔ بڑے بڑے لائق دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اور خدا کو دینا منظور ہوتا ہے تو نہ وسیلہ نہ لیاقت۔ چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ گھر سے بلا کر نوکر رکھ لیتے ہیں۔

    محمد کامل: تو عرض یہ ہے کہ گھر بیٹھا رہوں۔

    اصغری : یہ ہرگز میرا مطلب نہیں۔ جہاں تک اپنے سے ہو سکے ضرور کوشش کرنی چاہیے۔

    محمد كامل: یہی تو مشکل ہے کہ کیا کوشش کروں؟

    اصغری : جو لوگ نوکری پیشہ ہیں ان سے ملاقات پیدا کرو۔ ان سے محبت بڑھاؤ۔ ان کے ذریعے سے تم کو نوکری کی خبر لگتی رہے گی اور ان ہی کے ذریعے سے تم کسی حاکم تک بھی پہنچ جاؤ گے۔

    Page 125

    محمد کامل نے یہی کیا کہ نوکری پیشہ لوگوں سے ملاقات کرنی شروع کی۔ یہاں تک کہ سر رشتہ دار، تحصیل دار ایسے لوگوں میں بھی آنے جانے لگا۔ روز کے آنے جانے سے معلوم ہوا کہ ان کو بھی نوکری کی جستجو ہے۔ یہاں تک کہ بندہ علی بیگ نے جو کچہری میں اظہار نویس تھے، کامل سے کہا کہ میاں نوکری کی تلاش ہے تو میرے ساتھ کچہری چلا کرو۔ چندے امیدواری کرو۔ سر رشتے کے کام سے واقفیت بہم پہنچاؤ۔ حاکموں کو صورت دکھاؤ۔ اسی طرح کبھی ڈھب لگ جائے گا۔ محمد کامل کچہری جانے اور بندہ علی بیگ کے ساتھ کام کرنے لگا۔ یہاں تک کہ حاکم سے دستخط کرا لاتا۔ عام لوگ اس کو جاننے پہچاننے لگے۔ اسی اثنا میں چھوٹے چھوٹے عہدے داروں کی دو چار عرضیاں بھی محمد کامل کو مل گئیں۔ کسی عملے کو رخصت کی ضرورت ہوئی وہ آدھی تہائی تنخواہ پر اس کو عوضی دے گئے۔ یہاں تک کہ اتفاق سے ایک دس روپے کا مہینے روزنامہ نویس تین مہینے کی رخصت پر گیا تھا۔ تین مہینے بعد اس نے استعفیٰ بھیج دیا اور مولوی محمد کامل صاحب اس کی جگہ منتقل ہو گئے۔ کبھی کبھی اصغری سے نوکری کا تذکرہ ہوتا تو محمد کامل حقارت کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ کیا واہیات نوکری ہے۔ دن بھر پیسنا اور دس روپلی۔ نہ اوپر سے کچھ پیدا ہے نہ آئندہ کو ترقی کی امید۔ میں تو اس کو چھوڑ دوں گا۔ اصغری ہمیشہ ایسے خیالات پر ملامت کرتی کہ سکت درجے کی ناشکری تم کرتے ہو۔ وہ دن بھول گئے کہ امیدواری بھی نصیب نہ تھی یا اب بر سرکار ہو تو قدر نہیں کرتے۔ گھر کے گھر میں دس روپے کیا کم ہیں۔ اپنے بڑے بھائی کو دیکھو کہ کئی برس تک سوداگر کے یہاں دس روپے کی نوکری کرتے رہے۔ اور جب تم نوکری سے ایسے دل برداشتہ ہو، تم سے کام بھی کیا خاک ہوتا ہو گا۔ آخر کو نوکری خود چھوٹ جائے گی۔ اور اسی طرح تھوڑے سے بہت بھی ہوتا ہے۔ ہمارے ابا پہلے آٹھ روپے مہینے کے نقل نویس تھے۔ اب خدا کے فضل سے تحصیل دار ہیں۔ اور خدا نے چاہا تو اور بھی بڑھیں گے۔ اوپر کی آمدنی پر بھی بھول کر بھی نظر مت کرنا۔ حرام کے مال میں ہرگز برکت نہیں ہوتی۔ تقدیر سے بڑھ کر مل نہیں سکتا۔ پھر آدمی کیوں نیت کو ڈانواں ڈول کرے۔ اگر اس سے زیادہ ملنے والا ہے تو خدا حلال سے بھی دے سکتا ہے۔
     
  11. اوشو

    اوشو لائبریرین

    مراسلے:
    2,520
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Drunk
    ریختہ صفحہ 131

    عورتوں کی کمائی بھی کوئی کمائی ہے۔ اگر عورتوں کی کمائی سے گھر چلا کریں تو مرد کیوں ہوں؟
    میرا اپنا گھر بنا رہے تو میں ایسے ایسے دس مکتبوں کے اجڑنے کی بھی پروا نہیں کرتی۔
    تماشا خانم: ایسی بھری برست میں کہاں جاؤ گی۔ جاڑا آنے دو۔ اس وقت کھلے موسم میں دیکھ لینا۔
    اصغری: اے ہے! دیر کرنا تو غضب ہے۔ اب جو کام سمجھانے سے نکلے گا پھر بڑے جھگڑوں سے بھی طے نہ ہو گا۔
    تماشا خانم: اے ہے آپا۔ گھر چھوڑتے ہوئے تمہارا جی نہیں کڑھتا؟
    اصغری: کیوں نہیں کڑھتا؟ کیا میں آدمی نہیں ہوں؟ لیکن یہ تھوڑی دیر کا کڑھنا بہتر ہے یا عمر بھر کا جلاپا؟
    تماشا خانم: تم نے اپنی ساس سے بھی اجازت لی؟
    اصغری: بھلا وہ اجازت دیں گی؟ لیکن ہماری ساس بیچار سیدھی آدمی ہیں۔ میں سمجھاؤں گی تو یقین ہے کہ نہ روکیں گی۔
    غرض ایک دن اصغری ن ے اپنا ارادہ اور اس کی وجوہات اپنی ساس سے بیان کیں۔ بات معقول تھی۔ اس میں کون گفتگو کر سکتا تھا۔ اصغری کا جانا ٹھہر گیا۔ ایک روز جا کر اصغری سب کچا حال اپنی ماں سے بھی کہہ آئی۔ مکتب کے واسطے لڑکیوں کو سمجھا دو کہ محمودہ تم سب کو پڑھانے کو بہت ہیں۔ میں صرف دو مہینے کو جاتی ہوں۔ سب لڑکیاں بدستور آیا کریں۔ رخصت ہونے کی تقریب سے پہلے اپنی آپا کے پاس گئی۔ محمد عاقل سے پوچھا "کیوں بھائی تمیز دار بہو، تم جاتی ہو۔ مکتب کو کیا کر چلیں؟"
    اصغرہ: مکتب اور گھر بار سب آپ کے حوالے کیے جاتی ہوں۔
    محمد عاقل: واہ! کیا خوب! نہ مجھ کو گھر سے تعلق نہ مکتب سے واسطہ، میں کیا کر سکتا ہوں؟
    اصغری: تعلق رکھنا نہ رکھنا سب آپ کے اختیار میں ہے۔
    محمد عاقل: تمیز دار بہو، تم کو یہ بات کہنی زیب نہیں دیتی۔ بھلا میرا کیا اختیار ہے؟ گھر تمہاری آپا نے چھڑوایا۔ رہا مکتب، سو لڑکیوں کا ہے۔ لڑکوں کا مکتب ہوتا تو میں خوشی سے سب کو پڑھا دیا کرتا۔
    اصغری: اب آپا اور آپ دونوں گھر چل کر رہیے۔ اماں جان اکیلی ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 132

    محمد عاقل: اپنی بہن کو سمجھاؤ۔
    اصغری: سمجھانے کی کیا ضرورت۔ آپا تو خود جانتی اور سمجھتی ہیں۔ یہاں اکیلے آپ کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ نہ بچوں کو کوئی سنبھالنے والا ہے نہ گھر کا کوئی دیکھنے والا۔ دکھ سکھ آدمی کے ساتھ ہیں۔ بے ضرورت جدا رہنا مناسب نہیں۔ اور پچھلی باتیں گئی گزری ہوئیں۔ آپس کی نااتفاقی کیا اور آپ کی رنجش کیسی۔
    اکبری جدا گھر کرنے کا مزہ خوب چکھ چکی تھی اور بہانہ ڈھونڈھتی تھی کہ پھر ساتھ رہنے کو کوئی کہے۔ فوراً راضی ہو گئی اور اصغری دونوں کو اپنے ساتھ لوا لائی۔ محمد کامل کی ماں کو اصغری کے جانے کا قلق تھا۔ اب ان کی بھی تسلی ہو گئی کہ خیر ایک بہو گئی، دوسری موجود ہے۔ محمودہ کو البتہ بڑا فکر تھا کہ دیکھئے کیا ہو۔ لیکن اصغری نے محمودہ کی تسلی کی اور سمجھایا کہ وہ باتیں نہیں ہیں، ادھر اپنی آپا کو سمجھا دیا کہ اب محمودہ بڑی ہو گئی ہے، کوئی سخت بات اس کو نہ کہیے گا۔ مکتب کے واسطے محمد عاقل سے اتنا کہہ دیا کہ پڑھانا لکھانا وغیرہ سب محمودہ کر لیا کریں گی، آپ صرف بالائی انتظام کی خبر لے لیا کیجیے اور مکتب کی رقم کا حساب کتاب محمودہ کو لکھا دیا کیجئے۔
    الغرض اصغری رخصت ہوئی۔ ڈاک پر سوار ہو کر سیدھی سیالکوٹ پہنچیں۔ یہاں محمد کامل دفعتہً اصغری کے پہنچنے سے سخت متعجب ہوا اور پوچھا "خیریت ہے؟ کہیں اماں سے لڑ کر تو نہیں آئیں؟"
    اصغری: توبہ کرو۔ کیا اماں جان میرے برابر کی ہیں کہ میں ان سے لڑنے جاؤں گی؟ اس چار برس میں کبھی تم نے مجھ کو ان سے یا کسی اور سے لڑتے دیکھا؟
    یہاں محمد کامل نے خوب ہاتھ پاؤں نکالے تھے اور بری صحبت میں مبتلا تھا۔ خوشامدی لوگ جمع تھے اور وہ اس کو الو بنائے ہوئے تھے۔ بازار رشوت گرم تھا۔ ناچ رنگ کا احتراز باقی نہ رہا تھا۔ امیری ٹھاتھ تھے۔ تنخواہ سے چار چند کا معمولی خرچ۔ اگر یہی چال چندے اور رہتا تو ضرور جیمس صاحب کو بدگمانی پیدا ہوتی اور آخر کو نوکری جاتی رہتی۔ اچھے وقت اصغری جا پہنچی۔ فوراً اس نے ہر طرف سے رخنہ بندیاں کیں اور سمجھایا کہ تم کو خدا نے سو روپے کا نوکر دیا۔ اس کا یہی شکریہ ہے کہ تم کو اس پر قناعت نہیں؟ محمد کامل نے کہا "جو خوشی سے دے، اس میں کیا قباحت ہے؟" ان دنوں لوگ روپے کے اس قدر حاجت

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 133

    مند ہیں کہ عزت تک کی پروا نہیں کرتے، مگر روپیہ مٹھی سے نہیں چھوڑتے۔ آدمی اپنے اوپر قیاس کرے کہہم کسی کو کیا دیا کرتے ہیں۔ ایک زکوٰۃ کی بھی کچھ اصل ہے۔ سینکڑے پیچھے برسویں دن چالیسواں حصہ ڈھائی روپے۔ وہی دیتے ہوئے جان نکلتی ہے۔ لوگوں کے پاس ایسا کون سا خزانہ قارون بھرا پڑا ہے کہ وہ تم کو بے مطلب دے جاتے ہیں۔ جب دیکھتے ہیں کہ کام بگڑتا ہے، نہ دیں گے تو مقدمہ خراب ہو گا، عاجز آ کر قرض دام دے کر، گھر والیوں کے زیور بیچ کر رشوت دیتے ہیں۔"
    محمد کامل: میں خود نہیں لیتا۔ پھر اس میں کیا ڈر ہے؟
    اصغری: اول تو رشوت چھپ نہیں سکتی۔ علاوہ اس کے فرض کیا آدمی پر ظاہر نہ ہوئی، خدا جو پردوں میں دیکھتا ہے، وہ تو جانتا ہے۔ بندوں کا گناہ جمع کرنا اور عاقبت کی جواب دہی سمیٹنا بڑی بےباکی کی بات ہے۔
    غرض سمجھا بجھا کر اصغری نے محمد کامل سے توبہ کرائی۔ چند روز رہ کر اصغری نے پوچھا "یہ چار آدمی جن کو باہر کھانا جاتا ہے کون لوگ ہیں؟"
    محمد کامل: نوکری کے امیدوار ہیں۔ بےچار غریب الوطن ہیں۔ میں نے کہا، خیر، جب تک تمہاری نوکری لگے، تب تک میرے پاس رہو۔
    اصغری: پھر اب تک ان کو نوکری نہیں ملی؟
    محمد کامل: نوکری تو ملتی ہے لیکن ان کی حیثیت سے کم ہے۔
    اصغری: جب ان کی حالت یہ ہے کہ دوسرے کے سر پڑے ہوئے روٹیاں کھاتے ہیں تو حیثیت سے کیا بحث باقی رہی۔ تھوڑی بہت جو ملے کر لیں۔
    محمد کامل: خدا جانے تم کیا کہتی ہو۔ عزت گھٹ کر کیوں کر کر لیں؟
    اصغری: کم درجے کی نوکری میں تو بےعزتی ہوتی ہے اور دوسرے کے سرڈھئی دینے میں بےعزتی نہیں۔ جب ان لوگوں میں اتنی غیرت نہیں تو اور عادتیں بھی ان میں بری ضرور ہوں گی۔ ان سے کہو کہ یا نوکری کریں یا رخصت ہوں۔
    محمد کامل: میری مورت مقتضی نہیں ہوتی کہ جواب دوں۔
    اصغری: جب ان میں مروت نہیں تو تم کو مروت کا لحاظ کیا ضرور ہے؟ اگر ہم سے بچے تو کنبے میں بہت غریب ہیں۔ ان کا حق مقدم ہے۔ غیروں کو اور غیروں بھی ایسوں کو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 134

    دینے سے کیا فائدہ؟ اور یہ ضرور نہیں کہ تم سختی سے جواب دو۔ کسی طور پر ان کو سمجھا دو۔
    خلاصہ یہ ہے کہ یہی لوگ محمد کامل کے شیطان تھے۔ اصغری نے حکمت عملی سے ان کو ٹالا۔ نوکروں میں جو بدوضع تھے، چھانٹ چھانٹ کر نکالے گئے اور ڈیڑھ برس رہ کر اندر سے باہر سب انتظام درست کر دیا۔
    اب میاں مسلم کی شادی ہونے والی تھی۔ اصغری کی طلب میں خط گیا اور تماشا خانم نے بہت اصرار کے ساتھ لکھا۔ از بس کہ بہت دن ہو چکے تھے، اصغری نےدہلی آنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اپنے دل میں سوچتی کہ محمد کامل کو اکیلا چھوڑنا مصلحت نہیں۔ محمد کامل سے کہا کہ مسافرت تنہا رہنا مناسب نہیں۔ کوئی اپنا رشتہ دار ساتھ رہنا ضرور ہے۔ سو میرے نزدیک تم اپنے خالہ زاد بھائی محمد صالح کو بلا لو۔ وہ تمہارے ساتھ کچہری کا کام بھی کر سکیں گے اور شاید کہیں ان کی نوکری بھی لگ جائے۔ امیر بیگم کو خط لکھا گیا اور اصغری کے رہتے محمد صالح پہنچ گیا۔
    یہ لڑکا پرلے درجے کا نیک بخت تھا۔ اس بامسمیٰ اور محمد کامل سے عمر میں بڑا۔ اب اصغری کو اطمینان ہوا تو سیالکوٹ سے رخصت ہو لاہور پہنچی۔ یہاں مولوی محمد فاضل کے پاس ایک ہفتہ مقیم رہی۔

    باب تیسواں

    اصغری کی صلاح سے مولوی محمد فاضل نے پنشن لی اور بڑے بیٹے محمد عاقل کو اپنی جگہ رکھوا دیا

    مولوی محمد فاضل صاحب کی عمر ساٹھ برس کے قریب تھی۔ مختاری کی نوکری میں محنت تھی بہت۔ روز بلا ناغہ سب حاکموں کی کچہری میں رئیس کے مقدمات کی خبر لینا اور صبح و شام عملوں میں جانا۔ بےچارے مولوی صاحب رات کو آتے تو بہت تھک جاتے تھے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 135

    اصغری نے کہا "ابا جان، اب آپ کی عمر اس مشقت کے قابل نہیں۔ مناسب ہے کہ آپ گھر بیٹھنے کا فکر کیجئے۔ ایک کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ انسان عمر کے تین حصے کرے۔ پہلا حصہ بچپن کا، دوسرا دنیا کے کاموں کے بندوبست کا، تیسرا آرام اور یادِ الہٰی کا۔ بس اب آپ گھر چل کر آرام سے بیٹھیے۔"
    مولوی صاحب: اول تو رئیس نہیں چھوڑتا، دوسرے آخر میری جگہ کوئی کام کرنے والا بھی چاہیے۔
    اصغری: رئیس سے جب آپ اپنی ضعیفی کا عذر کیجئے گا تو گمان غالب ہے کہ مان جائے اور کام کرنے کو بھائی جان کیا کم ہیں؟"
    مولوی صاحب: وہ کچہری دربار کا دستور قاعدہ کیا جانیں۔
    اصغری: چند روز ان کو بلا کر ساتھ رکھیے۔ دیکھنے بھالنے سے سب معلوم ہو جائے گا۔ وہ تو مولوی آدمی ہیں۔ ہندو لوگ تو اوٹ پٹانگ فارسی کی دو چار کتابیں پڑھ کر کچہری کی نوکری کرنے لگتے ہیں۔
    مولوی صاحب کو اصغری کی بات پسند آئی۔ اصغری تو دہلی پہنچی اور مولوی صاحب نے محمد عاقل کو بلا بھیجا۔ چند روز میں عاقل نے باپ کا سب کام اٹھا لیا اور رئیس کو اپنی خدمت سے خوش کیا۔ تب مولوی صاحب نے رئیس سے کہا کہ اب یہ لڑکا آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ مجھ کو آزاد فرمائیے۔
    رسم است کہ مالکان تحریر
    آزاد کنند بندہِ بے پیر
    رئیس صاحب کا دل بڑا سخی تھا۔ بیس روپے تا حیات مولوی صاحب کی پنشن کر دی۔ مولوی صاحب کی جگہ محمد عاقل کو پوری تنخواہ پر رکھ لیا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 136

    باب اکتیسواں

    محمودہ کی منگنی

    اصغری دہلی آئی تو اس نے محمودہ کا فکر کیا۔ حسن آرا جھجر سے میکے آئی تھی اور ان ہی دنوں جمال آرا بھی سسرال سے چھوٹی بہن سے ملنے کے لئے آ پہنچی۔ حکیم جی کا تو تمام گھر اصغری کا مرید تھا۔ دونوں بہنیں۔ اصغری کے آنے کی خبر سن کر دوڑی ہوئی آئیں۔ ہر طرح کی باتیں رہیں۔ جمال آرا نے کہا "استانی جی، کیسا جی تم میں پڑا تھا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ بھلا حسن آرا تو تمہاری شاگرد ہیں، لیکن میں شاگردوں میں سے بھی زیادہ ہوں، میرا اجڑا ہوا گھر تم نے ہی بسوایا۔
    اصغری: میں کس لائق ہوں۔
    جمال آرا: واہ استانی جی! میں تو جیتے جی تمہارا سلوک نہیں بھولوں گی۔ اور کیا کروں، تم ہم لوگوں کی خدمت کسی طرح قبول نہیں کرتیں۔ نہیں تو اپنی کھال کی جوتیاں تم کو بنوا دیتی، تب بھی تمہارا حق شاید ادا نہ ہوتا۔
    اصغری: اول تو کچھ خدمت مجھ سے بن نہیں پڑی اور باقتضائے سرداری کوئی کام آپ کو پسند ہوا تو بیگم صاحب، آپ کو خدا نے اس قابل بنایا ہے۔ ہم غریبوں کا خوش کر دینا کیا بڑی بات ہے۔
    حسن آرا: اے ہے، استانی جی! تم اپنے منھ سے کیسی بات کہتی ہو؟
    اصغری: سنو، بوا حسن آرا۔ استانی گیری اور شاگردی تو اب باقی نہیں۔ وہ مکتب تک تھی۔ اب اللہ رکھے تم بیاہی گئیں۔ ادھر تم پوتڑوں کی امیر اور امیروں کی سرتاج۔ ادھر یہ سردار اور سرداروں کی بیٹی بہو۔ اب اس شہر میں تم سے بڑھ کر تو دوسرا امیر نہیں۔ تم تک پہنچ کر جو آدمی محروم رہے تو اس کی قسمت کا قصور ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 137

    حسن آرا: اچھی استانی جی کیا بات ہے؟
    اصغری: بوا بڑا مشکل کام ہے۔ تم وعدہ کرو کہ مجھ کو ناامید نہ کرو گی تو کہوں۔
    حسن آرا اور جمال آرا نے جانا کہ کسی نوکری کے واسطے کہیں گی۔ دونوں نے کہا "استانی جی، خدا کی قسم! تمہارے واسطے ہم دل و جان سے حاضر ہیں۔ لو ہم کو تو بڑی تمنا ہے کہ تم ہم سے کوئی فرمائش کرو۔"
    اصغری: وہ کام میرے نزدیک تو بڑا ہے لیکن اگر آپ دونوں صاحب دل سے آمادہ ہوں تو کچھ حقیقت نہیں۔
    دونوں بہنوں نے کہا "استانی جی، خدا جانتا ہے، ہمارے کرنے کا کام ہو تو ہم کو دریغ نہیں۔"
    جب خوب پکا وعدہ کرا لیا تو اصغری نے کہا "میری آرزو ہے کہ محمودہ کو اپنی فرزندی میں قبول کرو۔"
    یہ سن کر دونوں بہنوں نے سکوت کیا۔ پھر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ جب دونوں اٹھنے کو ہوئیں تو اصغری نے ایک ہاتھ سے تو حسن آرا کا دوپٹہ پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے جمال آرا کا اور کہا "میں اپنا حق اب لڑ جھگڑ کر لوں گی اور جب تک میرا سوال پورا نہ ہو گا، خدا کی قسم جانے نہ دوں گی۔"
    حسن آرا: استاجی جی، بھلا اس میں ہمارا کیا اختیار ہے۔ ابھی تو ارجمند خاں لڑکا ہے۔ دوسرے ایسی باتوں میں ماں باپ کے ہوتے بہنوں کی کون سنتا ہے۔
    اصغری: بڑی اور بیاہی ہوئی بہنیں بھی ماں باپ کے برابر ہوتی ہیں۔ اور رشتے ناطے بغیر سب کی صلاح کے نہیں ہوا کرتے۔ ایسا ممکن نہیں کہ تم سے مشورہ نہ ہو۔
    حسن آرا: ابھی ہمارے یہاںتو کچھ تذکرہ کہیں کا نہیں ہے۔
    اصغری: تم کو معلوم نہ ہو گا۔ علوی خاں کے یہاں رقعہ گیا تھا۔ واپس آیا۔
    جمال آرا: استانی جی، تم نے سنا ہے تو گیا ہو گا۔ مگر ہم سے اس معاملے میں اس وقت تک کچھ بات چیت نہیں ہوئی۔ علوی خاں میں کیا برائی تھی۔ خدا جانے رقعہ پھر واپس کیوں لیا ہو گا۔
    اسی طرح بات میں بات اور ہونے لگی۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 138

    اصغری: صاحبو، میرا مطلب رہا جاتا ہے۔ ہاں ناں کا جواب مجھ کو دیجیے۔
    جمال آرا: استانی جی، بھلا ہم کیوں کر ہامی بھر سکتے ہیں؟
    اصغری: دولت، سیرت، صورت تین چیزیں ہوتی ہیں۔ دولت تو ہم غریبوں کے پاس نام کو نہیں۔ رہی سیرت سو بوا حسن آرا تم محمودہ سے بخوبی واقف ہو۔ دو برس تمہارا اس کا ساتھ رہا۔ سچ کہنا شرم، لحاظ، ادب، قاعدہ، نیک بختی ہر کام کا سلیقہ اور ہر طرح کا ہنر لکھنا، پڑھنا، سینا، پرونا، پکانا یہ سب باتیں محمودہ میں ہیں یا نہیں؟ کچھ اس پر موقوف نہیں کہ محمودہ میری نند یا میری شاگرد ہے۔ نہیں۔ وہ لڑکی کچھ خدا نے ہمہ صفت موصوف پیدا کی ہے۔ کیوں بوا حسن آرا، میں کچھ بڑھ چڑھ کر کہتی ہوں تو تم بولو۔
    حسن آرا: استانی جی، بھلا چاند پر کوئی خاک ڈال سکتا ہے۔ محمودہ بیگم ماشاءاللہ بڑے گھروں میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ بھلا کوئی محمودہ بیگم کا پاسنگ تو ہوئے۔
    اصغری: اور صورت، سو ناک، کان آنکھ جیسے آدمی میں ہوتے ہیں، محمودہ میں بھی ہیں۔ وہ بھی آدمی کا بچہ ہے۔ جوان ہونے پر کچھ اس سے زیادہ صورت نکل آئے گی۔
    جمال آرا: اسے استانی جی، محمودہ بیگم کو آدمی کا بچہ کہتی ہو۔ خدا کی قسم حور کا بچہ۔ بڑے گھروں میں اونچی دکان پھیکا پکوان، ہم نے تو کوئی صورت دار نہ دیکھا۔ ہم ہی دونوں بہنیں موجود ہیں خدا کی قسم بعض لونڈیاں ہم سے اچھی ہیں۔ اور محمودہ تو چندے آفتاب اور چندے ماہتاب۔ اس صورت کے آدمی کہاں نظر آتے ہیں۔
    اصغری: پھر بوا سوائے غریبی کے اور ہم میں کیا برائی ہے؟ اگرچہ چھوٹا منھ بری بات ہے لیکن علی نقی خان مرحوم کی دو چار پشتیں نہیں گزریں۔ آخر ہم بھی ان ہی کے نام لیوا ہیں۔
    دونوں بہنوں نے کہا "استانی جی، تم ہماری سرتاج ہو اور ہم اور تم کیا دو دو ہیں۔ ایک ذات ایک خون۔"
    اصغری: پھر کیا تامل ہے؟ میری درخواست کو قبول فرمائیے۔
    حسن آرا: اچھا استانی جی، آج ہم اس بات کا مذکور اماں سے کریں گے۔
    اصغری: مذکور نہیں، مذکور تو میں بھی کر سکتی ہوں۔ بلکہ دل سے اس میں مدد کرو۔ اور اب یہ بات چھڑی ہے تو ایسا ہو کہ پوری ہو جائے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 139

    دونوں بہنوں نے وعدہ کیا کہ استانی جی، جیسا آپ کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ ویسا ہی ہو گا۔ غرض کہ اس وقت دونوں بہنیں رخصت ہو گئیں۔ اگلے دن اصغری خود سلطانہ بیگم سے ملنے گئی۔ دو سو روپے کا بہت عمدہ شالی رومال جو سیالکوٹ سے لائی تھی، سلطانہ بیگم کو نذر کی۔ سلطانہ بیگم نے کہا "استانی جی، تم تو ہم کو بہت شرمندہ کرتی ہو۔ ہم کو تمہاری خدمت کرنی چاہیے نہ کہ الٹا تم سے لیں۔"
    اصغری: یہ رومال میں نے صرف آپ کے لئے فرمائش کر کے بنوایا تھا اور یہ تو آپ کو قبول کرنا ہی ہو گا۔ ڈیڑھ برس سے اسی امید میں میری گٹھڑی میں بندھا تھا کہ دہلی چل کر میں خود پیش کروں گی۔
    سلطانہ بیگم: میں اس کو بطور تبرک لے لیتی ہوں۔ لیکن مجھ کو خدا کی قسم شرم آتی ہے۔ کبھی آپ نے بھی تو کچھ فرمائش کی ہوتی کہ میرا دل خوش ہوتا۔
    اتنا سہارا پا کر اصغری دست بستہ کھڑی ہو گئی اور اپنا مطلب بیان کیا۔
    سلطانہ بیگم: اچھا استانی جی، آپ بیٹھیے تو سہی۔
    اصغری: اب میں اپنی مراد لے کر ہی بیٹھوں گی۔
    سلطانہ بیگم نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا کہ بیٹا بیٹیوں کے کام مشکل ہیں۔ کمہار کے ہاتھ سے دمڑی کا پیالہ لیتے ہیں تو اچھی طرح ٹھونک بجا کر لیتے ہیں اور یہ تو عمر بھر کی کمائیوں کے بیوپار ہیں۔ برے سوچ بچار اور صلاح مشورے سے ہونے کے ہیں۔ آپ نے ذکر کیا، اب میں ان کے باپ اور اپنی بڑی بہن سے، کنبے کے اور دو چار آدمیوں سے پوچھوں گچھوں۔ پھر جیسا ہو گا دیکھا جائے گا۔ اور ابھی تو ارجمند خاں لڑکا ہے۔ اس کے بیاہ کی کیا جلدی ہے۔
    اصغری: حوصلے سے بڑھ کر میں نے سوال کیا ہے۔ جس طرح مصر میں کوئی بڑھیا عورت سوت کی انٹی لے جا کر حضرت یوسفؑ کی خریدار بنی تھی۔ اسی طرح میرے پاس غریبی اور عاجزی کے سوا کچھ دینے کو نہیں۔ صرف آپ کی مہربانی درکار ہے۔
    ہر چند سلطانہ بیگم نے زبان سے کچھ نہ کہا لیکن انداز سے معلوم ہوا کہ بات ناگوار نہ ہوئی۔ چلتے ہوئے اصغری، جمال آرا اور حسن آرا سے کہتی آئی کہ اب اس کا نباہ آپ لوگوں کے اختیار میں ہے۔ اصغری کے جانے کے بعد دونوں بہنوں نے محمودہ کی حد سے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ریختہ صفحہ 140

    زیادہ تعریف کی۔ سلطانہ تو نیم راضی ہو گئی، لیکن شاہ زمانی بیگم کی بھی ایک بیٹی تھی، دل دار جہاں اور مدت سے شاہ زمانی اپنی بیٹی کے لئے ارجمند کو تکے بیٹھی تھی۔ ابھی تک اپنی بہن سے کچھ اس کا تذکرہ نہیں کرنے پائی تھی۔ جب اصغری نے محمودہ کی نسبت گفتگو کی تو سلطانہ بیگم نے شاہ زمانی بیگم سے پچھوا بھیجا کہ آپ کے نزدیک یہ بات کیسی ہے۔ شاہ زمانی بیگم یہ حال سن کر بہت سٹ پٹائی اور اس فکر میں ہوئی کہ کسی طرح محمودہ کی بات دب جائے تو دلدار جہاں کی ٹپس جما دوں۔ اس وقت تو اتنا ہی کہلا بھیجا کہ میں سوچ کر جواب دوں گی۔ اگلے دن خود بدولت آ موجودہ ہوئیں اور جب ذکر چلا تو سلطانہ سے کہا کہ کہاں تم اور کہاں مولوی صاحب! زمین آسمان کا جوڑ۔ یہ بات یہاں لایا تو کون لایا؟
    سلطانہ نے کہا "استانی جی۔"
    شاہ زمانی: دیکھو! میں خود استانی جی کے پاس جاتی ہوں۔
    حسن آرا کو ساتھ لے جھٹ سے اصغری کے پاس جا دھمکیں اور کہنے لگیں کہ استانی جی، تم تو ایسی عقلمند ہو اور تم نے اتنا نہ سمجھا کہ ایسے رشتے برابر کی ٹکر دیکھ کر کیے جاتے ہیں؟ علوی خان کے گھر سے صرف اتنی بات پر رقعہ پھرا کہ انہوں نے سونے کا چھپر کھٹ نہیں مانا۔ بھلا تم محمودہ کو کیا دو گی؟
    اصغری: بیگم صاحب، میں نے لڑکی کے بیاہ کا ذکر چھیڑا تھا۔ کچھ لڑکی کے مول تول کا پیغام نہیں دیا۔ شہر میں اگرچہ اب کل رسمیں بگڑ گئی ہیں لیکن وضع دار لوگوں میں لینے دینے کا چکوتا کہیں نہیں سنا۔ جو بیٹے دے گا، وہ کیا اٹھا رکھے گا؟ باقی رہی برابری، سو ظاہر ہے کہ دولت کے اعتبار سے ہم کو کچھ نسبت نہیں۔ یہاں تو علوی خاں کا چوتھائی بھی نہیں۔ لیکن آپ تو لڑکا بیاہتی ہیں۔ آپ کو امیری غریبی سے کیا بحث؟ لڑکی دینی ہو تو انسان یہ بھی سوچ کرے کہ بھائی لڑکی کا گزر دیکھ لو یا کوئی غریب ہو اور بہو کے جہیز پر ادھار کھائے بیٹھا ہو، وہ امیر گھر ڈھونڈے تو جائے سر ہے۔ آپ تو بیٹی لیتی ہیں اور سب کچھ خدا کا دیا ہوا آپ کے ہاں موجود ہے۔ آپ کو صرف لڑکی دیکھنا ہے سو محمودہ کاکوئی حال آپ سے مخفی نہیں۔ صورت، شکل، ذات جو کچھ بری بھلی ہے، وہ آپ کو معلوم ہے۔
    شاہ زمانی: کیا ہوا۔ پھر بھی جوڑ دیکھ کر بات کی جاتی ہے۔
    اصغری: بیگم صاحب، خطا معاف۔ اب جوڑ کہاں ہے۔ جوڑ تو ان دنوں تھا جب علی نقی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  12. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    211,432
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 156

    خوشی، ہم اپنی عقل سے اس میں مدد لیں۔ دنیا کے حال پر غور کرنا نہایت ضرور ہے اور یہ غور فائدے سے خالی نہیں۔ امین، آسمان، پہاڑ، جنگل، دریا، انسان، حیوان، درخت لاکھوں طرح کی چیزیں دنیا میں ہیں اور دنیا کا ایک بڑا بھاری کارخانہ ہے۔ دن میں ایک معمول کے ساتھ آفتاب کا نکلنا، پھر رات کا ہونا اور چان ستاروں کا چمکنا۔ کبھی گرمی، کبھی سردی، کبھی برسات، اور پانی کے اثر سے انواع و اقسام کے رنگ برنگ پھلوں اور پھولوں کا پیدا ہونا اور ایک وقت خاص تک تازہ و شاداب رہ کر مرجھانا اور ناپید ہو جانا ہر ایک بات غور کرنے والے کو برسوں سوچنے کو کافی ہے۔ خود آدمی کا اپنا حال غور کرنے کو کیا کم ہے۔ کیونکہ آدمی پیدا ہوتا اور کیوں کر پرورش پاتا اور بڑا ہوتا اور کیوں کر لڑکپن اور جوانی اور بڑھاپے کی حالتیں اس پر گزرتی ہیں اور کیوں کر آخر اس دنیا سے سفر کر جاتا ہے۔ یہ بڑا عمدہ اور دلچسپ اور مشکل مضمون ہے۔ یہ سب کارخانہ کسی مصلحت سے خدا نے جاری کر رکھا ہے اور جس تک وہ چاہے گا، اسی طرح یہ کارخانہ جاری رہے گا۔

    دنیا کی مردم شماری سے ثابت ہوا ہے کہ ایک گھنٹے میں ساڑھے تین ہزار آدمی کے قریب دنیا میں مرتے ہیں۔ یعنی ہر ایک پل میں ایک آدمی، اور اسی قدر پیدا بھی ہوتے ہوں گے۔ اب حساب کر لو کہ ایک مہینے میں کئی لاکھ آدمی دنیا میں مرتے اور پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر غور کرو کہ سات ہزار برس سے یہی تار چلا آتا ہے۔ بڑے بڑے زبردست بادشاہ، بڑے بڑے عالم، بڑے بڑے حکیم یہاں تک کہ بڑے بڑے پیغمبر جنہوں نے مردوں کو زندی کیا، خود موت سے نہ بچ سکے۔ دنیا میں جو پیدا ہوا ہے، یہ خدا کا ضروری حکم ہے کہ وہ ایک دن مرے۔ پس اگر یہ حکم کسی دن ہم پر یا ہمارے کسی عزیز یا قریب پر جاری کیا جائے تو ہم کو شکایت اور فریاد کی کوئی وجہ نہیں۔ یہ مضمون سرسری نہیں ہے۔ اس کو خوب غور کرو اور جب تم کو موت کی حقیقت معلوم ہو جائے گی تو سمجھو گی کہ کسی کے مرنے پر رنج کرنے تعلق پر موقوف ہے۔ اگر ہم سنیں کہ مثلاً ملک چین کا بادشاہ مر گیا، ہم پر اس خبر کا مطلق اثر نہیں ہوتا۔ اس واسطے کہ ہم کوا س سے کچھ تعلق نہ تھا۔بلکہ محلے میں اگر کوئی غیر آدمی مر جائے جس سے کسی قسم کا واسطہ نہیں تو ہم کو بہت کم رنج ہو گا۔ بلکہ شاید نہ بھی ہو، غرض ہم کو رنج اس شخص کے مرنے کا ہوتا ہے جس سے ہم کو تعلق ہے اور جتنا تعلق قوی اس قدر رنگ زیادہ، نانی کی بھتیجی خالہ کی بہو کی پھوپھی کی بھانجی اگر مرے

    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 157


    تو کیا؟ دور کا واسطہ، دور کا رشتہ، بلکہ رشتے ناطے پر کیا موقوف ہے۔ محبت ملاپ میں بھی رنج ہوتا ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ ہم کو کس سے زیادہ تعلق ہے۔ اس کے واسطے کوئی قاعدہ مقرر نہیں۔ قریب کا رشتہ ہو اور سدا کی لڑائیاں، ہمیشہ کے بگاڑ، تو ایسے رشتے دار غیر داخل۔ لیکن غیر سے رشتہ نہیں، قرابت نہیں لیکن محبت ملاپ بہت کچھ تو وہ رشتے داروں سے بڑھ کر ہے۔ پس ہر ایک شخص موافق اپنے حالات کے خاص تعلق رکھتا ہے۔ یہ دنیاوی تعلقات سب فائدے اور غرض سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اپنا سگا ہمارے فائدے میں خلل انداز ہو، ضرور ہے کہ ہم سے چھوٹ جائے۔ اسی طرح اگر غیر آدمی ہمارے کام آئے، ضرور ہے کہ ہم کو مثل اپنوں کے عزیز ہو۔ لیکن وہ فائدہ جس سے تعلق پیدا ہوتا ہے۔ ضرور نہیں کہ صرف روپے پیسے کا ہو، اگرچہ اکثر اسی قسم کا ہوتا ہے۔ کبھی امید اور توقع سے بھی تعلق پیدا ہوتا ہے۔ بہت لوگ ہمارے دوست ہیں جو ہم کو کچھ دے نہیں دیتے، لیکن یہ توقع کہ اگر کبھی ہم کو کسی طرح کی ضرورت ہو تو یہ کام آنے والے ہیں، تعلق کے پیدا ہوانے کی وجہ ہوتی ہے۔میں اس بحث کو بہت طول دے سکتا ہوں اور جس قدر اس بحث کو طول دیا جائے مناسب ہے۔ لیکن اصل مطلب میرا اس خط میں صرف اولاد کے تعلق سے بحث کرنا ہےاور اگر فرصت ملے گی تو ان شاء اللہ اس تعلق پر ایک کتاب لکھ کر تم کو بھیج دوں گا۔

    یہ تعلق جو اولاد سے ہے، عام ہے۔ کوئی ماں باپ بلکہ کوئی جانور تک اس سے خالی نہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف فائدے اور غرض پر اس کی بنا نہیں بلکہ خداوند عالم جو بڑا دانشمند ہے، اس کا انتظام چاہتا ہے کہ ضرور ماں باپ کو اپنی اولاد سے محبت ہو۔ اولد چند سال تک محتاج پرورش ہوتی ہے تاکہ اس کی پرورش اچھی طرح ہو۔ ماں باپ کو اولاد کی محبت لگا دی کہ اس محبت کے تقاضے سے بچوں کو پالیں اور بڑا کریں۔ یہاں تک کہ بڑی ہو کر خود دنیا میں رہنے سہنے لگیں۔ یعنی ماں باپ پرورش اولاد کے واسطے ان کے خدمت گزار رہیں۔ پس اولاد کا پال دینا صرف اتنا تعلق تو خدا کی طرف سے ماں باپ کو دیا گیا۔ باقی یہ بکھیڑے کہ اب اولاد کی تمنا ہے، نہیں ہے تو دوا ہے اور علاج ہے، تعویز گنڈا ہے، عمل ہے اور دعا ہے، یا اولاد ہوئی تو یہ فکر ہے کہ بیٹے ہوں، بیٹیاں نہ ہوں یا جو ہوں، زندہ رہیں، یہ خود انسان کی اپنی ہوس طمع کے ہیں۔ رہی یہ بات کہ اولاد کی تمنا جو خدا

    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 158

    کی مرضی سے زیادہ اپنے دل میں پیدا کی کس وجہ سے ہوتی ہے؟ بے شک فائدے اور غرض کے واسطے ہوتی ہے۔ لیکن فائدے کئی قسم کے ہیں۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ اولاد سے نام چلتا ہے۔ بعض کو یہ خیال ہوتا ہے کہ بڑھاپے میں ہمارے مددگار ہوں گے۔ بعض کو یہ تصور ہوتا ہے کہ ہمارا مال دولت ہمارے بعد لیں گے۔ اب ان خیالات پر غور کرو۔ کس قدر بے ہودہ اور غلط ہیں۔ نام چلنا کیا معنی کہ لوگ یہ جانیں کے فلانے کے بیٹے، فلانے کے پوتے ہیں، اول تو جب ہم خود دنیا میں نہ رہے تو اگر کسی نے ہم کو جانا تو کیا، نہ جانا تو کیا۔ علاوہ اس کے غور کرو کہ کہاں تک نام چلتا ہے۔ کسی آدمی سے اس کے باپ دادوں کے پوچھو، شائد داد تک تو سب کوئی بتا سکے گا۔ اس سے اوپر خود کو نہیں معلوم کہ ہمارے پڑدادا اور سکڑدادا کون بزرگ تھے۔ دوسرے لوگوں کو ان کے مردوں کی ہڈیاں اکھاڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پس بالفرض نام چلا بھی تو ایک یا دو پشت۔ آگے خیر صلاح۔ اور ایک یا دو پشت نام چلنا بھی صرف خیالی بات ہے۔ دس برس سے میں پہاڑ پر ہوں۔ ہزاروں آدمی مجھ کو جانتے ہیں اور ہزاروں کو میں جانتا ہوں۔ لیکن نہ وہ میرے باپ کو جانیں اور نہ میں ان کے باپوں سے واقف۔ نہ کچھ باپ کا نام بتانے یا پوچھنے کی کبھی ضرورت باقی ہوتی ہے۔

    دوسری وجہ تمنائے اولاد سے یہ فائدہ ہے کہ بڑھاپے میں مدد گار ہوں۔ سو یہ بھی خیال واہیات ہے۔ یہ کیوں کر یقین ہے کہ ان کے بڑے ہونے تک یہ زندہ رہیں گے؟ اور بالفرض زندگی کا اتفاق ہوا بھی تو اولاد کا مددگار ہونا محض خیالی بات ہے۔ ان وقتوں میں ہم ایسی اولاد بہت کم پاتے ہیں جن کو ماں باپ کا ادب ملحوظ یا جن کو والدین کی خدمت گزاری کا خیال ہوتا ہے۔ ادب اور خدمت گزاری تو درکنار اب تو اکثر اولاد سے ماں باپ کو ایذا اور تکلیف پہنچتی ہے۔ جس اولد کی لوگ تمنا کرتے ہیں، شروع سے آخر تک ان کے ہاتھوں سے رنگ پاتے ہیں۔ جب تک چھوٹے ہیں، پالنا ایک مصیبت ہے۔ آج آنکھیں دکھتی ہیں، کبھی پسلی کا دک، کبھی دانت نکلتے ہیں، کبھی چیچک نکلی ہے۔ خدا خدا کر کے بڑے ہوئے تو ان کےکھانے، کپڑے کا فکر، آدمی نہیں معلوم کن حالات میں ہے۔ نوکر ہے یا نہیں۔ پیسہ پاس ہے یا نہیں۔ ان کو جہاں سے ہو سکے، دینا ضرور۔ ماں باپ کو افاقہ ہو تو ان کو کچھ نہ ہو تو بھی سودے سلف کے لیے کہیں نہ کہیں سے روز کے روز پیسہ دھیلہ دینا ہی

    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 159

    پڑتا ہے۔ عید ہو، بقر عید ہو، تیوہار ہو، لاؤ بھاؤ، سودا کھانے کو چار ٹکے پیسے۔ یہاں تک بھی غنیمت ہے۔ اب ماں باپ چاہتے ہیں کہ لڑکا کام سیکھے، پڑھے اور لڑکا ایسا پاجی ہے کپ پڑھنے کے نام سے کوسوں بھاگتا ہے۔ جب تک مکتب کے چار لڑکے ٹانگ کر نہ لے جائیں، قسم ہے۔ اور اگر کسی طرح گیا بھی تو طفل بہ مکتب نمی رودد لے برندش۔ ذرا استاد کی آنکھ بچی کہیں چوراہے پر جا نکلے، کہیں نہر پر کھڑے بیڑیاں کھیلتے ہیں، کہیں بازاروں میں خاک چھانتے پھرتے ہیں۔ اور ذرا بڑاے ہوئے تو ماں باپ کو جواب دینے لگے۔ بڑوں کی صحبت، بدمعاشوں کا ساتھ، نہ ناچ کا پرہیز ہے، نہ بری صحبت سے گریز، باپ دادوں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔ اسی طرح بعضے شاطر بدمعاش، چور، جواری، شراب خوار ہو جاتے ہیں۔

    اب اولاد بیاہنے کے قابل ہوئی۔ تمام شہر چھان مارا۔ کہیں ڈھب کی بات نہیں ملتی۔ مشاطہ پاؤں توڑ توڑ کر دھمکی، میل ملاپ والے ہار کر بیٹھ رہے۔ کنبے کے لوگ ایک ایک سے کہہ چکے۔ کوئی ہامی نہیں بھرتا۔ ایک خرابی میں جان ہے۔ ماں بے چاری کہیں منتیں مانتی پھرتی ہے، کہیں کھڑی فال گوش لے رہی ہے۔ کہیں گڑیا کا بیاہ ہو رہا ہے۔ پانچوں وقت دعا ہے۔ الٰہی غیب سے کسی کو بھیج۔ خدا خدا کر کے نسبت ناتا ٹھہرا تو ایسی جگہ کہ ماں بے چاری کے پاس چاندی کا تار تک نہیں۔ سمدھیانے والے جھپکے کے بالے مانگتے ہیں۔ کسی طرح اپنے تئیں بیچ، بیاہ کیا، چڑیا کی جان گئی، کھانے والے کو مزا نہ آیا۔ جہیز ہے کہ پھنگا پھنکا پھرتا ہے۔ سمدھن کہتی ہے "اوئی! کیا دیا۔ ایسی ہو ہوت میں بیٹی جننی کیا ضرور تھی۔" کوئی خاطر تلے نہیں آتی۔ بات بات میں طعنہ ہے۔ داماد صاحب تشریف لائے تو ان کے دماغ نہیں ملتے۔ جب تک سسرے سے جوتیاں سیدھی نہ کرا لیں، ہاتھ تک نہیں دھوتے۔ کھانے کی کون کہے، چوتھی نہیں ہوئی کہ میاں بیوی میں جوتی پیزار ہونے لگی۔ بیٹی کی بیٹھی دی، لڑائی کی لڑائی مول لی۔ پھر یہ نہیں کہ کچھ ایک دن کی ہے نہیں، بس عمر بھر کو مصیبت کا چرخہ چلا۔ بیٹی کے اولاد ہونی شروع ہوئی۔ ماں بے داموں کی لونڈی، بے تنخواہ کی دایہ، عمر بھر اپنے بچے پالنے کی مصیبت جھیلتی رہی۔ اب خدا خدا کر کے دو برس آرام نصیب ہواتھا کہ بیٹی کے چینگی پوٹے سنبھالنے پڑے۔ اور اگر بہو آئی تو فساد کی گانٹھ۔ لڑائی کی پوٹ۔ ساس کو تو جوتی کے برابر نہیں سمجھتی۔ نندوں کا دم ناک میں کر رکھا ہے۔ نہ جیٹھ کا حجاب، نہ سسرے کا ادب۔ عورت ہے کہ مردوں کی پتڑی اتارے لیتے ہے۔ خدا پناہ میں

    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 160

    رکھے! بیٹے نالائق کو دیکھیے کہ بی بی نے تو آفت کر رکھی ہے، اور یہ مردود بی بی کی حمایت کرتا ہے اور الٹا ماں باپ سے لڑتا ہے۔ یہاں تک کہ بے چارے ماں باپ گھر چھوڑ کر الگ کرائے کے مکان میں جا رہے۔ یہ نتیجہ اس وقت کی اولاد سے ماں باپ کو ملتا ہے، بہت کم ہیں وہ لوگ جو اولاد سے راحت پاتے ہیں۔ پس ہم لوگ اپنی بے وقوفی سے اولد کی تمنا کرتے ہیں۔ گویا آفت اور مصیبت کو آرزو کر کے بلاتے ہیں۔

    اب رہا یہ خیال کہ مال و دولت کو کائی وارث ہو، اس وجہ سے اولاد کی تمنا کی جائے۔ یہ خیال جیسا مہمل اور پوچ اور لچر اور خرافات ہے، ظاہر ہے۔ جب آدمی خود دنیا سے اٹھ گیا تو اس کی دولت اگر اس کے بیٹے نے لی تو کیا اور اگر مال لاوارث قرار پا کر سرکار میں گیا تو کیا۔ یہ دولت عاقبت میں کچھ بکار آمد نہیں، مگر اسی قدر جو خدا تعالٰی کی راہ میں ہم خود صرف کر اجئیں یا ہمارے بعد ہمارے نام سے خدا کی راہ میں صرف ہو۔ جب ہم نے دولت کو خود صرف نہ کیا اور ایسا ضروری کام اولاد کے ذمے چھوڑے گئے تو ہم سے زیادہ کوئی احمق نہیں۔ جو اولاد ماں باپ کا اندوختہ مفت میں پا جاتی ہے، ہرگز اس کو اس کے خرچ کرنے میں دریغ نہیں ہوتا۔ آدمی اسی روپے کی قدر کرتا ہے جس کو وہ خود قوت بازو اور عرق ریزی سے پیدا کرتا ہے اور بے محنت جو روپیہ ملتا ہے، اس کا حال یہی ہوتی ہے کہ مال مفت دل بے رحم۔ البتہ اولاد ناچ رنگ، سیر تماشے میں خوب دولت کو اڑائے گی۔ لیکن چاہیے کہ باپ کے نام باجرے کے دلئے پر فاتحہ بھی دلائے کیا مذکور۔ کیا ایسی مثالیں دنیا میں سینکڑوں ہزاروں نہیں ہیں کہ لوگ بخل اور خست سے عمر بھر جمع کرتے رہے اور اولاد نے دولت پاتے ہی وہ گل چھرے اڑائے کہ چند روز میں باپ کا اندوختہ عمری فنا کر دیا؟

    اس بیان سے ظاہر ہو گا جس قدر تعلق اولاد کے ساتھ ہم نے اپنے دل سے بڑھا لیا ہے وہ ہمارے حق میں نہایت ضرر کرتا ہے۔ ہم کو اولاد کے ساتھ اسی قدر تعلق رکھنے کا حکم ہے کہ جب تک وہ ہمارے مدد کے محتاج رہیں، ان کی پرورش کریں اور اس پرورش کرنے میں بھی اس امید کو دل میں جگہ نہ دیں کہ اولاد بڑی ہو کر اس پرورش کے عوض کبھی ہماری خدمت کرے گی۔ یہ امید پیدا کرنی سخت درجے کی نادانی ہے۔ بلکہ یہ سمجھنا چاہیے کہ خدا نے جو ہمارا مالک ہے، اس کی پرورش کی خدمت ہم سے متعلق کر دی ہے۔

    مراۃ العروس ریختہ صفحہ 161

    ہم اولد کے پالنے میں اس کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہ باغ خدا کی ہے اور ہم اس کی طرف سے اس باغ کے مالی ہیں۔ اگر باغ کا مالک کسی درخت کو قلم کرنے یا کاٹ ڈالنے کا حکم دے تو مالی کو یہ کہنے کا کب منصب ہے کہ میں نے اس درخت کو بڑی محنت سے پالا ہے۔ یہ کیوں کاٹا اور قلم کیا جاتا ہے؟ دنیا کے تمام تعلقات صوف اس واسطے ہیں کہ آدمی ایک دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ ہم چند روز کے واسطے کسی مصلحت سے اس دنیا میں بھیجے گئے ہیں اور یہاں ہم کو کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی بنا دیا گیا ہے، اس واسطے کہ لوگ ہماری اور ہم لوگوں کی مدد کریں اور صلح کاری اور سازگاری میں اپنی زندگی جو مقرر کر دی گئی ہے، پوری کر جائیں۔ دنیا ہمارا گھر نہیں ہے۔ ہم کو دوسری جگہ جا کر رہنا ہو گا۔ نہ کوئی ہمارا ہے نہ ہم کسی کے۔ ہم اگر کسی کے باپ ہیں تو صرف چند روز کے واسطے۔ اور اگر کسی کے بیٹے ہیں تو بھی چند روز کے واسطے۔ اگر ہم کسی کو مرتا دیکھیں تو افسوس کی کیا بات ہے؟ افسوس تو جب کریں جب ہم یہاں بیٹھے رہیں۔ ہم کو خود ہی سفر درپیش ہے۔ نہیں معلوم کس بھڑی بلاوا ہو اور چلنا ٹھہر جائے۔ پھر سب سے مشکل یہ ہے کہ مرنا صرف یہی نہیں ہے کہ بدن سے جان نکل گئی۔ گویا روح ایک مکان میں چلی گئی۔ نہیں وہاں جر کر بات بات کا حساب دینا ہو گا۔ زبان جھوٹ اور غیبت اور قسم اور فحش اور بے ہودہ بکواس کے واسے جواب دہی کرے گی۔ آنکھ نظر بد کی سزا پائے گی۔ کان کو کسی بدی اور راگ سننے کے عوض میں گوشمالی دی جائے گی۔ ہاتھ نے کسی پر زیادتی کی ہے یا پرایا مال چرایا ہے تو کاٹا جائے گا۔ پاؤں اگر بے راہ چلا ہے تو شکنجے میں کسا جائے گا۔ بڑا ٹیڑھا وقت ہو گا۔ خدا ہی اپنے فضل سے بیڑا پار کرے تو ہو سکتا ہے۔ جس کو ان باتوں سے فراغت ہو وہ کسی کے مرنے پر غم کرے یا کسی کے پیدا ہونے پر خوش ہو تو بجا ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی ایسا ہے جو اپنے عاقبت سے بےفکر ہو چکا ہو؟ اصغری! اپنی خبر لو اور اس دن کے واسطے سامان کرو جہاں سوائے عمل کے کچھ کام نہ آئے گا اور دعا کرو کہ خداوند عالم اپنے دوست محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہم سب کا انجام بخیر کرے۔

    والدعا
    گنہگار دور ادیش خاں
     
  13. محمد عمر

    محمد عمر لائبریرین

    مراسلے:
    407
    جھنڈا:
    UK
    Page 151

    تک ہو سکتا ہے تدبیر کرتے ہیں۔ سامان مختصر جو دینا منظور ہے اگر اس عرصے میں جمع ہوا جاتا ہے تو ہم کو بھی یہ فرض آخر ادا کرنا ہے۔ جس قدر جلد ہو بہتر۔" حکیم صاحب نے پھر کہلا بھیجا کہ میں نے جینز اور سامان کی امید سے آپ کے ہاں رشتہ نہیں کیا۔ مجھ کو لڑکی چاہیے۔ آپ سامان کا فکر نہ کیجیے۔ ادھر سے جواب گیا "بہت خوب۔ ہم کو بھی رجب میں عقد کر دینا منظور ہے۔"

    ستائیس تاریخ رجب کی مقرر ہوئی اور دونوں طرف سامان ہونے لگے۔ سامان کا شروع ہوتا تھا کہ مولوی صاحب کو فکر پیدا ہوا۔ کبھی کہتے تھے ہزاری مل سے قرض لوں، کبھی سوچتے گھی کا کٹڑا بیچ ڈالوں یا گروی رکھ دوں۔ اصغری نے مولوی صاحب کو پریشان دیکھ کر پوچھا "آپ نے کیا تدبیر کی ہے؟"

    مولوی صاحب نے کہا "کیا بتاؤں۔ شادی کی تاریخ سر پر چلی آتی ہے اور روپے کی صورت کہیں سے بن نہیں پڑتی۔ ہزاری مل سے میں نے روپیہ مانگا تھا۔ وہ بھی ٹال گیا۔ گھی کے کٹڑے کو جدا کر دینے کا ارادہ کیا تھا۔ کوئی خریدار نہیں کھڑا ہوتا۔"

    اصغری نے کہا "ہرگز ہرگز آپ قرض نہ لیجیے اور نہ جائیداد فروخت کیجیے۔ قرض سے بد تر کوئی چیز نہیں اور جائیداد کا جدا ہونا کیا مشکل ہے۔ لیکن اس کا بہم پہنچنا بہت دشوار ہوتا ہے۔"

    مولوی صاحب: "قرض تو لوں نہیں اور جائیداد کو جدا نہ کروں تو کیا میں کیمیا گر ہوں یا دستِ غیب جانتا ہوں؟ روپیہ کہاں سے آئے؟"

    اصغری : پہلے گھر کا حساب دیکھ لیجیے۔ کپڑے تو کچھ پہلے سے تیار ہیں۔ صرف تھوڑا سا مصالح درکا ہو گا۔ سو میرے جوڑوں میں بعضے بہت بھاری ہیں۔ ان میں سے کم کر کے اتنا مصالح نکل آئے گا کہ محمودہ کے جوڑوں کو کافی ہو جائے گا۔ برتن بھی موجود ہیں۔ کوئی مول لینا نہیں۔ کاٹ، کباڑ، سامان بالائی یہ سب میں اپنا دے دوں گی۔ بے فائدہ پڑا پڑا خراب ہوتا ہے اور میرے کسی مصرف کا نہیں۔ اور آخر آپ کے پاس بھی کچھ روپیہ نقد ہو گا۔"

    مولوی صاحب: "صرف پانچ سو روپیہ ہے۔"

    اصغری : "بس بہت ہے۔ جب میں سیالکوٹ جانے لگی، کتب کی رقم چار سو روپے تھی۔ وہ امانت رکھی ہے۔ میرے پیچھے دو سو روپے اور ہوا۔ سو آدھا آپا کا حق ہے اور سو روپیہ

    Page 152

    محمودہ کا یہ ملا کر مکتب کی رقم کے پان سو ہو جائیں گے۔ محمودہ کے چھوٹے بھائی کو میں نے خط لکھا ہے اس طور پر ڈیڑھ ہزار روپے نقد اس وقت موجود ہے۔ ہزار کے کڑے جو حسن آرا کے بیاہ میں مجھ کو ملے تھے میرے کس کام کے ہیں۔ میرا ارادہ تھا کہ محمودہ کو چڑھا دوں۔ لیکن پھر غور کیا تو اس گھر کے کڑے اسی گھر میں جانے مناسب معلوم نہیں ہوتے۔ میں ان کو بیچ ڈالوں گی۔ وہ تماشا خانم کی معرفت بازار میں بھیجئ تھے۔ پنا مل تیرہ سو روپیہ دیتا تھا۔ محمودہ کی تقدیر سے اگر کوئی حاجت مند مل گیا تو انشاء اللہ پندرہ سو روپے مل جائیں گئے۔ اور ایک تدبیر یہ ذہن میں آتی ہے کہ آپ بھائی جان کے لانے کو لاہور جائیے اور رئیس پر رخصت کی تقریب میں یہ بات ظاہر کر دیجیے۔ رئیس بڑا سیر چشم ہے۔ امید ہے ضرور کچھ مدد کرے گا۔ ہمیشہ سے ہندوستانی سرکاروں کا دستور رہا ہے کہ ایسی تقریبات میں اپنے معتد نوکریوں کی اعانت کی ہے۔"

    غرض اصغری نے سسرے کو لاہور بھیجا۔ مولوی صاحب رئیس صاحب کے سلام کو جو گئے تو رئیس نے پوچھا "مولوی صاحب کیوں کر تشریف لائے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ بندہ زادی کا عقد ہے۔ اس غرض سے حاضر ہوا ہوں کہ محمد عاقل کو ایک مہینہ کی رخصت مرحمت ہو۔ اور یہ تو عرض نہیں کر سکتا کہ حضور کے خاندان سے کوئی شریک ہو لیکن اگر دیوان صاحب جو دہلی میں ہیں، سرکار کی طرف سے زینت دہ محفل ہوں تو ہم چشموں میں میرے لیے افزائش آبرو کا باعث ہو گا۔

    رئیس نے محمد عاقل کی رخصت بھی منظور کی اور مولوی صاحب کو آنے جانے کا خرچہ بھی دیا اور دیوان صاحب کو حکم بھیج دیا کہ ہماری طرف سے مولوی صاحب کی محفل میں شریک ہونا اور پان سو روپے نیوتے کا دینا۔ اصغری کی صلاح سے بیٹھے بٹھائے یہ پان سو روپے مفت کے آ گئے۔ اور جڑاؤ کڑے تماشا خانم کی معرفت نواب حاتم زمانی بیگم تک پہنچے دیکھ کر لوٹ ہو گئی اور آنکھ بند کر کے دو توڑے حوالے کیے۔ اب تو روپے کی ہر طرف سے ریل پیل ہو گئی۔ اصغری کا اہتمام۔ عمدہ سے عمدہ جوڑے تیار ہوئے اور چوہرا زیور بنا۔ وہ شادی ہوئی کہ مولوی صاحب کی تو کئی پشتوں میں نہ ہوتی تھی۔ سمدھیانے والے بھی سامان دیکھ کر دنگ ہو گئے۔ جو سامان تھا متعدد اور بیش قیمت اور جو چیز تھی نئے طور کی۔ دو جوڑے تو بیٹے والوں کی طرف سے آئے۔ ایک ریت کے واسطے کرکری تاش

    Page 153

    کا۔ دوسرا چوتھی کے واسطے کار چوبی کا۔ اور گہنے جہیز اور چڑھاوے کے ملا کر تو بے انتہا تھے۔ ناک میں نتھ اور کیل۔ ماتھے کو ٹیکا، جھومر، بنیا، کانوں میں بالی، پتے جڑاؤ اور سارے چھپکے کے بالے، کان کے جھالے، مگر، مرکیاں، بجلیاں، کرن پھول، جھمکے، گلے میں گلو بند، طوق، چمپا کلی، کنٹھی، توڑا، رھگدگی، چندن ہار، زنجیر مالا، بازو، پرجوشن، نورتن، بھوج بند، نونگے، ہاتھوں میں کڑے، نوگیریاں، چوہے دتیاں، لچھے، دست بند انگلیوں میں انگوٹھی، چھلے جوڑ، پاؤں میں پازیب، چوڑیاں، چٹکی، چھلے، کار چوبی، جال دار، مصالح دار سب ملا کر پچاس جوڑے، دو سو برتن اور اسی حیثیت کا بالائی سامان۔ غرض بڑی دھوم دھام سے عقد ہو گیا۔

    محمودہ رخصت ہوئیں۔ قمر آستانی بیگم سسرال سے خطاب ملا۔ حکیم فتح اللہ خاں بڑے متقی پرہیز گار باخدا آدمی تھے۔ مدتوں سے حج کا ارادہ کر رہے تھے۔ لیکن صرف ارجمند خاں کے بیاہ کے منتظر تھے۔ اب بیاہ ہونے کے بعد چند روز تک بہو کا رنگ ڈھنگ دیکھتے رہے۔ میاں دیکھنے کی کیا حاجت تھی۔ محمودہ تو بی اصغری کی نگرانی میں تربیت پائی تھی۔ کسی طرح کی کور کسر اس میں باقی نہ تھی۔ حکیم صاحب نے جس قدر آزمایا بہو کو ہنر مند عاقلہ، سلیقہ شعار پایا۔ کچھ تو خربوزہ میٹھا اور کچھ اوپر سے ملا قند۔ اول تو محمودہ اپنی ذات سے اچھی اور اس پر اصغری کی تعلیم کی صلاح۔ بھلا پھر کیا پوچھنا تھا۔ غرض حکیم صاحب کو خوب یقین ہو گیا کہ قمر آستانی اچھی خاصی طرح گھر کو سنبھال لیں گی۔ اب حکیم صاحب نے یکایک زور شور کے ساتھ عرب جانے کی تیاریاں کرنی شروع کیں۔ یا تو حج کی نیت تھی یا ہجرت کا ارادہ کر لیا۔ نقد کی قسم سے جو کچھ تھا اپنے ساتھ لیا۔ مکانات، دکانیں، کپڑے، گنج، دیہات، سرائیں سب کچھ بیٹے کے نام لکھ رہا۔ رشتے ناطے کے لوگوں نے جیسا دستور ہے سمجھایا بھی لیکن حکیم صاحب کو تو خدا کی دھن تھی۔ ایک نہ سنی۔ خدا کا نام لے چل کھڑے ہوئے اور دنیا بھر کی جائدار بیٹے بہو کو دے گئے۔

    محمودہ اگرچہ بیاہی جا چکی تھی لیکن پھر بھی اصغری کا ادب لحاظ پہلے سے زیادہ کرتی تھی۔ ذرا ذرا بات میں اصغری سے صلاح لیتی۔ اب البتہ اصغری کو اپنی عقل آزمانے کا موقع ملا۔ بڑا کارخانہ، بڑے کام، وہ وہ انتظام کیے کہ ارجمند خاں کو خدا جھوٹ نہ بلوائے وقت کا بادشاہ، وزیر بنا دیا۔ کوئی سرکار اس کے مقابلے کی دہلی کیا دور دور نہ تھی۔ ابھی تک تو اصغری مفلسی میں تھی۔ از دست بستہ چہ خیر و از پائے شکستہ چہ سیر۔ لیکن اب خدا رکھے

    Page 154

    دولت ثروت نصیب ہوئی۔ انتظام کا قابو، بندوبست کا موقع من مانا ملا۔ ان حالات میں جو جو کام اس عورت نے کیے اللہ چاہے تو قیامت تک زمانے میں یادگار رہیں گے۔ مگر افسوس ہے کہ ان کے لکھنے کی فرصت نہیں۔ پھر بھی اگر نصیحت ماننے والا اور بات کا سننے اور سمجھنے والا ہو تو جس قدر لکھا جا چکا کم نہیں۔ ہر طرح کی صلاح، ہر قسم کی تعلیم اس میں موجود ہے۔ کہنے کو قصہ اور حکایت ہے لیکن حقیقت میں نصیحت اور ہدایت۔

    باب تینتیسواں

    اولاد کے تعلق پر ایک عمدہ نصیحت

    اب اس کتاب کو ختم کرنے سے پہلے ایک بات اور لکھنی ضرور ہے۔ وہ یہ کہ اصغری بہت چھوٹی سی عمر میں ماں بن گئی تھی۔ ابھی تک کچھ اس کی اولاد کا تذکرہ نہیں ہوا۔ اصغری کے بچے تو بہت ہوئے لیکن خدا کی قدرت زندہ کم رہے۔ صرف ایک لڑکا محمد اکمل خواجہ جو اخیر میں محمودہ کی بیٹی مسعودہ سے بیاہا گیا زندہ رہا۔ یہ لڑکا کئی بچوں کے اوپر پیدا ہوا۔ اس سے پہلے محمد عادل ایک بیٹا اور بتول ایک لڑکی مر چکے تھے۔ بچوں کی پرورش میں احتیاط تو بہتیری ہوتی ہے۔ سردی گرمی کا بچاؤ۔ کھانے تک کا وقت بندھا۔ اندازہ اور خبرداری یہ کہ ثقیل اور ردی چیز کہیں منہ میں نہ ڈال لیں۔ دانت نکلنے شروع ہوئے اور مسوڑوں میں نشتر دیا گیا کہ ایسا نہ ہو دانتوں کی تکلیف کو بچہ سہار نہ سکے۔ چار برس کے ہوئے اور چیچک کے بچاؤ کی نظر سے ٹیکا لگوا دیا گیا۔ جہاں تک آدمی کی عقل کام کرتی ہے، سب طور کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ لیکن تقدیر کے آگے کسی کی حکمت نہیں چلتی۔ محمد عادل چار برس کا ہو کر مرا۔ پیچش ہوئی۔ دست بند کرنے کی دوا دی۔ بخار آنے لگا۔ سرسام ہو گیا۔ پلا پایا لڑکا ہاتھ سے جاتا رہا۔

    ابھی اس کا داغ تازہ تھا کہ بتول سات برس کی ہو کر بیمار پڑی۔ کچھ ایسے بلا کے

    Page 155

    دست چھوٹے کے جان لے کر بند ہوئے۔ دنیا جہاں کی دوائیں۔ لیکن موت کب مانتی ہے دوا کو۔ ایک ہی ہفتے میں لڑکی تحلیل ہو کر چلی گئی۔ بتول کے مرنے کا اصغری پر بہت بڑا صدمہ ہوا۔ اول تو لڑکی، دوسرے کچھ مرنے والی تھی یا کیا اسی ماں پر فریفتہ تھی کہ ایک دم الگ نہ ہوتی تھی۔ ماں نماز پڑھتی ہے تو جائے نماز پر بیٹھی ہے۔ ساتھ سونا، ساتھ اٹھنا، ماں کی دوا تک کو چکھ لینا ضرور۔ اور اس چھوٹی سی عمر میں بس پڑھنے میں دھیان، قرآن کا ترجمہ شروع تھا۔ جب محمد عادل مرا تو عورتوں نے اصغری کے ایمان میں خلل ڈالنا شروع کیا تھا۔ کوئی کہتی کوکھ کا خلل ہے، قہر علی شاہ کا علاج کرو۔ کوئی کہتی دودھ پر نظر ہے، چوراہے میں اتار رکھواؤ۔ کوئی کہتی مسان کا دکھ ہے، رمضان شاہ سے گڑانت کراؤ۔ کوئی کہتی مکان اچھا نہیں، میر علیم سے کلواؤ۔ کوئی کہتی سفر میں آئی گئی ہو کوئی چڑیل لپٹ گئی ہے۔ کچھوچھے چلو۔ گنڈے اور تعویز، عمل، ٹونے اور ٹوٹکے تو دنیا جان کے لوگ بتاتے تھے۔ لیکن واہ ری اصغری! یوں اوپر تلے دو بچے مرے لیکن سدا خدا پر شاکر رہی۔ کسی نے کچھ کہا بھی تو یہی جواب دیا "خدا کو جب منظور ہو گا تو یوں بھی فضل کر سکتا ہے۔ بتول کے مرنے کی خبر جب دور اندیش خاں صاحب کو ہوئی تو بہت مضطرب ہوئے اور اس اضطراب میں بیٹی کے نام یہ خط لکھا۔

    باب چونتیس واں

    خط

    برخورداری اصغری خانم کو دعا کے بعد معلوم ہو کہ اس وقت دہلی کے خط سے مجھ کو بتول کے انتقال کا حال معلوم ہوا۔ میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مجھ کو رنج نہیں ہوا۔ مگر میری عقل اس قدر بے جا نہیں ہوئی کہ نادان آدمیوں کی طرح بے صبری کروں۔ مجھ کو بڑا تردد تمہارا ہے۔ عجب نہیں تم پر یہ صدمہ بہت شاق ہوا ہو۔ لیکن ہر حالت میں انسان کو عقل سے مشورہ لینا چاہیے۔ عقل ہم کو اسی واسطے بخشی گئی ہے کہ رنج ہو یا
     

اس صفحے کی تشہیر