مدحتِ حیدر

انتہا

محفلین
یہ کچھ اشعار موزوں ہوئے تھے:

اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں
لاکھوں سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں
ہاشمی اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
ایسا انسب، مصطفائی دوسرا کوئی نہیں
دی گواہی کم سنی میں ہو گئے تم سرفراز
پیش قدمی میں مقابل بالکا کوئی نہیں
دی چہیتی، لاڈلی، آنکھوں کی ٹھنڈک عقد میں
لاڈلا ایسا دمادِ مصطفیٰ کوئی نہیں
بھائی ہونے کی دی نسبت مصطفیٰ نے موسیٰ کی
نسبتِ نورِ نبوت پا رسا کوئی نہیں
مدحتِ حیدر جو کی ہے مدح ہے وہ بے مثال
من کنتُ مولاہٗ، مولا سوا کوئی نہیں
محترم جناب محمد خلیل الرحمٰن کی اصلاح اور بھائی محمد تابش صدیقی کی سرپرستی کے بعد

اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں
لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں

ہاشمی اور مطلبی میں ہے تو ان کا کفو
ایسا انسب، مصطفائی دوسرا کوئی نہیں

دی گواہی کم سنی میں ہو گئے تم سرفراز
پیش قدمی میں مقابل بالکا کوئی نہیں

دی چہیتی، لاڈلی، آنکھوں کی ٹھنڈک عقد میں
لاڈلا داماد ایسا با خدا! کوئی نہیں

بھائی ہونے کی دی نسبت جب کلیم اللہ کے
نسبتِ نورِ نبوت باصفا کوئی نہیں

مدحتِ حیدر جو فرمائی ہے وہ ہے بے مثال
کہہ گئے من کنتُ مولا، ما سوا کوئی نہیں​
 

محمد وارث

لائبریرین
مُطلبی شعر میں فاعلاتن کے وزن پر بندھا ہے یعنی مُط طَ لا بی، میرے خیال میں اس کا صحیح وزن مُفتَعِلُن ہے یعنی مُط طَ لَ بی۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مطلع بھی میری نظر میں کچھ تبدیلی چاہتا ہے۔ یعنی

اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں​

تجھ سا مُرتضیٰ کوئی نہیں کا محل تب ہو جب دنیا میں بہت سارے مُرتضیٰ ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ علی شیرِ خدا ہی واحد مُرتضیٰ کے طور پر مشہور ہیں۔ اگر لوگوں کے نام مرتضی ہیں تو وہ انہی کے نام کی وجہ سے ہیں سو میرے خیال میں اس میں تبدیلی ہونی چاہیئے۔
 

انتہا

محفلین
مطلع بھی میری نظر میں کچھ تبدیلی چاہتا ہے۔ یعنی

اے علی تجھ سا جہاں میں مرتضیٰ کوئی نہیں​

تجھ سا مُرتضیٰ کوئی نہیں کا محل تب ہو جب دنیا میں بہت سارے مُرتضیٰ ہوں جب کہ ایسا نہیں ہے بلکہ علی شیرِ خدا ہی واحد مُرتضیٰ کے طور پر مشہور ہیں۔ اگر لوگوں کے نام مرتضی ہیں تو وہ انہی کے نام کی وجہ سے ہیں سو میرے خیال میں اس میں تبدیلی ہونی چاہیئے۔
اگر مطلع یوں کر لیا جائے
اے علی تیرے علاوہ مرتضیٰ کوئی نہیں​
تو کیا یہ ٹھیک ہے؟
 

انتہا

محفلین
مُطلبی شعر میں فاعلاتن کے وزن پر بندھا ہے یعنی مُط طَ لا بی، میرے خیال میں اس کا صحیح وزن مُفتَعِلُن ہے یعنی مُط طَ لَ بی۔
اگر اسے تبدیل کر کے
ہاشمی، عبدِ منافی میں ہے تو ان کا کفو​
کر دیا جائے تو یہ وزن میں آ جائے گا؟
 

انتہا

محفلین
امجد علی راجا بھائی، پسندیدگی کا شکریہ، لیکن جس طرح آں جناب نے دیگر محفلین کے کلام پر بہتری کی رائے دی ہے، بندے کی کاوش پر بھی کچھ نظر کرم ہو جائے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اگر اسے تبدیل کر کے
ہاشمی، عبدِ منافی میں ہے تو ان کا کفو​
کر دیا جائے تو یہ وزن میں آ جائے گا؟
جی آ تو جائے گا لیکن مطلبی کی بات کچھ اور ہے۔ عبدِ مناف قبیلہ ایک وسیع قبیلہ ہے جب کہ مطلبی میں حضورِ پاک اور حضرت علی کی نسبت بہت قریب کی ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مزید یہ کہ مطلع کا دوسرا مصرع بھی کچھ بہتری چاہتا ہے کیونکہ

لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں

اس میں شیرِ خدا کے ساتھ سلطان کا تلازمہ صحیح بنتا نہیں، گو سلطان کا ایک مطلب طاقت ور بھی ہوسکتا ہے لیکن سلطان کا عمومی مطلب حکمران ہے جب کہ شیر خدا کا لقب حضرت علی کو اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے ملا سو کچھ یوں ہو سکتا ہے

صد بہادر ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
یا
لاکھ اشجع ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
وغیرہ۔​
 

انتہا

محفلین
جی آ تو جائے گا لیکن مطلبی کی بات کچھ اور ہے۔ عبدِ مناف قبیلہ ایک وسیع قبیلہ ہے جب کہ مطلبی میں حضورِ پاک اور حضرت علی کی نسبت بہت قریب کی ہے۔
پھر آپ ہی کچھ تدبیر نکالیے اسے شامل کرنے کی۔ ہماری تو عروضی استعداد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ مطلبی کیسے آئے گا یہاں
 

محمد وارث

لائبریرین
پھر آپ ہی کچھ تدبیر نکالیے اسے شامل کرنے کی۔ ہماری تو عروضی استعداد یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ مطلبی کیسے آئے گا یہاں
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
 

سید عمران

محفلین
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
بس حمد کا تازہ کلام اب آپ پر لازم ہوگیا۔۔۔
انتظار رہے گا۔۔۔
نہ کا نہیں کلام کا!!!
 

انتہا

محفلین
مزید یہ کہ مطلع کا دوسرا مصرع بھی کچھ بہتری چاہتا ہے کیونکہ

لاکھ سلطاں ہیں، مگر شیرِِ خدا کوئی نہیں

اس میں شیرِ خدا کے ساتھ سلطان کا تلازمہ صحیح بنتا نہیں، گو سلطان کا ایک مطلب طاقت ور بھی ہوسکتا ہے لیکن سلطان کا عمومی مطلب حکمران ہے جب کہ شیر خدا کا لقب حضرت علی کو اپنی بہادری اور شجاعت کی وجہ سے ملا سو کچھ یوں ہو سکتا ہے

صد بہادر ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
یا
لاکھ اشجع ہیں مگر شیرِ خدا کوئی نہیں
وغیرہ۔​
ہیں بہادر لاکھ پر شیرِ خدا کوئی نہیں
یہ دیکھیے
 

انتہا

محفلین
مصرعے کی ساری بنت تبدیل کرنے پڑے گی، مطلبی تو کسی طور اس بحر میں نہیں آئے گا کیونکہ اس بحر میں فاعلاتن ہے اور مطلبی مفتعلن ہے لیکن 'مُطلب' آ جائے گا، اس کے ساتھ خانوادہ وغیرہ اس طرح کے الفاظ استعمال کر کے دیکھ لیں :)
اور یہ؟
مطلب و ہاشمی ہونے میں پایا ہے کفو
 
Top