مختلف کتابوں سے پسندیدہ اقتباس

ناعمہ عزیز نے 'مطالعہ کتب' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اپریل 27, 2012

  1. شمشاد خان

    شمشاد خان محفلین

    مراسلے:
    1,807
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بہت ہی دلچسپ لڑی ہے۔
     
  2. مودود احمد

    مودود احمد محفلین

    مراسلے:
    8
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cool
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ناعمہ عزیز بی بی!!!!
    جیتی رہیے بے حد عمدہ اقتباسات ۔ جو کے کتابیں پڑھ چکی تھی انکے بھی پڑھنے کا لطف دوبارہ آیا۔۔۔ تمام اقتباسات انمول۔۔۔۔۔
     
  4. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    دلّی والے بڑے چٹورے مشہور تھے۔ دراصل وہ خوب کماتےتھے اور خوب کھاتے تھے ۔ خوش باش اور بے فکرے تھے۔ کوڑی تک کفن کو لگا نہیں رکھتے تھے۔ جزرس اور کنجوس آدمی کو منحوس سمجھتے تھے اور اس کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ کبھی صبح ہی صبح اگر کسی ایسے کی شکل اتفاقاً نظر آجاتی تو اندیشہ کرتے کہ دیکھئے آج کیا افتاد پڑتی ہے۔ اکژ ہوتا بھی یہی تھا کہ ان کے وہم کی وجہ سے کوئی نہ کوئی پریشانی پیش آجاتی تھی۔۔۔۔
    ۔
    دلی والوں کی مثل تھی کہ ‘‘ایک داڑھ چلے ستّر بلا ٹلے’’۔کھانے کا تھک جانا ہی روگ کی جڑ ہے۔ دلّی والے گھر میں بھی اچھا کھاتے تھے اور باہر بھی ۔ غریبوں میں تو سبھی گھر والیاں خود کھانا پکاتی تھیں۔ اوسط درجے کے گھروں میں بھی سالن کی ایک یا دو ہنڈیا ں گھر والی بی بی خود پکاتی تھی۔ روٹی ڈالنے کے لیے ماما رکھی جاتی تھی۔ بغیر گوشت کے غریبوں کے حلق سے بھی روٹی نہیں اترتی تھی۔ اگر گوشت نہ ہونے کے باعث دال پکتی تو اس پر بھی دو دو انگل گھی کا کھڑا ہونا ضروری تھا ۔ سادی ترکاری کو ہندوؤں کا کھانا بتایا جاتا تھا۔
    ۔
    اس زمانے میں دلّی میں ہوٹلوں اور چائے خانوں کا رواج بالکل نہیں تھا۔ شام ہوتے ہی چوک کی بہار شروع ہوجاتی۔ جامع مسجد کے مشرقی رخ جو سیڑھیاں ہیں ان پر اور ان کے پہلوؤں پر ہر قسم کا سودا ملتا تھا۔ یہیں شام کوچٹورپن بھی ہوتا تھا۔ سستے سمے تھے۔ ایک پیسے میں چار سودے آتے تھے۔ دست کار شام کو دھیانگیاں لے کر آتے، دھیلی پاؤ لا گھر میں دیتے، باقی اپنی انٹی میں لگائے رہتے۔ کارخانے یا کام پر سے آنے کے بعد میلے کپڑے اتارتے اور نہا دھو کر اجلا جوڑا پہن لیتے اور چھیلا بن کر گھر سے نکلتے۔
    ۔
    اقتباس از ‘‘اجڑے دیار کی آخری بہار’’ شاہد احمد دہلوی

    ۔

    فرہنگ:

    دھیانگی = دہاڑی، مزدوری
    انٹی = گرہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    “ دنیا بھر کی سیاحتی منزلوں کے راستے طے ہوتے ہیں، وہ وہاں موجودہیں یہ طے ہوتاہے ۔ پیرس روم دمشق یا قرطبہ، بہر طور وہاں ہیں تو ان کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہوئے آپ کے بدن میں ایک پر اشتیاق سنسنی پھیلتی ہے، خون میں شیمپیئن ایسے پر خُمار گلابی بلبلے پھوٹتے ہیں لیکن یہ جو دنیا جہان کے پار الاسکا ہے ، تو یہ طے نہیں ہو پا رہا کہ وہاں ہے بھی کہ نہیں......صرف نقشے ہماری ڈھارس بندھاتے ہیں کہ وہاں ہونا چاہئے......
    بے شک میری کوہ نوردیوں کا آغاز سولہ برس کی عمر میں ہوا جب میں گورنمنٹ ہائی کالج کی کوہ پیمائی کی ٹیم میں شامل ہو کر رتی گلی کی چوٹی تک پنہچا تھا...لیکن میں بلندیوں کا تب اسیر ہوا ,پہاڑوں کے جاہ و جلال کے اژدھے نے بھی مجھے ڈس کر ایک خمار آلود زہر میرے بدن میں تب داخل کیا جب میں درمیانی عمر کے زوال سے آشنا ہو رہا تھا....اور اس کے باوجود میں پہاڑوں کی گوری شاہ گوری کی کنواری برفوں تک جا پہنچا تھا جو ایک معجزے سے کم نہ تھا....!....اس خُمار آلود زہر کی سیاہ
    طاقت کے سہارے میں جھیل کرومبرکے بلند اور تنہا خواب میں چلا گیا........ دنیا کا طویل ترین برفانی راستہ طے کر کے سنو لیک کے راستےعافیت سے ہیسپر کے گاؤں میں جا نکلا......لیکن تب مجھ میں کچھ ہمت اور سکت تھی ، ڈھٹائی تھی اور اب.......نہ ہمت تھی اور نہ سکت البتہ ڈھٹائی جوں کی توں موجود تھی......... مجھے کونج پر انحصار کرنا تھا کہ وہ مجھے اپنے پروں کے سہارے الاسکا تک لے جائے........وہ میری بیساکھی تھی....

    الاسکا کے سفرکی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایک اور"ٹریجڈی" ہو گئی.......
    مجھے خبر ہی نہ تھی..............
    جیسے شمس تبریز نے مولانا روم کو کتابوں کے انبار میں محو مطالعہ دیکھ کر اپنی دیوانگی میں سوال کیا تھا کہ..........
    یہ کیا ہے ؟
    مولانا نے اپنے سرکاری درباری تکبر کے زعم میں نخوت سے کہا تھا کہ یہ وہ ہے جسکی تمہیں خبر نہیں...
    تو اسی ساعت ان کتابوں میں آگ لگ گئی اور مولانا ہراساں ہو کر بولے..... یہ کیا ہے تو شمس تبریز نے بے اعتنائی میں کہا........یہ وہ ہے جسکی تمہیں خبر نہیں......

    تو میں بھی وہ تھا جسے خبر نہ تھی.......!!”

    مستنصر حسین تارڑ ۔ سفرنامے “الاسکا ہائی وے” سے اقتباس۔
     
  6. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool

    کچھ لمحے بڑے فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ اس وقت یہ طے ہوتا ہے کہ کون کس شخص کا سہارا بنایا جائے گا۔ جس طرح کسی خاص درجہ حرارت پر پہنچ کر ٹھوس مائع اور گیس میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی خاص گھڑی بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، اس وقت ایک قلب کی سوئیاں کسی دوسرے قلب کے تابع کر دی جاتی ہیں۔ پھر جو وقت پہلے قلب میں رہتا ہے وہی وقت دوسرے قلب کی گھڑی بتاتی ہے، جو موسم، جو رُت، جو پہلے دن میں طلوع ہوتا ہے وہی دوسرے آئینے منعکس ہو جاتا ہے۔ دوسرے قلب کی اپنی زندگی ساکت ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اس میں صرف بازگشت کی آواز آتی ہے۔
    (راجہ گدھ سے اقتباس)بانو قدسیہ
     
  7. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    بھلا زوال کیا ہوا تھا؟ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ابلیس کا گناہ فقط تکبر ہے لیکن میرا خیال ہے کہ تکبر کا حاصل مایوسی ہے۔ جب ابلیس اس بات پر مصر ہوا کہ وہ مٹی کے پتلے کو سجدہ نہیں کر سکتا تو وہ تکبر کی چوٹی پر تھا لیکن جب تکبر ناکامی سے دو چار ہوا تو ابلیس اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام بھی ناکام ہوئے۔ وہ بھی جنت سے نکالے گئے۔ لیکن وہ مایوس نہیں ہوئے۔ یہی تو ساری بات ہے۔ ابلیس نے دعویٰ کر رکھا ہے، میں تیری مخلوق کو تیری رحمت سے مایوس کروں گا۔ نااُمید، مایوس لوگ میرے گروہ میں داخل ہوں گے۔ اللہ جانتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں کا اغواء ممکن نہیں۔ وہ کنویں میں لٹکائے جائیں، صلیب پر لٹکیں، وہ مایوس نہیں ہوں گے۔
    (سامان وجود سے اقتباس) بانو قد سیپ
     
  8. Lateef Malik

    Lateef Malik محفلین

    مراسلے:
    1
    کیا خوب رشتہ ہے
    دنیا میں ہر چیز کا جوڑ ہے سوائے محبت کے
    محبت!
    نامعلوم نٹورک کا نمبر ہے جو نہ ٹریس ہوسکتا ہے نہ بلاک نہ اس پر کال ملائی جاسکتی ہے نہ پیغام نہ وٹس ایپ نہ ٹک ٹاک
    محبت طوفان کی طرح ہے سیلاب کی طرح ہے جو جس قدر تیراکی برداشت کرسکتا ہے تب تک ذندہ ہے جہاں ہاتھ پاوں نے کام چھوڑا بندہ غرق
     
    • زبردست زبردست × 1
  9. فہد اشرف

    فہد اشرف محفلین

    مراسلے:
    6,813
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Relaxed
    کون کس کا سیارہ بنایا جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. سیما علی

    سیما علی لائبریرین

    مراسلے:
    3,112
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    کون کس شخص کا سیارہ بنایاجائے گا۔بالکل درست نشاندہی،بہت شکریہ۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    9,445
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    رات کو ہمارے ساتھ ٹونی کی منگیتر تھی اور اُس کی دو سہیلیاں ۔ ایک تو بالکل سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی، جیسے ایک ایک عضو پر خالق نے وقت صرف کیا ہو۔ آنکھوں کی ساخت، ہونٹوں کی بناوٹ،، پیشانی، گردن۔۔۔۔ہر چیز تراشیدہ معلوم ہوتی تھی۔ یہ مجسمہ کسی بُت تراش کا خواب تھا۔

    ’’کون ہے یہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’ڈیفنی۔‘‘

    ’’نہیں۔۔یہ دیوی ایتھینا ہے۔‘‘

    ’’تُم لندن وندن چھوڑو اور آج ہی سے بُت تراشی شروع کردو۔ یونان کا موسمِ بہار بڑا تیز ہوتا ہے۔‘‘

    ’’تمہارے ہاں ہر چیز میں حُسن ہے۔۔ پانی، مٹی، پتھر، انسان، سب حسین ہیں۔ تبھی یونانیوں نے شعر کہے، نغمے گائے اور بُت تراشے۔‘‘

    ’’وہ قدیم یونانی تھے۔ اب ہم نکمے ہیں، قلاش ہیں۔‘‘

    ’’لیکن تُم بہت سے ملکوں سے اچھے ہو جو مفلس بھی ہیں اور حسن سے بھی محروم ہیں۔‘‘

    ڈیفنی ہماری طرف دیکھ کر مسکرارہی تھی۔

    ’’تُم اسے گھر چھوڑ آنا۔‘‘

    ’’میں راستہ بھول جاؤں گا۔‘‘

    ’’یہ بتادے گی۔ یہ انگریزی جانتی ہے اور اس نے ہماری باتیں سمجھ لی ہیں۔‘‘

    محفل ختم ہوئی۔ ٹونی کار چھوڑ گیا۔ ڈیفنی کو میں ایکروپولس لے گیا۔ ستونوں سے چاندنی چھن چھن کر آرہی تھی۔یہ حسین کھنڈر ایک شکستہ رباب معلوم ہورہا تھا۔ میں نے اسے اس جگہ کھڑا کردیا جہاں کبھی ایتھینا کا سونے اور ہاتھی دانت کا بنا ہوا مجسمہ تھا۔

    ’’مجھے چھوڑ کر کہاں جارہے ہو؟‘‘

    فڈیاس نے اپنی ساری صناعی صرف کرکے ایتھینا کا بُت بنایا۔ صدیاں گزریں یہ مجسمہ کھو گیا۔ اتنے دنوں کے بعد آج ملا ہے۔ میں ایتھنز والوں کو بتانے جارہا ہوں کہ تمہاری دیوی واپس لوٹ آئی ہے۔۔‘‘

    وہ مسکرانے لگی۔’’تمہیں ہمارے ملک کے ماضی کی ساری باتیں معلوم ہیں۔۔‘‘

    ’’لیکن ایتھینا! یونان تمہارا ہی نہیں ، میرا بھی ہے۔مجھے بھی حسین چیزوں سے الفت ہے۔‘‘

    اگلا دن ہم نے کورنتھ میں گزارا۔ سمندر میں نہارہے تھے۔بہت سی نگاہیں ہم پر تھیں۔

    شاید یہ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘ وہ بولی۔

    ’’نہیں۔ یونانیوں کو وہ نظارہ یاد آرہا ہےجب سمندر کی لہروں سے ایک بہت بڑی سیپی کھُلی اور اس میں سے دیوی وینس شرماتی لجاتی باہر نکل آئی۔‘‘

    میں پہلے ہی بہت مغرور ہوں، تُم مجھے اور بگاڑ دو گے۔‘‘

    ’’زیوس کے بیٹے اپولو اور ڈیفی کی کہانی مجھے یاد ہے۔ دیویاں تو ہمیشہ مغرور ہوا کرتی ہیں۔‘‘

    ’’مگر میں تو آرٹ کی ایک معمولی سی طالبِ علم ہوں۔‘‘

    آرٹ کے مجسموں کو آرٹ پڑھنا نہیں، پڑھانا چاہیےَ‘‘

    (شفیق الرحمٰن کے سفرنامے برساتی سے اقتباس۔ مزید حماقتیں)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1

اس صفحے کی تشہیر