محمد یعقوب آسی کی شعری اور نثری کاوشیں

ابن رضا

لائبریرین
جی استاد ِ محترم تلاش کرنے پر معلوم ہوا ہے کہ یہ اشعار خواجہ حیدر علی آتش صاحب کے ہیں

مکمل غزل
ہوائے دورِ مئے خوش گوار راہ میں ہے
خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہے
بلند آج نہایت غبار راہ میں ہے

شباب تک نہیں پہونچا ہے عالمِ طفلی
ہنوز حسنِ جوانیِ یار راہ میں ہے

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میں
نہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے

طریقِ عشق میں اے دل عصائے آہ ہے شرط
کہیں چڑھاؤ کسی جا اتار راہ میں ہے

طریقِ عشق کا سالک ہے واعظوں کی نہ سُن
ٹھگوں کے کہنے کا کیا اعتبار راہ میں ہے

جگہ ہے رحم کی یار ایک ٹھوکر اس کو بھی
شہیدِ ناز کا ترے مزار راہ میں ہے

سمندِ عمر کو اللہ رے شوقِ آسایش
عناں گسستۂ و بے اختیار راہ میں ہے

نہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنے
فقط عنایتِ پروردگار راہ میں ہے

نہ جائیں آپ ابھی دوپہر ہے گرمی کی
بہت سی گرد بہت سا غبار راہ میں ہے

تلاشِ یار میں کیا ڈھونڈیے کسی کا ساتھ
ہمارا سایہ ہمیں ناگوار راہ میں ہے

جنوں میں خاک اڑاتا ہے ساتھ ساتھ اپنے
شریکِ حال ہمارا غبار راہ میں ہے

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے

کوئی تو دوش سے بارِ سفر اتارے گا
ہزار راہزنِ امیدوار راہ میں ہے

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گے
خدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے

بہت سی ٹھوکریں کھلوائے گا یہ حسن اُن کا
بتوں کا عشق نہیں کوہسار راہ میں ہے

پتا یہ کوچۂ قاتل کا سن رکھ اے قاصد
بجائے سنگِ نشاں اِک مزار راہ میں ہے

پیادہ پا ہوں رواں سوئے کوچۂ قاتل
اجل مری مرے سر پر سوار راہ میں ہے

چلا ہے تیر و کماں لے کے صیدگاہ وہ تُرک
خوشا نصیب وہ جو جو شکار راہ میں ہے

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتش
گُلِ مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

(خواجہ حیدر علی آتش)
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
احبابِ محفل کی نذر ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ ایک تازہ غزل

آگہی جانئے بے حسی بن گئی
مسئلہ آپ سے آپ حل ہو گیا

سارے نمرود و بوجہل یک لب ہوئے
جو انہوں نے کہا وہ اٹل ہو گیا

آندھیوں کو ملا نام تسنیم کا
موسمِ جبر یوں بے بدل ہو گیا

سو تقاریر سے بڑھ کے ہے کارگر
ایک جملہ کہ جو بر محل ہو گیا

قاضئ شہر پر جس نے تنقید کی
اس کا ہر اک سخن مبتذَل ہو گیا

خوف کی برف حلقوم میں جم گئی
درد لکھتے ہوئے ہاتھ شل ہو گیا

محمد یعقوب آسیؔ ۴۔دسمبر۔ ۲۰۱۳ء
.............

واہ واہ واہ
سبحان اللہ
کیا ہی پیارے اشعار ہیں
لاجواب
 
گاہے گاہے باز خوان
پچیس سال پہلے کی ایک نعتیہ نظم


وہ روشنی ہے

محبتوں کا امیں محمد ﷺ کا نامِ نامی
ادا کروں جب
تو ہونٹ مل جائیں دونوں ایسے
کہ درمیاں سے ہوا نہ گزرے
قلم سے لکھوں جو اسمِ احمدﷺ
تو نوکِ خامہ کی روشنائی سے روشنی کی شعاعیں پھوٹیں

زمیں سے تا عرش نور کا سیلِ بے کراں ہے
ہر ایک منزل پہ ایک زمزم ہے جس کے پانی میں روشنی جھلملا رہی ہے
لطیف موجوں کی گنگناہٹ میں اَلْعَطَشْ کی صدائے دم سوز بھی ہے اور اک عظیم ماں کے عظیم دل میں عظیم بیٹے کی زندگی کے لئے دعاؤں کی دھڑکنیں بھی
عظیم بیٹا، وہ جس کا حلقوم استعارہ ہے آدمیت کی رفعتوں کا
رضائے رب کریم کا اک عجیب مظہر وہ روشنی ہے
چھری کے چہرے کی وہ کرن ہے
حضورِ حق سے
جو آزمائش تھی ایک بابا کی چاہتوں کی
جو آزمائش تھی ایک بندے کی رفعتوں کی

وہ باپ بیٹا جب ایک صحرا میں گھر خدا کا بنا رہے تھے تو کہہ رہے تھے
الٰہِ آخر! یہاں بسا ایک شہر ایسا
کہ جس کے باسی
ترے جہاں کی ہر ایک نعمت سے بہرہ ور ہوں
انہیں عطا کر
تمام برکت، تمام عزت، تمام رفعت
انہیں عطا کر وہ شمعِ معراجِ آدمیت
کہ نور جس کا
جہاں سے نفرت کی تیرہ راتوں کو بے نشاں، بے وجود کر دے
محبتوں کا عظیم سورج طلوع کر دے، طلوع کر دے!

وہ روشنی جو کہ طورِ سینا پہ جگمگائی
یروشلم پر ستارہ بن کر کچھ ایسے چمکی
کہ آدمیت کے گہرے زخموں کی تہہ میں ناسور کانپ اٹّھے
مسیحِ عالم نے مژدۂ جاں فزا سنایا
کہ سر زمینِ عرب سے ابھرے گا ایک سورج
جو نفرتوں کو مٹا کے رکھ دے گا اور پھر تا ابد رہے گا جہان زندہ محبتوں کا

دعائے بوالانبیا، نویدِ مسیح کیسے نہ پوری ہوتی
کہ حرفِ رافت کا، رحمتوں کا امیں،عظیم المقام وارث
عرب کے صحرا میں زندگی کی نوید لایا
وہ عید لایا
کہ تا ابد ہے جہان زندہ محبتوں کا
کہ تا ابد ہے محبتوں کا امیں محمد ﷺ کا نامِ نامی!
۔۔۔۔۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ ۲۱۔ اکتوبر ۱۹۸۸ء
 
آخری تدوین:

سید ذیشان

محفلین
گاہے گاہے باز خوان
پچیس سال پہلے کی ایک نعتیہ نظم


وہ روشنی ہے

محبتوں کا امیں محمد ﷺ کا نامِ نامی
ادا کروں جب
تو ہونٹ مل جائیں دونوں ایسے
کہ درمیاں سے ہوا نہ گزرے
قلم سے لکھوں جو اسمِ احمدﷺ
تو نوکِ خامہ کی روشنائی سے روشنی کی شعاعیں پھوٹیں

زمیں سے تا عرش نور کا سیلِ بے کراں ہے
ہر ایک منزل پہ ایک زمزم ہے جس کے پانی میں روشنی جھلملا رہی ہے
لطیف موجوں کی گنگناہٹ میں اَلْعَطَشْ کی صدائے دم سوز بھی ہے اور اک عظیم ماں کے عظیم دل میں عظیم بیٹے کی زندگی کے لئے دعاؤں کی دھڑکنیں بھی
عظیم بیٹا، وہ جس کا حلقوم استعارہ ہے آدمیت کی رفعتوں کا
رضائے رب کریم کا اک عجیب مظہر وہ روشنی ہے
چھری کے چہرے کی وہ کرن ہے
حضورِ حق سے
جو آزمائش تھی ایک بابا کی چاہتوں کی
جو آزمائش تھی ایک بندے کی رفعتوں کی

وہ باپ بیٹا جب ایک صحرا میں گھر خدا کا بنا رہے تھے تو کہہ رہے تھے
الٰہِ آخر! یہاں بسا ایک شہر ایسا
کہ جس کے باسی
ترے جہاں کی ہر ایک نعمت سے بہرہ ور ہوں
انہیں عطا کر
تمام برکت، تمام عزت، تمام رفعت
انہیں عطا کر وہ شمعِ معراجِ آدمیت
کہ نور جس کا
جہاں سے نفرت کی تیرہ راتوں کو بے نشاں، بے وجود کر دے
محبتوں کا عظیم سورج طلوع کر دے، طلوع کر دے!

وہ روشنی جو کہ طورِ سینا پہ جگمگائی
یروشلم پر ستارہ بن کر کچھ ایسے چمکی
کہ آدمیت کے گہرے زخموں کی تہہ میں ناسور کانپ اٹّھے
مسیحِ عالم نے مژدۂ جاں فزا سنایا
کہ سر زمینِ عرب سے ابھرے گا ایک سورج
جو نفرتوں کو مٹا کے رکھ دے گا اور پھر تا ابد رہے گا جہان زندہ محبتوں کا

دعائے بوالانبیا، نویدِ مسیح کیسے نہ پوری ہوتی
کہ حرفِ رافت کا، رحمتوں کا امیں،عظیم المقام وارث
عرب کے صحرا میں زندگی کی نوید لایا
وہ عید لایا
کہ تا ابد ہے جہان زندہ محبتوں کا
کہ تا ابد ہے محبتوں کا امیں محمد ﷺ کا نامِ نامی!
۔۔۔ ۔۔

محمد یعقوب آسیؔ ۔۔۔ ۲۱۔ اکتوبر ۱۹۸۸ء

سبحان اللہ!

بہت خوبصورت نعت۔ اللہ جزا عنایت فرمائے!
 

نایاب

لائبریرین
سبحان اللہ
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ تا ابد ہے جہان زندہ محبتوں کا
کہ تا ابد ہے محبتوں کا امیں محمد ﷺ کا نامِ نامی!
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
سارا "تاگا" (آپ ہی کے الفاظ میں) پڑھ لیا ہے۔۔۔ کچھ ربط جو دیے تھے۔۔۔ ڈاونلوڈ کر لیے ہیں۔۔۔ گاہ گاہ پڑھتا رہوں گا۔۔۔۔ تعریف تو میں نے کیا کرنی ہے۔۔۔ بس یہی کہوں گا کہ سر آپ کا ازحد شکریہ کہ آپ اس محفل کا حصہ ہیں۔۔۔
 
سارا "تاگا" (آپ ہی کے الفاظ میں) پڑھ لیا ہے۔۔۔ کچھ ربط جو دیے تھے۔۔۔ ڈاونلوڈ کر لیے ہیں۔۔۔ گاہ گاہ پڑھتا رہوں گا۔۔۔ ۔ تعریف تو میں نے کیا کرنی ہے۔۔۔ بس یہی کہوں گا کہ سر آپ کا ازحد شکریہ کہ آپ اس محفل کا حصہ ہیں۔۔۔
آداب، جناب نیرنگِ خیال صاحب۔
 

قیصرانی

لائبریرین
بہت آداب جناب قیصرانی صاحب۔
کل ہی عزیزہ عینی شاہ سے یاہو پر کچھ دیر بات ہوئی۔ وہ بھی گیلانی خاندان سے ہیں اور ان کا اسلوبِ گفتگو بھی سارہ بشارت گیلانی سے ملتا جلتا ہے۔
جی بالکل بجا فرمایا، مجھ ناچیز کی پیرنی صاحبہ عینی شاہ بیٹا کی بڑی ہمشیرہ ہیں :)
 
جی بالکل بجا فرمایا، مجھ ناچیز کی پیرنی صاحبہ عینی شاہ بیٹا کی بڑی ہمشیرہ ہیں :)
یعنی؟ آپ ’’مریدِ اہلِ مدحت‘‘ قرار پاتے ہیں۔ چلئے، ابھی کچھ دِن مزے کر لیجئے کہ آپ کی ’’پیرنی‘‘ کا لیپ ٹاپ عینی شاہ کے قبضے میں ہے۔
بعد ازاں کیا ظہور میں آتا ہے، وہ آپ جانئے!
 

قیصرانی

لائبریرین
جزاک اللہ۔ پیرنی صاحبہ کی دعاؤں کا اثر ہے :)
آپ کو راز کی بات بتائیں!؟
آپ کی ’’پیرنی‘‘ اتفاق سے اس فقیر کی ’’برخوردارنی‘‘ واقع ہوئی ہیں، اور ان کی برخورداری کا یہی عالم رہا تو بہت جلد ’’ترقی پا کر‘‘ ’’پیرنی فقیرنی‘‘ کے منصبِ جلیلہ پر فائز ہوں گی۔

انتباہ: اس بات کی ’’آر۔ ایف۔جی۔ ٹی وی‘‘ کو کانوں کاں خبر نہ ہونے پائے!
 
دسمبر ۱۹۷۱ء دے پس منظر وچ ایہ نظم جنوری فروری ۱۹۷۲ء دی کہی ہوئی اے ۔ اج فصیح امام نے چیتے کرا دتی، ظالم نہ ہووے تے!
تھوڑی جیہی سنوار کے پیش کر رہیا آں۔
محمد یعقوب آسیؔ​

سِر وِچ گھَٹّا

لمی چوڑی اک حویلی
اچا سارا اُس دا پھاٹک
اک سوالی
پاٹے لیڑے
سر وِچ گھٹا
ٹٹی ہوئی اک بانہہ اتے پٹی بنھی
پھاٹک دا کنڈا کھڑکاوے
رولا پاوے
اگوں بوہا کوئی نہ کھولے
نہ کوئی بولے
اوہ سوالی
ڈھیر نمانا، نمو جھانا
کھڑا کھلوتا سوچیں پے گیا
’’ایہ کیہ بنیاں!
اک دن ایس حویلی اندر
میری ڈاہڈی عزت ہے سی
اج کیہ ہوئیا؟
کوئی میری بات نہ پچھے
ذات نہ پچھے
نہ کوئی پچھے کون کوئی توں
کتھوں آیا ایں؟ کتھے جانا ای؟
لگدا اے لوکی اوہو نیں
لگدا اے میں میں نہیں رہ گیا‘‘
اوس سوالی
اپنے گل وچ لمکی ہوئی
ٹٹی بانہہ تے جھاتی ماری
اوتھے بہہ گیا
ہلن جوگا وی نہیں رہ گیا
۔۔۔۔۔
 
Top