محمد یعقوب آسی کی شعری اور نثری کاوشیں

الف عین

لائبریرین
زبردست۔ بقول شیخ اسپر گلاب کو کچھ بھی کہیں، گلاب ہی رہتا ہے۔ افسانہ اور کہانی کو میں تو ہم معنی ہی سمجھتا ہوں۔ افسانچہ کے لحاظ سے تو یہ طویل ہے۔
 
کیا ہم اس کو ’’شُذرہ‘‘ قرار دے سکتے ہیں؟ جناب الف عین
یہ کم و بیش وہی چیز ہوتی ہے جسے انگریزی والے NOTE کہتے ہیں۔
واقعاتی اور لفظیاتی وحدت (ممکنہ اختصار کے ساتھ) اس کا بنیادی وصف ہوتا ہے۔
 

الف عین

لائبریرین
اس کو کہانی کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں، شذرہ بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن یہ کوئی مستند صنف نہیں ہوتی۔
 

منیر انور

محفلین
بے حد دلچسپ کاوش ہے ۔۔۔ افسانہ اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے شاید۔۔۔ کہانی مکمل ہوتی ہے ، جو یہ نہیں ہے ۔۔۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اسے افسانچہ کہہ سکتے ہیں۔۔۔

کچھ بھی تو نہیں ہوا سائیں! بس آپ کا کتا مر گیا
۔۔۔ ۔
وڈیرا سائیں دو تین سال جاگیر سے باہر رہ کر واپس آئے۔ اُن کے دیرینہ خادم’’ مرادُو‘‘ نے جاگیر کے باہر زمینوں میں اُن کا استقبال کیا، وڈیرا سائیں نے پوچھا: ’’سنا، مرادُو! جاگیر پر کیسا ہے سب کچھ؟‘‘
’’سب ٹھیک ہے سرکار۔ سب کچھ ٹھیک ہے، بس آپ کا کتا ’’ڈبو‘‘ مر گیا ہے۔‘‘
’’اس کو کیا ہوا تھا، مرادُو؟‘‘
’’کچھ بھی تو نہیں ہوا، سائیں!اُس کے گلے میں ہڈی پھنس گئی تھی‘‘
’’ہڈی؟ کیسی ہڈی؟‘‘
’’وہ آپ کی ڈاچی کی ہڈی پھنس گئی تھی اُس بے زبان کے گلے میں۔‘‘
’’میری ڈاچی مر گئی کیا؟ اُسے کیا ہوا تھا، نامرادا!‘‘
’’اینٹیں ڈھوتے ڈھوتے مر گئی، سائیں! ہوا تو کچھ بھی نہیں‘‘
وڈیرا سائیں تقریباً چیخ کر بولے: ’’اوئے مرادُو، نامرادا! اینٹیں کون ڈھوتا رہا، کہاں ڈھوتا رہا، کیوں ڈھوتا رہا؟‘‘
’’مقبرہ بنانا تھا سائیں!‘‘
’’مقبرہ؟ کس کا مقبرہ بد بخت مرادُو؟ کون ایسا مر گیا جس کا مقبرہ بنانے کو تو نے میری ڈاچی مار ڈالی؟‘‘
’’کیا کرتا سائیں، یہ مرادُو غریب! بڑی سائین کو اللہ سائیں نے جو بلا لیا تھا!‘‘
’’بڑی سائین؟‘‘ وڈیرہ سائیں تقریباً دھاڑ کر بولے۔ ’’اماں مر گئی، کیا؟‘‘
’’ہاں سائیں، اللہ سائیں کو ایسا ہی منظور تھا، سائیں!‘‘
وڈیرا سائیں ماں کی وفات کا سن کر تقریباً رو دئے: ’’کچھ بتا بے مرادیا! میری ماں کیسے مر گئی!!!‘‘
’’ہوا تو کچھ نہیں تھا بڑی سائین کو، بھلی چنگی تھیں، رات کو سوئیں تو سویرے اٹھنا نصیب نہ ہوا، بلاوا جو آ گیا تھا، سرکار!‘‘
’’مجھے صاف سیدھا بتا اماں کو ہوا کیا تھا، تو کہاں مرا ہوا تھا‘‘
’’مرادُو غریب تو اپنی کھولی میں تھا سائیں، سویرے جو حویلی میں گیا تو دیکھا سنا‘‘
’’کچھ بک بھی آگے، کہ کہانی گھڑتا رہے گا! اماں مری کیسے، دوا دارو کرنے والے بھی سب مر گئے تھے؟ ‘‘
’’کوئی کچھ نہیں کر سکتا تھا سائیں‘‘ مرادُو روتے ہوئے بولا: ’’ رات کو حویلی گر گئی، اور بڑی سائین چھت کے ملبے تلے دب گئیں‘‘
وڈیرا سائیں کی نیچے کی سانس نیچے اور اوپر کی اوپر رہ گئی۔ تؤقف کے بعد بولے: ’’اچھا، پھر؟‘‘
’’پھر، سرکار! آپ کے نمک خواروں نے ملبہ ہٹایا تو بڑی سائین کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں‘‘
’’اور کیا کہتا ہے تو مرادُو؟‘‘
’’کچھ بھی نہیں سائیں، بہت دکھا ہوا ہے دل اِس غریبڑے مرادُو کا‘‘
’’تیرا دل؟ کیا ہوا تیرے دل کو؟ کالی زبان والے!‘‘
’’کچھ بھی تو نہیں ہوا سائیں! بس آپ کا کتا مر گیا‘‘
’’تجھے کتے کے مرنے کا بہت دکھ ہوا ہے؟‘‘
’’ہاں سائیں! اپنے جیسوں کا دکھ تو ہوتا ہے سرکار‘‘ اور ۔۔۔ وڈیرا سائیں حیرت سے مرادُو کا منہ دیکھتے رہ گئے۔
۔۔۔
الف عین صاحب، محمد وارث صاحب، محمد خلیل الرحمٰن صاحب، منیر انور صاحب، فلک شیر صاحب اور ۔۔۔​
اردو محفل کے جملہ خوش احباب کی خدمت میں​
صاحبانِ گرامی! اس کو افسانہ کہئے گا، یا کہانی؟ یا کچھ اور؟
جی، ایک معروف لوک قصے کو باضابطہ تحریر میں لانے کی یہ میری تازہ ترین اور اولین کوشش ہے۔
اس پر آپ کی رائے کیا ہے۔



بہت اعلیٰ جناب
 
ghorray_zps99e0531a.jpg



محمد خلیل الرحمٰن ، محمد اسامہ سَرسَری ، الف عین ، محمد وارث ، منیر انور ، @ گل بانو ، محب علوی ، سید شہزاد ناصر ، شمشاد ، نایاب ، مدیحہ گیلانی ، نیلم
 

محمد بلال اعظم

لائبریرین
اسامہ بھائی محترم محمد یعقوب آسی صاحب کا فیس بک پہ یوزر نیم Red Moon ہے تو شاید اسی کی مناسبت سے 'بدر احمر' لکھا ہے۔

آہا، آپ کن چکروں میں پڑ گئے صاحبو! ویسے یہ Red Moon کی مناسبت سے ’’بدرِ احمر‘‘ نہیں، بلکہ ’’بدرِ احمر‘‘ کی مناسبت سے Red Moon اختیار کیا ہے۔ انگریزی میں لفظ بدر کا یَک لفظی ترجمہ نہیں ملا، اگر ہوتا (جیسے ہلال کا crescent ہے) تو وہ اختیار کرتے۔ لال اور لعل کے چکر میں کہیں ’’لال چند‘‘ نہ بنا دیجئے گا کہ یار لوگ ’’نمستے نمستے‘‘ میں پڑ جائیں۔ السلام علیٰ من اتّبع الھدٰی

محمد بلال اعظم
محمد اسامہ سَرسَری
شاہد شاہنواز
 
Top