سیما علی

لائبریرین
اس کے لیے کریں چار نکاح شتابی!!!
آپکی اس بات کی نذر
ہمارے ملنے والے ایک صاحب کو ایک پری چہرہ سے عشق ہوگیا۔ پہلے ان کے گھر والے نہیں مانتے تھے، لیکن خودکشی کی دھمکی کے آگے سرنڈر ہوکر لڑکی والوں کے گھر رشتہ لینے چلے گئے، لیکن دُنیا میں ہر کام ہماری یا آپ کی مرضی سے ہوناضروری تو نہیں سو لڑکی والوں نے، بلکہ خود لڑکی نے کورا جواب دے دیا، جس دن لڑکی کی شادی تھی، اس دن عاشق نامراد نے بیس منزلہ عمارت سے نیچے سڑک پر چھلانگ لگا دی۔ نیچے مولٹی فوم والوں کا ٹرک گزر رہا تھا، خوش قسمت تھے، جان بچ گئی ۔ گھر والوں نے فوری بندوبست کرکے لندن بھیج دیا،جہاں وہ پہلے ”اپ سیٹ“ رہے، لیکن بعدازاں ”سیٹ“ ہوگئے ۔بیس سال بعد عارضی طور پر ملنے ملانے وطن آئے۔ شادی کی ایک تقریب میں بڑی بہن نے آواز دے کر بلایا اور دور کھڑی ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ پہچانو، کون ہے؟.... کھچڑی بال، سامنے کے دو دانت غا ئب، جھریاں اور موٹاپااس عورت کی نمایاں خوبیاں ،خامیاں یا خرابیاں تھیں۔ بڑا غور کر کے بولے کہ مَیں اس بڑھیا کو نہیں جانتا۔ بہن بولی، یہ بڑھیا تمہاری وہ ”گڑیا“ ہے، جس کے لئے تم بیس منزلہ عمارت سے خودکشی کے لئے کودے تھے ۔شوگر اور موٹاپے نے اس کایہ حال کردیا ہے ۔ سابق عاشق بولے، خدا کا لاکھ شکر ہے میری اس سے شادی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

شمشاد

لائبریرین
آج میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، اس میں سے یہ اقتباس لیا ہے، "علم کی کوئی نہ کوئی حد ضرور ہوتی ہے، مگر جہالت کی کوئی حد ہوتی ہے نہ ٹھکانہ۔ کوئی بھی شخص بے حد و بے حساب، بے شمار و بے انداز جاہل ہو سکتا ہے۔""
 

سیما علی

لائبریرین
آج میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، اس میں سے یہ اقتباس لیا ہے، "علم کی کوئی نہ کوئی حد ضرور ہوتی ہے، مگر جہالت کی کوئی حد ہوتی ہے نہ ٹھکانہ۔ کوئی بھی شخص بے حد و بے حساب، بے شمار و بے انداز جاہل ہو سکتا ہے۔""
جہالت جیسی کوئی غربت نہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں میں مردوں کو زندہ کرنے سے عاجز نہیں آیا لیکن احمق اور نادان کی اصلاح سے عاجز آ گیا۔
 

سید عمران

محفلین
آپکی اس بات کی نذر
ہمارے ملنے والے ایک صاحب کو ایک پری چہرہ سے عشق ہوگیا۔ پہلے ان کے گھر والے نہیں مانتے تھے، لیکن خودکشی کی دھمکی کے آگے سرنڈر ہوکر لڑکی والوں کے گھر رشتہ لینے چلے گئے، لیکن دُنیا میں ہر کام ہماری یا آپ کی مرضی سے ہوناضروری تو نہیں سو لڑکی والوں نے، بلکہ خود لڑکی نے کورا جواب دے دیا، جس دن لڑکی کی شادی تھی، اس دن عاشق نامراد نے بیس منزلہ عمارت سے نیچے سڑک پر چھلانگ لگا دی۔ نیچے مولٹی فوم والوں کا ٹرک گزر رہا تھا، خوش قسمت تھے، جان بچ گئی ۔ گھر والوں نے فوری بندوبست کرکے لندن بھیج دیا،جہاں وہ پہلے ”اپ سیٹ“ رہے، لیکن بعدازاں ”سیٹ“ ہوگئے ۔بیس سال بعد عارضی طور پر ملنے ملانے وطن آئے۔ شادی کی ایک تقریب میں بڑی بہن نے آواز دے کر بلایا اور دور کھڑی ایک عورت کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ پہچانو، کون ہے؟.... کھچڑی بال، سامنے کے دو دانت غا ئب، جھریاں اور موٹاپااس عورت کی نمایاں خوبیاں ،خامیاں یا خرابیاں تھیں۔ بڑا غور کر کے بولے کہ مَیں اس بڑھیا کو نہیں جانتا۔ بہن بولی، یہ بڑھیا تمہاری وہ ”گڑیا“ ہے، جس کے لئے تم بیس منزلہ عمارت سے خودکشی کے لئے کودے تھے ۔شوگر اور موٹاپے نے اس کایہ حال کردیا ہے ۔ سابق عاشق بولے، خدا کا لاکھ شکر ہے میری اس سے شادی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس عرصہ میں خود عاشق صاحب کا حلیہ کیسا تبدیل ہوا اس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے!!!
 
Top