"مجید لاہوری" کے "نمکدان" سے کچھ نمک

فرخ منظور نے 'مزاحیہ شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 9, 2008

  1. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    زندگی فراڈ ہے، فراڈ سے نبھائے جا
    چل رہی ہے چار سو بیس تو چلائے جا

    غم نہ کر الم نہ کر، فکرِ بیش و کم نہ کر
    چندہ جس قدر بھی قوم دے رہی ہے، کھائے جا

    لاکھ آندھیاں چلیں، لاکھ بجلیاں گریں
    بے بسی کو یورشوں میں اپنی "بس" چلائے جا

    اعتمار قوم کا تجھ پہ گر نہیں تو کیا؟
    "نوکروں" پہ لیڈری کا رعب تو جمائے جا

    ان کو تو دبائے جا تجھ سے جو غریب ہیں
    اور بڑے جو تجھ سے ہیں ان کو "بٹر" لگائے جا

    افسروں کے سامنے سر جھکا سلام کر
    پارٹی ہو گر کوئی اس میں بِن بلائے جا

    حادثاتِ زیست کا اے مجید! غم نہ کر
    حادثاتِ زیست پر خوب مسکرائے جا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    مل گئے ہیں مجھ کو اب دو چار حامی لیگ میں
    ہو گئی ہے دور جو پہلے تھی خامی لیگ میں

    قاضیِ عیسیٰ تو ہمارا مفت میں بدنام ہے
    آ گئے ہیں اور بھی نامی گرامی لیگ میں

    میری شہرت کو لگیں گے اور بھی اب چار چاند
    اس سے پہلے بھی تھی باقی نیک نامی لیگ میں

    کس طرح تجھ سے ہو میری جان ملنے کی سبیل؟
    میں ہوں مسلم لیگ میں اور تُو عوامی لیگ میں

    معتقد تیرا ہوں میں بھی اے چچا "شمس الحسن"
    میرے حامی بھی ہیں سارے تیرے حامی لیگ میں

    "ٹیم ورک" اس میں کریں گے جمع ہو کر سب رقیب
    غیر ممکن ہے کہ ہو بد انتظامی لیگ میں

    خاص لوگوں کا ٹھکانہ کب رہے گا اے مجید
    ہو گئے شامل اگر مجھ ایسے عامی لیگ میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    تہذیب یافتہ کتّا

    ہے یہ تہذیب یافتہ کتّا!
    دیکھ کر سوٹ دم ہلاتا ہے
    اور جو کوئی فقیر آ جائے
    دوڑ کر اس کو کاٹ کھاتا ہے
    یہ ہے تہذیب یافتہ کتّا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    وہ میری مے کشی پر ان دنوں ہیں طعنہ زن ساقی
    چرا کر بیچ دیتے ہیں جو مُردوں کا کفن ساقی

    جنابِ شیخ کی داڑھی بھی جا الجھی ہے زلفوں میں
    بہت پُر فن ہیں لندن کے بتانِ سیم تن ساقی

    جوانی تو ہے دیوانی، مگر اس پر تعجب ہے
    بزرگوں میں نہیں ہے وہ بزرگوں کا چلن ساقی

    غضب ہے، آج یہ کھٹمل انہی کا خون پیتے ہیں
    جنہوں نے خون سے سینچا تھا یہ سارا چمن ساقی

    جہالت شوق سے چڑھ چڑھ کے بیٹھے مل کی چمنی پر
    مگر فٹ پاتھ پر ٹھیلہ لگائیں علم و فن ساقی


    مجید اب شعر تو کہتا ہے لیکن فائدہ کیا ہے
    نہ وہ اہلِ سخن باقی نہ وہ بزمِ سخن ساقی

    (مجید لاہوری)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    زر دے کے انجمن کی صدارت خرید لی
    پگڑی جو دی تو شہرت و عزت خرید لی

    دو اِک ڈنر دئیے تھے کہ پرمٹ بھی مل گیا
    پرمٹ فروخت کر کے عمارت خرید لی

    رشوت کے نوٹ پائے تو حج کا سفر کیا
    آخر گناہ گار نے جنت خرید لی

    اللہ رے یہ فضل و کرم "بلیک" کا کہ آج
    دنیا کی ہم نے جو بھی تھی نعمت خرید لی

    ایمان بچ گیا تھا فقط مارکیٹ کا
    وہ دے کے کائنات کی لعنت خرید لی

    سٹہ جو میں جو کمایا تھا اس کی زکوٰۃ دی
    اب شاد باد ہیں کہ "شفاعت" خرید لی

    صد شکر اب مجید نے بھی میوہ شاہ میں
    دو گز زمین جو پئے تربت خرید لی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    پوچھو نہ بود و باش کلفٹن کے ساکنو!
    ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

    وہ سرزمیں ہے ساری کراچی میں انتخاب
    رہتے ہیں منتخب ہی جہاں روزگار کے

    جس کو مہاجرین نے آباد کر دیا
    ہم لوگ رہنے والے ہیں اس "گولی مار" کے

    "رمضان" سن رہے ہیں کہ ہے ماہِ جون میں
    دن آ رہے ہیں خیر سے کھانسی، بخار کے

    جو موسمی مریض ہیں جائیں گے ٹور پر
    آئیں گے یہ مہینہ "مری" میں گذار کے

    اک وہ بھی ہیں جو پیتے ہیں لندن میں بیڑیاں
    ہم لوگ اے مجید ہیں رسیا سِگار کے

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کھا کے امریکہ کا گھی پھر نوجواں ہو جائے گا
    مولوی گل شیر بھولو پہلواں ہو جائے گا

    غیر ٹھکرائیں گے اپنے بھی نہیں اپنائیں گے
    اے مرے دل تو بھی کیا اردو زباں ہو جائے گا

    آپ دیکھیں گے مری آہوں کی کیا تاثیر ہے
    آسماں جب میری بیڑی کا دھواں ہو جائے گا

    ورنہ ہم پہلے ہی کھا کر لیٹ جاتے قبر میں
    کیا خبر تھی زہر بھی اتنا گراں ہو جائے گا

    خود عمل کرتا نہیں اوروں کو سمجھاتا ہے یہ
    مولوی کا وعظ مرغے کی اذاں ہو جائے گا

    ختم ہو جائے گی یہ پانی کی قلّت ایک دن
    تیرے غم میں آنکھ سے چشمہ رواں ہو جائے گا

    "روح افزا" پی کے "مسلم لیگ" کا مردہ مجید
    صرف زندہ ہی نہیں بلکہ جواں ہو جائے گا

     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    غم گساروں نے جو کیں غم خواریاں
    بڑھتے بڑھتے بڑھ گئیں بیماریاں

    آپ دامن سے ہوا دیتے تو ہیں
    شعلہ بن جائیں نہ یہ چنگاریاں

    جبر کا انجام ہوتا ہے برا
    رنگ لائیں گی یہ تھانیداریاں

    کیا عجب ہے اُن کی غیرت جاگ اٹھے
    شوق سے کیجے غریب آزاریاں

    یوں تصور میں وہ آئے جس طرح
    آ گئیں گندم سے لد کر لاریاں

    یہ ڈنر یہ لنچ یہ سیر اور شکار
    لیڈری میں ہیں بہت دشواریاں

    درحقیقت عشق نے ہی اے مجیدؔ
    حسن کو بخشی ہیں نمبرداریاں

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہو غیر کا قصور تو "ایکسپوز" کیجیے
    اپنا ہو کامریڈ تو کچھ "پوز" کیجیے

    جلسہ کہیں پہ بھی ہو "فرکشن" نہ چھوڑئیے
    ہر جا پہ اپنا صدر ہی "پرپوز" کیجیے

    خود عیش اڑائے جائیے ہوٹل میں بیٹھ کر
    بھوکوں کا حال شعر میں "کمپوز" کیجیے

    "مینڈیٹ" دیتے رہیے جماعت کے نام پر
    کچھ بھی تو اپنے آپ پہ "امپوز" کیجیے

    "تھیسس" نیا سمجھ میں نہ آئے تو کیا ہوا
    ہو گا سبھی درست یہ "سپوز" کیجیے

    رہیے معاملاتِ سیاسی میں بین بین
    "کانگریس" کو خوش نہ "لیگ" کو "اپوز" کیجیے

    جنتا کی جنگ پونچھ میں کشمیر میں بھی ہے
    جھگڑے کو مفت میں یونہی "ڈسپوز" کیجیے

     
    آخری تدوین: ‏مئی 11, 2015
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    خان کا غزل

    ریڈیو پہ جائے گا خوچہ یہ گانا گائے گا
    چل چل چنبیلی باغ میں کشمش کھلائے گا

    محفل میں میرا یار چہ آیا نہ آئے گا
    آواز میرا یار کا محفل میں جائے گا

    ہم جانتے تھے عشق میں یہ دن بھی آئے گا
    غم ہم کو کھائے گا خوچہ ہم غم کو کھائے گا

    فرقت میں اپنا آنکھ سے آنسو گرائے گا
    دل میں چہ آگ لگتا ہے اُس کو بجھائے گا

    فٹ پاتھ پر خو کس لئے جھگی بنائے گا
    ہم اپنا دل کا بنگلہ میں تم کو بٹھائے گا

    دلبر ہمارا ہم کو چہ ملنے کو آئے گا
    پیسہ بھی اس کو دے گا چلم بھی پلائے گا

    ہم کو مجید بولے گا خان! اِک غزل سناؤ
    ہم اچھا والا اور غزل بھی سنائے گا

    (مجید لاہوری)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بیان اسلام کا
    ذکر یوں تو ہر رہا ہے صبح و شام اسلام کا
    ہم میں کتنے ہیں کہ جو کرتے ہیں کام اسلام کا
    جوش میں جو لے رہے ہیں آج نام اسلام کا
    کام کر دیں گے یہی اک دن تمام اسلام کا
    عہدہ و منصب سے منزل دُور ہے اسلام کی
    کرسیوں سےہے بہت آگے مقام اسلام کا
    چور بازاری سے اِک لحظہ جنہیں فرصت نہیں
    وہ کریں گے خیر سے قائم نظام اسلام کا؟
    میں یہ کہتا ہوں ، الہٰی خیر ہو اسلام کی
    چشمِ بد دور آپ جب لیتے ہیں نام اسلام کا
    سر زمینِ پاک میں اسلام اب مظلوم ہے
    تھا زمانے بھر پہ کل تک فیضِ عام اسلام کا
    ہیں نگاہ و دل میں کتنے بتکدے پنہاں مجید
    اور کہلاتا ہوں میں پھر بھی غلام اسلام کا
    (مجید لاہوری)​
     
  12. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہمیں ریڈیو پر بھی گانا پڑے گا
    تری بزم میں یوں بھی جانا پڑے گا

    ترے غم کو یوں بھی چھپانا پڑے گا
    ہر اک موڈ میں مسکرانا پڑے گا

    کوئی شغل بے کاریوں کا نہیں ہے
    کہیں تو ہمیں دل لگانا پڑے گا

    چلو "ہاکس بے" میں بسیرا ہی کر لیں
    نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

    بہت ہی کٹھن ہے محبت کی منزل
    کہ اس راہ میں "لاڑکانہ" پڑے گا

    رقیبوں سے بڑھنے لگے ہیں مراسم
    ہمیں تجھ کو اب بھول جانا پڑے گا

    تجھے تو بہت آزمایا ہے ہم نے
    انہیں بھی ذرا آزمانا پڑے گا

    یہی ہے مجیدؔ اب بچاؤ کی صورت
    حسینوں کو "مسکہ" لگانا پڑے گا

     
  13. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    حُسن اب کرتا ہے تھانیداریاں
    عشق کر لے جیل کی تیاریاں

    کھا کے افیوں کہہ رہی ہے "زندہ باد"
    اللہ اللہ قوم کی بیداریاں

    واہ امریکہ کی گندم واہ واہ!
    بڑھ گئی ہیں پیٹ کی بیماریاں

    مسکہ پالش نے جمایا ہے وہ رنگ
    زہر کھا کر مر گئیں خود داریاں

    اک طرف کاروں کا سیلِ بے پناہ
    اک طرف پھیلی ہوئی بے کاریاں

    مجھ کو جب ملنے لگی کرسی مجیدؔ
    ہو گئیں حائل مری ناداریاں

     
  14. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    ہوٹلوں میں چھُپ کے پھر کھانے کا موسم آ گیا
    سارا دن روزے کو بہلانے کا موسم آ گیا

    پھر مری اور کوئٹے جانے کا موسم آ گیا
    لیڈروں کے "ٹور" فرمانے کا موسم آ گیا

    آ گیا پھر برف کا بھاؤ بڑھا دینے کا دَور
    چور بازاری کو چمکانے کا موسم آ گیا

    گھی بنے گا تیل سے، پانی سے بن جائے گا دودھ
    صنعتوں کو اوج پر لانے کا موسم آ گیا

    دن کو چالو لنچ بھی، سگریٹ بھی، لیکن شام کو
    دعوتِ افطار میں جانے کا موسم آ گیا

     
    آخری تدوین: ‏جون 18, 2015
  15. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    زندگی فراڈ ہے، فراڈ سے نبھائے جا
    چل رہی ہے چار سو بیس تو چلائے جا

    غم نہ کر الم نہ کر، فکرِ بیش و کم نہ کر
    چندہ جس قدر بھی قوم دے رہی ہے، کھائے جا

    لاکھ آندھیاں چلیں، لاکھ بجلیاں گریں
    بے بسی کو یورشوں میں اپنی "بس" چلائے جا

    اعتماد قوم کا تجھ پہ گر نہیں تو کیا؟
    "نوکروں" پہ لیڈری کا رعب تو جمائے جا

    ان کو تو دبائے جا تجھ سے جو غریب ہیں
    اور بڑے جو تجھ سے ہیں ان کو "بٹر " لگائے جا

    افسروں کے سامنے سر جھکا سلام کر
    پارٹی ہو گر کوئی اس میں بِن بلائے جا

    حادثاتِ زیست کا اے مجید! غم نہ کر
    حادثاتِ زیست پر خوب مسکرائے جا​
     
  16. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    اگرچہ ہوں میں اِک مقامی مہاجر
    مرے در پہ دیں گے سلامی مہاجر

    نکالا گیا جلسۂ عام سے میں
    ہے مجھ سے بڑا کون عوامی مہاجر

    کروں گا میں سارے کلفٹن پہ قبضہ
    بشرطیکہ ہوں میرے حامی مہاجر

    الاٹوں پلاٹوں میں ہوں سب سے آگے
    ہوں رفتار میں تیز گامی مہاجر

    گئے چھوڑ کر "لیگ" ری پبلکن میں
    بنے یہ بھی نامی گرامی مہاجر

    ہر اک زلف میں یہ اٹکتا ہے جا کر
    مرا دل بھی ہے اک دوامی مہاجر

    بڑے شوق سے کر لے قبضوں پہ قبضے
    ہے تو بھی مجید اِک مقامی مہاجر

     
    آخری تدوین: ‏جولائی 3, 2015
  17. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    کہتا ہے کون درد کا درماں الاٹ کر
    ہاں جس قدر بھی غم ہوں مری جاں الاٹ کر
    "پھر پرسشِ جراحتِ دل کو چلا ہے عشق"
    "سامان صد ہزار نمک داں الاٹ کر"
     
  18. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    الوداع الوداع ماہِ رمضاں

    رحمتوں سے تھا پُر تیرا داماں
    فاقہ مستی سے ہم تھے پریشاں
    تھا یہ گھپلوں کا کارِ نمایاں
    مشکلیں ہو گئیں ساری آساں

    ہم پہ تھا تیرا فضل اور احساں
    الوداع الوداع ماہِ رمضاں

    بلیک میں ہم نے پیسا کمایا
    بھاؤ ہر شے کا ہم نے بڑھایا
    دودھ میں خوب پانی ملایا
    اور پھر تیل کو گھی بنایا

    ہم پہ تھا تیرا فضل اور احساں
    الوداع الوداع ماہِ رمضاں

    ہم نے کوّے سے مرغی پکائی
    روزہ خوروں کو دن بھر کھلائی
    یوں ہتھیلی پہ سرسوں جمایا
    جمع کی سال بھر کی کمائی

    ہم پہ تھا تیرا فضل اور احساں
    الوداع الوداع ماہِ رمضاں

    چور بازار کا تھا جو پیسا
    اس میں حصّہ نکالا خدا کا
    اور سمجھے کہ رشوت کا گھپلا
    ہم کو دیدے گا جنت کا ٹھیکا

    ہم پہ تھا تیرا فضل اور احساں
    الوداع الوداع ماہِ رمضاں

     
  19. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,857
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    عید کا دن

    زہے قسمت ہلالِ عید کی صورت نظر آئی
    جو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائی
    پہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کے
    گیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کے
    اٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئے
    جو چھپ کر کر رہے تھے احترامِ حکمِ دیں آئے
    ہوئی انگور کی بیٹی سے ''مستی خان'' کی شادی
    کھلے در مے کدوں کے اور ملی رندوں کو آزادی
    نویدِ کامرانی لا رہے ہیں ریس کے گھوڑے
    مسرت کے ترانے گا رہے ہیں ریس کے گھوڑے
    مبارک ہو کہ پھر سے ہو گیا ''ڈانس'' اور ''ڈنر'' چالو
    خلاص اہلِ نظر ہوں گے ہوا دردِ جگر چالو
    نمازِ عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے ہیں
    اور ان کے ساتھ سارے طالبِ دیدار آئے ہیں
    یہی دن اہلِ دل کے واسطے امید کا دن ہے
    تمہاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے​
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1

اس صفحے کی تشہیر