مہدی حسن مجھے تم نظر سے ، گرا تو رہے ہو

تعبیر

محفلین
میں نے یہ گانا صرف سنا تھا دیکھا نہیں تھا ۔پر ابھی بھی یہ صحیح سے دیکھ نہیں پا رہی کہ یہ اٹک اٹک کر اور رک رک کر چل رہی ہے :(
 

ظفری

لائبریرین
اتفاق سے میں آپ کی بات کا جواب دینے کے لیئے موجود ہوں ۔ :)
میرا خیال ہے آپ ڈائل اپ موڈیم سے لاگ ان ہیں ۔ اس لیئے اس کو بینڈ ویتھ پوری نہیں مل رہیں ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں آپ کا نیٹ کا کنکشن سلو ہے ۔ :cool:
 

تعبیر

محفلین
بہت بہت شکریہ نیٹ کا کنکشن سلو نہیں بلکہ 3rd class ہے آجکل۔ broadband ہے پر wireless connection میں کچھ گڑبڑ ہے۔
 

تعبیر

محفلین
یہ گانا مجھے بھی اچھا لگتا ہے۔ یہیں کسی نے بلکہ ظفری نے فلم والا کیا تھا۔ اسے دیکھنے کا زیادہ مزا ہے :)
 

خوشی

محفلین
گلوکار،،،،،،،،، مہدی حسن

موسیقار ،،،،،،، سہیل رانا

فلم،،،،،،،،،،،،، دوراہا

 

علی وقار

محفلین
شیتل چندا اگنی بن گئی
تارے بن گئے پھول
پیار نہ کرنا تم کسی سے
پیار ہے من کی بھول

مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
مرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے

مجھے تم نظر سے ۔۔۔۔!!!!!!!

مری یاد ہو گئی جدھر جاؤ گے تم
کبھی نغمہ بن کے، کبھی بن کے آنسو
تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو، بجھا نہ سکو گے

مجھے تم نظر سے ۔۔۔۔!!!!!!!

کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
تو بے چین ہو ہو کے دل تھام لو گے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو، بتا نہ سکو گے!!!

مجھے تم نظر سے ۔۔۔۔!!!!!!!
 
آخری تدوین:
مزے کی بات تو اِس گیت میں یہ ہے کہ تاثر شکوے کا ہے ، خفگی کا بھی قدرے غلبہ ہے اور کراہت و ناگواریت تو ہر بول سے عیاں ہے مگر موسیقی اِن احساسات کو بعینہٖ یوں زائل کررہی ہے جیسے عاشق کہہ رہا ہو میں اِس میں بھی خوش ہوں یا میں پھر بھی خوش ہوں مجھے اپنے قرب و وصال کی بھیک تو دو۔۔۔۔۔ اور یہ وہی بات ہے جوآئی ایم ایف اور اُس کے تیسری دنیا کے ساتھ کمرتوڑ معاہدات میں ہوتی ہے ۔کمرتوڑ آئی ایم ایف کے نہیں قرض لینے والے ملکوں کی۔۔۔​
(قرض ملنے سے پہلے)
کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
۔۔۔۔۔۔تو بیچین ہوہوکے دل تھام لوگے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
۔۔۔۔۔۔کسی نے جو پوچھاسبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو بتانہ سکو گے
(قرض ملنے کے بعد)
میری یاد ہوگی جدھر جاؤگے تم
۔۔۔۔کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤگے(قرض کی واپسی کےلیے)
(معاہدے کی رُوسے)
۔۔۔شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو بجھانا نہ سکو گے
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
مزے کی بات تو اِس گیت میں یہ ہے کہ تاثر شکوے کا ہے ، خفگی کا بھی قدرے غلبہ ہے اور کراہت و ناگواریت تو ہر بول سے عیاں ہے مگر موسیقی اِن احساسات کو بعینہٖ یوں زائل کررہی ہے جیسے عاشق کہہ رہا ہو میں اِس میں بھی خوش ہوں یا میں پھر بھی خوش ہوں مجھے اپنے قرب و وصال کی بھیک تو دو۔۔۔۔۔ اور یہ وہی بات ہے جوآئی ایم ایف اور اُس کے تیسری دنیا کے ساتھ کمرتوڑ معاہدات میں ہوتی ہے ۔کمرتوڑ آئی ایم ایف کے نہیں قرض لینے والے ملکوں کی۔۔۔​
(قرض ملنے سے پہلے)
کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
۔۔۔۔۔۔تو بیچین ہوہوکے دل تھام لوگے
نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
۔۔۔۔۔۔کسی نے جو پوچھاسبب آنسوؤں کا
بتانا بھی چاہو بتانہ سکو گے
(قرض ملنے کے بعد)
میری یاد ہوگی جدھر جاؤگے تم
۔۔۔۔کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤگے(قرض کی واپسی کےلیے)
(معاہدے کی رُوسے)
۔۔۔شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
بجھانا بھی چاہو بجھانا نہ سکو گے​
غمِ دنیا بہت ایذا رساں ہے
کہاں ہے اے غمِ جاناں کہاں ہے

اِک آنسو کہہ گیا سب حال دل کا
میں سمجھا تھا یہ ظالم بے زباں ہے

خدا محفوظ رکھے حادثوں سے
کئی دن سے طبیعت شادماں ہے

وہ کانٹا ہے جو چُبھ کر ٹوٹ جائے
محبت کی بس اتنی داستاں ہے

یہ مانا زندگی فانی ہے لیکن
اگر آ جائے جینا، جاوداں ہے

سلام آخر ہے اہل انجمن کو
خمار اب ختم اپنی داستاں ہے

خمارؔ بارہ بنکوی
 
Top