مبتدیوں کے لیے”ں“ والے الفاظ سیکھنے کا آسان قاعدہ؟

شکیب

محفلین
بات چیت کرتے ہے۔۔۔ ہم تو یہی کہے گے۔۔۔ آپ فرمائے۔۔۔ ہم کیا جانے۔۔۔ آنسو بہہ رہے ہے۔۔۔ میں پاگل ہو جاؤ گا۔۔۔ بلکہ ہو گیا ہو!

جاننے والوں میں کافی لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو نون غنہ کی یہ غلطیاں کرتے ہیں۔ عنوان میں موجود ”مبتدیوں“ کی بھی کوئی تخصیص نہیں۔ اس غلطی کے کرنے والوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو شائع تک ہوتے ہیں۔

اس غلطی کے دور کرنے کے خواہاں لوگوں کے لیے مختصراً میں یہ کہتا ہوں:
”جمع (کا صیغہ) ہو یا احترام/ادب سے بات کہی جا رہی ہو تو ”ں“ والے الفاظ استعمال ہوں گے ورنہ نہیں۔“

لیکن عمومی طور پر اس سے زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ اب بھی یہ غلطیاں ویسی کی ویسی ہیں اور میں سوچنے پر مجبور کہ اس کے سد باب کے لیے کیا آسان قاعدہ اپنایا جائے؟

بصد احترام: الف عین محمد وارث دوست محمد تابش صدیقی سید عمران
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
جمع و احترام کے صیغوں کے علاوہ اسم میں بھی 'ں' آتا ہے جیسے گاؤں، کنواں، سماں، رواں وغیرہ...
زبان کی غلطی کا علاج مطالعہ اور محنت ہی ہے!!!
 

شکیب

محفلین
جمع و احترام کے صیغوں کے علاوہ اسم میں بھی 'ں' آتا ہے جیسے گاؤں، کنواں، سماں، رواں وغیرہ...
زبان کی غلطی کا علاج مطالعہ اور محنت ہی ہے!!!
بالکل۔ کئی لوگ اس میں بھی غلطی کرتے ہیں۔
مطالعہ تو خوب کرتے ہیں۔ اور اکثر میری درستی کے بعد پوچھتے بھی ہیں کہ بھئی آخر کب یہ استعمال کریں سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ اور وہ اس ہر محنت کرنے کو تیار بھی ہیں۔
کیا کوئی لائحۂ عمل ہو سکتا ہے؟
ویسے آپ ذاتی طور پر کیا کہتے ہیں ایسے لوگوں کو؟ یا محض املا کی درستی کر دیتے ہیں؟
 
محنت کے بغیر کسی کا بھی کچھ سیکھنا ممکن نہیں ہے۔ میں شاید اس مسئلہ کا درست حل پیش کرنے سے قاصر رہوں کہ ایسے معاملہ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بہتر حل وہی دے سکتے ہیں جو اس مسئلہ سے گزرے ہوں یا کسی کا یہ مسئلہ حل کیا ہو۔

ورنہ بنیادی طریقہ تو یہی ہے کہ اصولوں کو سمجھا جائے، اور لکھتے ہوئے بھی ان اصولوں کا خیال رکھا جائے اور احتیاط برتی جائے۔
 

ابو ہاشم

محفلین
بات چیت کرتے ہے۔۔۔ ہم تو یہی کہے گے۔۔۔ آپ فرمائے۔۔۔ ہم کیا جانے۔۔۔ آنسو بہہ رہے ہے۔۔۔ میں پاگل ہو جاؤ گا۔۔۔ بلکہ ہو گیا ہو!

جاننے والوں میں کافی لوگ ایسے مل جاتے ہیں جو نون غنہ کی یہ غلطیاں کرتے ہیں۔
اردو لکھنے میں غلطیاں تو بہت طرح کی دیکھی ہیں لیکن ایسی غلطی تو کہیں نہیں دیکھی ۔ اس غلطی کا پڑھ کر حیرت ہوئی۔ ہو سکتا ہے یہ کسی خاص علاقے والوں کی غلطی ہو ۔

اس کا علاج صرف تلفظ کے مطابق لکھنا ہے۔ پہلے تلفظ صحیح سکھایا جائے اور پھر 'ں' کا لفظ میں وقوع کے لحاظ سے لکھنے کا طریقہ بتایا جائے۔
 

ابو ہاشم

محفلین
زبان کی غلطی کا علاج مطالعہ اور محنت ہی ہے!!!
مطالعہ تو خوب کرتے ہیں۔ اور اکثر میری درستی کے بعد پوچھتے بھی ہیں کہ بھئی آخر کب یہ استعمال کریں سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ اور وہ اس ہر محنت کرنے کو تیار بھی ہیں۔
کیا کوئی لائحۂ عمل ہو سکتا ہے؟
آپ کے اوپر مثال میں دیے گئے الفاظ
بات چیت کرتے ہے۔۔۔ ہم تو یہی کہے گے۔۔۔ آپ فرمائے۔۔۔ ہم کیا جانے۔۔۔ آنسو بہہ رہے ہے۔۔۔ میں پاگل ہو جاؤ گا۔۔۔ بلکہ ہو گیا ہو!
کا تعلق تو سیدھا زبان کے بنیادی ڈھانچے سے ہے۔ اس غلطی کا مطلب یہ ہے کہ انہیں زبان ہی صحیح طرح نہیں آتی اور یہ ان کا نہیں ان کے استاد کا قصور ہے۔ پہلے استاد خود اچھی طرح زبان سیکھے پھر آگے سکھانے کی کوشش کرے۔
جمع و احترام کے صیغوں کے علاوہ اسم میں بھی 'ں' آتا ہے جیسے گاؤں، کنواں، سماں، رواں وغیرہ...
ان کا اصول بھی تلفظ کے مطابق لکھنا ہے
مگر کوئی صحیح تلفظ سکھائے تو تب ہی۔
 

سید عمران

محفلین
عدنان میاں سے بہتر کون بتا پائے گا کہ مفتی صاحب املا کی غلطی پر دراصل کیا حُسنِ سلوک روا رکھتے ہیں ۔۔۔!
ان سے رابطہ کیا تو امید واثق ہے کہ مزید کئی اغلاط پر بھی بھرپور روانی حاصل ہوجائے گی۔۔۔
مثلاً ’’ے‘‘ کا بے جا استعمال، جیسے۔۔۔
ہم آپ سے کہے رہے ہیں۔۔۔
اور۔۔۔
جابجا ’’ا‘‘ کی تحذیف، مثلاً۔۔۔
منگنے والوں نے جینا حرام کررکھا ہے۔۔۔
جنگل میں مور ناچ کس نے دیکھے۔۔۔
مزید۔۔۔
حروف کی آپس میں تبدیلی۔۔۔
اردو محفل مے کحا سنا سب ماف!!!
 

سید عمران

محفلین
بالکل۔ کئی لوگ اس میں بھی غلطی کرتے ہیں۔
مطالعہ تو خوب کرتے ہیں۔ اور اکثر میری درستی کے بعد پوچھتے بھی ہیں کہ بھئی آخر کب یہ استعمال کریں سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ اور وہ اس ہر محنت کرنے کو تیار بھی ہیں۔
کیا کوئی لائحۂ عمل ہو سکتا ہے؟
ویسے آپ ذاتی طور پر کیا کہتے ہیں ایسے لوگوں کو؟ یا محض املا کی درستی کر دیتے ہیں؟
ہمیں اس نوعیت کے اب تک ایک ہی شاگرد ملے ہیں جنہوں نے ہمیں ہماری اوقات یاد دلا دی کہ آپ اس قوم کا ککھ وی نئی بگاڑسکتے!!!
 

یاسر حسنین

محفلین
نون غنہ میری نظر میں جہاں غلط استعمال ہوتا ہے وہ بتا سکتا ہوں جسے آپ غلطی نکالنے سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ صحیح استعمال پر کے بارے میں بھی غور کریں گے۔
جب ہم سے کچھ لوگ کسی کو مخاطب کرتے ہیں تو اکثر اس طرح لکھتے ہیں۔
پیارے بچوں، بزرگوں، بھائیوں، لڑکیوں، بچوں، نکموں، نکمیوں، ویلوں، ویلیوں، بہنوں، دانشوروں، ناظموں، لوگوں، انسانوں، دشمنوں، کمینوں، وغیرہ وغیرہ
اور آخر میں ندائیہ کی علامت۔ تو ندا دیتے وقت یعنی کسی کو پکارنے یا آواز دینے پر اس طرح لکھنا غلط ہے۔ یہ نون غنہ ”ں“ جو درج بالا الفاظ کے آخر میں لگا ہے یہ نہیں لگایا جائے گا۔
اگر کسی کا ناک بند ہے تو بولنے میں اسے رعایت دی جا سکتی ہے لیکن لکھنے میں نہیں۔ ;)
کیا خیال ہے آپ کا؟
 
Top