ماچس

نبیل

تکنیکی معاون
یہاں جرمنی میں پاکستان کا ٹیلی ویژن پی ٹی وی پرائم کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے اور اس پر جو پروگرام نظر آتے ہیں اس سے پاکستان میں ٹی وی کا مستقبل کافی تاریک نظر آتا ہے۔ پی ٹی وی پرائم پر ایک پروگرام آتا ہے ماچس۔ یہ پروگرام بالکل جیری سپرنگر کی فارمیٹ پر ہے۔ جس طرح امریکہ اور یورپ کے ٹاک شوز میں لوگ آ کر ایک دوسرے کو بے نقط سناتے ہیں، یہی کام اس پروگرام ماچس میں بھی ہو رہا ہے۔ جیری سپرنگر اور اس جیسے دوسرے پروگرامز کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں آنے والے لوگ دراصل اداکار ہوتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی مجھے ماچس کے مہمانوں کو دیکھ کر بھی لگتا ہے۔

ایک قسط میں ایک صاحب، ان کی پہلی بیوی، ان کی دوسری بیوی اور ان کی پہلی بیوی کی بہن آئے ہوئے تھے۔ ان کی پہلی اور دوسری بیوی میں گھمسان کی جنگ ہوتی رہی اور یہ صاحب پیچھے قہقہے لگاتے رہے۔ پروگرام کی کمپیر کا طرز عمل بھی حیران کن تھا۔ وہ ان صاحب کی پہلی بیوی کے ساتھ مل کر ان سے اور ان کی دوسری بیوی سے لڑتی رہی۔

ماچس کے تمام پروگرام ایسی ہی گھمسان کی جنگوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کسی زمانے میں پاکستان میں گنتی کے چینل آتے تھے لیکن لوگ ان پر پروگرام شوق سے دیکھتے تھے۔ اب ٹی وی چینلز کی بھرمار ہو گئی ہے اور دیکھنے کے قابل کوئی چیز نہیں رہی۔ پاکستان میں ٹی وی پر اب وہی بات صادق آتی ہے جو کسی زمانے میں امریکی اور یورپی ٹی وی کے بارے میں کہی جاتی تھی، یعنی یہ ایک وسیع کوڑے کرکٹ کا میدان (vast waste land) بن کر رہ گیا ہے۔
 

قیصرانی

لائبریرین
جی، اسی لئے افراط کو بے برکتی کا نام دیا گیا ہے۔ ویسے نبیل بھائی، آپ سے ایک مضمون کا کہنا ہے۔ کیا آپ ایک مضمون بنام “جزیرہ خضراء“ کے نام سے لکھ سکتے ہیں؟ بہت سے دوستوں‌کے بہت سے سوالات کو جوابات مل جائیں گے۔ اور ساتھ 2017 میں ہونے والے واقعے کا اشارتاً ذکر بھی کر دیجئے گا۔ میری معلومات ناقص ہیں، ورنہ میں‌خود لکھ دیتا۔
بےبی ہاتھی
 

ماوراء

محفلین
~~
بالکل صحیح کہا۔۔۔کہ آج شام کو جو پروگرام لگا تھا۔ اس میں ایک صاحب جو آئے تھے وہ کل رات کے ڈرامے میں بھی تھے۔ اور ایک اور صاحب مختلف کردار میں دو بار آ چکے ہیں۔
~~
 

رضوان

محفلین
کہتے ہیں نہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج کل لگتا ہے ہر دوسرا ڈرامہ ایک ڈرامہ ہے۔ سٹار پلس کی اقتداء میں سر بسجود ہیں تمام پاکستانی چینل۔ پی ٹی وی نے ایک پروگرام شروع کیا ہے رات گئے۔ خاصی رفتار سے مقبولیت پکڑ رہا ہے۔ اس میں ایک ادیب یا شاعر کے ساتھ ایک گلوکار ہوتا ہے روز نئی جوڑی (جلدی سب بھگت جائیں گے ) عمدہ جا رہا ہے اور تو اور میری چھوٹی بیٹی ( او لیول پارٹ ٹو) جو گاڑھی اردو سے پچھڑ گئی تھی وہ بھی آخر تک بیٹھی رہتی ہے۔
تصور خانم کو بڑے عرصے بعد دیکھا اور سنا ایک سماں بندھ گیا تھا۔
 

تیشہ

محفلین
ماوراء نے کہا:
~~
بالکل صحیح کہا۔۔۔کہ آج شام کو جو پروگرام لگا تھا۔ اس میں ایک صاحب جو آئے تھے وہ کل رات کے ڈرامے میں بھی تھے۔ اور ایک اور صاحب مختلف کردار میں دو بار آ چکے ہیں۔
~~


:p ماورہ کل جو لگا ہوا تھا وہ مالک مکان اور کرائے دار میاں بیوی کا تھا :p اُف اُف مالک مکان کا گھر خالی نیہں کر رہے تھے تین سال سے ،مالک مکان نے اسکی بیوی کو اتنا کچھ سنایا مگر پھر بھی وہ بہٹ ڈھیٹ بنے بیٹھے رہے تھے ، آخر میں نوبت لڑائی مارکٹائی کی آگئی تھی ،
 

ماوراء

محفلین
~~
ہاں باجو، کل میں نے تھوڑا سا ہی دیکھا تھا۔ اب میں زیادہ شوق سے نہیں دیکھتی کہ اب مزے کا نہیں لگتا۔ شروع شروع میں نے کافی شوق سے دیکھا تھا۔
~~
 
یار ایک وہ دور تھا کہ جب صرف ایک اکیلا پی ٹی وی سب پر بھاری تھا۔ اس کے ڈرامے جب چلتے تو گلیاں سنسان ہوجاتی تھیں۔ اب چینلز کی بھر مار ہے لیکن اچھا ڈرامہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہی حالت دوسرے پروگراموں کی ہے۔ آپ ماچس کی بات کررہے ہیں ۔ آپ نے کبھی پی ٹی وی سے چلنے والا ڈرامہ (اپنے ہوئے پرائے) نہیں دیکھا۔ اور دیکھنا بھی نہیں۔ اپنے ٹی وی اور ڈرامے کے نام سے آپ کو نفرت ہوجائے گی۔
اب تو تفریح کے نام کر تہذیب کو داو پر لگا دیا گیا ہے۔ نجانے کیا وجہ ہے کہ سیاست معیشت، فن، ادب، تہذیب، ہر حوالے سے ہم تنزل کا شکار ہیں۔
 

فرذوق احمد

محفلین
وہاب اعجاز خان نے کہا:
یار ایک وہ دور تھا کہ جب صرف ایک اکیلا پی ٹی وی سب پر بھاری تھا۔ اس کے ڈرامے جب چلتے تو گلیاں سنسان ہوجاتی تھیں۔ اب چینلز کی بھر مار ہے لیکن اچھا ڈرامہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہی حالت دوسرے پروگراموں کی ہے۔ آپ ماچس کی بات کررہے ہیں ۔ آپ نے کبھی پی ٹی وی سے چلنے والا ڈرامہ (اپنے ہوئے پرائے) نہیں دیکھا۔ اور دیکھنا بھی نہیں۔ اپنے ٹی وی اور ڈرامے کے نام سے آپ کو نفرت ہوجائے گی۔
اب تو تفریح کے نام کر تہذیب کو داو پر لگا دیا گیا ہے۔ نجانے کیا وجہ ہے کہ سیاست معیشت، فن، ادب، تہذیب، ہر حوالے سے ہم تنزل کا شکار ہیں۔


جہاں تک مجھے لگتا ہے کہ پی ٹی وی کے ڈرامے ابھی تک اچھے ہوتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہوا کہ یہ اپنے طریقے کار کو بھول گئے ہیں اور انڈیا کے ڈراموں طرز اپنا رہے ہیں یعنی کبھی سین کو گھما کر ادھر تو کبھی ادھر بیگ گراؤئنڈ میوزک کی آوازیں ہی عجیب کر دی ہے یہ چیزیں میں نے پہلی بار ڈرامے سسی میں دیکھی تھی جس کی کاسٹ میں نعمان اعجاز ،ارباز خان ۔۔محسن گیلانی شامل تھے اور ویلن کا کردار ایون کھوسہ نے ہی ادا کیا تھا ڈرامہ ویسے تو بہت اچھا تھا مگر کیونکہ اس ڈرامے انہوں نے انڈین طرز اپنا لیا تھا ۔دیکھنے میں تو عجیب نہیں لگتا تھا مگر ہمارے ڈرامے کی ایک اپنی ثقافت ہے جو کہ بہت اچھی ہے اسے ہٹانا نہیں چاہیے تھا اور سسی ڈرامے کے ڈارئکڑ تھے عثمان ذولفقار علی ۔
پی ٹی وی نے ڈرامے شروع سے ہی اچھے دیئے ہیں اور دے بھی رہا ہے
ابھی کچھ دن پہلے ایک ڈرامی ختم ہوا ہے ماسوری بہت اچھا ڈرامی تھا اور ایک ڈرامہ اور بھی تھا باتیں دل کی اس کے علاوہ ببی بہت سے ڈرامے ہیں
 

قیصرانی

لائبریرین
جی مگر اب ایوب کھوسو مرحوم ہو چکے ہیں۔ چونکہ وہ میرے بہت ہی دور کے رشتہ دار ہیں، اس لئے علم تھا۔
بےبی ہاتھی
 
Top