1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

مانتا ہوں کسی کو نہ بھایا ہوں میں ۔۔۔ برائے اصلاح

شاہد شاہنواز نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 9, 2019

  1. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,802
    جھنڈا:
    Pakistan
    مانتا ہوں کسی کو نہ بھایا ہوں میں
    تیری چشمِ حسیں میں سمایا ہوں میں

    دو گھڑی تجھ سے مل کے چلا جاؤں گا
    دل کی اک بات کہنے کو آیا ہوں میں

    راستہ تو مرے گھر کو جانے کا تھا
    تیرے در تک اسے کھینچ لایا ہوں میں

    میں دکھی ہو گیا دیکھ کر تیرے غم
    تو جو ہنسنے لگا، مسکرایا ہوں میں

    دل بڑا ہے مگر ہاتھ خالی سے ہیں
    مثلِ ابرِ رواں سب پہ چھایا ہوں میں

    سامنے ہوں مگر تو نہیں دیکھتا
    آدمی ہوں، دھواں ہوں کہ سایہ ہوں میں

    مجھ کو تکلیف دیتی ہے اک بات بس
    آج اپنوں میں شاہدؔ پرایا ہوں میں

    برائے توجہ محترم
    الف عین
    فلسفی
     
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بھائی پیشگی معذرت کے ساتھ چند گذارشات ہیں۔ آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی استاد محترم کی رائے کا منتظر رہوں گا۔

    مطلع دو لخت محسوس ہورہا ہے۔ ردیف میں "ہوں" کا محض "ہُ" تقطیع ہونا ۔۔۔ شاید اچھا نہیں۔

    دوسرا مصرعے میں روانی متاثر ہے۔ الفاظ بدل کے دیکھیے۔

    پہلے مصرعے میں "تو" دو حرفی فصیح نہیں لگتا۔ شاید تنافر کی کیفیت بھی ہے۔ الفاظ بدل کر دیکھیے۔

    "تیرا غم دیکھ کر میں دکھی ہو گیا" --- شاید زیادہ رواں ہے۔ یا "تیرے غم نے مجھے غم زدہ کر دیا"
    اسی طرح "تُو جو خوش ہے تو اب مسکرایا ہوں میں" یا "تیرے ہنسنے پر اب مسکرایا ہوں میں"
    "خالی سے ہیں" سمجھ نہیں آیا۔ دوسرے مصرعے سے ربط بھی سمجھ نہیں آیا۔
    بہت خوب۔
    ٹھیک۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,464
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ردیف قابل قبول ہے، میں کیونکہ طویل کھنچ رہا ہے اس لیے ہُ کا سقم چھپ جاتا ہے
    دو گھڑی تجھ سے مل کے چلا جاؤں گا
    دل کی اک بات کہنے کو آیا ہوں میں
    ... تجھ سے مل کر... بہتر ہے

    راستہ تو مرے گھر کو جانے کا تھا
    ... . تنافر دور کیا جا سکتا ہے
    راہ تو جانے والی تھی یہ میرے گھر
    یا اس طرح کا

    دل بڑا ہے مگر ہاتھ خالی سے ہیں
    'سے' واقعی اچھا نہیں
    دل بڑا ہے مگر ہاتھ خالی مرے
    کر دو

    میں دکھی ہو گیا دیکھ کر تیرے غم
    تو جو ہنسنے لگا، مسکرایا ہوں میں
    ... تیرے غم دیکھ کر
    رواں ہو گا، باقی میرے خیال میں درست ہے
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    فلسفی بھائی، معائبِ سخن کی اصطلاحات سے بالکل ناواقف ہوں۔ اس لیے ایک طالب علمانہ سوال ہے کہ یہاں "تنافر" سے کیا مراد ہے؟ تھوڑی سی وضاحت فرمائیں تو نوازش ہو گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بھیا کیوں مذاق کر رہے ہو، آپ تو کلاس میں مجھ سے سینئر ہو، خیر جو استادوں سے سنا اور سمجھا اس کے حساب سے اس مصرعے میں "ت" آپس میں ٹکرا رہا ہے

    "راستہ تو" میں تنافر محسوس ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  6. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    عیبِ تنافر دیکھنے کے لیے میں اب تک صرف املاء پر ہی غور کرتا تھا۔
    یہاں یہ الجھن اس لیے پیدا ہوئی کہ "راستہ" فاعلن تقطیع ہو رہا ہے اور 'راستہ' اور 'تو' دونوں کی 'ت' کے درمیان 'ہ' وارد ہو رہا ہے۔
    ایسی صورت میں بھی کیا اسے تنافر ہی شمار کیا جائے گا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,074
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    تنافر کا عیب بنیادی طور پر زبان میں (در اصل شعر میں ) نطق یعنی الفاظ کی صوتی ادائیگی میں حائل ہونے والے ثقالت کے تاثر پر منحصر ہو تا ہے ۔ یہ نہ صرف ایک ہی حروف کی متواتر تکرار پر لاگو ہوتا ہے بلکہ ان مشابہ حروف پر بھی لاگو ہوتا ہے جو نطق میں مشابہ ہو تے ہیں مثلاََ ح اور ہ یا س اور ز یا پھر ظ ض وغیرہ ۔ ان حروف کو قریب المخرج کہا جاتا ہے ۔ (قرآنی تجوید میں بھی ان کے بولنے میں خاص قواعد (الفاظ کے حصوں کو مدغم کرنا ) جو بہترین انداز سے پڑھنے میں استعمال ہوتے ہیں ) ۔
    مذکورہ مثال میں تنافر محض اس وقت ہو سکتا تھا جب آپ کو بحر پابندی میں راستہ کی ہ کو سپریس کرنا پڑتا۔
    میری ذاتی رائے یہ ہے کہ شعر میں بعض حالات میں ایک ہی حرف کی مسلسل تکرار (یعنی تنافر کا بظاہر وقوع ) ہوتے ہوئے بھی یہ عیب نہیں ہوتا کیوں کہ اس لفظ کو صوتی ادائیگی میں ادغام کے تحت مشدد کر کے پڑھنے میں بحر کی اصلی و حقیقی روانی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 3
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,570
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    تکنیکی لحاظ سے بلاشبہ آپ حضرات مجھ سے بہتر جانتے ہیں۔ میں تو ایک عام قاری کی حیثیت سے یہ سمجھتا ہوں کہ "راستہ تو" میں "تہ تو" پڑھنے اور بولنے کے لحاظ سے کچھ عجیب معلوم ہوتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت شکریہ عاطف بھائی!
    یہ بہت دلچسپ بات بتائی!
    اس کی کوئی مثال اگر فوری میسر ہو تو عنایت فرمائیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  10. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,074
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    فأردت أن أعيبها
    خضر علیہ السلام نے کہا کہ " میں نے ارادہ کیا کہ اس کو خراب کردوں" (کہف)
    أردت ۔ یہاں دیکھیئے ارد ت میں ت ضمیر کے لیے ہے ۔ دال اور تے دونوں قریب المخرج حروف ہیں ان کا مخرج زبان کی نوک اور اوپر والے دو دانت ( ثنایا علیا) ہیں ۔
    اب اس کی قراءت پر آئیں تو اس کو حقیققت میں اَرَتُّ پڑھا جاتا ہے یعنی دال کو نظر اندا ز کر کے ت کو مشدد کر دیا جاتا ہے یہ قرائت میں عام ہے اور ایسی اور بہت مثالیں ملیں گی ۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 10, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  11. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    5,447
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت شکریہ!
    آپ نے توجہ دلائی تو بہت سے مقامات اب ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,074
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    اسے یوں آسانی سے بیان کر سکتے ہیں کہ اگر کسی ساکن حرف کے بعد اس حرف کا کوئی قریب المخرج حرف آجائے (یا وہ حرف خود آجائے ) تو ساکن کو حذف کر کے متحرک کو مشدد کر کے پڑھ لیا جاتا ہے۔
    اگر آپ نون ساکن اور تنوین (دو زبر وغیرہ) کے قاعدے دیکھیں تو آپ کو بے شمار جگہ نون بالکل غائب ہوتا اور ساتھ ہی لام اور ر مشدد ہوتا نظر آئے گا۔
    آپ دیکھیں کہ نون اور لام و رے کا مخرج بھی ایک ہی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  13. شاہد شاہنواز

    شاہد شاہنواز لائبریرین

    مراسلے:
    1,802
    جھنڈا:
    Pakistan
    اب تک جو صورت سمجھ میں آئی ہے ۔۔۔ وہ یہ ہے ۔۔۔

    مانتا ہوں کسی کو نہ بھایا ہوں میں
    تیری چشمِ حسیں میں سمایا ہوں میں

    دو گھڑی تجھ سے مل کر چلا جاؤں گا
    دل کی اک بات کہنے کو آیا ہوں میں

    راہ تو جانے والی تھی یہ میرے گھر
    تیرے در تک اسے کھینچ لایا ہوں میں

    میں دکھی ہو گیا تیرے غم دیکھ کر
    تو جو ہنسنے لگا، مسکرایا ہوں میں

    دل بڑا ہے مگر ہاتھ خالی مرے
    مثلِ ابرِ رواں سب پہ چھایا ہوں میں

    سامنے ہوں مگر تو نہیں دیکھتا
    آدمی ہوں، دھواں ہوں کہ سایہ ہوں میں

    مجھ کو تکلیف دیتی ہے اک بات بس
    آج اپنوں میں شاہدؔ پرایا ہوں میں

    یہاں برادرم فلسفی کے مطابق مطلع ابھی تک دو لخت ہی ہے ۔۔۔ کچھ وقت کے بعد دوبارہ اس پر غور کرتا ہوں کہ کیا کیا جاسکتا ہے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر