مائے نی میں کنوں آکھاں

نور وجدان

لائبریرین
معافی چاہتی ہوں میں آپ کے اختلاف کی نوعیت کو صحیح طرح سے سمجھ نہیں پائی ۔ آپ نے جو مثالیں بیان کیں ھیں ان کا تعلق تو سماجی رویوں اور نفسیاتی عوامل سے ہے ۔" to be or not to be " کی کشمکش میں تجربے کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اس میں قوت ارادی اور مشاہدے کا بھی عمل دخل ہوتا ہے ۔
دیوانگی میں فرزانگی دو طرح سے ہی ممکن ہے ، ایک تو اصل پاگل پن کی حالت میں کسی کار نمایاں کا سرزد هو جانا ،مگر یہ "chance and coincidence" کا نتیجہ ہی هو سکتا ہے ۔اس میں کوئی شخصی کمال نہیں ہوتا ۔اور دوسری قسم کے وہ لوگ جو حقیقی طور پر دیوانے نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کا مخصوص طبقہ اپنے محدود علم اور تعصب کی بنا پر ان کے مطلق اپنی رائے قائم کر لیتا ہے، جیسے کفار، نبی صلعم کو بھی شاعر اور دیوانہ کہتے تھے ۔

علم کی مثال ایسی ہے جیسے انسان نے سمندر میں غوطہ لگادیا اور سمت لگے ڈھونڈنے ۔۔۔۔ سمت کس طرح کیسے مل سکتی ان لوگوں کو ؟ اصل مسئلہ یہی ہے جو کشمکش کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ دنیا میں پیدا ہونے والے جینئس انسان یا تو مذہبی تھے ، یا دہریے ، یا سائنس دان ۔ اگر ہم دہریوں یا سائنس دانوں کی زندگیوں یا ادباء جن میں تخلیقی صلاحیتیں تھیں ۔۔۔جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے مذہبیوں یا صوفیوں(عاشق یا دیوانے ) کے علاوہ سارے سائیکی تھے ، اکثر خودکشی کرکے مرگئے ۔۔۔۔۔۔شیکسپئر ، شیلے ، ورجینیا وولف ،مائیکل انجیلو ،لارڈ بائرن ، آئن سٹائن ، جان ناش ۔۔۔۔۔۔مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ان سب کو
schizophrenia and bipolar disorder کا مسئلہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اکثر خود کشی کرتے مرگئے ۔۔۔۔۔۔۔اب جب مذہب کی جانب جائیں تو جناب حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم سے تمام اولیاء کرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب انتہائی جینئس تھے ۔ جس کو سائنس سپیرئیر جینئس کہتی ہے ۔۔۔۔ایسے لوگوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لیا اور حقیقت پالی ۔۔۔۔جو اپنی حقیقت پا نہیں سکے وہ مذہب کے خلاف ہوگئے ۔۔۔۔۔۔ان میں کئی انقلابیے بھی تھے جیسے مارکس ۔۔۔۔۔۔سب کے سب الکوحل پینے کے عادی تھے کیونکہ ان کو سکون حاصل نہیں تھا اس کی وجہ ان کا اضطراب ، تیز سوچ ، جستجو ، کچھ کرنے کا جنون ۔۔۔۔۔۔۔اگر سمت متعین کرلیں تو انقلابیے ، سائنس دان ، تخلیق کار بن جاتے ہیں مگر چونکہ حقیقت سے جو کہ اللہ ہے سے جڑ نہیں پاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے خود کشی کی جانب رحجانات پائے جاتے ہیں ۔۔ سبپرئر جنیئس والے لوگ ہر وقت بے چین ہوتے ، ان کو ہیلوسی نیشن کے دورے بھی پڑتے ہیں جیسا کہ جان ناش پر ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی لوگ اپنی دیوانگی اعلی سائنسی کام کر گئے جس کی بدولت آج بھی ان کا نام روشن ہے ۔۔۔۔۔۔۔اگر ان کو اپنے ہونے ، یا علم پر یقین نہیں ہوتا تو کچھ ایجاد نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔زمانے کی سوچ پر نہیں ، اپنی سوچ سے اس چیز پر غور کرتے جس کو زمانہ اگنور کرتا ہے اور یہ باتیں فضول لگیں تو یہ لنکس ہیں ۔ یہاں دیکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔البتہ اولیاء کرام میں سے آج تک کسی نے خود کشی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔۔یہ ماننا پڑے گا یہ خود میں علم کا سمندر رکھتے تھے اور یقین بھی رکھتے تھے چاہے سائنس دان ہو ، ولی ہو یا تخلیق کار ۔۔۔۔۔اس لیے اقبال کے بعد اقبال اور غالب کے بعد غالب پیدا نہیں ہوا ۔۔۔۔اس لیے بل گیٹس پڑھ نہ سکا مگر آج وہ اسناد تقسیم کرتا ہے

مذہب جس کو عشق کہتا ہے ۔۔۔۔۔سائنس اس کو جنون کہتی ہے کہ ایک ہی چیز میں اتنا کھو جاؤ کہ وہ چیز حاصل ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس میں ہی انسان کو سپر نیچرل ایلیمینٹس کا سامنا ہوتا ہے جیسا کہ جان ناش کہتا ہے اس نے تمام حسابی اصول انہی سپر نیچرل ازمپشنز کی بدولت بنائے ۔۔۔۔۔

یقین کی طاقت اتنی ہے کہ اسٹیفن ہاکس جس کا سارا جسم مفلو ج ہے اپنی آنکھوں سے میز پر پڑے گلاس کو گرادیا ۔۔۔۔۔۔اسٹیفین کو کس طرح یقین آیا کہ اس کی بینائی یہ کام کرسکتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ بھی یقینا علم سے آیا۔۔۔۔۔علم اور یقین کا بہت گہرا تعلق ہے

http://nautil.us/issue/18/genius/if-you-think-youre-a-genius-youre-crazy

http://www.cracked.com/article_16559_7-eccentric-geniuses-who-were-clearly-just-insane.html
 
آخری تدوین:
اس بات کا اطلاق حسین بن منصور حلاج پر تو نہیں ہوتا نا؟ غالب حلاج کو جتنا چاہیں "تُنک ظرف" بول لیں، تصوف کے فریم ورک میں رہتے ہوئے حلاج کو تو عرفان مل گیا تھا، اور حلاج بے باک بھی ہو گئے تھے-
کیا حلاج کو ایک عالم قرار دیا جا سکتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اپنی نوعیت میں کم و بیش ایسی ہی ہے جیسا سعدیہ بی بی نے ہیملٹ کے جنون کو یقین جیسی عظیم قوت پر قیاس کر لیا ہے۔
عرفان رسالت مآبﷺ سے بڑھ کر کسے حاصل ہو سکتا ہے؟ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے کون سبقت لے جا سکتا ہے؟ انھوں نے کبھی حلاج کے سے دعاویٰ نہیں فرمائے۔ ان کی زندگیوں میں بے باکی کی بجائے حد درجہ خشیت اور تقویٰ نظر کیوں آتا ہے؟ اس سے حلاج کی ہتک مقصود نہیں بلکہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حلاج جیسے لوگ عالم یا متعلم نہیں بلکہ تجلی کے ڈسے ہوئے دیوانے ہیں جن کی باتوں میں مشاہدے کی صداقت ضرور ہے مگر اتنی ہی جتنی شطحیات میں ہو سکتی ہے۔ جنابِ حلاج کی بے باکی میں شاید علم سے زیادہ جذبے کی کار فرمائی ہے۔ واللہ اعلم۔
صائمہ شاہ اور نور سعدیہ شیخ کی طرح مجھے بھی یہ بات problematic assertion لگتی ہے، کیونکہ علم (یا زیادہ علم) قوتِ عمل سے محروم کیوں کرے گا- مجھے تو لگتا ہے کی بے عملی کی وجوہات کچھ اور ہوتی ہوں گی- ضروری تو نہیں کہ ہمتوں کی پستی کی وجہ شوق کی بلندی ہو۔
میں مضمون میں رومی اور رسل کی رائے اس ادعا کے حق میں بیان کر چکا ہوں۔ اب تین راہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ کہ حوالوں کا ایک دفتر تیار کیا جائے یا پھر یہ کہ منطقی طور پر اس خیال کا دفاع ہو۔ تیسری راہ یہ ہے کہ منطق اور حوالے دونوں کام میں لائے جائیں۔ میں تیسری راہ کو ترجیح دیتے ہوئے مختصراً ایک مقدمہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
اس بات میں تو آپ کو بھی شک نہ ہو گا کہ تذبذب بدیہی طور پر قوتِ عمل کا قاتل ہے۔ اب اگر کوئی عالم قوتِ عمل سے متصف ہے تو اس پر لازم آئے گا کہ وہ تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اور تذبذب سے بچنے کے لیے عالم کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ اس کا علم یقینی ہو۔ ٹھیک؟
علم کی غیر یقینیت کے بارے میں گو کسی کو بھی کوئی شبہ عصرِ حاضر میں نہیں ہو سکتا مگر میں دو حوالے پیش کرتا ہوں۔

تم نہیں جان سکتے کہ تمھارے لیے سب سے زیادہ نفع کے قریب چیز کیا ہے۔
قرآن (النساء-۱۱)


As far as the laws of mathematics refer to reality, they are not certain; and as far as they are certain, they do not refer to reality.
Albert Einstein
(Geometry and Experience)

واضح رہے کہ آئن سٹائن کا یہ ارشاد اس علم کے بارے میں ہے جس کی کارفرمائی کے بغیر کوئی سائنس سائنس کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر علم ہے ہی غیر یقینی تو عالم تذبذب سے دامن کیونکر چھڑائے گا؟ اور اگر تذبذب کا شکار رہا تو قوتِ عمل کا حامل کیونکر ہو سکے گا؟
دوسری بات: علم کی زیادتی کیا ہوتی ہے؟ مجھے تو اقبال کا یہ شعر بہت معنی خیز لگتا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آپ بات کر رہے ہیں علم کی اور مثال دے رہے ہیں عشق سے۔ دونوں کا فرق اقبالؒ ہی کی زبانی سنیے:

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن
بندہُ تخمین و ظن! کرمِ کتابی نہ بن

عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب

عشق کی گرمی سے ہے معرکہُ کائنات
علم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات

علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب

عشق کے ہیں معجزات، سلطنت و فقر و دیں
عشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں
عشق مکان و مکیں! عشق زمان و زمیں

عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!

شرعِ محبت میں ہے عشرتِ منزل حرام
شورشِ طوفاں حلال، لذتِ ساحل حرام
عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام

علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب
 

La Alma

لائبریرین
میں تو یہ اصرار کروں گا کہ "اگر" بعید از قیاس نہیں ہے- جو absolute reality ایک موحد کے لئے ہے، وہ لااردی کے لئے نہیں ہے- کچھ لوگوں کے لئے nihilism بھی تو ایک tenable position ہوتی ہے- ان سب باتوں کے باوجود یہ ضروری تو نہیں کہ تشکیک، لااردیت، یا الحاد کا نتیجہ عدم تحریک ہی میں نکلے-
شعوری سطح پر " اگر " واقعی بعید از قیاس نہیں ۔ انسان کسی بھی تھیوری ، نظریے یا عقیدے کا حامی هو سکتا ہے ۔میرا مطمع نظر یہ ہے کہ انسان کی فطرت یا اس کا " Genetic Make Up " ہی اسے عدم تحریک کی اجازت نہیں دیں گے ۔مطلق حقیقت کا ادراک کہیں نا کہیں ہمارے جنیاتی نظام میں ہی موجود ہے۔
 

نور وجدان

لائبریرین
کیا حلاج کو ایک عالم قرار دیا جا سکتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اپنی نوعیت میں کم و بیش ایسی ہی ہے جیسا سعدیہ بی بی نے ہیملٹ کے جنون کو یقین جیسی عظیم قوت پر قیاس کر لیا ہے۔
عرفان رسالت مآبﷺ سے بڑھ کر کسے حاصل ہو سکتا ہے؟ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے کون سبقت لے جا سکتا ہے؟ انھوں نے کبھی حلاج کے سے دعاویٰ نہیں فرمائے۔ ان کی زندگیوں میں بے باکی کی بجائے حد درجہ خشیت اور تقویٰ نظر کیوں آتا ہے؟ اس سے حلاج کی ہتک مقصود نہیں بلکہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حلاج جیسے لوگ عالم یا متعلم نہیں بلکہ تجلی کے ڈسے ہوئے دیوانے ہیں جن کی باتوں میں مشاہدے کی صداقت ضرور ہے مگر اتنی ہی جتنی شطحیات میں ہو سکتی ہے۔ جنابِ حلاج کی بے باکی میں شاید علم سے زیادہ جذبے کی کار فرمائی ہے۔ واللہ اعلم۔

میں مضمون میں رومی اور رسل کی رائے اس ادعا کے حق میں بیان کر چکا ہوں۔ اب تین راہیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو یہ کہ حوالوں کا ایک دفتر تیار کیا جائے یا پھر یہ کہ منطقی طور پر اس خیال کا دفاع ہو۔ تیسری راہ یہ ہے کہ منطق اور حوالے دونوں کام میں لائے جائیں۔ میں تیسری راہ کو ترجیح دیتے ہوئے مختصراً ایک مقدمہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
اس بات میں تو آپ کو بھی شک نہ ہو گا کہ تذبذب بدیہی طور پر قوتِ عمل کا قاتل ہے۔ اب اگر کوئی عالم قوتِ عمل سے متصف ہے تو اس پر لازم آئے گا کہ وہ تذبذب کا شکار نہ ہو۔ اور تذبذب سے بچنے کے لیے عالم کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ اس کا علم یقینی ہو۔ ٹھیک؟
علم کی غیر یقینیت کے بارے میں گو کسی کو بھی کوئی شبہ عصرِ حاضر میں نہیں ہو سکتا مگر میں دو حوالے پیش کرتا ہوں۔

تم نہیں جان سکتے کہ تمھارے لیے سب سے زیادہ نفع کے قریب چیز کیا ہے۔
قرآن (النساء-۱۱)


As far as the laws of mathematics refer to reality, they are not certain; and as far as they are certain, they do not refer to reality.
Albert Einstein
(Geometry and Experience)

واضح رہے کہ آئن سٹائن کا یہ ارشاد اس علم کے بارے میں ہے جس کی کارفرمائی کے بغیر کوئی سائنس سائنس کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر علم ہے ہی غیر یقینی تو عالم تذبذب سے دامن کیونکر چھڑائے گا؟ اور اگر تذبذب کا شکار رہا تو قوتِ عمل کا حامل کیونکر ہو سکے گا؟

آپ بات کر رہے ہیں علم کی اور مثال دے رہے ہیں عشق سے۔ دونوں کا فرق اقبالؒ ہی کی زبانی سنیے:

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن
بندہُ تخمین و ظن! کرمِ کتابی نہ بن

عشق سراپا حضور، علم سراپا حجاب

عشق کی گرمی سے ہے معرکہُ کائنات
علم مقامِ صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات

علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب

عشق کے ہیں معجزات، سلطنت و فقر و دیں
عشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں
عشق مکان و مکیں! عشق زمان و زمیں

عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!

شرعِ محبت میں ہے عشرتِ منزل حرام
شورشِ طوفاں حلال، لذتِ ساحل حرام
عشق پہ بجلی حلال، عشق پہ حاصل حرام

علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب

راحیل صاحب ۔۔آپ کی بات تو طالب سحر سے چل رہی ہے مگر کچھ میں واضح کرنا چاہتی ہوں ۔

آپ نے پہلے کہا ہے حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم نے کسی کتاب سے علم حاصل کیا ؟ مگر کیا وجہ ان کا علم کسی بھی تردد ، تذبذب سے پاک اور قوی ارادے کا مالک تھا ؟ آپ کا تعلق حقیقت سے تھا اور اس حقیقت نے آپ پر راز منکشف کیے مگر حقیقت کے پیچھے بھاگے یا نہیں ، حقیقت کی جستجو کی یا نہیں ؟ غار حرا میں قیام اسی بدولت تھا کہ آپ صلی علیہ والہ وسلم چالیس سال کی عمر سے پہلے کیا علم رکھتے تھے اور چالیس سال کے بعد سے کیا علم رکھتے تھے ؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی انقلاب آیا ہے اس میں خون خرابا ہوا ہے ، لوگ مارے گئے ، گھر تباہ ہوئے اور پھر کچھ عرصے بعد انقلاب اپنی موت آپ مر گیا ۔۔۔۔۔۔حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم اسلامی انقلاب لے کے آئے جس میں خونریزی نہیں تھی بلکہ آپ صلی علیہ والہ وسلم کا بے انتہا علم اور یقین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس انقلاب کی وجہ بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین کو میں عشق سے تعبیر کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک سوال نہ ہوں ،جستجو نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جستجو میں محو نہ ہو تو کچھ ملتا نہیں یعنی کہ آپ کو جذب میں جانا پڑتا ہے جب آپ حال میں ہوتے ہیں تو آپ کو باطنی علم ملتا ہے جس پر انسان بے انتہا یقین رکھتا ہے کیونکہ یہ علم اللہ کی جانب سے دیا گیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم پر وحی اترنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی جانب سے نوازش تھی کہ آپ نے اللہ کی جستجو کی ، اللہ نے علم کی دولت سے نواز دیا ۔۔۔۔۔

آپ کی بات منصور حسین حلاج کی مثال دی گئی جس کو رد کردیا گیا تو کیا بایزید بسطامی نے خود کو سبحانی کہا یا اس سے بڑھ کے دعوی کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
پہلی تاریخی حقیقت ، پہلا امر ِ واقعہ تو یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عام اور مشہور روایات اور داستانوں کے برخلاف ۔۔۔ حلاج کو محض اس بات پر دار پر نہیں لٹکایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے آپ کو ''انا الحق '' کہا تھا حلاج سے پہلے بایزید کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے ۔ بایزید نے '' حالتِ سکر'' میں کیا کہا نہیں کیا ۔ سبحان اللہ کے بجائے ''سبحانی '' اور اس سے بڑھ کر طواف ِ کعبہ کے بجائے اپنے گرد طواف کی ترغیب دی اور یہ نعرہ کہ۔۔​

کعبہ را ایک بار ، ''بیتی''گفت باد۔
گفت ''یا عبدی'' مرا ہفتاد باد​

لنک

آئن سٹائن کے مطابق ہر چیز ریلیٹو ہے ، اس کا مطلب کوئی چیز ابسولوٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ری لیٹی وٹی کی تھیوری کبھی بھی پیش نہ کی جاتی اگر کچھ ''یقینی'' نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔'' اللہ'' ایک ''حقیقت ''ہے جو ''یقینی'' ہے تو باقی ''علم ''اللہ سے جڑا'' ری لیٹو'' ہے کہ ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اس کو ڈھالتا ہے دلائل دیتا ہے ، مفروضے بناتا ہے ۔۔۔۔۔۔

حساب کے بارے آئن سٹائن نے کیوں کہا کہ یہ غیر یقینی ہے کیونکہ یہ وجدان پر مشتمل علم ہے ۔۔۔۔وجدان وہی علم جس کی بنا پر سیب کے گرنے سے کشش ثقل کا قانون بنایا گیا ہے ۔۔۔۔۔اگر کہا جائے دنیا میں سب سے بڑا علم ہی وجدانی ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا کہ میرے سامنے آنحضرت صلی علیہ والہ وسلم کو دیا گیا علم اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ یہ وجدانی علم ہے ۔۔۔۔۔مزید براں اگر اتنا غیر یقینی ہوتا تو آج تک عمارتیں نہ بن پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وجدانی علم کو دلیل کی مدد سے قانون بنا دیا جاتا دیگر سائنس کی شاخوں کی طرح مفروضے کا تجربہ نہیں کیا جاتا آیا کہ یہ غلط ہے یہ درست مگر حیرت کی بات ہے کہ یہ وجدانی علم ہی مابعد تجربات کے انقلابات لا رہا ہے
The question whether the practical geometry of the universe is Euclidean or not has a clear meaning, and its answer can only be furnished by experience. All linear measurement in physics is practical geometry in this sense, so too is geodetic and astronomical linear measurement, if we call to our help the law of experience that light is propagated in a straight line, and indeed in a straight line in the sense of practical geometry.
http://www-groups.dcs.st-and.ac.uk/history/Extras/Einstein_geometry.html

آئن سٹائن نے یہی کہا کہ یہ خدائی یا وجدانی علم ہے جس کا تجربہ نہیں کیا جاتا ہے مگر اس کو مکمل کسی تجربے سے کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی مثال ایک واضح یقین سے دی گئی کہ روشنی سیدھی لائن پر چلتی ہے تو واقعی ہی ایسا ہے اور اسی کی بنیاد پر جیومیٹری ہے۔۔۔۔

اقبال کی شاعری کا سوال ہے ۔۔۔۔۔۔۔اقبال نے کتابی علم کی بات کی ہے ۔۔۔۔۔۔جس کو بابا بلھے شاہ نے بھی کہا

ع:علموں بس کروں اور یار۔۔۔۔
ع:بندہُ تخمین و ظن! کرمِ کتابی نہ بن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی بندے کا علم یا کتابی علم تشکیک میں مبتلا کرتا ہے ۔ جو علم اللہ کی جانب سے وجدان کو ملتا ہے وہ غیر یقینی نہیں ہوتا

علم نے مجھ سے کہا عشق ہے دیوانہ پن
عشق نے مجھ سے کہا علم ہے تخمین و ظن
بندہُ تخمین و ظن! کرمِ کتابی نہ بن
ع:علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب
ع:علم ہے ابن الکتاب، عشق ہے ام الکتاب​


شروع کے اشعار میں کتابی علم کی بات کی ہے اور بعد میں علم اور عشق کا مقابلہ کرکے بتایا ہے کیا وجہ دونوں کا مقابلہ کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان اشعار کا ساختیاتی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا عشق اور علم کا مقابلہ بحثیت کتابی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف علم سوال کی طرف راغب کرتا ہے تو عشق جانب جواب ملتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ علم کے سوالوں کی کتاب مرتب ہو جائے تو عشق سوالات کے جامع کتاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔بات وہی ہوئی رومی نے کتاب خانہ جلا دیا مگر کیا عالم نہ ٹھہرے ِ؟ بے عمل ہوگئے ِ یا مزید یقین کی جانب چل پڑے ؟ اصل میں انسان کا وجدانی علم ہی سب کچھ ہے ، یہی وہ علم ہے جس کے متعلق سائنس کہتی ہے کہ انسان اپنے دماغ کا پانچ فیصد استعمال کرتا ہے باقی جو دماغ ہے وہ شعور سے زیادہ لا شعور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو بندہ شعوری علم پر یقین رکھتا ہے وہ متذبذب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔اس لیے اقبال کے شروع کے دو اشعار تخمین و ظن کی طرف اشارہ کر رہے مگر بعد میں علم کو ابن الکتاب تو عشق کو ام الکتاب کہا گیا جس سے صاف ظاہر ہے عشق ، محو ہونا ، جذب ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کے لا شعور کو بیدار کر دیتا ہے اور تب اس کے پاس جو سوالات ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا جذب ، اس کا عشق ان کے جوابات باطن سے فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہی انسان کی فطرت ہے جس نے انوکھے انسان بنائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن کا ذکر میں نے بل گیٹس ، عرفہ کریم ، اسٹیفن ، آئن سٹائن ، نیوٹن ، یا بہت سے کی صورت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کے اندر ہی اتنا کچھ ہے اس کو کتاب کی حاجت نہیں ہے ۔۔۔۔انسانی فطرت علم لے کے پیدا ہوئی ہے یعنی یقین لے کے پیدا ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ تو انسان کی جوانی یعنی کہ شعور ہے جو اس کو متذبدب کرتی ہے

سوال یہ ہے کہ علم سوال نہیں دے گا تو عشق جواب کیسے دے گا؟
سوال در سوال پیدا نہیں ہوگا تو جوابات کی صورت علم کا خزانہ کیسے ملے گا ؟

اقبال نے تو علم کی تائید کی ہے مگر کتابی یا شعوری نہیں ۔۔۔۔علم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین یا عشق کا آپس میں گہرا تعلق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی جذب ، عشق عرفان ذات کی طرف لے جاتا ہے
 
آخری تدوین:

صائمہ شاہ

محفلین
شعوری سطح پر " اگر " واقعی بعید از قیاس نہیں ۔ انسان کسی بھی تھیوری ، نظریے یا عقیدے کا حامی هو سکتا ہے ۔میرا مطمع نظر یہ ہے کہ انسان کی فطرت یا اس کا " Genetic Make Up " ہی اسے عدم تحریک کی اجازت نہیں دیں گے ۔مطلق حقیقت کا ادراک کہیں نا کہیں ہمارے جنیاتی نظام میں ہی موجود ہے۔
اس کی مزید وضاحت کیجیے کہ جینیٹک میک اپ کس طرح اجازت نہیں دیتا
 

طالب سحر

محفلین
اگر انسان کو خدا کا حقیقی عرفان کسی قدر نصیب ہو جائے تو وہ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں اتنا بے باک اور نڈر ہرگز نہیں ہو سکتا جتنا مجھ جیسا کوئی جاہل ہوتا ہے۔

اس بات کا اطلاق حسین بن منصور حلاج پر تو نہیں ہوتا نا؟ غالب حلاج کو جتنا چاہیں "تُنک ظرف" بول لیں، تصوف کے فریم ورک میں رہتے ہوئے حلاج کو تو عرفان مل گیا تھا، اور حلاج بے باک بھی ہو گئے تھے-

کیا حلاج کو ایک عالم قرار دیا جا سکتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات اپنی نوعیت میں کم و بیش ایسی ہی ہے جیسا سعدیہ بی بی نے ہیملٹ کے جنون کو یقین جیسی عظیم قوت پر قیاس کر لیا ہے۔
عرفان رسالت مآبﷺ سے بڑھ کر کسے حاصل ہو سکتا ہے؟ دیگر انبیائے کرام علیہم السلام سے کون سبقت لے جا سکتا ہے؟ انھوں نے کبھی حلاج کے سے دعاویٰ نہیں فرمائے۔ ان کی زندگیوں میں بے باکی کی بجائے حد درجہ خشیت اور تقویٰ نظر کیوں آتا ہے؟ اس سے حلاج کی ہتک مقصود نہیں بلکہ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حلاج جیسے لوگ عالم یا متعلم نہیں بلکہ تجلی کے ڈسے ہوئے دیوانے ہیں جن کی باتوں میں مشاہدے کی صداقت ضرور ہے مگر اتنی ہی جتنی شطحیات میں ہو سکتی ہے۔ جنابِ حلاج کی بے باکی میں شاید علم سے زیادہ جذبے کی کار فرمائی ہے۔ واللہ اعلم۔

بات تو شروع ہوئی تھی انسان کو خدا کے حقیقی عرفان حاصل ہونے سے- میری نظر میں، تصوف کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے، حلاج کو عرفان حاصل ہوگیا تھا- آپ کا یہ سوال کہ حلاج کو عالم قرار دیا جاسکتا ہے کہ نہیں، مجھے گفتگو کے اس حصے میں تھوڑا سا غیر ضروری لگ رہا ہے کیونکہ اب ہم نئے qualifiers کی جانب جا رہے ہیں- بہر حال، مختصراً جواب یہ ہے کہ:

اول: آج کے مروجہ معنوں میں حلاج یقیناً عالم تھے- باقاعدہ طالبِ علم اور استاد رہے؛ اور اپنے خیالات کو خود بھی ضبطِ تحریر کیا، اور ان کے مقلدین نے بھی-

دوم: چلیں آپ کی نظر میں وہ عالم نہیں تھے- عارف تو تھے نا؟ بقول یگانہ: "اس سے کیا کسر شان میں آئی"

سوم: خدا کا حقیقی عرفان حاصل کرنے کا کوئی ایک نسخہ تو ہے نہیں- غور و فکر، علم، تجلی، وجدان، وحی -- کسی بھی راستے سے حاصل ہو سکتا ہے-

چہارم: بھائی، یہ کوئی سو یا پانچ سو میٹر دوڑنے کا مقابلہ تو ہے نہیں کہ مختلف لوگوں کو جو عرفان حاصل ہوا ہے، اس کی درجہ بندی کی جائے- سچ یا حقیقت لوگوں پر الگ الگ طرح سے ظاہر ہوسکتا ہے-
 
بات تو شروع ہوئی تھی انسان کو خدا کے حقیقی عرفان حاصل ہونے سے- میری نظر میں، تصوف کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے، حلاج کو عرفان حاصل ہوگیا تھا- آپ کا یہ سوال کہ حلاج کو عالم قرار دیا جاسکتا ہے کہ نہیں، مجھے گفتگو کے اس حصے میں تھوڑا سا غیر ضروری لگ رہا ہے کیونکہ اب ہم نئے qualifiers کی جانب جا رہے ہیں- بہر حال، مختصراً جواب یہ ہے کہ:

اول: آج کے مروجہ معنوں میں حلاج یقیناً عالم تھے- باقاعدہ طالبِ علم اور استاد رہے؛ اور اپنے خیالات کو خود بھی ضبطِ تحریر کیا، اور ان کے مقلدین نے بھی-

دوم: چلیں آپ کی نظر میں وہ عالم نہیں تھے- عارف تو تھے نا؟ بقول یگانہ: "اس سے کیا کسر شان میں آئی"

سوم: خدا کا حقیقی عرفان حاصل کرنے کا کوئی ایک نسخہ تو ہے نہیں- غور و فکر، علم، تجلی، وجدان، وحی -- کسی بھی راستے سے حاصل ہو سکتا ہے-

چہارم: بھائی، یہ کوئی سو یا پانچ سو میٹر دوڑنے کا مقابلہ تو ہے نہیں کہ مختلف لوگوں کو جو عرفان حاصل ہوا ہے، اس کی درجہ بندی کی جائے- سچ یا حقیقت لوگوں پر الگ الگ طرح سے ظاہر ہوسکتا ہے-
آپ کی بات بجا ہے۔ میں نے ضرور کہیں خطا کھائی ہے۔ میں دوبارہ غور کروں گا۔
راہ نمائی کا شکریہ!
 

La Alma

لائبریرین
اس کی مزید وضاحت کیجیے کہ جینیٹک میک اپ کس طرح اجازت نہیں دیتا
کچھ عرصہ پہلے تک Genetics میں Non Coded DNA کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ اس کا کوئی مصرف نہیں۔ DNA کے 90% سے زیادہ حصّے کو " Junk" کے کھاتے میں ڈال دیا گیا تھا ۔ لیکن اب جدید تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہی حصّہ انسانی ارتقا کی تمام پچیدگیوں کو حل کرنے میں مدد گار ثابت هو سکتا ہے۔
قدرت اتنے زیادہ تناسب میں کسی شے کو عبث پیدا نہیں کر سکتی ۔دور عہد الست بھی ،جس میں انسان نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ،اسی " evolution "کی منازل میں سے ایک ہے،اس کے traces بھی انسان کی ذات میں ہی کہیں موجود ھیں۔یہی patterns ،مطلق سچائی کی تلاش میں تحریک کو ختم نہیں ہونے دیں گے ۔واللہ علم ۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
کچھ عرصہ پہلے تک Genetics میں Non Coded DNA کے بارے میں سمجھا جاتا تھا کہ اس کا کوئی مصرف نہیں۔ DNA کے 90% سے زیادہ حصّے کو " Junk" کے کھاتے میں ڈال دیا گیا تھا ۔ لیکن اب جدید تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہی حصّہ انسانی ارتقا کی تمام پچیدگیوں کو حل کرنے میں مدد گار ثابت هو سکتا ہے۔
قدرت اتنے زیادہ تناسب میں کسی شے کو عبث پیدا نہیں کر سکتی ۔دور عہد الست بھی ،جس میں انسان نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ،اسی " evolution "کی منازل میں سے ایک ہے،اس کے traces بھی انسان کی ذات میں ہی کہیں موجود ھیں۔یہی patterns ،مطلق سچائی کی تلاش میں تحریک کو ختم نہیں ہونے دیں گے ۔واللہ علم ۔
ویری انٹرسٹنگ
اب اس میں سے مذہب کو نکال کر اسی جینیٹک میک اپ کے نوے فیصد جنک کو Evolution اور دیگر نظریات سے واضح کیجیے ۔
( سوال کا مقصد آپ کو چیلنج کرنا نہیں ہے بلکہ آپ ہی کے جواب کو سائنس کی نظر سے دیکھنا مقصود ہے کہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا )
 

arifkarim

معطل
یقین کی طاقت اتنی ہے کہ اسٹیفن ہاکس جس کا سارا جسم مفلو ج ہے اپنی آنکھوں سے میز پر پڑے گلاس کو گرادیا
اسکا کوئی حوالہ؟ ویسے یقین کی طاقت تو یہ بھی ہے کہ خود کش بمبار جنت کے حصول کیلئے اپنے آپ سمیت کئی بے گناہوں کو ساتھ لے جاتا ہے۔ گو کہ اسمیں سارا کمال سائنسی بم کا ہی ہوتا ہے۔
 

arifkarim

معطل
تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی انقلاب آیا ہے اس میں خون خرابا ہوا ہے ، لوگ مارے گئے ، گھر تباہ ہوئے اور پھر کچھ عرصے بعد انقلاب اپنی موت آپ مر گیا

کیا سارے انقلاب اپنے آپ مر گئے؟ صنعتی انقلاب، جمہوری انقلاب، انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انقلاب وغیرہ تو کبھی ختم نہیں ہوئے.
 

La Alma

لائبریرین
ویری انٹرسٹنگ
اب اس میں سے مذہب کو نکال کر اسی جینیٹک میک اپ کے نوے فیصد جنک کو Evolution اور دیگر نظریات سے واضح کیجیے ۔
( سوال کا مقصد آپ کو چیلنج کرنا نہیں ہے بلکہ آپ ہی کے جواب کو سائنس کی نظر سے دیکھنا مقصود ہے کہ سائنس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا )
آپ کے سوال کا جواب تو میں پہلے ہی دے چکی یہ نئی دریافت خالص سائنسی ہی تو ہے ۔
باقی Evolution پہ تفصیلی مضمون ہم کیسے لکھیں ، ہم سائنس دان تھوڑی نہ ھیں
 

arifkarim

معطل
۔حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم اسلامی انقلاب لے کے آئے جس میں خونریزی نہیں تھی بلکہ آپ صلی علیہ والہ وسلم کا بے انتہا علم اور یقین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس انقلاب کی وجہ بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔یقین کو میں عشق سے تعبیر کرتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جب تک سوال نہ ہوں ،جستجو نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جستجو میں محو نہ ہو تو کچھ ملتا نہیں یعنی کہ آپ کو جذب میں جانا پڑتا ہے جب آپ حال میں ہوتے ہیں تو آپ کو باطنی علم ملتا ہے جس پر انسان بے انتہا یقین رکھتا ہے کیونکہ یہ علم اللہ کی جانب سے دیا گیا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔حضور پاک صلی علیہ والہ وسلم پر وحی اترنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی جانب سے نوازش تھی کہ آپ نے اللہ کی جستجو کی ، اللہ نے علم کی دولت سے نواز دیا ۔۔۔۔۔
اسلام کی آمد کے بعد ہونے والی خونی جنگوں کا مطالعہ کر کے بتائیں کہ آیا اسلامی انقلاب جنگ و دجل سے واقعی پاک تھا جتنا بتایا جاتا ہے؟

آئن سٹائن کے مطابق ہر چیز ریلیٹو ہے ، اس کا مطلب کوئی چیز ابسولوٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ری لیٹی وٹی کی تھیوری کبھی بھی پیش نہ کی جاتی اگر کچھ ''یقینی'' نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔'' اللہ'' ایک ''حقیقت ''ہے جو ''یقینی'' ہے تو باقی ''علم ''اللہ سے جڑا'' ری لیٹو'' ہے کہ ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اس کو ڈھالتا ہے دلائل دیتا ہے ، مفروضے بناتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اگر ہر چیز ریلیٹو یعنی اضافی ہے تو ایک چیز ابسولوٹ یا کامل کیسے ہوئی؟

حساب کے بارے آئن سٹائن نے کیوں کہا کہ یہ غیر یقینی ہے کیونکہ یہ وجدان پر مشتمل علم ہے ۔۔۔۔وجدان وہی علم جس کی بنا پر سیب کے گرنے سے کشش ثقل کا قانون بنایا گیا ہے ۔۔۔۔۔اگر کہا جائے دنیا میں سب سے بڑا علم ہی وجدانی ہے تو یہ بے جا نہ ہوگا کہ میرے سامنے آنحضرت صلی علیہ والہ وسلم کو دیا گیا علم اس بات کا قوی ثبوت ہے کہ یہ وجدانی علم ہے ۔۔۔۔۔مزید براں اگر اتنا غیر یقینی ہوتا تو آج تک عمارتیں نہ بن پاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس وجدانی علم کو دلیل کی مدد سے قانون بنا دیا جاتا دیگر سائنس کی شاخوں کی طرح مفروضے کا تجربہ نہیں کیا جاتا آیا کہ یہ غلط ہے یہ درست مگر حیرت کی بات ہے کہ یہ وجدانی علم ہی مابعد تجربات کے انقلابات لا رہا ہے
کشش ثقل اور دیگر سائنسی قدرتی قوانین تو صرف دیگر سائنسدانوں کے حسابی مسائل کم کرنے کیلئے بنائے گئے تھے۔

آئن سٹائن نے یہی کہا کہ یہ خدائی یا وجدانی علم ہے جس کا تجربہ نہیں کیا جاتا ہے مگر اس کو مکمل کسی تجربے سے کیا جاسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی مثال ایک واضح یقین سے دی گئی کہ روشنی سیدھی لائن پر چلتی ہے تو واقعی ہی ایسا ہے اور اسی کی بنیاد پر جیومیٹری ہے۔۔۔۔
ٓٓٓآئن اسٹائن گو کہ شجرا یہودی تھا لیکن اسکی زندگی میں کہیں بھی مذہبی نظریات شامل نہیں رہے۔

انسان کے لا شعور کو بیدار کر دیتا ہے اور تب اس کے پاس جو سوالات ذہن میں آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا جذب ، اس کا عشق ان کے جوابات باطن سے فراہم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہی انسان کی فطرت ہے جس نے انوکھے انسان بنائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن کا ذکر میں نے بل گیٹس ، عرفہ کریم ، اسٹیفن ، آئن سٹائن ، نیوٹن ، یا بہت سے کی صورت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انسان کے اندر ہی اتنا کچھ ہے اس کو کتاب کی حاجت نہیں ہے ۔۔۔۔انسانی فطرت علم لے کے پیدا ہوئی ہے یعنی یقین لے کے پیدا ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ تو انسان کی جوانی یعنی کہ شعور ہے جو اس کو متذبدب کرتی ہے
انسانی فطرت میں جستجو شامل ہے جو اسے بچپن سے ہی مختلف علوم کی طرف راغب کرتی ہے۔ البتہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ انسان محض اپنے ذہنی لاشعور پر تقویت پا کر بڑا عالم فاضل بن سکتا ہے۔ عظیم انسان بننے کیلیے زندگی بھر کا تجربہ اور دیگر علوم پر محارت درکارہوتی ہے۔ جو کہ ہر انسان کے بس کی بات نہیں۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
آپ کے سوال کا جواب تو میں پہلے ہی دے چکی یہ نئی دریافت خالص سائنسی ہی تو ہے ۔
باقی Evolution پہ تفصیلی مضمون ہم کیسے لکھیں ، ہم سائنس دان تھوڑی نہ ھیں
مجھے آپ کے مذہبی حوالے کا جواب نہیں ملا :)
سائنسی حوالے کا تو میں نے پوچھا ہی نہیں بہرحال شکریہ ۔
 

صائمہ شاہ

محفلین
ارے !
ہم تو انگشت بدنداں ھیں کہ ۔۔۔
اپنا سوال دوبارہ دیکھیں۔
دور عہد الست بھی ،جس میں انسان نے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا ،اسی " evolution "کی منازل میں سے ایک ہے،اس کے traces بھی انسان کی ذات میں ہی کہیں موجود ھیں۔یہی patterns ،مطلق سچائی کی تلاش میں تحریک کو ختم نہیں ہونے دیں گے ۔
میں اس بیان کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ اس کی کیا سائنٹیفک ویلیو ہے ان لوگوں کے لیے جو مذہبی نہیں ہیں :)
 
راحیل فاروق ، طالب سحر اور دیگر دوستوں کی پرمغز گفتگو کا لطف آ رہا ہے مگر اتنی خوبصورت انداز میں چل رہی ایک علمی بحث میں بھی حسب عادت اپنا ہائے ہائے اسلام کا رونا رونے والے کسی پوسٹ کو نہیں بخشتے ۔ اس پوسٹ پر سلامی نام کے ساتھ صرف اسلام ہائے ہائے کا ورد کرنے جس مسلمان صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ "اسلام کی آمد کے بعد ہونے والی خونی جنگوں کا مطالعہ کر کے بتائیں کہ آیا اسلامی انقلاب جنگ و دجل سے واقعی پاک تھا جتنا بتایا جاتا ہے؟" ۔۔ اسے جواب دیا جائے کہ اسلام ہمیشہ امن کا دین رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے صدیوں تک کلیسا کے پادریوں کی تحریکوں پر جرمن، فرنچ، انگلش اور اطاوی بادشاہوں کی زیر قیادت جنگجو صلیبی لشکروں کی مذہبی اور سیاسی دہشت گردی کیخلاف دفاع میں ہتھیار اٹھایا ہے۔ عیسائیت کی خونخوار یلغاروں پر مسلمان چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ مسلمان ہوں ، ہندو سکھ ہوں یا عیسائی، مذہب کی پاسداری کا نام لینےسے جان صرف ان لوگوں کی جاتی ہے جو قرآن اور بائیبل کے احکامات کے منکر ہو کر ویسی آزاد زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس کی ممانعت صرف قرآن نہیں بائیبل، رامائن اور گرنتھ بھی کرتے ہیں ۔
 
آخری تدوین:

arifkarim

معطل
اسے جواب دیا جائے کہ اسلام ہمیشہ امن کا دین رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے صدیوں تک کلیسا کے پادریوں کی تحریکوں پر جرمن، فرنچ، انگلش اور اطاوی بادشاہوں کی زیر قیادت جنگجو صلیبی لشکروں کی مذہبی اور سیاسی دہشت گردی کیخلاف دفاع میں ہتھیار اٹھایا ہے۔
جی بالکل۔ اور افغانستان پر 17 حملے بھی ہندو مہاراجاؤں نے کئے تھے۔
 

La Alma

لائبریرین
میں اس بیان کے بارے میں پوچھ رہی تھی کہ اس کی کیا سائنٹیفک ویلیو ہے ان لوگوں کے لیے جو مذہبی نہیں ہیں :)

اس کی Scientific Value یہ ہے کہ ان patterns کی de coding کے دوران سائنس دانوں پر انکشاف ہوا کہ یہ sequences کسی قدیم انسانی زبان کے alphabets سے مماثل ھیں ۔Linguists کی مدد سے جب اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ایک لفظ " God" واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا ۔
"We will show them our signs in the horizons and within themselves until it becomes clear to them that it is truth ",Al Quran.
 
Top