لکھا جو خط تجھے وہ عمران ۔۔

زیک

مسافر
سید عاطف علی اور دیگر پاکستانی امریکی خط کے سلسلے میں کافی کنفیوز نظر آتے ہیں
عمران والےخط کو بالکل ہی اہمیت کیوں نہ دی گئی ؟
یہ بات تو اس کی درست لگتی ہے کہ دیکھتے تو سہی کہ اصل میں تھا کیا ؟
لہذا سوچا اس موضوع پر ایک لڑی کھول لی جائے۔ یہاں گفتگو خط اور دھمکی کے حوالے سے ہو گی اور باقی معاملات کا ذکر صرف اتنا ہی جتنا اس خط کے مسئلہ کو سمجھنے کے لئے لازم ہے۔
 

زیک

مسافر
پہلی بات یہ ہے کہ امریکا یا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈونلڈ لو نے کوئی خط نہیں لکھا بلکہ یہ امریکا میں پاکستانی سفارتکار کی جانب سے امریکی حکومت سے گفتگو پر سفارتخانہ کی رپورٹ ہے جس میں یقیناً ان پاکستانیوں کے اپنے تاثرات بھی شامل ہیں۔

دوسرے ہمیں اس سفارتی کیبل کے مندرجات کا کبھی علم نہ ہو گا کہ یہ پاکستان ہے نہ کہ امریکا۔ یاد رہے کہ کافی سالوں بعد امریکا میں چیدہ چیدہ سفارتی کیبلز پبلک کی جا سکتی ہیں اور ایسا اچھا خاصا ریکارڈ موجود ہے۔
 

زیک

مسافر
پاکستان کافی عرصہ سے روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں عمران خان کا دورہ پلان کیا گیا۔ یہ پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے لیکن یاد رہے کہ پاکستان کئی طاقتوں کے دباؤ تلے رہتا ہے اور چین، امریکا اور سعودیہ کے خلاف جانا اس کے لئے اکثر مشکل ہی رہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے امریکا کے خلاف پالیسی بنانا اور اس پر تنقید کرنا سب سے آسان ہے۔

بہرحال روسی دورہ ایک انتہائی غلط وقت پر آیا جب روس یوکرائن پر حملے کے لئے پر تول رہا تھا۔ اس وقت دورے کو ملتوی یا کینسل کرنے کے لئے امریکا نے دباؤ ڈالا لیکن پاکستانی حکومت کے تمام ارباب اختیار اسے آخری وقت کینسل نہ کرنا چاہتے تھے۔ یہاں پاکستانی انٹیلجنس کے ناکارہ ہونے کا ذکر ضروری ہے جسے یہ علم نہ ہوا کہ روس حملے کے لئے بالکل تیار ہے۔ نتیجہ وہی نکلا کہ عمران خان کے ماسکو میں موجودگی کے وقت ہی جنگ شروع ہو گئی۔ یہ پاکستان کے لیے کافی خفت کا معاملہ تھا لیکن عمران خان کی حکومت نے اسے محسوس نہ کیا۔
 

سیما علی

لائبریرین
سفارتی کیبل خفیہ ہوتی ہے
مبصرین کے مطابق عام طور پر کسی ملک کا سفیر جب میزبان ملک میں وہاں کے حکومتی حکام سے ملتا ہے تو اس میں ملنے والے اہم پیغامات یا معلومات سے اپنی حکومت کو آگاہ کرتا ہے اور یہ بات سفارتی معمول کا حصہ ہے۔سفارتی کیبلز کوڈ کرکے بھجوائی جاتی ہیں۔مقصد بھجوائی جانے والی معلومات کو محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
واقعی میں نہ صرف کنفیوز بلکہ مشتاق بھی ہوں کہ یہ تحریری دستاویز بین الممالک تعلقات میں آخر کس حد تک اہمیت رکھتی ہے ۔
کیا اسے ملکی خود ارادیت میں اس حد تک مداخلت یا قومی سالمیت کے خلاف سازش یا حملہ تصور کیا جاسکتا ہے ؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
پاکستانی سفارتکار کی جانب سے امریکی حکومت سے گفتگو پر سفارتخانہ کی رپورٹ ہے
زبر دست زیک بھائی ۔۔۔۔ مجھے لگا کہ یہ کافی کلیدی پوائنٹ ہے اس پورے قصے میں اور اس کی روشنی میں متعلقہ سفارتکار ایک واحد شہادت ہے جسے پاکستان بلا کر فی الفور عدالت میں پیش کیا جانا چاہیئے اور معاملے کے مضمرات کی اہمیت کو طے کیا جانا چاہیئے ۔
میری رائے ۔
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا پلان 2022 نہیں، 2019 میں ہی بن چکا تھا، اس حوالے سے آصف علی زرداری کا انٹرویو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جس پر عمران حکومت نے پابندی لگوا دی تھی اور اب وہ ان کی حکومت کے جانے کے بعد آن ائیر ہوا۔ یہ انٹرویو حامد میر نے لیا تھا۔ تاہم، گزشتہ برس فیض حمید کے جانے اور نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے آنے اور اس دوران عمران حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس اہم تقرری کے حوالے سے ہونے والے تنازع نے شاید عمران کو باور کروا دیا تھا کہ اب انہیں بذریعہ تحریک عدم اعتماد ہٹانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، اور بعد ازاں ایسا ہی ہوا اور اگر اس معاملے کو ایک اور زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی جائے تو شاید عمران کو شبہ رہا ہو گا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر سے وہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہو گی کہ انہوں نے اس تقرری کو روکنے کی سر توڑ کوشش کی تھی اور فیض کو ڈی جی آئی ایس آئی رکھنے پر اصرار کیا تھا۔ ٰفیض ٰ سے محروم ہونے کے بعد عمران حکومت سچ مچ ڈانواں ڈول ہو گئی۔ تاہم، یہ حقیقت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی میں امریکا کا بھی ایک کردار رہا ہے۔ اس لیے عمران خان نےسارا ملبہ ہی امریکا پر ڈالنے کی کوشش کی حالانکہ امریکا کا اس میں صرف ایک حد تک ہی کردار ہو سکتا تھا۔ جب یہاں عدم اعتماد کا شور پڑا تو عمران خان نے اپنا رخ روس کی طرف کر لیا۔ دورہ تو پہلے سے طےشدہ تھا مگر تاریخ کا تعین نہ ہوا تھا۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس دورے کا جلد انعقاد پاکستانی حکومت کی کاوشوں سے ہوا تھا۔ سب سے بڑا اتفاق یہ ہوا کہ یوکرائن روس جنگ عین اس وقت شروع ہو گئی جب خان صاحب نے روس کا دورہ کیا۔ امریکا نے یقینی طور پر یہ دورہ رکوانے کی کوشش کی ہو گی، دھمکی بھی لگائی ہو گی، مگر یہ کہنا کہ تحریک عدم اعتماد میں امریکا کا کلیدی کردار تھا، بعید از قیاس ہے۔ اس تحریک عدم اعتماد کی تیاریاں تو دو سال سے جاری تھیں۔امریکا نے عمران کو مقدور بھر نقصان ضرور پہنچایا تاہم انہیں گرانے کا پلان ایک عرصہ سے تیار ہو چکا تھا اور اس کی نمایاں وجوہات یہ تھیں: ناقص حکومتی کارکردگی، اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عمران خان کا تنازع، اور شاید اپوزیشن کے لیے نیب کے کیسز جو صرف ان پر ہی بن رہے تھے۔اغلب امکان ہے کہ امریکا نے گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دینے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیاہو گا جس کا عمران خان کو صدمہ پہنچا مگر سارا الزام ایک سفارت کار کی دوسرے سفارت کار سے گفتگو پر دھر دینا اور اس بنیاد پر اپوزیشن کو غدار قرار دینا اور خود کو حق اور دیگر کو باطل پر تصور کرنا، پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی کوشش کرنا، عمران خان کے غیر متوازن رویے اور اصل صورتحال سے توجہ ہٹانے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان تمام معاملات کے باوصف عمران خان کو داد ضرور دینا چاہوں گا کہ موصوف چائے کی پیالی میں طوفان بپا کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں اور اپنے چاہنے والوں کو مسلسل مصروف عمل رکھتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
کچھ بنیادی باتیں:

پہلی، یہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ دنیا کے مختلف ممالک میں "رجیم چینج" یا گورنمنٹ کی تبدیلی مختلف طریقوں سے کرواتا رہا ہے، جو دوست نہیں جانتے وہ وکی پیڈیا کا یہ مضمون ملاحظہ کر لیں جس میں اس امریکی عادت کی کہانی انیسویں صدی سے لے کر اب تک (دو سو سال سے بھی زائد عرصہ) بیان کی گئی ہے!

دوسری یہ کہ دھمکیاں دینے کی امریکی عادت سے بھی سب واقف ہیں۔ جنرل مشرف نے بھی کئی بار کہا کہ وار آن ٹیرر میں شامل ہونے سے انکار پر پاکستان کو اسٹون ایج میں بھیجنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

تیسری یہ کہ میں نے ایک خبردیکھی تھی کہ جب ڈونلڈ لو سے اس کیبل کے مندرجات کے بارے میں استفسار کیا گیا تو اس نے نہ اقرار کیا نہ انکار۔

مزید یہ کہ یہ درست بات ہے کہ خط کسی امریکی عہدیدار نے نہیں لکھا، لیکن یہ بھی درست ہے کہ جس میٹنگ میں یہ بات کی گئی اس کے منٹس لیے جا رہے تھے۔ پاکستانی سفارتکار نے اپنے منٹس سے کیبل بنا کر اپنے دفتر خارجہ کو لکھ دی جسے ظاہر ہے پبلک نہیں کیا جا رہا۔ امریکہ تو اپنی خفیہ دستاویزات ظاہر کرتا ہی رہتا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ جس میٹنگ کی بات ہو رہی ہے امریکی اس میٹنگ کے جو منٹس انہوں نے لیے ہونگے وہ ظاہر کر دیں!
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان کافی عرصہ سے روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں عمران خان کا دورہ پلان کیا گیا۔ یہ پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے لیکن یاد رہے کہ پاکستان کئی طاقتوں کے دباؤ تلے رہتا ہے اور چین، امریکا اور سعودیہ کے خلاف جانا اس کے لئے اکثر مشکل ہی رہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے امریکا کے خلاف پالیسی بنانا اور اس پر تنقید کرنا سب سے آسان ہے۔

بزعم خود ،طاقت ورسمجھنے والے ممالک کو پاکستان کا پیغام:
اپنے معاملات مذاکرات سے اور خود حل کر یں !
 

زیک

مسافر
پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ یوکرائن پر روسی حملے میں غیرجانبدار ہے۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے واضح ہے کہ یہ اقوام عالم میں غیر مقبول موقف نہیں۔ لیکن جنگ کے آغاز سے پہلے سے پاکستانی حکومت نے اپنے بیانات اور حرکات روس کے حق میں دیئے ہیں۔ اس سے پاکستان کو کیا حاصل ہو گا یہ سمجھنا مشکل ہے۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
پہلی، یہ ہم سب جانتے ہیں کہ امریکہ دنیا کے مختلف ممالک میں "رجیم چینج" یا گورنمنٹ کی تبدیلی مختلف طریقوں سے کرواتا رہا ہے
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ شاید اسی کو عمران حکومت نے بنیاد بنا کر ہی اپنا کیس مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دوسری یہ کہ دھمکیاں دینے کی امریکی عادت سے بھی سب واقف ہیں۔ جنرل مشرف نے بھی کئی بار کہا کہ وار آن ٹیرر میں شامل ہونے سے انکار پر پاکستان کو اسٹون ایج میں بھیجنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
مشرف دور اور عمران دور میں کیا مماثلت ہے؟
مشرف دور میں تو پوری دنیا کا ماما امن و امان کے لیے ایک " دہشت گردی" پر جنگ لڑی جا رہا تھا۔ لیکن عمران دور میں ایسا کیا ہوا کہ رجیم چینج کی جانے لگی؟
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ یوکرائن پر روسی حملے میں غیرجانبدار ہے۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے واضح ہے کہ یہ اقوام عالم میں غیر مقبول موقف نہیں۔ لیکن جنگ کے آغاز سے پہلے سے پاکستانی حکومت نے اپنے بیانات اور حرکات روس کے حق میں دیئے ہیں۔ اس سے پاکستان کو کیا حاصل ہو گا یہ سمجھنا مشکل ہے۔
Military equipment denied from US
 

محمداحمد

لائبریرین
پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ یوکرائن پر روسی حملے میں غیرجانبدار ہے۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے واضح ہے کہ یہ اقوام عالم میں غیر مقبول موقف نہیں۔ لیکن جنگ کے آغاز سے پہلے سے پاکستانی حکومت نے اپنے بیانات اور حرکات روس کے حق میں دیئے ہیں۔ اس سے پاکستان کو کیا حاصل ہو گا یہ سمجھنا مشکل ہے۔
اب تو ان کی مرضی کی حکومت آ گئی ہے۔ موقف بھی بدل گیا ہوگا۔

امریکہ نواز باجوہ صاحب یوکرین پر روسی جارحیت کی مذمت پہلے ہی کر چکے ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
پاکستان کو اس سے کیا حاصل ہوا یا ہوگا؟ دوسروں کی جنگوں میں ہمارا کیا مفاد ، امریکہ جانے اور روس جانے ہمیں ان کے جھگڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت ۔ یہ اپنے مسائل خود حل کریں۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
مشرف دور اور عمران دور میں کیا مماثلت ہے؟
مشرف دور میں تو پوری دنیا کا ماما امن و امان کے لیے ایک " دہشت گردی" پر جنگ لڑی جا رہا تھا۔ لیکن عمران دور میں ایسا کیا ہوا کہ رجیم چینج کی جانے لگی؟
قبلہ آپ بات سمجھے ہی نہیں۔ میں نے کب کہا کہ مشرف دور اور عمران دور میں کوئی مماثلت ہے! فقط یہ عرض کی تھی کہ دھمکیاں دینا امریکہ کی پرانی عادت ہے، پہلے بھی دیتا رہا ہے اور مختلف ممالک کو دیتا رہا ہے، مشرف کو دی گئی دھمکی ریکارڈ پر ہے اور اب بھی دی ہوگی!
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
یہ پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے لیکن یاد رہے کہ پاکستان کئی طاقتوں کے دباؤ تلے رہتا ہے اور چین، امریکا اور سعودیہ کے خلاف جانا اس کے لئے اکثر مشکل ہی رہتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان میں سے امریکا کے خلاف پالیسی بنانا اور اس پر تنقید کرنا سب سے آسان ہے۔
جی ہاں، چین، سعودیہ اور امریکہ کے خلاف جانا کافی مشکل ہے لیکن آپ نے خود لکھا کہ ان میں سے امریکہ پر تنقید سب سے آسان ہے۔ یقینی طور پر اس کی کوئی وجہ رہی ہوگی، آپ بھی سوچیے گا۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ سعودیہ نہ صرف پاکستان کا محسن ہے بلکہ دینی برادر بھی ہے اور مکہ مدینہ کی وجہ سے مقدس بھی ہے، اس پر تنقید کا عام طور پر پاکستانی سوچتے بھی نہیں۔ چین محسن اور مخلص دوست ہے، اور ایسے دوست کی کمی کوتاہیوں پر بھی لوگ چپ رہتے ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ امریکہ کا رویہ ایک بد طینت ظالم تھانیدار کی طرح کا ہے، کسی کی کیا مجال کہ اس کے سامنے "کُسَک" بھی جائے، چوں بھی کر جائے لیکن پیٹھ پیچھے سب اس کی برائیاں ہی کرتے ہیں!
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ شاید اسی کو عمران حکومت نے بنیاد بنا کر ہی اپنا کیس مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پاکستان میں ایک عمومی امریکہ مخالف جذبہ ہمیشہ سے رہا ہے اور اگر اسی کو عمران خان نے سیاسی طور پر استعمال کیا ہے تو پھر خوب استعمال کیا ہے، اس کا یہ چورن دھڑا دھڑ بِک رہا ہے۔ اس سے اس بیانیے کی بھی نفی ہوتی ہے کہ "عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔"!
 

اکمل زیدی

محفلین
جی ہاں، چین، سعودیہ اور امریکہ کے خلاف جانا کافی مشکل ہے لیکن آپ نے خود لکھا کہ ان میں سے امریکہ پر تنقید سب سے آسان ہے۔ یقینی طور پر اس کی کوئی وجہ رہی ہوگی، آپ بھی سوچیے گا۔

مجھے یہ لگتا ہے کہ سعودیہ نہ صرف پاکستان کا محسن ہے بلکہ دینی برادر بھی ہے اور مکہ مدینہ کی وجہ سے مقدس بھی ہے، اس پر تنقید کا عام طور پر پاکستانی سوچتے بھی نہیں۔ چین محسن اور مخلص دوست ہے، اور ایسے دوست کی کمی کوتاہیوں پر بھی لوگ چپ رہتے ہیں۔ لیکن معذرت کے ساتھ امریکہ کا رویہ ایک بد طینت ظالم تھانیدار کی طرح کا ہے، کسی کی کیا مجال کہ اس کے سامنے "کُسَک" بھی جائے، چوں بھی کر جائے لیکن پیٹھ پیچھے سب اس کی برائیاں ہی کرتے ہیں!
وارث بھائی مکہ مدینہ کی حرمت کی وجہ سے سعودی حکومت کو احترام کا موجب بنانا درست نہیں( جوئے خانہ کی اجازت اور باقی اقدامات اس کی حالیہ مثالیں ہیں) وہ بھی مفاد کی سیاست کرتے ہیں انہیں بھی ایک پٹھو چاہیے اور پراکسی چینل نواز کے دور میں دھڑا دھڑ امداد دینا اس بات کا غماز ہے کہ وہ ان کی پالیسیسز پر من و عن عمل درآمد کروانے میں پیش پیش رہتے ہیں جبکہ عمران کے دور میں یہ ممکن نہ ہو سکا بلکہ ایک کھنچاؤ سا دیکھنے میں آیا اور کوئی خاطر خواہ پیکج نہیں مل سکا جس سے ڈالر نے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کی۔
باقی رہا چین وہ ایک سٹریٹجک پارٹنر ہے محسن اور مخلص کہنا کچھ موزوں نہیں لگ رہا باقی امریکہ کے بارے میں درست فرمایا آپ نے ۔۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
پاکستان کو اس سے کیا حاصل ہوا یا ہوگا؟ دوسروں کی جنگوں میں ہمارا کیا مفاد ، امریکہ جانے اور روس جانے ہمیں ان کے جھگڑے میں پڑنے کی کیا ضرورت ۔ یہ اپنے مسائل خود حل کریں۔

دیکھا جائے تو پاکستان کا کچھ لینا دینا نہیں ۔ لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ اُس کے زیرِ اثر ممالک اُسی کی زبان بولیں، چاہے اس سے اُنہیں فائدے کے بجائے نقصان کا ہی اندیشہ ہو۔

عمران خان بار بار اسی لئے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ذکر کر رہے تھے کہ ہندوستان امریکہ کی خاطر کسی سے بگاڑنے پر آمادہ نہیں ہوا اور سب سے اُس کے کام چل رہے ہیں۔
 
Top