لطیفے ۔۔۔۔۔۔تصویری یالفظی

سید عمران

محفلین
29a67ce3-03fe-44fc-af5f-03101d2c4a47.jpg
 

شمشاد

لائبریرین
ایک صاحب تھے، جن کا نام عبد الغفور تھا۔ وہ روزانہ رات کو گھر جاتے ہوئے راستے کو مختصر کرنے کی غرض سے قبرستان سے گزرا کرتے تھے۔ اور جب قبرستان میں داخل ہوتے تو اونچی آواز میں " السلامُ علیکم یا اہل القبور" کہتے۔
کچھ منچلوں کو اس کا علم ہو گیا۔ تو ایک رات وہ چاروں منچلے قبرستان کے اندھیرے میں اس وقت چُھپ گئے جب عبد الغفور کے آنے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔
حسب عادت عبد الغفور قبرستان میں داخل ہوئے اور با آواز بلند "السلامُ علیک یا اہل القبور" کہا، تو جواب میں ان منچلوں نے بھی با آواز بلند "و علیکم السلام یا عبد الغفور" کہا۔
اس کے بعد کیا ہوا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اس کے بعد عبد الغفور نے راستے کو مختصر کرنے والا طریق چھوڑ دیا اور روزانہ لمبا راستہ طے کر کے گھر جانے لگے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
ماسٹر اسکول سے تھک کر گھر واپس آیا اور کھانا کھانے بیٹھ گیا۔
کھاتے کھاتے اپنی بیوی کو بتایا کہ "کھانا بالکل اچھا نہیں ہے ، کوئی ذائقہ نہیں آرہا ہے۔"
بیوی اپنی برائی کا بدلہ لینے کے لئے اٹھی اور کووڈ ہیلپ لائن کو فون کیا اور ایمبولینس کو بلایا۔
اور کہا.. "ان کو کھانے کا ذائقہ نہیں آ رہا ہے .."
ایمبولینس ماسٹر کو کووڈ ہسپتال لے گئی اور انہیں قرنطین کردیا۔
اس طرح بیوی نے اس کا بدلہ لیا۔
*اب کہانی میں ایک نیا موڑ*
دوسری طرف ، ماسٹر صاحب سے یہ پوچھا گیا کہ "آپ کے ساتھ کس کس کا رابطہ ہوا؟"
ماسٹر نے بالکل سکون سے کہا ..
- میری بیوی
- میر1 سسر
- میری ساس
- میری سالیاں
- میرے سالے
اب یہ سارے لوگ بھی کووڈ ہسپتال کے بستر پر بیٹھے ہوئے ماسٹر صاحب کو یاد کررہے ہیں۔
اور اس کی اہلیہ سوچ رہی ہیں کہ کاش میں نے انہیں *اچار* دے دیا ہوتا۔
*ماسٹر تو ماسٹر ہوتا ہے۔*
------------

منقول از فیس بُک۔ (اپنی اپنی نوکری کی نوعیت کے مطابق 'ماسٹر' کے کردار کو بلا روک ٹوک بدلا جا سکتا ہے)۔ :)
 

سیما علی

لائبریرین
*کمال کے دو نکاح*

*ذرا مسکرادیجئے*

کہتے ہیں کہ ایک بیوہ نے شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی اپنی حسین و جمیل بیٹی کیلیئے حق مہر کا مطالبہ مبلغ پانچ لاکھ ریال کر رکھا تھا۔
کئی خواہشمند اتنا حق مہر سن کر ویسے ہی دستبردار ہو چکے تھے۔
اپنی ضد کا پکا ایک لڑکا بمشکل تین لاکھ ریال اکٹھے کر پایا۔
پیسے لیکر مزید کی مدد مانگنے کیلیئے سیدھا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا: ابا جی، میرا کچھ کر لو، میں اس کاکی پر فدا ہو گیا ہوں، مگر اس کی ماں ہے کہ پانچ لاکھ ریال حق مہر سے ایک فلس کم پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب آپ ہی کچھ کیجیئے۔
باپ نے بیٹے کی سنجیدگی کو دیکھا اور کہا: ٹھیک ہے پُتر، چل لا پیسے۔ کچھ کرتے ہیں تیرا بھی۔
دونوں باپ بیٹا پیسے لیکر بیوہ کے گھر پہنچے۔ سلام و دعا کے بعد باپ نے خاتون سے کہا: میں آپ سے بات کرنے کیلیئے حاضر ہوا ہوں۔ میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ کہ جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں آپ میری بات نہ کاٹیں۔
خاتون نے کہا: جی بسم اللہ ، کہیئے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: میرا بیٹا آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک لاکھ ریال نقد حق مہر ساتھ لایا ہے۔
خاتون نے گڑبڑاتے ہوئے کہا؛ مگر مجھے اپنی بیٹی کے حق مہر میں پانچ لاکھ ریال سے ایک فلس کم بھی قبول نہیں ہے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: محترمہ آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ مجھے بات پوری کرنے دیجیئے گا۔
خاتون نے معذرت کرتے ہوئے کہا: جی پوری کیجیئے اپنی بات۔
لڑکے کے باپ نے کہا: آپ بذات خود ایک انتہائی خوبصورت اور جوان جہان عورت ہیں۔ میں آپ کو بھی ایک لاکھ ریال حق مہر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے حق شرعی میں آ جائیے۔
خاتون کی خوشی سے باچھیں کھل کر کانوں کو جا لگیں۔ بمشکل اپنے جذبات کو دباتے ہوئے کہا: اللہ آپ کا آنا قبول کرے۔ مجھے آپ کی دونوں شرطیں قبول ہیں۔
باپ بیٹا خوشی خوشی باہر نکلے تو ہمسائیوں نے پوچھا: ایسا کیسے ہوگیا؟ یہ تو ناممکن نظر آتا تھا۔
لڑکے کے باپ نے کہا: مال تھوک میں خریدتے ہوئے اور پرچون میں خریدتے ہوئے آخر ریٹ میں کچھ تو فرق پڑتا ہے ناں۔
لڑکے نے ہلکا سا گلا صاف کرتے ہوئے باپ سے کہا: ابا جی، وہ ایک لاکھ ریال جو بچ گئے ہیں، پھر وہ تو مجھے واپس دے دیجیئے۔
باپ نے کہا:
ناں پُتر اوئے، ابھی ایک بڑا اور اہم مرحلہ تو باقی پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک لاکھ ریال جا کر تیری ماں کو دینا پڑے گا تاکہ وہ بھی تو راضی ہو
 

شمشاد

لائبریرین
عمران بھائی گھر گھر یہی رولا ہے۔

ایک میراثی حسب معمول روزانہ کی طرح پنڈ کے چوہدری کے گھر گیا۔ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، تو اس کے کانوں میں چوہدرائن کی غصیلی آوازیں پڑیں جو وہ چوہدری صاحب پر نکال رہی تھی۔ میراثی واپس چلا گیا۔

اگلے دن پھر وہ چوہدری صاحب کے در دولت پر حاضر ہوا۔ چوہدری صاحب حسب معمول چند مزاروعوں کے ساتھ دربار لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ تم کل کیوں نہیں آئے۔

تو میراثی بولا، "چوہدری صاحب میں کل آنے لگا تھا، کہ میری گھر والی بگڑ گئی اور شروع ہو گئی مجھ پر گرجنے برسنے۔ بس اسی وجہ سے میں کل نہ آ سکا۔"

چوہدری صاحب بولے، "گھر گھر یہی رولا ہے، تم نے آ جانا تھا۔"
 

محمد وارث

لائبریرین
ہائے میں مر گیا!
میرے مرنے کے بعد میرے ساڑھے نو ملین امریکی ڈالرز (ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے) کا حصہ بخرہ ہو رہا ہے اور مجھے علم ہی نہیں، اللہ اللہ۔ :)
Fullscreen-capture-31-12-2020-23549-PM.jpg
 

شمشاد

لائبریرین
یہ سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ کوئی نہ کوئی مرغا تو پھنس ہی جاتا ہو گا۔
جیسے پاکستان میں "جیتو پاکستان" یا "بینظیر انکم سپورٹ" کی طرف سے فون آتا ہے کہ آپ کا پچیس لاکھ روپے کا انعام نکلا ہے۔ پچھلے دنوں یہ فراڈ کرنے والا ایک گینگ پکڑا گیا تھا۔
 
Top