لشکرِ جھنگوی کے ملک اسحاق نے گرفتاری دیدی

نایاب

لائبریرین
پکڑ بھی لیا ہے تو کونسا تیر مار لیا ہے، اس کا کچھ بگاڑ تو سکتے نہیں۔
میرے بھائی یہ تو " پری ارینج " گرفتاری ہے ۔
ان حالات میں جیل سے باہر رہتے ان کی جان خطرے میں تھی ۔
اور " جان " بچانا تو لازم امر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
 

کاشفی

محفلین
ان سب واقعات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک اسحاق کو کسی نے پتھر مارا ہو اور وہ چلّاتے ہوئے بھاگ رہا ہو ۔۔جیسے بپّی لہری کو پتھر مارا جاتا ہے تو وہ چلّاتے ہوئے بھاگتا ہے اور کہیں چھپ جاتا ہے۔۔۔۔خیر نواز لیگ ملک اسحاق کو بچانا چاہتی ہے ۔جیل میں اسے CynoEnergy 4800 دے کر باہر بھیجے گی۔۔اور پھر یہ فرقہ واریت مچائے گا۔۔۔۔لیکن یاد رہنا چاہیئے کہ فرقہ واریت اپنے انجام کو پہنچے گی آج نہیں تو کل۔۔۔انشاء اللہ۔
 
اگر میرے بس میں ہو تو ان سب دہشت گرد گروپوں کو کہوں کہ آؤ تم کو حج پر بھیجتا ہوں پھر عین سمندر کے درمیان میں جہاز کو ڈبودوں۔۔۔خس کم جہاں پاک۔
 
بااثر لوگوں کیلئے جیل اور حوالات بھی کسی ہوٹل کی مانند آرام دہ اور لگژری اپارٹمنٹ بنا دئیے جاتے ہیں۔۔میرا ایک دوست کسی جھوٹے کیس کے نتیجے میں چار ماہ تک کیمپ جیل لاہور میں گذار کر آیا اور واپسی پر اس نے جو قصّے سنائے وہ کافی دلچسپ اور عجیب تھے۔ اسکا کہنا تھا کہ اگر کسی نے پاکستانی معاشرے کا ایک پرفیکٹ چھوٹا ماڈل دیکھنا ہو تو اس کیمپ جیل کی سٹڈی کرلے۔ پنجاب بنک کا ہمیش خان بھی وہیں ہے، ڈبل شاہ بھی وہیں بلکہ ایک ٹرپل شاہ بھی وہاں اقامت پذیر تھا اور جیلر اور دوسرے حکام نے کافی بڑی انوسٹمنٹ کی ہوئی تھی اسکے کہنے پر۔ ہمیش خان کیلئے روزانہ دو وقت کا سپیشل کھانا گھر سے آتا ہے جس میں چلغوزے قیمہ اور کاجو گوشت قسم کی لزیز ڈشیں ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ ایک دیگ بھی اسکی طرف سے باقی عام قیدیوں کیلئے روزانہ آتی ہے۔ ان لوگوں کو آرام دہ کمرے ملے ہوئے ہیں جن میں کارپٹس ہیں، اے سی ہیں، خدمت گار اور مالشئیے ہیں۔ اور بھی بہت سے عجیب قصے اس نے سنائے۔ جیل کے عملے اور اعلیٰ حکام کی ماہانہ آمدن کروڑوں میں ہے۔۔چنانچہ یہ ملک اسحاق بھی ایسے ہی کسی لگژری اپارٹمنٹ میں شفٹ ہونے جا رہا ہے ۔:)
 
بااثر لوگوں کیلئے جیل اور حوالات بھی کسی ہوٹل کی مانند آرام دہ اور لگژری اپارٹمنٹ بنا دئیے جاتے ہیں۔۔میرا ایک دوست کسی جھوٹے کیس کے نتیجے میں چار ماہ تک کیمپ جیل لاہور میں گذار کر آیا اور واپسی پر اس نے جو قصّے سنائے وہ کافی دلچسپ اور عجیب تھے۔ اسکا کہنا تھا کہ اگر کسی نے پاکستانی معاشرے کا ایک پرفیکٹ چھوٹا ماڈل دیکھنا ہو تو اس کیمپ جیل کی سٹڈی کرلے۔ پنجاب بنک کا ہمیش خان بھی وہیں ہے، ڈبل شاہ بھی وہیں بلکہ ایک ٹرپل شاہ بھی وہاں اقامت پذیر تھا اور جیلر اور دوسرے حکام نے کافی بڑی انوسٹمنٹ کی ہوئی تھی اسکے کہنے پر۔ ہمیش خان کیلئے روزانہ دو وقت کا سپیشل کھانا گھر سے آتا ہے جس میں چلغوزے قیمہ اور کاجو گوشت قسم کی لزیز ڈشیں ہوتی ہیں۔ اسکے علاوہ ایک دیگ بھی اسکی طرف سے باقی عام قیدیوں کیلئے روزانہ آتی ہے۔ ان لوگوں کو آرام دہ کمرے ملے ہوئے ہیں جن میں کارپٹس ہیں، اے سی ہیں، خدمت گار اور مالشئیے ہیں۔ اور بھی بہت سے عجیب قصے اس نے سنائے۔ جیل کے عملے اور اعلیٰ حکام کی ماہانہ آمدن کروڑوں میں ہے۔۔چنانچہ یہ ملک اسحاق بھی ایسے ہی کسی لگژری اپارٹمنٹ میں شفٹ ہونے جا رہا ہے ۔:)
جی بالکل آپ کی بات سو فیصد درست ہے یہ چاہیں اندر ہوں چاہے باہر مزے وی آئی پی لوٹتے ہیں واہ کیا بات ہے چوروں کی اور دہشت گردوں کی۔
میرے پاس بھی اندرونی کہانیاں اس کے علاوہ بھی بمعہ راوی موجود ہیں لیکن چھوڑو یار کیا فائدہ۔۔۔۔ بس اللہ سے دعا ہے کہ ان دہشت گرد گروپوں سے نجات دے دے۔
اللہ تبارک تعالیٰ شریفین سے بھی اس دھرتی کو پاک کردے جو کہ وہابیوں خرابیوں کے کہنے پر اس ملک میں ان دہشت گرد گروپوں کو حکومتی سپورٹ دیتے ہیں۔
 

کاشفی

محفلین
اسی لیے تو خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا۔
نواز شریف اور شہباز شریف کے پاس ناخن ہے۔ جو کہ ملک کی کھٹیا کھڑی کرنے والے ہیں نوچ نوچ کر۔۔۔عنقریب۔۔ لشکرِ جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے پاس محفوظ پناہ گاہ موجود ہے۔۔۔نواز شریف اور شہباز شریف کی صورت میں۔۔۔
 

حسینی

محفلین
جی اور یہ ملک اسحاق وہی دہشت گرد ہے جس نے کورٹ سے رہا ہونے کے بعد 100 قتل کا اعتراف کیا تھا اور پھر پورے پاکستان بھر میں دھندناتے ہوئے پھر رہا تھا۔۔۔ اور سر عام کفر کے فتوے کی فیکٹری چلا رہا تھا۔۔
اور اب نیا ڈرامہ شروع۔۔۔۔۔۔
جی ھاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نواز لیگ نے اس دھشت گرد گروپ کے ساتھ اگلے الیکشن کے لیے سیٹ ایڈجسمنٹ کر لی ہے۔۔۔۔ اب اس طرح کے دھشت گردوں کو ایوانوں میں پہنچا دیں تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے۔
 

کاشفی

محفلین
نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ ساتھ جماعتِ اسلامی والے بھی لشکرِ جھنگوی سے مراسم رکھتے ہیں۔۔۔
549342_10151270406926373_1291548043_n_zps73bad7a3.jpg
 

حسان خان

لائبریرین
نون لیگ کی مشکل - منصور آفاق

امریکی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینٹر رابرٹ مینی ڈیز نے نواز شریف سے ملاقات کرلی اور اس کے بعد نون لیگ کے ترجمان پرویز رشید نے میڈیا پر آکر یہ بیان بھی دے دیا کہ نون لیگ انتہا پسندانہ گروپوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں کرے گی اور اسی سے بات جوڑتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت لشکر جھنگوی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے پر پُر عزم ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عامر میر کی رپورٹ میں تو نون لیگ کے کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے ساتھ تعلقات کا انکشاف کیا گیا تھا (اس وقت سپاہ صحابہ نے اپنا نیا نام اہلسنت و الجماعت رکھا ہوا ہے) ان کے متعلق پرویز رشید نے کوئی بات نہیں کی۔ لشکر جھنگوی کے ساتھ نون لیگ کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے انکار کیا۔ اس اعلانِ انکار پر مجھے اُس برطانوی دوست کی بات یاد آگئی جو لشکرِ جھنگوی کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے، میں نے جب اس سے کہا کہ اب جب تحریک طالبان پاکستان بھی مذاکرات کا نام لے رہی ہیں تولشکرِ جھنگوی کو بھی چاہیے کہ مذاکرات کی طرف آئے۔ حکومت ان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیا ر ہوسکتی ہے، تو اس نے کہا ”میری اطلاع کے مطابق کے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ کی وساطت سے لشکرِ جھنگوی کے نون لیگ کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ اگرچہ لبرل آدمی ہیں، انہیں ایک ٹی وی انٹرویو میں اس کا اقرار کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی کہ میری بیٹی بہت اچھا ڈانس کرتی ہے مگرلشکر ِ جھنگوی کے ساتھ ان کے روابط کا معاملہ بھی خاصا مشہور ہو چکا ہے۔ اصل حقیقت تو اللہ جانتا ہے مجھے تو صرف یہ معلوم ہے کہ وزیرداخلہ رحمان ملک نے بھی یہاں تک کہہ دیا ہے کہ رانا ثنا اللہ لشکرِ جھنگوی کے سرپرست ہیں اگر وہ ہاتھ اٹھا لیں تولشکرِ جھنگوی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
ایک اطلاع کے مطابق نوازشریف نے سعودی حکومت کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک مخصوص مذہبی جماعت کے پندرہ امیدواروں کے مقابلہ میں اپنے امیدوار نہیں کھڑے کریں گے۔ مگر گذشتہ دنوں سعودی عرب پر پاکستان میں دہشت گردی کے الزام نے نون لیگ کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ سعودی عرب پر پاکستان میں دہشت گردی کرانے کا الزام سب سے پہلے برطانوی اخبار” گارڈین“ میں لگایا گیا تھا اس کے بعد یہ بات میڈیا پر کھل کر ہونے لگی کہ سعودی عرب پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ الزام بہت پہلے وکی لیکس نے سعودی عرب پر لگایا تھا کہ اس مقصد کیلئے سالانہ کی فنڈنگ مختلف انداز میں صرف جنوبی پنجاب میں فراہم کررہا ہے لیکن پچھلے کچھ دنوں یہ شور بہت بڑھ گیا ہے۔ سعودیہ کی طرف پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وجہ بھی عجیب و غریب بیان کی جارہی ہے۔کہا جارہا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے سعودیہ پاکستان سے اس لئے ناراض ہے کہ پاکستان کے سربراہ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ نون لیگ میں بھی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پذیرائی نہیں کی جاتی کیونکہ نواز شریف پر سعودیہ میں قیام کے دوران وہابیت کے خاصے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
ایک اطلاع کے مطابق نوازشریف سعودیہ کی وساطت سے امریکہ کو مسلسل باور کرا رہے ہیں کہ پاکستان میں نون لیگ کی حکومت امریکہ دوست حکومت ہوگی مگرقرائن یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ کامیاب نہیں ہونگے کیونکہ امریکہ اور سعودی عرب کے دوستی میں کئی دراڑیں پڑ چکی ہیں اور امریکہ وہاں تبدیلی کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ امریکی صحافی سونیا شاہ نے بہت عرصہ پہلے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ امریکی گریٹر مڈل ایسٹ پلان کے مطابق سعودی عرب ایک غیر فطری ملک ہے سو اس کی تقسیم ضروری ہے۔ منصوبے کے مطابق سرزمین حجاز کو بین الاقوامی متبرک علاقہ قرار دے دیا جائے گا، سعودی عرب صرف ریاض اور اس کے گردو نواح تک محدود کردیا جائے گا۔ اس پلان پر کام کی رفتار تیز کردی گئی ہے سعودی عرب بھی اس امریکی پلاننگ سے بخوبی واقف ہے سو وہ اس کے مطابق اپنے اقدامات کرتا رہتا ہے لیکن اس وقت پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے دنیا بھر میں جس طرح سعودی عرب کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے وہ حیرت انگیز ہے، اس کے بین الاقوامی مقاصد جو بھی ہوں مگر نون لیگ کو اس عمل سے بہت سخت نقصان ہو رہا ہے کیونکہ نون لیگ کی بین الاقوامی سیاست کی عمارت نواز شریف کی سعودیہ کے شاہی خاندان کے ساتھ دوستی کی بنیاد پر کھڑی ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق سعودیہ میں عمرے کے علاوہ کئی اہم ملاقاتوں کے بعد جب واپس لاہور پہنچے تو انہیں پنجاب پولیس نے گرفتارکر لیا ہے۔ سعودی دباؤ کے باوجود پنجاب حکومت کا یہ کام صرف اپنی ساکھ کو بچانے کا عمل ہے۔ ملک اسحاق پر اس وقت تک ستر افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہوئے چودہ سال مسلسل جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے لشکر جھنگوی کی سپہ سالاری کی۔ سری لنکن کرکٹ پر حملے کا الزام بھی انہی پر لگایا جاتا ہے۔ عدالتوں نے انہیں 34مقدمات سے بری کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ وہ کوئی مذہبی بیک گروانڈ نہیں رکھتے نہ ہی کسی مدرسہ سے فارغ التحصیل ہیں مگر بڑے بڑے علمائے کرام انہیں بڑا مرتبہ دیتے ہیں۔گذشتہ جولائی میں انہیں رہائی دی گئی پھر رانا ثنا اللہ کا ذکرِ خیر آگیا۔کہتے ہیں ملک اسحاق کی رہائی میں پنجاب کے وزیر قانون نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کے ساتھ رانا ثنا اللہ کے وہ مراسم ہیں جوآسمانوں پر بنائے جاتے ہیں۔ سو ابھی ایکسال اور رانا ثنا اللہ کی اہمیت و حیثیت سے ذرہ بھر انکار بھی ممکن نہیں مگر اب رانا صاحب کیلئے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا زیادہ دیر تک ساتھ دینا ممکن نہیں رہا۔ نون لیگ کو بھی اس مخصوص شدت پسند مذہبی طبقے سے ووٹ لینے کیلئے کوئی نیا راستہ اختیار کرنا پڑے گا اور امریکہ کی خوشنودی کیلئے بھی پھر سے جاتی عمرہ کی سڑک کلٹن ڈرائیو وے سے ملانی پڑے گی کیونکہ اس سلسلے میں ان دنوں ترکی کے اہل اقتدار بھی کوئی اہم کردار ادا نہیں کر سکتے۔

ربط
 

حسینی

محفلین
نون لیگ کی مشکل - منصور آفاق

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق سعودیہ میں عمرے کے علاوہ کئی اہم ملاقاتوں کے بعد جب واپس لاہور پہنچے تو انہیں پنجاب پولیس نے گرفتارکر لیا ہے۔ سعودی دباؤ کے باوجود پنجاب حکومت کا یہ کام صرف اپنی ساکھ کو بچانے کا عمل ہے۔ ملک اسحاق پر اس وقت تک ستر افراد کے قتل کے مقدمات قائم ہوئے چودہ سال مسلسل جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے لشکر جھنگوی کی سپہ سالاری کی۔
ربط
نہایت شاندار کالم ہے۔۔۔۔
پوری دنیا میں مسئلہ وہی تکفیری سوچ کا ہے، وہ تنگ سوچ جس کے تحت اپنے علاوہ سب کو کافر سمجھنا۔۔۔ اور سعودی ملا یہی سوچ رکھتے ہیں۔
نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن پاکستان میں سعودی عرب کے آلہ کار ہیں۔۔۔ اور انھی کے لیے کام کرتے ہیں۔۔۔
نون لیگ کی دھشت گرد جماعتوں سے ربط اور ان کے لیے فنڈنگ اب سب کے لیے ثابت ہو چکا ہے۔۔۔ واقعی نواز شریف ڈاڑھی منڈا طالبان ہے۔
لہذا اگلے الیکشن میں سب نون لیگ کو رد کریں اور ہرگز ووٹ نہ دیں۔۔۔۔ معتدل ذہنیت رکھنے والے لوگوں کو سلیکٹ کریں چاہے وہ جس مسلک سے بھی ہو۔۔ ان لوگوں کو سلیکٹ کریں ملک وقوم کا درد رکھتے ہوں۔۔۔۔ نہ کہ کسی بھی بیرونی ملک کے ایجنٹ ہوں اور پاکستان میں ان کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہوں۔
 

شمشاد

لائبریرین
۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کو سلیکٹ کریں ملک وقوم کا درد رکھتے ہوں۔۔۔ ۔ نہ کہ کسی بھی بیرونی ملک کے ایجنٹ ہوں اور پاکستان میں ان کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہوں۔

پھر تو کسی کو بھی ووٹ نہیں ملے گا کیونکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کا درد کسی بھی سیاسی لیڈر کو نہیں ہے۔

ہر سیاسی لیڈر بکاؤ ہے بس قیمت کا فرق ہے۔
 
Top