لال مسجد آپریشن شروع

زیک

مسافر
ایک اور بات: پہلے رپورٹس تھیں کہ لال مسجد والوں نے بچوں اور عورتوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان کا کیا ہوا؟
 

باسم

محفلین
بہت کچھ لکھنا چاہتا تھا مگر اس وقت حوصلہ نہیں ہے عجیب سی کیفیت طاری ہے
ٓپریشن شروع ہونے کے بعد یہ پہلی غلطی نہیں ہے کہ اسپتالوں میں جانے سے صحافیوں کو روکا گیا ہے میں نے تو یہ نوٹ کیا کہ دوسرے دن سے میڈیا کو قریب نہیں جانے دیا گیا اور اپنی دی گئی معلومات پر یقین کرنے کو کہا گیا
ابھی سب سچ کھلیں گے
 
معاف کیجیے مگر یہ پوسٹ میں دلیل اور منطق کے اصولوں کی روشنی میں نہیں لکھ سکوں گا ، شاید بہت زیادہ جذباتی ہوں اس لیے بہت سی غلط باتیں جذبات کی رو میں بہہ کر بھی لکھوں گا اور شاید اس لیے بھی لکھوں گا کہ اتنی اموات میں نے اکھٹی اپنے سامنے کبھی نہیں دیکھیں اور شاید اس لیے بھی کہ وہ ہونی ہو گئی جس کا ایک ہفتہ سے انتظار تھا مگر حیرت کی بات ہے کہ دل موت پر مطمئن نہیں ہوا۔

عبدالرشید غازی جسے لوگ انتہائی ظالم ، انتہائی شدت پسند ، دہشت گرد اور برائیوں کا محور بتاتے تھے آج ہم سب نے مل کر آخر اس انتہائی ظالم شخص کو انجام تک پہنچا ہی دیا ، ٹھکانے لگا دیا۔ چھ ماہ سے ہم سب کی زندگی میں سکون حرام کر رکھا تھا کبھی کوئی مطالبہ کبھی کوئی مذاکرہ کبھی کسی کو اٹھا لینا کبھی کسی کو چھوڑ دینا ، لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا۔ ہم سب چاہتے تھے کہ اس شخص کا بندوبست کیا جائے اور اس کے خلاف مناسب کاروائی کی جائے مگر ہم سب کے مطالبے کو ارباب حل و عقد ظالمانہ سمجھتے تھے اور اس ظالم شخص کو ڈھیل دیے جا رہے تھے جس سے ہم سب کو خطرات لاحق ہوتے جا رہے تھے اور ہمارا مطالبہ قانونی کاروائی کا بڑھتا جا رہا تھا۔
اس شخص کے حکم پر طالبات کی ہمت اتنی بڑھی کہ انہوں نے چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا ، کئی عورتوں کو اغوا کر لیا پھر ہمارے دباؤ پر چھوڑ دیا ، پولیس اہلکار بھی اغوا کر لیے پھر ہم نے دباؤ ڈالا حکومت نے وارننگ دی تو چھوڑے پھر مذاکرات شروع کر لیے پھر اسی طرح کی کاروائیاں شروع کر دیں۔ ہم نے بہت کہا کہ اسے روک دیں ورنہ یہ ہماری جان بھی لے سکتا ہے مگر ہماری ایک نہ سنی گئی اور حکومت نے معصوم طلبا اور طالبات کے خلاف کاروائی مناسب نہ سمجھی اور افہام و تفہیم سے مسئلہ کو حل کرنے پر زور دیا جو ہماری شدت پسندی کو گوارا نہ تھا ہم جلد از جلد اس مسئلے کا حل چاہتے تھے اور مناسب کاروائی اور قانون کو حرکت میں لانے کا کہتے رہے مگر ابھی حکومت کے خیال میں عبدالرشید غازی کے خلاف فضا ایسی نہ بنی تھی کہ کاروائی ہو نہ معصوم طلبا اور طالبات کے خلاف کاروائی مناسب تھی۔ حکومت کی رٹ بار بار چیلنج ہوتی رہی اور بار بار حکومت کو یاد دلایا جاتا رہا کہ وہ ظالم اور انتہا پسند کے خلاف قانونی کاروائی کیوں نہیں کر رہی جبکہ باقی طبقات بھی اس کے ساتھ ہیں مگر حکومت کا مثالی صبر جاری تھا کہ لال مسجد والوں نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی انتہا کرتے ہوئے مساج پارلر سے چینی خواتین کو اغوا کر لیا اور اپنی عادت کے مطابق ان سے توبہ یا معافی لے کر انہیں چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد بھی شاید ہماری حکومت کا صبر جاری رہتا مگر چین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور ہماری حکومت کو بادل نخواستہ ایکشن لینا پڑا۔ رینجرز اور فوج نے لال مسجد اور مدارس کو گھیرے میں لے لیا اور غازی صاحبان سے ہتھیار ڈالنے کو کہا اور طلبا و طالبات کو اپنی مرضی سے باہر آنے پر کچھ نہ کہنے کا کہا گیا۔ پہلے دو دن حکومت نے کاروائی بہت صبر و تحمل سے کی اور طلبا و طالبات کو باہر نکلنے کا ہی موقع دیا جس میں ایک غازی شہید ہونے سے بچ گیا مگر دوسرے غازی نے ہمیں موقع دیا کہ ہم اسے قلم اور زبان کی تلوار سے چھلنی کر سکیں اور اسے اس کا ظلم بتا سکیں۔ اپنے بھائی کے پکڑے جانے کے بعد میں تو مطمئن تھا کہ ان بھائیوں کا پتہ چل گیا ایک تو گیا دوسرا بھی اسی قسم کی کچھ حرکت کرے گا اور پھر مجھے اور میرے جیسے اور کچھ لوگوں کو تنقید اور بحث کے لیے وافر مقدار مہیا ہو جائے گی اور ہم حکومت پر تنقید اور غازی برادران کی مذمت دونوں سے فیض یاب ہو سکیں گے۔ توقع کے عین مطابق عبدالرشید غازی نے بھی ہتیھار ڈالنے کی پیشکش کر ڈالی اپنے اور اپنے طلبا کے لیے محفوظ راستہ مانگ کر ۔ ہماری امیدوں پر پورا اترے کہ یہ سب کتنا بڑا ڈرامہ تھا جو حکومت کے ساتھ مل کر یہ لوگ کھیل رہے تھے مگر اب حکومت نے محفوظ راستہ دینے سے انکار کر دیا اور غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی ۔ تیسرا دن ، چوتھا دن ، پانچواں دن ، چھٹا دن روز فائرنگ ہوتی روز لوگ مرتے مگر دونوں طرف سے یہی مطالبات ہوتے اور دونوں اپنی اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ غازی اس پر کہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو محفوظ راستہ دیا جائے اور ہم مجرم پیشہ لوگ نہیں ہیں ہم قاتل نہیں اور اگر یہ نہیں کیا گیا اور حکومت نے ہمیں قتل ہی کرنے کا سوچ لیا ہے تو پھر طاقت کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے ہم ، حکومت قتل کرکے ہمیں اپنی طاقت دکھانے کا شوق پورا کر لے۔ حکومت نے بھی اصولوں پر سودے بازی سے انکار کر دیا اور اگر کہیں کسی نے لچک دکھائی بھی تھی ماضی میں تو اب ان ظالم اور دہشت گردوں کے لیے بند کر دی۔
 
ساتواں دن آن پہنچا سخت مزاحمت اور دونوں طرف سے ہلاکتوں کے بعد امید پیدا ہو چلی کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے شاید کسی طرح قتل و غارت رک جائے شاید حکومت لچک پیدا کرکے کسی اور طریقے سے طلبا و طالبات کو نکال لے اور پھر اس ظالم اور انتہا پسند غازی کو ہم سب مل کر انجام تک پہنچا لیں گے جس نے بچوں اور طالبات کو اپنی ڈھال بنا رکھا ہے ۔ علما کی کوششیں تیز ہوئیں میڈیا نے بھرپور پریشر ڈالا ، چوہدری شجاعت اور مفتی تقی عثمانی نے مسئلے کے حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کیں ، حکومت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ رات دو بجے بریکنگ نیوز آئی کہ مسئلہ کا حل شاید چند گھنٹوں کی دوری پر ہے ، حکومت مان گئی ہے کہ غازی کو آبائی گاؤں اپنی والدہ کے ساتھ جانے دیا جائے گا اور باقی تمام طلبا گرفتاری دے دیں گے اور جو حکومت کو مطلوب ہوں گے ان کے خلاف قانونی کاروائی کرکے باقیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔ چوہدری شجاعت لال مسجد پہنچ گئے اور معاہدہ ہونے کو تھا ، دل ماننے کو نہیں چاہ رہا تھا کہ چلو غازی تو اسی طرح نکلنا چاہ رہا تھا باقی تمام عسکریت پسندوں نے یہ بات کیسے مان لی ، کیسے جانے دے رہے ہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے اس طرح تو غازی بچ جائے گا اور ہے تو ظالم شخص ہی نہ اپنی جان بچا کر سب کو گرفتار کروا کر جا رہا ہے۔ رات اسی کشمکش میں سو گیا ،صبح اٹھ کر دیکھا تو حالات بدل چکے تھے اور دھماکوں اور سخت فائرنگ سے شہر لرز رہا تھا ، کیا غازی کے جانے کے بعد طلبا نے ہتھیار نہیں ڈالے ؟ خبریں دیکھیں تو یقین نہیں آیا کہ غازی کے مذاکرات اس لیے نہیں ہوسکے کامیاب کہ وہ غیر ملکیوں کے پریشان تھا ، اپنے طلبا کے لیے شاید کوئی گارنٹی مانگ رہا تھا، یہ کیا کر رہا تھا وہ اپنا محفوظ راستہ مانگنے میں کامیاب ہو کر اس ظالم میں یہ رحم اپنے طلبا کے لیے کیسے پیدا ہوگیا؟ اس ڈرامے کا کیا ہوا جو وہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا، یہ شخص کیا واقعی جان دے دے گا مگر یہ تو غازی ہی کا بھائی ہے اور یہ تو پورا عالم بھی نہیں۔ آپریشن جاری رہا اور غازی کی تلاش بھی ، دل مضطرب تھا کہ یہ ظالم شخص کب گرفتار یا فرار ہوتے ہوئے پکڑا جاتا ہے اور پھر ہم مل کر اسے ایسی سزا دے گیں کہ آئیندہ کسی کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی جرات نہ ہوگی۔ تمام دن دھماکے ہوتے رہے ، دونوں طرف سے بہت سی ہلاکتیں ہوتی رہیں مگر غازی کے بارے میں کوئی اطلاع نہ ملی ، سات بجے کے بعد مجھے آفس میں گھر سے اطلاع ملی جس نے دی اس نے شاید بے تاثر یا طنزا کہا

غازی کے انا للہ کی خبر آ رہی ہے ٹی وی پر

اس خبر کے لیے کب سے تیار تھا مگر سن کر سن ہو گیا اور بات نہ ہو سکی زیادہ ، فون بند کر دیا۔ پھر ایک کولیگ نے فون پر بات کرتے کرتے بتایا کہ

سر غازی مارا گیا

پھر کچھ دیر بعد ایک اور کولیگ نے بتایا کہ

مار دیا غازی کو

غازی مر گیا ، ہلاک ہوا یا شہید ہوا دماغ کے اس فیصلے سے پہلے ہی دل کی حالت عجیب ہو گئی ، اتنی عجیب اور اتنی خراب کہ انتہائی ظالم اور انتہا پسند کے لیے آنسو بہنے لگے ، کتنی موت کی خبریں سنی مگر دل پتھر کا پتھر ہی رہتا تھا یہ آج کس کے لیے رو پڑی آنکھیں ، دماغ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر دل اور آنکھوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ میں نے باقیوں کے چہرے دیکھے باتیں سنی چپ تو تھے مگر میری طرح کوئی بزدل آنسو نہیں بہا رہا تھا اور ایک ظالم کے لیے کوئی بہاتا بھی کیوں ، ایک انتہا پسند کو ہم نے طاقت سے کچل کر سب انتہا پسندوں کو یہ پیغام دے دیا کہ آئیندہ کسی نے یہ جرات کی تو اسے مارنے کے لیے نہ کوئی مسجد ہمارا راستہ روک سکے گی ، نہ بچے اور نہ عورتیں ۔ ہم انتہا پسندی ، دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور اس میں ہمیں مدارس کو ختم ، مساجد کو گرانا ، بچوں اور عورتوں کی قربانی بھی دینی پڑی تو ہم گریز نہیں کریں گے۔ ہم نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تعریف اپنے پاس محفوظ رکھی ہے ، ہم جسے چاہیں گے وہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہوگا اور جو کام ہم کریں گے وہ قانونی اور ضروری ہوگا اس کے لیے ہم سے پوچھا یا جواز نہ مانگا جائے۔ دماغ مجھے مسلسل سمجھا رہا ہے کہ میں نادانی نہ کروں اور یوں ایک انتہا پسند ظالم ، دہشت گرد کے لیے انسانیت کا درد محسوس نہ کروں ، یہ پڑھ کر میں اپنی بنی بنائی ساکھ روشن خیالوں کے سامنے کھو بیٹھوں گا لوگ مجھے انتہا پسندوں کا ساتھی اور ان کا ہمدرد سمجھیں گے ، اگر اب اتنی تنقید کرکے دل میں افسوس ہو بھی رہا ہے تو دل میں رکھوں لکھنے کی کیا ضرورت ہے سب کو بتانے کی کیا حاجت۔
 

qaral

محفلین
محب جیسی تقریر آپ نے لکھی ہے اس سے کہیں بہتر تقر یریں ہمارے سیاست دان اور مولوی حضرات کر یں گے آپ تو شاید ایک سینسیٹو انسان ہیں اور اپنے جذبات لکھ رہے ہیں مگر وہ بزنس مین ہیں اور یہ ان کے لئے ایک بونس ہے جس سے وہ حکومت کے خلاف مزید تحریکیں اٹھائیں گے اپنے مفاد میں اور لفظوں سے بڑا جادوگر کوئی نہیں. بھولے بھال لوگ ان کے چکر میں آکر استعمال ہوں گے حکومت کا کیا بنے گا یہ تو وقت ہی بہتر بتائے گا مگر اس طرح کے شاید کچھ اور سانحے لازمے ہو جا ئیں اپنا دل مضبوط کر یں
 
قرال صرف آج کا دن اگر ہم سیاست پر نہیں صرف انسانوں پر بات کرلیں تو میں آپ کا ساری زندگی مشکور رہوں گا اور وعدہ کرتا ہوں کہ کل سے میں پھر وہی محب ہوں گا جو آپ کے ساتھ سیاست پر جذباتی ہوئے بغیر تبصرے کیا کروں گا مگر آج جذبات بس میں نہیں اور میں معافی تو پہلے ہی معاف چکا ہوں اپنی جذباتیت اور غلط بیانیوں کی۔ پتہ نہیں کیوں آج شاید اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا ہے اس لیے اور بہت قریب سے دیکھا ہے اس لیے کچھ دیر کے لیے سب بھول کر سب صرف انسان ہی نظر آ‌رہے ہیں جو لاشوں میں تبدیل ہیں۔
 
شاید مجھے غصہ ہے کہ غازی نے مر کر میرے سب اندازے غلط ثابت کر دیے اورمجھے تنقید کرنے کی بجائے سوچنے پر مجبور کر دیا ، مجھے یاد دلا دیا کہ انسانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بے رحمی اور کتنی سنگ دلی آگئی تھی ہم میں۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ بم مار کر مار دینا چاہیے ان سب کو ، کوئی کہہ رہا تھا کہ ان سب کو ختم کر دینا چاہیے کوئی کہہ رہا تھا ان سے کوئی رعایت نہیں کرنی چاہیے یہ سخت سے سخت سزا کے قابل ہیں۔ یہ بھی غصہ ہے کہ آخری وقت میں ہی ہتھیار ڈال دیتا تو حکومت نے اسے زندہ ہی گرفتار کرنا تھا اور پھر اس پر ہم سارا غصہ نکال سکتے ، مقدمہ چلاتے ، قتل کے ، اغوا کے ، دہشت گردی کے اور پھر اسے تختہ دار پر لٹکاتے اور اس تمام عرصے میں ہمیں انتہاپسندی ختم کرنے کا موقع بھی ملتا اور دہشت گردوں کے لیے کوئی نرم گوشہ بھی نہ پیدا ہوتا۔چوہدری شجاعت کے خدا ، رسول کے واسطے بھی اسے موم نہ کر سکے ، آخر تک اپنی ضد نہ چھوڑی حتی کہ زندگی نے بھی اسے چھوڑ دیا۔ مجھے اپنے اوپر بھی سخت غصہ آ رہا ہے کہ میں کیوں سوچ رہا ہوں یہ میں شکر کیوں نہیں کر رہا کہ آخر آپریشن کامیاب ہوگیا اور کم سے کم جانی نقصان پر، چند سو لوگ اتنے زیادہ نہیں ہوتے چاہے وہ فوج کے ہو ، رینجرز کے ، کمانڈوز ہوں ، بچے ہوں ، عورتیں ہوں ،طلبا ہو یا عسکریت پسند ہوں ، ہم نے سب کو مارا تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ایک طرف اتنا ظلم ہوگیا اور دوسری طرف کوئی نقصان ہی نہیں ہوا ، انصاف سے دونوں طرف سے جانیں ضائع کروائیں تاکہ کوئی کسی کو یکسر ظالم یا یکسر مظلوم نہ کہہ سکے اور ہمارا طاقت سے مسائل کو حل کرنے کا منشور بھی پورا ہو جائے۔ شاید میں سوچ رہا ہوں کہ غازی کو ہم نے کیا بنا دیا اور یہ بننے سے روکنے کے لیے ہمارے پاس کتنے مواقع تھے مگر ہم سب خاموش ، اپنے کام سے کام رکھنے والے اور تعرض نہ کرنے والے بن گئے ، کچھ تنقید آپس میں کرلی اور اسے اپنے فرض کی ادائیگی سمجھ لیا۔ ہم نے انسان بن کر کم اور سیاست کے نکتہ نظر سے زیادہ سوچا ، ہم اس سانحے کے لیے انتظار کرتے رہے اسے روکنے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے۔
اب ہم لاشوں کی گنتی نہیں کریں گے ، اب ہم بچوں ، عورتوں کی تعداد بھی نہیں گنیں گے ہم صرف خاموش رہیں گے کہ معاملہ بالآخر ختم ہوگیا ، ایک دوسرے پر تنقید کر لیں گے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا اور ایسا تو ہونا ہی تھا چلو اچھا ہوا۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کا یہی انجام ہونا تھا اور یہی انجام ہوگا شاید یہ مثال ہم نے قائم کرنی تھی اور کر دی جو روشن خیال ہیں وہ اسے مشکل مگر ضروری قدم گردانیں گے جو زیادہ روشن خیال ہیں وہ اسے احسن بھی کہیں گے اور جو تنگ نظر ہیں وہ اس پر قیامت اٹھانے کا شور مچائیں گے اور جو میانہ رو ہیں وہ شاید ان دو میں سے کسی ایک گروپ میں شامل ہونے پر آمادہ ہوں گے کیونکہ ہم نے اب دو ہی طبقات رکھنے ہیں یا تو تنگ نظر یا روشن خیال ( دونوں میں ہمیں شدت ضرور چاہیے تاکہ بنیاد ہماری شدت پسندی پر قائم رہے )۔ انسانی بنیادوں پر یا انسانی ہمدردی جیسے رویوں کو ہم صرف کتابوں میں رکھیں گے یا کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے استعمال کریں گے۔
ہم نے جن عورتوں اور بچوں کے لی کاروائی روک رکھی تھی ، ان کو شہادت میں برابر کا حصہ دیا تاکہ ان کی کفن پہن کر کئی گئی تیاریاں رائیگاں نہ چلی جائیں۔ غازی اور اس کے طلبا تم لوگ کس خیال میں رہے کہ کوئی معاہدہ ہو جائے گا کوئی راہ نکل آئے گی تمہاری انسانی ڈھال کو ہم برداشت کر لیں اور تمہیں چھوڑ دیں گے جبکہ تم سے صاف کہا تھا کہ ہتھیار ڈال دو ورنہ مارے جاؤ گے ، مر گئے نہ اور اتنے سارے اور لوگوں کو بھی اپنے ساتھ مروا لیا ، کیا ملا تمہیں یہ سب کرکے ، ہمیں مجبور کرکے ، ورنہ ہم تمہیں اس طرح نہیں مارنا چاہتے تھے۔
اس سب کے ذمہ دار صرف اور صرف تم خود تھے ، صرف تم خود ،
سن رہے ہو کیا
افسوس کہ اب تم سن بھی نہیں سکتے
اور سن بھی لیتے تو کیا تم نے زندگی میں کبھی نہیں سنا مر کر کیا سنو گے
مگر تمہارے پیچھے رہ جانے والوں کو ہم ضرور سنائیں گے اور جس نے نہ سنا
اسے تمہارے پیچھے بھیج دیں گے تمہیں سنانے کے لیے

اتنی دیر ہوگئی لکھتے ہوئے اور آفس میں بیٹھے ہوئے ، گھر بھی جانا ہے ، غازی کو گزرے بھی کئی گھنٹے ہو گئے مگر آپریشن ابھی تک جاری ہے لڑنے والوں کی ہمت ہے کہ مجھ میں تو اب دیکھنے کی ہمت بھی باقی نہیں۔
 

سید ابرار

محفلین
برادر،
یہ فوج وہ ہے جو اپنی جانوں کا نذرانہ اس لیے پیش کر رہی ہے تاکہ اغوا شدہ طالبات اور طلباء فائرنگ کی زد پر نہ آ جائیں۔
کاش کہ ان آٹھ فوجی جوانوں کو آپ نے شہید لکھا ہوتا اور کاش کہ آپ نے کھل کر ان سانپوں کو دھشت گرد لکھا ہوتا جو اپنے ہی بچوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں اور وہاں سے باہر نکلنے پر انہیں فائرنگ کر کے قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔

اگر بقول آپ کے اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ انہوں نے طلبہ اور طالبات کو یرغمال بنایا تھا تب بھی پرویز مشرف نے ان کی رہائی کے لئے جو طریقہ اختیار کیا ، "تاریخ "میں اس کی نظیر نہیں ملتی
اغوا کنندہ سے اس بات کا مطالبہ کرنا کہ وہ اخلاقی بنیادوں پر یرغمالیوں کو رہا کردے ، حماقت کی بات ہے ،یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان کی حفاظت کے لئے ممکنہ حد تک اغواکنندگان کی بات تسلیم کرلے ،
اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں ،
چند سال پہلے جب ایک طیارہ اغوا کیا گیا اور حکومت ہند سے مولانا مسعود اظہر کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تو حکومت ہند نے ان مسافرین کے جانوں کی حفاظت کے لئے اپنے ”بد ترین دشمن” کو رہا کردیا ، حالانکہ حکومت کو معلوم تھا کہ مولانا مسعود مستقبل میں بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں ،
اسکے علاوہ 1992 کشمیر میں بھی ایسی ہی سچویشن میں حکومت ہند نے یرغمالیوں کی جان بچانے کے لئے اغواکنندگان کو چھوڑ دیا تھا
صحیح بات تو یہ ہے مہوش صاحبہ کہ ان ”یر غمال طلبہ و طالبات” سے کسی کو حقیقی ھمدردی نہیں تھی ،
ظاہر ہے انہوں نے ملک پاکستان میں ایک ”بنیاد پرست“ مدرسہ میں ”دینی تعلیم “ حاصل کرنے کی ” جرات “ جو کی تھی ،
اگر ان کی بجائے صرف ایک امریکی سفیر ”یرغمال “ ہوتا تو یقینا ”صدر پرویز مشرف “ کو اس قسم کے کسی آپریشن کے بارے میں سوچنے تک کی ہمت نہ ہوتی
 

ظفری

لائبریرین
ارشادِ خداوندی ہے کہ میزان میں خلل نہ ڈالو ۔ انصاف کے ساتھ وزن قائم کرو ۔ عدل کا یہی اٹل کلیہ ہے جس پر ساری کائنات کا دارومدار ہے ۔ ہر شے کا فطری مقام متعین ہے ۔ معین دائرہ کار سے تجاویز ناانصافی ہے ۔ حد سے بڑھتے ہوئے اگر دھونس ، دھاندلی اور جبرواستبداد سے کام لیا جائے تو یہ ظلم کے زمرے میں آجائے گا ۔ ظلم فسادِ آدمیت کی جڑ ہے ۔ جہاں ظلم ہو وہاں انسانیت نیپ نہیں سکتی ۔ خادم مخدوم کی تقسیم کچھ قوانین پر مبنی ہے ۔ ریاست اگر تحفظات کی ضمانت نہیں دے سکے تو اپنے قیام کا جواز کھو بیٹھتی ہے ۔ اور اس کی حقیقی شکل آج میرے سامنے لال مسجد کے ذمہ داروں کے انجام کے نتیجے میں سامنے آئی ۔

پتا نہیں کس سے ، کہاں اور کیسے غلطی ہوئی ۔ مسجد و مدرسے کی غیرقانونی تعمیر مسئلہ تھا ، یا وہاں دیئے جانے والے درس سے کچھ لوگوں کو فکر لاحق ہوگئی تھی ۔ یا اسلام آباد میں اتنی جگہ کم پڑگئی تھی کہ لال مسجد کے علاوہ ملک میں جہاں سنیکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی مساجد موجود ہیں وہاں ان پر کسی کی نظر نہیں گئ ۔ یا پھر مسجد کے ذمہ داروں کا رویہ تھا جس سے نام نہاد قانون کی دھجیاں اُڑیں یا پھر حکومت نے الیکشن سے پہلے سیاسی چال کے طور پر بچھائے ہوئے کئی مہروں میں اس ایک کو استعمال کیا ۔

کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ سرا کہاں ہے ۔؟ مگر ایک بات سمجھ آتی ہے کہ اس پورے واقعے میں کسی بھی سیاسی اور مذہبی جماعت یا رہنما کا کوئی کلیدی کردار نہیں رہا ۔ ہر کوئی اس معاملے میں ہاتھ ڈالتا ہوا ڈر رہا تھا ۔ یہ سب سیاسی اور ذاتی مفادات کی اسیری تھی یا کوئی اور وجہ ۔ 12 مئی کا کراچی کا واقعہ ہو یا بگتی کی ہلاکت کا شور یا پھر وزیرستان میں خود ساختہ جنگ کا واویلا ۔ ہر جگہ سیاسی اور مذہبی لیڈر اپنا اپنا راگ الاپتے نظر آئے ۔ مگر چھ ماہ سے جاری اس تناؤ کے مسئلے پر کسی کی زبان نہیں کھلی ۔ کسی نے کھل کی اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ۔ کسی نے ریلی نہیں نکالی ۔ یہ مجرمانہ خاموشی اس بات کا مظہر ہے کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہوا ۔ جس میں غازی برادرن کو استعمال کیا گیا ۔

اسلام آباد میں بدکاری کے اڈوں کے خلاف اور انصاف اور شرعیت کے نفاذ کے لیئے جامعہ حفضہ کی طالبات اور مدرسہ کے طلبہ نے جس طرح اپنے ردعمل کا اظہار کیا گو کہ وہ ایک مثبت طرزِ عمل نہیں تھا ۔ مگر اس کے پیچھے جو مقصدیت چھپی ہوئی تھی ۔ وہ صریحاً ایک مثبت سوچ تھی ۔ کیا حکومت کو وہ عوامل نظر نہیں آئے جن کی بناء پر ان بچوں اور بچیوں نے اس طرح کے اقدام اٹھائے تھے جو قانون کو اپنے ہاتھ لینے کے مساوی نظر آئے ۔ حکومت ان کی شکایات اور ان برائی کی وجوہات کو ختم کرنے یا دور کی کوشش کیوں نہیں کی ۔ اگر ایک مسجد کی تعمیر کو ناجائز جگہ پر قرار دے کر اتنا بڑا ایکشن لیا جاسکتا ہے تو اسلام آباد میں ان برائیوں کو کیوں نہیں ختم کیا گیا ۔ جس سے کہ وجہ سے جامعہ حفضہ منظرِ عام پر آئی ۔ وہ کون سے عناصر تھے جو لال مسجد اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں رخنے ڈالتے رہے ۔ اگر ان اُمور پر سوچا جائے تو بات حکومت اور غازی برادران سے نکل کر کہیں اور جارہی ہے ۔ ان تمام معاملات کا ماخذ کہیں اور ہی بنتا ہے ۔ کیا ہم اس سمت میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یا پھر ہم اسلام کو اس طرح کے کربلا میں بار بار اسی طریقے سے زندہ کرتے رہیں گے ۔ ؟
 

غازی عثمان

محفلین
لال مسجد آپریشن۔۔

10-7-2007
9-11 pm
÷÷÷

دل خون کے آنسو رو رہا ہے، اسوقت تک غازی عبدالرشید جاں بحق ہو چکے ہیں، ان کی والدہ بھی خالق حقیقی سے جاملی ہیں، ام حسان اور ان کی بیٹی گرفتار ہو چکی ہیں اور جن کے خون کی فکر حکومت کو اے پی سی تک لاحق تھی وہ حلال ہوچکا ہے، پاک فوج کے شیر جوان جنہوں نے آپریشن چار گھنٹوں میں ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی اب تک دھشتگردوں سے نبردآزما ہیں، ملک کے ایک فیصدی نمائندہ سیکولر انتہا پسند تالیاں پیٹ رہے ہیں اور ۔۔۔ عوام کے لئے اور بھی دکھ ہیں ذمانے میں محبت کے سواء۔ کل اسکور تقریبا 200
÷÷÷÷÷÷÷÷÷

میں پہلے دن سے ہی ٹی وی کے آگے بیٹھا ہوں بیماری میں اسکے سوا کام کیا کرتا، لمحہ بہ لمحہ بلکہ بلٹ ٹو بلٹ کوریج ملاحظہ کرتا رہا۔

سب سے پہلے میں آپ لوگوں کی جانب سے اٹھائے گئے کچھ سوالات کا جواب دینا چاہوں گا،

ایک جگہ مہوش نے کہا کہ؛
“اور لال مسجد کے حامی ابھی تک یہ نہیں بتا پائے کہ وہ غصب شدہ جگہ پر بنائی جانے والی مسجد کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ (لال مسجد والوں کو یہ ساری برائیاں اُسی وقت نظر آنی شروع ہوئی ہیں جب سے ان پر الزام عائد ہوا ہے کہ یہ جگہ غصب شدہ ہے، ورنہ اس سے پہلے وہ آرام سے بیٹھے تھے)“

١) لال مسجد کے حامی کون ہیں کیا آپ بتائیں گی مجھے پورے پاکستان میں کوئی ڈھنگ کا بندہ ایسا نہیں ملا جو ان کی حمایت کرے۔
٢) لال مسجد اوقاف کے زیرانتظام جائز زمین پر بنی ہوئی مسجد ہے۔ اس کے امام کا عہدہ ڈسٹرک خطیب کے برابر ہے، گریڈ ہے 18

“اور اس لال مسجد کا سب سے بڑا فتنہ وہ "شیعہ کافر" کے نعرے تھے جنہیں ہمارا میڈیا بھی ٹی وی پر نہیں لایا اور کبھی ان سے اس بابت سوال نہیں کیا۔ “
صرف ایک مشہور بین الاقوامی چینل نے یہ واقعہ رپورٹ کیا تھا، ان کی کریڈیبلیٹی اتنی اچھی ہے کہ اسلام آباد میں جیونیوز کے آفس پر حملہ کے موقع پر انہونے رپورٹ کیا کہ پنجاب پولیس اللہ اکبر کے نعرے لگا رہی تھی ( اس حملے کی ویڈیو میں ایساکچھ نہیں تھا میں نے سنا ہے کے کتوں کے لئے ایک وسل ہوتی ہے جو صرف اسے ہی سنائی دیتی ہے کیونکہ انسان کے کان اس فریکوئنسی پر نہیں سن سکتے،، میرے خیال میں بی بی سی والوں کو بھی کوئی مافوق الصوت آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ )

“آپ لوگوں کو شائد علم نہ ہو، مگر میں بتاتی چلوں کہ صورتحال یہ ہے کہ شیعہ کمیونٹی کے کراچی میں کئی ڈاکٹرز کو ہلاک کر دیا گیا، اور اس سے خطرناک بات یہ ہے کہ وہ تمام شیعہ پاکستانی جو اچھی پوسٹوں پر ہیں، انہیں دھمکی آمیز خط مل رہے ہیں۔“
ہمیں معلوم ہے اور شیعہ کمیونٹی کا صبر اور فہم بھی ہم نے دیکھا ہے وہ اصل دشمن کو پہچانتے ہیں۔

“اور یہی لوگ میرے ایک چھوٹے کزن کو پکڑ کر اپنی مسجد میں لے گئے اور انکی اصلاح امت دیکھئے کہ میرے کزن کو اُس وقت تک نہیں چھوڑا جبتک اس نے امام مہدی (بقول اُنکے شیعہ امام مہدی) سے لیکر تمام شیعہ علماء کو گالیاں نہ دے دیں۔“
یہ بات ہضم نہیں ہورہی راوی کے ثقہ ہونے کا معلوم کریں، اور اگر یہ بات صحیح ہے تو حکومتی خامشی ناقابل برداشت ہے، ویسے آپ کے کزن نے لال مسجد میں موجود اسلحہ تو دیکھا ہی ہوگا، جس کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں ہیں کچھ صحیح بات ہی معلوم کر لیں،
ویسے میں کچھ شیعہ رہنماؤں اور علماء ذاتی طور پر جانتا ہوں، اسی لئے بات کچھ مشکل لگ رہی ہے لیکن اگر صحیح ہے تو میں آپکے کزن کے مدد کر سکتا ہوں۔ اور ایسا واقعہ ہونا کراچی میں کھلے عام ناممکن ترین ہے۔

قرال نے لکھا؛
“امریکہ اور بر طانیہ میں اگر میڈیا کو آزادی ہے تو وہ اپنا کام بھی امانت داری سے کر تا ہے بکاؤ نہیں ہے“
فاکس، سی این این، بی بی سی، اور امانت داری ، آپ کس کی جنت میں رہتے ہیں۔

مہوش نے لکھا؛
اگر فوج سے کشمیر آزاد نہ ہوا تو یہ بتائیں کہ دھشت گرد ملاؤوں سے کیا ہوا؟
ملاؤں کی خبر نہیں، کشمیری لڑ رہے ہیں۔ کارگل میں ذبردستی ہتھیار نہ ڈلوائے جاتے تو کچھ اچھی امیدیں تھیں۔

“وہ تو شکر کریں کہ ایک ضمیرِ عالمی بیدار ہے جو امریکہ بہادر کو بھی روکتا ہے کہ وہ معصوم شہریوں کی جانیں نہ لیں اور اسی وجہ سے امریکہ شہریوں پر کھل کر حملے نہیں کر سکا۔ “
اسی روکنا کہتے ہیں تو بھائی ، نہ روکو شاید کوئی بہتری ہو۔
؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

‘اس موقع پر میں ہمیشہ اسرائیل کی مثال دیتی ہوں کہ اسرائیلی شہریوں پر کیے جانے والے خود کش حملوں نے ضمیرِ عالمی کو اتنا کمزور کر دیا کہ اسرائیلی حکومت کو کھل کر موقع مل گیا کہ وہ فلسطینی معصوم آبادی پر حملے کرے۔۔۔۔۔۔ اور نتیجہ یہ ہے کہ آج عرصہ دراز ہو گیا اور حماس تمام تر بلند دعوؤں کے باوجود کوئی خود کش حملہ نہیں کر پا رہی ہے۔ “
اسرائیل کے بارے میں عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ، 1948 میں نہ حماس تھی نہ ہی خودکش حملے پھر بھی صابرہ اور شتیلہ، بیروت کا قصاب عوامی حمایت سے وزیراعظم بناء۔

ظفری نے لکھا۔

“محب ۔۔۔۔ حکومت کو اتنے محاذوں میں الجھا کر اب کس معجزے کی توقع کی جارہی ہے ۔ بات اگر National Disaster کی ہے تو امریکہ جیسا ملک بھی New Orleans کے Disaster موقع پر گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گیا تھا ۔“
حکومت کو کس نے کہاتھا کہ اتنی جگہ سر دو۔۔۔۔ ڈیزاسٹر کے معاملہ میں ہماری اور امریکہ حکومتیں ایک سی ہیں۔
١) نیواورلینز میں دینے کے لئےامدادی سامان نہیں تھا البتہ گیس حملوں سے بچنے کے لئے ماسک وافر تھے، شہریوں کو عذاب سے بچانے کے لئے مینجمٹ نہیں تھی دشمن پر گرانے کے لئے ڈیزیکیٹر موجود تھے۔
٢) ٤٨ گھنٹوں تک فوج موبیلائز نہیں ہوئی کیونکہ پنجاب سے آرمی لیجانے میں ٹائم لگتا، چند گھنٹے کہ فاصلے پر موجود وزیرستان سے ایک فوجی بھی نہیں ہٹایا۔( ترکی کی رلیف ٹیمیں ٢٤ گھنٹوں میں اپریشنل ہو گئی تھیں۔)

ساجد اقبال نے کہا؛
“ رینجر والوں کا مکھڑا تو ابھی تک دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ چند صحافیوں نے ان کی طرف کیمرہ کا رخ کرنا چاہا لیکن نتیجتا وہ عالم بالا پہنچ گئے۔(ڈی ایم جی ڈیجیٹل کے فوٹوگرافر اور مقامی صحافی)“
صحافیوں کا موقف بھی یہی ہے کہ صحافیوں کو رینجرز کی گولیاں لگیں۔

پاکستانی نے لکھا؛
“لال مسجد سے آنے والی تصاویر دیکھ کر لگتا ہے کہ مسجد کی انتظامیہ کسی بھی بڑے تصادم کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔ بڑے بڑے مورچوں اور اسلحہ سے لیس طلبہ اپنے گیس ماسک پہنے کسی بھی قسم کی جنگ کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔“
تصادم کے لئے تیار تھے لیکن جنگ کے لئے نہیں اتنا اسلحہ تو رفاہ عام یونٹ میں موجود ہوگا، گیس ماسک اضافی تھے لیکن باآسانی مل جاتے ہیں ( میں نے پشاور میں دیکھے تھے روسی فوجیوں کے ) ان کی لمبی لمبی گپوں نے ہی پاکستان کو اس سانحہ سے دوچار کیا اوپر کیا معاملہ ہوگا اللہ ہی جانتا ہے لیکن معصوم جانوں کی موت کے ذمہ دار یہ بھی اتنے ہی ہیں جتنی گورنمنٹ یا شاید اس سے بھی زیادہ۔

شمشاد نے لکھا ؛
“ان اموات کا خون کس کے سر جائے گا؟
مشرف کے سر
مولوی عبد العزیز کے سر
دینی جماعتوں کے کرتا دھرتا جو ہیں ان کے سر“
دینی جماعتوں نے کیا کیا ہے؟؟؟؟

واجد نے لکھا؛
“بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
“کیا خوب اسلام ہے ماشاء اللہ _____ _______ کافروں مشرکوں کاعظمت بیان کرنے والوں خدا کی عظمت کو تار تار کرنے والوں“
واجد بھائی صبر کا دامن مت چھوڑا کریں کتنوں نے آپ کو سمجھایا ہے، آپ نے اللہ کی حمد کو طنز کے طور پر استعمال کیا اور اس کے فورا بعد_______ _______ خدارا اس کو ایڈٹ کریں
اللہ آپ کو ایمان اور صحت کو دولتوں سے خوب سرفراز کرے، عقل سلیم دے، فہم دے ، آمین ( اخوکم فی اللہ ) ( آپکا بھائی اللہ کی خاطر )

شاکر القادری نے لکھا؛
“آپ نے برقع پوش مولوی کا انٹویو بھی سنا ہوگا“
عبدالعزیز صاحب اپنے کاز سے سینسیئر نہیں تھے اس لئے بھاگے ورنہ لوگ تو خالص دہریت کے لئے جان دیدیتے ہیں یہ تو پھر بھی خود کو صحیح سمحجتھے تھے ( ان کا طریقہ بالکل غلط تھا میں ان سے اتفاق نہیں کرتا )
اسی لئے وہ انٹرویو میں برقہ پہننے پر رازی ہو گئے لیکن اس کا اثر بہت غلط پڑا سارے میڈیا پر لعن طعن ہوئی۔ اور خود کو حکومت کے حوالے کرنے والے طلبہ کا زور ٹوٹ گیا اگر یہ نہ ہوتا تو شاید مزید جانیں بچ جاتیں۔

شمشاد نے لکھا ؛
“ یہ جو اتنی اموات ہوئی ہیں، ان کا کون ذمہ دار ہے؟ میں تو کہوں گا یہی مُلا ہیں جنہوں نے کتنے ہی گھروں کے چراغ گُل کر دیئے ہیں اور ابھی نجانے اور کتنے اپنی جان سے جائیں گے۔“
حکومت کی زمہ داری بھی برابر ہے،

جنید نے لکھا؛
“ اور رہی بات دہشت گردی کی تو یہ دہشت گردی نہیں بلکہ پاکستان میں اسلامی انقلاب لانے میں پہلا قدم ہے ہمیں ان کی حمایت کرنی چاہیے۔“
اور جو افکار اور اذہان کے انقلاب کے لئے 70 سال سے کوشش کررہے ہیں وہ کیا بھٹے بھون رہے ہیں۔

اظہر الحق نے لکھا؛
“اور حکومت کی بی جماعت ایم ایم اے جو بہت مخلص ہے چوبیس چوبیس گھنٹے نشستن گفتن اور برخاستن کی پلاننگ سے حکومت کی مدد کر رہی ہے ۔ “
ایم ایم اے کے اخلاص پر طعنہ زنی کر کے آپ ان کے بہترین کردار کو فراموش نہیں کر سکتے۔

مہوش نے لکھا؛
“سب کچھ چھوڑئیے کیا آپ کو نظر نہیں آتا کہ سالوں سے یہ لوگ ناجائز زمین پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں اور پھر اسے مسجد کا نام دیتے ہیں۔ کیا یہی آپکا اسلام اور لال مسجد والوں کا اسلام ہے؟
ایسی غاصبی جگہ کو مسجد کہنا خود مساجد کی توہین ہے۔ چنانچہ اسے لال مسجد کہنے کی بجائے "لال نامسجد" کہا جائے تو بہتر ہے۔ “

١) کیا ناجائز ذمین پر قبضہ کرنے کی سزا تعزیرات پاکستان کی کس شق کے تحت سزائے موت ہے، وہ بھی ماوراء عدالت؟
٢) لال مسجد جائز ذمین پر ہے۔

‘خواتین کے اغوا کے وقت "شیعہ کافر" کے نعرے لگا رہے تھے، “
١) جواب اوپر
٢) کسی بھی محلہ کے مستقل رہائشی کو یہ حق حاصل ہے کے وہ محلے میں ہونے والی بدکاری کا سدباب کریں، خواہ حکومت کرے یا نہ کرے، ( آنٹی شمیم سے متعلق تمام باتیں واضح ہیں۔ )

15 صفحات پڑھ لئے ہیں گیارہ بج گئے ہیں دوست کے آفس میں بیٹھا ہوں، شدید بخار میں پھک رہا ہوں باقی ذندگی رہی تو۔
اجازت۔۔۔


اپنا اوپینین اس پوسٹ کے بعد۔
 

مہوش علی

لائبریرین
اگر بقول آپ کے اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ انہوں نے طلبہ اور طالبات کو یرغمال بنایا تھا

میرا پاکستان پر راشد کامران کی پوسٹ کا ایک اقتباس:

خیر مبارک ۔۔ لیکن یہ بات بھی یاد رکھیں کے اگر اسطرح کے مذاکرات کامیاب ہوتے گئے تو ہر گلی میں ایک لال مسجد قائم ہو جائے گی کے اس فصل کے لیے ہمارا ملک انتہائی زرخیز ہے۔۔ چلو کسی کی بات نہ مانو کم از کم ایکسپریس اخبار میں عبدالستار ایدھی کا بیان پڑھ لو کے لال مسجد والوں نے بچوں اور لڑکیوں تک کو باہر نکالنے کے لیے کسی قسم کی لچک نہیں دکھائی ۔۔ اگر یہ ہٹ دھرمی اسلامی انقلاب ہے اور عبدالرشید غازی اور برادار برقع کے ذریعے آنا ہے تو اس سے بہتر تو نام نہاد روشن خیال ہیں کے کم از کم اپنی روشن خیالی کا بھرم تو رکھتے ہیں ۔۔

ابرار صاحب،

فورم پر ممبرز سوگوار ہیں اور میں انکے احترام میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتی، مگر ہندوستان کی مثال دیتے وقت آپ کو گولڈن ٹمپل کیوں نہ یاد آیا؟ جبکہ طیارہ اغوا کر کے افغانستان لے جانے کی نسبت گولڈن ٹمپل کا واقعہ لال مسجد کے واقعہ سے بہت قریب ہے۔

ابرار صاحب،
مسئلہ یہ ہے کہ جذباتیت بہت بڑھ گئی ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ اس فورم پر ہم کچھ سیکھنے کی بجائے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، اور یہ ہمارا ایک منفی رویہ ہے۔

ایک آخری بات عرض کر دوں کہ انڈیا کی مثال دینے کی بجائے سب سے اچھی مثال ہوتی کہ خانہ کعبہ میں قبضہ گروپ کے ساتھ سعودی حکومت کیا سلوک کیا۔

اب میں مزید اسلامی تاریخ میں جانا نہیں چاہتی، ورنہ باخدا آپ کو بہت کچھ بتاتی۔ لیکن اگر ہم سب لوگ اس وقت جس جذباتیت میں بہہ رہے ہیں، تو صدق دل اور صحیح نیتوں سے کہی جانی والی باتیں بھی الٹا ہی اثر کر رہی ہوتی ہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
مہوش کسی اور کو جذباتیت کا الزام دینا مناسب نہیں ہوگا۔ گفتگو کو اس نہج پر پہنچانے میں بڑا ہاتھ آپ کا ہے۔ آپ ہی نے لال مسجد والوں کو خارجیوں کے مترادف قرار دے کر ان کا قتل عام جائز قرار دیا تھا۔ میں معذرت چاہتا ہوں لیکن میں اسے حد درجے کی سنگدلی قرار دوں گا۔
 

سید ابرار

محفلین
:x کتنا تنگ کر رکھا ہے لال مسجد والوں نے ساری عوام کو ۔ :oops:

اس ”تنگ“ کرنے کی انتہائی ”شاندار“ سزا دی گئی ہے ؛ حاکم وقت کی طرف سے، کہ انہیں اپنی جان سے ہی ہاتھ دھونا پڑا،
ویسے لال مسجد والوں نے عوام کو کیسے ”تنگ“ کیا یہ سمجھ میں نہیں آیا ، اب اگر کسی محلے میں فحاشی کا اڈہ چلانے والوں کو پکڑ کر توبہ کروانا، یا فحش ، نیم عریاں ، نیز مغربی اور ہندوانہ تہذیب و ثقافت کے غلیظ مواد پر مشتمل ویڈیو کیسٹس اور سی ڈیز کی فروخت سے دکانداروں کو روکنا ، یا گناہوں کے اڈوں کو بند کروانے کے لئے تحریک چلانا یہ عوام کو ”تنگ “ کرنے میں داخل ہے تو میں کچھ نہیں کہ سکتا،
 
ہمت علی

آپ کے انداز سے کچھ واضح نہیں‌ہو رہا کہ آپ نے یہ جملہ تائید میں لکھا ہے یا تضحیک کے لئے۔

اگر ممکن ہو تو اپنا مؤقف واضح کر دیں ۔

شکریہ

بہن کسی کی تضحیک مقصود نہیں۔ جو حالات فوج نے بنادیےہیں‌ وہ ہم سب کی تضحیک ہے چاہے کتنے موافق ہی کیوں نہ لگ رہے ہوں۔
 
نبیل بھیا نے لکھا ہے:
الطاف حسین کو اب جشن منانا چاہیے۔ شاید اس موقعے پر کراچی میں ایک اور ملین مارچ کا انعقاد ہو جائے۔
اور۔۔۔
یہاں لفظ دہشت گرد کا کافی استعمال ہوا ہے۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ دہشت گرد کون ہوتا ہے اور لال مسجد والے کس طرح دہشت گرد کی ڈیفنیشن پر پورے اترتے تھے؟

کیا لال مسجد والے بوری میں بند لاشیں سڑکوں پر پھینکتے تھے؟

کیا لال مسجد والوں نے ٹارچر سیل قائم کیے ہوئے ہیں جہاں لوگوں کی ہڈیوں میں ڈرل مشین کے ذریعے سوراخ کیے جاتے ہیں؟

کیا لال مسجد والوں نے شہر کو خون کے پیاسے سیکٹر کمانڈرز کے حوالے کیا ہوا ہے جو جب مرضی لاشوں کے ڈھیر لگا دیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہ ہو؟

بہترین بات یاد دلائی ہے آپ نے۔۔۔ ملاحظہ پیر الاعظم رہبر شریعت حضرت الطاف حسین مدظلہ العالی کا بیان:
1100221181-1.gif

(بحوالہ: روزنامہ "ایکسپریس"، کراچی۔ 11 جولائی 2007ء۔ صفحہ اول(
اس کے ساتھ ساتھ ڈیل کے حوالہ سے شہرت اختیار کرنے والی اور امریکی تجزیہ نگار کی جانب سے ایشیا کی نالائق ترین لیڈر قرار پانے والی بے نظیر صاحبہ کا بے نظیر بیان:
1100221184-1.gif
 
رپورٹس کے مطابق حکومت نے صحافیوں کو ہسپتالوں میں آنے سے بھی منع کر دیا ہے۔ میرے خیال سے یہ انتہائی غلط قدم ہے جس سے حکومت کی پیش‌کردہ casualty figures کو ماننا مشکل ہو جائے گا۔

’صحافیوں کو گولی مار دینے کا حکم‘
لال مسجد آپریشن کے دوران حکام نے راولپنڈی اور اسلام آباد کے ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ لال مسجد کے قریب جی ِسکس کے بیشتر علاقوں میں جہاں کارروائی جاری ہے وہاں صحافیوں کی رسائی پہلے ہی سے محدود ہے۔

ہسپتال جانے والے صحافیوں کے مطابق انہیں بتایا گیا ہے کہ اگر میڈیا کے کسی شخص کو ہسپتال میں دیکھا گیا تو اسے گولی مار دی جائے گی۔
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/story/2007/07/070710_media_lalmosque_rs.shtml
تاہم اب حکومت اس بات سے مکر گئی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌تھی۔
 
میرا پاکستان پر راشد کامران کی پوسٹ کا ایک اقتباس:



ابرار صاحب،

فورم پر ممبرز سوگوار ہیں اور میں انکے احترام میں زیادہ لکھنا نہیں چاہتی، مگر ہندوستان کی مثال دیتے وقت آپ کو گولڈن ٹمپل کیوں نہ یاد آیا؟ جبکہ طیارہ اغوا کر کے افغانستان لے جانے کی نسبت گولڈن ٹمپل کا واقعہ لال مسجد کے واقعہ سے بہت قریب ہے۔

ابرار صاحب،
مسئلہ یہ ہے کہ جذباتیت بہت بڑھ گئی ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ اس فورم پر ہم کچھ سیکھنے کی بجائے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں، اور یہ ہمارا ایک منفی رویہ ہے۔

ایک آخری بات عرض کر دوں کہ انڈیا کی مثال دینے کی بجائے سب سے اچھی مثال ہوتی کہ خانہ کعبہ میں قبضہ گروپ کے ساتھ سعودی حکومت کیا سلوک کیا۔

اب میں مزید اسلامی تاریخ میں جانا نہیں چاہتی، ورنہ باخدا آپ کو بہت کچھ بتاتی۔ لیکن اگر ہم سب لوگ اس وقت جس جذباتیت میں بہہ رہے ہیں، تو صدق دل اور صحیح نیتوں سے کہی جانی والی باتیں بھی الٹا ہی اثر کر رہی ہوتی ہیں۔

مہوش اس سانحہ پر بھی اگر کسی کا دل شق نہیں ہوا اور وہ اسے بہترین اقدام گردان رہے ہیں اور خراج تحسین کا بھی سلسلہ جاری ہے تو میری طرف سے اسے 'آہنی اعصاب' رکھنے پر مبارکباد دے دیجیے اور ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اس کامیاب اور مکمل آپریشن پر خراج تحسین بھی پیش کر دیجیے کہ اب نام نہاد اور حقیقی روشن خیالوں کی مراد بر آئی اور جڑ سے خاتمہ کر دیا ہماری حکومت نے تمام لوگوں کا۔

آپ بھی ماشاءللہ کافی مضبوط اعصاب اور غیر جذباتی ثابت ہوئی ہیں خصوصا ہلاکتوں کے بعد ورنہ اس سے پہلے ایک نعرہ لگنے پر آپ نے صفحات کے صفحات بھر دیے تھے انتہا پسندی اور دہشت گردی اور مستقبل میں اس کے نتائج پر۔ اب سینکڑوں لاشوں کے بعد یہ تلقین کہ ہم جذباتی نہ ہوں اور ساری باتیں الٹی اثر کر رہی ہیں ہم پر۔
خانہ کعبہ پر قبضہ گروپ کی مثال بھی خوب دی ہے ، یہاں لال مسجد اور جامعہ حفصہ والوں نے اپنی مسجد اور جامعہ پر خود ہی قبضہ کیا ہوا تھا کیا؟ چلیں آپ کی تسلی کہ حکومت نے جامعہ حفصہ کو منہدم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور مسجد کو بھی چھوٹا کرکے اس میں پارکنگ کی جگہ نکال رہے ہیں۔

مزید اسلامی تاریخ میں نہ ہی جائیں تو بہتر ہوگا کہ ہمارے لیے ہمارے خون سے ہمارے سامنے ایک نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے اور ہمیں صبر اور غیر جذباتیت کا درس بھی دیا جا رہا ہے۔

تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی
گھٹ کے مرجاؤں یہ مرضی ہے مرے صیاد کی

یہ شعر تھا مگر حکومت نے اسی حقیقت میں ڈھال دیا اعصاب شکن گیس کا استعمال کرکے ، کتنی طالبات دم گھٹنے سے ہلاک ہوئیں اس کی روداد پولی کلینک کے ڈاکٹروں سے مجھ تک تو پہنچ گئی اگر میڈیا کو اجازت مل جائے تو شاید وہ ان کچھ حقائق آپ تک پہنچا کر آپ کو بھی کچھ جذباتی اور سوگوار کردے۔
 
محب جیسی تقریر آپ نے لکھی ہے اس سے کہیں بہتر تقر یریں ہمارے سیاست دان اور مولوی حضرات کر یں گے آپ تو شاید ایک سینسیٹو انسان ہیں اور اپنے جذبات لکھ رہے ہیں مگر وہ بزنس مین ہیں اور یہ ان کے لئے ایک بونس ہے جس سے وہ حکومت کے خلاف مزید تحریکیں اٹھائیں گے اپنے مفاد میں اور لفظوں سے بڑا جادوگر کوئی نہیں. بھولے بھال لوگ ان کے چکر میں آکر استعمال ہوں گے حکومت کا کیا بنے گا یہ تو وقت ہی بہتر بتائے گا مگر اس طرح کے شاید کچھ اور سانحے لازمے ہو جا ئیں اپنا دل مضبوط کر یں

قرال میں منتظر تھا کہ شاید تمہاری ہی بات پوری ہو جائے مگر اس دفعہ جو خاموشی ہے وہ اعصاب توڑنے والی ہے اور کسی نے اس طرح مذمت نہیں کی جس طرح حق تھا کرنے کا بلکہ کچھ لوگ جن میں سر فہرست الطاف حسین جن کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ کس پائے کے لیڈر اور کتنے رحم دل ہیں حکومت کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
بینظیر جس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں سب اس عورت کی اقتدار کے لیے ہوس کو بخوبی جانتے ہیں وہ کیسے مشرف کو سرا رہی ہے اور سخت اقدامات کرنے کے لیے کہہ رہی ہے جبکہ اپنے دور میں اپنے بھائی کے قتل کی بھی تحقیقات نہ کروا سکی اور خود درپردہ کس طرح سب چیزوں سے چشم پوشی اختیار کیے رکھی۔

حکومت کو اس آپریشن پر اگر الیکشن ہوتے ہیں اس سال ہی تو اس سال ہی نتیجہ مل جائے گا۔
 
Top