قہقہہ نہیں مسکراہٹ

قیصرانی

لائبریرین
آپ کی باتوں سے تو یہی ظاہر ہو رہا تھا کہ آپ میرے نکتے کو سمجھ نہیں رہے تھے۔ اسی لئے وہی بات بار بار آپ کو بتانی پڑی۔
آپ کی باتیں عین یہی ظاہر کر رہی ہیں کہ یا تو آپ بات سمجھ نہیں رہے یا سمجھنا نہیں چاہ رہے :)
ایک سوال: کیا آپ نے زیک کا دیا ہوا لنک پڑھا یا نہیں؟ اگر نہیں پڑھا تو ابھی پڑھ کر دیکھئے کہ کیا آپ کی طرف سے حدیث کا حوالہ مانگنا یہاں مناسب تھا کہ نہیں؟ اگر پھر بھی آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ہی حق بجانب ہیں تو زیک سے ذاتی پیغام میں بات کر کے اپنا نظریہ بیان کر دیں
 

نایاب

لائبریرین
اللہ جانے ،
میں نے بھی دیکھا ہے بہت سی جگہہ جہاں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں آتی ہیں وہاں غیر متفق،ناپسندیدہ کے نشانات ملتےہیں
اگر یہ مسلمان نہیں ہیں تو صاف کیوں نہیں کہتے۔
جب ہم مسلمانوں کو کتاب و سنۃ کی ایک پتلی سی بھی لکیر ملتی ہے تو ہم اس لکیر کو سر پر اٹھاتے ہیں مسلمانوں کی یہی کیفیت ہونی چاہیے۔
قران کو بھول عمل سے دور اللہ کے پاک رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتیں ہی تو ہمارا سہارہ ہیں ۔ اللہ کی کتاب سے انسانیت بارے تمام احکام ہمارے لیئے کسی بھی توجہ کے قابل نہیں ہیں ۔ ہمیں تو بس اللہ کے رسول رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ باتیں اکثر یاد رہتی ہیں جن کے سہارے ہم کفر کی فیکٹری کو تیز رفتاری سے چلا سکیں ۔۔۔۔۔
اک نے دعا کی کہ اے اللہ مجھے رزق سے نواز
دوسرے نے دعا کی اللہ مجھے ایمان سے نواز ۔۔۔۔۔۔۔اور پہلے کو ٹوکا کہ تو کیسی حقیر چیز مانگ رہا ہے ۔ تو بھی ایمان مانگ ۔۔۔۔
پہلے نے کہا جس کے پاس جو چیز نہ ہو ۔ وہ اللہ سے وہی چیز مانگے گا ۔۔۔۔۔۔۔
آہماری تحریر کردہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باتیں صرف اس لیئے غیر متفق اور نا پسندیدہ کی ریٹنگ پاتی ہیں کہ ہم ان پاکیزہ باتوں کو صرف فساد و انتشار بڑھانے کے لیئے استعمال کرتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک یہ صرف باتیں ہیں ۔۔ وہ حکم نہیں جو کہ ہم خود پر لاگو کر کے اسوہ حسنہ کا اتباع کرنے والوں میں شامل ہوں ۔۔۔۔
قران و سنت میں کہیں کوئی لکیر نہیں ہے ۔ بلکہ روشن واضح ہدایت بھری نصیحتیں ہیں ۔ آیات قرانی کو سر پر اٹھا رکھنا صرف فساد پھیلانا ہے ۔ قران کی آیات اور احادیث مبارکہ تو دل میں اتر ذہن کو مسخر کر ہدایت کی راہ چلا دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
آپ کی باتیں عین یہی ظاہر کر رہی ہیں کہ یا تو آپ بات سمجھ نہیں رہے یا سمجھنا نہیں چاہ رہے :)
ایک سوال: کیا آپ نے زیک کا دیا ہوا لنک پڑھا یا نہیں؟ اگر نہیں پڑھا تو ابھی پڑھ کر دیکھئے کہ کیا آپ کی طرف سے حدیث کا حوالہ مانگنا یہاں مناسب تھا کہ نہیں؟ اگر پھر بھی آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ہی حق بجانب ہیں تو زیک سے ذاتی پیغام میں بات کر کے اپنا نظریہ بیان کر دیں
میرا خیال ہے میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں بلکہ بہت پہلے سمجھ گیا تھا، البتہ آپ میرے جذبات کو نہیں سمجھ رہے۔
1- آپ کا نکتہ یہ ہے کہ جو تحقیق صاحب دھاگہ نے نقل کی وہ درست نہیں اور اس بات کی دلیل میں زیک نے ایک لنک دیا۔ لیکن میں نے وہ لنک پڑھے بغیر صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل پر خوش ہو کر ایک (بلکہ متعدد) حدیث پاک اسکے حق میں نقل کر دی۔ یہ بات زیک کو پسند نہیں آئی اور اس نے حدیث پاک کے مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ دے دی۔
2- میرا نکتہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل درست نا ہو اسکے باوجود ایک مراسلہ جس میں صرف حدیث پاک درج ہے کوئی دوسری بات نہیں ، اگر وہ آپ کے خیال میں یہاں درج کرنا ضروری نہیں بھی تھا تو بھی حدیث پاک کے احترام کی وجہ سے اس مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ نہیں دینی چاہئے بلکہ لکھ دینا چاہئے کہ "اس تحقیق کے حق میں یہ حدیث پاک درج کرنا مناسب نہیں کیونکہ یہ تحقیق درست نہیں"۔
3- ایک مثال : اگر قرآن پاک اتنا باریک لکھا ہو کہ پڑھا بھی نا جاسکے ایسا کرنا مناسب نہیں۔ لیکن اگر کسی نے ایسا لکھ بھی دیا تو آپ پر پھر بھی اس کا احترام کرنا لازمی ہے اور آپ اس باریک لکھے ہوئے قرآنی نسخے کو پھینک یا بے ادبی نہیں کر سکتے۔
4- زیک یہاں بھی سب پڑھ سکتے ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
میرا خیال ہے میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں بلکہ بہت پہلے سمجھ گیا تھا، البتہ آپ میرے جذبات کو نہیں سمجھ رہے۔
1- آپ کا نکتہ یہ ہے کہ جو تحقیق صاحب دھاگہ نے نقل کی وہ درست نہیں اور اس بات کی دلیل میں زیک نے ایک لنک دیا۔ لیکن میں نے وہ لنک پڑھے بغیر صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل پر خوش ہو کر ایک (بلکہ متعدد) حدیث پاک اسکے حق میں نقل کر دی۔ یہ بات زیک کو پسند نہیں آئی اور اس نے حدیث پاک کے مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ دے دی۔
2- میرا نکتہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل درست نا ہو اسکے باوجود ایک مراسلہ جس میں صرف حدیث پاک درج ہے کوئی دوسری بات نہیں ، اگر وہ آپ کے خیال میں یہاں درج کرنا ضروری نہیں بھی تھا تو بھی حدیث پاک کے احترام کی وجہ سے اس مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ نہیں دینی چاہئے بلکہ لکھ دینا چاہئے کہ "اس تحقیق کے حق میں یہ حدیث پاک درج کرنا مناسب نہیں کیونکہ یہ تحقیق درست نہیں"۔
3- ایک مثال : اگر قرآن پاک اتنا باریک لکھا ہو کہ پڑھا بھی نا جاسکے ایسا کرنا مناسب نہیں۔ لیکن اگر کسی نے ایسا لکھ بھی دیا تو آپ پر پھر بھی اس کا احترام کرنا لازمی ہے اور آپ اس باریک لکھے ہوئے قرآنی نسخے کو پھینک یا بے ادبی نہیں کر سکتے۔
4- زیک یہاں بھی سب پڑھ سکتے ہیں۔
کون لوگ ہو یار تُسی :)
 

قیصرانی

لائبریرین
ابھی تک آپ نہیں سمجھے۔ حالانکہ یہ آپ سے میری تیسری بغیر آگ اور دھونویں کے بحث ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ آج بحث کرتے کرتے مجھے بھوک نہیں لگی۔ :):)
میں نے چاکلیٹ کو درمیان میں منصف بنایا ہوا تھا نا تو بھوک کیسے لگتی؟
 

محمد سعد

محفلین
ہی ہی ہی۔۔۔ میں نے خود مقالہ ابھی پڑھا ہے۔ پہلے صرف ایبسٹریکٹ کو سرسری پڑھ کے ڈاؤن لوڈ کر کے رکھ لیا تھا کہ امتحان کے بعد دیکھیں گے۔ ابھی فورم کا چکر لگا تو طویل و عریض بحث کو دیکھ کر سوچا کہ آخر اس میں ایسا تھا کیا۔ :ROFLMAO:
خیر، زکریا صاحب کو اپنی بات تھوڑی واضح رکھنی چاہیے تھی کہ مذہب کے معاملے میں لوگ بہت حساس ہوا کرتے ہیں۔ اور یہ کہنے کی تو میرے خیال میں ضرورت ہی نہیں کہ کسی بھی خبر کو فوراً مذہب کے ساتھ جوڑنے کی جلدی میں کیا کیا ہو سکتا ہے۔ :)
 

قیصرانی

لائبریرین
ہی ہی ہی۔۔۔ میں نے خود مقالہ ابھی پڑھا ہے۔ پہلے صرف ایبسٹریکٹ کو سرسری پڑھ کے ڈاؤن لوڈ کر کے رکھ لیا تھا کہ امتحان کے بعد دیکھیں گے۔ ابھی فورم کا چکر لگا تو طویل و عریض بحث کو دیکھ کر سوچا کہ آخر اس میں ایسا تھا کیا۔ :ROFLMAO:
خیر، زکریا صاحب کو اپنی بات تھوڑی واضح رکھنی چاہیے تھی کہ مذہب کے معاملے میں لوگ بہت حساس ہوا کرتے ہیں۔ اور یہ کہنے کی تو میرے خیال میں ضرورت ہی نہیں کہ کسی بھی خبر کو فوراً مذہب کے ساتھ جوڑنے کی جلدی میں کیا کیا ہو سکتا ہے۔ :)
اب ذرا روشنی بھی ڈالتے جائیے :)
 

محمد سعد

محفلین
روشنی کیا ڈالوں۔۔۔ خلاصہ یہ سمجھ آیا کہ سائنس دان بھی انسان ہوتے ہیں جن کا ہنسی مذاق کرنے کو بھی دل کرتا ہے۔ وہ لوگ بھی انسان ہوتے ہیں جو ادھوری تصویر دیکھ کر غلطی کر جاتے ہیں۔ اور وہ بھی انسان ہوتے ہیں جو غلطی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں لیکن مختلف حالات و واقعات ان کے طریقے کو غیر موثر بنا دیتے ہیں۔ اور پھر میرے جیسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں لگتا ہے انہیں بات سمجھ آ گئی، لیکن در حقیقت انہیں بات سمجھ آئی نہیں ہوتی۔ اب بھی کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میرا کیا ہوا یہ خلاصہ کس حد تک درست اور کتنا غلط ہے۔
 
میرے خیال سے اس پر کافی بحث ہو چکی ہے، اب اسے ختم عو جانا چاہیے ورنہ بدمزگی بڑھے گی۔
باقی سنت کے مطابق ہمارا نظریہ یہ ہے کہ سنت آفاقی ہے اور سائنسی تحقیق عارضی۔ اگر تحقیق سنت کے خلاف جاتی ہے اسے ماننا ہمارے لیے ضروری نہیں۔ تحقیق میں غلطی بھی ہو سکتی ہے اور وہ تبدیل بھی ہو سکتی ہے لیکن سنت قائم ہے اور غلطی سے مبرا۔
 

x boy

محفلین
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ " ذندگی بہت تھوڑی ہے اسلئے ہمیں دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے"
بالکل صحیح کہا اپنی اس چھوٹی سی ذندگی میں سب تجربوں کو دہرا نہیں سکتے اتنا وقت کہاں ۔
ایک تبلیغی بزرگ سےانکے ایک بیان میں سنا ہے کہ کان اوراپنے منہ کے درمیان کا فاصلہ چار انچ کا ہے جو کچھ وہ بولتا ہے خود سنتا ہے
اس لئے وہی بولو جو اچھا ہو پہلے اپنے اندر پہنچتی ہے پھر دوسروں تک، پہلے اپنی اصلاح کرو۔ ویسے بھی چار صورتوں میں انسان قصور وار ہوسکتا ہے
ایک اسکی بیوی، دو اسکی ماں، تین اسکی بہن ،چار اسکی بیٹی ان چار رشتہ داروں کی وجہ سے پکڑ ہوسکتی ہے اس کے علاوہ دوسرے انسان تک بات
پہنچانا کام ہے پکڑ پکڑ کر مسجد لانا، یا بھلائی کی طرف لانا ہمارا کام نہیں۔
اسی طرح یہاں کوئی پیغام لکھے اس کے لئے کافی ہے لڑنا ضروری نہیں۔
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
میرا خیال ہے میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں بلکہ بہت پہلے سمجھ گیا تھا، البتہ آپ میرے جذبات کو نہیں سمجھ رہے۔
1- آپ کا نکتہ یہ ہے کہ جو تحقیق صاحب دھاگہ نے نقل کی وہ درست نہیں اور اس بات کی دلیل میں زیک نے ایک لنک دیا۔ لیکن میں نے وہ لنک پڑھے بغیر صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل پر خوش ہو کر ایک (بلکہ متعدد) حدیث پاک اسکے حق میں نقل کر دی۔ یہ بات زیک کو پسند نہیں آئی اور اس نے حدیث پاک کے مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ دے دی۔
2- میرا نکتہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے صاحب دھاگہ کی تحقیقی نقل درست نا ہو اسکے باوجود ایک مراسلہ جس میں صرف حدیث پاک درج ہے کوئی دوسری بات نہیں ، اگر وہ آپ کے خیال میں یہاں درج کرنا ضروری نہیں بھی تھا تو بھی حدیث پاک کے احترام کی وجہ سے اس مراسلے کو ناپسند کی ریٹنگ نہیں دینی چاہئے بلکہ لکھ دینا چاہئے کہ "اس تحقیق کے حق میں یہ حدیث پاک درج کرنا مناسب نہیں کیونکہ یہ تحقیق درست نہیں"۔
3- ایک مثال : اگر قرآن پاک اتنا باریک لکھا ہو کہ پڑھا بھی نا جاسکے ایسا کرنا مناسب نہیں۔ لیکن اگر کسی نے ایسا لکھ بھی دیا تو آپ پر پھر بھی اس کا احترام کرنا لازمی ہے اور آپ اس باریک لکھے ہوئے قرآنی نسخے کو پھینک یا بے ادبی نہیں کر سکتے۔
4- زیک یہاں بھی سب پڑھ سکتے ہیں۔
صرف یہ بات نہیں کہ اخبار نے ریسرچ کو غلط سمجھا بلکہ ریسرچ مقالہ اصل میں صرف کرسمس کے موقع پر ایک مذاحیہ پیپر تھا۔ میں نے اس کا لنک فورا دے دیا تھا مگر کچھ کہنے سے احتراز برتا کہ مزاح تباہ نہ ہو اور آپ لوگ خود محظوظ ہو سکیں۔ مگر اسے پڑھنے کی بجائے آپ لوگوں نے سائنس کے فورم میں، ایک غلط اخباری رپورٹ پر اور ایک مزاحیہ سائنسی مقالے پر احادیث پوسٹ کرنی شروع کر دیں۔ کیا اس کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی؟ اگر آپ اسلام، قرآن، احادیث کی عزت کروانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کو خود کرنا ہو گا۔ ایسی نامناسب جگہوں پر مقدس حوالے دیں گے تو غلطی اور گناہ آپ ہی کے سر ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
آپ پرانے اراکین میں سے ہیں۔ آپ کو بخوبی علم ہوگا کہ زیک نے اس بارے کیا پالیسی اپنائی ہے۔ پھر طنز فرمانے سے کیا ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں؟
یہی تو مسئلہ ہے کہ ان کی اپروچ میں بندے کے مزاج سے واقفیت لازمی ہے۔
میں رکن پرانا بے شک ہوں، لیکن لوگوں کی تفصیلات یاد رکھنے کے معاملے میں کمزور ہی ہوں۔ مجھے انسانوں کے متعلق ڈیٹا اپنے دماغ میں محفوظ رکھنے میں انتہائی دشواری ہوتی ہے۔ :confused:
 
Top