قومی ترانے کی بحر

فرحت سعیدی نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 12, 2015

  1. فرحت سعیدی

    فرحت سعیدی محفلین

    مراسلے:
    18
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    قومی ترانے کی بحر کیا ہے؟ اور اس کے ارکان کیا ہیں؟
     
  2. فرحت سعیدی

    فرحت سعیدی محفلین

    مراسلے:
    18
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    میرا خیال ہے کہ یہ دیوانی بحر ہے جو بحر متقارب میں ہے.فعْل فعل فعل فعل فعل.
    لیکن بعض مصرعے سمجھ نہیں آتے مثلا....ارض ِ پاکستان.
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,854
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کھ مصرعے فاعلن مفاعلن فعول پر باندھے گئے لگتے ہیں، باقی کے لئے شاید بحر ضروری نہیں سمجھی گئی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  4. فرحت سعیدی

    فرحت سعیدی محفلین

    مراسلے:
    18
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    الف عین صاحب ! یہ کیسے ممکن ہے کہ بعض مصرع وزن میں ہوں اور بعض بے وزن ؟
     
  5. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,486
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    میں نے بچپن میں کہیں سنا تھا کہ قومی ترانہ حفیظ صاحب نے پہلے سے بنائی ہوئی دُھن کے مطابق کہا تھا ۔ چناں چہ ایسے میں بحر کی پابندی باقی نہ رہنے کا امکان بھی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  6. فرحت سعیدی

    فرحت سعیدی محفلین

    مراسلے:
    18
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    عاطف علی صاحب ! آپ وہ بات میں نے بھی سنی ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ دھن میں بعض مصرع تو کسی نہ کسی بحر میں ہوں اور بعض بالکل بے وزن ؟
     
  7. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,486
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    بھئی یہ تو سراسر دھن پر ہی موقوف ہے جیسی دھن ہو گی بحر بھی ویسی اور مصرعے بھی مطابق ہوں گے ۔ ۔ ۔ البتہ اس کی کوئی دلیل یا حوالہ نہیں کہ ایسا ہی ہوا ۔ ۔۔۔ویسے آپ ذرا قومی ترانے کی دھن اور مصرعوں کے الفاط و تراکیب کے آہنگ کی مطابقت پرذرا غور کیجیئے گا۔
     
  8. محمد حفیظ الرحمٰن

    محمد حفیظ الرحمٰن محفلین

    مراسلے:
    306
    میری اپنی معلومات کے مطابق بھی ہمارے قومی ترانے کی دُھن پہلے بنی تھی اور بول بعد میں لکھے گئےتھے۔عبدالکریم چھاگلہ صاحب نے جو دھن بنائی تھی وہ ایک ملک کے قومی ترانے کے لحاظ سے بڑی باوقار اور متاثر کرنے والی تھی جو نہ صرف پسند کی گئی بلکہ پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کی حیثیت سے منتخب بھی کر لی گئی ۔ اس کے بول بعد میں لکھے گئے۔ ممکن ہے اور شاعروں نے بھی طبع آزمائی کی ہو لیکن حفیظ جالندھری صاحب کو یہ فوقیت حاصل تھی کہ ان کے مزاج کو موسیقیت اور نغمگی سے فطری مناسبت تھی۔ وہ خود کہتے تھے کہ میں کوئی گیت کہتا ہوں تو اس کے موزوں ہونے سے پہلے میرے ذہن میں اس کی دھن بن جاتی ہے ۔ ان کی یہی صلاحیت یہاں بھی کام آئی اور ان کے ذہن رسا نے پہلے سے بنی ہوئی دھن پر ایسے بول تخلیق کئے جو اب ہمارے دل کی دھڑکن بن چکے ہیں۔ ہمیں دنیا کے کسی ملک کے قومی ترانے کے بول اور دھن ایسے نہیں لگتے کہ پاکستانی قومی ترانے کے پاسنگ بھی ہوں۔ نہ ہی ہمیں پاکستان کے پرچم سے زیادہ کوئی اور پرچم اچھا لگتا ہے ۔یہاں یہ بتاتا چلوں کہ بعض اور شاعروں نے بھی پاکستان کے لیے اس دھن سے ہٹ کر قومی ترانے لکھے تھے جن میں ہندوستان کے ایک بےحد مقبول شاعر بھی شامل ہیں اس وقت مجھےیادنہیں کہ وہ اسرار الحق مجاز ہیں یا جانثار اختر۔ بہر حال ہیں ان ہی دونوں میں سے ایک۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
  9. بے الف اذان

    بے الف اذان محفلین

    مراسلے:
    204
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    "پاکستان کا قومی ترانہ–"

    ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء کو پاکستان کا قومی ترانہ پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا–
    پاکستان کے قومی ترانہ کی دھن۲۱ اگست ۱۹۴۹ء کو منظور ہوئی تھی اور اسے پہلی مرتبہ یکم مارچ ۱۹۵۰ء کو پاکستان میں ایران کے سربراہ مملکت کی آمد پر بجایا گیا تھا–
    ۵ جنوری ۱۹۵۴ء کو پاکستان کی مرکزی کابینہ نے اس دھن کو سرکاری طور پر قومی ترانہ قرار دے دیا–

    اب اگلا مرحلہ اس دھن کے حوالے سے الفاظ کے چنائو کا تھا چنانچہ ملک کے تمام مقتدر شعرائے کرام کو اس ترانے کے گرامو فون ریکارڈز بھی بھجوائے گئے اور ہر رات ایک مخصوص وقت پر ریڈیو پاکستان سے اس ترانے کے نشر کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا— تا کہ وہ اس کی دھن سے ہم آہنگ ترانہ تحریر کر سکیں–

    جواباً قومی ترانہ کمیٹی کو مجموعی طور پر ۱۷۲۳ ترانے موصول ہوئے– ان ترانوں میں سے قومی ترانہ کمیٹی کو جو ترانے سب سے زیادہ پسند آئے وہ حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع اور زیڈ اے بخاری کے لکھے ہوئے ترانے تھے– ۴ اگست ۱9۵۴ء کو پاکستان کی مرکزی کابینہ نے جناب حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے ترانے کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کر لیا—

    ۱۳ اگست ۱۹۵۴ء کو یہ ترانہ پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا اور یوں دنیا کے قومی ترانوں میں ایک خوبصورت ترانے کا اضافہ ہو گیا—


    (خاکسار نے یہ مواد ف۔ب پر موجود ایک ادبی صفحے "اردو ادب" سے حاصل کیا ہے)

    شکریہ۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 19, 2015
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر