قوافی

کیا نماز، لحاظ اور ریاض ہم قافیہ ہو سکتے ہیں؟
اسد ! بھائی آپ کا یہ سوال لاکھوں کا ہے۔ مروجہ اور روایتی اصولِ قافیہ کے لحاظ سے نماز ، لحاظ اور ریاض ہم قافیہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں حرفِ روی کا اختلاف ہے ۔ حرفِ روی قافیے کا اساسی حرف ہوتاہے اور اسی پر قافیے کا دارومدارہے۔ حرفِ روی کا تعین غزل کے مطلع میں کرلیا جاتا ہے اور پھر بعد کے تمام قافیوں میں اس کی تکرار اور پابندی لازم ہوجاتی ہے۔حرفِ روی کو مکتوبی تسلیم کیا گیا ہے اور اس اصول کی پابندی اردو کے تمام مستند اساتذہ کے ہاں ملتی ہے۔
یہاں تک تو بات ہوئی روایتی اصولِ قافیہ کی۔ لیکن جدید شعرا کی ایک اچھی خاصی تعداد نے حرفِ روی کو مکتوبی کے ساتھ ساتھ ملفوظی انداز میں بھی استعمال کیا ہے۔ چونکہ اردو میں ’’ض ، ظ ، ز اور ذ ‘‘ قریب المخارج بلکہ ہم صوت حروف ہیں اس لئے نماز اور لحاظ وغیرہ کا قافیہ جائز رکھا ہے۔ اسی طرح ’’ س، ص اور ث‘‘ کی مثال ہے ۔ ایسی متعدد مثالیں کئی معتبر شعرا کے ہاں ملتی ہیں ۔ قدماء میں شیخ سعدی نے ایک جگہ بحر کا قافیہ نہر استعمال کیا ہے کہ یہ دونوں حروف قریب المخارج ہیں ۔
میں بھی ذاتی طور پر قافیے کی کشادگی کا قائل ہوں اور قافیے کے کچھ ایسے غیرمعقول اور غیر مفید اصولوں کو ترک کرنا چاہتا ہوں کہ جو اظہار کی راہ میں غیرضروری رکاوٹ ہیں ۔ میں کچھ عرصے سے اصلاحاتِ قافیہ پر کچھ کام بھی کررہا ہوں۔ کچھ تجاویز پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ جیسے ہی کام مکمل ہوا پیش کروں گا ۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اور اس کی حیثیت فردِ واحد کی رائے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کو ماننے یہ نہ ماننے کا بہرحال ہر کسی کا اختیار ہے۔
 
باز،بعض اور وعظ؟؟
اسد ! بھائی آپ کا یہ سوال لاکھوں کا ہے۔ مروجہ اور روایتی اصولِ قافیہ کے لحاظ سے نماز ، لحاظ اور ریاض ہم قافیہ نہیں ہوسکتے کیونکہ ان میں حرفِ روی کا اختلاف ہے ۔ حرفِ روی قافیے کا اساسی حرف ہوتاہے اور اسی پر قافیے کا دارومدارہے۔ حرفِ روی کا تعین غزل کے مطلع میں کرلیا جاتا ہے اور پھر بعد کے تمام قافیوں میں اس کی تکرار اور پابندی لازم ہوجاتی ہے۔حرفِ روی کو مکتوبی تسلیم کیا گیا ہے اور اس اصول کی پابندی اردو کے تمام مستند اساتذہ کے ہاں ملتی ہے۔
یہاں تک تو بات ہوئی روایتی اصولِ قافیہ کی۔ لیکن جدید شعرا کی ایک اچھی خاصی تعداد نے حرفِ روی کو مکتوبی کے ساتھ ساتھ ملفوظی انداز میں بھی استعمال کیا ہے۔ چونکہ اردو میں ’’ض ، ظ ، ز اور ذ ‘‘ قریب المخارج بلکہ ہم صوت حروف ہیں اس لئے نماز اور لحاظ وغیرہ کا قافیہ جائز رکھا ہے۔ اسی طرح ’’ س، ص اور ث‘‘ کی مثال ہے ۔ ایسی متعدد مثالیں کئی معتبر شعرا کے ہاں ملتی ہیں ۔ قدماء میں شیخ سعدی نے ایک جگہ بحر کا قافیہ نہر استعمال کیا ہے کہ یہ دونوں حروف قریب المخارج ہیں ۔
میں بھی ذاتی طور پر قافیے کی کشادگی کا قائل ہوں اور قافیے کے کچھ ایسے غیرمعقول اور غیر مفید اصولوں کو ترک کرنا چاہتا ہوں کہ جو اظہار کی راہ میں غیرضروری رکاوٹ ہیں ۔ میں کچھ عرصے سے اصلاحاتِ قافیہ پر کچھ کام بھی کررہا ہوں۔ کچھ تجاویز پیش کرنے کا ارادہ ہے۔ جیسے ہی کام مکمل ہوا پیش کروں گا ۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اور اس کی حیثیت فردِ واحد کی رائے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کو ماننے یہ نہ ماننے کا بہرحال ہر کسی کا اختیار ہے۔
جزاک ا للہ ظہیر بھائی۔ راہ نمائی کے لیے شکریہ مزید لنک کا انتظار رہے گا۔
 

شکیب

محفلین
بہت اچھا سوال کیا ہے آپ نے۔ چونکہ اردو میں یہ حروف ہم مخرج ہیں، چنانچہ انہیں میں درست مانتا ہوں۔۔۔ لیکن، وہی بات جو ظہیر بھائی نے کہی، فردِ واحد کی رائے ہے۔
قافیہ کے متعلق ہمارے یہاں کے ایک ہندی شاعر کی بات بتاتا چلوں۔ الف عین چچا جانتے ہوں گے، ڈاکٹر کمار وشواس۔ اُن کی ایک نظم بڑی مشہور ہے۔۔۔”کوئی دیوانہ کہتا ہے“ اس کے قافیے ملاحظہ ہوں
کوئی دیوانہ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
مگر دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے
میں تجھ سے دور کیسا ہوں تو مجھ سے دور کیسی ہے
یہ تیرا دل سمجھتا ہے نہ میرا دل سمجھتا ہے
۔۔۔۔۔
بعد میں بھلے ہی انہیں احساس ہوگیا ہو کہ یہاں کچھ گڑبڑہوگئی ہے، لیکن یہ نظم اتنی مشہور ہوچکی ہے کہ اب بے چارے ڈاکٹر صاحب کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ شہرت کا پتہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ کوئی کمار وشواس کو جانتا ہے تو سب سے پہلے اسے کے ذہن میں یہی آتا ہے ”کوئی دیوانہ کہتا ہے“
ایسے ہی ایک ہندی کے شاعر ہیں عمران پرتاب گڑھی، وہ کئی جگہ گڑبڑ کر جاتے ہیں، اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہندی میں مخرج کا اتنا فرق نہیں ہوتا۔۔۔ ملاحظہ ہو
سد بھاونا سیکھ رہے ہوں گے
شرمندہ دیکھ رہے ہوں گے
پیچھے تصویر میں گاندھی جی
یہ کہہ کر چیخ رہے ہوں گے
جس شخص کی کرسی ٹکی ہوئی ہے معصوموں کی لاش پر
اس کی بے شرمی تو دیکھو، وہ بیٹھا ہے اُپواس پر
(شخص کا نام نہیں بھی لوں گا تو آپ جیسے سمجھدار جان جائیں گے کہ میں آدرنیہ نریندر مودی جی کی بات کر رہا ہوں)
 

الف عین

لائبریرین
صوتی قوافی بہت سے لوگ جائز سمجھتے ہیں۔@فقیر شکیب احمد نے جو دو مثالیں دی ہیں، وہ ایک ہندی شاعر وزواس کی ہیں لیکن دوسری عمران پرتاپگڑگی تو اردو مشاعروں کے شاعر ہیں، میں اس قسم کے شعراء کو اردو شاعر نہیں مانتا اورنہ ہندی شاعر، یہ محض مشاعروں یں نظر آتے ہیں اور اپنی اردو غزلیں نظمیں بھی دیوناگری میں لکھ کر لاتے ہیں۔ غعض ان دونوں مثالوں کو اردو کے لئے مستند نہیں مانا جا سکتا۔
 
باز،بعض اور وعظ؟؟

جزاک ا للہ ظہیر بھائی۔ راہ نمائی کے لیے شکریہ مزید لنک کا انتظار رہے گا۔
باز اور ساز کا قافیہ بعض اور وعظ بنانا اصولِ قافیہ کے لحاظ سے تو غلط ہے ہی میں ذاتی طور پر بھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کروں گا ۔ نہ صرف ان قوافی میں اختلافِ روی ہے بلکہ حرفِ ردف کی پابندی بھی نہیں ہے ۔ یعنی قافیے کی پوری ساخت تبدیل کردی گئی ہے ۔ کسی بھی ایک حرفِ قافیہ کو اس کے ہم صوت سے بدلنا تو قابلِ قبول لگتا ہے لیکن قافیے میں اس سے زیادہ شکست و ریخت تو بہت ساری بدعتوں کی راہ کھول دے گی اور رفتہ رفتہ قافیہ اپنی اصل کھوبیٹھے گا ۔
 
بہت اچھا سوال کیا ہے آپ نے۔ چونکہ اردو میں یہ حروف ہم مخرج ہیں، چنانچہ انہیں میں درست مانتا ہوں۔۔۔ لیکن، وہی بات جو ظہیر بھائی نے کہی، فردِ واحد کی رائے ہے۔
قافیہ کے متعلق ہمارے یہاں کے ایک ہندی شاعر کی بات بتاتا چلوں۔ الف عین چچا جانتے ہوں گے، ڈاکٹر کمار وشواس۔ اُن کی ایک نظم بڑی مشہور ہے۔۔۔”کوئی دیوانہ کہتا ہے“ اس کے قافیے ملاحظہ ہوں
کوئی دیوانہ کہتا ہے کوئی پاگل سمجھتا ہے
مگر دھرتی کی بے چینی کو بس بادل سمجھتا ہے
میں تجھ سے دور کیسا ہوں تو مجھ سے دور کیسی ہے
یہ تیرا دل سمجھتا ہے نہ میرا دل سمجھتا ہے
۔۔۔۔۔
بعد میں بھلے ہی انہیں احساس ہوگیا ہو کہ یہاں کچھ گڑبڑہوگئی ہے، لیکن یہ نظم اتنی مشہور ہوچکی ہے کہ اب بے چارے ڈاکٹر صاحب کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ شہرت کا پتہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ کوئی کمار وشواس کو جانتا ہے تو سب سے پہلے اسے کے ذہن میں یہی آتا ہے ”کوئی دیوانہ کہتا ہے“
ایسے ہی ایک ہندی کے شاعر ہیں عمران پرتاب گڑھی، وہ کئی جگہ گڑبڑ کر جاتے ہیں، اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہندی میں مخرج کا اتنا فرق نہیں ہوتا۔۔۔ ملاحظہ ہو
سد بھاونا سیکھ رہے ہوں گے
شرمندہ دیکھ رہے ہوں گے
پیچھے تصویر میں گاندھی جی
یہ کہہ کر چیخ رہے ہوں گے
جس شخص کی کرسی ٹکی ہوئی ہے معصوموں کی لاش پر
اس کی بے شرمی تو دیکھو، وہ بیٹھا ہے اُپواس پر
(شخص کا نام نہیں بھی لوں گا تو آپ جیسے سمجھدار جان جائیں گے کہ میں آدرنیہ نریندر مودی جی کی بات کر رہا ہوں)

آپ کا مراسلہ پڑھ کر ضروری معلوم ہوا کہ میں ایک دو باتوں کی وضاحت کردوں تاکہ لوگ میرے گزشتہ مراسلے کا کوئی غلط مطلب نہ نکال لیں اور اس پر کوئی لاحاصل بحث نہ شروع ہوجائے۔
بادل اور پاگل کا قافیہ دِل کو بنانا تو بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ یہ صوتی قافیے کی مثال نہیں ہے۔
لاش اور اپواس بھی صوتی قافیے کی ذیل میں نہیں آتے۔ ش اور س دو مختلف آوازیں ہیں ۔ ہم صوت نہیں ہیں۔ ہم صوت کی مثال س ، ص اور ذ ، ظ وغیرہ ہیں ۔ اس سے زیادہ قافیے کو توڑنا مروڑنا تو قافیے کا قتل ہے ۔
 
آپ کا مراسلہ پڑھ کر ضروری معلوم ہوا کہ میں ایک دو باتوں کی وضاحت کردوں تاکہ لوگ میرے گزشتہ مراسلے کا کوئی غلط مطلب نہ نکال لیں اور اس پر کوئی لاحاصل بحث نہ شروع ہوجائے۔
بادل اور پاگل کا قافیہ دِل کو بنانا تو بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ یہ صوتی قافیے کی مثال نہیں ہے۔
لاش اور اپواس بھی صوتی قافیے کی ذیل میں نہیں آتے۔ ش اور س دو مختلف آوازیں ہیں ۔ ہم صوت نہیں ہیں۔ ہم صوت کی مثال س ، ص اور ذ ، ظ وغیرہ ہیں ۔ اس سے زیادہ قافیے کو توڑنا مروڑنا تو قافیے کا قتل ہے ۔
مہر بانی ظہیر بھائی! مقصد اصلاح اور معلومات میں اضافہ تھا۔ آپ بے فکررہیں ایسی غلطی کا کوئی خاص ارادہ نہیں۔
 

شکیب

محفلین
چچا عمران پرتاب گڑھی صاحب تو بذاتِ خوداپنے کو ہندی کا کَوی گردانتے ہیں۔
اور دونوں مثالیں میں نے کسی حوالہ کے طور پر نہیں بلکہ آپ لوگوں کے چٹخارے کے لیے ڈالی ہیں، توجہ برائے جملہ
”بعد میں بھلے ہی انہیں احساس ہوگیا ہو کہ یہاں کچھ گڑبڑہوگئی ہے، لیکن یہ نظم اتنی مشہور ہوچکی ہے کہ اب بے چارے ڈاکٹر صاحب کچھ کر بھی نہیں سکتے۔“
 

شکیب

محفلین
گستاخی معاف، کیا آپ بھی ان بہت سے لوگوں میں ہیں؟ :) :) :)
پاگل، بادل اور دِل
یعنی اَل، الَ اور ۔۔۔۔۔۔اِل
کیا میں دو سال پہلے اتنا بھوندو تھا کہ واضح لکھا ہونے کے بعد بھی وہی سوال پھر سے پوچھا... :LOL:
اور چچا جان کے قربان کہ اتنے تحمل سے جواب بھی دیا :kiss:
 
Top