قطعہ برائے اصلاح

راکھ اور خاک کس طرح قوافی ہو سکتے ہیں؟
بہت شکریہ سر
میں سمجھا شاید صوتی قوافی کے طور پر چل جائے۔
ایک شعر خذف کر دیتے ہیں۔

تنخواہیں مالکانِ مکاتب ہڑپ گئے
استاد کیا گزارہ کریں خاک پھانک کر
یا
معمار قوم زندہ رہیں خاک پھانک کر؟
 
غالباً آپ نے خاک اور راکھ کو ہاتھ اور بات وغیرہ پر قیاس کیا ہے۔
ویسے ایمانداری کی بات یہ ہے میرا اپنا رجحان بھی یہی ہے کہ جب ہاتھ اور بات کو قافیہ مان لیا جاتا ہے تو دیگر مرکب حروف والے الفاظ میں بھی یہ رعایت ملنی چاہیئے۔ تاہم اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ غالبؔ کے زمانے میں ہاتھ املا کیا ہی ہات جاتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال، چونکہ اساتذہ اجازت نہیں دیتے اس لئے احتراز کرنا ہی احوط معلوم ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ قطعہ اچھا ہے، مرکزی خیال پسند آیا مجھے۔
دعاگو،
راحلؔ
 
غالباً آپ نے خاک اور راکھ کو ہاتھ اور بات وغیرہ پر قیاس کیا ہے۔
ویسے ایمانداری کی بات یہ ہے میرا اپنا رجحان بھی یہی ہے کہ جب ہاتھ اور بات کو قافیہ مان لیا جاتا ہے تو دیگر مرکب حروف والے الفاظ میں بھی یہ رعایت ملنی چاہیئے۔ تاہم اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ غالبؔ کے زمانے میں ہاتھ املا کیا ہی ہات جاتا تھا وغیرہ وغیرہ۔ بہرحال، چونکہ اساتذہ اجازت نہیں دیتے اس لئے احتراز کرنا ہی احوط معلوم ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ قطعہ اچھا ہے، مرکزی خیال پسند آیا مجھے۔
دعاگو،
راحلؔ
بہت شکریہ محترم اپنی رائے سے آگاہ کرنے کے لیے۔۔۔
 

الف عین

لائبریرین
استاد بہتر ہے، معمار قوم کی جگہ معمارانِ قوم ہونا تھا، استاد البتہ بول چال کا لفظ بھی ہے، اس لیے جمع کے مفہوم میں بھی قبول کیا جا سکتا ہے
اس کے علاوہ معمار قوم بھی صرف محاورے کے مطابق استاد ہوتا ہے، استاد کے علاوہ بھی آپ کسی کو یہ خطاب دے سکتے ہیں
 
استاد بہتر ہے، معمار قوم کی جگہ معمارانِ قوم ہونا تھا، استاد البتہ بول چال کا لفظ بھی ہے، اس لیے جمع کے مفہوم میں بھی قبول کیا جا سکتا ہے
اس کے علاوہ معمار قوم بھی صرف محاورے کے مطابق استاد ہوتا ہے، استاد کے علاوہ بھی آپ کسی کو یہ خطاب دے سکتے ہیں
بہت شکریہ سر ، مجھے بھی لفظ استاذ ہی بہتر لگا۔۔۔
 
آخری تدوین:
Top