نیرنگ خیال

لائبریرین
ہم نے تو ایک دفعہ باقاعدہ سوچ لیا تھا کہ کوئی بھی تحریر پڑھتے ہوئے رموز اوقاف، املا، یا قواعد کی پہلی غلطی پر صرف نظر کریں گے، دوسری پر ناک بھؤں چڑھائیں گے، تیسری پر با قاعدہ زیر لب کوسیں گے، اور چوتھی غلطی پر پڑھنا ترک کر دیں گے۔۔۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ بعض تحریریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ انھیں تمام عیوب سمیت پڑھنا پڑتا ہے۔ قلمکاروں سے ہماری درخواست ہے کہ ہماری اس کمزوری کا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ :) :) :)

ملاحظہ فرمائیں! :) :) :)
ان مسائل سے بچنے کے لیے آپ کو خود زحمت کرنی ہوگی۔ کچھ ہماری کوتاہیوں کی گرفت میں اگر ہماری مدد فرما دیں تو آئندہ کم از کم ترک کرنے والی صورتحال سے تو بچا جا سکتا ہے۔ :)

اور ربط کے لیے خاص شکریہ :)
 
سر آپ کی توجہ رہے تو یہ ایک آنچ کی کمی بھی ختم ہو۔

شگفتہ نگاری میں کہیں کوئی ایسا نازک مقام بھی آ جاتا ہے کہ مصنف کا قلم ذرا سا چوکا اور ابتذال آن ٹپکا۔ اور آپ کا خوش ذوق قاری جانئے بدک گیا۔ مثلاً یہ مقام:
کیا خبر عالمِ ارواح سے جو فرشتہ ان کو دنیا لانے کے لیے ۔۔۔۔۔ اور ان کو عالم ناسوت میں لا پھینکا۔

جملوں میں حسن پیدا کرنے کے لئے تراکیب و تشبیہات کو حربے کے طور پر لانے کا عام رواج ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ ہر مقام پر یکساں مفید ہو گا؛ اور یہ ناکام ہو تو گرانی اور بسا اوقات ناگواری بھی لا سکتا ہے۔
ہم دوستوں نے گھومنے کا جب ۔۔۔۔۔ کبھی عملی طور پر آگے نہیں بڑھتے۔
راہ میں بھی ۔۔۔۔۔ لمحات کا نقشہ کھینچتے رہے۔

اس سے گریز اولیٰ بلکہ سادہ اور مختصر بیان زیادہ کشش اور حسن رکھتا ہے۔

مزید پھر کبھی سہی۔
 
ہم نے تو ایک دفعہ باقاعدہ سوچ لیا تھا کہ کوئی بھی تحریر پڑھتے ہوئے رموز اوقاف، املا، یا قواعد کی پہلی غلطی پر صرف نظر کریں گے، دوسری پر ناک بھؤں چڑھائیں گے، تیسری پر با قاعدہ زیر لب کوسیں گے، اور چوتھی غلطی پر پڑھنا ترک کر دیں گے۔۔۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ بعض تحریریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ انھیں تمام عیوب سمیت پڑھنا پڑتا ہے۔ قلمکاروں سے ہماری درخواست ہے کہ ہماری اس کمزوری کا فائدہ نہ اٹھایا جائے۔

زبردست جناب! ۔۔
رانا بھائی! توجہ فرمائی؟
 
Top