قصہ قیصرانی بھائی سے ملاقات کا (بے تصویر)

تلمیذ

لائبریرین
کاش ہم بھی اسلام آباد کے کہیں قریب ہی ہوتے۔:(
دونوں حضرات کے پاس اتنے اچھے اچھے کیمرے اورموبائل ہونے کے باوجود کوئی تصویر نہ ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ شاید اس ملاقات کی تصویری تشہیر نہ کرنے میں کوئی خاص رمز پوشیدہ ہو۔
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
قصہ قیصرانی بھائی سے ملاقات کا (بے تصویر)
یوں تو قیصرانی بھائی اتنے زبردست انداز میں روداد لکھ چکے ہیں کہ اس تکلف کی اب میری طرف سے چنداں ضرورت نہ تھی۔ مگر رسم دنیا ہے سو نبھاتے ہوئے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں جو کچھ لکھ سکتے ہیں لے کر حاضر ہیں۔

تو جناب قصہ شروع ہوتا ہے جب ہمیں پتہ چلا کہ قیصرانی بھائی پاکستان جلوہ افروز ہونے والے ہیں۔ اور گر وقت کی شدید قلت نہ ہوئی تو مجھے شرف ملاقات بخشا جائے گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس ملاقات کے پیچھے بھی کچھ سازشی عناصر اپنا جال بننے میں مصروف تھے۔ مگر دھرے رہ گئے ان کے تمام منصوبے اور بازی مار گئے بزرگ۔۔۔ سلام ان پر ہاہاہاہاہا :laugh:

قیصرانی بھائی کا سفر پاکستان شروع ہوا اور ہمارا انتظار۔۔ ۔ سفر کے آغاز سے ہی قیصرانی بھائی کی نیت میں کھوٹ تھی۔ اور مجھے ٹرخا دیا کہ میاں واپسی پر تم سے ملے بناء نہ جاؤں گا۔ اور ابھی اس وعدہ ملاقات کو واپسی تک اٹھا رکھو۔ میں نے بہت کہا کہ جناب مظلوم کی آہ اور اللہ کے درمیان پردہ نہیں ہوتا۔ مگر انہیں ہماری درویشی پر یقین نہ تھا۔ سو ہنس کر چلتے بنے۔ اور آغاز سفر کیا۔ نتیجہ یہی نکلا کہ اپنے کیئے کی سزا پائی اور بحرین کے ائیر پورٹ پر ٹنگے رہے۔ خیر یہ ساری تو اضافی باتیں تھیں جن سے ہر گز میرا مقصد اپنی نیکی کا رعب جھاڑنا نہ تھا۔ ہاں کوئی عبرت پکڑے تو اپنا صلہ پائے گا۔تو آتے ہیں اصل قصہ کی طرف:p

اک میسج موصول ہوا ہمیں کہ ڈیرہ غازی خان سے اسلام آباد کی طرف آغاز سفر کر دیا گیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس وقت تک اسلام آباد میں تشریف آوری ہو جائے گی۔ ہم نے سوچا یار آواز سنکر دیکھتے ہیں کہ موصوف کو شکل سے نہ سہی آواز سے تو پہچان لیں گے۔ مگر بھلا ہو ملک کے ملک کا (پہلے ملک کو پیش اور دوسرے کو زبر کے ساتھ پڑھا جائے)۔ جس نے ممکنہ دہشت گردی سے بچاؤ کے لیئے موبائل فون جیسی عیاشی پر پابندی لگا رکھی تھی۔ سو یہ خواہش کہیں شام کو جا کر پایہ تکمیل تک پہنچی۔

میرا ارادہ یہ تھا کہ کھانا قیصرانی بھائی کے ساتھ ہی تناول فرمایا جائے گا۔ مگر بھلا ہو اک کزن کا۔ جو پاراچنار سے ڈیوٹی دے کر چھٹیوں کے لیئے واپس پلٹا تھا۔ اور مجھے ملنا نہیں بھولا۔ میں اور وہ اکھٹے نکلے۔ اور اس نے مجھے ڈائیوو ٹرمینل ڈراپ کر دیا۔ اور اپنی راہ لی۔ نہ بھی لیتا تو میں نے اسے کیا کہنا تھا۔ میں وہاں آکر ڈائیوو والوں کے وائی فائی پر لاگ ان ہو گیا۔ اور اپنے اک دوست سے میسنجرپرگپیں مارنے لگا۔
ایسے میں مجھے گمان گزرا کہ ہماری مطلوبہ بس باہر لینڈ کر چکی ہے۔ اب جو میں نے دیکھا تو کراچی سے آنے والی بس آئی تھی۔ مجھے اک لمبے ڈیل ڈول کے آدمی پر گماں گزرا کہ ہو نہ ہو یہی منصور ہیں۔کہ اپنی ریاست میں اتنے ڈیل ڈول کا آدمی شاذ ہی پایا جاتا ہے۔ لیکن انکا چہرہ دوسری جانب تھا۔ سو اندازے کی سچائی پرکھنے کو فون ملایا۔ تو اسی آدمی کا ہاتھ اسکے کان کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ اور فرمانے لگے کہ ابھی بس پہنچی ہے اور میں اس میں ہوں۔ میں نے عرض کی کہ جناب آپ بس سے باہر تشریف لا چکے ہیں۔ تو جھوٹ پکڑے جانے پر گھبرانے کی بجائے مسکراتی آواز میں کہنے لگے۔ تو آپ نے ہمیں دیکھ لیا۔ میں آگے بڑھا کہ سامان اٹھانے میں مدد کروں۔ ایسا نہ کیا تو اسلاف کو روز محشر کیا منہ دکھاؤں گا۔ آگے بڑھ کر موصوف سے پیٹ گیر ہوگیا۔ اس پر جناب کو ہماری پست قامتی کا احساس ہوا اور انہوں نے عالی ظرف ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ذرا سا جھکنا گوارا کیا اور یوں ہم بغلگیر ہوئے۔ میں نے انکے جہازی سائز بیگ پر نظر ڈالی تو روایات کا پاس مشکل نظر آیا۔ سوچا یہی منہ دکھا دوں گا اسلاف کو۔ کہ اگر یہ بیگ اٹھا لیا تو ان سے ملاقات میں تاخیر نظر نہیں آتی۔ لیکن اللہ بھلا کرے گورے کا جس نے پہئیہ ایجاد کیا۔ یوں روایات کا پاس بھی ہوگیا۔ اور میں بھی اسلاف میں شامل ہونے سے بچ گیا۔

اب جناب باہر کی راہ لی تو اک عدد کیب والا جو مجھے شائد اس دنیا کا آخری بیوقوف سمجھ بیٹھا تھا۔ منہ پھاڑ کر پیسے مانگنے لگا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ شائد نرگسی کیب ہے اسکے پاس۔ لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ وہ بزرگوار خط پیشانی پڑھنے کے علم میں طاق تھے۔ لیکن میرے بارے میں مغالطہ لے ڈوبا انہیں۔ کیوں کہ جو لفظ وہ پڑھنا چاہ رہے تھےمیں اسکی پلاسٹک سرجری کروا چکا تھا۔

قصہ یہ کہ ہم دونوں گھر پہنچے۔ تو عشبہ جو شام میں بھی نیند پوری کر چکی تھی۔ اٹھ بیٹھی۔ اور جلد ہی قیصرانی بھائی سے گھل مل گئی۔ اسکے بعد ہم نے دنیا جہاں کی باتیں کی۔بقول شفیق الرحمن ہم سے لے کر میں تک باتیں کیں۔ اس دوران مقدس بٹیا سے بھی بات ہوئی جو شائد اپنی سازش کی ناکامی پر دلبرداشتہ تھی۔ قیصرانی بھائی کو بھی یکایک اسلاف یاد آگئے۔ اور انہوں نے عشبہ کو امیر بنا دیا۔ میں نے احتجاج کیا تو کہنے لگے کہ یہ میرا اور بھتیجی کا معاملہ ہے۔ آپ خاموش رہیں۔ میں کہنا چاہ رہا تھا کہ اس روایت کا فائدہ مجھے نہیں ہونے والا۔ مگر پھر خاموش رہا۔

اب قیصرانی بھائی کو اپنے اک انتہائی عزیز دوست کی یاد نے بے چین کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ اگر میں اس سے ملے بغیر چلا گیا تو سمجھو زندگی اکارت چلی جائے گی۔ اور ہم کیب کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ گولڑہ چوک پر کافی دیر ٹنگے رہے۔ اک پولیس والے نے قیصرانی بھائی کے پاس آکر بڑے آرام سے پوچھا بھی کہ کیا ٹیکسی کے لیئے کھڑے ہو۔ اس پر قیصرانی بھائی بجائے فورا ہاں کہنے کے تذبذب کا شکار نظر آئے۔ واللہ اعلم اس میں کیا رمز تھی۔:p
خیر میں نے اپنے پک اینڈ ڈراپ والے کو فون کیا۔ اور وہ قیصرانی بھائی کو ائیرپورٹ تک چھوڑ آیا۔
بلاشبہ یہ ملاقات اک انمٹ یادوں کا خزانہ ہے۔ قیصرانی بھائی اتنی پیاری اور زبردست شخصیت ہیں کہ ان سے بارہا ملاقات کی جائے۔ امید ہے کہ اگلی بار بھی مجھے ملاقات کا شرف ضرور بخشیں گے۔​
مطلب قیصرانی بھائی پاکستان آ کر چلے بھی گے ہیں:(
 

قیصرانی

لائبریرین
کاش ہم بھی اسلام آباد کے کہیں قریب ہی ہوتے۔:(
دونوں حضرات کے پاس اتنے اچھے اچھے کیمرے اورموبائل ہونے کے باوجود کوئی تصویر نہ ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ شاید اس ملاقات کی تصویری تشہیر نہ کرنے میں کوئی خاص رمز پوشیدہ ہو۔
بہت شکریہ محترم
دراصل میرا سابقہ کیمرہ جو ڈی ایس ایل آر تھا، وہ چھوٹے بھائی نے لے لیا۔ اس لئے میرے پاس بس گذارے لائق ہی کیمرہ تھا۔ دوسرا ہماری ملاقات محض دو یا اڑھائی گھنٹے کی ہی تھی، اس لئے باتیں ہی باتیں ہوئیں اور کام کی باتیں رہ گئیں۔ انشاء اللہ آئیندہ شکایت نہیں ہوگی۔ چار تصاویر لی گئی تھیں اور وہ چاروں ہی شیئر کر دی ہیں :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
کاش ہم بھی اسلام آباد کے کہیں قریب ہی ہوتے۔:(
دونوں حضرات کے پاس اتنے اچھے اچھے کیمرے اورموبائل ہونے کے باوجود کوئی تصویر نہ ہونے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ شاید اس ملاقات کی تصویری تشہیر نہ کرنے میں کوئی خاص رمز پوشیدہ ہو۔
قیصرانی بھائی والی روداد میں ہیں تصاویر سر :)
 
Top