قصّہ گو

La Alma

لائبریرین
قصّہ گو
طاقِ دل پہ برسوں سے
کچھ دیے فروزاں ہیں
فکر کے شبستاں کے یہ چراغِ سحری ہیں
سوچ کے فلک کے یہ مہر و ماہ و انجم ہیں
شرحِ بابِ غم کو ہم
خامہء تخیل سے
لوحِ جاں پہ لکھتے ہیں
مکتبِ غمِ ہستی
سب ہمیں سکھاتا ہے
موجِ درد رک جائے
پھر قلم بھی تھم جائے
دھیان کے افق سے جب
رنگ سب سمٹتے ہوں
ذہن کے گھروندوں سے
حرف جب سرکتے ہوں
من کی رقص گاہوں میں خامشی تھرکتی ہو
چپ کی سرسراہٹ میں اک صدا مچلتی ہو
تب گمان ہوتا ہے
جیسے کوئی ہولے سے
نامہء محبت کو بار بار پڑھتا ہے
پرسشِ وفا کو پھر سوئے یار چلتا ہے
یاد کے خزینوں سے
غم کے آبگینوں سے
چند لفظ چُنتا ہے
داستان بُنتا ہے
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت خوب! اچھی نظم ہے ! اختتامی سطور خوب ہیں ۔

ایک چھوٹی سی بات بطور تبصرہ یہ کہوں گا کہ نظم کی پہلی ہی سطر میں "الوہی" کے استعمال نے بقیہ نظم کے لئے جو سمت اور زاویہ مقرر کیا تھا وہ آخر تک آتے آتے شاید برقرار نہیں رہا ۔ اتنا وزنی اور مطلق لفظ پہلی ہی سطر میں شاید استعمال نہ کرتیں تو بہتر تھا کہ یوں نظم کا زاویہ نسبتاً فراخ رہتا ۔ یہ میری ناقص سمجھ ہے ۔ ویسے آپ بہتر جانتی ہیں ۔
 

La Alma

لائبریرین
بہت خوب! اچھی نظم ہے ! اختتامی سطور خوب ہیں ۔
بہت مشکور ہوں۔
جزاک اللہ‎!
ایک چھوٹی سی بات بطور تبصرہ یہ کہوں گا کہ نظم کی پہلی ہی سطر میں "الوہی" کے استعمال نے بقیہ نظم کے لئے جو سمت اور زاویہ مقرر کیا تھا وہ آخر تک آتے آتے شاید برقرار نہیں رہا ۔ اتنا وزنی اور مطلق لفظ پہلی ہی سطر میں شاید استعمال نہ کرتیں تو بہتر تھا کہ یوں نظم کا زاویہ نسبتاً فراخ رہتا ۔ یہ میری ناقص سمجھ ہے ۔ ویسے آپ بہتر جانتی ہیں
سوچ کی یہ جہت روایت کے قدرے برخلاف معلوم ہوئی ہو گی، ایسا شاید آپ کو اس لیے بھی محسوس ہوا۔ کیونکہ عمومًا مجاز سےحقیقت تک کا سفر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ جبکہ یہاں بات علم و عرفان کے منبعِ حقیقی سے شروع ہو کر منتج کہیں اور ہو رہی ہے۔
یہاں ابتدائی سطر میں “الوہی” کا استعمال صرف اور صرف ایک “اعتراف“ کی حد تک ہے۔ یعنی کہنے والے کو اس بات کا آغاز سے ہی ادراک ہے کہ فکر کا رخ اور بہاؤ چاہے کسی بھی سمت ہو اس کا اصل منبع اور ماخذ فقط ایک ہی ذات ہے۔
اگر یہ لفظ الوہی، اس نظم کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تو اسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔ میرے پیشِ نظر جو بات تھی وہ میں نے عرض کر دی۔
 

الف عین

لائبریرین
یہ اصلاح سخن کے ذیل میں نہیں ہے لیکن پھر بھی.......
بحر و افاعیل ہین... فاعلن مفاعیلن
لیکن پہلا مصرع ہی الوہی دیپ تقطیع میں ہی آتا ہے اور نہ ایسی مدرس زبان کے ساتھ بلکہ صفت کے ساتھ ہندی دیپ!
دوسری بات یہ کہ بات ایک ہی فاعلن مفاعیلن میں مکمل ہو جائے تو اچھا ہے۔فکر کے فکر کے شبستانوں / کے چراغِ سحری ہیں
اچھا نہیں
یہی مسئلہ اس میں بھی ہے
مکتبِ غمِ ہستی نے ہمیں سکھایا ہے
جہاں اور جگہ دو بار افاعیل استعمال ہوئے ہیں، وہ درست اور رواں لگتے ہیں
باقی نظم درست اور اچھی ہے
 

La Alma

لائبریرین
یہ اصلاح سخن کے ذیل میں نہیں ہے لیکن پھر بھی.......
بحر و افاعیل ہین... فاعلن مفاعیلن
لیکن پہلا مصرع ہی الوہی دیپ تقطیع میں ہی آتا ہے اور نہ ایسی مدرس زبان کے ساتھ بلکہ صفت کے ساتھ ہندی دیپ!
دوسری بات یہ کہ بات ایک ہی فاعلن مفاعیلن میں مکمل ہو جائے تو اچھا ہے۔فکر کے فکر کے شبستانوں / کے چراغِ سحری ہیں
اچھا نہیں
یہی مسئلہ اس میں بھی ہے
مکتبِ غمِ ہستی نے ہمیں سکھایا ہے
جہاں اور جگہ دو بار افاعیل استعمال ہوئے ہیں، وہ درست اور رواں لگتے ہیں
باقی نظم درست اور اچھی ہے
انتہائی سپاس گزار ہوں سر کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت نکالا۔ زمرہ چاہے کوئی بھی ہو لیکن آپ کی رہنمائی اور اصلاح کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔
الوہی دیپ میں ہندی اور عربی زبان کے امتزاج کی طرف پہلے دھیان نہیں گیا تھا۔ اس ترکیب میں قدرے ابلاغ کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ بدل دینا ہی بہتر ہو گا۔
اس چیز کا التزام تو رکھا تھا کہ جہاں بحر کی تکرار ہو وہاں کوئی لفظ ٹوٹنے نہ پائے۔ لیکن جہاں تک بات مکمل کرنے کا معاملہ ہے، میرے گمان میں یہی تھا کہ شاید نظم میں اتنی شعری رعایت حاصل ہو گی۔ نشاندہی کے لیے مشکور ہوں۔
ابتدائی مراسلے میں ہی ضروری تدوین کر دیتی ہوں۔بہت شکریہ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت مشکور ہوں۔
جزاک اللہ‎!

سوچ کی یہ جہت روایت کے قدرے برخلاف معلوم ہوئی ہو گی، ایسا شاید آپ کو اس لیے بھی محسوس ہوا۔ کیونکہ عمومًا مجاز سےحقیقت تک کا سفر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ جبکہ یہاں بات علم و عرفان کے منبعِ حقیقی سے شروع ہو کر منتج کہیں اور ہو رہی ہے۔
یہاں ابتدائی سطر میں “الوہی” کا استعمال صرف اور صرف ایک “اعتراف“ کی حد تک ہے۔ یعنی کہنے والے کو اس بات کا آغاز سے ہی ادراک ہے کہ فکر کا رخ اور بہاؤ چاہے کسی بھی سمت ہو اس کا اصل منبع اور ماخذ فقط ایک ہی ذات ہے۔
اگر یہ لفظ الوہی، اس نظم کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تو اسے بدلا بھی جا سکتا ہے۔ میرے پیشِ نظر جو بات تھی وہ میں نے عرض کر دی۔
میں یہی مشورہ دینا چاہتا تھا کہ الوہی کو بدل دیاجائے لیکن آپ نے پہلے ہی ایسا کردیا ہے ۔ البتہ ازلوں کا لفظ دو طرح سے شاید مناسب نہ ہوں ۔ ایک تو یہ کہ ازل بروزن قلم ہے اور اس کی جمع میں ز کو ساکن کرنا شاید قابلِ قبول نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ اس سیاق و سباق میں ازلوں کے بجائے ازل کا محل ہے ۔ کیونکہ ازل سے مراد روزِ ازل ہوتا ہے جبکہ ازلوں سے مراد صدیوں یا ایک طویل زمانہ ہوتا ہے ۔
شعر کے معاملے میں میرا اپنا ذاتی رویہ یہ ہے کہ موضوع کی نسبت سے جہاں تک ممکن ہوسکے شعر کو معتدل رنگوں سے پینٹ کرنا چاہئے ۔ برش اسٹروک کشادہ ہونے چاہئیں ۔ تاکہ ہر قاری اپنے تجربے اور تخیل کی مدد سے شعر کا لطف لے سکے۔
 

La Alma

لائبریرین
میں یہی مشورہ دینا چاہتا تھا کہ الوہی کو بدل دیاجائے لیکن آپ نے پہلے ہی ایسا کردیا ہے ۔ البتہ ازلوں کا لفظ دو طرح سے شاید مناسب نہ ہوں ۔ ایک تو یہ کہ ازل بروزن قلم ہے اور اس کی جمع میں ز کو ساکن کرنا شاید قابلِ قبول نہ ہو۔ دوسری بات یہ کہ اس سیاق و سباق میں ازلوں کے بجائے ازل کا محل ہے ۔ کیونکہ ازل سے مراد روزِ ازل ہوتا ہے جبکہ ازلوں سے مراد صدیوں یا ایک طویل زمانہ ہوتا ہے ۔
شعر کے معاملے میں میرا اپنا ذاتی رویہ یہ ہے کہ موضوع کی نسبت سے جہاں تک ممکن ہوسکے شعر کو معتدل رنگوں سے پینٹ کرنا چاہئے ۔ برش اسٹروک کشادہ ہونے چاہئیں ۔ تاکہ ہر قاری اپنے تجربے اور تخیل کی مدد سے شعر کا لطف لے سکے۔
لگتا ہے آپ میرے سارے دیے بجھا کر ہی چھوڑیں گے۔ :):)
مذاق بر طرف ، اصلاح کے لیے مشکور ہوں۔
ازلوں کو “برسوں“ سے بدل دیتی ہوں۔ نظم کا آہنگ بھی اب مجازی ہی معلوم ہو گا۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
لگتا ہے آپ میرے سارے دیے بجھا کر ہی چھوڑیں گے۔ :):)
مذاق بر طرف ، اصلاح کے لیے مشکور ہوں۔
ازلوں کو “برسوں“ سے بدل دیتی ہوں۔ نظم کا آہنگ بھی اب مجازی ہی معلوم ہو گا۔
:):):)

میری دعا ہے کہ اللہ کریم آپ کی تمام شمعیں تا ابد روشن رکھے اور اندھیروں کو آپ سے ہمیشہ دور رکھے! آمین۔
 
Top