قصور وار میں بھی نہیں

فاتح

لائبریرین
سلگتی سانسوں کے ساتھ
تمہاری یادوں کے ساتھ
ہاتھوں کی لکیروں کو تکتی ہوں
ڈھونڈتی ہوں تمہیں
اک آس ہے
اک پیاس ہے
زخموں کا احساس ہے
کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں سزا
جدائی کیوں
الزامِ بے وفائی کیوں
معصوم اگر تم ہو تو
قصور وار میں بھی نہیں
پھر بھی
لرزتے ہاتھ
کپکپاتی آواز دعا گو ہے
تم جہاں رہو خوش رہو
شاد رہو
آباد رہو
آمین ثم آمین۔۔۔
آخر میں یہی یعنی "آمین" ہی کہنا تھا نا؟:rollingonthefloor:
 
Top