قرآن کوئز 2019

ام اویس نے 'قران فہمی' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 7, 2019

  1. صائمہ رمضان

    صائمہ رمضان محفلین

    مراسلے:
    25
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lurking
    سورۂ توبہ آیت نمبر5، جس میں حرمت والے مہینوں اور مشرکین کا بیان ہے
     
    آخری تدوین: ‏مئی 9, 2019
  2. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    کیا یہ کسی سابقہ بات سے استدراک ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  3. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آیت السیف

    فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

    اردو:

    پس جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کردو۔ اور انکو پکڑ لو۔ اور گھیر لو۔ اور ہر گھات کی جگہ انکی طاق میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو ان کا رستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
    سورة التوبہ ۔ آیة ۔5
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  4. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    سطر کشیدہ بات مطلق نہیں ہے۔ تفسیرِ طبری میں دونوں وضاحتیں موجود ہیں کہ تزکیۂ نفس خود کرے یا ربّ کریم تزکیہ فرمائے۔ زکّٰی فعل کی اسناد ذاتِ خداوندی کی طرف بھی ہوسکتی ہے اور مَنْ موصولہ کی طرف بھی۔ حذفِ اسناد کے ساتھ ذِکْر کررہا ہوں:
    عن ابن عباس ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ) يقول: قد أفلح من زكَّى اللهُ نفسه.
    عن مجاهد وسعيد بن جُبير وعكرِمة: ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ) قالوا: من أصلحها.
    عن قتادة ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ) من عمل خيرا زكَّاها بطاعة الله.
    عن قتادة ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ) قال: قد أفلح من زكَّى نفسَه بعمل صالح.
    قال ابن زيد، في قوله: ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ) يقول: قد أفلح من زكى اللهُ نفسَه .
     
  5. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,496
    جھنڈا:
    Pakistan
    تو تعارض کیا ہوا؟؟؟
     
    • زبردست زبردست × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    درست یہ ہے کہ بندہ خود سے بھی تزکیۂ نفس کرسکتا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,496
    جھنڈا:
    Pakistan
    کسی حد تک۔۔۔
    لیکن بڑے امور میں استاد اور شیخ کی ضرورت رہے گی۔۔۔
    ورنہ ’’ویزکیھم‘‘ کہہ کر اس کارِ عظیم کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ کی جاتی۔۔۔
    چار کتابوں پر عمل کرانے کے لیے لاکھوں انبیاء کرام کی بعثت اس کا ثبوت ہے کہ محض کتابیں پڑھنے سے تزکیہ نہیں ہوتا جب تک مزکّی نہ ہو!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 2
  8. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    متفق۔
     
  9. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    کس آیة مبارکہ میں واضح کیا گیا
    کہ تمہاری پسندیدگی و ناپسندیدگی کے باوجود تمہارے حق میں کیا بہتر ہے اسے صرف الله سبحانہ وتعالی جانتا ہے تم نہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
    ترجمہ: اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
    (پارہ ۲، البقرۃ: ۲۱۶)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  11. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اولاد دینا ربِّ کریم کی شان ہے۔ خالقِ کائنات ارشاد فرماتا ہے:
    لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
    ترجمہ: اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت، پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں، اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔
    (پارہ ۲۵، الشورٰی: ۴۹)
    لیکن وہ کونسی آیت ہے جس میں (ربِّ کریم کی عطا سے) بیٹے دینے کی نسبت روحِ امین سیدنا جبرائیل على نبينا وعليه الصلوة والسلام کی طرف کی گئی ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  12. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بیٹا دینے کی نسبت تو جبرائیل علیہ السلام کی طرف نہیں کی گئی ۔
    البتہ ان کو جبرائیل امین (جنہیں روح القدس کا خطاب دیا گیا ) سے مدد دی گئی اور ان کی تائید کی گئی ۔

    جیسا کہ سورة بقرہ آیت 87 میں ہے

    وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَى أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ

    اردو:

    اور ہم نے موسٰی کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسٰی ابن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس یعنی جبرائیل سے انکو مدد دی۔ تو کیا ایسا ہے کہ جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے جنکو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا تو تم سر کش ہو جاتے رہے اور ایک گروہ انبیاء کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔


    ایک اور آیت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کو (رُوحُ لْآمین) فرمایا گیا ہے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت حسان کے متعلق فرمایا (اے الله روح القدس سے اس کی تائید فرما) ایک دوسری حدیث میں ہے (جبرائیل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں) معلوم ہوا کہ روح القدوس سے مراد حضرت جبرائیل ہی ہیں۔
    (فتح البیان ابن کثیر بحوالہ الحواشی)۔

    اور وہ دوسری آیت سورہ بقرہ آیت 253 ہے

    تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ اللَّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِينَ مِن بَعْدِهِم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَلَكِنِ اخْتَلَفُوا فَمِنْهُم مَّنْ آمَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ

    اردو:

    یہ پیغمبر جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہے ہیں ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے گفتگو کی اور بعض کے دوسرے امور میں مرتبے بلند کئے۔ اور عیسٰی ابن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں۔ اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

    البتہ مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر امام ابن کثیر یوں بیان فرماتے ہیں

    يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِّنْهُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَكَفَى بِاللَّهِ وَكِيلًا

    اردو:

    اے اہل کتاب اپنے دین کی بات میں حد سے نہ بڑھو اور الله کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح یعنی مریم کے بیٹے عیسٰی بس الله کے رسول ہی تھے اور اس کا خاص حکم تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے۔ تو الله اور اسکے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں اس اعتقاد سے باز آؤ کہ ایسا کرنا تمہارے حق میں بہتر ہے۔ الله ہی معبود واحد ہے۔ اور اس سے پاک ہے کہ اسکے اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔

    تفسیر ابن کثیر

    کلمۃ الله کا مطلب ہے کہ لفظ کن سے باپ کے بغیر ان کی تخلیق ہوئی اور یہ لفظ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے حضرت مریم علیہ السلام تک پہنچایا گیا۔ روح الله کا مطلب وہ (پھونک) ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام الله کے حکم سے حضرت مریم علیہا السلام کے گریبان میں پھونکا، جسے الله تعالٰی نے باپ کے نطفہ کے قائم مقام کر دیا۔ یوں عیسیٰ علیہ السلام الله کا کلمہ بھی ہیں جو فرشتے نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور اس کی وہ روح ہیں جسے لے کر جبرائیل علیہ السلام مریم علیہا السلام کی طرف بھیجے گئے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جبرائیل علیہ السلام

    علی نبینا کا مطلب ہے ہمارے نبی پر
    اور جبرائیل علیہ السلام ہمارے نبی نہیں بلکہ الله کے مقرب فرشتے ہیں ۔ فرشتوں کے سردار اور روح الامین و روح القدس ہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ایک احتیاط کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا، یہ کہنا چاہیے کہ ”میرے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔“ براہ راست نفی نہیں کردینی چاہیے۔

    ربِّ کریم فرماتا ہے:
    وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا
    ترجمہ: اور کتاب میں مریم کو یاد کرو! جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی، تو ان سے ادھر ایک پردہ کرلیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا، وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا۔ بولی: میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے۔ بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔
    (پارہ ۱۶، مریم: ۱۶-۱۹)
    على نبينا وعليه الصلوة والسلام کا مطلب ہے: ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان (جبریلِ امین) پر درود وسلام ہو۔
     
    • متفق متفق × 1
  15. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جی بالکل ٹھیک فرمایا آپ نے یہ میری غلطی ہے ۔معذرت چاہتی ہوں مجھے ایسے نفی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔
    اللھم اغفر وارحم

    درست ہے ۔
    لیکن
    سیدنا جبرائیل و علی نبینا علیہ الصلوة والسلام ہونا چاہیے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. عباس رضا

    عباس رضا محفلین

    مراسلے:
    377
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    عربی قاعدے کے مطابق جملہ ٹھیک نہیں ہوگا۔
    على نبينا وعليه الصلوة والسلام معنیٰ کے اعتبار سے بھی ٹھیک ہے اور مستعمل بھی ہے۔
     
  17. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سمجھ آگئی ۔ جزاک الله خیرا کثیرا
    جبرائیل کے بعد توقف ہے پھر علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام یعنی ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم اور ان (جبرائیل ) پر صلوة و سلام
    علیہ کی ضمیر جبرائیل کی طرف ہے ۔

    عربی زبان ۔۔۔ الله الله
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  18. ام اویس

    ام اویس محفلین

    مراسلے:
    1,928
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اسلام میں رہبانیت کا حکم نہیں ۔ قرآن مجید کی کس آیت مبارکہ میں ذکر کیا گیا ہے ؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  19. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,496
    جھنڈا:
    Pakistan
    وَ رَھْبَانِیَّۃَ ابْتَدَعُوْھَا مَا کَتَبْنَاھَا عَلَیْہِمْ(الحدید:۲۷)
    رہبانیت ان کی اپنی ایجاد ہے، ہم نے اُن کو اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  20. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    18,600
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    پارہ نمبر 28 سورۃ الحديد، 57 : 27

    وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ.

    ’’اور رہبانیت (یعنی عبادتِ الٰہی کے لئے ترکِ دنیا اور لذّتوں سے کنارہ کشی) کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کر لی تھی، اسے ہم نے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر (انہوں نے رہبانیت کی یہ بدعت) محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے (شروع کی تھی)۔‘‘
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر