فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہو سکتے: وزیر داخلہ اعجاز شاہ

جاسم محمد نے 'سیاست' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏نومبر 5, 2019 6:05 شام

  1. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہو سکتے: وزیر داخلہ اعجاز شاہ
    05/11/2019 نیوز ڈیسک

    [​IMG]

    وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ فوج کے بغیر انتخابات نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے ۔

    نجی نیوز چینل کے مطابق اعجاز شاہ نے کہا کہ دھرنے کے بیشتر شرکا کو معلوم نہیں ہے کہ ان کا مقصد کیا ہے؟ دھرنے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر پیچھے چلا گیا ہے۔ اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ دھرنا احسن طریقے سے ختم ہو جائے گا۔ بات چیت کا سلسلہ بند نہیں ہونا چاہئے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ اور فوج کے بغیر الیکشن دونوں مطالبے نا مناسب ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار فوج اور حکومت ایک پیچ پر ہیں۔ ہرملک میں آرمی چیف کاایک اہم کردار ہوتا ہے۔ جب تک فوج ہے، ملک غیر مستحکم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے میں پچاس ہزار سے زائد لوگ تھے ۔ نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا نام ای سی ایل پر ہے۔ ان کے نام حکومت نے نہیں بلکہ نیب نے ای سی ایل پر ڈالے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا علاج باہر کروانے کیلئے راستہ نکل سکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی قیادت پاکستان کی سرزمین پر موجود نہیں ہے ۔
     
  2. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    ہاہاہا بڈھا بڈھا جنرل۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔ ہنسی ہی آسکتی ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    کبھی تو میں جوان تھا، جورو کا غلام تھا
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  4. آورکزئی

    آورکزئی محفلین

    مراسلے:
    400
    یہ جنرل ۔۔ کرنل۔۔۔ بریگ۔۔۔ وغیرہ بھی نا۔۔۔ جوانی تو گزر جاتی ہے وضو کرنے میں ۔۔۔ اخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہونگے۔۔۔ :arrogant::arrogant:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    یہ وطن تمہارا ہے ہم ہیں خوامخواہ اس میں۔
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  6. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اپوزیشن کا مطالبہ درست ہے کہ فوج کا الیکشن میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیئے۔

    لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رُخ اور آدھا مسئلہ ہے۔ فوج کے عمل دخل کے بغیر صرف ایک الیکشنز ہوئے ہیں، 1977ء کے اور ساری دنیا کہتی ہے کہ وہ پاکستان کے بدترین الیکشنز تھے، جس میں جیتنے کے لیے دھاندلی نہیں کی گئی تھی بلکہ ناک اونچی رکھنے کے لیے (وزیراعظم اور تمام وزرائے اعلیٰ کو بلا مقابلہ منتخب کروا کر) اور دو تہائی اکثریت (مکمل ڈکٹیٹر شپ) کے لیے دھاندلی کی گئی تھی۔

    یہ دونوں صورتیں ہی بھیانک ہیں!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    انتخابات کے دو دن بعد حکمران جماعت کے انتہائی اہم افراد اجلاس میں شریک تھے۔ سب خوش تھے کیونکہ اکیلے ان کی پارٹی نے نو پارٹیوں کو شکست دی تھی ۔ وہ سب مسکراتے چہروں کے ساتھ پی ایم ہاؤس میں موجود بھٹو کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کب وہ کچھ بول کر خاموشی توڑ دیں ۔ کچھ ہی لمحوں بعد بھٹو نے حفیظ پیرزادہ کی طرف دیکھا اور گویا ہوکر خاموشی توڑ ہی دی' "حفیظ کتنی سیٹوں پر گڑ بڑ ہوئی ہوگی"؟

    حفیظ پیرزادہ نے برجستہ جواب دیا " سر تیس سے چالیس تک ۔۔۔۔ بھٹو نے یہ سنا تو وہاں موجود تمام افراد سے پوچھا ۔" کیا پی این اے والوں سے بات نہیں ہو سکتی کہ وہ ان تمام سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کردیں ہم ضمنی انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیں گے ؟ اس کہانی کا ذکر بھٹو مرحوم کے دست راست اور انتہائی قابل اعتماد ساتھی مولانہ کوثر نیازی نے اپنی کتاب "اور لائن کٹ گئی" میں کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ سن کر میرے چودہ طبق روش ہوگئے کیونکہ میں پورے الیکشن کمپین کے دوران اس بات سے بے خبر رہا کہ بھٹو صاحب نے دھاندلی کا منصوبہ بھی بنایا ہے جس کی قطعاً ضرورت نہ تھی ۔
    بس نظام ہی پٹڑی سے اتر جاتا ہے ۔ شبیر بونیری - Daleel.Pk
     
  8. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    آپ نے سو فیصد درست بات کہی ہے۔ ملک کے سب سے صاف و شفاف الیکشن فوج کی نگرانی میں 1970 میں ہوئے تھے۔ جس کے نتائج سب نے تسلیم کئے لیکن ان کی بنیاد پر اقتدار کا ٹرانسفر نہ ہونے کی وجہ سے ملک ٹوٹ گیا۔
    اسی طرح ملک کے سب سے زیادہ دھاندلی شدہ الیکشن فوج کی نگرانی کے بغیر 1977 میں ہوئے تھے۔ جس کے نتائج کسی نے تسلیم نہیں کئے۔ خود الیکشن جیتنے والی حکومتی جماعت نے مانا کہ انہوں نے وسیع پیمانہ پر دھاندلی کی تھی۔ جس کے بعد جنرل ضیاء نے اس کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    جی ہاں میں نے بھی یہ کتاب اور یہ واقعہ پڑھا ہے۔اس میں مولانا کوثر نیازی نے صرف اپنی "صفائی" بیان کی ہے کہ وہ اس تمام "دھاندلے" سے بے خبر تھے۔ کوثر نیازی کی اس وقت کی حیثیت سامنے رکھتے ہوئے یہ دعویٰ بعید از قیاس ہی لگتا ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  10. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    1970ء کے الیکشنز شفاف تھے، درست ہے۔

    لیکن یہ شفاف کیسے ہو گئے؟ اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔ المختصر، انٹیلی جنس کا کمال تھا۔ جنرل یحییٰ اور ملٹری جنتا کو یقین دلا دیا گیا تھا کہ نتائج منقسم ہونگے اور کسی کو اکثریت نہیں ملے گی لہذا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ نتائج منقسم تھے، لیکن ایسے منقسم ہونگے یہ ان جنرلز کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    الیکشن کے نتائج جتنے بھی منقسم تھے۔ بنگالی قیادت نے بہرحال الیکشن جائز طریقہ سے جیتا تھا۔ انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ جنرل یحییٰ اقتدار مجیب الرحمان کو منتقل کرتے۔ اور بھٹو ان کو وزیر اعظم مان لیتے۔ مگر وہ دونوں اڑ گئے اور ملک توڑ کر دم لیا۔
     
  12. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    8,907
    اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا! :)

    چچا غالب فرماتے ہیں،

    ۔۔ گھر ہمارا جو نہ روتے بھی تو ویراں ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔۔ بحر گر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا
     
    • غمناک غمناک × 1
  13. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ مسئلہ اتنا سیدھا نہیں ہے کہ سارا ملبہ یحییٰ، بھٹو اور مجیب پر ڈال دیا جائے۔ یہ اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی، اس دیوار نے منہدم ہونا ہی تھا۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    7,350
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    انتخابات کی اینٹ یا جمہوریت کی اینٹ ؟ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  15. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    نہ انتخابات کی اینٹ نہ ہی جمہوریت کی اینٹ ۔ 1947 سے 1971 تک سب سے بڑے صوبے کے ساتھ جو رویہ روا رکھا گیا، اسے دیکھیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  16. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائدار ہوگا
     
    • زبردست زبردست × 1
  17. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,785
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    درست کہتے ہیں آنریبل منسٹر۔ پاکستان میں فوج کے بغیر پتہ بھی ہل نہیں سکتا، نہ ہی پرندہ پر مار سکتا ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  18. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,426
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بنگال کی تقسیم کی اینٹ۔

    محمد علی جناح متحدہ بنگال کی صورت میں اس کو ایک الگ ملک بنانے پر رضامند تھے۔
    حسین شہید سہروردی صرف کلکتہ کو مشرقی بنگال کے ساتھ ملا کر بھی ایک علیحدہ ملک بنانے پر رضامند تھے جس پر مسلم لیگ تیار نہ تھی۔
    کانگریس صرف اس صورت میں ہند کی تقسیم قبول کرنے کو تیار تھی کہ نہ صرف بنگال کو تقسیم کیا جائے بلکہ کلکتہ مغربی بنگال میں شامل کیا جائے۔

    یعنی یہ پیچ در پیچ بھول بھلیاں ہیں۔ :)
     
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    مجھے اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹسن کی خوشبو آئی۔
    [​IMG] [​IMG]
     
  20. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    13,145
    کانگریس نے کمال مہارت سے نہ صرف تمام ہندو اکثریت علاقے حاصل کر لئے بلکہ مسلم اکثریت کشمیر بھی چھین کر لے گئے۔ مسلم لیگ ن بس ہاتھ ملتے رہ گئی۔
     

اس صفحے کی تشہیر