فطرت ( استاد مرتضیٰ مطہری )

صرف علی

محفلین
فہرست
باب اول:
فطرت کے معنی
فطرت اور تربیت
لفظ فطرت کا لغوی مفہوم
ابن اثیر کا قول
ابن عباس کا قول
شیخ عباس قمی کی گفتگو
فطرت‘ صبغہ‘ حنیف
حنیف کا مفہوم
طبیعت‘ غریزہ اور فطرت
طبیعت
غریزہ
فطرت
کیا انسان فطریات رکھتا ہے؟ ”فطری جبلتیں“ باب دوئم: انسانی فطرت
انسان پراسرار ترین موجود
شناخت سے متعلق انسانی فطرت
افلاطون کا نظریہ
اسلامی حکماء کا نظریہ
قرآن کا نکتہ نظر
منکرین کا نظریہ اور اس کا نتیجہ
خواہشات سے متعلق انسانی فطرت
باب سوئم: مقدس رجحانات
انسانی خصوصیات
.1محسوسی فطریات
.2 حقیقت کی تلاش
.3 نیکی و فضیلت کی طرف رجحان
.4 حسن و جمال کی طرف رجحان
.5 تخلیق اور ایجاد کا رجحان
.6 عشق و عبادت
باب چہارم: عشق اور پرستش
حقیقت عشق کے بارے میں نظریات
عاشق کا معشوق میں فنا ہو جانا
جرات مند اور غیر جرات مند حسی
نٹشے کے اقوال
کافی سے ایک حدیث
مولانا روم کی ایک مثال
باب پنجم: روحانی عشق
عشق روحانی کے حقیقت کے بارے میں کچھ اور
عشق عرفاء کی نظر میں
کیا انسانی اقدار متغیر ہیں؟
ڈاکٹر ہشترودی کا نظریہ اور اس کا تجزیہ
باب ششم: انسانی ”اصالتوں“ کا ارتقاء ”انسانی اقدار کا ارتقاء“
نٹشے اور سٹاکسٹوں کے نظریات کا تقابل
انسانی اصالتوں کے ارتقاء کا مفہوم
انسانی معاشرے کے ارتقاء کی اقسام
معاشرتی ڈھانچے کے باہمی روابط میں ارتقاء
انسانیت میں تکامل (ارتقاء)
مارکسزم اور انسانی معاشرے کا انسانیت میں تکامل (ارتقاء)
ایگزس ٹینشلزم (نظریہ وجودیت) اور انسانیت اصالتیں
باب ہفتم: مذہب کی اساس (نقطہ آغاز) اور سرچشمہ
خود بیگانگی اور خود فراموشی
مولانا روم کا خیال
فویرباخ کی نظر میں دین کا نقطہ آغاز
نظریہ فویرباخ پر تنقید
ا۱گسٹ کانٹ اور اسپنسر کا نظریہ
رُسل کا نظریہ: دین کمزوری اور خوف کا نتیجہ ہے
تحقیق و تنقید
قرآن اور معرفت خدا
باب ہشتم:
دین فطری ہے
مارکسزم اور پیدائش دین
مارکسزم کے نظریے کا تنقیدی جائزہ
قرآن حکیم کے بقول
کیا دین جہالت کی پیداوار ہے؟
ویل ڈیورنٹ کی رائے
باب نہم:
دین کے نقطہ آغاز کے بارے میں ڈورکہیم کے نظریے کا جائزہ
مرکب اعتباری اور مرکب حقیقی
انسانی معاشرے کی ترکیب کی نوعیت
دین کی پیدائش کا سرچشمہ ڈورکہیم کی نظر میں
ڈورکہیم کے نظریے کا تنقیدی جائزہ
انسانی ”انا“، ”خودی“، ”میں“ کے کئی مدارج ہیں
قرآن کا نظریہ
باب دہم:
دین کی پیدائش کے بارے میں قرآنی نظریہ



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

”فطرت“ آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی ایک شہرت یافتہ کتاب ہے‘ اس کتاب کا انداز تحریر دوسری کتابوں سے بالکل مختلف ہے‘ صاف و شفاف جملے‘ رواں دواں عبارت‘ پرکشش لفظوں کا چناؤ پھر مطالب کی ہمہ گیریت اور مقاصد کی جامعیت نے کتاب کے حسن کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ آیة اللہ مطہری نے کائنات کی آفرینش اور انسان اور دیگر مخلوقات کے مقصد تخلیق کو بہت ہی سادہ اور آسان لفظوں میں بیان کیا ہے‘ حالانکہ شہید مطہری ایک بہت بڑے فلسفی‘ فقہ و حدیث کے ماہر عالم دین تھے‘ انہوں نے کتاب لکھتے وقت عام لوگوں بالخصوص طلبہ کی تربیتی سوچ کو بھی اپنے سامنے رکھا ہے۔ علامہ صاحب نے منفی اقدار کو انسانیت کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے‘ قرآن و حدیث کی روشنی میں جہالت و ظلم کی سخت الفاظ میں مذمت کی‘ پھر یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی اپنی جگہ پر درست اور برمحل ہے‘ کسی کا خوبصورت یا بدصورت ہونا فطری حسن پر اثرانداز نہیں ہوتا‘ کیونکہ خلاق لم یزل نے کوئی نہ کوئی خوبی ہر انسان کو عطا کر دی ہے‘ گویا جو جو چیز یا جو جو نعمت جس جس کے حصے میں آئی تھی وہ اس کو پوری امانت و حفاظت کے ساتھ مل گئی۔ کتنا خوبصورت توازن قائم کیا ہے مالک کائنات نے؟ اسلام میں علم و دانائی کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے‘ انہوں نے لکھا ہے کہ انسان علم و دانائی کا طالب صرف اس لئے نہیں ہے کہ وہ اسے فطرت پر غلبہ دیتے ہیں اور اس کی مادی زندگی میں اس کو نفع پہنچاتے ہیں‘ بلکہ اس کے اندر حقیقت اور تحقیق کی فطری جستجو موجود ہے‘ علم بہتر زندگی بسر کرنے اور اپنے فرائض بہتر طریقے سے انجام دینے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ذاتی طور پر انسان کو مطلوب ہے۔ پھر کہا ہے کہ انسانی روح کی پائیدار اور قدیم ترین تجلیوں اور اصلی ترین پہلوؤں میں سے ایک دعا اور عبادت کا احساس ہے‘ دوسرے لفظوں میں دعا ایک ایسا زندہ عمل ہے جس کے ذریعے ہماری چھوٹی شخصیت اپنی حیثیت کو زندگی کے ایک بڑے ”کل“ میں پا لیتی ہے۔ اسلام نے خود شناسی پر خصوصی توجہ دی ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچانے اور اس عالم وجود میں اپنے مرتبہ کو سمجھے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود شناسی کے ذریعے اپنے آپ کو اس بلند مقام پر پہنچائے جس کا وہ اہل ہے۔ اسلام جسم کی پرورش‘ حفاظت کو ضروری سمجھتا ہے‘ روح کی پرورش اور انسانی کردار کی تعمیر و ترقی بھی حیات انسانی کے لئے لازمی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں پیغمبروں کی تشریف آوری اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے انداز تبلیغ پر بہترین انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ دنیا و آخرت کا فلسفہ بھی آسان پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے‘ گویا آیة اللہ مطہری نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے‘ کسی نے سچ کہا ہے کہ خوشبو تو وہ ہے جو دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرے نہ کہ عطار کو اس کی تعریف کرنی پڑے۔
آیۃ اللہ مطہری شہید کی چند کتب ہم شائع کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں‘ زیر نظر کتاب کی اشاعت ہمارے لئے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور اسلامی تعلیمات کے فروغ اور دین الٰہی کی نشر و اشاعت کے لئے کام کر رہے ہیں‘ جن احباب نے ٹیلی فون‘ خط و کتابت کے ذریعے ہمارے ساتھ اپنی محبت و ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے‘ ان تمام دوستوں کے لئے بے حد شکریہ اور دعائے خیر!
ہماری دعا ہے رب العزت تمام امت مسلمہ کو عزت و سربلندی عطا فرمائے اور ہم سب کو ہر طرح کی آفات و بلیات سے محفوظ رکھے۔
(آمین ثم آمین)
 

صرف علی

محفلین
باب اول
فطرت کے معنی
ہمارا موضوع بحث ”فطرت“ ہے۔ فطرت بحث ایک لحاظ سے فلسفیانہ بحث ہے۔ فلسفے کے اہم موضوعات تین ہیں:
۱۔ خدا ۲۔ کائنات ۳۔ انسان
ہماری یہ بحث انسان سے متعلق ہے ایک لحاظ سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسان اور خدا سے متعلق ہے۔ موضوع کے ایک طرف انسان ہے اور دوسری طرف خدا ہے اسلامی مآخذ یعنی قرآن و سنت میں فطرت کا بہت ذکر ملتا ہے۔ اس ضمن میں میں نے پہلے سے کچھ یادداشتیں مرتب کر رکھی ہیں کہ جن کے بارے میں اس نشست میں گفتگو ہو گی کہ کیا قرآن انسان کے لئے فطرت کا قائل ہے؟ انسان کے بارے میں ایک خاص نکتہ نظر ہے۔ لفظ فطرت سے کیا مراد ہے؟ کیا قرآن سے پہلے کسی نے انسان کے بارے میں یہ لفظ استعمال کیا ہے؟ یا پھر یہ ایسے پہلوؤں میں سے ایک ہے جن کا قرآن نے ہی پہلی مرتبہ انسان کے متعلق ذکر کیا ہے؟ بظاہر قرآن سے پہلے اس لفظ کے استعمال کی کوئی مثال موجود نہیں ہے چنانچہ قرآن نے ہی اسے پہلی مرتبہ انسان کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس کے قرائن کا بعد میں ذکر ہو گا۔
پہلے ہمیں لفظ فطرت کے لغوی پہلو کا جائزہ لینا چاہئے اور گہری نظر سے دیکھنا چاہئے کہ اس کی لغوی بنیاد کیا ہے۔ دوسرا مسئلہ جس کے بارے میں ہمیں اس مقام پر گفتگو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ کیا انسان اصولی طور پر فطریات کے ایک سلسلے کا حامل ہے یا نہیں؟ یا یہ کہ کیا انسان ہر قسم کی فطرت سے عاری ہے؟ البتہ فطریات کی تعریف اس کے بعد بیان کریں گے۔
ہماری تیسری بحث بالخصوص دین کے بارے میں ہو گی کہ کیا دین فطری ہے یا نہیں؟ قرآن نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ دین فطری ہے۔ ہمیں انسان اور دین کے بارے میں ایک علمی بحث کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ کیا دین بنیادی طور پر فطری ہے یا نہیں؟ قرآن نے واضح طور پر فرمایا ہے کہ دین دین فطرت ہے۔ ہمیں انسان اور دین کے بارے میں ایک علمی بحث کرنا ہے اور دیکھنا ہے کہ دین بنیادی طور پر فطری ہے یا نہیں۔
فطرت اور تربیت
البتہ اس مسئلے کے بہت سے پہلو مختلف حوالوں سے وجود میں آتے ہیں ان میں سے ایک تعلیم و تربیت کا پہلو ہے جو ازخود ایک وسیع بحث کا حامل ہے۔ اس حوالے سے گفتگو یہ ہے کہ اگر انسان فطریات کے ایک سلسلے کا حامل ہے تو پھر اس کی تربیت قطعی طور پر انہیں فطریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے اور جو لفظ فطرت استعمال کیا جاتا ہے چاہے شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر اس کی بنیاد یہی ہے کیونکہ تربیت کے معنی ہیں پروان چڑھانا اور پرورش کرنا اور یہ اس بنیاد پر ہے کہ انسان کے اندر صلاحیتوں کے ایک سلسلے کو جسے آج کی زبان میں امتیازی خصوصیات کہا جاتا ہے تسلیم کر لیا جائے۔
تربیت اور صنعت میں یہ فرق ہے کہ صنعت میں کسی ”مادی“ چیز کو وجود میں لایا جاتا ہے یعنی انسان کا ابتداء میں ایک مطمع نظر ہوتا ہے اس کے بعد وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے مختلف چیزوں سے کام لیتا ہے جبکہ ان چیزوں کی اصل ماہیت سے اسے کوئی غرض نہیں ہوتی اسے اپنے مقصد کے حصول کے لئے مختلف ساز و سامان کی شکل و صورت کو بگاڑنے یا سنوارنے سے کوئی غرض نہیں ہوتی اس کو صرف اور صرف اپنے مقصد کے حصول سے غرض ہوتی ہے۔
ایک بڑھئی یا ایک معمار جس کا کام ایک طرح کی ساخت یا تعمیر ہے جو اس کا کام ہونا چاہئے اسے اس سے مطلب نہیں کہ لکڑی لوہا سیمنٹ وغیرہ اپنی ذات اور ماہیت کے لحاظ سے پروان چڑھتے ہیں اور کمال پاتے ہیں یا ناقص ہو جاتے ہیں بلکہ اصولی طور پر کبھی تو ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس ساز و سامان کو شکل و صورت کو ناقص اور تبدیل کرے تاکہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکے۔ لیکن ایک مالی اگرچہ اس کا اپنا ایک مطمع نظر ہدف اور فائدہ ہوتا ہے لیکن اس کے کام کی بنیاد یہ ہے کہ وہ پھول یا پودے کو فطری اور قدرتی تقاضوں کے مطابق پروان چڑھائے اور ایک لحاظ سے وہ پھول اور پودے کے قدرتی تقاضوں کو نظر میں رکھتے ہوئے انہیں پروان چڑھاتا ہے۔
میں نے یہ مثال پہلے بھی دی تھی کہ کبھی انسان کسی مینڈھے کو اس کے ذاتی حوالے سے دیکھتا ہے اور کبھی انسان اسے ایک چیز کے حوالے سے دیکھتا ہے اگر مینڈھے کو اس کے ذاتی حوالے سے دیکھا جائے تو کیا مینڈھے کے مفاد میں ہے کہ اسے جنسی طور پر ناقص کر دیا جائے؟ ہرگز نہیں کیونکہ ہم اس عمل سے ایک طرف اسے اذیت دیتے ہیں اور دوسری طرف ہم اسے جنسی لحاظ سے ناقص کر دیتے ہیں۔ اس طرح ہم اسے اس کے ایک اہم قدرتی عضو سے جو کہ اس کے کمال اور ارتقاء کا باعث ہے سے محروم کر دیتے ہیں اس لحاظ سے یہاں پر ہم اسے ایک چیز کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس سے مطلب نہیں ہوتا کہ اس عمل سے مینڈھا کامل ہوتا ہے یا ناقص۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ فربہ اور موٹا تازہ ہو جائے اور اس کا گوشت زیادہ ہو جائے اس لئے ضروری ہے کہ میں اسے جنسی طور پر ناقص کر دوں تاکہ اس کی توجہ بھیڑ کی طرف نہ جائے اور وہ صرف کھانے اور چرنے کی طرف ہی توجہ رکھے اس طرح وہ زیادہ کھائے گا اور زیادہ فربہ اور موٹا ہو گا نتیجتاً اس کا گوشت بھی زیادہ ہو جائے گا اور جب ہم اس کو ذبح کریں گے تو ہمیں اس کا زیادہ گوشت میسر آ سکے گا۔
انسانوں کا مسئلہ بھی ایسے ہی ہے انسانوں کی تعمیر دو طرح سے کی جا سکتی ہے:
ایک تو یوں کہ جس طرح چیزوں کی تعمیر کی جاتی ہے یعنی جو تعمیر کرنے والا ہے وہ فقط اپنے ہی مقصد کو پیش نظر رکھے اور کسی شے کو ایسا بنا دے کہ اس کا مقصد حاصل ہو جائے چاہے اس کا یہ مقصد چیزوں کو ناقص کرنے سے حاصل ہوتا ہو یا کامل کرنے سے۔
جو لوگ اجتماعیت کے قائل ہیں (یعنی فرد کی نفی کر کے معاشرے ہی کو اصل سمجھنا اور انفرادی کمال کو اہمیت نہ دینا) جیسے اشتراکی نظام کہ جو بذات خود ایک خاص طبقے (حکمران طبقے) کی حاکمیت پر مکمل ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ انسانوں کی تعمیر یوں کریں کہ حکمران طبقے کا مقصد بہتر طور پر حاصل ہو یا ان کے بقول معاشرے کے لئے مفید ہو۔ اس کے بارے میں ہم بعد میں بحث کریں گے کہ آیا فرد کے کمال اور معاشرے کے کمال میں کوئی تضاد ہے یا نہیں؟ اور کیا بہت سے مسائل میں معاشرے کو کمال تک پہنچانے کے لئے ہم فرد کو ناقص کرنے پر مجبور ہیں یا نہیں؟
کہا جاتا ہے کہ ہمیں معاشرے کے لئے فلاں فلاں افراد کی ضرورت ہے مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ معاشرے کو نظم و ضبط کے سو فیصد پابند سپاہیوں کی ضرورت ہے جو اوپر سے آنے والے حکم کی بلا حیل و حجت تعمیل کریں اور اپنے سالار کے حکم کے علاوہ کسی چیز کے بارے میں غور و فکر نہ کریں۔ چنانچہ اگر کوئی انسان اپنے ذاتی ارادے اور عقل کو کام میں لاتا ہے یعنی عقل و فکر کے اعتبار سے آزاد ہے اور سوچتا ہے کہ میں فلاں کام کیوں کروں یا وہ انسان جذبات کا حامل ہے تو پھر ایسا فرد ان کے نزدیک کسی کام کا نہیں اور ان کے بقول معاشرے کے لئے بے کار ہے۔ ان کے مطابق معاشرے کے لئے وہی لوگ کارآمد ہیں جو فکر اور جذبہ سے عاری ہوں وہ چاہتے ہیں کہ سپاہی ایسا ہو کہ یہ اسے ایک بم دیں اور کہیں کہ جاؤ فلاں شہر پر گرا آؤ اور وہ یہ نہ سوچے کہ وہاں کے عوام کا کیا قصور ہے؟ اور میں ان پر بم کیوں گراؤں؟ وہ یہ نہ سوچے کہ آخر اس شہر میں جو مرد ہیں عورتیں ہیں بوڑھے ہیں جوان ہیں یا بچے ہیں وہ بے گناہ ہیں یا قصوروار۔ اس بارے میں اسے نہ سوچنا چاہئے نہ ذرہ بھر محسوس کرنا چاہئے بالکل ایسے ہی جیسے مینڈھے کی تناسلی صلاحیت کو ختم کر دیتے ہیں تاکہ وہ خوب چرے اور خوب موٹا تازہ ہو۔ یہ لوگ انسانی جذبوں اور احساسات کو ختم کر دیتے ہیں اور اس میں درندگی کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں اس طرح فکری حریت اور استقلال کو پوری طرح اس سے چھین لیتے ہیں اور اس صورت میں یہ انسان ان کے لئے کارآمد ہو جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ ”تربیت“ کے حقیقی مفہوم کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ تربیت کے معنی انسان کی حقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے اگر وہ عقل و فکر کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے ذہن میں چون و چرا ابھرتے ہیں تو پھر چاہئے کہ ان کی بھی پرورش کی جائے نہ کہ اس کی ان صلاحیتوں کو ختم کر دیا جائے اگر اس کے اندر انسانی جذبہ مثال کے طور پر رحم کا جذبہ موجود ہو تو چاہئے کہ اسے پروان چڑھایا جائے تاہم ان چیزوں کی بھی افراط و تفریط کے حوالے ہی سے حدود مقرر ہیں۔ یہ بات اس لئے بیان کی گئی ہے کہ مسئلہ فطرت کا تربیت سے بہت قریبی رشتہ ہے جس کے بارے میں ہم جداگانہ گفتگو کریں گے۔
دور حاضر کے انسانی فلسفوں میں اور معاشرہ شناسی کے علوم میں تاریخ کے ارتقاء کے مسئلہ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے اگر ہم فطرت کے قائل ہوں تو تاریخ کے ارتقاء کے ایک خاص اعتبار سے توجیہہ کریں گے اور اگر ہم فطرت کے قائل نہ ہوں جیسا کہ دور حاضر میں بہت سے مکاتب فکر انسان کے لئے کسی فطرت کی مجموعی طور پر نفی کرتے ہیں تو اس صورت میں تاریخ کے ارتقاء کی توجیہہ کسی اور طرح سے کریں گے۔ ان تمام امور پر تفصیلی بحثیں ہیں جن کی جانب ہم نے اجمالی طور پر اشارہ کیا ہے۔
لفظ فطرت کا لغوی مفہوم
اب ہم پہلے مسئلے سے بات شروع کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ لفظ ”فطرت“کہ جو قرآن میں آیا ہے اس سے کیا مراد ہے؟
ارشاد خداوندی ہے:
فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا(روم ۳۰)
مادہ ”فطر“ (ف۔ ط۔ ر) قرآن میں متعدد بار استعمال ہوا ہے کبھی ”فطر ھن“(انبیاء ۵۶)
کبھی ”فاطر السموات و الارض“(انعام ۱۴) اور دیگر پانچ آیات۔
کبھی ”انفطرت“ (انفطار ۱)
اور کبھی ”منفطر بہ (مزمل ۱۸)
ہر مقام پر اسی لفظ کے معنی ہیں ابداع اور خلق بلکہ خلق بھی ابداع کے معنی میں ہی ہے۔ ابداع کے معنی کسی سابقہ نمونے کو پیش نظر رکھے بغیر پیدا کرنے کے ہیں۔ لفظ ”فطرة“ اس صیغے میں یعنی بروزن ”فعلة“ صرف ایک آیت میں آیا ہے کہ جو انسان اور دین کے بارے میں ہے جس کے مطابق دین ”فطرة اللّہ“ ہے۔
فا قم و جھک للدین حنیفا فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ(روم ۳۰)
اس آیت کی تشریح ہم بعد میں عرض کریں گے۔ جو لوگ عربی زبان سے آشنا ہیں وہ جانتے ہیں کہ ”فعلة“ کا وزن نوعیت اور کیفیت پر دلالت کرتا ہے۔ ”جلسة“ یعنی بیٹھنا اور ”جلسة“ یعنی بیٹھنے کا خاص انداز جیسے ”جلست جلسة زید“ یعنی میں زید کے انداز میں بیٹھا یعنی جیسے زید بیٹھتا ہے میں ایسے بیٹھا۔ ابن مالک نے الفیہ میں کہا ہے:
و فعلۃ لمرة کجلسۃ و فعلۃ لھبیۃ کجلسۃ
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ قرآن میں لفظ ”فطرت“ انسان اور دین کے ساتھ اس کے رابطے کے بارے میں آیا ہے۔ ”فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا“ یعنی وہ خاص خلقت کہ جو ہم نے انسان کو دی یعنی انسان ایک خاص انداز سے پیدا ہوا ہے۔ یہ جو آج کل کہا جاتا ہے کہ ”انسانی امتیازات“ تو اس سے فطرت کا مفہوم نکلتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب ہم انسان کی اصل خلقت میں کچھ امتیازات اور خصوصیات کے قائل ہوں یعنی فطرت انسان کے معنی ہوئے خلقت و آفرینش کے اعتبار سے انسان کے امتیازات و خصوصیات۔
ابن اثیر کا قول
حدیث کی لغات کے بارے میں لکھی جانے والی معتبر کتب میں ایک کتاب ابن اثیر کی ”النہایہ“(۱) ہے جو معروف ہے۔ ہم چونکہ معتبر مدارک سے ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں اس لئے اس کتاب کا بھی حوالہ پیش کرتے ہیں جیسے لغات قرآن کے لئے ”راغب“ کی کتاب ”مفردات“ نہایت عمدہ ہے کیونکہ راغب نے قرآنی الفاظ کے بنیادی معانی کا اچھی طرح تجزیہ کیا ہے۔ یہی کام ابن اثیر نے حدیث کی لغات کے لئے انجام دیا ہے۔ ”النہایہ“ میں ابن اثیر نے اس معروف حدیث کو ذکر کیا ہے:
کل مولود یولد علی الفطرة…(۱)
”ہر مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے والدین (بیرونی عوامل) اسے منحرف کر کے یہودی عیسائی یا آتش پرست بنا دیتے ہیں۔“
اس حدیث کے بارے میں ہم بعد میں بحث کریں گے۔ ابن اثیر نے یہ حدیث نقل کر کے لفظ ”فطرت“ کے معنی یوں بیان کئے ہیں کہ الفطر: الابتداء والاختراع (فطر) یعنی ابتداء و اختراع یعنی خلقت ابتدائی کہ جسے ایجاد بھی کہتے ہیں اس سے مراد ایسی خلقت جس میں کسی کی تقلید نہ کی گئی ہو۔ اللہ کا کام فطر ہے اختراع لیکن انسان کا کام عموماً تقلید ہے یہاں تک کہ انسان جو ایجاد بھی کرتا ہے اس میں بھی تقلید کے عناصر موجود ہوتے ہیں۔
انسان عالم طبیعی کی تقلید کرتا ہے یعنی عالم طبیعی پہلے سے موجود ہے اور انسان اسے نمونہ قرار دے کر اس کی بنیاد پر تصویر بناتا ہے صناعی کرتا ہے مجسمہ سازی کرتا ہے انسان کبھی ایجاد و اختراع بھی کرتا ہے اور ایجاد و اختراع کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انسانی ایجاد و اختراع کا اصل سرچشمہ عالم طبیعی ہی ہے اور اسی سے وہ رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ معارف اسلامی میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے نہج البلاغہ اور دیگر اسلامی کتب میں اس سلسلے میں بہت کچھ موجود ہے اور لازمی طور پر ایسا ہی ہے۔ البتہ اللہ تعالی نے اپنے کام کے لئے کسی کی صناعی کی تقلید نہیں کی کیونکہ جو کچھ ہے اسی کا بنایا ہوا ہے۔ اس کی صناعی سے کوئی چیز مقدم نہیں ہے لہذا لفظ فطر ابتداء اور اختراع کے مساوی ہے یعنی ایسا عمل کہ جس میں کسی اور کی تقلید نہ کی گئی ہو۔ ابن اثیر اس کے بعد لکھتے ہیں:
والفطرة الحالہ منہ کا لجلسہ و الرکبۃ
فطرت: یعنی خلقت کی ایک خاص حالت اور ایک خاص نوعیت کے معنی ہوتے ہیں۔ (یہ خاص طور پر اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ جب ہم بعد میں وضاحت کریں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ یہ معنی ان کلمات کے لئے ان کے مفہوم کی بناء پر ہیں اور یہ کہ اس صحیح لغوی مفہوم کو نہایت معتبر اہل لغت نے بہت پہلے بیان کیا ہے)۔
وہ مزید لکھتے ہیں:
والمعنی انہ یولد علی نوع من الجبلہ والطبع المتھیی لقبول الدین فلو ترک علیھا لا ستمر علی لزومہا
”یعنی انسان ایک خاص طرح کی سرشت اور طبیعت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس طرح سے کہ وہ دین کو قبول کرنے کی قابلیت رکھتا ہے اور اگر اسے اسی کے حال پر اور طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تو وہ اسی راستے کا انتخاب کرے گا بشرطیکہ بیرونی اور خارجی طور پر متاثر کرنے والے عوامل اسے اس راستے سے نہ بھٹکا دیں۔“
اس کے بعد ابن اثیر کہتے ہیں کہ حدیث میں فطرت کا لفظ کئی بار آیا ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کہ جس کا ابتدائی حصہ ابن اثیر نے نہیں لکھا یوں بیان ہوا ہے:
علی غیر فطرة محمد یعنی علی غیر دین محمد
مقصد یہ ہے کہ اس مقام پر لفظ دین کے بجائے ”فطرت“ کا لفظ آیا ہے۔ اسی طرح ابن اثیر نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے:
و جبار القلوب علی فطراتہا
(نہج البلاغہ میں اس سے ملتا جلتا جملہ آیا ہے: ”و جابل القلوب علی فطراتھا“) اللہ تعالی جس نے دلوں کو پیدا کیا ہے وہ ان دلوں کی فطرتوں کی بنیادوں پر ان کا جبار ہے۔ یعنی تلافی کرنے والا یا تکمیل کرنے والا اس سے مراد اخلاق ہے۔
ابن اثیر کہتے ہیں:
علی فطراتہا ای علی خلقہا(نہایہ ابن اثیر جلد ۳ ص ۴۵۰)
ابن عباس کا قول
ابن عباس سے ایک عجیب حدیث منقول ہے۔ اس حدیث کو میں اس امر کے لئے قرینہ سمجھتا ہوں کہ فطرت کا لفظ ان الفاظ میں سے ہے جنہیں قرآن نے ہی پہلی مرتبہ استعمال کیا ہے۔ ابن عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا زاد تھے قریش تھے اور صاحب علم و فضل انسان تھے وہ کوئی عجمی نہ تھے کہ ہم کہیں کہ عربی زبان سے واقف نہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے قرآن میں آنے والے لفظ فطرت کو پہلی بار اس وقت سمجھا جب ایک مرتبہ میری ایک بادیہ نشین بدو اعرابی سے ملاقات ہوئی۔(”اعرابی“ یعنی بادیہ نشین قرآن میں آنے والا لفظ اعراب اس معنی میں نہیں کہ جس میں آج ہم استعمال کرتے ہیں۔ ہم لفظ اعراب کو عرب کی جمع کے طور پر استعمال کرتے ہیں جبکہ عرب کی جمع عُرُب ہے۔ اعراب اور اعرابی عام طور پر بادیہ نشینوں کو کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ فارسی زبان میں آج کل لفظ اعراب عرب کی جمع کے لئے بولا جاتا ہے)۔
اور اس نے ایک مسئلہ میں اس لفظ کو استعمال کیا۔ جب اس نے اس مسئلے میں یہ لفظ استعمال کیا تو مجھ پر آیت کا مفہوم واضح ہوا۔
ابن عباس کے الفاظ یوں ہیں:
ما کنت ادری ما فاطر السموات والارض حتی احتکم الی اعرابیان فی بئر
یعنی قرآن میں آنے والے لفظ فاطر کو میں صحیح طور پر نہیں سمجھا تھا یہاں تک کہ دو بادیہ نشین میرے پاس آئے کہ جن کا پانی کے ایک کنوئیں کے مسئلے پر اختلاف تھا۔ ان میں سے ایک نے کہا ”انا فطرتھا“، وہ کہنا چاہ رہا تھا کہ کنواں میرا ہے اور اس کی مراد یہ تھی کہ اسے شروع میں میں نے کھودا ہے۔ (آپ جانتے ہیں کہ جب کسی کنویں کو کھودا جاتا ہے تو ایک عرصے کے بعد اس کے پانی کی سطح نیچی ہو جاتی ہے لہذا اسے دوبارہ مزید نیچے گہرا کرنا پڑتا ہے تاکہ پانی دوبارہ حاصل کیا جا سکے)۔
وہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میں اس کا پہلا مالک ہوں یعنی میں نے اسے پہلے کھودا ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں اس سے سمجھا کہ قرآن میں ”فطرت“ کے کیا معنی ہیں یعنی انسان کی ایک ایسی سو فیصد ابتدائی خلقت کہ غیر انسان میں جس کی کوئی مثال نہیں دیگر مواقع پر بھی عربی زبان میں جہاں ”فطر“ کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں بھی یہ ابتدائی ہونے اور سابقہ نہ رکھنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ مثلاً عرب کہتے ہیں:
فطر ناب البعیر فطرا اذا شق اللحم و طلع
اونٹ کے دانت جب نکلتے ہیں اور وہ پہلی بار گوشت کو چیر کر نمایاں ہوتے ہیں تو ابتداء۱ً ان کے نکلنے کو ”فطر“ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اسی طرح سے کسی جانور کے پستان سے جو پہلا دودھ حاصل کیا جاتا ہے اسے اسی اعتبار سے فُطرہ کہتے ہیں (یعنی بولی یا کھیس)۔
راغب اصفہانی نے بھی اس لفظ کا اسی طرح تجزیہ کیا ہے جیسے ”النہایہ“ میں ابن اثیر نے اس کو واضح کیا ہے چونکہ اسے دوبارہ بیان کرنے سے تکرار ہوتی ہے اس لئے اس کی جانب اشارہ کرنا ضروری نہیں ہے۔
شیخ عباس قمی کی گفتگو
شیخ عباس قمی نے اپنی سفینۃالبحار (شیخ عباس قمی کی بہترین مفید ترین اور ایک اہم کتاب یہی ہے کہ حدیث کے بارے میں ہے اور اس کتاب میں انہوں نے مجلسی مرحوم کی کتاب ”بحار“ کی احادیث کو لغوی اعتبار سے واضح کیا ہے۔ درحقیقت یہ مجلسی مرحوم کی ”بحار“ کی احادیث کی ایک فہرست ہے اس کتاب میں انہوں نے کسی حد تک ابن اثیر کی پیروی کی ہے اس فرق کے ساتھ کہ ابن اثیر کی زیادہ توجہ لغت کی طرف ہے اور ان کی احادیث کی طرف) میں ایک اہم ماہر لغت ”مطرزی“ سے نقل کرتے ہیں کہ اس میں اس نے کہا ہے کہ فطرت یعنی خلقت۔ اس کے بعد ”غوالی اللیالی“ سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں:
کل مولود یولد علی الفطرة
”یعنی ہر مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔“
اس کے بعد انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں آپ ے ایک مناسبت کے لحاظ سے لفظ ”فطرة“ استعمال کیا ہے لیکن فطرت کے اس استعمال سے ہٹ کر کہ جس میں ہم استعمال کرتے ہیں۔ ابی بصیر کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھا اونٹ کا گوشت لایا گیا اور ہم نے کھایا پھر دودھ لایا گیا نے اس میں سے کچھ نوش فرمایا اور مجھ سے کہا کہ تم بھی پیئو میں نے بھی پیا۔ میں نے پوچھا:
”ایش“ یہ کیا ہے؟
اس میں ایک خاص قسم کا مزہ تھا۔ نے فرمایا ”انھا الفطرة“ یہ فُطرة ہے (دودھ دوہتے وقت اس کی جو جھاگ بن جاتی ہے وہ مراد ہے) پھر بھی اس لفظ میں وہی ابتدائیت کا مفہوم ہی موجود ہے۔ اب ہم لفظ فطرت کی لغوی بحث سے آگے بڑھتے ہیں۔
فطرت صبغہ حنیف
قرآن حکیم میں تین الفاظ ایسے استعمال ہوئے ہیں کہ قرآن نے دین کے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے انہیں ہم معنی اور مفہوم کے لحاظ سے انہیں ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا ہے یعنی تین ایسے مختلف مفہوم ہیں کہ ان کا مصداق ایک ہے۔ ان میں سے ایک یہی لفظ ”فطرت“ ہے۔
فطرة اللہ التی فطر الناس علیھا(روم ۳۰)
دوسرا لفظ ”صبغہ“ ہے اور تیسرا ”حنیف“ یعنی دین کے لئے ”فطرة اللہ“ بھی کہا گیا ہے ”صبغة اللہ“ بھی اور ”للدین حنیفا“ بھی۔
اب ہم کچھ ”صبغہ“ اور ”حنیفا“ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
صبغۃاللہ ومن احسن من اللہ صبغۃالبقرة ۱۳۸)
”اللہ کا رنگ اور اللہ کے رنگ سے بہتر کیا ہے۔“
”صبغہ“، ”فعلۃ کے وزن پر ہے۔ یہ صبغہ اور صباغ کے مادہ سے ہے۔ ”صبغہ“ کے معنی ہیں رنگ کرنا اور ”صباغ“ یعنی رنگ ریز یا رنگ کرنے والا صبغہ یعنی رنگ کرنے کی ایک خاص کیفیت خاص طرح سے رنگنا ”صبغة اللہ“ یعنی وہ خاص رنگ جو اللہ نے کائنات میں بھرا ہے یعنی الہی رنگ۔ دین کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ الہی رنگ ہے یہ وہ رنگ ہے کہ جسے دست قدرت نے کائنات اور خلقت میں بھرا ہے اس نے انسان کو اس رنگ میں ڈھالا ہے۔ مفسرین نے کہ جن میں راغب بھی شامل ہیں کہا ہے کہ قرآن میں یہ تعبیر اس غسل تعمید کی طرف اشارہ ہے کہ جو عیسائی انجام دیا کرتے تھے (کہتے ہیں کہ پانی میں چونکہ وہ لوگ ”عیسائی“ عموداً نہلاتے تھے اس لئے اسے غسل تعمید کہتے ہیں۔ بعض کتابوں میں ہے کہ غسل کے لئے پانی کا کوئی خاص رنگ مثلاً زرد جیسا ہوتا تھا)۔ عیسائی غسل تعمید پر اعتقاد رکھتے تھے اور آج بھی اسے انجام دیتے ہیں جب وہ کسی کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں بلکہ یہاں تک کہ عیسائیوں کے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے عیسائی مذہب میں داخل کرنے کے لئے یہ غسل دیتے ہیں گویا اس طرح سے اس پر عیسائیت کا رنگ چڑھاتے ہیں اور اس نہلانے کو ایک طرح سے مسیحیت کا رنگ دینا سمجھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
”رنگ تو وہ رنگ ہے کہ اللہ نے جو خلقت کے اندر بھرا ہے۔“
ایک آیت میں ارشاد ہوتا ہے:
ما کان ابراہیمؑیہودیا ولا نصرانیا و لکن کان حنیفا مسلما(آل عمران ۶۷)
”ابراہیمؑیہودی اور نصرانی نہیں تھے بلکہ وہ تو حنیف مسلمان تھے۔“
قرآن کہتا ہے کہ انسان ایک فطرت کا حامل ہے اور وہ دین ہے اور دین بھی اسلام۔ اسلام ایک حقیقت ہے آدمؑسے خاتم تک قرآن ادبیات کا قائل نہیں ہے ایک دین کا قائل ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں لفظ دین کی جمع استعمال نہیں ہوئی کیونکہ دین فطرت ہے راستہ ہے انسان کی سرشت میں موجود ایک حقیقت ہے۔ انسانوں کو مختلف طرح سے پیدا نہیں کیا گیا ہے جتنے بھی انبیاءآئے ان کے تمام احکام کی بنیاد فطری احساس کو بیدار کرنے زندہ کرنے اور پروان چڑھانے پر تھی۔ جو کچھ وہ پیش کرتے تھے اس فطرت انسانی کا تقاضا ہے فطرت انسانی کے تقاضے مختلف طرح کے اور الگ الگ نہیں ہوتے لہذا قرآن فرماتا ہے کہ جس چیز کے نوح حامل تھے وہ دین تھا اور اس کا نام اسلام تھا اور جس چیز کے ابراہیمؑحامل تھے وہ بھی دین ہی تھا کہ جس کا نام اسلام ہے۔ یہ جو نام بعد میں پیدا ہوئے اور وجود میں آئے حقیقی دین اور اس کی فطرت سے انحراف ہے یعنی درحقیقت جس چیز کے نوح موسی عیسی اور ہر نبی حامل تھا وہ دین اسلام ہی تھا۔ (بعض لوگوں نے یہ سوال کیا ہے کہ کیا شریعتیں بھی فطری ہیں یا نہیں؟ ہم اس سلسلے میں بعد میں بیان کریں گے کہ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ دین فطری ہے تو اس کی کون سی چیز فطری ہے۔ آیا اس کے اصول و معارف فطری ہیں یا احکام بھی فطری ہیں۔ یہ جزئیات ہیں ان پر بعد میں گفتگو کی جائے گی)۔
لہذا قرآن فرماتا ہے:
ما کان ابراہیمؑیہودیا ولا نصرانیا و لکن کان حنیفا مسلما
”ابراہیمؑیہودی اور نصرانی نہیں تھے بلکہ وہ تو حنیف مسلمان تھے۔“(آل عمران ۶۷)
قرآن یہ نہیں فرمانا چاہتا کہ ابراہیمؑرسول اللہ کے زمانے کے مسلمان کی طرح کسی پیغمبر آخرالزمان۱کی امت تھے بلکہ فرماتا ہے کہ یہودیت اور عیسائیت حقیقی اسلام سے انحراف ہے اور اسلام درحقیقت ایک ہی ہے۔ وہ آیت مبارکہ جو میں نے پہلے بیان کی ہے اس میں فرمایا گیا ہے کہ اس رنگ چڑھانے کا کیا فائدہ ہے؟ غسل تعمید اور اس جیسے غسلوں کی کیا تاثیر ہے؟ کیا غسل تعمید سے کسی کو وہ کچھ بنایا جا سکتا ہے جو کچھ وہ نہیں ہے؟ رنگ بھرنا تو وہ رنگ بھرتا ہے جو دست قدرت نے خود کائنات میں بھر دیا اور سمو دیا۔ اللہ یہ فرمانا چاہتا ہے کہ جو کچھ ہمارا نبی کہتا ہے وہی حقیقی اسلام ہے وہی فطرت حقیقی ہے۔ فطرت حقیقی یعنی وہ رنگ کہ جسے اللہ نے خلقت ”مخلوق“ میں بھر کر روح انسانی میں رچا دیا اور چڑھا دیا ہے۔
راغب اصفہانی کہتے ہیں:
صبغۃاللہ اشارة الی ما اوجدہ اللہ تعالی فی الناس من العقل المتمیزبہ عن البھائم کا لفطرة
(البتہ وہ فطرت کو عقل میں منحصر سمجھتا ہے)۔
و کانت النصاری اذا ولد لھم ولد غمسوہ فی الیوم السابع فی ماء عمودیۃیزعمون ان ذلک صبغۃل تعالی لہ ذلک من احسن من اللہ صبغۃ
یعنی قرآن کریم میں ”صبغۃاللہ“ کی عبارت اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالی نے خصوصاً انسانوں میں پیدا کی ہے یعنی ”عقل“ جو انہیں حیوانوں سے اشرف افضل اور ممتاز کرتی ہے اور یہی فطرت ہے۔ عیسائیوں کے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو وہ اسے ساتویں دن پانی میں عموداً ڈبوتے ہیں اس سے وہ یہ خیال کرتے کہ بچہ پر عیسائیت کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالی نے فرمایا:
”اللہ کے رنگ سے بہتر کیا ہو سکتا ہے؟“
حدیث میں ہے:
الدین الحنیف و الفطرة و صبغۃاللہ والتعریف فی المیثاق(معانی الاحبار بحوالہ بحارالانوار چاپ جدید ج ۳ باب ۱۱ ص ۲۷۶)
”دین حنیف اور دین فطرت اور صبغۃاللہ وہی ہے کہ جس سے اللہ نے انسان کو میثاق کے موقع پر آشنا کیا ہے۔(میثاق وہ پیمان یا عہد ہے کہ جو اللہ تعالی نے روح انسانی سے لیا ہے)۔“
یہ میثاق اسی ”چیز“ کی طرف اشارہ ہے کہ جسے عالم ذر سے تعبیر کیا جاتا ہے لہذا ضروری ہو جاتا ہے کہ اس مقام پر ہم عالم ذر کے مسئلہ پر گفتگو کریں اور دیکھیں کہ اس کا مفہوم اور معنی کیا ہیں۔ کیا انسان قبل ازیں اسی عالم مادہ میں چھوٹے چھوٹے جانداروں کی طرح تھے؟ اور پھر انہوں نے یہ ”موجودہ“ صورت اختیار کر لی ہے یا پھر اس کے کوئی دقیق تر معنی ہیں؟ ظاہر ہے کہ اس کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ دقیق تر ہے۔
 

صرف علی

محفلین
حنیف کا مفہوم
زرارہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا ”حنفاء للّہ“ سے کیا مراد ہے؟
”ما الحنیفیۃ؟ حنیفیت کیا ہے؟ امامؑنے فرمایا حنیفیت یعنی فطرت۔ گویا امامؑنے بھی اسے ایک تکوینی و طبیعی مسئلہ کی طرف پلٹایا ہے۔ شیخ صدوق اپنی عمدہ کتاب ”توحید“ میں فرماتے ہیں کہ زرارہ نے امام باقرؑسے حنفاء للہ غیر مشرکین بہ اور پھر حنیفیت کے بارے میں پوچھا تو امامؑنے فرمایا:
ھی الفطرة التی فطر الناس علیہا لا تبدیل لخلق اللہ
”یہ ہے وہ فطرت جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اللہ کی آفرینش تبدیل نہیں ہوتی۔“
امامؑنے مزید فرمایا کہ اللہ نے انہیں معرفت پر پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد امامؑنے واقعہ ذر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ نے بھی فرمایا ہے:
کل مولود یولد علی الفطرة
یعنی علی المعرفۃبان اللہ عزوجل خالقہ
”ہر کسی کی فطرت میں یہ معرفت موجود ہے کہ اللہ اس کا خالق ہے۔“
ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
عروة اللہ الوثقی التوحید والصبغۃالاسلام
”اللہ کی مضبوط رسی توحید اور رنگ اسلام ہے۔“
ابن اثیر نے مادہ ”حنف“ کے وہی معانی بیان کئے ہیں جو ہماری احادیث میں آئے ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ حنفاء کے معنی یہ ہیں کہ اللہ نے انسانوں کو گناہوں سے پاک پیدا کیا ہے اس کے الفاظ یوں ہیں:
خلقت عبادی حنفاء ای طاہری الاعضاء من المعاصی و قیل ارادانہ خلقہم حنفاء مومنین لما اخذ علیہم المیثاق: الست بربکم قالوا بلی فلا یوجد احد الا وھو مقر بان لہ ربا و ان اشرط بہ وا ختلفوا فیہ۔ والحنفاء جمع حنیف و ھو المائل الی الاسلام الثابت علیہ و الحنیف عند العرب من کان علی دین ابراہیمؑ(علیہ السلام) و اصل الحنف المیل
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ حنیفیت یعنی حقیقت کی طرف رجحان اور میلان پس اگر ہم لفظ حنیف کی تعریف کرنا چاہیں تو وہ کچھ اس طرح سے ہو گی کہ ”مائل بہ حق“ مائل بہ حقیقت حق اور حقیقت کی جانب جھکاؤ رکھنے والا یا خدا اور توحید کی طرف میلان اور رغبت رکھنے والا۔ انسان کی فطرت میں حنیفیت ہونے کے معنی یہ ہیں کہ حق و حقیقت کی طرف میلان ”رجحان“ اس کی فطرت میں شامل ہے۔ یہاں تک ہماری گفتگو لفظ فطرت کے لغوی مفہوم کے بارے میں تھی اور قرآن و حدیث میں اس کے بنیادی معنی کی تلاش کے لئے نیز اجمالاً جاننے کے لئے کہ اس کی بنیاد آیات قرآنی اور احادیث میں موجود ہے اور یہ کہ یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے لہذا اس قدر عرض کرنا ضروری تھا۔
طبیعت غریزہ اور فطرت
اب ہم ان تین لفظوں کے مفہوم کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے:
طبیعت
اب ہم انسان کی فطرتیات کے بارے میں بات شروع کرتے ہیں۔ یہ گفتگو دینی مذہبی اور قرآنی حوالے سے نہیں ہو گی بلکہ اس سوال کا جائزہ لیں گے کہ کیا انسان فطریات کا حامل ہے یا نہیں؟ اس سوال کے جواب کے لئے لامحالہ یہ دیکھنا ہو گا کہ فطریات سے کیا مراد ہے؟
ہمارے یہاں تین الفاظ استعمال ہوتے ہیں مناسب ہو گا کہ ہم ان کے درمیان تمیز کریں اور ان کا فرق بیان کریں۔ ان میں سے ایک لفظ ”طبیعت“ ہے عموماً غیر جانداروں کے لئے لفظ طبیعت یا طبع استعمال ہوتا ہے اگرچہ جانداروں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے لیکن میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر جانداروں کے لئے یہ لفظ خاص طور پر استعمال ہوتا ہے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ پانی کی طبیعت ”خاصیت“ ایسی ہے جب ہم بے جان موجود جس کا نام پانی ہے کے خواص میں سے کوئی خاصیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پانی کی طبیعت ایسی ہے (ہمارے یہاں اردو میں مادہ کے لئے خواص یا خاصیت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور عالم مادہ کے لئے طبیعت کی اصطلاح بھی مستعمل ہے) یا کہتے ہیں کہ آکسیجن کی طبیعت ”خاصیت“ ایسی ہے کہ سلگنے یا جلنے کے قابل ہے اور اس طرح سے مختلف اشیاء عناصر کے مختلف خواص کے حوالے سے ہم ان کے لئے مختلف ذاتی خصوصیات کے قائل ہوتے ہیں۔ کسی بے جان چیز کی ذاتی خصوصیت کو ہم طبیعت ”طبع“ کہتے ہیں یہ تمام انسانوں ”بنی نوع بشر“ میں موجود ایک فلسفیانہ سوچ و فکر کا نتیجہ ہے یعنی انسان اسی طرح سے سوچتا ہے کہ دو ایک سی چیزوں کے خواص مختلف نہیں ہوتے اگر خواص مختلف ہو گئے تو یہ ان چیزوں کے مختلف ہونے کی دلیل ہو گی یعنی پھر وہ دو چیزیں مختلف ہوں گی کیونکہ انسان نے چیزوں کو بعض پہلوؤں سے ایک سا پایا ہے اور مشاہدہ کیا ہے کہ بعض چیزیں باوجود اس کے کہ وہ جسم رکھتی ہیں اور مادہ ہیں ان کے خواص مختلف ہیں۔ مثلاً انسان دیکھتا ہے کہ پانی جسم رکھتا ہے اور مادہ ہے مٹی بھی جسم رکھتی ہے اور مادہ ہے لیکن ان میں سے ہر ایک کے اپنے ایسے خواص ہیں کہ جو دوسرے میں نہیں ہیں۔ لامحالہ اس نے یہ نتیجہ نکالا اور اخذ کیا کہ اس جسم میں ایک ایسی قوت ایک ایسی توانائی اور ایک ایسی خصوصیت پوشیدہ ہے جو اس کی مخصوص خاصیت کی بنیاد ہے۔ اس طرح ایک اور خاصیت دوسری چیز میں مخفی یعنی ”پوشیدہ“ ہے کہ جو اسی سے مخصوص خواص کا سرچشمہ ہے لہذا ایک ایسی خصوصیت کہ جو کسی خاص تاثیر کی بنیاد بن جائے اس کا نام ”طبیعت“ ہے۔ آج کل ہم بھی اس لفظ کو ایسے ہی موقع کے لئے استعمال کرتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ چیری (Cherry) کی طبیعت یہ ہے یا فلاں درخت کی طبیعت یہ ہے کہ موسم سرما میں اس پر تر و تازگی ہوتی ہے اور گرمیوں میں نہیں اور فلاں درخت کی ”طبع“ یعنی طبیعت ایسی ہے کہ وہ گرم علاقوں میں پروان چڑھ سکتا ہے اور زندہ رہ سکتا ہے وغیرہ۔ لیکن لفظ طبیعت کو ہم بے جان کے علاوہ جانداروں کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں مثلاً پودوں حیوانوں اور انسانوں کے لئے بھی تاہم ان پہلوؤں سے کہ جن میں وہ ”غیر جانداروں“ کے ساتھ مشترک ہیں کیونکہ بے جان میں جو خصوصیات ہیں وہ جانداروں میں بھی ہیں لیکن جانداروں کی جو ذاتی خصوصیات ہیں وہ بے جانوں میں نہیں ہیں۔
غریزہ
دوسرا لفظ جس کے بارے میں گفتگو کرنا ہے وہ ”غریزہ“ یعنی ”جبلت“ ہے کہ جو زیادہ تر حیوانات کے لئے مستعمل ہے اور انسان کے لئے کم استعمال ہوتا ہے لیکن جمادات اور نباتات کے لئے ہرگز استعمال نہیں ہوتا۔ ابھی تک غریزہ ”جبلت“کے ماہیت واضح نہیں ہے یعنی ابھی تک کوئی شخص حیوانات میں غریزہ کے مفہوم کی صحیح وضاحت نہیں کر سکا لیکن اتنا ہم جانتے ہیں کہ حیوانات کچھ خاص اندرونی خصوصیات کے حامل ہیں کہ جو ان کی زندگی کی رہنما ہیں اور حیوانوں میں نیم آگاہی ”نیم شعوری“ کی ایک حالت پائی جاتی ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ راستے کو پہچانتے ہیں اور یہ حالت کسبی بھی نہیں ہے بلکہ ایک غیر اکستابی اور جبلی ہے۔ (استاد شہید نے اس موقع پر فارسی کا لفظ ”سرشت“ استعمال کیا ہے)۔ مثال کے طور پر اڑنے والے جانور کا بچہ اپنی پیدائش کے آغاز میں ہی بغیر تعلیم و تربیت اور بغیر کسی غیرے کے ایسے کام کرنے لگتا ہے کہ جو اس کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ گھوڑی کا بچہ انسان کے بچے سے مختلف ہوتا ہے انسان کا بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو پستان اس کے منہ میں ڈالنا پڑتا ہے اگرچہ بچہ بھی کسی حد تک اپنے ہونٹوں کو جنبش دیتا ہے اور چلاتا ہلاتا ہے اور کمزور علامت کے طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی چیز کا متلاشی ہے اور اس کی جستجو میں مصروف ہے جبکہ گھوڑی کا بچہ ”ٹٹو“ پیدا ہوتے ہی کوشش کرتا ہے کہ اٹھ کھڑا ہو چند بار زمین پر گرتا ہے لیکن آخرکار اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور بغیر ماں کی رہنمائی کے اپنا سر ٹیڑھا کرتا ہے اور ماں کے شکم کے نیچے کچھ تلاش کرتا ہے یقیناً وہ ماں کے پستان کی تلاش میں ہے چنانچہ چند لمحات میں ماں کا پستان ڈھونڈ لیتا ہے اور دودھ پینا شروع کر دیتا ہے۔ گھوڑی کے بچے کی یہ حالت اس کا اٹھ کھڑا ہونا ماں کے پستان کی جستجو کرنا اور جلدی سے اسے ڈھونڈ لینا اسے کیا کہیں گے؟ کہتے ہیں یہ حیوانی غریزہ ”جبلت“ ہے۔ حیوانوں کے غریزے بہت مختلف ہیں مثلاً چیونٹی اپنی خوراک جمع کرنے کے بارے میں ایک خاص غریزہ ”جبلت“ رکھتی ہے۔
مور گرد آورد بہ تابستان
تا فراغت بود زمستانش
”چیونٹی موسم گرما میں اپنی خوراک ذخیرہ کر لیتی ہے تاکہ سردیوں میں اسے پریشانی نہ ہو۔“
چیونٹی کی حالت تو بہت عجیب ہے یہاں تک کہ اپنی خوراک ذخیرہ کرنے کے لئے ایسے ایسے غیر معمولی اور محیرالعقول کام کرتی ہے کہ معلوم نہیں (معلوم نہیں سے مراد ہے کہ اس سلسلے میں کئی نظریات ہیں)۔ ان کا سرچشمہ اور بنیاد کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ گندم جمع کرتی ہے اور یہ جانتی ہے کہ اگر اس کے دانے سالم رہے تو پھر سے اگ پڑیں گے گویا انہیں بانجھ کر دیتی ہے یعنی دو ٹکڑے کر دیتی ہے یعنی دو ٹکڑے کر دیتی ہے تاکہ وہ پھر اگنے کے قابل نہ رہیں اسی طرح سے اور بھی بہت سے حیران کن کام کرتی ہے۔ یہ سب کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں یہ غریزہ ہے نیم آگاہی ”نیم شعوری“ پر مبنی ایک کام ہے جسے آگاہی ”شعور“ بھی کہا جا سکتا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آگاہانہ اور شعوری طور پر نہیں ہے ایک بہت ہی مبہم سی حالت ہے۔
ہمچو میل کو دکان بامادران
سر میل خود ندانند در لبان
”جیسے بچوں کا ماؤں کی طرف میلان اور رغبت ہوتی ہے لیکن وہ ماؤں کی طرف بڑھنے والا ہونٹوں کا راز نہیں جانتے۔“
ایک طرف تو اس لحاظ سے کہ یہ ایک داخلی میلان و رغبت ہے آگاہی کی حالت ہے۔ میلان یا رغبت ایک روحانی کیفیت کا نام ہے انسان اس میلان سے متعلق حضوری آگاہی رکھتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ یہ میلان و رغبت کیوں ہے۔ یہ تو اسے خبر ہے کہ اس کے اندر ایک رغبت یا رجحان ہے لیکن خود اس کے بارے میں نہیں جانتا اپنی اس آگاہی کا راز نہیں جانتا۔ اجمال اور ابہام کی بناء پر اس میں یہ رغبت پیدا ہوتی ہے لیکن وہ خود اس رغبت کی طرف متوجہ نہیں ہوتا چونکہ کسی چیز سے آگاہی اور بات ہے اور اس کا حضور اور بات ہے۔
”غریزہ“ کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے ابھی تک کہیں بھی دینی یا غیر دینی اصطلاح اور محاورے میں یہ نہیں دیکھا کہ حیوانات کے لئے لفظ فطرت استعمال ہوا ہو اور اگر کسی نے استعمال کیا بھی ہو تو قصوروار گردانا نہیں جاتا (فطرت کا مفہوم اردو زبان میں موجود ہے اور استعمال کے اعتبار سے وسیع تر ہے یہاں تک کہ یہ انگریزی زبان کے لفظ Nature کے مترادف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جس کا فارسی مترادف طبیعت ہے اگرچہ انسان کے لئے لفظ فطرت کا استعمال زیادہ موزوں ہے)۔
بہرحال مجھے یاد نہیں کہ حیوانات کے بارے میں جہاں پر ”غریزہ“ جبلت کا لفظ استعمال کیا جانا چاہئے ”فطرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو۔
فطرت
اس لفظ کا انسانوں پر اطلاق ہوتا ہے اور لفظ ”فطرت“، ”طبیعت“ اور ”غریزہ“ کی طرح ایک تکوینی مفہوم رکھتا ہے یعنی انسان کی سرشت کا ایک حصہ ہے۔ تکوینی سے ہماری مراد یہ ہے کہ یہ ایک اکتسابی یا کسبی نہیں ہے یہ ”غریزہ“ سے بالاتر ایک آگاہانہ چیز ہے۔ انسان جو کچھ جانتا ہے وہ اپنے اس علم کے بارے میں آگاہی حاصل کر سکتا ہے یعنی انسان کچھ ”فطریات“ کا حامل ہے اور یہ جانتا ہے کہ اس میں کچھ فطریات ہیں۔
کیا انسان فطریات رکھتا ہے؟ ”فطری جبلتیں“
”فطریات“ کا ”غریزہ“ سے ایک اور فرق یہ ہے کہ غریزہ کا تعلق حیوان کی مادی زندگی سے ہے جبکہ انسان کی ”فطریات“ ایسے امور سے مربوط ہے جنہیں ہم امور استثنائی کہتے ہیں یعنی حیوانی امور سے ہٹ کر پس درحقیقت ”فطرت“ سے متعلق بحث کہ وہ امور جو خالصتاً انسانی امور ہیں اور حیوانی امور سے ہٹ کر ہیں آیا تمام کسبی ہیں اور ان کی بنیاد خود انسان کے اندر موجود نہیں ہے یا پھر یہ کہ کیا ان تمام مسائل کا سرچشمہ انسان کی ذات ہے اور یہ انسان کے لئے فطری ہیں؟ مثلاً ایک موضوع حقیقت خواہی کے نام سے ہمارے سامنے ہے جس کا اپنا ایک مفہوم ہے اور یہ ایک الگ موضوع ہے۔ ”حقیقت خواہی“ سے میری مراد یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اس کے سامنے جو حقیقتیں مخفی ہیں ان کا انکشاف کرے۔ پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا انسان واقعی طالب حقیقت ہے؟ اس بات کا امکان ہے کہ اس بات کو تسلیم نہ کیا جائے کہ انسان حقیقت کا طالب ہے اور اگر طالب حقیقت ہے بھی تو محض اپنے مفاد کی خاطر۔ یہ بحث علم کے بارے میں ہے چونکہ علم انسان کے لئے حقائق کو واضح کرتا ہے اور یہ بھی سوال ہے کہ آیا انسان خود علم کی ذاتی قدر اور اہمیت کا قائل ہے یا اسے فقط ایک وسیلے کی سی اہمیت دیتا ہے اس میں شک نہیں کہ علم انسان کے لئے ایک ذریعہ ہے۔ کہتے ہیں ”توانا بود ہر کہ دانا بود“ یعنی علم انسان کو طاقت عطا کرتا ہے جب علم اسے طاقت بخشتا ہے تو گویا یہ ایک وسیلہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو ترقی دے سکتا ہے۔ لیکن یہ سوال بھی ہے کہ آیا علم انسان کے لئے خود سے کوئی چیز ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہم اس بات کے قائل ہو جائیں کہ علم انسان کے لئے ذاتی اہمیت رکھتا ہے یعنی آج کا انسان حقیقت کا طالب ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے یہ حقیقت خواہی سماجی ضرورتوں کا نتیجہ ہے یا پھر انسانی سرشت کا حصہ ہے یعنی کیا انسان حقیقت خواہ ہی پیدا ہوا ہے؟
دوسری مثال اخلاق حسنہ کی ہے دور حاضر میں کچھ مفاہیم اور مطالب ایسے ہیں جنہیں ہم اخلاق حسنہ کا نام دیتے ہیں یعنی اخلاقی نکتہ نظر سے انہیں انسانی اخلاق یا اخلاق حسنہ کہتے ہیں اور ان کے برعکس مفاہیم کو اخلاق سیئہ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر احسان مندی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی انسان سے اچھا سلوک کرے تو انسان اس کے جواب میں نیکی کرے اور اس کا شکرگزار ہو یہ احسان فراموشی کے مقابلے میں ایک مفہوم ہے۔ احسان مندی یعنی نیکی کے جواب میں نیکی یہ اخلاقی مسئلہ ہے بہرحال دور حاضر میں یہ بات قبول کر لی گئی ہے:
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان(الرحمن ۷۰)
اس آیت میں سوالیہ انداز کا مقصد انسانی فطرت سے جواب حاصل کرنا ہے یعنی یہ ایک فطری امر ہے کہ احسان کا صلہ احسان ہی ہو سکتا ہے۔ گویا قرآن پوچھ رہا ہے کہ آیا یہ ممکن ہے کہ احسان کی جزاء احسان کے علاوہ کچھ اور بھی ہو سکتی ہے؟ انسان جواب دیتا ہے نہیں نیکی کی جزاء نیکی ہی ہے۔
یہ اصول انسان نے کہاں سے حاصل کیا ہے؟ کیا یہ پند و نصیحت ہے جسے معاشرتی تقاضوں نے انسان پر ٹھونس دیا ہے؟ اگر یہ بات مان لی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر اجتماعی ”سماجی“ تقاضے بدل گئے تو یہ اصول بھی تبدیل ہو جائے گا اور یہ بات پھر تقابلی اخلاق ”نسبی اخلاق“ تک جا پہنچے گی یا پھر کیا یہ ایک ایسا امر ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے؟
خود دین اور عبادت کا مسئلہ انہی امور میں سے ہے اور کیا وہ حس جسے حس دینی کے نام سے جانا جاتا ہے جو بہرحال انسانوں کے اندر موجود ہے کا سرچشمہ انسان کی جبلت ہے اور انسان کی سرشت باطن کا تقاضا ہے یا یہ کہ بعض دیگر عوامل کا نتیجہ ہے۔(ایسے عوامل کے بارے میں ہم بعد میں گفتگو کریں گے)
لہذا فطریات انسان یا انسانی فطرت کی بحث کو ہم اس طرح سے شروع کرتے ہیں کہ کچھ امور ایسے رہے ہیں اور ہیں کہ جنہیں آج انسانیت کا نام دیا جاتا ہے کوئی ایسا مکتب فکر نہیں ہے جو آج کی اصطلاح میں کچھ نہ کچھ انسانی اقدار کا قائل نہ ہو۔
انسان اپنے مفاد اور فائدوں کی جستجو میں ہوتا ہے یہ ایک منطقی امر ہوتا ہے کیونکہ انسان اپنے جبلی تقاضوں کے پیش نظر حیات و بقاء کو پسند کرتا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ ہر اس چیز کو پسند کرتا ہے جو اس کی حیات کے تسلسل میں مددگار ہو اور انسان کا اپنے فائدے کی جستجو میں رہنا ایک فطری امر ہے۔
کچھ اور چیزیں بھی ہیں جو فائدے کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں اور مفاد کی منطق سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ فرنگیوں نے غلط طور پر ان کا نام Value رکھا ہے انہیں یہ نام دینے کے باعث بھی بہت سی غلط فہمیاں وجود میں آئی ہیں۔ Values (اقدار) کی اصطلاح انہوں نے اس لحاظ سے استعمال کی ہے کہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ وہ حقائق سے مختلف چیز ہے لیکن انسان نے باہمی سمجھوتے سے انہیں سند عطا کی ہے اور وہ چیز جسے ہم باہمی سمجھوتے اور سند کے ساتھ اہمیت دیں۔ درحقیقت کچھ بھی نہیں ہے یہ ایسے ہی ہے کہ جسے ہم ایک ہزار کے نوٹ کے لئے باہمی سمجھوتے سے ایک قیمت کے قائل ہیں مثلاً اس نوٹ کو دے کر ہم دو من گندم خرید سکتے ہیں اگر اس نوٹ کی یہ سندیت ختم کر دی جائے تو اس میں اور عام سادہ کاغذ میں کوئی فرق نہ رہے نام اس کا کچھ بھی رکھ دیا جائے۔
جن چیزوں کو آج کل انسانی اقدار کہا جاتا ہے وہ کیا ہیں؟ کیا انسانی سرشت اور جبلت میں ان کی کوئی بنیاد ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر وہ کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ بذات خود ایک اہم موضوع ہے کیونکہ اگر کوئی چیز انسان کی سرشت میں موجود ہو تو پھر وہ کچھ اور مسائل اور حقائق کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی تعلیمات کی بنیاد کچھ فطری جبلتوں پر مبنی ہیں یعنی وہ تمام چیزیں جنہیں آج امور انسانی اور ماوری حیوانی اور جن کا نام ہم اسلامی اقدار رکھتے ہیں اسلام معارف کی نظر میں ان کا سرچشمہ انسانی سرشت اور جبلت میں موجود ہے۔
ہم بعد میں بیان کریں گے کہ انسان اور انسان کی حقیقی انسانیت کی جڑ فطری جبلتوں کو قبول کرنے کا لازمہ ہے۔ یہ فضول سی بات ہے کہ ہم انسان کے لئے فطری جبلتوں کو نہ مانیں یعنی ان کے لئے انسان کی سرشت میں موجود کسی بنیاد کے قائل نہ ہوں اور Humanism اور انسان خالص کا بھی دم بھریں۔
پس ہماری بعد کی گفتگو انہی انسانی اقدار اور ان کے فطری ہونے کے بارے میں ہے۔ انہی سے ہم نتائج اخذ کریں گے اور پھر ان چیزوں کو شمار کریں گے جو انسانی فطرت کا حصہ ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ اقدار کیا ہیں؟ ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ اسلامی تصانیف میں ان کے فطری ہونے کے بارے میں کیا دلائل موجود ہیں؟ ہم اس سوال کا بھی جائزہ لیں گے کہ کیا قرآن اور اسلامی تصانیف میں کوئی ایسی دلیل موجود ہے کہ اخلاق حسنہ ایسے امور کا ایک سلسلہ ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے ہم جائزہ لیں گے کہ کیا ہم اخلاقی مسائل کے بارے میں زیرنظر آیت سے فطرت کا مفہوم اخذ کرتے ہیں:
و نفس وما سواھا فالھمھا فجورھا و تقویھا(الشمس ۸۶)
اس طرح اس آیت سے بھی یہ استفادہ کر سکتے ہیں:
ھل جزاء الاحسان الا الاحسان(رحمن ۶)
عموماً جب قرآن سوال کرتا ہے تو وہ یہ چاہتا ہے کہ جواب انسان کی فطرت سے حاصل کرے گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو لوگوں کی سرشت میں موجود ہیں اور ہر کوئی انہیں جانتا ہے۔
 

صرف علی

محفلین
باب دوم
انسانی فطرت​
ہماری بحث کے متعلق دو سوال اٹھائے گئے ہیں پہلے ہم ان کا مختصر جائزہ لیتے ہیں پھر اصل گفتگو کو جاری رکھیں گے:
پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن نے جو معاملات نوع انسان کی زبان سے بیان کئے ہیں کیا فطری ہیں یا نہیں؟ مثلاً قرآن مجید فرماتا ہے:
و یقول الانسان اذا مامت لسوف اخرج حیا(مریم ۶۶)
”اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مر جاؤں گا تو پھر جلد ہی مجھے زندہ نکال لیا جائے گا۔“
کیا اس آیت سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ قیامت پر اعتقاد فطری ہے؟
مجموعی طور پر یہ ایک اچھا سوال ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا گہری نظر سے جائزہ لیا جانا چاہئے اور یہ دیکھا جانا چاہئے کہ قرآن کریم نے نوع انسانی کی زبان سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ انسان کے فطری امور کا ترجمان ہے یا نہیں؟ بہرحال مجموعی طور پر یہ سوال قابل بحث اور اہم ہے۔ ضروری ہے کہ اس ضمن میں آنے والی تمام آیات کو یکجا کیا جائے لیکن خاص طور پر مذکورہ آیت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابتداء میں یہ دیکھنا ہو گا کہ یقول الانسان نوع انسان کی زبان سے ہے یا پھر کسی خاص انسان کی طرف اشارہ ہے۔ مجھے اچھی طرح سے تو یاد نہیں لیکن احتمال یہ ہے کہ آیت کا شان نزول ایک خاص واقعے سے متعلق ہے۔ (صاحب مجمع البیان لکھتے ہیں کہ ”نزل قولہ: ویقول الانسان“ مذکورہ آیات ابی بن خلف جمعی اور بعض کے مطابق ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے) یعنی کسی ایک انسان نے یہ بات کی ہے۔ قرآن تعجب اور انکار کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ دیکھو یہ انسان ایسی بات کر رہا ہے! اگر یوں ہو تو پھر ایسا کہنا بنی نوع انسان کا ترجمان نہیں بلکہ کسی ایک شخص کا قول ہو گا۔ ثانیاً یہ کہ قیامت پر اعتقاد کا فطری ہونا یا نہ ہونا اس بات کے ساتھ وابستہ ہے کہ ہم قیامت پر اعتقاد کو کس صورت میں بیان کرتے ہیں؟ کبھی ہو سکتا ہے کہ ہم اس مسئلے کو اس شکل میں بیان کریں جس میں خود قرآن اپنی اکثر آیات میں بیان کرتا ہے۔ قیامت کا جو معنی اور مفہوم قرآن بیان کرتا ہے وہ اللہ کی طرف بازگشت ہے انا للہ و انا الیہ راجعون
اگر قیامت کا مفہوم یہ ہو تو پھر جواب مثبت ہے یعنی ہاں قیامت پر ایمان فطری ہے۔
لیکن عموماً اس امر کو ایک ناقص صورت میں بیان کیا جاتا ہے جس میں اس کا حقیقی مفہوم بیان نہیں ہوتا۔ بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ جس طرح ایک کاریگر کوئی چیز بناتا ہے پھر اسے توڑ دیتا ہے یا ضائع کر دیتا ہے اور دوسری مرتبہ پھر سے بنانا چاہتا ہے اسے بھی گویا ایسے ہی کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں جس شخص کی بات نقل کی گئی ہے اس کا تصور بھی ایسا ہی تھا اس کے سامنے قیامت اور معاد کا حقیقی تصور نہ تھا اس نے سن رکھا تھا کہ قیامت میں لوگ دوبارہ زندہ ہوں گے مگر اس نے اس زندگی کو دنیا کی طرف بازگشت خیال کیا۔ اکثر لوگوں کا خیال ایسا ہی ہے وہ اسے خدا کی طرف بازگشت نہیں سمجھتے اگر قیامت کے بارے میں ہمارا تصور یہ ہو کہ یہ اسی دنیا کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے تو معاد پر اعتقاد یقینی طور پر فطری نہیں لیکن قیامت کے بارے میں ہمارا تصور حقیقت میں اللہ کی طرف بازگشت ہو تو پھر یہ ایسا امر ہو گا جو خدا اور انسان کے درمیان ہر رابطے سے متعلق ہے۔ اس امر کے بارے میں متعلقہ مقام پر بحث کریں گے کہ یہ فطری ہے۔
کیا اپنے آپ میں کسی چیز کا پانا اس کے فطری ہونے کی دلیل ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ انسان کے وجود میں فطرت کی موجودگی۔
اس بات کے لئے اپنے آپ میں فطری جبلت کا پانا کافی ہے یا کسی اور استدلال کی ضرورت ہے کیونکہ پہلی صورت میں اغراض خواہشات نفسانی اور جبلتوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور اصطلاحی و لفظی فرق پر انحصار کافی نہیں ہو گا۔ خلاصہ یہ کہ فطرت اور جبلت کے درمیان حد فاضل کیا ہے اور کیا یہ باہمی افہام و تفہیم کا نتیجہ ہے (مثلاً شعوری اور غیر شعوری کی صورت میں تقسیم) یا پھر کیا یہ ایک حقیقی امر ہے؟
در اصل یہ دو سوال ہیں جو ایک دوسرے کے تسلسل میں ہیں۔ کہتے ہیں کہ آیا ایک امر کے فطری ہونے کے اثبات کے لئے یہ کافی ہے کہ ہم اسے اپنے وجود میں پائیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ہم کسی چیز کے فطری ہونے کے بارے میں بحث نہیں کر رہے نہ ہی کسی چیز ہونے کی علامات بیان کر رہے ہیں اس مسئلے کے بارے میں ہم بعد میں گفتگو کریں گے۔ دوسرے بالفرض اگر ایسا ہو بھی تو یہ کوئی عجیب چیز نہیں ہے کہ کوئی امر ہمارے نزدیک فطری ہو اور اس کے فطری ہونے پر دلیل یہ ہو کہ اس کے فطری ہونے کو ہم اپنے آپ میں محسوس کریں۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ہمارے نزدیک کچھ مسلم الثبوت دعوؤں ”کلیات اولیہ“ کا ایک سلسلہ ہے جسے ہم کہتے ہیں ”کل جزو“ سے بڑا ہوتا ہے اور ”جزو“ کا اپنے ”کل“ کے برابر یا اس سے بڑا ہونا محال ہے۔ اس بات کے اثبات کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ مسلم الثبوت بات ”کلیہ“ ہے اگر کوئی یہ کہے کہ اس کے مسلم الثبوت ہونے پر کیا دلیل ہے؟ یعنی خود تو یہ بات مسلم الثبوت ہے لیکن اس کا مسلم الثبوت ہونا مفروضہ ہے یا دعویٰ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ کہ یہ بات مسلم الثبوت ہے بذات خود ثابت شدہ ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ اس دعوے کا مسلم الثبوت ہونا ثابت نہیں بلکہ یہ ایک مفروضہ اور قیاس ہے تو پھر اس کے لئے دلیل پیش کرنا ضروری ہے پھر یہ دیکھنا ہو گا کہ خود ہماری دلیل کیسی ہے؟ مفروضہ ہے یا مسلم الثبوت دلیل ہے؟ اگر فرض کریں کہ ہماری دلیل قیاسی اور مفروضہ ہے تو پھر اس کے لئے بھی دلیل کی ضرورت ہو گی۔ اب اس دلیل کے لئے لائی جانے والی دلیل کو دیکھنا ہو گا کہ وہ مفروضہ ہے یا مسلم الثبوت ہے۔ اگر آخرکار ہم ایک ایسے دعوے پر پہنچ جائیں جو مسلم الثبوت ہو تو پھر یہ درست ہے لیکن اگر یہ اصول مسلم الثبوت نہ ہو تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ ہمارے پاس نہ مفروضہ ہے نہ مسلم الثبوت دعویٰ یعنی جب کوئی بات مسلم الثبوت نہ ہو تو ہم اس کے بارے میں استدلال پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اس صورت میں ہمارا استدلال ایک قیاسی اور فرضی امر پر ہو گا یعنی اس کی بنیاد ایک مجہول ”نامعلوم“ امر پر ہو گی۔ اگر ہم چاہیں کہ ایک مجہول ”نامعلوم“ چیز کے لئے مفروضہ کو دلیل بنا کر پیش کریں یعنی امر مجہول کے لئے دلیل بھی امر مجہول ہو تو یہ ایسے ہی ہے کہ ایک صفر کے ساتھ ایک صفر کا اضافہ کر دیا جائے کہ بجائے خود لاحاصل ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
پس یہ بات عجیب نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہم فطری امور کے ایک سلسلے کے حامل ہیں اور ان کے فطری ہونے کو خود اپنے آپ میں پاتے ہیں اور اس کے لئے ہمیں کوئی دلیل پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس مسئلے کے بارے میں بعد میں مزید وضاحت کی جائے گی۔
اس سوال کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ اس صورت میں ”جبلت“، غریزہ خواہش اور ان کے مانند دیگر امور میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔
اتفاق کی بات ہے کہ ہم نے پہلے جو بحث کی تھی وہ لغوی تھی یعنی ہماری گفتگو کا محور یہ تھا کہ لفظ ”فطرت“ جو پہلے قرآن مجید میں اور پھر علماء کی اصطلاحات میں استعمال ہوا ہے اس سے کیا مراد لی گئی ہے۔ ہمارے نزدیک کوئی مضائقہ نہیں کہ کوئی شخص ان مسائل فطری کا نام ”غریزہ“، ”جبلت“ رکھ دے لیکن یہ نام رکھنے سے کیا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ بحث تو اسی جبلی یا فطری امر کی ماہیت و حقیقت کے بارے میں ہے۔ اب آپ چاہے اس کا نام ”غریزہ“، ”جبلت“ رکھ لیں یا ”فطرت“۔ ہماری بحث کا محور الفاظ نہیں ہیں ہمیں اس سے سروکار نہیں ہے کہ لفظ ”فطرت“، لفظ ”غریزہ“ یا ”جبلت“ سے مختلف ہے یا نہیں۔ بحث تو اس بارے میں ہے کہ وہ چیز جسے انسانیت (Humanity) کا نام دیا جاتا ہے اور جسے ”انسانی خصوصیات“ کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے وہ کسبی ہے یا غیر کسبی؟ (الفاظ سے سروکار نہ ہونے سے ہماری مراد یہ ہے کہ ہمارے مدعا میں الفاظ کا کوئی کردار نہیں اگرچہ ہمیں الفاظ کی بھی ضرورت ہے) اور کیا یہ خصوصیات بیرونی ہیں اور انسان پر مسلط کی گئی ہیں یا خود انسان کی ذات سے پھوٹی ہیں؟ ہماری بحث اس کے بارے میں ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ خصوصیات فطری ہیں یعنی انسان کی ذات سے پھوٹتی ہیں اور انسان ایک ایسا موجود ہے کہ اس کے وجود کی گہرائی میں ان خصوصیات کا بیج بویا گیا ہے اب اگر آپ اس کا نام ”غریزہ“، ”جبلت“ رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں۔ یہ پھر ایک لغوی بحث ہو جائے گی ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عام طور پر ایسے موقع پر لفظ ”غریزہ“، ”جبلت“ کا اطلاق نہیں کیا جاتا نیز عام طور پر حیوانوں کے لئے لفظ ”فطرت“ استعمال نہیں کیا جاتا لیکن اگر کوئی حیوانوں کے لئے لفظ فطرت استعمال کرنا چاہتا ہے تو کرے پس ہماری بحث کوئی لغوی بحث نہیں ہے۔
اس اعتبار سے کہ جو کہا جاتا ہے کہ انسان میں جو کچھ ہے وہ شعوری ہے اور حیوان میں جو کچھ ہے غیر شعور ہے۔ اس بارے میں کوئی بحث نہیں ہے کہ اس طرح کا فرق بھی موجود ہے پس اس بات کو ہمارے لئے اعتراض کی بنیاد نہیں بننا چاہئے۔ اب ہم اپنے موضوع سخن کے بارے میں گفتگو جاری رکھتے ہیں:
انسان پراسرار ترین موجود
کائنات کے موجودات میں سے انسان سے بڑھ کر کوئی موجود تفسیر و تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ ہم یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فلسفے میں جن موضوعات پر بحث کی جاتی ہے یعنی دنیا کے تمام فلسفے جن کے بارے میں بحث کرتے ہیں وہ ”خدا“، ”کائنات“ ”انسان“ ہیں بعض ”کائنات“ کے بارے میں زیادہ تر بحث کرتے ہیں اور بعض انسان کے بارے میں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اجزائے عالم میں انسان کو کیا خصوصیت اور کیا امتیاز حاصل ہے کہ ہم نے کائنات اور انسان کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے؟ کیا انسان کائنات سے جدا ہے؟
ہاں! انسان کائنات کا جزو ہے لیکن دیگر تمام اجزاء سے بہت مختلف ہے یا یوں کہئے اس میں ایسی ایسی پیچیدگیاں ہیں کہ جو کائنات کی دیگر اکائیوں اور اجزاء سے زیادہ توحید و تفسیر کی محتاج ہیں۔ دھات بھی ایک چیز ہے لوہا سونا چاندی اور پودے کائنات کے اجزاء ہیں لیکن یہ اس قدر تفصیل و توضیح کے محتاج نہیں کہ ضروری ہو جائے کہ ان کے لئے بہت سے مفروضے قائم کرنے پڑیں اور بہت سے نظریات و آراء پیدا ہو جائیں اور ان کی شناخت کے لئے طرح طرح کے مسائل درپیش ہوں لہٰذا اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ جن کا دعویٰ ہے کہ موجودات عالم میں سے انسان پراسرار ترین موجود ہے۔
الیکسز کارل نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا عنوان اس نے ”انسان پراسرار موجود“ یا ”مجہول موجود“ (الانسان ذالک المجہول) رکھا ہے۔ خوب نام ہے کہ تعجب ہے کہ خود انسان نے بہت سی چیزوں کو پہچانا ہے اور اپنے سے بہت دور کی چیزوں کو اس نے شناخت کر لیا ہے اور اب وہ ان کے بارے میں اس بات کا مدعی ہے کہ اس کے لئے اب ان چیزوں کے بارے میں کچھ مجہول نہیں ہے لیکن موجودات میں سے جو اس کے نزدیک ترین ہے یعنی خود اپنی ذات یعنی انسان کہ جو سب کو پہچاننے والا ہے اس کے بارے میں اس کے اسرار و رموز اور مجہولات بہت زیادہ ہیں۔
انسان کے بارے میں مجہولات میں سے ایک یہی ہے انسان کی فطرت کا مسئلہ ہے جس کے دو حصے ہیں ایک شناخت فہم اور دریافت سے متعلق ہے اور دوسرا خواہش اور رغبت سے متعلق ہے۔
شناخت سے متعلق انسانی فطرت
شناخت اور دریافت کے حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ انسان بعض فطری یعنی غیر کسبی معلومات رکھتا ہے یا نہیں؟ اس وقت ہمارے ذہن میں ہزاروں تصورات اور مصداق موجود ہیں کہ جن کے بارے میں شک نہیں کہ تقریباً تمام کسبی ہیں۔ قرآن مجید کی سورئہ مبارکہ نحل کی ایک آیت یوں ہے:
و اللہ اخر جکم من بطون امہاتکم لاتعلمون شیئا و جعل لکم السمع و الابصار والافئدة لعلکم تشکرون(نحل ۷۸)
”اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں سے اس عالم میں پیدا کیا ہے کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں قوت سماعت بصارت اور دل عطا کیا تاکہ تم شکرگزار ہو جاؤ۔“
بعض نے اس آیت سے یہ معنی اخذ کرنا چاہا ہے کہ انسان کی تمام معلومات کسبی ہیں اور کوئی معلومات فطری نہیں ہیں۔ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ جب اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں سے نکالا تو تم کچھ نہیں جانتے تھے یعنی تمہاری لوحِ دل پاک اور صاف تھی اور اس پر کوئی نقش موجود نہ تھا تمہیں کان اور آنکھیں دیں اور یقینا ان دو کا ذکر جو اس میں سے نمونے کے طور پر ہے نیز فرمایا اور تمہیں دل عطا کیا کہ جس سے مراد فکری صلاحیت ہے یعنی تمہاری لوحِ دل پر کچھ نہ لکھا تھا۔ یہ تو حواس کا قلم ہے کہ جو دل اور عقل کے ہاتھوں سے اس صاف و پاک لوح پر کیا کیا لکھتا ہے۔ ایک نظریہ یہ ہے:
افلاطون کا نظریہ
ایک اور نظریہ ہے کہ جو افلاطون کا ہے جو اس نظریے کے برعکس ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ ہر چیز جانتا ہوتا ہے کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو نہ جانتا ہو انسان کی روح بدن میں آنے سے پہلے ایک اور دنیا میں موجود ہوتی ہے۔ اس کے بقول وہ دنیا ”دنیائے مثل“ یا ”عالم مثال“ ہے ”مثل“ کا مفہوم اس کے نزدیک اس عالم کے موجودات کے حقائق سے عبارت ہے۔ روح انسانی نے اس دنیا میں ”مثل“ کو جانا ہے اور حقائق اشیاء تک پہنچ چکے ہیں جب اس روح کا تعلق بدن سے قائم ہوتا ہے تو اس کے اور اس کی معلومات کے درمیان ایک طرح کا حجاب حائل ہو جاتا ہے اور وہ ایک ایسے شخص کی طرح ہو جاتی ہے کہ جو کوئی چیز جانتا ہوتا ہے لیکن وقتی طور پر اسے بھول جاتا ہے۔ اس کے نظریے کے مطابق جو کوئی بھی اس دنیا میں آتا ہے تمام علوم مثلاً ریاضی وغیرہ جانتا ہوتا ہے پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر تعلیم و تعلم کیا ہے؟ اس کے جواب میں وہ کہتا ہے کہ تعلیم و تعلم یاد آوری اور یاد دلانے کے لئے ہوتا ہے۔ معلم یاد دلانے والا ہے معلم اس چیز کو یاد دلانے والا ہے جو متعلم اپنے باطن میں جانتا ہوتا ہے۔ یہ اسے اس چیز کی طرف متوجہ کرتا ہے اسے وہ چیز یاد دلاتا ہے کہ جسے وہ پہلے سے جانتا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے مکتب میں تعلیم فقط ایک طرح کی یاددہانی ہے اور بس یہ نظریہ پہلے نظریے کے بالکل مدمقابل ہے۔
اسلامی حکماء کا نظریہ
تیسرا نظریہ ہے کہ انسان بعض چیزوں کو بالفطرت جانتا ہے البتہ ایسی چیزیں کم ہیں۔ انسانی فکر کے وہ اصول جو تمام انسانوں میں مشترک ہیں فطری اصول ہیں جبکہ ان بنیادوں پر اٹھنے والے افکار کی عمارت کسبی ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ اصول فکر فطری ہیں اس کا مفہوم افلاطون کے اس نظریے سے مختلف ہے کہ روح انسانی نے کسی اور دنیا میں انہیں یاد کیا ہے اور یہاں آ کر انہیں فراموش کر دیا ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن انہیں جاننے کے لئے اسے کسی معلم کسی منطقی استدلال یا تجربے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے یعنی انسانی فکر کی عمارت اس طرح سے ہے کہ جونہی ان امور کو دیکھتا ہے تو انہیں سمجھ لیتا ہے اور کسی استدلال یا دلیل کا محتاج نہیں ہوتا ایسا نہیں ہے کہ انسان پہلے سے انہیں جانتا ہو۔ یہ ایک اور نظریہ ہے اور عموماً حکمائے اسلامی نے بھی یہی نظریہ اختیار کیا ہے بعض خصوصیات میں اختلاف کے ساتھ ارسطو کا بھی یہی نظریہ رہا ہے۔
دور حاضر کے فلسفیوں میں بھی یہ اختلاف رائے موجود ہے لیکن شاید موجودہ دور میں کوئی بھی افلاطون کے نظریہ کا قائل نہ ہو البتہ اس دور میں بھی بعض فلاسفہ انسان کی کچھ معلومات کے فطری اور پیدائشی ہونے کے قائل ہیں اور باقی معلومات کے بعد میں حاصل کئے جانے اور ان کے تجربہ کی بنیاد پر حصول کے قائل ہیں۔ اس نظریے کا سرخیل قرن حاضر میں دنیا کا معروف عظیم فلسفی ”کانٹ“ ہے اس کی رائے کے مطابق انسان کی بعض معلومات تجربے اور حواس سے حاصل شدہ نہیں بلکہ پیدائشی ہیں یعنی ایسی معلومات جو کہ اس کے نظریے کے مطابق انسان کی ذہنی ساخت کا لازمہ ہے۔
جرمنی کے فلسفیوں میں یہ نظریہ موجود رہا ہے لیکن انگریز فلسفیوں میں سے بیشتر کہ جو حسی (تجربیون مکتبہ فکر کے فلاسفہ) ہیں ان کا نظریہ اس کے برعکس ہے ان میں سے جان لاک اور ہیوم وغیرہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی لوحِ دل پر کچھ نہیں لکھا ہوتا اور انسان سب کچھ باہر سے حاصل کرتا ہے اور ہر چیز سیکھنے کی ہے۔
جو نکتہ میں نے عرض کیا ہے وہ نہایت ہی دقیق ہے ہم نے اسے اصول فلسفہ میں بھی ذکر کیا ہے۔ اسلامی فلاسفہ اس بات کے قائل ہیں کہ تفکر انسانی کے اولین اصول آموختی اور استدلالی نہیں ہیں اور استدلال سے بے نیاز ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ان اصولوں کو انسان کی ذات کا حصہ بھی نہیں سمجھتے جبکہ افلاطون یا کانٹ انہیں انسانی ذات کا حصہ جانتے ہیں۔ حکمائے اسلامی کا کہنا ہے کہ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ فکر کے ان اصولوں تک سے تہی دامن ہوتا ہے لیکن فکر کے اصول اولیہ کہ جو بعد میں پیدا ہوتے ہیں وہ تجربے کے ذریعے سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ انسان مسئلے کے دونوں پہلوؤں کو تصور کرتا ہے یعنی موضوع و محمول کو تصور کرتا ہے۔ انسانی ذہن کی ساخت ایسی ہے کہ وہ فوری طور پر موضوع و محمول ”منطق کی دو اصطلاحیں“ کے درمیان رابطے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کر لیتا ہے مثلاً اگر ہم یہ کہیں کہ ”کل جزو سے بڑا ہوتا ہے“ تو افلاطون یہ کہتا ہے کہ دیگر تمام مسائل کی طرح روحیں ازل سے جانتی ہیں اور کانٹ کہتا ہے کہ ہمارا یہ کہنا کہ ”کل جزو سے بڑا ہے“، ذہن کے فطری عناصر میں سے ہے ایسے عناصر کہ جن کا اس کی ذہنی ساخت میں عمل دخل ہے عناصر کے اس سلسلے کی کچھ مقدار باہر سے حاصل کی گئی ہے اور کچھ خود ذہن سے۔ اسلامی حکماء کہتے ہیں کہ انسان جب دنیا میں آتا ہے تو کچھ نہیں جانتا یہاں تک کہ وہ مذکورہ مسئلے کو بھی نہیں جانتا ہوتا کیونکہ ابھی تو اسے کل کا کوئی تصور ہوتا ہے نہ جزو کا لیکن جونہی اس کے لئے کل اور جزو کا تصور پیدا ہوتا ہے اور وہ ان دو کا موازنہ کرتا ہے تو پھر بغیر کسی دلیل استاد اور تجربے کے یہ نتیجہ اخذ کر لیتا ہے کہ ”کل جزو سے بڑا ہے“۔
اس بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ معلومات کے بارے میں کسی قدر اختلاف نظر موجود ہے۔ اختلاف اس بارے میں ہے کہ کیا ہم فطری معلومات رکھتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر رکھتے ہیں تو کیا افلاطون کے نظریے کے مطابق ہیں یا مسلم حکماء کے نظریے کے مطابق؟ اور معلومات رکھتے ہیں یا نہیں؟ یہ موضوع بہرحال قابل بحث ہے۔
قرآن کا نکتہ نظر
اب دیکھتے ہیں کہ قرآن کا نظریہ کیا ہے؟ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:
واللہ اخرجکم من بطون امہاتکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع و الابصار و الافئدة لعلکم تشکرون(نحل ۷۸)
گویا قرآن کا نظریہ یہ ہے کہ جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کی لوحِ دل ہر چیز سے پاک اور صاف ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن بعض مسائل کو اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ استدلال کی احتیاج نہیں رکھتے مثلاً آپ دیکھیں کہ توحید کا مسئلہ قرآن میں کس طرح سے پیش کیا گیا ہے اور یہ آیات کس طرح سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے نزدیک مسئلہ توحید کہ جس سے متعلق آیات ہم بعد میں پیش کریں گے ایک فطری امر ہے ایسے میں یہ بات کہ لاتعلمون شیئا
”تم کچھ نہ جانتے تھے۔“
اور اس کے ساتھ یہ بات کہ تم اپنے باطن میں اور اپنے ضمیر میں ایک طرح خدا کو جانتے ہو آپس میں کیسے جمع ہو سکتی ہیں؟ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آپس میں قابل جمع ہیں اور انہیں اکٹھا کیا جا سکتا ہے۔
پھر یہ بھی قرآن کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ ”تذکر“ اور ”یاددہانی“ کا بہت ذکر کرتا ہے۔ بہت عجیب ہے کہ ایک طرف افلاطونی نظریے کو قرآن میں شدت سے رد کیا گیا ہے اور دوسری طرف قرآن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے ”فذکر“ یعنی ”پس“ یاد دلادیں۔ ”انما انت مذکر“ یعنی آپ تو ہیں ہی ”توجہ دلانے اور یاددہانی کرانے والے ”لست علیہم بمصیطر“ یعنی آپ ان پر کوئی نگران تو نہیں ہیں۔(غاشیہ ۲۱۔۲۲)
تذکر سے متعلق آیات کوئی ایک دو نہیں ہیں یہاں تک کہ خود قرآن کو ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لفظ ”ذکر“ کا اطلاق ہوا ہے:
قد انزل اللہ الیکم ذکرا رسولا(طلاق ۱)
”تحقیق اللہ نے تمہاری طرف ذکر بھیجا جو کہ رسول ہے۔“
ان آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن اس کے ساتھ ساتھ بعض ایسی چیزوں کا بھی قائل ہے کہ جن کے لئے تذکر اور یاددہانی کافی ہے اور ان کے لئے استدلال کی ضرورت نہیں ہے مثلاً مندرجہ ذیل آیت میں استفہام اقراری ہے:
ھل یستوی الذین یعلمون والذین لایعلمون(زمر ۹)
”کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں؟“
یہ آیت قرآن کی ایک خاص روش کی عکاس ہے اس روش کے مطابق قرآن مجید مسائل کو سوال کی صورت میں اٹھاتا ہے۔ اسی طرح جب ایمان اور عمل صالح کی دعوت دینا چاہتا ہے تو فرماتا ہے:
ام نجعل الذین امنوا و عملوا الصالحات کا لمفسدین فی الارض ام نجعل المتقین کا لفجار(ص ۲۸)
”کیا ہم اہل ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کو زمین میں فساد برپا کرنے والوں جیسا قرار دیں؟ کیا ہم متقیوں کو فاجروں جیسا بنا دیں؟“
یعنی ہم سوال کرتے ہیں جواب تم خود سوچو۔ (تعلیم و تربیت کے اس طریقے کو سقراطی روش کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ سقراط نے اپنی تدریس و تعلیم میں یہی طریقہ اپنایا ہے۔ وہ جب کوئی بات کسی دوسرے کے لئے ثابت کرنا چاہتا تو سلسلہ کلام واضح ترین مسائل سے شروع کرتا اور سوال کی صورت میں کہتا کیا یہ بات ایسے نہیں ہے یا ویسے نہیں ہے؟ کیونکہ مسئلہ واضح ہوتا تو مخاطب اسی بات کا انتخاب کرتا جو سقراط چاہ رہا ہوتا اور جونہی وہ بات کو دھن کے روشن صفحہ پر لے آتا تو پھر ایک نسبتاً بالاتر سوال کرتا پھر مخاطب جواب میں وہی بات انتخاب کرتا کہ جو سقراط کی خواہش ہوتی۔ جب وہ بات واضح طور پر اس کے صفحہ ذہن پر منتقل کر دیتا تو پھر ایک اور سوال کرتا اور جواب حاصل کرتا یہاں تک کہ ایک دم مخاطب متوجہ ہوتا ہے کہ اس نے خود سے سقراط کے مدعا کا اعتراف کر لیا ہے بغیر اس کے کہ سقراط نے ایک کلمہ بھی کہا ہو یعنی وہ مخاطب کے اندر سے جواب باہر نکال کے لاتا۔ چونکہ استاد فن تھا ایک عظیم ماہر نفسیات تھا وہ نفسیات اور ذہن و فکر کی حرکت کو پہچانتا تھا لہٰذا بات کو ایسے مقدمات سے شروع کرتا کہ بغیر خود سے کچھ کہے مخاطب کا ذہن قدم قدم خود آگے بڑھتا چلا جاتا۔
سقراط کی والدہ دایہ تھی۔ وہ خود کہتا ہے کہ میں اپنی ماں کی طرح دایہ کا سا کام کرتا ہوں۔ دایہ کسی بچے کو دنیا میں نہیں لاتی وہ تو زچہ ہے جو طبیعی طور پر وضع حمل کرتی ہے۔ دایہ تو صرف ماں کی رہنمائی کرتی ہے اس کا کام یہ نہیں ہے کہ اپنے ہاتھوں سے بچے کو پکڑے اور باہر نکال لے یہ تو ایک ناقص کام ہے اسے انتظار کرنا چاہئے کہ خودکار انداز میں بچہ جنم لے۔ سقراط کہا کرتا تھا کہ ایسے ہی میرا کام بھی دایہ کا سا ہے یعنی میں وہ کام کرتا ہوں کہ ذہن فکر کی تولید کرتا ہے جیسے ماں بچے کو جنم دیتی ہے۔ میں تو صرف ذہنوں کی مدد کرتا ہوں تاکہ وہ نئے افکار کو جنم دیں۔)
ایسی ہی آیات کے ساتھ یہ بھی فرمایا گیا ہے:
انما یتذکر اولوا الالباب(زمر ۹)
”صاحبان عقل خود ہی متوجہ ہو جاتے ہیں۔“
لہٰذا قرآن جن فطریات کا قائل ہے وہ افلاطونی نظریات کی سی نہیں کہ بچہ جنہیں پیدا ہونے سے پہلے جانتا ہو اور انہیں ساتھ لے کر دنیا میں آئے۔ قرآنی نظریہ یہ ہے کہ ان کی استعداد ہر کسی میں موجود ہوتی ہے اسی طرح سے کہ جونہی بچہ اس مرحلے پر پہنچتا ہے کہ ان کے بارے میں تصور کرے تو ان کی تصدیق اس کے لئے فطری ہوتی ہے۔ یہ آیت کہ
واللہ اخرجکم من بطون امہاتکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع و الابصار و الافئدة لعلکم تشکرون
اس امر سے کہ توحید فطری ہے اور اس مسئلے سے کہ قرآن بہت سے مسائل کو تذکر اور یاددہانی کے طور پر ذکر کرتا ہے کوئی تضاد نہیں رکھتی۔ چونکہ فطری ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کے لئے سیکھنے اور استدلال کی ضرورت نہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ دنیا میں آنے سے پہلے انسان اسے جانتا ہو لہٰذا دونوں آیات ایک دوسرے سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں۔ یہ تھی فطریات کے بارے میں علمی گفتگو۔
 

صرف علی

محفلین
منکرین کا نظریہ اور اس کا نتیجہ
جو لوگ مجموعی طور پر فطریات کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ انسانی فکر ثابت اصولوں کے کسی ایسے سلسلے کی حامل نہیں ہے کہ جو عقل کے انداز کار کا لازمہ ہو اور ذہنی ساخت کا لازمہ نہ ہو جیسا کہ کانٹ کہتا ہے۔ اصول فکر کے سلسلے میں ان کی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ تناقض محال ہے (تناقض یعنی ایک دوسرے کی ضد ہونا) یعنی دو نقیض (دو ضدیں) آپس میں جمع نہیں ہو سکتیں یعنی محال ہے کہ آنِ واحد میں (ایک حالت اور ایک ہی معنی میں) درحقیقت ایک چیز ہو بھی اور نہ بھی ہو۔ اس معنی میں کہ ایک فکر اور ایک نظریہ محال ہے کہ ایک ہی وقت میں واقع کے مطابق بھی ہو اور واقع کے مطابق نہ بھی ہو (البتہ اس مسئلے کے بارے میں فلسفہ ”ہیگل“ اور اس کے بعد ”مارکسزم“ میں کئی ایک ایسی باتیں آتی ہیں جو ہمارے موضوع بحث سے بالکل خارج ہیں اور اگر ہم ان کے بارے میں گفتگو کرنا چاہیں تو بات بہت لمبی ہو جائے گی) یا وہ کہتے ہیں دو چیزیں کہ جن میں سے ہر ایک کسی تیسری چیز کے مساوی (برابر) ہے وہ آپس میں بھی مساوی ہیں (یعنی اگر C=A اور C=B درست ہے تو B=A بھی درست ہے)۔
اسی طرح ”کل جزو“ سے بڑا ہے ”ترجیح بلامرجح محال“ ہے وغیرہ یعنی اگر ایک چیز کے بارے میں دو مخالف امکان موجود ہوں اور اس چیز کے لئے ہر دو امکان برابر ہوں تو اس چیز کا کسی ایک کی طرف جھک جانا کسی خارجی عامل کا محتاج ہے۔ اگر کسی خارجی عامل کا عمل دخل نہ ہو تو ایک امکان سے دوسری طرف ترجیح پیدا کرنا محال ہے مثلاً ہم کہتے ہیں کہ کسی بہت اچھے ترازو کے دونوں پلڑے بالکل مساوی و برابر ہیں (اب آپ یہ نہ کہئے گا کہ ایسا حساس کوئی ترازو نہیں ہو سکتا آخر انسان کی ساخت ہے اب چاہے یہ فرق ۰۰۰,۰۰۰,۱۰/۱ ہی کیوں نہ ہو ہم اس فرق کو منہا کر کے حساب کریں گے)۔
اگر کوئی عامل دخیل نہ ہو (عمل دخل نہ ہونا) تو عقل یہ کہتی ہے کہ ایک پلڑے کا جھکنا یا اٹھنا محال ہے۔ اب یہ عامل ہوا کی حرکت ہو یا کسی ایک پلڑے میں وزن ڈال دیا جائے یا کسی ایک پلڑے پر کوئی چیز لگ جائے یا مقناطیسی قوت ہو یا کسی ایسے قوی انسان کا ارادہ ہو کہ عالم طبیعت پر اثرانداز ہو سکتا ہے (مثلاً ہو سکتا ہے کہ ایک پلڑے میں سے کوئی چیز کم ہو جائے ایک زیادہ کہنہ ہو جائے اور اس کی وجہ سے کوئی چیز اس میں سے گر جائے اس بارے میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ یہ سب عوامل میں سے شمار ہوں گے)۔
ایسی اور بھی مثالیں موجود ہیں مثلاً ممکن نہیں ہے کہ ایک چیز جو جگہ گھیرتی ہے ایک ہی وقت میں اپنے وجود کے دوگنا یا دو برابر جگہ گھیر لے یا دو جگہ پر موجود ہو اسی طرح دو مکانی چیزیں ایک ہی وقت میں یا بیک وقت ایک مقام پر نہیں ہو سکتیں۔
یہ ایسی چیزیں ”باتیں“ ہیں کہ ان کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کوئی ایسی مجہولات ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے ہیں کہ ایسا ہے یا نہیں ہے۔
بعض چیزوں اور امور کے لئے دلیل پیش نہیں کی جا سکتی اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ چیز اس طرح سے ہے یا نہیں مثلاً ابعاد عالم (کائنات کی حدود) کے متعلق کہ یہ متناہی ہیں یا لامتناہی ہیں۔ ممکن ہے کوئی شخص یہ کہے ”مجھے معلوم نہیں کہ متناہی ہیں یا لامتناہی کیونکہ اس کے لئے دلیل نہیں لائی جا سکتی“ یا ایک اور مشہور مثال یہ دی جاتی ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ اگر میں بھی بڑا ہوتا جا رہا ہوں تو میرا قد جو پہلے ۷ء۱ میٹر تھا اب ۸ء۱ میٹر کیوں نہیں ہے؟ وہ جواب میں کہے میٹر خود بھی تمہارے ہی حساب سے بڑا ہو گیا ہے۔ یہ بات کہ تمام اشیاء ایک تناسب سے بڑی ہو رہی ہیں دلیل کے ساتھ رد یا نفی نہیں کی جا سکتی۔ اسی طرح اگر کوئی اس کے برعکس کہے اور یہ دعویٰ کرے کہ تمام اشیاء ایک ہی تناسب سے چھوٹی ہو رہی ہیں اس بات کی بھی نفی یا اثبات ممکن نہیں۔ یہ بھی انسان کے لئے مجہول کے طور پر باقی رہتی ہے لیکن یہ بات کہ یہ جسم ایک ہی وقت میں دو مقامات پر موجود ہے اس کے لئے بھی دلیل نہیں دی جا سکتی اس لئے نہیں کہ یہ بات مجہولات میں سے ہے بلکہ ایسا ہونا جھوٹ اور محال ہے۔
وہ لوگ جو اصول فکر کے فطری ہونے کے قائل ہیں وہ ان اصولوں کو لامتغیر اور خطا و غلطی سے محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم جب اس عالم میں ہیں تو بھی یہ اصول درست ہیں اور اگر ہمیں اس سے نکال کر کسی اور ماحول اور حالات میں رکھا جائے مثلاً کسی اور سیارے پر لے جایا جائے تو پھر بھی یہ اصول اس طرح سے رہیں گے۔
ان کے علاوہ بھی ایسے امور ہیں جنہیں ثابت تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ثابت ہونے کے قریب تر ہیں وہ اسی طرح ہیں مثلاً ۴=۲x۲ دنیا میں بھی ایسے ہی ہے اور آخرت میں بھی ایسے ہی ہے اس زمانے میں بھی یہ قانون ایسے ہی ہے جب زمین آگ کا ایک گولہ تھی اور اس دنیا کی کروڑوں سال عمر گزر جائے تب بھی یہ مساوات (۴=۲x۲) درست رہے گی۔
اگر ہم فکر کے لئے ایسے اصولوں کے قائل ہو جائیں اور انہیں مان لیں تو پھر فروع کی اہمیت کو بھی مان لیں گے کیونکہ ان کے فروعات کی بنیاد یہی اصول ہیں۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ خود یہ اصول بھی کسبی ہیں اس لحاظ سے کہ ایک عامل انہیں واضح اور ثابت شدہ سمجھنے کا سبب بنا ہو اور اس عامل کی کیفیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم یوں خیال کریں ہم آئینے کی طرح ہیں جو مختلف صورتوں کے سامنے موجود ہے۔ چونکہ اس وقت ہم ان صورتوں کے سامنے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے رہے ہیں اور اب انہیں دیکھ رہے ہیں لہٰذا ایسا محسوس کر رہے ہیں اگر ان صورتوں کو ہمارے سامنے سے ہٹا دیا جائے اور دوسری صورتیں ان کی جگہ سامنے لائی جائیں تو پھر صورت حال برعکس ہو جائے گی۔ ہم یہ جو کہتے ہیں کہ ”کل جزو سے بڑا ہے“ تو یہ اس ماحول کے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم ایسے کہیں ماحول تبدیل ہو جائے تو ممکن ہے کہ ہم اس کے برعکس سوچیں اور یہ کہیں کہ ”جزو اپنے کل“ سے بڑا ہے۔ فی الحال میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نتیجہ کیا ہو گا اگر ہم فکر کے لئے اصول فطری کا انکار کریں؟ تو پھر کسی ایجاد اور علم کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ تمام ریاضی علوم کی بنیاد کچھ مسلمہ اصولوں پر ہے جو لوگ فطری اصولوں کے منکر ہیں ان کے نزدیک تو ریاضی کے ان (مسلمہ اصولوں) کی بھی کوئی اہمیت و حیثیت نہیں اور یہ اصول ذہن کی مخصوص ساخت کی وجہ سے ہیں اور اگر ہماری ذہنی ساخت تبدیل کر دی جائے تو پھر ہم بھی کچھ اور کہیں گے۔ ان اصولوں کا تعلق اس بات سے ہے کہ ہم زمین پر زندگی گزار رہے ہیں اگر ہم مریخ پر رہنے لگیں تو ہماری سوچ کا انداز بھی بدل جائے گا۔ اس نظریے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ کسی فلسفے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے پس ہم ابتدائی طور پر اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں لیکن اسے ثابت نہیں کرتے۔ وہ لوگ جو فکر کے لئے بنیادی اصول کے منکر ہیں وہ حتمی طور پر کسی خاص تصور کائنات کے حامل نہیں ہو سکتے وہ کسی اپنے فلسفے کے حامل نہیں ہو سکتے کہ جس کی بنیاد پر وہ یقین کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ہم نے کائنات کو پہچان لیا ہے اور اصل بات یہی ہے۔
بہرحال ان کے نکتہ نظر کا یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ خود بھی اس طرف متوجہ نہ ہو سکے۔ ان کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی درخت کی ٹہنی پر بیٹھا ہو اور اس ٹہنی کو کاٹ رہا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس عمل کے نتیجے میں وہ خود بھی نیچے جا گرے گا۔
اگر مادیت کے فلسفی حسی محض (حواس خمسہ سے قائل) ہوں تو ان کے پاس اس کے علاوہ چارہ ہی نہیں کہ وہ تمام افکار کو خاص بیرونی عوامل کا نتیجہ قرار دیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ فکر کے لئے کسی ایسے مسلم اور قطعی اصول اولیہ (بنیادی اصول) کے قائل نہیں جو اختلاف سے پاک ہو یعنی وہ سب کچھ کہ جو ہم کہتے ہیں ان کے اصول اور فروع سب بے بنیاد ہیں اور یہ معتبر نہیں ہیں۔ اگر ان کی یہ بات درست ہو تو پھر خود یہ فلسفہ بھی جس کی عمارت اسی بنیاد پر رکھی گئی ہے کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور پھر ان لوگوں کے نزدیک کسی فلسفے کی کوئی حیثیت نہیں اور ان باتوں کا نتیجہ فلسفہ شک ہے نفی علم اور نفی فلسفہ ہے۔ اس سے کسی خاص ازم (خاص مکتب فکر) کا اثبات نہیں ہو سکتا اس کا نتیجہ تو پھر یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہم جانتے ہیں سب ایک خاص ماحول یا حالات اور اس کے تقاضوں کا ساختہ و پرداختہ ہے۔
یہاں تک ہماری بحث کا تعلق فطریات کے اس حصے سے تھا جس کا تعلق ایجاد و دریافت سے ہے۔ ابھی تک ہم نے مختلف نظریات بیان کئے ہیں اور ان میں سے ایک نظریے کا انتخاب کیا ہے اور یہ کہ اصول تفکر فطری ہے اور ہم نے وضاحت کی ہے کہ ہم جسے فطرہ کہتے ہیں وہ اس فطری سے مختلف ہے جو کانٹ یا افلاطون کہتے ہیں فطری سے ہماری مراد پیدائشی آگاہی نہیں ہے۔ اس بحث سے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ علم انسانی فکر انسانی اور فلسفہ انسانی کو اہمیت دینے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ ہم اصول اولیہ تفکر (فکر کے اولین اصولوں) کے فطری ہونے کو قبول کریں۔ اگر یہ اصول ہمارے پاس نہ ہوں تو ہمارے پاس شک مطلق کے علاوہ کچھ بھی باقی نہ رہے گا لہٰذا وہ فلسفہ کہ جو اصول اولیہ تفکر (فکر کے اولین اصولوں) کے فطری ہونے کے قائل نہیں ہیں اور ساتھ یہ بھی کہنا چاہئے کہ ہم ایک فلسفے کے قائل ہیں۔ ان سے کہنا چاہئے کہ خود تمہارا یہ فلسفہ بھی ایک ایسی فکر ہے کہ جس کا کوئی اعتبار اور حیثیت نہیں ہے مثلاً جو لوگ مادیت جدلیاقت مادی علم معقول (Dialectic Materialism) کے قائل ہیں اور جن کے نزدیک کائنات مادہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور صرف مادہ کے قائل ہیں اور روح کے وجود کے منکر ہیں ان پر خود ان کے مفاہیم پر اعتراض کے علاوہ یہ اعتراض بھی کیا جا سکتا ہے اور ان سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے فلسفے کی جو بنیاد قرار دی ہے یہ تو کوئی بنیاد ہی نہیں اور آپ تو اس شخص کی مانند ہیں کہ جو کسی درخت کی ٹہنی پر بیٹھا ہوا ہو اور اسے خود درخت کی سمت سے کاٹ رہا ہو اور اس کی حالت بس ایسی ہو کہ ابھی گرا کہ گرا۔
خواہشات سے متعلق انسانی فطرت (فطریات)
بحث کا دوسرا حصہ خواہشات سے متعلق انسانی فطرت کے بارے میں ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان خواہشوں کے بارے میں کچھ فطریات رکھتا ہے یا نہیں؟ پہلا حصہ شناخت کے بارے میں تھا اور یہ حصہ خواہش کے بارے میں ہے اس حصے کو پہلے میں دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ مجھے یہاں لفظ کے بارے میں بحث کرنا مقصود نہیں ہے یہاں لفظ غریزہ (جبلت) کہنا چاہئے یا فطرت یا کوئی اور لفظ اس بات سے سروکار نہیں ہے۔ بہرحال انسان کی فطری یا جبلی خواہشات دو طرح کی ہیں ایک جسمانی اور دوسری روحانی۔ جسمانی خواہش سے مراد وہ خواہشات ہیں کہ جو سو فیصد جسم سے وابستہ ہوں جیسے بھوک یا پیاس غذا کی خواہش بھوک کے بعد انسان میں غذا کی خواہش کا پیدا ہونا یہ امر بالکل معدی اور جسمانی ہے اور یہ ایسی جبلت ہے کہ جو انسان اور ہر حیوان کے بدن کی ساخت سے مربوط ہے۔ اس کیفیت کے لئے قدماء نے ”بدل مایتحلل“ کی اصطلاح استعمال کی ہے یعنی جب غذا ہضم ہو جاتی ہے تو مزید غذا کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور اس طرح معدے میں ایک خاص قسم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر یہ احساس کی صورت میں انسانی شعور میں عکس انداز ہوتی ہے چاہے انسان کو اس کا علم بھی نہ ہو کہ اس کا کوئی معدہ بھی ہے۔ جیسے بچہ ہوتا ہے پھر وہ اس کے بعد اپنے اس احساس کی تسکین کے لئے غذا کھانا شروع کر دیتا ہے جس کے بعد وہ احساس بھی جاتا رہتا ہے بلکہ ایک حالت نفرت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی حالت جنسی جذبے کی ہے جنسی جذبہ جہاں تک شہوت سے مربوط ہے اور جہاں تک جسم کے Hormons اور غدودوں کے ترشحات سے مربوط ہے شک نہیں ہے کہ یہ ایک جبلی (ہم نے متعدد مقامات پر لفظ غریزہ کا ترجمہ جبلت کیا ہے) امر ہے (عشق محملہ کے بارے میں یہ بحث ہے کہ کیا عشق اور شہوت ایک ہی چیز ہیں یا دو مختلف چیزیں ہیں اور دو انسانوں کے درمیان جو عشق ہوتا ہے اسے شہوت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ ہم فی الحال ان امور کو آپس میں نہیں ملاتے) خواہ اس کا نام فطری رکھا جائے یا نہ یعنی یہ ایک ایسا امر ہے کہ جو کسبی نہیں ہے اور انسانی جسم کی ساخت سے مربوط ہے۔ اسی طرح ”نیند“ بھی ہے نیند کی ماہیت کچھ بھی ہو چاہے یہ جسم کے خلیوں کی تھکاوٹ اور خستگی یا زیادہ کام کی وجہ سے ان کے مسموم ہو جانے (زہرآلود ہو جانا) یا پھر انسان کی جسمانی توانائی کے صرف ہو جانے کے بعد دوبارہ توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہو اس کی جو بھی تعبیر پیش کی جائے انسانی جسم کی ساخت سے مربوط ہے۔ ان تمام امور کو عموماً جبلی امور کہتے ہیں۔
فی الحال ہماری بحث ان جبلی یا جسمانی و فطری امور کے بارے میں نہیں ہے یہ مسئلہ ہماری بحث سے خارج ہے۔ انسانی خواہشات اور رجحانات کے بارے میں بعض غریزے یا فطری امور ایسے ہیں جنہیں علم نفسیات ”روحانی امور“ کا نام دیتا ہے ان سے پیدا ہونے والی لذتوں کو وہ روحانی لذتیں کہتا ہے۔
جیسے اولاد کے لئے انسان کی خواہش اولاد کی خواہش جنسی جبلت سے مختلف ہے کیونکہ جنسی جبلت تو تسکین شہوت سے مربوط ہے اس خواہش سے ماورا ہر کسی کے اندر اولاد کی خواہش ہوتی ہے۔ اولاد ہونے سے انسان کو جو کیف و مسرت حاصل ہوتی ہے وہ ایک جسمانی لذت نہیں ہے اور انسان کے کسی عضو سے وابستہ نہیں ہے۔ رہا وہ فرق جو ماہرین نفسیات نے روحانی لذتوں اور جسمانی لذتوں میں روا رکھا ہے وہ ایک الگ بحث ہے جو ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے۔ دوسروں پر بالادستی اور اقتدار و حاکمیت کی خواہش کا جذبہ بھی انسان کے اندر ایک روحانی پہلو رکھتا ہے یہاں تک کہ یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس کی کوئی انتہا نہیں۔ سعدی کہتا ہے:
نیم تانی گر خورد مرد خدائی
بذل درویشان کند نیم دگر
ہفت اقلیم ارگیرد بادشاہ
ھمچنان در بند اقلیمی دگر
”اگر کوئی عارف باللہ آدھی روٹی کھائے تو باقی آدھی وہ محتاجوں کو دے دیتا ہے جبکہ اگر کوئی بادشاہ سات ملکوں پر قابض ہو جائے تو پھر بھی ایک اور ملک پر قبضہ جمانے کی خواہش رکھتا ہے۔“
اگر کوئی انسان خواہش اقتدار اور بالادستی کے راستے پر چل نکلے تو پھر اس کی کوئی انتہا نہیں ہے اگر ساری زمین اس کے زیرنگیں ہو جائے تو بھی اگر اسے معلوم ہو جائے کہ کسی اور اقلیم پر بھی انسان آباد ہیں یا کہیں اور بھی کوئی تمدن ہے اور کہیں اور بھی اقتدار کی گنجائش ہے تو وہ اس فکر میں ہو گا کہ وہاں بھی لشکرکشی کرے اور وہاں بھی اپنا اقتدار قائم کرے۔ انسان کے اندر حقیقت خواہی حقیقت تک رسائی علم دانائی کشف حقائق ہنر حسن خلاقیت تخلیق و ایجاد آفرینش اور ان سب سے بڑھ کر وہ کہ جسے ہم عشق و پرستش کہتے ہیں کا جذبہ موجود ہے۔ ہاں حقیقی پرستش وہی ہے جو عشق کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے وہ عبادتیں کہ جو لالچ یا خوف کے سبب ہوتی ہیں اسلام کی نظر میں بھی ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں یعنی ان کی اہمیت صرف مقدماتی اور ابتدائی ہے اور اس لئے ہے کہ بعد میں انسان ایک بالاتر مرحلے پر پہنچ جائے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے انسان چھوٹے بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے یا لالچ دے کر مدرسے یا سکول بھیجتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ سکول یا مدرسے میں جانا کوئی ایسا مسئلہ ہے کہ جس کی کوئی قیمت طے ہو سکتی ہو اور اس کے لئے بچے کو کوئی مزدوری دی جانا چاہئے۔
درحقیقت ایسا نہیں ہے اس چیز کی ذاتی اہمیت نہیں ہے لیکن اس کی ضرورت اس لئے ہے کہ بچہ ابھی عقل و شعور کے مرحلے تک نہیں پہنچا ہوتا اس لئے اسے بہلا پھسلا کر اسے کوئی ٹافی یا بسکٹ دے کر یا بچوں والی سائیکل خرید کر دی جائے تاکہ وہ سکول جائے۔
یہ خواہشات و رجحانات کا ایک سلسلہ ہے ان کے بارے میں ہم بعد میں بحث کریں گے کہ آیا یہ خواہشات فطری ہیں یا نہیں! علم و ادراک کے حوالے سے فطریات کا انکار کر کے ہم ایک خطرناک وادی تک آ پہنچتے ہیں۔ یہ خطرناک وادی شکِ مطلق ہے شک بھی وہ جو ہمیں سوفسطائیت تک لے جاتا ہے یعنی مکمل طور پر مسلم اور ادراکِ حقیقت کی نفی تک۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خواہشات میں سے کچھ بھی خواہشات فطری بھی ہیں یا نہیں۔
اس سلسلے میں بھی اسی طریقے سے بحث کریں گے اس سے پہلے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ ہم کچھ فطری خواہشات رکھتے ہیں ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ اگر ہم ایسی خواہشات رکھتے ہوں تو ہم کہاں پہنچیں گے اور ہمارے ہاتھ کیا آئے گا؟ اور اگر ہم ایسی خواہشات کے حامل نہ ہوں تو ہمارے پاس کیا باقی رہتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے بعض لوگ فکر کے اصول اولیہ (بنیادی) کا انکار کرتے ہیں اور اس کے باوجود اس کی شاخوں سے وابستہ ہیں؟ اس مقام پر بھی ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے پڑتا ہے کہ جو فطریات کا اور ان اصولوں کا انکار کرنے کے باوجود اور جڑوں کو کاٹنے کے باوجود شاخوں سے چمٹے ہوئے ہیں پھر شاخوں سے ان کی وابستگی بھی انتہائی شدید ہے اور خود انہیں بھی خبر نہیں ہے کہ خود انہوں نے اس کی جڑوں کو کاٹ دیا ہے۔ اس امر کا جائزہ لینے کے بعد پھر ہم مابعد کے مرحلے میں داخل ہوں گے یعنی اس مسئلے کو ثابت کرنے کے مرحلے میں۔
اب ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ میں علم فطریات (فطری رجحانات) کا قائل نہیں یعنی میرا نظریہ سوفسطائی اور شک مطلق کا ہی ہے اور پھر وہ یہ بھی کہے کہ خواہشات اور رجحانات میں بھی میں فطریات کا قائل نہیں اور انسانی امتیازات یکسر طور پر مانتا ہی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہم سے یہ کہے کہ منطق کے ماہرین جسے جدل کہتے ہیں تم اس سے استفادہ کرنا چاہتے ہو یعنی وہی امور کہ جو وہ لوگ مانتے ہیں انہی سے کام لینا چاہتے ہو جبکہ ہم انہیں ہرگز نہیں مانتے جنہیں وہ قبول کرتے ہیں۔ پھر وہ ہمیں یہ کہے کہ کیا ایسی صورت میں ہمارے لئے ان فطریات کا اثبات پیش کر سکتے ہو یا نہیں؟ تو ہم عرض کریں گے کہ ہاں! ہم ثابت کر سکتے ہیں اور یہ بات ثابت کرنے کے بعد دیگر موضوعات پر گفتگو کریں گے۔
 

صرف علی

محفلین
باب سوم
مقدس (پاکیزہ) رجحانات​
اب ہم دو سوالوں کے بارے میں گفتگو کریں گے کیونکہ دونوں سوال ہماری بحث کا موضوع ہیں لہٰذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنا وقت ان کے جواب میں صرف نہ کریں۔ اجمالاً اتنا عرض کرتا ہوں کہ کچھ اس طرح کے سوالات ہیں ایک سوال تو خدا کے بارے میں جستجو کے فطری ہونے کے معنی سے متعلق ہے اس سوال میں جو ڈاکٹر بہشتی کی کتاب ”خدا از دیدگاہ قرآن“ (خدا قرآن کی نظر میں) سے نقل کیا گیا ہے۔ یہ بات کہی گئی ہے کہ انسان جب طبیعی مظاہر کو دیکھتے ہیں تو ان کی علت کی جستجو کرتے ہیں اور جب ایک علت کو پا لیتے ہیں تو پھر اس علت کی علت کو تلاش کرتے ہیں اسی بات کو انسان نے آخرکار اس حد تک پہنچایا کہ علتوں کے اس سلسلے کا کسی جگہ اختتام ہونا چاہئے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ہر مظہر خود ہی کسی دوسرے مظہر کا معلول ہو یعنی دوسرے مظہر کے وجود میں آنے کی علت یا سبب ہو تو وہ دوسری چیز بھی تو اسی کے مانند ہے۔ مثلاً ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ارتقاء فکر اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یوں تسلسل پیش آتا ہے کہ جو کہ محال ہے انجام کار ان کی فکر یہاں تک پہنچی کہ کوئی مرکزی نقطہ ہونا چاہئے جو ”علت العلل“ ہو اور ہر علت وہیں سے جنم لینی چاہئے۔ یہ بات مذکورہ کتاب سے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ لہٰذا اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ خارجی ”بیرونی مظاہر انسان کو تخلیق کے نقطہ آغاز کی جستجو پر ابھارتے ہیں۔ تو پھر آپ نے اصول فلسفہ کی جلد پنجم میں جو یہ کہا ہے کہ خدا کے بارے میں بحث فطری ہے اس کی آپ کیسے توجیہہ کریں گے؟ (کس طرح درست ثابت کریں گے؟) جبکہ بیرونی مظاہر انسان کو خدا کی جستجو پر ابھارتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کیا ہم خود اس بات کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں کہ بیرونی مظاہر انسان کو خدا کے وجود کی جستجو کی طرف متوجہ کرتے ہیں تاکہ انسانی وجود کے اندر سے کوئی عامل اسے اس کے لئے ابھارتا ہے؟
میرا خیال ہے کہ آپ نے اصول فلسفہ کا بھی غور سے مطالعہ کیا ہو تو اس کا جواب وہاں موجود ہے جتنا مجھے اجمالاً یاد ہے کہ علت عامہ کے حوالے سے ایک بات ہم نے وہاں کہی ہے یعنی یہ کہ انسان جو اللہ کی جستجو کرتا ہے اس کی علت یہی ہے کہ اصول علت اس کی روح پر حکم فرما ہے یعنی انسان علتوں کی جستجو میں ہے اور علتوں کی اسی جستجو نے اسے ”علت العلل“ (بنیادی علت) تک پہنچایا ہے اور اس کا بالکل یہی مطلب ہے کہ عامل وجود انسانی کے اندر موجود ہے یعنی اگر یہ الہامی کیفیت انسان کے اندر موجود نہ ہوتی کہ وہ علتوں کو تلاش کر کے علتوں کے سرچشمہ تک جا پہنچے تو پھر بیرونی مظاہر کو دیکھ کر وہ ان کے پاس سے بغیر کوئی توجہ کئے گزر جاتا۔ بحث یہ ہے کہ انسان جب بیرونی مظاہر کو دیکھتا ہے تو اسے کوئی سی چیز اس پر ابھارتی ہے کہ وہ ان کی علتوں کی جستجو کرے۔ جب بیرونی مظاہر جیسا اپنے آپ کو انسان کے سامنے پیش کرتے ہیں ویسا ہی حیوانوں کے سامنے بھی کرتے ہیں یعنی جو کچھ انسان دیکھتا ہے حیوان بھی وہی کچھ دیکھتے ہیں لیکن جو چیز ان بیرونی مظاہر کے دیکھنے کے بعد انسان کو ان کی علتوں کی جستجو پر ابھارتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایسی حس انسان کے اندر موجود ہے جو اسے کہتی ہے کہ ہر مظہر اور ہر چیز کا وجود ایک علت کا محتاج ہے اور یہ لازمی بات ہے کہ اگر وہ علت بھی کسی مظہر کی طرح کوئی اور کا مظہر ہو اور اسی چیز کی طرح کوئی اور چیز ہو اور وہ خود بھی کسی علت کی محتاج ہو تو انسان کے ذہن میں یہ بات پیدا ہو گی کہ کیا سب علتوں کا کوئی ایک سرچشمہ بھی ہے؟ ایسا سرچشمہ کہ جو اپنی علت خود ہو جو ایسی وقوع پذیر ہونے والی نہ ہو اور بالکل یہی فطری ہونے کا معنی ہے۔ یہ بات نہ صرف اس امر کے منافی نہیں ہے بلکہ اس کی تائید کرتی ہے اس کی تفسیر بعد کے لئے رہنے دیتے ہیں۔
دوسرا سوال فطری ہونے کی علامات کے بارے میں ہے۔ پہلے بھی ہم عرض کر چکے ہیں کہ اس سلسلے میں ہم آئندہ بحث کریں گے کہ کسی خصلت کے فطری ہونے کی کیا علامات ہیں؟ ہم کہاں سے یہ بات سمجھتے ہیں کہ انسان کی فلاں صفت یا فلاں خصلت فطری ہے یا بعض صفات سماجی یا انفرادی بیرونی عوامل کا نتیجہ ہیں؟
ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں اور اس میں کوئی اختلاف بھی نہیں کہ انسان ان تمام دیگر موجودات سے کہ جنہیں ہم جانتے ہیں یہ فرق رکھتا ہے ”اس فرق کے ذکر کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی دوسرے فرق کی نفی کریں“ کہ یہ ایک ایسا موجود ہے جو کائنات کا ادراک کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کائنات کے بارے میں سوچتا ہے مزید برآں یہ ایک ایسا موجود ہے کہ جو سوچتا ہے اور غور و فکر کرتا ہے۔ موجودہ دور کی تعبیر میں یہ ایک آگاہ اور باشعور موجود ہے خود سے بھی آگاہ ہے اور کائنات سے بھی۔ انسان اپنی اس صفت کی وجہ سے کائنات کے بارے میں کچھ معلومات رکھتا ہے کہ جنہیں ہم ادراک کہتے ہیں اور یہ کیا عمدہ لفظ ہے جو قدیم زمانے سے انتخاب شدہ ہے ادراک یعنی ”پا لینا اور پہنچنا“ فلسفیوں نے بھی اس لفظ کے لغوی بنیاد سے کام لیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کی جستجو میں ہو اور اس تک جا پہنچے تو عربی زبان میں کہتے ہیں ادرک ہو“ ”پا لیا“، مثلاً اگر کوئی شخص کسی آدمی کا پیچھا کر رہا ہو اور وہ بھاگ جائے تو اور یہ بھی اس کے پیچھے دوڑے تو یا تو اسے پا لیتا ہے یا اس تک نہیں پہنچ پاتا اگر اس تک جا پہنچے تو کہتے ہیں ”ادرک ہو“ ”پا لیا“۔
کائنات کے بارے میں انسان کی دریافت اور ادراک انسان اور کائنات کے درمیان ایک طرح کا استعمال اور رابطہ ہے اس طرح سے کہ گویا انسان جب تک جاہل ہے اس کے اور کائنات کے درمیان پردہ یا رکاوٹ موجود ہے اور جس قدر وہ کائنات سے آگاہ ہو گا اسی قدر وہ کائنات کو پا لے گا اور اس تک پہنچ جائے گا تو یہ ایک طرح کا پہنچنا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ اس لحاظ سے جمادات نبادات اور حیوانات میں سے کوئی بھی انسان کا شریک نہیں۔ حیوانات کائنات کے بارے میں ایک طرح کی مبہم ”غیر واضح“ آگاہی رکھتے ہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ آگاہی انسانی آگاہی کے برابر نہیں ہے کم از کم یہ ہے کہ وہ غور و فکر نہیں کرتے کیونکہ فکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی موجود حاصل شدہ معلومات کے ذریعے ایک نئی آگاہی حاصل کرے یعنی وہ جو کچھ جانتا ہے اس کے ذریعے مجہولات ”غیر شناخت شدہ“ کو منکشف کرے۔ آپ جب کسی موضوع کے بارے میں غور و فکر کرنے بیٹھتے ہیں مثلاً کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے بارے میں سوچتے ہیں اور اس کا حل تلاش کرتے ہیں۔ یہ فکر کرنا کون سا عمل ہے؟ یہ عمل یوں ہے کہ آپ اپنے پاس موجود معلومات کو آپس میں اس طرح سے مرکوز کرتے ہیں کہ ان کے ذریعے مجہول معلوم میں بدل جائے یعنی ایک نئی راہِ حل تلاش کرتے ہیں۔ یہ عمل بالکل عالم مادہ اور عالم جسم توالد و تناسل کے مانند ہے کہ جس میں دو موجود ”مذکر اور مونث“ ایک دوسرے سے ازدواج کرتے ہیں اور ان کے اس ازدواج سے نیا مولود جنم لیتا ہے۔ انسان جب فکر کرتا ہے تو پہلے سے موجود معلومات کے سرمائے کی آپس میں پیوند کاری ہوتی ہے اور اس پیوند کاری اور جفت بندی سے ان کے درمیان رابطہ وجود میں آتا ہے کہ جس کے نتیجے میں ایک نئی سوچ اور ایک نئی راہِ حل پیدا ہو جاتی ہے۔ حیوانوں میں یہ بات نہیں ہے حیوان فقط حس رکھتا ہے اور سطحی سا مشاہدہ کرتا ہے مثلاً ہم بھی رنگوں کو دیکھتے ہیں اور حیوان بھی دیکھتے ہیں ہم بھی حرارت کا احساس کرتے ہیں اور وہ بھی اس سے زیادہ کچھ نہیں جبکہ فکر کرنا انسان کی خصوصیت ہے۔
انسانی خصوصیات
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انسان بعض رجحانات کے لحاظ سے غیر انسان سے مختلف ہے ان رجحانات کو ایک لحاظ سے مقدس رجحانات (پاکیزہ رجحانات) کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے لحاظ سے یہ ایسے رجحانات ہیں جو خود ”محوری“ پر مبنی نہیں ہیں یعنی انسان ایسے رجحانات رکھتا جو ”خود محوری“ سے بالاتر ہے۔ یہ خود محوری کیا ہے؟ ایسے رجحانات جو انجام کار صرف انقلابی ہوں ایسے رجحانات حیوانات میں ہوتے ہیں اور انسان میں بھی۔ حیوان بھی غذا کی خواہش رکھتا ہے لیکن غذا کی خواہش کا رجحان اور تعلق خود اسی سے ہوتا ہے یعنی رغبت اپنے لئے حصول غذا کی خاطر۔ انسان میں بھی خود محوری پر مبنی بعض رجحانات ہیں کیونکہ یہ انسان ہونے کے ساتھ ساتھ حیوان بھی ہے بلکہ پہلے حیوان ہے بعد میں انسان لہٰذا ایسے رجحانات انسان میں بھی ہیں۔
بہرحال انسان میں کچھ رجحانات ایسے ہیں جو اولاً تو خود محوری کی اساس (بنیاد) پر نہیں ہیں اور دوسرے یہ کہ انسان اپنے خمیر میں ان رجحانات کے لئے ایک طرح کی قدامت کے احترام کا قائل ہے یعنی ان کے لئے ایک طرح کے بلند مرتبے اور برتری کا قائل ہے۔ اس طرح جو انسان جس قدر بھی ان رجحانات کا عامل ہو گا اس انسان کو اتنا ہی عالی تر سمجھا جائے گا۔ حیوان کے رجحانات یا تو محض خود محوری پر مبنی ہیں مثلاً نیند اور غذا وغیرہ کی طرف رغبت یا اگر کچھ خود پروری پر مبنی تر بھی ہوں تو بھی اس کی حد بقاء نوع تک ہی ہو گی یعنی توالد اور تناسل اور تولد افزائش نسل کی حد تک اور وہ بھی جبلت اور تحریک حیوانی (انگریزی میں اسے "Instinct" سے تعبیر کیا جاتا ہے) کے دائرے میں۔ پھر ہم جبلت کی تاریخ میں آ پہنچتے ہیں یعنی حدود کے اندر یہ ایک آگاہ دانا شعوری آزادانہ اور منتخب عمل ہے اور یہ بہت زیادہ محسوس اور مشہور ہے مثلاً ہم گھوڑی کو دیکھیں جب اس کا بچہ پیدا ہونے والا ہوتا ہے اور جوں جوں بچے کی پیدائش کا مرحلہ قریب آتا ہے تو بچے کے لئے اس کی خواہش اتنی شدید ہوتی جاتی ہے کہ خدا ہی جانتا ہے۔ جب یہ بچہ پیدا ہو جاتا ہے اور آپ اس گھوڑی پر سوار ہوتے ہیں تو وہ حرکت نہیں کرنا چاہتی اسے اپنے بچے کی فکر ہوتی ہے اور اگر آپ اسے دو قدم دور کر دیں تو اپنا رخ موڑ موڑ کر بچے ہی کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور اس کی طرف بھاگتی ہے۔ اس بچے کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی ماں کی طرف رغبت کم ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ جوان ہو جاتا ہے تو پھر گھوڑی کی طرف اس کا کوئی رجحان نہیں ہوتا مثلاً اگر کوئی گھوڑی سات سال کی ہو اور اس کا بچہ دو سال کا ہو اور جب ماں اسے دیکھے تو بچے کے جوان ہونے کی وجہ سے اسے ایک طرح کی لذت محسوس کرنا چاہئے جبکہ وہ اس کی طرف کوئی رغبت نہیں رکھتی اور اگر وہ اس کے قریب آئے تو وہ اسے دولتی مارتی ہے اور اسے ٹھکرا دیتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ (معلوم نہیں کہ فردوسی کے زمانے کے گھوڑے اور مرد کس طرح کے تھے کہ اس نے لکھا ہے:
”سہ پنچ سال اسب وسہ دہ سالہ مرد“
اب تو ۴۰ سال کے مرد بوڑھے ہوتے ہیں اور ۳۰ سال کے گھوڑوں کا تو سرے سے ہی وجود ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جبلت صرف اس بچے کی حفاظت کے لئے تھی یعنی صرف اس لئے کہ نسل جاری رہے اور اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہ تھی۔ اب جبکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا ہے اور اپنی ماں کی طرح کا ہو گیا ہے تو اب ماں کی نظر میں اس میں اور دوسروں میں کوئی فرق نہیں رہا۔
حیوانات کی بھی سماجی زندگی ہوتی ہے لیکن ان کا عمل آزادی انتخاب کے ذریعے نہیں ہے بلکہ انتصابی ”منصبی“ ہے یعنی طبیعت کی طرف سے وہ اس کام کے لئے منتخب ہوئے ہیں اور اپنا کام جبری طور پر انجام دیتے ہیں اس لئے اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ مثلاً شہد کی مکھیاں یا بعض چیونٹیاں سماجی زندگی رکھنے والے جانوروں میں شمار ہوتی ہیں اس طرح ہرن بھی کسی حد تک سماجی زندگی (Social Life) بسر کرتا ہے البتہ اس کا عمل بھی جبلی ہوتا ہے یعنی خود بخود اور نیم شعوری کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے تاکہ ان کے اپنے انتخاب کے ذریعے یعنی شروع ہی سے ان کی طبیعت میں یہ سب کچھ موجود ہے اور یہ اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے یہ کیفیت ہے حیوانات کے رجحانات کی۔
لیکن انسان جو رجحانات رکھتا ہے اولاً تو ”خود محوری“ کے ساتھ ہی ہم آہنگ نہیں ہیں اور اگر اس حوالے سے ان کی توجیہہ ”وضاحت“ کی جائے تو یہ تمام تر پہلو محل بحث اور ناقص ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ یہ ایک انتخابی شکل اور آگاہانہ شعوری صورت ہو گی بہرحال یہ ایسے امور ہیں کہ جو انسانیت کے معیار اور امتیاز کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ان کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ آج بھی دنیا کے تمام مکاتب فکر چاہے وہ الٰہی ہوں مادی ہوں یا ”سوفسطائی“، شکاک ”شک پر مبنی فلسفہ“ یا کوئی اور "Sceptic" ”دہریہ“ سب انسان کے بارے میں ایسے امور کا ذکر کرتے ہیں کہ جو ”مافوق الحیوانی“ نفوذ ہوتے ہیں۔ پہلے ہم ان امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اس کے بعد اس امر کا جائزہ لیں گے کہ کیا یہ امور انسان کے لئے فطری ہیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی دیکھیں گے کہ اگر یہ فطری نہ ہوں تو نتیجہ کیا ہو گا اور فطری ہوں تو پھر کیا نتیجہ ہو گا؟ بعدازاں ان کے فطری ہونے یا نہ ہونے کے دلائل کے بارے میں گفتگو کریں گے۔
محسوسی فطریات​
۱۔ حقیقت کی تلاش
یہ رجحانات کہ جنہیں کبھی ”مقدسات“ (قابل ادب و احترام) بھی کہا جاتا ہے اجمالاً پانچ قسم کے ہیں یا کم از کم ہم ابھی ان کی پانچ اقسام کو جانتے ہیں۔ ان میں سے ایک ”حقیقت“ ہے ”حقیقت“ کی اصطلاح کو ہم ”دانائی“ یا ”دریافت حقیقت کائنات“ بھی کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان میں ایک ایسا رجحان موجود ہے کہ حقائق جیسے کہ وہ ہیں ان کے کشف کرنے کا رجحان حقائق اشیاء کا ادراک ”کما ھی علیہا“ یعنی جیسے وہ حقیقت میں ہیں یہ کہ انسان ”حیات ہستی“، ”عالم وجود“ اور اشیاء کو ان کی حقیقی ماہیت کے مطابق دریافت کرے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منسوب دعاؤں میں سے ایک میں آپ۱ فرمایا کرتے تھے:
اللھم ارنا الاشیاء کما ہی
”یااللہ! ہمیں اشیاء کو ویسا ہی دکھا جیسی کہ وہ ہیں۔“
جسے حکمت اور فلسفہ کہتے ہیں بنیادی طور پر اس کا ہدف یہی ہے۔ انسان جو فلسفہ کی طرف آیا ہے تو اصولی طور پر اس کی بنیاد یہی حس ہے کہ وہ حقیقت اور حقائق اشیاء کو جاننا چاہتا ہے اس حس کا نام ہم ”حس فلسفی“ بھی رکھ سکتے ہیں چاہے ہم اسے حقیقت جوئی کہیں یا مقولہ حقیقت کا نام دیں یا عنوان فلسفی کے تحت دیکھیں یا اسے دانائی کے زمرے میں قرار دیں۔ ایک جملہ ہے کہ جو بو علی سینا نے استعمال کیا ہے اور یہ تعبیر استعمال کرنے والا وہ قدیم ترین شخص ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ اس سے پہلے ایسی تعبیر کا وجود تھا یا نہیں البتہ بعد میں شیخ اشراق اور دیگر افراد نے اسے استعمال کیا ہے۔ فلسفے کے مقصد اور ہدف و غایت کے نتیجے کے اعتبار سے فلسفے کی تعریف کرتے ہوئے وہ کہتا ہے:
صیرورة الانسان عالما عقلیا مضاھیا للعالم العینی
یعنی فلسفی بننے کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان خود اس عالمِ مادی و ظاہری ہی کی مانند ایک ”عالم عقلی“ بن جائے یعنی اس ”عالم عینی“ اور مادی کو اس طرح سمجھے اور دریافت کرے کہ جس طرح وہ حقیقت میں ہے اور بعد میں وہ خود ایک کائنات بن جائے لیکن وہ عالم بیرون عالم عینی سے خارج ہو گا اگرچہ یہ عالم جدید وہی جہان عینی ”عالم مادی“ ہے البتہ یہ اس کی عقلی صورت ہے۔
یہ حقیقت اور حقیقت جوئی فلاسفہ کی نظر میں انسان کا کمال فطری ہی ہے انسان جبلی اور فطری طور پر کمال فطری کا طالب ہے یعنی حقائق جہان کو جاننے کا متلاشی ہے۔ اس طرح کے رجحانات انسان میں حقیقت عالم تک رسائی کے لئے موجود ہیں۔
علم نفسیات میں بھی اس پر حسی حقیقت جوئی یا حسی جستجو کے نام سے بحث کی جاتی ہے۔ جب کسی مسئلے کو ایک وسیع سطح پر پیش کیا جاتا ہے تو اس کا نام ”حس کاوش“ یا ”حس جستجو“ رکھا جاتا ہے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو دو یا تین سال کے بچوں تک میں موجود ہوتی ہے البتہ مختلف بچوں میں مختلف سطح کی ہوتی ہے۔ بچہ جب تین سال کا ہوتا ہے تو طرح طرح کے سوال پوچھتا رہتا ہے تعلیم و تربیت میں ماں باپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ جہاں تک ہو سکے اپنے بچوں کے سوالوں کا جواب دیں اور انہیں جھڑک نہ دیں۔ نادان اور بے توجہ ماں باپ جب دیکھتے ہیں کہ ان کا تین چار سالہ بچہ ہمیشہ سوال ہی کرتا رہتا ہے تو وہ اسے ایک فضول حرکت تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”خاموش ہو جاؤ کیا فضول سوال جواب کر رہے ہو“ البتہ ایسا طرز عمل غلط ہوتا ہے۔ یہ حس سوال ہے تلاشِ حقیقت کی حس ہے حس حقیقت جوئی ہے جو اس میں ابھی اٹھی اور بپا ہوئی ہے اور وہ پوچھتا ہے اور حق رکھتا ہے کہ پوچھے یہاں تک کہ اگر وہ ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھے کہ جس کا آپ جواب نہ دے سکیں یا جس کا جواب وہ سمجھ نہ سکے تب بھی اسے ڈانٹنا جھڑک دینا یا اس کی اس حس کو دبا دینا درست نہیں ہے اور اس کا یہ جواب نہیں کہ خاموش ہو جاؤ جس قدر ممکن ہو اس کا جواب دینا چاہئے۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ بچے کی بہت سی شرارتیں اسی حس کی وجہ سے ہیں کیونکہ بچے کا شرارتی ہونا بھی ایک مسئلہ ہے جس چیز تک بھی پہنچتا ہے اس کو چھیڑتا ہے کبھی اس چیز کو اس پر مارتا ہے کبھی اس کو اس پر گراتا ہے کیا انسان فطرتاً شرارتی ہے؟ جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو کیا اس کی اصلاح ہو جاتی ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں کہ یہ اس حس ”حقیقت شناسی“ کا نتیجہ ہے وہ چاہتا ہے کہ اسے یعنی کسی چیز کو اس پر مار کر دیکھے کیا ہوتا ہے؟ اب ہم جو ایسا نہیں کرتے ہیں تو یہ اس لئے ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ ہم بارہا تجربہ کر چکے ہیں لہٰذا ہمارے لئے مسئلہ حل شدہ ہے لیکن اس کے لئے یہ مسئلہ ابھی واضح نہیں ہے۔ انسان کے اندر سوال پیدا ہونا اپنی جگہ ایک اہم مسئلہ ہے فلاسفہ اس کو ایک بالاتر سطح پر پیش کرتے ہیں ماہرین نفسیات اس کو عمومیت دیتے ہیں یہاں تک کہ بچے کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں بہرحال انسان حقیقت اور حقائق کو جاننے کا رجحان رکھتا ہے۔ ابو ریحان بیرونی کا ایک معروف واقعہ ہے جو شاید آپ نے سنا ہو۔ وہ مرض الموت میں مبتلا تھے ان کا ایک ہمسایہ فقیہ تھا وہ ابو ریحان کی عیادت کے لئے آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ بستر پر پڑے ہیں اور روبہ قبلہ لیٹے ہوئے ہیں اور زندگی کے آخری سانس لے رہے ہیں۔ ابو ریحان نے اپنے اس ہمسائے سے وراثت کا ایک شرعی مسئلہ پوچھا۔ اس فقیہ کو تعجب ہوا اور کہنے لگا کہ یہ کون سا وقت ہے مسئلہ پوچھنے کا؟ ابو ریحان کہنے لگے مجھے معلوم ہے کہ میں مر رہا ہوں لیکن آپ سے یہ مسئلہ پوچھ رہا ہوں اگر میں اس مسئلہ کا جواب جان کر مر جاؤں تو بہتر ہے یا نہ جانتے ہوئے مر جاؤں تو بہتر ہے؟ واضح ہے کہ جان کر مرنا بہتر ہے… ابو ریحان کہنے لگا پھر اس کا جواب بتائیں؟ تو اس نے جواب دیا… اس فقیہ کا کہنا ہے کہ میں ابھی واپس اپنے گھر نہ پہنچا تھا کہ ابو ریحان کے گھر سے عورتوں کے رونے کی آواز آنے لگی۔ بہرحال یہ انسان میں موجود ایک حس ہے جنہوں نے اپنی اس حس سے کام لیا ہے اور اسے زندہ رکھا ہے وہ اس مرحلے تک جا پہنچتے ہیں کہ کشف حقیقت کی لذت ان کے لئے ہر دوسری لذت سے بڑھ کر ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں لذت علم ان کے لئے ہر لذت سے بالاتر ہوتی ہے (اس کی وضاحت اس لئے زیادہ کر رہا ہوں تاکہ آپ جان لیں کہ یہ انسان کے بارے میں ایک حقیقت ہے اور اس کا تحلیل و تجزیہ بہت ضروری ہے۔ میں قبل ازیں یہ کہہ چکا ہوں کہ انسان کا موضوع دوسرے ہر موضوع سے زیادہ توضیح و تفسیر کا محتاج ہے)۔
حجۃ الاسلام سید محمد باقر شفتی اصفہانی مرحوم کے بارے میں بھی ایک واقعہ ہمارے قدماء نے نقل کیا ہے اور بالکل ایسا ہی واقعہ پاسچر کے بارے میں بھی ہے۔ جناب سید باقر مرحوم کی شب زفاف تھی جب دلہن کا ہاتھ دلہا کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے اور پھر عام طور پر عورتیں دلہن کو حجلہ عروسی (وہ خاص کمرہ جو دلہن کے لئے آراستہ کیا جاتا ہے) میں لے جاتی ہیں اس وقت جناب سید محمد باقر کسی دوسرے کمرے میں چلے گئے تاکہ جب عورتیں چلی جائیں تو پھر دلہن کے پاس جائیں تو انہوں نے سوچا کہ موقعے سے کیوں نہ فائدہ اٹھایا جائے اور مطالعہ کیا جائے انہوں نے مطالعہ شروع کر دیا۔ عورتیں چلی گئیں دلہن بیچاری تنہا بیٹھی رہی بہت انتظار کیا کہ دولہا میاں آ جائیں مگر وہ نہ آئے۔ سید محمد باقر جب متوجہ ہوئے تو وقت سحر تھا یعنی علم کی کشش نے انہیں اس طرح سے جذب کر لیا کہ وہ سہاگ رات کو اپنی دلہن کو بھول گئے۔
پاسچر کے بارے میں بھی ایسا ہی واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہتے ہیں کہ اس کی بھی شب عروسی تھی ایک گھنٹہ دلہن کے پاس جانے میں باقی تھا اسے موقع مل گیا اور وہ اپنی لیبارٹری میں چلا گیا اور ایسا مصروف ہوا کہ صبح تک وہیں کام میں مگن رہا اور بھول گیا کہ یہ تو اس کی سہاگ رات تھی۔
اب یہ کیا ہے؟ یہ حقائق ہیں یہ حس کم و بیش سب انسانوں میں موجود ہوتی ہے البتہ دیگر حسوں کی طرح کسی میں زیادہ کسی میں کم۔ نیز یہ بات اس امر سے مربوط ہے کہ انسان نے اسے کس حد تک پروان چڑھایا ہے لہٰذا انسان کو علم اور جاننے کی وجہ سے غیر انسان پر ترجیح دی جاتی ہے۔
انگلستان کا مشہور اور ہر دلعزیز فلسفی اسٹوارٹ کہتا ہے:
”اگر انسان دانا ہو اور مفلس ہو تو وہ اس احمق سے بہتر ہے کہ جو خوشحال ہو ایک رنجیدہ و بے حال سقراط کو ایک موٹے سئور پر ترجیح حاصل ہے۔“
ایسی سب باتیں انسان کے حقیقت کے متلاشی ہونے کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں کیونکہ دانائی کا آخرکار کیا معنی ہے؟ یہی آگاہی کائنات کی تہہ تک پہنچنا دنیا کو سمجھنا اور جاننا۔
 

صرف علی

محفلین
۲۔ نیکی و فضیلت کی طرف رجحان
انسان میں ایک اور بھی رجحان ہے کہ جسے نیکی و فضیلت کی طرف رجحان کہا جا سکتا ہے۔ یہ رجحان اخلاقی پہلو کا حامل ہے یہ وہی ہے کہ جسے ہم اپنی اصطلاح اور روزمرہ میں اخلاق کہتے ہیں۔ انسان بہت سی چیزوں کی جانب رغبت رکھتا ہے اس لئے کہ وہ اس کے لئے فائدہ مند اور منافع بخش ہیں۔ انسان دولت سے رغبت رکھتا ہے اس لئے کہ وہ اس کے لئے منافع بخش ہے اس کی مادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ ایک ذریعہ ہے۔ اپنے فائدے اور منافع کی طرف انسان کی رغبت خود محوری اور خود خواہی ہے یعنی انسان ایک چیز کی طرف رجحان رکھتا ہے کہ جسے وہ اپنے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے سلسلہ حیات کو جاری و ساری رکھ سکے (البتہ ایک زندہ موجود کا اپنی زندگی کی بقاء کی طرف رجحان کیا ہے؟ اور اس میں کیا راز ہے؟ یہ اپنی جگہ پر ایک مسئلہ ہے)۔ اس سطح تک تو اس بات کا تجزیہ کسی حد تک آسان ہے لیکن بعض امور ایسے ہیں کہ انسان ان کی طرف رجحان رکھتا ہے اس لئے نہیں کہ یہ اس کے لئے فائدہ مند ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ عقلی اعتبار سے فضیلت و نیکی کے زمرے میں آتے ہیں۔ خیرخواہی حسی ہے جبکہ فضیلت غیر عقلی ہے فضیلت مثلاً انسان کا سچائی کی طرف رجحان اس لحاظ سے کہ وہ سچائی ہے اس کے مقابلے میں جھوٹ سے نفرت اسی طرح انسان کا تقویٰ اور پاکیزگی کی طرف رجحان۔ مجموعی طور پر وہ تمام رجحانات جن کا شمار فضیلت میں ہوتا ہے دو قسم کے ہیں بعض انفرادی ہیں اور بعض سماجی انفرادی مثلاً ذاتی نظم و ضبط نفس پر قابو رکھنا اور اسی طرح اور بہت سے انفرادی اخلاقی کے مفاہیم یہاں تک کہ شجاعت بھی کہ جو بزدلی کے مقابلے میں ہوتی ہے اس سے مراد زورِ بازو نہیں کیونکہ وہ اخلاق کی تعریف سے باہر ہے۔ سماجی رجحانات مثلاً دوسروں کے ساتھ تعاون اور ان کی مدد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کسی معاشرتی یا سماجی کام کی انجام دہی۔ احسان اور نیکی کی طرف رغبت اور قربانی کا رجحان ذاتی مفاد کے مفہوم میں نہیں آتا کیونکہ قربانی کا جذبہ یعنی اپنے آپ کو قربان کر دینا یہاں تک کہ اپنی جان سے گزر جانا۔ اسی طرح ایثار کی طرف رحجان:
و یو ثرون علی انفسھم و لو کان بہم خصاصۃ
”وہ ایثار کرتے ہوئے اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دیتے جبکہ وہ خود ضرورت مند ہیں۔“(حشر ۹)
و یطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا انما نطعمکم لوجہ اللہ لا نرید منکم جزاء ولا شکورا
”وہ اللہ کی محبت میں مسکین یتیم کو کھانا کھلا دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تمہیں اللہ کے لئے کھلایا ہے اور ہم تم سے کسی جزا (بدلہ) اور شکریہ کے خواہش مند نہیں ہیں۔“(انسان ۸ ۹)
۳۔ حسن و جمال کی طرف رجحان
انسان میں حسن و جمال کی طرف رجحان موجود ہے۔ اب یہ چاہے حسن پسندی کے لحاظ سے ہو چاہے تخلیق حسن کے حوالے سے کہ جس کا نام فن و ہنر (Art) ہے۔ یہ بھی انسان کے اندر موجود ایک رجحان ہے اور کوئی شخص بھی اس احساس سے عاری نہیں ہے۔ انسان اگر لباس بھی پہنتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ تاحد امکان وہ اسے اچھا لگے۔
جب انسان ایک عمارت تعمیر کرتا ہے پہلے مرحلے میں تو گرمی و سردی سے بچنے کے لئے اسی طرح سے چور وغیرہ سے حفاظت کے لئے بناتا ہے لیکن ہمیشہ اس کی تعمیر میں اپنی حس حسن پسندی کو آمیختہ کر لیتا ہے۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ عمارت دیکھنے میں بھلی لگے فرنیچر اچھا ہو کمروں میں قالین خوبصورت ہوں۔ یہ تمام تر زیبائی اور حسن کی طرف رجحان انسان کے اندر موجود ہے۔ انسان خوبصورت قدرتی مناظر کو پسند کرتا ہے جب صاف و شفاف پانی کو دیکھتا ہے یا جب کسی آبشار پر اس کی نظر پڑتی ہے یا کسی دریا کو دیکھتا ہے تو وہ لطف اندوز ہوتا ہے چنانچہ وہ قدرت کے خوبصورت مناظر سے محظوظ ہوتا ہے۔ آسمان کی طرف اس کی نظر اٹھتی ہے افق کو دیکھتا ہے پہاڑوں کا نظارہ کرتا ہے تو ان سب چیزوں سے وہ لطف اندوز ہوتا ہے یہ چیزیں اسے بھلی لگتی ہیں۔ اسی طرح سے فن و ہنر (Art) کا مسئلہ ہے اور یہ وہ حسن ہے کہ جو انسان خود تخلیق کرتا ہے۔ وہ چیزیں کہ جنہیں قدیم زمانے سے فنونِ لطیفہ کہا جاتا ہے جیسے خطاطی ہے جو بہت قدیم فن ہے۔ بہت خوبصورت خطاطی کی انسان کے لئے غیر معمولی اہمیت ہے اسے وہ محفوظ رکھتا ہے کسی نہایت دیدہ زیب خط میں لکھا گیا قرآن اگر انسان نے دس مرتبہ بھی دیکھا ہو تو گیارہویں دفعہ بلکہ سینکڑوں مرتبہ بھی دیکھنے کی خواہش اس کے دل میں رہتی ہے۔
ہمارے والد مرحوم رضوان اللہ علیہ کہ جن کا اپنا خط بھی خوب تھا انہیں خطاطی سے بہت لگاؤ تھا کہا کرتے تھے کہ بہت خوبصورت خط میں کوئی قرآنی نسخہ میرے ہاتھ میں ہو تو میں اس کی تلاوت نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے خط اور حسن میں ایسا کھو جاتا ہوں کہ پڑھ نہیں پاتا۔ روضہ امام رضا علیہ السلام میں ایوان مقصورہ کے باہر ایک کتبہ لکھا ہے دیدہ زیب خط کا یہ ایک فن پارہ ہے۔ یہ ایک بڑا سا کتبہ ہے جو ایوان کی پیشانی پر لگا ہے اسے بالیسنفز نے جو گوہر شاد کا بیٹا تھا لکھا ہے۔ اس نے خود اسے کتبے کے آخر میں لکھا ہے:
کتبہ بایسنقر بن شاہ رخ بن امیر تیمور گورکان گوہر شاد شاہ رخ کی بیوی تھی بایسنقر اس کا بیٹا تھا۔ اس کا یہ کتبہ خط ثلث میں ہے۔ بایسنقر کا خط بے مثال ہے نہ اس سے پہلے کسی نے خط ثلث میں ایسی تحریر پیش کی ہے نہ اس کے بعد کوئی اس جیسا لکھ سکا ہے حالانکہ علی رضا عباسی ایک ایسا خطاط گزرا ہے کہ جو شاہ عباس کے زمانے میں تھا اور غیر معمولی طور پر اچھا خطاط تھا اس کے خطاطی کے فن پارے آج بھی اصفہان یا پھر قم (ایران کے دو اہم شہر) میں شاہ عباس کے مقبرے میں موجود ہیں کہ جو نہایت دیدہ زیب ہیں لیکن اس کے باوجود بایسنقر کے پائے تک نہیں پہنچ سکتے۔ قرآن بذات خود الٰہی نشانیوں میں سے ایک ہے اس کا اپنا ہی حسن ہے یعنی فصاحت و بلاغت ہے اور قرآن کو عالمگیر کرنے کے عظیم ترین اسباب میں سے ایک ہے اس کا عامل زیبائی یعنی فصاحت و بلاغت معجزنما ہے۔
غرضیکہ حسن کی طرف رجحان اور خوبصورتی کے مظاہر کی طرف کشش بھی انسان کے رجحانات میں سے ہے۔
۴۔ تخلیق اور ایجاد کا رجحان
چوتھے نمبر پر تخلیق و ایجاد کا رجحان ہے انسان میں چیزوں کو ایجاد کرنے کا رجحان موجود ہے۔ ایسی اشیاء جو وجود نہیں رکھتیں انسان چاہتا ہے کہ انہیں وجود میں لائے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ انسان نے اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے صنعت و حرفت اور ایجاد و ابداع کا کام کیا ہے لیکن جس طرح علم انسان کے لئے زندگی اور معاش کا ذریعہ بھی ہے اور بذات خود مطلوب و مقصود بھی ہے ایجاد و تخلیق کی بھی یہی صورت ہے۔ آج کل اس مسئلے پر بہت بحث کی جاتی ہے کہ آیا علم برائے علم ہے یا علم برائے زندگی ہے؟ جواب یہ ہے کہ دونوں مطلوب ہیں یعنی علم انسان کے لئے مطلوب بالذات بھی ہے اور مطلوب بالغیر بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ علم بالذات بھی مطلوب ہے اور انسانی مشکلات کو حل کرنے کے لئے ایک ذریعہ کے طور پر بھی۔ اس اعتبار سے کہ علم دریافت اور کشف ایک حقیقت ہے مطلوب بالذات ہے اور اس لحاظ سے کہ یہ ایک طاقت و توانائی ہے۔ بقول
توانا بود ہر کہ دانا بود
”جو صاحب علم ہے وہ طاقتور ہوتا ہے۔“
زندگی کی مشکلات حل کرنے کا ذریعہ ہے مطلوب بالغیر ہے تخلیق و ابداع بھی اسی طرح ہے۔ آپ نے طلبہ کے بارے میں مشاہدہ کیا ہو گا اور جانتے ہوں گے کہ جب ایک طالب علم کوئی چیز تخلیق یا ایجاد کرتا ہے تو وہ کتنا خوش ہوتا ہے اور اپنے آپ میں ایک خاص حیثیت کا احساس کرتا ہے۔ جب آپ اسے کوئی دستکاری کا کام کرنے کے لئے دیں تو وہ بہت خوش ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس سے ایک نئی چیز تخلیق کرے مجموعی طور پر ابداع و ایجاد جس شعبے میں بھی ہو ایک قسم کی تخلیق ہے۔ بعض افراد کو آپ کہتے ہیں کہ وہ تخلیقی امتیاز و صلاحیت رکھتا ہے یعنی طرز تدریس میں اس کا امتیازی اور بے مثال اسلوب ہے۔ دیگر اشخاص ممکن ہے فقط دوسروں کی روش اور اسلوب کی پیروی کریں لیکن اس کے برعکس بعض افراد یہ صلاحیت ملکہ اور طاقت رکھتے ہیں کہ ایک نئی روش تخلیق کریں۔ مجموعی طور پر اجتماعی پروگراموں مملکت کو چلانے کے طور طریقوں شہری منصوبہ بندی اور وہ امور جن میں بلدیہ کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح کتب کی تالیف و تصنیف میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ موجود اور نوآورد ”خلاق“ جبکہ بعض دیگر محض پسرانی روش کی تقلید کرتے ہیں بالخصوص کتابوں میں یہ تقلیدی پہلو زیادہ نمایاں ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے کہ ”چھپی ہوئی کتابوں کو پھر سے کتابت کرتے ہیں اور کتابت شدہ کو پھر چھاپ دیتے ہیں“ یعنی چھپی ہوئی کتابوں میں سے بعض باتیں اخذ کرتے ہیں اور تدوین کر لیتے ہیں اور اس کو دوبارہ چھاپ دیتے ہیں۔ واضح سی بات ہے کہ یہ کام تخلیقی نہیں ہے لیکن بعض افراد کی کتابیں تخلیقی ہیں اور انسان میں یہ رجحان موجود ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ تخلیق کار ہو۔ نظریات میں معاملہ اس سے بالاتر ہے کوئی شخص ایک نظریہ کی تخلیق کرتا ہے بعد میں اسے ثابت کرتا ہے دوسرے لوگ اس کے نظریے کو قبول کرتے ہیں۔ یہ خود اپنی جگہ پر ایک طرح کی قدرت اور صلاحیت ہے مثلاً وہ شخص کہ جس نے ”جوہری حرکت“ کے نظریے کی تخلیق کی بعد میں اس کو ثابت کیا اور اب دوسرے اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ البتہ بعض اوقات یہ دو تین رجحان آپس میں مل جاتے ہیں مثلاً جب کوئی حافظ کی طرح اشعار کی صورت میں ایک نئی چیز تخلیق کرتا ہے تو اس نے ایک ہی وقت میں دو کام سرانجام دیئے ہیں ایک یہ کہ وہ ایک نئی چیز کو وجود میں لایا ہے اور تخلیقی حس کی تشنگی کو بجھایا ہے اور دوسرا یہ کہ چونکہ ایک خوبصورت اور حسن چیز کو یعنی خوبصورت شعر کو معرض وجود میں لایا ہے اپنی ”حس زیبائی“ کے شوق کو بھی اس نے سیراب کیا ہے اور ممکن ہے کہ اس کی ”تلاش حقیقت“ کی حس کو بھی تسکین حاصل ہوئی ہو۔
۵۔ عشق و عبادت
پانچویں چیز کا نام ہم نے عشق و عبادت رکھا ہے البتہ ہم ابھی اپنی پہلی بات کی طرف آتے ہیں۔
ہم نے کہا کہ اس کائنات میں کوئی موجود بھی ایسا نہیں ہے جو انسان سے زیادہ تشریح و توضیح کا محتاج ہو۔ چونکہ انسان میں ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جو غیر انسان میں موجود نہیں اور اس میں ایسی پیچیدگیاں بھی پائی جاتی ہیں جن کی تشریح آسان کام نہیں بلکہ انتہائی دشوار ہے اور یہی وجہ ہے کہ انسان کو ”عالم صغیر“ یعنی ”چھوٹی کائنات“ سے تعبیر کیا جاتا ہے یعنی انسان بذات خود ایک کائنات ہے۔ عرفاء ”عارف باللہ“ اس چیز کو قبول نہیں کرتے کہ انسان ”عالم صغیر“ ہے وہ کہتے ہیں کہ کائنات عالم صغیر ہے جبکہ خود انسان ایک مکمل کائنات ”عالم اکبر“ ہے۔ مولوی کہتا ہے:
چیست اندر خانہ کا اندر شہر نیست
چیست اندر جوئی کا اندر نھر نیست
”گھر شہر کا جز ہے جو کچھ بھی گھر میں ہے یقینا شہر میں پایا جاتا ہے لیکن ممکن ہے کہ شہر میں بعض چیزیں ایسی ہوں جو گھر میں نہ پائی جاتی ہوں۔“
”اس طرح جو کچھ ایک چھوٹی سی ندی میں ہے دریا میں یقینا وہ پایا جاتا ہے۔“
اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتا ہے:
این جہان جوی است دل چون نھر آب
این جہان خانہ است دل شہری عجاب
”یہ جہان ”کائنات“ چھوٹی سی ندی کے مانند ہے اور دل دریا ہے۔ یہ جہان ”کائنات“ گھر کی طرح ہے اور دل عجائبات کے شہر کی مانند۔“
یعنی اس کے برعکس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دل گھر کی مانند ہے اور کائنات ایک شہر کی طرح۔
میرا مقصد انسان کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کہ انسان میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو تشریح کی محتاج ہیں اور انسان کو غیر پیچیدہ اور مخلوق اور سادہ سمجھنا غلط فہمی ہے جبکہ بہت سے اس غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں فی الحال وہ موضوع کہ شاید جس کی وضاحت زیادہ ضروری ہے ”عشق و عبادت“ ہے اور درحقیقت خود ”عشق“ ہی تشریح طلب ہے۔ انسان میں عشق کا ظہور خود ایک عجیب و غریب اور دشوار مسئلہ ہے کہ جو بہت زیادہ تشریح کا محتاج ہے۔ بعض لوگ ”عشق“ کو ایک طرح کی شہوت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عشق جنسی جبلت کی ہیجانی کیفیت کا نام ہے اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں یعنی اس کی ابتداء جنسی جذبہ ہے اور انتہاء بھی یہی ہے۔ دوسرے نظریے کے قائل لوگ کہتے ہیں کہ عشق جنسی جذبے سے شروع ہوتا ہے اور بعد میں لطیف احساس میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جنسی جذبہ ختم ہو کر ایک روحانی کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ ایک اور نظریہ یہ بھی ہے کہ جو بنیادی طور پر دو قسم کے عشق کا قائل ہے ایک جسمانی عشق کہ جس کی ابتداء بھی جسمانی اور انتہاء بھی جسمانی ہے اور دوسرا روحانی عشق جس کی ابتداء بھی روحانی ہے اور انتہاء بھی روحانی ہے۔
عشق خصوصاً جہاں عبادت و پرستش کے ہمراہ ہو بلکہ ہر وہ شخص جو حقیقی عشق کے مرحلے تک پہنچ جائے پرستش کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے یعنی یہ دونوں حقیقت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے اور آپس میں لازم و ملزوم ہیں بہرحال انسان میں عشق و پرستش کا مسئلہ بہت زیادہ تشریح تجزیہ اور توضیح کا محتاج ہے۔ تحقیق کرنی چاہئے کہ واقعاً اس کے کیا عوامل ہیں؟ آیا قدیم زمانے سے یہ بات جو افلاطون سے منسوب کی گئی ہے اور آج کل بھی عشق افلاطونی کے نام سے جانی جاتی ہے درست ہے یا نہیں؟ کیا واقعاً انسان میں عشق کے لئے کوئی غیر مادی اور غیر جسمانی عوامل موجود ہیں؟ آیا انسان میں عشق روحانی بھی پایا جاتا ہے اور اگر ہے تو وہ کونسا جذبہ ہے؟
 

صرف علی

محفلین
باب چہارم
عشق اور پرستش
انسانی رجحانات کے دلائل​
ہماری بحث انسان میں پائے جانے والے ان رجحانات کے بارے میں تھی کہ جو حیوان میں موجود نہیں۔ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ انہی رجحانات کی وجہ سے ”انسان“ تشریح و تفسیر اور فلسفے کے لئے ایک اہم موضوع بن گیا ہے۔ چار رجحانات کے بارے میں ہم پہلے وضاحت پیش کر چکے ہیں اب ایک اور رجحان کی جانب مختصر طور پر اشارہ کرتے ہیں۔ یہ رجحان وہی چیز ہے کہ جس کا نام ”عشق و پرستش“ رکھا جا سکتا ہے۔
اس بات کی توضیح عرض کرتا چلوں جو چیز انتہائی طور پر محسوس کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان میں ایک ایسی چیز کی صلاحیت موجود ہے کہ جسے ہم ”عشق“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ عشق محبت سے ایک بالاتر چیز کا نام ہے۔ عام طور سے جذبہ محبت ہر انسان میں پایا جاتا ہے۔ انسان میں کئی طرح کی محبتیں موجود ہیں مثلاً دوستوں کے درمیان باہمی محبت مرید کی اپنے مرشد پیر کی مرید سے محبت بیوی اور شوہر کے درمیان محبت والدین اور اولاد کے درمیان محبت ان کا شمار معمول کی محبتوں میں ہوتا ہے لیکن انسان میں ایک اور چیز کی صلاحیت موجود ہے کہ جسے عشق کہتے ہیں۔ عربی میں یہ لفظ ”عشقہ“ سے لیا گیا ہے ”عشقہ“ اس بیل کو کہتے ہیں کہ فارسی میں جس کا نام ”پیچک“ ہے یعنی آکاس بیل۔ یہ بیل جس چیز تک بھی پہنچتی ہے اس کے اردگرد لپٹ جاتی ہے مثلاً جب کسی درخت یا گھاس تک پہنچتی ہے تو اس طرح اس کے اردگرد لپٹ جاتی ہے کہ اسے اپنے چنگل میں جکڑ لیتی ہے اس کو مکمل طور سے اپنے قابو میں کر لیتی ہے۔ اس طرح کی ایک حالت انسان میں بھی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ معمول کی محبت کے برعکس عشق انسان کو اس کی روزمرہ زندگی کے معمول سے خارج کر دیتا ہے اس کی نیند حرام کر دیتا ہے اور کھانا پینا اس سے چھوٹ جاتا ہے اس کی تمام تر توجہ کا مرکز اس کا معشوق بن جاتا ہے۔ ان کے درمیان ایک طرح کی وحدت و یکتائی وجود میں آ جاتی ہے عشق اسے ہر چیز سے کاٹ دیتا ہے اور اس کی توجہ کو صرف ایک چیز کی جانب مرکوز کر دیتا ہے اس طرح کہ اس کے لئے سب کچھ معشوق کی ذات ہو جاتی ہے ایسی شدید محبت کو عشق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ حیوانات میں اس کیفیت کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔ ان میں زیادہ سے زیادہ جو احساسات اور جذبات پائے جاتے ہیں وہ اسی حد تک ہیں کہ جو والدین اولاد یا میاں بیوی کے درمیان پائے جاتے ہیں غیرت و حمیت وغیرہ جو کچھ بھی ان میں پایا جاتا ہے تھوڑا بہت حیوانات میں بھی موجود ہے لیکن یہ صورت حال اس مخصوص انداز میں صرف انسان میں ہی پائی جاتی ہے۔ عشق حقیقت میں کیا چیز ہے؟ بذات خود فلسفہ کا موضوع ہے۔ بو علی سینا نے عشق کے موضوع پر مستقل طور سے ایک کتاب تصنیف کی ہے اسی طرح ملا صدرا نے اپنی کتاب ”اسفار“ کے الٰہیات کے باب میں قریب قریب چالیس صفحات حقیقت عشق کے لئے مختص کئے ہیں کہ یہ حالت جو انسان میں پیدا ہو جاتی ہے کیا ہے؟ جس طرح کہ آج کل یہ مسئلہ نفسیات میں بھی زیربحث ہے کہ اس حالت کا تجزیہ کیا جائے کہ انسان میں پائی جانے والی یہ حالت کیا ہے؟
حقیقت عشق کے بارے میں نظریات
اس سلسلے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں بعض نے تو اسے ایک خاص قسم کی بیماری یا عارضہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک طرح کا عارضہ اور مرض ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ عشق کو بیماری تصور کرنے والوں کے نظریے کا ابھی تک کوئی حامی نہیں ہے بلکہ نہ صرف اسے بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک نعمت خیال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ مسئلہ پیش آتا ہے کہ مجموعی طور پر عشق صرف ایک ہی قسم کا ہے یا اس کی دو قسمیں ہیں؟ بعض نظریات کے مطابق عشق کی فقط ایک ہی قسم ہے اور وہ جنسی عشق ہے اس کی بنیاد عضوی اور حیاتیاتی (Organic & Psychologic) ہے اور یہی ایک قسم ہے۔ ان کے نزدیک جتنے بھی عشق اس دنیا میں موجود تھے اور موجود ہیں اپنے تمام تر اثرات اور خصوصیات کے ساتھ رومانوی عشق ہیں۔ دنیا کے ادبی شاہکار ایسی عشقیہ داستانوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن مجنوں کی داستان کے مانند یہ تمام عشق جنسی نوعیت کے ہیں اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ ایک اور گروہ ہے کہ جو ایک انسان کا دوسرے انسان سے عشق کہ جو اس وقت زیربحث ہے کو بھی دو قسم کا سمجھتا ہے مثلاً بو علی سینا خواجہ نصیرالدین طوسی اور ملا صدرا عشق کی دو اقسام کے قائل ہیں۔
بعض عشق کو جنسی سمجھتے ہیں کہ اس کو عشق حقیقی کے مقابلے میں عشق مجازی سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ بعض عشق روحانی نوعیت کے ہیں اور روحانی ہیں یعنی درحقیقت دو روحوں کے درمیان ایک طرح کی کشش (Attraction) پائی جاتی ہے۔ جسمانی عشق میں جنسی جذبہ کارفرما ہے کہ جو معشوق تک پہنچنے اور جنسی خواہش کی تسکین کے بعد خود ہی ختم ہو جاتا ہے اس کا انجام یہی کچھ ہے کیونکہ اگر اس کی علت اور سبب پیدائش بدن میں داخلی مادہ کی تحریک ہے تو ان کے جدا ہونے سے یہ بھی ختم ہو جائے گا اس طرح وہاں سے اس کا آغاز ہوا اور یہاں پر ختم ہو گیا لیکن روحانی عشق کے قائل لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انسان بعض اوقات عشق میں ایسے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے کہ جو ان سب چیزوں سے بالاتر ہے۔ خواجہ نصیرالدین طوسی اس مرحلے کو ”مشا کلة بین النفوس“ سے تعبیر کرتے ہیں یعنی روحوں کے درمیان ایک طرح کی مشابہت پائی جاتی ہے۔
درحقیقت یہ لوگ اس بات کے مدعی ہیں کہ انسانی روح میں روحانی عشق کے لئے بنیاد موجود ہے اور حقیقت میں اگر یہاں کوئی نفس پایا جاتا ہے تو وہ فقط انسان کو ہی متحرک رکھتا ہے جبکہ انسان کا حقیقی معشوق عالم طبیعت سے بالاتر ایک حقیقت ہے کہ جس سے انسان کی روح متحد ہوتی ہے اس تک پہنچتی ہے اور اسے پا لیتی ہے۔ پس حقیقت میں انسان کا حقیقی اور اصل معشوق اس کے اندر ہی پایا جاتا ہے اس ضمن میں کئی داستانیں نقل کی جاتی ہیں۔ اس نظریے کے حامل لوگ کہتے ہیں کہ عشق ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ عاشق کو محبوب کا خیال اور اس کی یاد خود محبوب سے زیادہ عزیز ہو جاتی ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ خود محبوب اور اس کی طرف اولین تحریک کے عوامل خود انسان کے اندر موجود ہیں وہ اپنے اندر ایک نئی حقیقت سے مانوس ہو جاتا ہے کہ جو اس کی روح میں موجود معشوق کی تصویر ہی ہے لیکن درحقیقت یہ تصویر ظاہری معشوق نہیں ہے بلکہ کوئی دوسری چیز ہے۔
ان داستانوں کا فلسفی کتب میں بھی تذکرہ آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ مجنوں باوجود اس کے کہ لیلیٰ کے فراق میں اور اس کے عشق میں کتنے ہی شعر اور غزلیں کہہ چکا تھا لیکن جب ایک دن جنگل میں لیلیٰ اس سے ملنے آئی اور اس نے اسے آواز دی تو مجنوں نے سر اٹھایا اور پوچھا تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا میں لیلیٰ ہوں تمہاری تلاش میں آئی ہوں وہ سمجھ رہی تھی کہ مجنوں فوراً اٹھ کھڑا ہو گا اور اپنے محبوب کو جس کے فراق میں اس نے کتنی گریہ و زاری کی ہے آغوش میں لے لے گا۔ مجنوں کہنے لگا نہیں یہاں سے چلی جاؤ:
لی عنی عنک بعشقک
”میں تمہارے عشق ہی میں محو ہوں تمہارے جسم کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔“
اسی طرح کا ایک واقعہ میں نے اس دور کے مشہور شاعر شہر یار کی سوانح عمری میں بھی پڑھا ہے۔ شہریار جو کہ میڈیکل کالج میں سال آخر کا طالب علم تھا اور تہران میں کرائے کے ایک مکان میں رہتا تھا خود وہ تبریز کا رہنے والا تھا وہاں وہ مالک مکان کی لڑکی پر عاشق ہو گیا اور عاشق بھی شدید قسم کا۔ بہرحال انہوں نے لڑکی کا رشتہ کسی وجہ سے اسے نہ دیا اس نے بھی مجنوں کی طرح ہر کام کاج اور طالب علمی سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس کی خواہش میں محو ہو گیا۔ کئی سال بعد خاتون اپنے شوہر کے ساتھ ایک تفریحی مقام پر سیر کر رہی تھی کہ شہریار پر اس کی نظر پڑی تو خاتون اسے ملنے کے لئے قریب آئی تو وہ اپنی ہی دنیا میں مگن تھا اسے کہنے لگا مجھے اب تم سے کوئی سروکار نہیں میں اپنے خیالوں سے ہی خوش ہوں اور انہی سے مانوس ہوں اگر تم اپنے شوہر سے طلاق بھی لے لو تو بھی مجھے تم سے کوئی کام نہیں اس ضمن میں اس کے اشعار بھی ہیں۔ اس خاتون کے آنے کے بعد وہ اشعار کہتا ہے اور اپنی صورت حال کی تعریف کرتا ہے کہ کس طرح وہ اس کے عشق سے مانوس ہو گیا ہے اور خود اس کی ذات کی طرف متوجہ نہیں ہے۔
ابھی مختصراً یہ بات بیان کرتا ہوں تاکہ آپ اسلام میں عرفانی کلچر ”تہذیب“ سے تھوڑے بہت آشنا ہوں کہ یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے کہ جو بہت زیادہ قابل توجہ اور قابل تحلیل و تجزیہ ہیں اس سلسلے میں ملا صدرا نے چند اشعار نقل کئے ہیں میرے خیال میں محی الدین عربی کے ہیں۔ اگرچہ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ کسی شاعر کے نہیں ہیں صرف اتنا کہا ہے کہ کسی نے یوں کہا ہے لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ محی الدین کے ہیں کیونکہ اس کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں۔ وہ جب اس بات کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ بعض عشق جسمانی نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں تو ان خوبصورت اشعار میں یہ بات یوں بیان کرتا ہے:
اعانقہا و النفس بعد مشوقۃ
الیھا وھل بعد العناق تدانی
”اپنے معشوق سے گلے مل رہا ہوں لیکن پھر بھی دیکھتا ہوں کہ میرا نفس اس کے لئے بہت مشتاق اور بے قرار ہے مگر کیا گلے ملنے سے زیادہ بھی کوئی ایک دوسرے کے قریب تر آ سکتا ہے؟“
کہنا یہ چاہتا ہے کہ اگر دو جسموں کے درمیان کشش پائی جاتی ہے اور عشق اس کا نتیجہ ہے تو اب جبکہ وہ اپنی آرزو کو پہنچ چکے ہیں اور جبکہ یہ بات اپنی انتہا تک پہنچ چکی ہے تو عشق کو ختم ہو جانا چاہئے:
و الثم فاھا کی نزول حرارتی
فیزداد ما القی من الہیجان
”کہتا ہے کہ میں اس کے ہونٹوں کا بوسہ لیتا ہوں تاکہ میرے اندر کی حرارت اور گرمی زائل ہو جائے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ وہ تو اور بھی سوا ہو جاتی ہے۔“
اب اس سے فلسفی جو نتیجہ اخذ کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے:
کان فوادی لیس یشفی غلیلہ
سوی ان یری الروحان یتحدان
”ممکن نہیں کہ میری یہ اندرونی آگ خاموش ہو جائے مگر یہ کہ دونوں روحیں آپس میں مل جائیں۔“
پس یہ نظریہ عشق کو دو قسموں میں تقسیم کرتا ہے عشق جسمانی اور عشق روحانی یعنی وہ ایک اپنے قسم کے عشق کا قائل ہے جو سرچشمے کے اعتبار سے بھی عشق جسمانی سے مختلف ہے اور اس کا سرچشمہ جنسی نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں انسان کی فطرت اور روح میں پائی جاتی ہیں۔ نیز ہدف و انتہاء کے لحاظ سے بھی جنسی عشق سے مختلف ہے کیونکہ جنسی عشق شہوت کے بجھنے سے ختم ہو جاتا ہے لیکن یہ عشق یہاں پر ختم نہیں ہوتا۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہاں وہ فلسفی مباحثے اور فلسفیوں کی ان دلیلوں کو پیش کریں کہ جو انہوں نے اس طرح کے عشق کو کہ جسے افلاطونی عشق سے یاد کیا جاتا ہے ثابت کرنے کے لئے پیش کی ہیں۔ ہم ان میں سے صرف اس حصے کو پیش کریں گے جو انتہائی آسان ہو۔
یہ بات مسلم ہے کہ انسان عشق کی تعریف کرتا ہے یعنی اسے ایک قابل ستائش چیز سمجھتا ہے جبکہ شہوتوں کے باب سے کوئی چیز بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ مثلاً انسان میں کھانے پینے کی خواہش یا غذا کی رغبت کہ جو ایک طبیعی رجحان ہے۔ کیا یہ رجحان طبیعی رجحان ہونے کے اعتبار سے کچھ بھی قابل احترام ہے؟ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ دنیا میں ایک بھی شخص کسی غذا کی طرف اپنی رغبت کی تعریف کرتا ہو؟ عشق بھی جب تک جنسی شہوت سے مربوط ہو کھانے کی خواہش کے مانند ہے یعنی کہ ایک حیوانی جبلت ہے اور قابل احترام نہیں ہے۔ بہرحال یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا احترام کیا جاتا ہے او ر دنیا کے ادبی شاہکاروں کا ایک بہت بڑا حصہ عشق کی تقدیس اور تعریف پر مشتمل ہے۔ انفرادی اور اجتماعی نفسیات کے حوالے سے یہ امر غیر معمولی طور پر قابل توجہ ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟
عاشق کا معشوق میں فنا ہو جانا
عجیب تر تو یہ ہے کہ عاشق معشوق کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دینے پر فخر کرتا ہے اور اس کی ہستی کے سامنے اپنے آپ کو فانی اور نابود ظاہر کرتا ہے یعنی اس کے لئے یہ بات باعث سرفرازی و عظمت ہے کہ معشوق کے مقابلے میں کوئی چیز اس کی اپنی نہ ہو اور جو کچھ بھی ہو وہی ہو اسے عاشق کا معشوق میں فنا ہو جانا کہتے ہیں۔ اخلاق کے بارے میں ہم نے کہا تھا کہ وہ ایسی چیز ہے کہ جو نفع پسندی کی منطق سے ہم آہنگ نہیں ہے بلکہ ایک فضیلت اور نیکی ہے۔ عشق بھی اسی طرح ہے ایثار اور خود سے گزر جانے کے جذبے کی طرح ہے۔ ایثار خود غرضی سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا قربانی اور خود پرستی کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ دیکھتے ہیں کہ اخلاقی بھلائی کے حوالے سے انسان سخاوت احسان ایثار اور قربانی اور خداکاری کا احترام کرتا ہے انہیں نیکی سمجھتا ہے عظمت اور بزرگی جانتا ہے۔ اسی طرح یہاں عشق بھی خواہشات نفسانی سے مختلف ہے کیونکہ خواہشات نفسانی کے معنی تو یہ ہیں کہ انسان ہر چیز اپنے لئے چاہتا ہے۔ نفسانی خواہشات اور غیر نفسانی خواہشات میں فرق یہی ہے کہ جب مسئلہ نفسانی خواہشات کا ہو تو اس کا ہدف معشوق کو اپنا لینا اور اس کے وصال سے لطف اندوز ہوتا ہے لیکن عشق میں وصال سرے سے ہی مدنظر نہیں ہے بلکہ عاشق کا معشوق میں فنا ہو جانا مقصود ہے لیکن بہرحال یہ بات خود پسندی کی منطق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
اسی لئے یہ مسئلہ اس صورت میں غیر قانونی طور پر قابل بحث و تجزیہ ہے کہ انسان میں یہ جذبہ عشق کیا چیز ہے؟ اور یہ کیسی کیفیت ہے؟ اس کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اس میں انسان چاہتا ہے کہ معشوق کے سامنے تسلیم محض ہو اور اس کی اپنی ذات انا اور میں کچھ بھی باقی نہ رہے۔ اس ضمن میں مولوی نے ایسے عمدہ اشعار کہے ہیں کہ جو عارفانہ ادب میں غیر معمولی ہیں۔ کہتا ہے

عشق قہار است ومن مقہور عشق
چون قمر روشن شدم از نور عشق
”عشق قہار ہے اور میں اس کا مقہور ہوں نور عشق سے میں چاند کی طرح جگمگا گیا ہوں۔“
مسئلہ پرستش یہی ہے کہ عشق انسان کو ایسے مرحلے تک لے جاتا ہے کہ وہ اپنے معشوق کو خدا بنا لیتا ہے اور اپنے آپ کو اس کا ایک بندہ سمجھتا ہے اسے ہستی مطلق سمجھتا ہے اور اپنے تئیں اس کے مقابلے میں نابود شمار کرتا ہے۔ یہ کیا چیز ہے؟ اور اس کی حقیقت کیا ہے؟
ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اس بارے میں ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ عشق کا سرچشمہ اور اس کا ہدف جنسی ہے اور وہ جنسی جبلت کی راہ کو ہی طے کرتا ہے اور اس کا اختتام بھی اسی پر ہوتا ہے۔ دوسرا نظریہ وہی ہے کہ جس کی ہمارے فلسفی بھی تائید کرتے ہیں اور جو دو قسم کے عشق کے قائل ہیں جسمانی یا جنسی عشق اور روحانی عشق۔ وہ کہتے ہیں کہ روحانی عشق کی صلاحیت تمام انسانوں میں پائی جاتی ہے۔
ایک تیسرا نظریہ یہ بھی موجود ہے کہ جس نے دو نظریوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے (یعنی فرائیڈ کے نظریے اور روحانی عشق کے نظریے کو) فرائیڈ جو ایک معروف ماہر نفسیات تھا ہر چیز کو جنسی جبلت کا نتیجہ سمجھتا تھا۔ علم دوستی نیک کام فضیلت پرستش غرضیکہ ہر چیز کو اور عشق کو بدرجہ اولیٰ جنسی تصور کرتا تھا لیکن آج کل اس نظریے کو قبول نہیں کیا جاتا۔ ایک اور نظریہ یہ بھی پیدا ہوا ہے اور وہ یہ کہ عشق میں بعض ایسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں کہ جو جنسی جذبے سے مختلف ہیں یعنی جنسی کیفیات سے وابستہ نہیں ہیں اور ان کا دار و مدار جنسیات پر نہیں ہے۔ جنسی امور تو بھوک کے مانند طبعی ہیں جب جسم کی غذا کی ضرورت پڑتی ہے تو اس میں ایک طرح کی کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ جسے بھوک کہتے ہیں۔ اگر اس طرح سے نہ ہو تو بھوک بھی نہیں لگتی۔ جنسی احتیاج بھی ایسی ہی ہے جب یہ مادی احتیاج اور ضرورت ہو جس حد تک بدن میں ایک خاص کیفیت اور ترشحات ہوں تو یہ ہوتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو نہیں ہوتی جبکہ ”عشق“ کی یہ خصوصیات نہیں ہیں لہٰذا اس تیسرے نظریے کے حاملین کا کہنا ہے کہ عشق کی ابتداء تو جنسی ہے لیکن انتہاء غیر جنسی ہے یعنی جنسی اعتبار سے شروع ہوتا ہے۔ اس کی ابتداء شہوت ہے لیکن پھر اس کی کیفیت و حالت بدل جاتی ہے اور آخرکار یہ ایک روحانی کیفیت بن جاتی ہے۔
 

صرف علی

محفلین
فلسفے کے نامور مورخ ویل ڈیورنٹ نے اپنی کتاب ”نشاطِ فلسفہ“ میں جہاں عشق پر بحث کی ہے وہاں اس نے اسی نظریے کا انتخاب کیا ہے اور فرائیڈ کے نظریے پر بحث کرنے کے بعد اس کو رد کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ درحقیقت عشق بعد میں اپنی راہ و روش اور حتیٰ کہ خصوصیات و کیفیات کو بدل لیتا ہے یعنی مکمل طور سے جنسی حالت سے نکل جاتا ہے یوں ویل ڈیورنٹ فرائیڈ کے نظریے کی بنیاد کو درست نہیں سمجھتا۔ مسئلہ عشق میں ہماری نظر زیادہ تر اس رجحان پر ہے کہ عاشق چاہتا ہے کہ معشوق میں فنا ہو جائے ہم اسے پرستش کہتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جو مادیت سے جدا ہے۔ ولیم جیمز اپنی کتاب ”دین ور وان“ (یہ کتاب کے نام کا فارسی ترجمہ ہے انگریزی میں اس کا نام Religion & Psyche ہے) میں کہتا ہے:
”ہمارے اندر موجود بعض رجحانات ایسے ہیں کہ جو ہمیں عالم طبیعیات سے وابستہ کرتے ہیں اور بعض رجحانات ہمارے اندر ایسے ہیں کہ جو مادی اور طبیعی ”قدرتی“ حوالے سے نہیں دیکھے جا سکتے اور یہی وہ رجحانات ہیں کہ جو ہمیں ماوراء طبیعیات سے مربوط رکھتے ہیں۔“
اس کا استدلال اور اس کی تشریح وہی ہے کہ جو مسلمان حکماء کرتے ہیں ان کا نظریہ یہ ہے کہ عاشق میں جو فنا ہونے کی حالت پیدا ہو جاتی ہے۔ درحقیقت اس کے کمال کا مرحلہ ہے یہ فنا اور نابودی نہیں ہے اگر اس کا معشوق حقیقی کوئی مادی اور جسمانی ہوتا تو فنا کی توجیہہ نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ کوئی چیز کس طرح سے فنا کی طرف مائل ہو سکتی ہے لیکن دراصل اس کا معشوق حقیقی ایک اور حقیقت ہے اور یہ (معشوق ظاہری) اس کا ایک نمونہ ہے اور مظہر ہے اور یہ حقیقت میں اپنے آپ سے کامل تر ہے اور ایک کامل تر مقام سے مل جاتا ہے اور اس طرح سے یہ نفس اپنے کمال کی حد تک جا پہنچتا ہے۔
رس کہتا ہے:
”مغرب والے ایسے عشق کو مشرقی عشق کہتے ہیں اور اس کا احترام بھی کرتے ہیں۔“
برٹرنڈرسل اپنی کتاب ”ازدواج اور اخلاق“ (یہ کتاب کے نام کا فارسی ترجمہ ہے) (Morale & Wedding) میں کہتا ہے:
”ہم آج کل کے لوگ ان شعراء کے جذبوں کو نہیں سمجھ سکتے جنہوں نے محبوب سے ذرہ بھی التفات کی تمنا کے بغیر اس میں اپنے فنا ہو جانے کے بارے میں شعر کہے ہیں۔“
وہ کہنا چاہتا ہے کہ جس عشق کو ہم جانتے ہیں وہ عموماً وصال کا ذریعہ اور مقدمہ سے ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے اور بھی بہت کچھ کہا ہے کہتا ہے کہ مشرقی عشق میں عشق ذریعہ نہیں ہے بلکہ بذات خود ہدف ہے۔ وہ اس عشق کا بہت احترام و تعریف بھی کرتا ہے کہتا ہے کہ یہی عشق انسان کی روح کو ایک عظمت و مقام عطا کرتا ہے۔
اب ہم اصل موضوع کی جانب واپس آتے ہیں۔ گزشتہ دو نشستوں میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں:
۱۔ حقیقت و دانائی
۲۔ فن ہنر و حسن
۳۔ نیکی خیر و فضیلت
۴۔ ایجاد و تخلیق
۵۔ عشق و پرستش
انہیں ہم کیا سمجھتے ہیں؟ اور ان کی کس طرح سے توجیہہ ہو سکتی ہے؟ مجموعی طور پر ان کی توجیہہ کو دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
ایک توجیہہ یہ ہے کہ ان سب چیزوں کا سرچشمہ انسان کی فطرت ہے۔ حقیقت جوئی (حقیقت کی تلاش) ایک ایسا رجحان ہے کہ جو انسان کی سرشت (طینت) میں رکھ دیا گیا ہے۔ انسان روح و بدن سے مرکب ہے اس کی روح ایک الٰہی حقیقت ہے:
ونفخت فیہ من روحی(حجر ۲۹)
”اور اس میں ہم نے اپنی روح پھونکی۔“
انسان میں جس طرح سے طبیعی عناصر موجود ہیں اس طرح ایک غیر طبیعی عنصر بھی موجود ہے۔ طبیعی عناصر انسان کو عالم طبیعیات سے وابستہ کرتے ہیں جبکہ غیر طبیعی عنصر انسان کو غیر طبیعی اور غیر مادی امور سے منسلک کرتا ہے۔ انسان کا حقیقت کا متلاشی اور طالب ہونا اس کی روح اور سرشت روح سے وابستہ ہے۔ حسن پرستی ایک روحانی رجحان ہے اسی طرح اخلاقی فضیلت اور خلاقیت و ایجاد کی طرف رجحان بھی روحانی ہے۔ معشوق کی پرستش کا جذبہ بھی درحقیقت معشوق حقیقی کی پرستش کا پرتو ہے یعنی انسان کی معشوق حقیقی ذات باری تعالیٰ ہے۔ جب بھی انسان کو کسی دوسری چیز سے روحانی تعلق پیدا ہوتا ہے تو یہ دراصل اس عشق حقیقی ہی کے پھر سے جی اٹھنے کی علامت ہے کہ جو ذات حق سے وابستہ ہے اور اس انداز سے ظہور پذیر ہوا ہے۔
دوسرا استدلال فطرت احساس کی بنیاد پر ہے۔ اس توجیہہ اور استدلال کے مطابق یہ سب جذبے اور رجحانات فطری نہیں ہیں اور جب یہ مان لیا جائے کہ یہ فطری نہیں ہیں تو پھر ان کے استدلال کے لئے ہمیں انسان سے باہر دیکھنا ہو گا۔ اب ہم اس کے واضح ترین مصادیق کو دیکھتے ہیں مثلاً علم کی طرف انسان کا رجحان اور علم کا احترام کیا چیز ہے؟ یہ استدلال پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں انسان اپنی جبلت کی وجہ سے جو کچھ چاہتا ہے وہ معاشی مسائل سے ہی عبارت ہے یعنی جنہیں وہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ایسی چیزیں ہیں کہ جو اس کی معیشت زندگی اور انہی مادی اور طبیعی مسائل سے مربوط ہیں۔ لیکن اسی معاشی زندگی اور انہی مادی ضروریات کے زیراثر انسان کو کچھ اور طرح کی ضروریات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ ضرورتیں مختلف روپ دھار کر سامنے آتی ہیں مثلاً انسان کو قانون کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کو قانون کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس لئے کہ انسان اپنے وسائل معاشی فراہم کر سکے۔ ظاہر ہے کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا انسان مجبور ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر زندگی گزاریں ان کے مفادات اس بات کے متقاضی ہیں کہ مل جل کر رہیں۔ اب وہ جب مل جل کر زندگی گزارتے ہیں تو ان میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کے درمیان کچھ حدیں اور دیواریں ہونی چاہیں۔ ناچار وہ اپنے لئے کچھ قوانین بناتے ہیں ان قوانین کو اس لئے ملحوظ رکھتے ہیں کہ ان سب کے مفادات کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ان قوانین کا احترام کریں مثلاً وہ عدل و انصاف کا اصول وضع کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے مفادات اس کا تقاضا کرتے ہیں۔ جب ہم سب یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں اجتماعی زندگی کی ضرورت ہے اور یہ سماجی زندگی عدل و انصاف کے بغیر ممکن نہیں تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک عدلیہ کے سامنے جھک جائیں۔ میں عدل و انصاف کو پسند کرتا ہوں تاکہ آپ مجھ پر زیادتی نہ کریں ظلم نہ کریں۔ آپ بھی عدالت کو پسند کرتے ہیں کہ میں آپ پر ظلم و تعدی نہ کروں مگر یہ کہ میں عدالت کو خود عدالت کی وجہ سے پسند کرتا ہوں بنیادی طور پر یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پھر انسان دیکھتا ہے کہ اس مادی زندگی میں جو شخص بھی عالم طبیعیات سے زیادہ آگاہ ہے باخبر ہے اور زیادہ معلومات رکھتا ہے وہی زیادہ کامیاب ہے۔ علم اس کی زندگی میں بہت زیادہ مددگار اور یہی علم و آگاہی مادی زندگی کے لئے بہترین ہتھیار اور ذریعہ ہے لہٰذا وہ اسے ایک احترام عطا کرتا ہے اور یوں وہ علم کے لئے ایک طرح کے احترام کو فرض سمجھتا ہے مگر یہ کہ علم ذاتی طور سے کسی احترام اور تقدس کا حامل ہے اور یہ کہ میں خود علم کو علم کی وجہ سے چاہتا ہوں یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ علم ایک ہتھیار ہے لیکن دوسرا ہتھیار انسان کی مادی اور معاشی زندگی کے لئے اس جتنا کارآمد نہیں ہے لہٰذا انسان جب دیکھتا ہے کہ علم بہترین ہتھیار ہے تو اس کے احترام کا قائل ہو جاتا ہے کبھی احترام اور تقدس کی آڑ میں فریب بھی کیا جاتا ہے۔ بعض طبقات کسی بھی طریقے سے معلومات جمع کرتے ہیں لہٰذا ان کی معلومات اور اطلاعات لازمی طور پر دوسروں سے زیادہ ہوتی ہیں چنانچہ وہ زیادہ ماہر زیرک اور زیادہ سمجھدار ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ لوگوں کو فریب دے سکتے ہیں۔ دوسروں کی محنت کا پھل حاصل کرنے کے لئے وہ علم کو ایک احترام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ علم ایسی عظیم چیز ہے اور عالم کا یہ مقام ہے لہٰذا ہم چونکہ عالم ہیں اس لئے تم جاؤ کام کرو اور ہمیں لا کر دو تاکہ ہم کھائیں۔ فن و ہنر اور جمالیات کے بارے میں بھی ایسے ہی دلائل پیش کرتے ہیں اور تخلیق و ایجاد کے لئے بھی اسی قسم کے استدلال دیئے جاتے ہیں چونکہ علم مادی زندگی اور معاش کے لئے ایک ذریعہ ہے لہٰذا انسان اس کے لئے ایک طرح کا احترام اپنے پر فرض کر لیتا ہے مگر خود اس کی ذات میں کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی۔ جبکہ عشق اور پرستش تو بنیاد سے ہی بے معنی ہے کیونکہ یہ انسان کو اپنے آپ سے غافل کر دیتا ہے اور اسے اپنی ذات سے نکال دیتا ہے۔ اگر انسان کسی دوسری چیز کا عاشق ہو جائے اور پھر اس کی راہ میں اپنے آپ کو فنا کرنے کا اظہار کرے اور ہر چیز اس پر قربان کر دینا چاہے تو یہ کسی لحاظ سے بھی منطقی نہیں ہے۔ مذکورہ تین امور کی یہ دلیل ان سب پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہے جس سے اخلاقی قدریں بے بنیاد ہو کر رہ جاتی ہیں اور وہ ناچار ہیں کہ ان اخلاقی قدروں کو بناؤٹی فرضی اور استحصالی طبقوں کی گھڑی ہوئی چیزیں تصور کریں۔ سخاوت و کریمی کیا ہے؟ احسان کیا ہے؟ ایثار و قربانی کیا ہے؟ یعنی وہ ان کے بارے میں دلائل پیش نہیں کر پاتے۔ بہرحال یہاں بعض ایسے مکاتب فکر بھی ہیں کہ جن میں اتنی شجاعت دلیری اور بے باکی تھی کہ وہ اپنے ہی اصول سے وہی نتائج حاصل کریں کہ جو نتائج یہ اصول فراہم کرتے ہیں لیکن بعض دیگر مکاتب فکر میں اتنی بے باکی نہ تھی۔
جرات مند اور غیر جرات مند حسی
علمی فطریات کی بحث میں ہم کہہ چکے ہیں کہ جب یورپ میں حسی فلسفے کی لہریں اٹھیں تو ایک گروہ اس کا گرویدہ ہو گیا۔ اس گروہ کے بعض افراد حقیقت میں حسی تھے اپنے آپ کے حسی ہونے پر ثابت قدم اور اس پر باقی رہنے کے بارے میں جرات مند و بے باک تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جو کچھ ہم اپنے حواس سے محسوس و ادراک کرتے ہیں اسی پر یقین و اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی چیز پر یقین نہیں رکھتے البتہ ان کی نفی بھی نہیں کرتے اور وہ انہی دو اصولوں پر ثابت قدم رہے۔ ان کا کہنا ہے:
۱۔ جس چیز کو ہم اپنے حواس خمسہ سے محسوس نہیں کرتے نہ اس کی نفی کرتے ہیں اور نہ ہی قبول کرتے ہیں۔ ایک اچھی بات جو وہ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حس مجھے کہتی ہے کہ میں اس کو محسوس کر رہی ہوں اور چونکہ محسوس کر رہی ہوں اس لئے یہ چیز موجود ہے۔ البتہ حس مجھے یہ نہیں کہتی کہ جو کچھ بھی میں محسوس نہیں کرتی وہ سرے سے ہی موجود نہیں ہے بلکہ اتنا کہتی ہے کہ میں اسے محسوس نہیں کرتی۔
۲۔ بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ جن کو تمام ذہن قبول کرتے ہیں لیکن جب ہم نے ان کے بارے میں جستجو کی تو دیکھا کہ یہ قابل حس نہیں ہیں پس ہم انہیں قبول نہیں کرتے مثلاً علیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ علیت محسوسات میں سے نہیں ہے بلکہ جو کچھ قابل احساس ہے وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں واقعات و حوادث یکے بعد دیگرے وجود میں آتے ہیں اور ایک طرح سے ایک دوسرے کے تعاقب میں ہیں لیکن جس چیز کو ہم علت کے نام سے پہچانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”الف“، ”ب“ کے لئے علت ہے اور علت سے ہماری مراد یہ ہے کہ اگر ”الف“ نہ ہو تو ”ب“ کا وجود محال ہے اور کہتے ہیں کہ ”ب“ کا وجود ”الف“ سے وابستہ ہے۔ اس چیز کو انسان محسوس نہیں کرتا بلکہ عقل نے اسے وجود بخشا ہے اور چونکہ حس اسے ثابت نہیں کرتی لہٰذا ہم اسے قبول نہیں کرتے۔
حس کے معتقدین کا یہ گروہ جرات مند اور بے باک ہے یعنی یہ لوگ اپنے مکتب فکر کے حسی ہونے پر کاربند اور ثابت قدم ہیں اور اسی وجہ سے قابل تعظیم ہیں۔
بعض دوسرے لوگ بنیادی چیزوں میں تو حسی ہیں لیکن حصول نتائج میں عقلی ہیں تمام مادی مکتب فکر کے لوگ Materialists اسی طرح ہیں۔ یہ لوگ ایک طرف تو شناخت کے باب میں حس کے معتقدین کی طرح اظہار نظر کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف فلسفیانہ مسائل میں عقل کے قائلین کے مانند اظہار خیال کرتے ہیں یعنی ایسے مسائل پر اعتماد کرتے ہیں کہ جن کے بارے میں حس خاموش ہے۔
نٹشے کے اقوال
رجحانات کے باب میں بھی یہی صورت حال ہے۔ انسان اور مادی مکتب فکر یعنی ایسا مکتب فکر کہ جو انسان کو مادی محض سمجھتا ہے کے پیروکار دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ایک وہ گروہ کہ جسے ہم مادی گروہ میں جرات مند مانتے ہیں اور دوسرا گروہ وہ غیر جرات مند مادی لوگ یا فریب کاروں کا ہے۔ نٹشے ایک مادی فلسفی ہے انسان کے بارے میں وہ روح اور اس طرح کی چیزوں کا معتقد نہیں ہے۔ انسان کے سلسلے میں حصول نتائج میں بھی وہ بعینہ اسی فلسفے کے تحت نتائج اخذ کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ جو کچھ بھی اخلاق کے نام سے مشہور ہے وہ سب لغویات ہے۔ اگر آج تک دنیا کے تمام اخلاق کے علمبرداروں نے کہا ہے کہ نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کریں تو میں کہتا ہوں کہ ان کی پیروی کریں کس لئے نہ کریں؟ اگر دنیا کے اخلاق کے تمام علمبردار کہتے ہیں کہ ضعیف کی مدد کریں اور اس قوی کے خلاف جنگ کریں کہ جس نے ضعیف یا کمزور پر حملہ کیا ہے تو میں اس کے بالکل برعکس کہتا ہوں۔ ایک شاعر کہتا ہے
چون می بینی کہ نابینا و چاہ است
اگر خاموش بنشینی گناہ است
”اگر دیکھ رہے ہو کہ ایک نابینا شخص ہے اور اس کے سامنے کنواں ہے تو یہاں خاموش بیٹھے رہنا گناہ ہے۔“
نٹشے کے نزدیک اگر تم نے اسے بچانا چاہا تو یہ گناہ ہے۔ اگر تم نے دیکھا کہ کوئی کنویں میں گر گیا ہے تو اوپر سے ایک پتھر تم بھی پھینک دو۔ عالم نے جس طرح ابھی تک سفر کیا ہے اور رواں دواں ہے وہی درست ہے کہ کچھ لوگ کمزور ہیں اور باقی طاقتور جو بھی کمزور ہے حکم طبیعت کے تحت اسے فنا ہونا ہے اسی طرح اخلاق کو بھی چاہئے کہ اس پر فنا کا حکم جاری کرے۔ ہیرو ہے تو چنگیز ترس اور رحم کیا ہے؟ رحم اور ترس کھانا تو کمزور کی علامت ہے۔ ایثار کیا ہے؟ بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں۔
یہ بات تمام انسانی اقدار کی نفی کرتی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر ہم انسان کو سراپا مادی تصور کر لیں تو ان تمام اقدار کی نفی کے علاوہ کوئی اور چارئہ کار نہیں ہے یعنی جو کچھ بھی ہم ”انسانیت“، ”انسانی رجحانات“ اور ”انسانی اقدار“ کے نام سے یاد کرتے ہیں سب کا سب خیالی اور بے بنیاد ہے۔ ایک طرف انسانی میٹریلزم "Materialism" انسانی مادی پرستی کا قائل ہونا اور دوسری طرف انسانیت اور انسانی قدروں کا دم بھرنا ایسا تضاد ہے کہ جو قابل توجیہہ نہیں۔ انسانی اقدار انسانی فطرت سے مطابقت رکھتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی خود اپنی سرشت میں ایک انسانی مادہ موجود ہے اور یہ وہی مقدس ”پاکیزہ“ رجحانات ہیں یعنی انسان کی سرشت میں ایک تقدس ”پاکیزہ اور قابل احترام“ حقیقت موجود ہے کہ جس کی ذات میں بلندی اور کمال کی طرف رجحان پنہاں ہے۔ انسان کے اندرونی تضاد اور فرد کے اندر موجود حقیقی تضاد کو کہ جس کا حدیث میں ذکر ہے اور اس کی پیروی میں ہماری ادبیات میں بھی ہے اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔
کافی سے ایک حدیث
ایک حدیث ہے کہ جسے شیعہ و سنی دونوں نے ذکر کیا ہے اور شیعوں کی کتاب کافی میں ہے کہ
ان اللہ تعالیٰ خلق الملائکة ور کب فیہم العقل و خلق البھائم ور کب فیہم الشہوة و خلق الانسان ور کب فیہ العقل و الشہوة(علل الشرایع جلد ۱ باب ۶ ص ۴ ”تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ“)
”خدا نے ایک فرشتے کو خلق فرمایا اور اسے خالص عقل سے بنایا پھر حیوان کو خلق فرمایا اور اسے خالص شہوت سے تیار کیا اور بعد میں ان دونوں فرشتے اور حیوان کی سرشتوں کو مخلوط کر کے اس سے انسان کو خلق فرمایا۔“
مولوی بھی کہتا ہے
در حدیث آمد کہ خلاق مجید
خلق عالم را سہ گو نہ آفرید
”حدیث میں آیا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مخلوق کو تین طرح سے خلق فرمایا۔“
اس کے بعد تین طرح کی خلقت کی اس حدیث کی بناء پر کہ جسے سنی و شیعہ دونوں نے نقل کیا ہے تشریح کرتا ہے۔
حدیث کی تعبیر کے مطابق انسان کے اس طرح سے مرکب ہونے (فرشتے کی صفات کے لحاظ سے اور حیوانی پہلو کے اعتبار سے) کی وجہ سے انسان میں دو متقابل اور متضاد رجحان وجود میں آتے ہیں ایک اوپر کی طرف رجحان اور دوسرا نیچے کی طرف رجحان ایک آسمانی رجحان اور دوسرا زمینی۔ پھر خداوند عالم نے انسان کو عقل اور ارادہ عطا فرمایا ہے اور اسے ان دو راہوں کے درمیان انتخاب میں اختیار عطا فرمایا ہے:
انا ھد یناہ السبیل اما شاکرا و اما کفورا(انسان ۳)
”ہم نے تو اسے راستے کی رہنمائی کر دی ہے اب چاہے شکرگزار ہو یا ناشکرگزار۔“
انسان کو ان دو راہوں کے درمیان قرار دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اسے ایک مطلق اور آزاد ارادہ عطا کیا گیا ہے تاکہ خود ان دو راہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ تاریخ کے تضاد کا سرچشمہ بھی انسان کی سرشت میں موجود یہ تضادات ہی ہیں یعنی وہ انسان کہ جنہوں نے آسمانی اور عقلانی راہ انتخاب کیا ہے اہل حق اور خدائی لشکر ہیں اور وہ انسان جو حیوانیت کی پستی میں گر گئے ہیں وہ پست فطرت اہل باطل اور شیطانی لشکر ہیں۔ انسان کے تاریخی معرکے محروم طبقے کے لوگوں کی خوشحال طبقے سے جنگ صرف منافع کی خاطر نہ تھی بلکہ یہ جنگ حق جو طبقے کی مفاد پرست طبقے کے خلاف تھی۔
البتہ محروم لوگوں کے لئے ہم خرماوہم ثواب کے مصداق ہے لہٰذا وہ لازمی طور پر حق کی طرف رجحان رکھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حق میں ان کے لئے دو خصلتیں موجود ہیں ایک تو یہ ہے کہ اس حق پسند روح کو تسکین ملتی ہے جسے قرآن میں روح حنیف سے تعبیر کیا گیا ہے (حنیف یعنی حق دوست اور حنیفیت یعنی حق دوستی) اور دوسرا یہ کہ اسی ضمن میں وہ اپنے حقوق بھی حاصل کر لیتے ہیں۔
مولانا روم کی ایک مثال
پس اس مکتب فکر کے مطابق انسان کے مادی رجحانات کے برعکس انسانیت انسان کے روحانی اور ملکوتی پہلو سے پھوٹتی ہے اور پھر انسان کو ان متضاد اشیاء کے درمیان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اسی ضمن میں مولوی ایک غیر معمولی عمدہ مثال مثنوی میں بیان کرتے ہیں اور واقعاً مولوی اس طرح کے روحانی اور معنوی مسائل کی نشاندہی میں انتہائی عجیب اور منفرد ہے۔ اسی ضمن میں وہ کہتا ہے کہ انسان کی خلقت یوں ہوئی کہ وہ نصف آسمانی ہے اور نصف زمینی نصف ملکوتی اور نصف خاکی اور ہمیشہ یہ تضاد اس میں پایا جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اسی کشمکش میں رہتا ہے کبھی اس طرف جاتا ہے تو کبھی اس طرف کبھی نیچے جاتا ہے اور کبھی اوپر کی طرف رواں دواں ہے انسان کے اندر یہ تنازعہ ہمیشہ موجود رہا ہے۔ اس کے بعد مولوی اس کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہے اور مجنوں اور اس کی اونٹنی کہ جس نے ابھی تازہ تازہ بچہ جنا تھا کی مشہور داستان ہے۔ کہتا ہے:
”مجنوں کی اونٹنی نے تازہ تازہ بچہ جنا تھا حیوان جب تازہ تازہ بچہ جنے تو بچے سے اس کی محبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مجنوں اس اونٹنی پر سوار ہو کر اپنی معشوقہ لیلیٰ کے گھر جانا چاہتا تھا چنانچہ وہ سوار ہوا اور اسے ہانکتے ہوئے چل پڑا۔ جب شہر سے باہر کچھ فاصلے پر پہنچا تو وہ اپنی محبوبہ کے خیالوں میں ڈوب گیا اور اونٹنی سے غافل ہو گیا آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ سست پڑ گئے اور اونٹنی کی مہار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اب وہ اونٹنی پر صرف ایک بار کے مانند پڑا تھا۔ اونٹنی نے آہستہ آہستہ جب یہ احساس کیا کہ اس کی مہار کسی کے ہاتھ میں نہیں تو اس نے اپنا رخ گھر کی طرف پلٹا دیا چونکہ اس کا بچہ گھر میں ہی تھا۔ چلتے چلتے اچانک مجنوں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ معشوق کے گھر پہنچنے کی بجائے واپس اصطبل میں پہنچ گیا ہے۔ اس نے دوبارہ اونٹنی کا رخ معشوق کے گھر کی طرف کیا اور کچھ فاصلہ طے کیا اور معشوق کے خیالوں نے اسے پھر سے گھیر لیا اور اونٹنی سے بے خبر ہو گیا تو وہ بھی اپنے محبوب کہ جو اصطبل میں تھا کی طرف لوٹ گئی اور کئی مرتبہ یوں ہی ہوا“
ھمچو مجنون در تنازع با شتر
گر شتر چربید و گہ مجنون حر
یکدم ار مجنون ز خود غافل شدی
نافۃ گردیدی و واپس آمدی
”جب مجنوں کی اونٹنی سے کشمکش ہوئی تو کبھی اونٹنی جیت گئی اور کبھی مجنوں۔“
”جب مجنوں اپنے خیالوں میں گم ہو گیا تو اونٹنی واپس لوٹ آئی۔“
بعد میں کہتا ہے کہ آخرکار مجنوں نے اپنے آپ کو اونٹنی سے نیچے گرا دیا اور کہا
گفت ای ناقہ چو ھر دو عاشقیم
ما دو ضد بس ہمرہ نالا یقیم
”کہنے لگا کہ اے اونٹنی! چونکہ ہم دونوں عاشق ہیں لہٰذا ہم ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لئے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے اہل نہیں ہیں۔“
”میں بھی عاشق ہوں اور تو بھی عاشق میں لیلیٰ کا عاشق ہوں لہٰذا اس کی طرف جانا چاہتا ہوں تو اپنے بچے کی عاشق ہے لہٰذا اصطبل کی طرف جاتی ہے اور یوں ہم ایک دوسرے کے ہمسفر نہیں بن سکتے۔“
اس کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہتا ہے
عشق مولا کی کم از لیلیٰ ستی
بندہ بودن بہر او اولا ستی
”مولا کا عشق کیا لیلیٰ کے عشق سے بھی گیا گزرا ہے؟ جبکہ اس کا بندہ ہونا اس سے کہیں بہتر ہے۔“
مطلب یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو مطلق طور پر مادی تصور نہ کریں تو تمام انسانی خصوصیات امتیازات اقدار اور وہ تمام امور کہ جو انسان کو غیر انسان سے ممیز کرتے ہیں قابل توجیہہ ہیں اور اگر سو فیصد مادی تصور کریں تو یہ امور قابل توجیہہ نہیں ہیں۔ وہ توجیہہات کہ جو مادی ہیں خصوصاً ”مارکسسٹی“، درحقیقت وہ قابل توجیہہ نہیں ہیں دراصل وہ توجیہہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک توجیہہ موجود ہے جو کہ "Existentialist" وجودی حضرات کی ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس چیز کی ایک اور صورت میں توجیہہ کریں۔ وہ لوگ انسان کے مادی ہونے کو قبول کرنے کے ساتھ ساتھ چاہتے تھے کہ انسانی اقدار کو بھی قبول کر لیں۔ اس کے بارے میں انشاء اللہ اگلی نشست میں گفتگو ہو گی۔
 

صرف علی

محفلین
باب پنجم
روحانی عشق
مارکسزم اور انسانی اقدار کا ثبات​
پہلا سوال فطریات کے معنی کے متعلق کی گئی بحث کے بارے میں ہے۔ ان آیات کے بارے میں کہ جن میں فرمایا گیا ہے کہ
”تمہیں اس حالت میں پیدا کیا گیا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔“
اور وہ کہ جنہیں ہم آیات میثاق و فطرت کے نام سے جانتے ہیں وہاں ہم نے بات کچھ اس انداز سے کی تھی کہ اسلامی فلاسفہ کا نظریہ کچھ یوں ہے کہ انسان فطری طور پر کچھ معلومات رکھتا ہے۔ ان معنی میں کہ یہ معلومات اکتسابی نہیں ہیں نا کہ ان معنی میں کہ بالفعل اور عملاً یہ معلومات اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہ انہیں ساتھ لے کر آیا ہوتا ہے کیونکہ اپنے ساتھ لانے اور پہلے سے کسی چیز کے حامل ہونے کا مطلب مختلف ہے جبکہ اس بات کا مطلب کہ جب اسے حاصل ہو تو اکتسابی طریقے سے نہ ہو۔ یہ ہے کہ جونہی وہ مطلب اس کے سامنے آئے اس کا ذہن بغیر کسی دلیل کی مدد کے وہ اسے پا لے اور سمجھ لے۔ اس بات کو سوال میں مسئلہ عالم ذر سے منسلک کر کے بیان کیا گیا ہے۔
پوچھا یہ گیا ہے کہ
کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ ہمارا خدائی میثاق اور عالم ذر میں ”بلٰی“ (اقرار) کہنا کیا ہے؟ جبکہ علم تصورات و تصدیقات کا مجموعہ ہے اور اگر یہ طے ہو کہ اس تصدیق اور ”بلٰی“ کے بارے میں ہمیں کچھ یاد نہیں تو پھر خدا تعالیٰ اس بات کو کس طرح شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے اور ہمیں یاددہانی کراتا ہے؟
نہیں یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ہم پہنچ نہیں پائیں گے اگر پہنچ پاتے تو ”آیہ ذر“ کا صحیح مفہوم بیان کرتے البتہ ہم آپ کو تفسیرالمیزان کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ میں نے تفسیرالمیزان کا فارسی ترجمہ تو نہیں دیکھا کہ وہاں کیا ترجمہ کیا گیا ہے لیکن المیزان جلد ۸ کے متن کو میں نے دیکھا ہے اس میں اس آیت کے بارے میں بہت عمدہ گفتگو کی گئی ہے۔ آج کی گفتگو میں ایسے موضوعات آئیں گے کہ جن کے ضمن میں ہم اس آیت کے متعلق زیادہ وضاحت کریں گے۔
عشق روحانی کی حقیقت کے بارے میں کچھ اور…
دوسرا سوال یہ کیا گیا ہے کہ
ہر طرح کے روحانی عشق کو ہم عشق حقیقی اور ذات باری تعالیٰ سے عشق اور اس سے پھوٹنے والا کیسے قرار دے سکتے ہیں جبکہ یہ معشوق ایک عام انسان بھی ہو سکتا ہے؟ قبل ازیں ہم نے ایک نظریہ بیان کیا ہے کہ جس میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اس کے ماننے والے معتقد ہیں کہ عشق دو طرح کا ہوتا ہے ایک جسمانی عشق اور دوسرا روحانی عشق۔ یعنی بعض عشق روحانی ہوتے ہیں ہر ایک نہیں یہاں اشتباہ (غلط فہمی) نہ ہو کہ ان کے نظریے کے مطابق انسانوں کے بعض عشق روحانی ہوتے ہیں۔ اب یہ کہ انہیں کس طرح سے ذات باری تعالیٰ سے حقیقی عشق قرار دیا جا سکتا ہے؟ سوال کی بنیاد اس بات پر ہے کہ وہ دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عشق روحانی میں معشوق حقیقی یہ شخص نہیں ہوتا بلکہ یہ شخص تو ایک محرک کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک مظہر کے مانند ہے اگرچہ عاشق سمجھے کہ اس کا معشوق حقیقی یہ نہیں ہے۔ بنیادی طور پر عرفاء عشق مجازی کے قائل ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ہر طرح کے عشق کو حقیقی ہی سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جمال حق کے علاوہ کوئی جمال ہی نہیں ہے اور ہر دوسرا سوال جمال اس کے جمال کا پرتو یا آئینہ ہے۔ ہر جمال جس حد تک بھی جمال ہے اتنا ہی ہے جتنا کہ اس کے پرتو کا حامل ہے اور انسان کی فطرت کہ جو کمال و جمال کی جستجو میں ہے کمال محدود اور جمال محدود کی طلبگار نہیں ہے کمال مطلق اور جمال مطلق کی متمنی ہے یعنی انسانی فطرت کی طلب تو وہ ہے لیکن مصداق میں اشتباہ کی وجہ سے وہ اس محدود جمال کے پیچھے چل پڑا ہے۔ یہ محدود جمالات جس قدر ”اس“ کا مظہر ہیں اسی قدر معشوق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انسان جب اس تک پہنچتا ہے تو اس سے بیزار ہو جاتا ہے اور کسی دوسرے محبوب کی تلاش میں نکل پڑتا ہے وہ اپنے لاشعور میں یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ وہ نہیں ہے کہ جس کی میں تلاش میں ہوں۔ انسان کے لئے ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ انسان ان چیزوں کا اس قدر طالب کیوں ہے کہ جو اس کے پاس نہیں ہیں؟ پھر جب وہ انہیں پا لیتا ہے تو وہ گرمی (ولولہ جذبہ) اور طلب ختم (کیوں) ہو جاتی ہے دوسرے لفظوں میں اس میں ایک بے دلی (ناامیدی اکتاہٹ) کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بہرحال یہ ایک مسئلہ ہے کہ انسان ان چیزوں کا اس قدر خواہش مند کیوں ہے اور ان کی آرزو کیوں کرتا ہے کہ جو اس کے پاس نہیں ہیں؟ اور جب انہیں پا لیتا ہے تو تدریجاً ان کی طرف میلان (رجحان) گھٹنے (کیوں) لگتا ہے۔ بالفاظ دیگر کہتے ہیں کہ انسان تنوع پسند ہے ایسا کیوں ہے؟ قاعدہ تو یہ کہتا ہے کہ جو چیز تقاضائے طبیعت ہے اور انسان اسے چاہتا ہے چونکہ اسے چاہتا ہے لہٰذا اسے پا کر اسے اطمینان حاصل کرنا چاہئے تو پھر بعد میں اسے کیوں چھوڑ دینا چاہتا ہے؟ اور تنوع پسند ہے پھر چاہتا ہے کہ کسی دوسری چیز تک جا پہنچے۔ اس معشوق کو چھوڑے اور دوسرے معشوق کی راہ لے پھر اسے بھی چھوڑے اور کسی اور کی طرف چل پڑے یہاں تک کہ یہ بات ضرب المثل بن گئی کہ انسان ہمیشہ اس چیز کی طلب میں رہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہے اور یہ بات درست بھی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس چیز کا طالب ہے کہ جو اس کے پاس نہیں اور اس سے بیزار ہے جو اس کے پاس ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ بعض کا خیال ہے کہ یہ انسان کی ذات اور فطرت کا لازمہ ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیوں انسان کی ذات اور فطرت کا لازمہ ہے؟ سرگرداں رہنا تو انسان کی ذات کا لازمہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سرگرداں رہنا ہمیشہ انسان کی ذات کا لازمہ ہے اور یہ کہ وہ دائماً اپنا مطلوب تبدیل کرتا رہے۔ اس کا صحیح تجزیہ وہی بات ہے کہ جو عرفاء نے کہی ہے کہ انسان اگر اس تک پہنچ جائے کہ جو اس کا مطلوب حقیقی ہے تو پھر آرام پا لیتا ہے۔ انسان درحقیقت اپنی ذات کے اندر سرگرداں نہیں ہے یہ سب سرگردانی اس امر سے پیدا ہوتی ہے کہ انسان اس حقیقت کو مبہم (لاشعوری) طور پر چاہتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو پا لیتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ یہ وہی ہے لیکن جب ایک عرصہ قریب ہو کر اسے دیکھتا ہے تو اس کی طبیعت اور فطرت اسے مسترد کر دیتی ہے اور پھر کسی دوسری چیز کی جستجو میں لگ جاتا ہے یونہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اگر اپنے مطلوب حقیقی تک جا پہنچے تو وہ حقیقی سعادت اور حقیقی آرام تک جا پہنچے گا اور حقیقی سعادت لازمی طور پر ہر چیز سے بالاتر آرام اوراطمینان کے معنی میں ہے۔ یہی ہے کہ جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
الذین امنوا و تطمئن قلوبھم بذکر اللہ
”جو لوگ ایمان لائے اور وہ کہ جن کے دل ذکر الٰہی سے قرار پاتے ہیں۔“
پھر فرماتا ہے:
الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
”توجہ رہے کہ ذکر الٰہی ہی سے دل قرار پاتے ہیں۔“
”الا“ حرف تنبیہ ہے تاکید اور تنبیہ کے معنی میں آتا ہے یعنی توجہ کریں خبردار ”بذکراللّٰہ“ جار و مجرور ہے اور ”تطمئن القلوب“ سے متعلق ہے اور اس پر مقدم کیا گیا ہے اور جب جار و مجرور فعل سے مقدم ہو جائے تو یہ حصر کی علامت ہے یعنی جب بھی… مطلب یہ ہے کہ صرف کا مفہوم دیتا ہے۔ ”الا بذکر اللہ تطمئن القلوب“ یعنی صرف یاد خدا سے دلوں کو آرام ملتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ کسی بھی اور مطلوب کو پا لینے سے انسان کو حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہوتا ایک وقتی سا اطمینان ہوتا ہے۔ یہ بھی اس وقت تک کہ جب تک وہ سمجھتا ہے کہ اسے مطلوب حقیقی مل گیا ہے لیکن جب کچھ عرصہ اس کی فطرت اسے قریب سے دیکھتی ہے اور اسے پہچان لیتی ہے اور صحیح طور پر اس امر کا ادراک کر لیتی ہے کہ اس کے اور اس کے درمیان ایک طرح کی عدم ہم آہنگی موجود ہے تو پھر اس کے اندر اس کے لئے ایک طرح کی بیزاری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ہی حقیقت ہے کہ انسان اگر اسے پا لے تو پھر محال ہے کہ اس سے بیزاری پیدا ہو اور وہ خداوند تعالیٰ ہے اور یہ اطمینان تبھی پیدا ہو سکتا ہے کہ جب انسان کا دل ”حقیقت“ تک ”اس“ تک اور ”توحید“ تک پہنچ جائے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بہشت کو عالم ہستی کی بدترین جگہ قرار دینا چاہئے کیونکہ بہشت میں ایک طرح کی یکسانیت ہے اور پھر ہر چیز تو بہشت میں انسان کو میسر ہے اور جب ہر چیز میسر ہو تو یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کچھ بھی میسر نہ ہو۔ جب انسان کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو وہ اس کے لئے کوشش کرتا ہے اور جب پا لیتا ہے تو اسے اس سے لذت حاصل ہوتی ہے اور اگر پہلے سے ہی اسے میسر ہو تو یہ امیروں کے بچے کی طرح ہے کہ دنیا میں آنکھ کھولتے ہی جس کے لئے خوشی کے سارے سامان فراہم ہوتے ہیں کوئی چیز اس کے لئے نئی نہیں ہوتی لہٰذا اس کے لئے لغت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ کسی غریب کا بیٹا کہ جو ننگے پاؤں گلی میں چلتا ہو اسے اگر ایک جوڑا جوتوں کا میسر آ جائے تو اس کے لئے اس میں بڑی لذت ہے لیکن جس کے لئے پا برہنہ ہونے کا کوئی مفہوم ہی نہ ہو اور جس نے اس درد کو محسوس ہی نہ کیا ہو وہ جوتے ہونے کی لذت کو ہرگز محسوس نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ روسو اپنی کتاب ”امیل“ میں کہتا ہے کہ جن کے بچے عیش و عشرت میں پل کر بڑے ہوتے ہیں ان کے لئے لذت کا احساس کوئی معنی نہیں رکھتا (یعنی لذت آور چیزوں سے وہ کوئی لذت حاصل نہیں کرتے) جبکہ تکلیف دہ چیزوں کے بارے میں وہ بڑے حساس ہوتے ہیں اور چھوٹی سی تکلیف پر بھی تلملا اٹھتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس وہ بچے جو مصیبتوں اور سختیوں میں پل کر بڑے ہوتے ہیں انہیں درد اور تکلیف کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں یعنی سختیوں کو برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہے بلکہ سختی کا بالکل احساس نہیں کرتے اور کوئی چھوٹی سی خوشی مل جائے تو اس سے بہت زیادہ لذت اٹھاتے ہیں۔ یہ حضرات کہتے ہیں لہٰذا بہشت کو قاعدتاً عالم ہستی کی ہر جگہ سے بڑھ کر تھکا دینے والی اور بے لذت ہونا چاہئے کیونکہ وہاں پر ہر طرح کی لذت و آسائش فراہم ہے اس جگہ کو تو ایک جیل بلکہ سب جیلوں سے بدتر ہونا چاہئے۔ قرآن ایک جگہ پر گویا اسی نکتے کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے:
لا یبغون عنہا حولا(کہف ۲۰۸) ”اہل بہشت وہاں پر تحول اور تبدیلی کی خواہش نہیں کریں گے۔“
یعنی بہشت میں ان کے لئے تھکاوٹ اور اکتاہٹ نہیں ہے (اس سلسلے میں اور بھی آیات ہیں) ہاں! ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ بہشت اگر ایک باغ کے مانند ہوتی زیادہ سے زیادہ ایک باغ جاوداں ہوتی یعنی اس کی تمام چیزیں دنیا کی مانند ہوتیں اور انسان بھی اپنی بشریت کے اعتبار سے دنیا والی کیفیت ہی کا حامل ہوتا تو معاملہ بالکل اسی طرح کا ہوتا یعنی اگر دنیا میں بہشت کو اسی دنیا کے افراد کے لئے بنایا جائے اور فرض کریں کہ وہ جاوداں (امر ہونا) بھی ہو جائے تو یہی اشکال (اعتراض غلط فہمی وجود میں آتی ہے) اس پر بھی وارد ہوتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اہل جنت کے لئے بہشت نعمات الٰہی میں سے ایک انعام ہے یہاں تک کہ بہشت جسمانی اور لذات جسمانی بھی ان کے لئے خدا کی طرف سے ایک لطف و عنایت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب تک کوئی انسان عرفان و معرفت کی ایک خاص حد تک نہ پہنچ جائے بہشت اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اہل جنت کے لئے لذتوں کی اساس یہی ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کا مہمان ہے اور اسی کے خوان نعمت پر بیٹھا ہے یعنی وہ ایک ایسی حقیقت سے وابستہ ہو جاتا ہے کہ اس سے وابستہ و پیوستہ ہونے کے بعد پھر اکتاہٹ تبدیلی تغیر تنوع اور اس کے کوچے سے کسی اور جگہ کی طرف رخ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ دوسرے الفاظ میں خدا کے علاوہ کوئی چیز بھی اللہ کے کرم اس کے لطف اس کی عنایت اور اس کے خوان نعمت کو چھوڑ کر کچھ بھی انسان کے لئے مطلوبِ جاوداں (ہمیشہ باقی رہنے والا امر ہونا) نہیں ہو سکتا فقط اللہ ہی ہے جو انسان کا مطلوبِ جاوید ہے۔ بہشت میں انسان کے لئے اکتاہٹ اور دل بھر جانے تنوع طلبی یا وہاں سے کسی اور جگہ جانے کی خواہش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہاں سے کہیں اور کا کوئی معنی ہی نہیں ہے۔ ”دوسری جگہ“ کا تصور تو ان محدود امور میں پیدا ہوتا ہے جبکہ بہشت میں ”دوسری جگہ“ کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ بات کہاں سے کہاں آ نکلی بات روحانی عشق کے بارے میں ہو رہی تھی کہ ہم اس طرف کھنچتے چلے آئے۔
 

صرف علی

محفلین
عشق عرفاء کی نظر میں
مجھے اس جہت سے بات کرنا ہے کہ عرفاء کا ادعا ہے کہ ہر عشق عشق حقیقی ہے۱۱۱#
عشق حقیقی است مجازی مگیر
این دم شیر است بہ بازی مگیر
عرفاء فلاسفہ کے اس نظریے کو نہیں مانتے کہ عشق دو قسم کا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مجازی معشوق بھی اسی کا پرتو ہوتا ہے عاشق اسی لئے اس پر فریفتہ ہوتا ہے چاہے اسے اس راز کی خبر نہ ہو۔ ان کے نظریے کے مطابق اصلاً محال ہے کہ انسان غیر خدا سے محبت کرے۔ محی الدین کہتے ہیں:
ما احب احد غیر خالقہ
”کبھی کسی نے اپنے خالق کے علاوہ کسی اور سے محبت نہیں کی۔“
(محی الدین ابن عربی کی ایسی ہی باتوں کی بناء پر بعض فقہاء نے انہیں برا بھلا کہا ہے) وہ مزید کہتے ہیں:
لکن احتجب عنہ تفالی تحت زینب و سعاد و ہندو…(شرح صحیفہ سجادیہ از سید علی خان)
”لیکن اس کا خالق ان مجازی معشوقوں کے ناموں کے پردے میں ہوتا ہے (جبکہ معشوق حقیقی خود وہی ہے)۔“
اس سلسلے میں مولانا روم کے بہت سے اشعار ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
جرعہ ای بر ریختی زان خفیہ جام
بر زمین خاک من کاس الکرام
اس میں بطور تمثیل کہا گیا ہے کہ جام عشق الٰہی کا صرف ایک گھونٹ زمین پر گرا ہے اور انسان اگر کسی موجود خاکی سے محبت کرتا ہے تو یہ اسی گھونٹ کے لحاظ سے ہی ہے کہ جو خاک میں آ ملا ہے۔
گشت بر زلف و رخ جرعہ نشان
خاک راشاھان ھمی لیسند از آن
خاک: کہنا یہ چاہتا ہے کہ اس انسان کا بدن خاک کے سوا کچھ نہیں۔
شاھان: شاہان سے شاعر کی مراد ”فی حد اعلی“ اور وہ لوگ ہیں کہ جن کا ناز زیادہ ہوتاہے۔
یہ عارف کہتا ہے کہ اگر سب خاک کو اس طرح آغوش میں لیتے ہیں اور اسے اس طرح سے پیار کرتے ہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ اس گھونٹ میں سے کچھ اس میں موجود ہے۔
پھر کہتا ہے۱۱
جرعہ خاک آمیز چون مجنوں کند
مر شمارا صاف او تا چون کند
کہتا ہے کہ اس معشوق مجازی میں اس گھونٹ میں سے ایک قطرہ مل گیا ہے اس نے تمہارا یہ حال کر دیا ہے لیکن اگر تمہیں وہ خالص شراب میسر آ جائے یعنی تم اگر اس حقیقت تک جا پہنچو تو پھر کیا ہو گا؟
لہٰذا اس میں کوئی تضاد نہیں کہ انسان کا بظاہر اس کے اپنے اپنے خیال میں معشوق ایک انسان ہو لیکن درحقیقت معشوق حقیقی وہ انسان نہ ہو بلکہ وہ ظاہر ہو کہ جس نے اس مظہر کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہو۔
کیا انسانی اقدار متغیر ہیں؟ (Human Values)
تیسرا سوال کہ شاید جس کے بارے میں زیادہ بحث کی ضرورت ہے یہ ہے:
ایک مارکسسٹ جب انسانی اقدار کا دفاع کرتا ہے اور مادیت (Materialism) پر بھی یقین رکھتا ہے وہ ان دونوں کے درمیان عدم تناقض کی توجیہہ کرتے ہوئے کہہ سکتا ہے کہ ہم انسان کو ایک موجود ثابت (Non-Contradiction) نہیں مانتے (اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ انسانی اقدار بھی ثابت اور مستقل نہیں ہیں) اور ہم اجتماعی نظام کے ساتھ ساتھ اسے کمال پذیر سمجھتے ہیں لہٰذا ہر زمانے میں اخلاقی اقدار اس زمانے یا اس دور سے مختص ہوتی ہیں۔ اخلاقی جاگیرداری (Feudral Values) اخلاق اشتراکی سے مختلف ہے لیکن پرولتاری طبقہ (مزدور طبقہ "Proletariat") کسی مشخص (واضح) و معین تاریخی مرحلے پر چند اشتراکی اخلاقی اقدار کی حمایتکر سکتا ہے لہٰذا کوئی تناقض (Contradiction) موجود نہیں ہے اور متغیر اخلاقی اقدار کو قبول کرنے سے ضروری نہیں ہو جاتا ہے کہ فطریات اور غیر مادہ کے وجود کو قبول کیا جائے۔
یاد رہے کہ ہم قبل ازیں اس امر کی وضاحت کر چکے ہیں کہ فلسفہ مادیت (Materialistic Philosophy) اور انسانی اقدار کے درمیان ایک طرح کا تناقض و تضاد موجود ہے۔ یہ ایک اچھا سوال ہے اس کا ہم جائزہ لیتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہی گئی ہے کہ انسان ایک متغیر موجود ہے لہٰذا انسانی اقدار بھی متغیر ہیں۔ دوسرے لفظوں میں چونکہ انسان ثابت نہیں ہے لہٰذا لازمی طور پر انسانی اقدار بھی ثابت نہیں ہیں۔ دوسری بات اس سے یہ نکلتی ہے کہ جب انسان اور انسانی اقدار ثابت نہیں ہیں اور متغیر ہیں تو پھر کمال پذیر ہیں۔ اس پر ہم یہ سوال کر سکتے ہیں کہ اس کمال کا معیار کیا ہے؟ اس بارے میں الگ بحث کی جانی چاہئے۔ اس کے بعد کہتے ہیں:
”لہٰذا ہر زمانے میں اخلاقی اقدار اس زمانے یا اس دور سے مختص ہوتی ہیں اخلاق جاگیرداری اخلاق اشتراکی سے مختلف ہے…“
یہاں دو حوالے سے بات کی گئی ہے اور شاید خلط ملط ہو گئی ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ انسانی اقدار ثابت نہیں ہیں اور متغیر ہیں۔ یہ بات نسبیت اخلاق سے متعلق ہے یعنی انسانی اقدار میں سے جو اخلاق سے مربوط ہیں وہ متغیر ہیں یہ مسئلہ اخلاق کے متغیر اور نسبی ہونے سے متعلق ہے۔ کیا یہ بات درست ہے کہ انسانی اقدار بشمول اخلاقی اقدار واقعاً متغیر ہیں؟ یہ چند اقدار کہ جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کیا واقعاً متغیر و متحول ہیں؟ مثلاً ہم نے بیان کیا ہے کہ حقیقت جوئی (حقیقت کی تلاش) انسان کے لئے ایک قدر (Value) ہے کیا یہ قدر متغیر ہے؟ مثلاً پہلے اشتراکی (سوشلسٹ) دور میں پھر کھیتی باڑی کے زمانے میں پھر غلامی کے زمانے میں پھر جاگیرداری کے دور میں پھر سرمایہ داری کے زمانے میں اور پھر کمیونسٹ زمانے میں انسان کے لئے کیا یہ قدر تبدیل ہوتی رہی ہے یا یہ انسان کے لئے ایک ثابت اور غیر متغیر قدر رہی ہے؟ ثانیاً اگر یہ اقدار متغیر ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قدر (Value) اپنے زمانے میں ہی صحیح ہے اور دوسرے زمانے میں ناپسندیدہ ہے مثلاً جاگیردارانہ اخلاق کو ہی لے لیں کیا ہم محض اسے جاگیردارانہ دور میں ہونے کی وجہ سے جاگیردارانہ اخلاق کہہ سکتے ہیں اور اس کی تائید کر سکتے ہیں اور اسے صحیح سمجھ سکتے ہیں؟ یعنی ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ وہ اس دور میں کس چیز کو اخلاق سمجھتے تھے؟ اسی کی تائید کرنی چاہئے۔ اگرچہ وہ اس طرح کے افسانے کو ہی اخلاق سمجھتے تھے کہ مثلاً ضحاک ہر روز ایک جوان کو قتل کیا کرے تاکہ اپنے کندھوں پر بیٹھے سانپوں کو ان کا مغز کھلا سکے یا یہ بات نہیں بلکہ ایک طرح کے مستقل اصول کارفرما ہیں؟ فرعون کا کام اس کے زمانے میں بھی ناپسندیدہ ہے نہ یہ کہ فرعون کا کام چونکہ فرعون کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اس کے اپنے زمانے میں صحیح ہے اور ہم چونکہ دوسرے زمانے میں ہیں لہٰذا ہمیں اپنی اقدار کو فرعون و موسیٰ۱۱کے زمانے پر لاگو نہیں کرنا چاہئے۔ فرعون کا تعلق چونکہ ایک دوسرے زمانے سے تھا اور اس زمانے میں جسے اخلاق سمجھتے تھے وہ ایک صحیح اخلاق تھا کیا ہم ایسی بات کہہ سکتے ہیں؟ ثالثاً اس بیان میں طبقاتی اخلاق کا سہارا لیا گیا ہے قاعدتاً ہونا بھی یونہی چاہئے یعنی مارکسزم ایسے انسانی اخلاق کا قائل نہیں ہو سکتا جو سب انسانوں کے لئے اخلاق قرار پائے۔ اس بیان کے مطابق ہمارے زمانے میں جبکہ ان سارے نظاموں کا نمونہ موجود ہے جاگیرداری سرمایہ داری اور کمیونزم ہر ایک کا نمونہ موجود ہے تو ہمیں کہنا چاہئے کہ ایک کمیونسٹ کے لئے اخلاق واقعاً ایک اور چیز ہے اور سرمایہ دار کے لئے اخلاق کوئی دوسری چیز ہے۔ ایک سرمایہ دار ایک کمیونسٹ سے کہہ سکتا ہے اور اسی طرح سے ایک کمیونسٹ ایک سرمایہ دار سے کہہ سکتا ہے کہ تم اپنا اخلاق مجھ پر نہیں ٹھونس سکتے کیونکہ تمہارے حالات اور تقاضے جدا ہیں اور ہمارے حالات اور تقاضے جدا۔ اگر میں تمہارے حالات میں ہوتا تو تمہارا اخلاق قبول کر لیتا اور اگر تم میرے حالات میں ہوتے تو میرا اخلاق قبول کر لیتے لہٰذا نہ میں تمہیں کچھ کہہ سکتا ہوں نہ تم مجھے کچھ کہہ سکتے ہو نہ ایک کمیونسٹ ایک سرمایہ دار کو اخلاقی حوالے سے برا کہہ سکتا ہے اور نہ کوئی سرمایہ دار کسی کمیونسٹ کو اخلاقی حوالے سے غلط کہہ سکتا ہے کیونکہ اس نظریے کے اعتبار سے کوئی ایسا مشترک انسانی اور فطری اخلاق نہیں ہے کہ جس کی بناء پر ایک کمیونسٹ کسی سرمایہ دار کو برا کہہ سکے اور نہ کوئی سرمایہ دار کسی کمیونسٹ کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے ایسی کوئی مشترک چیز موجود نہیں لہٰذا ہر کوئی دوسرے کو جواب میں کہہ سکتا ہے کہ میرا اخلاق مجھ سے متعلق ہے اور تمہارا اخلاق تم سے نہ تم میرا اخلاق اپنا سکتے ہو اور نہ میں تمہارا۔ اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ اخلاق صرف زمانوں سے وابستہ نہیں ہے بلکہ طبقاتی خصوصیات سے بھی وابستہ ہے مثلاً دنیا کے ان سارے علاقوں میں کہ جہاں آج بھی جاگیرداری نظام کارفرما ہے ان کے لئے صحیح اخلاق وہی جاگیردارانہ اخلاق ہے۔ ہمارا نظریہ یہ ہے کہ انسان انسان کے اعتبار سے ایسے اخلاقیات کا حامل ہے کہ جو ابتدائی زمانے کے انسان کے لئے بھی اسی طرح سے صادق ہیں کہ جس طرح سے صنعتی تمدن کے اس دور کیلئے۔
ڈاکٹر ہشترودی کا نظریہ اور اس کا تجزیہ
اتفاق کی بات ہے کہ دو تین روز پہلے میں نے اخبار میں ایک دلچسپ بات پڑھی اور سوچ رہا تھا کہ کسی وقت آپ کو بھی سناؤں آج چونکہ ہماری بحث بھی انہی امور سے متعلق ہے لہٰذا اب آپ کو سناتا ہوں۔ ۸ جون (۱۹۷۶ء) کے روزنامہ ”کیہان“ نے پروفیسر ہشترودی کا ایک انٹرویو شائع کیا تھا جس کی سرخی یہ تھی ”زمینی انسان ایک کائناتی مخلوق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے“ وہ کبھی کبھی عجیب و غریب باتیں کرتا ہے۔ اسی ضمن میں اپنے بعض نظریات کی وہ ہمیشہ تکرار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اہرام مصر کو زمین پر بسنے والے انسانوں نے تعمیر نہیں کیا بلکہ انہیں دوسرے سیاروں کے ترقی یافتہ انسانوں نے ہماری زمین پر آ کر بنایا ہے اور اس وقت زمین پر بسنے والے لوگوں کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ انہیں تعمیر کر پاتے وہ اسی طرح کی دوسری باتیں بھی کرتا ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنا ایک ”فلسفہ اخلاق“ بھی بنایا ہے یعنی اس نے بھی اپنی طرف سے ایک طرح کا ہیومن ازم (Humanism) گھڑا ہے۔ ڈاکٹر ہشترودی نے اپنے اس انٹرویو کی ابتداء میں ایک مقدمہ ذکر کیا ہے کہ جس میں وہ آج کے علم و تمدن کو ناپسند قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ علم و تمدن چونکہ انسان کے لئے ضرر کا موجب بنتے ہیں اس لئے ناپسندیدہ ہیں۔ اس کے بیان کے بعض حصے آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔ وہ کہتا ہے:
”کوئی امر بھی مطلق(مکمل حتمی یقینی) نہیں ہے بلکہ تمام امور نسبی ہیں شاید آپ کو یہ کہا گیا ہو کہ ریاضی کے احکام مطلق ہیں میں کہتا ہوں کہ وہ بھی مطلق نہیں ہیں۔“
”کیہان“ کا نامہ نگار کہتا ہے:
”ایران کا سینئر ریاضی دان پروفیسر ہشترودی اپنی اس منطق کی بناء پر کہ کوئی امر مطلق نہیں ہے رنجشوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے اور مختلف قوموں اور قبیلوں کو محبتوں کے پرچم تلے جمع ہونے کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمام لوگ ایک دوسرے کو بہن بھائی سمجھیں۔“
اس جگہ میں نے ایک نوٹ لکھا ہے کہ اس کا یہ کہنا کہ ”کوئی بھی امر مطلق نہیں ہے“، کیا خود یہ امر مطلق ہے یا غیر مطلق؟ ایک بار ہم کہتے ہیں کہ اس امر کے علاوہ کہ ”کوئی امر مطلق (مکمل حتمی یقینی) نہیں ہے“، باقی تمام امور مطلق نہیں ہیں (یعنی صرف اس امر کو مستثنیٰ کرتے ہیں لیکن جب یہ امر مطلق ہے تو اس صورت میں استثناء کیوں ہے؟ اگر قرار یہ ہے کہ کوئی امر اور کوئی مسئلہ بھی مطلق نہ ہو تو کوئی دلیل نہیں کہ ہم اس کا استثناء کریں۔ منطقی حضرات کہتے ہیں کہ منطق کے بعض مسئلے ایسے ہیں کہ بطور عموم ان کا صادق ہونا محال ہے۔ لازمی طور پر ان میں استثناء ہوتا ہے مثلاً کوئی کہتا ہے ”میری تمام باتیں جھوٹ ہیں“۔ یہ صحیح نہیں ہو سکتا کہ اس مسئلے کے سارے مصادیق سچے ہوں کیونکہ اگر میری تمام باتیں جھوٹ ہوں تو خود میرا یہ کہنا بھی جھوٹ ہو گا اور اگر میرا یہ جملہ بھی جھوٹ ہو تو میری ساری باتوں کو جھوٹ نہیں ہونا چاہئے ورنہ یہ جھوٹ نہیں ہو گا۔ بہرحال من جملہ ان باتوں کے کہ جن کا صادق ہونا محال ہے ایک یہی ہے کہ کوئی امر بھی مطلق نہیں ہے اگر یہ صادق ہو تو یہ جملہ بھی اس میں شامل ہوتا ہے اور اگر ایسا ہو تو خود یہ مطلق نہیں رہتا پس جب یہ مطلق نہ رہا تو ہمارے پاس ایسے امور ہونے چاہئیں جو مطلق ہوں۔ یہ ہوئی ایک بات دوسری بات یہ کہ نامہ نگار کہتا ہے کہ وہ لوگوں کو محبتوں کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ تمام لوگ ایک دوسرے کو بھائی بہن سمجھیں۔ ان صاحب سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا یہ اخلاقی دستورالعمل کہ ”لوگ ایک دوسرے کو بھائی بہن سمجھیں“، امر مطلق ہے یا حکم نسبی؟ اور کیا کسی خاص زمانے سے مربوط ہے یا تمام زمانوں کے لئے ہے؟ یعنی کیا یہ دستورالعمل ماضی حال اور مستقبل تمام زمانوں کے لئے بہتر ہے؟ اسی طرح یہ ہر جگہ اور ہر قسم کے حالات میں تمام لوگوں کے لئے صدق کرتا ہے یا فقط بعض لوگوں کیلئے؟ نامہ نگار کہتا ہے تہران یونیورسٹی کے یہ پروفیسر کہ جو ٹیکنالوجی اور علم کی ترقی کے ظلم و انسانیت کشی میں استعمال سے بہت رنجیدہ خاطر ہیں کہتے ہیں:
”قرونِ وسطیٰ کے غیر متبدل امور و احکام ہماری صدی میں ختم ہو چکے ہیں اور نہ فقط یہ کہ معتبر نہیں رہے بلکہ ان کی جگہ ایسے امور نے لے لی ہے کہ جو ہرگز مطلق نہیں ہیں۔ سقراط کی حکمت عالیہ اور کانٹ کے بلند فلسفہ اخلاق کو اس کے اس قدر رعب و دبدبے کے باوجود آج ریا جھوٹ حس اثبات نفس خود غرضی اور حب ذات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آئن سٹائن نے سائنسی نظریات کے زمان و مکان کے اعتبار سے مطلق ہونے کو غلط ثابت کر دیا ہے تو دوسری طرف فرائڈ کے نظریہ جنس نے اس فلسفہ اخلاق کی بنیادوں کو اکھاڑ کر رکھ دیا ہے کہ جسے ایک مطلق نعمت الٰہی قرار دیا جاتا ہے لہٰذا جب سارے احکام و امور نسبی ہیں تو پھر اس بنیاد پر کہ فلاں میرے نظریے کو نہیں مانتا ہمیں برادر کشی شروع کر دینی چاہئے۔ جو بات ہم قبول کرتے ہیں وہ ہمارے لئے مطلق (مکمل حتمی) ہے ہو سکتا ہے وہ دوسرے کے لئے مطلق نہ ہو۔ جب ریاضی کے احکام مطلق نہیں ہیں اور ہر چیز نسبی ہے تو پھر بعض لوگ کس طرح سے کسی امر کو مطلق قرار دے کر ٹیکنالوجی کو برادر کشی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں؟“
وہ کہتا ہے کہ یہ جنگیں قرون وسطیٰ کے مطلق احکام کی باقیات میں سے ہیں یعنی قرونِ وسطیٰ کے لوگ اپنے امور کو مطلق سمجھتے تھے۔ اس سے اس کی مراد یہ ہے کہ مثلاً فلاں دین کے پیروکار اپنے آپ کو حق سمجھتے تھے اور وہ بھی حق مطلق اور اپنے مخالفین کو باطل مطلق جانتے تھے۔ اسی طرح مخالفین بھی مدمقابل کو یونہی سمجھتے تھے اور یہی امر انسانیت کشی کا موجب بنتا تھا۔ ہمیں بس اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ کوئی چیز بھی مطلق نہیں ہے اگر میں کہتا ہوں کہ میں حق پر ہوں اگر یہ درست بھی ہو تو بھی بطو ر مطلق درست نہیں اور اگر دوسرے کو باطل کہتا ہوں اور واقعاً وہ باطل پر ہو تو بھی بطور مطلق باطل پر نہیں۔ میں حق نسبی پر ہوں اور باطل نسبی پر اسی طرح وہ بھی حق نسبی پر ہے اور باطل نسبی پر پس آئیں اور آپس میں بھائی بن کر رہیں۔ یہ ہے اس کے نظریے کی بنیاد اس کے بعد وہ اخلاقی امور کو ریاضی کے مسائل سے خلط ملط کرتا ہے اور کہتا ہے کہ سقراط کا فلسفہ اخلاق جسے آج کل ایک طرح کی خود پسندی سے تعبیر کیا جاتا ہے درحقیقت جھوٹ اور ریا پر مبنی ہے۔ ان صاحب سے یہ کہنا چاہئے کہ آپ نے اپنے بیان میں ریا جھوٹ اثبات نفس اور خود پسندی کو ناپسند قرار دیا ہے البتہ یہ کہنا کہ سقراط کا فلسفہ ان چیزوں پر مشتمل ہے ایک بے بنیاد سی بات ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ایک طرح کی خود پسندی ہی ہے جو اخلاق کی صورت میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ ٹھیک ہے فرضاً ہم اسے قبول کرتے ہیں کہ سقراط کا فلسفہ ایک طرح کی خود پسندی خود پرستی اثبات نفس کی حس تظاہر اور ریا وغیرہ پر مشتمل ہے اور اس کے اس فلسفہ اخلاق کو ناپسند قرار دیتے ہیں لیکن نتیجتاً ہم نے یہ قبول کیا ہے کہ بطور مطلق ہم نے ان کی نفی کی ہے اور بطور مطلق مخالف اخلاق قرار دیا ہے۔ کیا ریا بطور مطلق مخالف اخلاق ہے یا بطور نسبی اسی طرح جھوٹ…؟ نسبی اگر یہ بطور نسبی مخالف اخلاق ہیں تو سقراط کا فلسفہ اخلاق بھی حق نسبی ہے اور مطلقاً نفی نہ ہوا۔ آپ تو یہ کہنا چاہتے تھے کہ سقراط کا فلسفہ اخلاق مجموعی طور پر منسوخ اور ختم ہو چکا ہے پس آپ نے بطور مطلق ان کا مخالف اخلاق ہونا قبول کر لیا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان فلسفہ اخلاق کا قائل ہو لیکن اس کے ساتھ اخلاق کو متغیر اور نسبی سمجھتا ہو (ہمارا نظریہ یہی ہے اور بعد میں مزید اس کے بارے میں بحث کریں گے) یعنی کم از کم ایک اصول کے لحاظ سے اخلاق ثبات اور اطلاق کے مساوی ہے۔ ہمارے ہاں ایک اصول اخلاق پایا جاتا ہے اور ایک فروع اخلاق فروع اخلاق اصول اخلاق سے مختلف ہے۔ اخلاقی اصول ثابت و استوار اور مطلق ہیں اور اگر ان سے یہ ثبوت و اطلاق جدا کر دیا جائے تو اخلاق اپنے اخلاقی حلیے (پہلو) سے خارج ہو جاتا ہے۔ ہاں ایک طرح کے آداب و رسوم اور منشور کی طرح ایک قسم کے مدون قواعد و ضوابط کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ مقدس امر نہیں ہے کہ جو واقعاً خیر و فضیلت ہو۔
ہمیں افسوس ہے کہ استاد شہید کی اس تقریر کا باقی حصہ ٹیپ نہیں ہو سکا۔
 

صرف علی

محفلین
باب ششتم
انسانی ”اصالتوں“ کا ارتقاء”انسانی اقدار کا ارتقاء“​
ہم جن چیزوں کو انسانی اصالتوں اور انسانی شرف و کرامت کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ انسانی اصالتوں کے منکر حضرات کی نظر میں یہ محض موہوم سی چیزیں ہیں‘ البتہ ان حضرات میں سے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ بعض موہومات ایسی بھی ہیں کہ انسانی معاشرے کی مصلحتیں اور منافع تقاضا کرتے ہیں کہ ان کو قبول کر لیا جائے ورنہ ان کی اپنی کوئی حقیقت نہیں‘ مثلاً صداقت کی دھوکے اور فریب کاری کے مقابلے میں کوئی اصالت نہیں ہے۔ وہ انسان جو سوچتا ہے کہ سچا ہو یا دھوکے باز‘ اس کے لئے ان دونوں میں کچھ فرق نہیں‘ اگر تمام لوگ دھوکے باز ہو جائیں تو یہ سب کے ضرر میں ہو گا۔ اس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ بہتر اور زیادہ منفعت حاصل کریں اور نقصان کمتر ہو تو ضروری ہے کہ ان موہومات کو قبول کریں‘ لہٰذا فلاسفہ آئے اور انہوں نے لوگوں کو اس بات کی تلقین کی کہ شرف انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سچا ہو نہ کہ دھوکے باز‘ تاکہ لوگوں کے شعور ان موہومات کو قبول کریں۔ منکر گروہ کے نزدیک یہ ایسے موہومات ہیں کہ جو لوگوں کے لئے مفید ہیں‘ لیکن وہ ان کی ترغیب نہیں دیتے‘ بلکہ برعکس ترغیب دیتے ہیں۔ مثلاً نٹشے کا فلسفہ کہ جو کہتا ہے کہ ان موہومات کو ایک خاص گروہ نے اپنے منافع کے لئے گھڑا ہے اور ان کے برعکس عمل کر سکتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ ان کے خلاف ہی عمل کرے۔
نٹشے اور سٹاکسسٹوں کے نظریات کا تقابل
پس دوسرا نظریہ ان تمام چیزوں کو موہوم قرار دیتا ہے‘ چاہے یہ انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوں یا اصلاً مفید ہی نہ ہوں۔ اس ضمن میں نٹشے کا ایک قول ہے کہ جو عیناً مارکسسٹوں کے نظریات کے برعکس ہے۔ مارکسسٹ کہتے ہیں کہ ثروت مند طبقے نے اخلاقی قوانین اور خصوصاً اخلاق کے دینی اور مذہبی اصولوں کو محروم اور غریب طبقے کی تسکین کے لئے تخلیق کیا ہے تاکہ ان کی شورش (فتنہ و فساد ”بلوائی“) اور انقلاب کی روک تھام کر سکیں‘ پس دین کو اسی طبقے نے گھڑا ہے۔ نٹشے بالکل اس کے برعکس کہتا ہے‘ اس کے فلسفے کی بنیاد چونکہ انسانی نسل کے ارتقاء اور ایک طاقتور بڑے انسان (فوق البشر) کے ظہور پر ہے (جبکہ اس کمال و ارتقاء کو وہ صرف طاقت و قدرت میں ہی مضمر سمجھتا ہے)‘ لہٰذا کہتا ہے کہ کمزور طبقہ طبیعی طور پر فنا کے قابل ہے‘ چنانچہ اس نے دین‘ اخلاق اور ایسے دیگر مسائل کو گھڑا ہے تاکہ طاقتور طبقے کا راستہ روک سکے۔ "Nature" ”طبیعت“ کے قانون ارتقاء کی رو سے کمزور بنیادی طور پر ختم ہو جانے کے قابل ہے اور اسے ختم ہی ہو جانا چاہئے۔ ضعف و کمزوری سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں‘ قوی کو باقی رہنا چاہئے تاکہ اس سے ایک قوی تر نسل وجود میں آئے اور قوی انسانوں کو طبیعت اور نیچر میں کمال حاصل کرنا چاہئے‘ نہ کہ کمزور انسانوں کو۔ کمزور لوگوں کا وجود نابود ہو جانے کے قابل ہیں اور انہیں نابود ہی ہو جانا چاہئے‘ کمزور کی تقویت کرنا نہایت غلط کام ہے۔ دین‘ مذہب‘ انصاف‘ عدالت‘ فداکاری‘ ایثار اور قربانی وغیرہ جیسے مفاہیم کمزور لوگوں کی اختراع (ایجاد) ہیں‘ کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ وہ زور کے ذریعے طاقتوروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘ لہٰذا انہوں نے ایسی باتیں گھڑ لی ہیں اور اس طرح سے وہ طاقتوروں کی ترقی میں حائل ہو گئے ہیں۔ اس کی منطق میں دین کمزوروں کا ساختہ و پرداختہ ہے‘ تاکہ وہ طاقتوروں کا راستہ روک سکیں‘ جبکہ حق ہمیشہ طاقتور کے ساتھ ہوتا ہے یعنی ”الحکم لمن غلب“ حق اس کے ساتھ ہے کہ جو اس طبیعی تنازعے میں کامیاب ہے‘ لہٰذا نٹشے تمام دینی‘ مذہبی اور اخلاقی معانی اور مفاہیم کی بالکل نفی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ چیزیں کمال کے راستے میں حائل ہیں‘ بہرحال یہ دوسرا نظریہ ہے۔ البتہ اور نظریات بھی ہیں کہ جو انسانیت کی اصالت کو قبول کرتے ہیں‘ یعنی اسے موہوم نہیں سمجھتے‘ انسانیت کے ایک حقیقت ہونے کے قائل ہیں‘ یہ اور بات ہے کہ وہ اسے فطری بھی نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ دو طرح کے ہیں‘ ایک گروہ انہی لوگوں کا ہے جو چاہتے ہیں کہ ان باتوں کو قبول کر لیں اور ان کے فطری ہونے کا بھی انکار کر دیں۔ پھر وہی پہلے والا سوال دہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کائنات میں کوئی ثابت اور مستقل حقیقت موجود نہیں ہے‘ کوئی چیز بھی ثابت اور مستقل نہیں ہے‘ پس جب کوئی چیز بھی ثابت اور مستقل نہیں ہے تو انسانیت کیسے ثابت و مستقل ہے؟ انسانیت ”یعنی انسانی اصالتیں“ بھی ایک متغیر۔ حقیقت ہے کہ جو زمانے کے حالات اور تقاضوں کے تابع ہے‘ ہر زمانے میں انسانی اور اخلاقی اصالتیں اس زمانے کے حالات اور تقاضوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ ایک زمانے میں ”اخلاقی اقدار واقعاً“ رہی ہوتی ہیں کہ جو مقدس بھی ہیں اور جو انسانیت سے تعبیر کی جاتی ہیں‘ لیکن جب زمانے کے حالات بدل جاتے ہیں تو یہ اقدار اور اصالتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں اور ان کی جگہ نئی چیزیں لے لیتی ہیں کہ اس زمانے میں انسانیت یہی نئی چیزیں ہوتی ہیں‘ پس یہ اصالتیں ثابت اور مستقل نہیں ہیں بلکہ متغیر ہیں۔ اس کے علاوہ جس طرح ہم پہلے عرض کر چکے ہیں‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ اصالتیں مطلق نہیں ہیں‘ بلکہ نسبی (Relative) ہیں۔ یہ فقط زمانے کے اعتبار سے متغیر ہیں‘ بلکہ زمانِ واحد میں بھی مختلف ماحول اور مختلف حالات میں مختلف ہیں‘ مثلاً طبقاتی اختلاف اور فرق کو بھی مختلف اور متعدد بنا دیتا ہے۔ ہر انسان کے لئے اس کے اجتماعی اور سماجی حالات کے مطابق اخلاق ایک چیز ہے اور یہ چیز اس سے مختلف ہے کہ جو مختلف حالات میں دوسرے لوگوں کے لئے اخلاق ہے۔ اس بارے میں ہم پہلے بحث کر چکے ہیں‘ لہٰذا تکرار لازم نہیں ہے‘ صرف ایک چیز کا اضافہ کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:
انسانی اصالتوں کے ارتقاء کا مفہوم
اس مفروضہ کی بنیاد‘ جس طرح ہم پہلے کہہ چکے ہیں‘ یہ ہے کہ اس کائنات میں کوئی چیز بھی ثابت و مستقل نہیں ہے‘ بلکہ تمام چیزیں متغیر ہیں‘ لیکن اس کی بنیاد تغیر پر ہی نہیں بلکہ تغیر اور تکامل پر ہے۔ اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ جب ہم کہتے ہیں کہ انسانی اصالتیں ارتقاء پذیر ہیں تو اس سے ہم کون سے معنی مراد لیں کہ جو مطلق تغیر سے مختلف ہوں؟ ہر تغیر کو تو ہم ارتقاء و تکامل نہیں کہہ سکتے‘ اس لئے کہ تنزل بھی تو تغیر ہی ہے۔ ممکن ہے ایک انسان اپنی انسانیت کے اعتبار سے کامل تر ہو جائے اور اسی طرح ممکن ہے کہ اس کے برعکس ہو جائے کہ جسے ہم اخلاقی خرابی اور پستی کہتے ہیں۔ آیا اخلاقی پستی کا اصلاً کوئی مفہوم ہے بھی یا پھر اس کا کوئی معنی نہیں؟ یقینا معنی و مفہوم تو ہے‘ ممکن نہیں کہ اس کا کوئی معنی و مفہوم نہ ہو۔ اگر کہیں کہ ایک حالت کی جگہ دوسری حالت نے لے لی ہے‘ یہ تکامل و ارتقاء ہے‘ قطعاً ایسا نہیں ہے۔ ارتقاء یعنی کمال ترقی کی طرف قدم بڑھانا یعنی ارتقاء کی طرف بڑھنے والی چیز جب مختلف مراحل کو طے کر رہی ہوتی ہے تو اس میں نہ صرف عدم ثبات ہوتا ہے اور وہ ایک جگہ متوقف (جامد) نہیں ہوتی‘ بلکہ ایک چیز اور بھی اس میں پائی جاتی ہے‘ وہ یہ کہ اس کا یہ تغیر کمال کی طرف ہوتا ہے‘ یعنی ہم اس کے لئے ایک نقطہ ابتداء قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے یہ چیز کمال اور آگے کی طرف بڑھ چلی ہے‘ یعنی بعد والے مرحلے میں کہ جو نقطہ آغاز سے عالی تر مرحلہ ہے‘ یہی زیادہ حجم و مقدار کے ساتھ‘ پس اگر یہ تغیر کمال کی راہ میں انجام پذیر نہ ہو تو یہ حرکت ارتقائی حرکت نہیں ہے۔ اگر ہم چاہیں کہ راہ کمال و ارتقاء کی ہو تو ہمیں چاہئے کہ ایک امر کو سامنے رکھیں اور بعد میں کہیں کہ وہ امر ابتداء سے اس چیز میں پایا جاتا ہے‘ جبکہ ہم اس امر کو کمال قرار دیں اور بعد کے مرحلے میں یہی امر اس چیز میں زیادہ مقدار میں موجود ہو۔ مثلاً سائنس اور صنعت میں تکامل کو ہی لے لیں‘ ایک معاشرہ ایک مرحلے پر سائنس اور ٹیکنالوجی اور اسرار طبیعت (Nature) کے کشف اور اس سے متعلق معلومات کے اعتبار سے ایک خاص مقام پر ہے‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں تغیر کر جاتا ہے۔ یہاں کیا ہم ہر تغیر کو تکامل کہہ سکتے ہیں؟ اگر بعد کے مرحلے میں یہ لوگ پہلے سے زیادہ جاہل اور نادان ہو جائیں‘ فنی اور صنعتی طاقت کے لحاظ سے کمزور پڑ جائیں تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے ارتقائی مرحلہ طے کیا ہے‘ اس لئے کہ پہلے کی نسبت فرق پیدا ہو چکا ہے؟ مثلاً پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کمتر ہے‘ اسی طرح عمومی معلومات کی سطح بھی پہلے کے مقابلے میں کم ہو گئی ہے‘ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ پہلے مرحلے سے تغیر کر چکے ہیں‘ لہٰذا ارتقاء حاصل کر چکے ہیں؟ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ مطلق تغیر کو ارتقاء نہیں کہا جاتا‘ بلکہ ارتقاء اس وقت حاصل ہو گا‘ جب یہی معاشرہ بعد کے مرحلے میں کمیت (مقدار) یا کیفیت یا ہر دو اعتبار سے پہلے کی نسبت بالاتر سطح پر پہنچ جائے‘ مثلاً اگر پہلے ان پڑھ اور جاہل لوگوں کی شرح پچاس فیصد تھی اور اب مقدار کے اعتبار سے یہ ۶۰ فیصد ہو گئی ہے اور اگر پہلے علم و دانش اور معلومات کے اعتبار سے زیادہ سے زیادہ ایم اے کی سطح پر تھے تو اب یہ ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کر چکے ہیں۔ صنعت بھی اسی طرح ہے‘ یعنی جو کچھ ان کے پاس پہلے تھا وہ اب بھی ہے‘ البتہ کچھ اضافے کے ساتھ‘ دوسرے الفاظ میں وہی چیز ان کے پاس بالاتر سطح پر موجود ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ارتقاء میں ایک نقطہ آغاز کمال کو پیش نظر رکھیں اور پھر اسی مبداء نقطہ آغاز کمال سے ایک راستے کو مدنظر قرار دیں کہ کوئی چیز اس راہ پر دوسرے مرحلے میں بالاتر سطح پر موجود ہو تو اسی کو ارتقاء کہتے ہیں۔
انسانی معاشرے کے ارتقاء کی اقسام
۱۔ طبیعت (Nature) کے ساتھ انسانی رابطے میں ارتقاء

انسانی معاشرے کی ترقی اور تکامل کئی طرح سے ہے (فلسفہ تاریخ میں ”ارتقاء“ کے باب میں اس چیز پر بحث کی جاتی ہے)‘ جب ہم کہتے ہیں کہ انسانی معاشرہ راہ ارتقاء طے کر رہا ہے تو ایک وقت ہماری مراد فنی مسائل ہوتے ہیں‘ یعنی انسان طبیعت کے حوالے سے ترقی کے مدارج طے کر رہا ہے۔ انسان طبیعت سے مربوط ہے اور ہمیشہ اس سے معرکہ آرائی کی حالت میں ہے‘ وہ چاہتا ہے کہ طبیعت پر غالب آ جائے اور اس پر مسلط ہو کر اس سے اپنی خدمت لے اور اس میں شک نہیں کہ انسانی معاشرہ طبیعت کے حوالے سے تکامل (ارتقائی) کے مراحل طے کر چکا ہے اور کر رہا ہے۔ اس لحاظ سے اگر ہم گزشتہ ادوار کو مدنظر رکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس چیز کو آج ہم ٹیکنالوجی‘ صنعت‘ ”کائنات میں تصرف“ یا ”طبیعت پر تسلط“ کے نام سے یاد کرتے ہیں‘ روز بروز ترقی کر رہی ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
۲۔ معاشرتی ڈھانچے کے باہمی روابط میں ارتقاء
دوسرا مسئلہ انسانوں کے باہمی روابط کا ارتقاء ہے‘ لیکن مراد مجموعی طور پر معاشرتی ڈھانچے کے باہمی روابط ہیں‘ یعنی معاشرہ انتظامی اعتبار سے ایک زندہ موجود کے مانند ہے کہ جتنا سادہ اور بسیط ہو‘ اس میں شعبوں کی تعداد جس قدر کم ہو‘ وحدت و بساطت کی حالت زیادہ ہو گی۔ جس قدر تکامل کے مراحل طے کرتا ہے‘ اتنا ہی اعضاء‘ اجزا اور شعبوں کے اعتبار سے پیچیدہ ہوتا چلا جاتا ہے‘ جس قدر کام مختلف شعبوں میں زیادہ تقسیم ہوتا ہے‘ اسی قدر اس پیچیدگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بے شک اس لحاظ سے بھی انسانی معاشرہ ترقی کر چکا ہے‘ مثال کے طور پر آج کے اور پچاس سال پہلے کے ایرانی معاشرے کے مختلف پیشوں‘ علمی شعبوں اور مختلف دفاتری عہدوں کو مدنظر رکھیں تو آپ دیکھیں گے کہ پہلے یہ معاشرہ ایک نوزائیدہ حیوان کی مانند کم اعضاء پر مشتمل تھا‘ روز بروز اس کے اعضاء میں اضافہ ہوتا گیا۔ مثلاً کسب معاش کہ جو مبادلات کا ذریعہ ہے اور وسائل زندگی فراہم کرتا ہے‘ کے اعتبار سے کوئی اگر مختلف پیشوں کا شمار کرتا تو پورے تہران میں شاید دس سے زیادہ پیشے نہ تھے‘ یعنی اس وقت معاشرہ اس سے زیادہ پیشوں کا تقاضا نہیں کرتا تھا۔ دیہاتوں میں جاتے تو دیکھتے کہ ایک ہی دُکان بیک وقت سبزی‘ عطر‘ سٹیشنری اور گوشت کی دکان ہے‘ جو کچھ بھی چاہئے وہاں سے ملے گا۔ لیکن جیسے جیسے معاشرہ ترقی کر رہا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ صنعتی ترقی کے باعث ایسے نئے پیشے وجود میں آ رہے ہیں اور ایجاد ہوئے ہیں کہ جو پہلے نہیں تھے‘ مثلاً میوزک سنٹر کہ جن کا پیشہ یہی ہے کہ کیسٹیں ٹیپ کر کے بیچتے ہیں‘ ان کیسٹوں میں بعض مذہبی کیسٹیں بھی ہیں‘ بعض دکانیں تو صرف مذہبی کیسٹ ہی فروخت کرتی ہیں‘ دفتری کام بھی اسی طرح ہیں۔ مختلف وزارتوں کو دیکھیں کہ (ابھی ممکن ہے کسی حد تک بعض امور مصنوعی اور بناوٹی ہوں‘ لیکن زیادہ تر ایسے ہیں کہ وہ واقعاً اجتماعی طور پر ضروری ہیں)‘ ناصرالدین شاہ کے زمانے میں زیادہ سے زیادہ ایک دو وزیر تھے جو تمام امور نمٹاتے تھے۔ آج اگر مختلف وزارتوں کے امور کو واقعاً انجام دینا چاہیں تو صرف ایک کام مثلاً پانی اور بجلی کے محکمے کا کام ناصرالدین شاہ کے زمانے کے تمام امور کے برابر ہے۔ اس لحاظ سے بھی انسانی معاشرہ تکامل (ارتقاء) حاصل کر چکا ہے اور یہ صرف ایران سے مختص نہیں ہے‘ بلکہ پوری دنیا اسی طرح ہے‘ پیشوں کے زیادہ ہونے اور کاموں کی مختلف شعبوں میں تقسیم ہونے‘ مہارت (صنعت و حرفت) کے مختلف شعبوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں یک رنگی (لوگوں کی آپس میں مشابہت) ختم ہو رہی ہے اور یہ چیز عمرانیات (Sociology) کے لحاظ سے بھی کافی اثر رکھتی ہے‘ کیونکہ انسان اپنے کام سے مشابہت رکھتا ہے اور اسی طرح کام انسان سے مشابہت رکھتا ہے‘ نیز کام انسان کی تعمیر میں بھی موثر ہے۔ اس زمانے میں جبکہ کام اور پیشے زیادہ نہ تھے‘ مختلف انسان ایک دوسرے سے آج کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ آج کل کام اتنے پھیل گئے ہیں کہ کاموں کی مختلف انواع میں زمین و آسمان کا فرق ہے‘ مثلاً ایک آدمی کہ جس کی زندگی کوئی کام کرتے ہوئے گزری‘ دوسرے آدمی سے لازمی طور پر انتہائی مختلف ہو گا کہ جس کا سروکار کسی اور کام سے ہے اور حقیقت میں یہ دو مختلف روحیں ہیں اور یہ ایک ایسی مشکل ہے کہ جو خواہ مخواہ وجود میں آئی ہے۔ اس لحاظ سے بھی تکامل (ارتقاء) مفہوم رکھتا ہے‘ یعنی اس ابتدائی دور میں‘ جب ہم کہتے ہیں کہ انسان ایک زندہ موجود کی صورت میں سامنے آیا‘ یہ ایک ایسے تقسیم شدہ اجتماع کی مانند تھا کہ جو تمام کا تمام ایک ہدف اور مقصد کے حصول کے لئے کوشاں تھا۔ اسی جہت سے انسانی معاشرہ زمانے کے ساتھ ساتھ زیادہ ترقی یافتہ ہوتا گیا‘ یعنی جو کچھ پہلے دور میں اس کے پاس تھا وہ بعد والے زمانے میں بھی اس کے پاس ہے‘ البتہ اضافے کے ساتھ‘ یعنی ہر دور میں اس اصل میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہوتا گیا اور بعد والے زمانوں میں یہی چیز ایک بالاتر اور برتر سطح پر پہنچ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ تکامل (ارتقاء) مطلق تغیر کا نام نہیں ہے‘ تکامل کے لئے معیار کا ہونا ضروری ہے‘ یعنی جو کچھ پہلے مرحلے میں اس کے پاس تھا‘ بعد کے مرحلے میں وہی چیز بیشتر‘ کامل تر اور زیادہ ہو‘ دوسرے الفاظ میں ”تکامل“ کے لئے ایک خاص مقدار اور ایک خاص راستہ ان شرائط کے ساتھ ضروری ہے۔
۳۔ انسانیت میں تکامل (ارتقاء)
یہاں اگر ہم انسانی اقدار کے اصول کو فطری اور مستقل مان لیں‘ تبھی تکامل (ارتقاء) کوئی معنی پیدا کرے گا‘ مثلاً جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں‘ انسانی اقدار (جستجوئے حقیقت) میں سے ایک قدر ہے۔ اگر حقیقت کی تلاش و جستجو اور طلب میں پہلا انسان ہی حقیقت جو (متلاشی حقیقت) اور حقیقت خواہ (طالب حقیقت) تھا‘ بعد کے دور میں اس نے طلب حقیقت میں ترقی کی اور پہلے سے زیادہ حقیقت سے وابستہ اور حقیقت طلب ہو گیا ہے تو اس نے تکامل (ارتقاء) حاصل کیا ہے۔ زیبائی سے محبت بھی اسی طرح ہے‘ اگر جمال اورزیبائی خود معیار ہو اور ایک معین مفہوم رکھتی ہو تو اس ضمن میں بھی تکامل (ارتقاء) بامعنی ہو گا۔ پہلا انسان زیبائی کو پسند کرتا تھا اور آج کا انسان بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ پہلا انسان اگر کسی چیز سے محبت کرتا تھا‘ تو آج کا انسان اس سے بڑھ کر اس چیز سے محبت کرتا ہے اور یہی حال ہنر (Art) کا ہے کہ جو تخلیق زیبائی (جمال) ہے‘ یعنی پہلا انسان تخلیق زیبائی (جمال) کرتا تھا‘ جبکہ آج کے انسان نے اسی میں ترقی کی ہے۔ خیر اور اخلاقی فضائل نیز عشق و پرستش بھی اسی طرح ہی ہیں‘ لیکن اگر تکامل (ارتقاء) کو ابتداء سے ہی تغیر محض سمجھ لیں‘ یہاں تک کہ اس کے لئے وحدت راہ ہی کے قائل نہ ہوں‘ یعنی اس کے لئے کسی معیار کے معتقد نہ ہوں‘ مثلاً یہ کہیں کہ پہلے زمانے کا انسان اپنے زمانے میں جستجوئے حقیقت کو اپنے لئے ایک قدر سمجھتا تھا اور انسانیت کا معیار حقیقت جوئی تھا‘ لیکن آج یہ معیار تبدیل ہو گیا ہے اور جستجوئے حقیقت کی جگہ کسی اور چیز نے لے لی ہے‘ اس صورت میں کس طرح آپ اس کا نام ”تکامل“ (ارتقاء) رکھیں گے؟ معیار کا ثابت و مستقل ہونا انسان کے ثابت اور مستقل ہونے سے مختلف ہے۔ ان دو کو آپس میں خلط ملط کر دیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اگر انسانیت کے معیار کو‘ کہ جو مدار اور راہ انسانیت ہی ہے‘ ثابت و مستقل سمجھیں تو یہ یوں ہے کہ جیسے انسان کو ثابت سمجھا جائے اور اس کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے ہم کہیں کہ سورج کے اردگرد زمین کا مدار ایک معین اور ثابت مدار ہے‘ یعنی زمین جب سورج کے گرد گھومتی ہے تو ایک بیضوی شکل کے مدار میں حرکت کرتی ہے اور سورج سے اس کا فاصلہ فلاں مقدار سے کم اور فلاں مقدار سے زیادہ نہیں ہوتا‘ موسم بہار میں اس قدر فاصلہ ہوتا ہے اور خزاں میں اتنا‘ گرمیوں میں اس قدر اور سردیوں میں اتنا۔ کوئی یہ کہے کہ پس آپ تو زمین کو ثابت سمجھتے ہیں‘ نہیں ایسی بات نہیں ہے‘ زمین متحرک ہے‘ لیکن اس کی حرکت ایک ثابت اور مستقل مدار میں ہے۔ زمین کے ثابت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین اس مدار میں کسی ایک جگہ پر ہی قائم ہے۔ البتہ زمین دو طرح سے متحرک ہو سکتی ہے‘ ایک یہ کہ ایک معین مدار میں حرکت کرے‘ چاہے یہ مدار خط مستقیم ہو یا خط منحنی‘ مدار بیضوی شکل کا ہو یا دائرہ کی شکل کا۔ دوسرا یہ کہ ایک اضطرابی حرکت ہو‘ کبھی اس طرف سے پلٹا کھائے‘ کبھی اس طرف اور کبھی اپنی پہلی جگہ پر لوٹ جائے‘ البتہ ایسی مکانی حرکتوں میں ایک خاص علت کی وجہ سے تکامل (ارتقاء) فرض نہیں کیا جا سکتا‘ پس حرکت کے مدار کا ثابت ہونا اور اس کے راستے کا معین و مشخص ہونا‘ اس بات سے جدا اور مختلف ہے کہ کوئی وجود اصلاً متحرک نہ ہو اور ثابت ہو۔ اس کی مثال یوں ہے کہ جیسے اگر ”اپالوون“ (اپالو اول) کا راستہ یہاں سے چاند تک معین کر دیا گیا ہے اور یہ معین شدہ راستہ پہلے کاغذ کے صفحے پر ترمیم (نقش) کیا گیا ہے‘ یہاں تک کہ یہ بھی مشخص ہے کہ مثلاً اڑتالیس گھنٹے اور اتنے منٹ اور اتنے سیکنڈ میں اس خط پر وہ کس جگہ ہو گا اور یہ بھی معلوم ہے کہ چاند پر کہاں اترے گا یا لینڈ (Land) کرے گا؟ تو یہ کہیں کہ پس اپالو تو ثابت ہے۔ نہیں! ایسی بات نہیں ہے‘ اس کا راستہ مشخص ہے اور راستے کا مشخص ہونا خود شے کے ساکن ہونے سے مختلف ہے۔ ساکن ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایک معین فاصلے پر رک جائے‘ نہ زمین کی طرف آئے اور نہ چاند کی طرف جائے۔
فطرت اور انسانیت کے لحاظ سے انسانی معاشرے کا تکامل (ارتقاء) وہ لوگ کہ جو انسان کے متحرک ہونے اور معیار انسانیت کے متزلزل ہونے کو ایک سمجھتے ہیں‘ وہ سخت اشتباہ (فاحش غلطی) کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم انسانی فطرت کے قائل ہوں‘ یعنی انسانیت کے معیار کو ثابت و مستقل سمجھیں کہ جس کی بنیاد فطرت انسانی ہی ہے‘ تبھی انسانیت کوئی معنی و مفہوم پیدا کرتی ہے‘ نا صرف انسانیت بلکہ تکامل (ارتقائے) انسانیت بھی اسی وقت معنی و مفہوم پیدا کرے‘ لہٰذا آج کل علماء اس بارے میں پس و پیش ہیں اور ”فلسفہ تاریخ“ میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا انسان اس چیز میں کہ جسے ”انسانیت“ اور ”معنویت“ (روحانیت) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے‘ تکامل (ارتقاء) حاصل کر چکا ہے یا نہیں؟ ”ویل ڈیورنٹ“ نے اپنی کتاب ”در سہای تاریخ“ (کتاب کے فارسی ترجمے کا نام) میں اس بحث کا عنوان یہ قرار دیا ہے‘ ”کیا ترقی حقیقت و واقعیت رکھتی ہے؟“ البتہ اس میں اسے شک و شبہ نہیں ہے کہ انسان نے صنعت میں ترقی کی ہے‘ لیکن کیا انسان نے انسانیت میں بھی ترقی کی ہے؟ یہ مسئلہ ابھی زیربحث ہے۔ اس میں شک نہیں کہ انسان نے فن‘ ٹیکنالوجی (صنعت) اور طبیعت سے مربوط امور میں تکامل (ارتقاء) حاصل کیا ہے‘ نیز معاشرے کے انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے بھی تکامل حاصل کر چکا ہے‘ لیکن جس چیز میں تردد ہے وہ انسانیت میں تکامل (ارتقاء) ہے۔ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اصلاً اس ضمن میں لفظ "Progress" (ترقی) کو ہی ختم کر دینا چاہئے‘ کیونکہ اس نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ کتاب ”تاریخ چیست“ (تاریخ کیا ہے؟) کا مصنف خود اس نظریے کا مخالف ہے‘ وہ کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ انسانی پہلو کے اعتبار سے بھی ترقی ہوئی ہے‘ لیکن اس ترقی کی رفتار دوسری چیزوں میں تکامل (ارتقاء) کی رفتار سے ہم آہنگ نہ تھی اور یہ ترقی انتہائی سست رفتار تھی‘ لیکن اس ضمن میں مختلف نظریات نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ نہیں‘ انسان نے اس جہت سے کچھ ترقی نہیں کی۔
 

صرف علی

محفلین
مارکسزم اور انسانی معاشرے کا انسانیت میں تکامل (ارتقاء)
مارکسزم کے ماننے والے مجبور ہیں کہ انسانیت کے لئے کسی معیار کے قائل نہ ہوں اور تکامل (ارتقاء) کو فقط ایک لفظی یا ایک امر اعتباری اور آلات پیداوار کے تکامل (ارتقاء) کا طفیلی مسئلہ قرار دیں‘ اس میں شک نہیں کہ آلات پیداوار ترقی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جب بھی آلات پیداوار ایک نیا تکامل (ارتقاء حاصل) پیدا کرتے ہیں‘ ہر مرحلہ پر ایک نئے اخلاق کا تقاضا کرتے ہیں‘ چونکہ یہ نیا اخلاق آلات پیداوار کے تکامل (ارتقاء) یافتہ مرحلے کا تقاضا ہوتا ہے‘ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اخلاق نے تکامل (ارتقاء) پیدا کیا ہے‘ جبکہ ہماری نظر میں دونوں باہم لازم و ملزوم نہیں ہیں۔ اولاً ہم اسے اس طرح سے مطلق طور پر تسلیم نہیں کرتے کہ آلات پیداوار اپنے تکامل (ارتقاء) کے ہر مرحلے میں ایک خاص اخلاق کا تقاضا کرتے ہیں‘ اصول اخلاق میں ہم اس امر کو تسلیم نہیں کرتے۔ آلات پیداوار کسی بھی مرحلے میں ہوں‘ اخلاق کے اصول ایک سے رہتے ہیں۔ ان کی بات تو بالکل ایسے ہے جیسے کوئی کہے کہ کسی کے مال میں خیانت کرنا‘ اس زمانے میں خیانت کرنا برا کام تھا جب چوری کرنے کے لئے موم بتی لے کر جایا کرتے تھے یا کسی کی عزت پر حملہ کرنا اس دور میں برا تھا‘ لیکن آج جبکہ بجلی کا زمانہ ہے‘ اب بھی تم کہتے ہو کہ انسان کا چوری کرنا یا کسی کی عزت پر حملہ کرنا برا ہے‘ حالات بدل گئے ہیں‘ جبکہ ان دونوں باتوں کا آپس میں کوئی ربط نہیں۔ اس پہلو سے قطع نظر ان کی یہ بات بنیادی طور پر انسانی اصالتوں (بنیادوں) کی نفی ہے‘ اس طرح سے تو انسانی اصالتیں بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتی ہیں۔ اگر ہم آلات پیداوار کے تکامل (ارتقاء) کو انسانی تکامل (ارتقاء) قرار دیں تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ خود انسانیت کا انسانیت ہونے کے اعتبار سے کوئی تکامل (ارتقاء) نہیں ہے۔ ان کے بقول آلات پیداوار جب تکامل (ارتقاء) حاصل کرتے ہیں تو تکامل (ارتقاء) کے ہر مرحلے میں خاص انسانی روابط کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ تمام روابط قانون‘ حکومت‘ ہنر‘ زیبائی اور اخلاق کی طرح سے عمارت ہیں‘ نہ کہ بنیاد اور یہ سب آلات پیداوار کے ساختہ پرداختہ اور انہی کے تابع اور طفیلی ہیں اور کیونکہ آلات پیداوار ان کے متقاضی ہیں۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ ان میں تکامل (ارتقاء) پیدا ہوا ہے‘ لہٰذا یہ فقط نام رکھنے کے برابر ہے‘ ورنہ ایک حقیقی چیز نہیں ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ کسی چیز میں تکامل پیدا ہوا ہے‘ بلکہ ایک چیز ختم ہوئی ہے اور اس کی جگہ ایک اور چیز آ گئی ہے۔ ایک چیز کے ختم ہونے کے بعد کوئی نئی چیز اس کی جگہ لے لے تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ تکامل (ارتقاء) پیدا ہوا ہے؟ ممکن ہے کہ اصلاً نہ تکامل (ارتقاء) ہوا ہو‘ نہ سقوط اور یہ بھی ممکن ہے کہ سقوط ہوا ہو‘ ہم کس معیار کے مطابق کہہ سکتے ہیں کہ تکامل (ارتقاء) حاصل ہوا ہے؟ کوئی بھی معیار نہیں ہے‘ صرف اس لئے کہ آلات پیداوار میں تکامل (ارتقاء) پیدا ہوا ہے۔ ہم کیسے کہہ دیں کہ ان میں بھی تکامل (ارتقاء) پیدا ہوا ہے؟ لہٰذا اخلاق متغیر کا یہ مسئلہ اس معنی میں کہ اخلاقی اصول بھی متغیر ہیں‘ کسی اعتبار سے بھی انسانی اصالتوں کی توجیہ نہیں کرتا۔
ایگزس ٹینشلزم (نظریہ وجودیت) (Existentialism) اور انسانیت اصالتیں
اس سلسلے میں ایک اور نظریہ ”ایگزس ٹینشلزم“ ہے۔ اس کے حامیوں نے بھی کوشش کی ہے کہ انسانی اصالتوں کے لئے کوئی بنیاد فراہم کریں‘ مگر یوں کہ کائنات اور انسان کے مادی ہونے کے نظریے کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے بھی ایک ایسی بات کی ہے کہ جو ان سے پہلے بھی کہی جا چکی ہے (ان فلسفوں کی زیادہ تر بنیاد فلسفہ ہیگل ہے‘ مارکسزم بھی اور ایگزس ٹینشلزم بھی دونوں کا ریشہ (سلسلہ) فلسفہ ہیگل سے جا ملتا ہے اور یہ بات صحیح طور پر کہی گئی ہے کہ ہیگل نے یورپ کے فلسفے کی صورت بدل کر رکھ دی ہے)۔ سب سے پہلے مسئلہ کہ جس میں ان کی راہ فلسفہ مشرق سے مختلف ہو جاتی ہے‘ یہ ہے کہ فلسفہ مشرق‘ مثلاً بو علی سینا وغیرہ کہتے ہیں کہ خیر دو طرح کی ہے (خیر یعنی ایسی خواہش جو انسان کے اندر سے پھوٹے)‘ ایک خیر محسوس اور دوسری خیر معقول۔ وہ چیزیں کہ جنہیں انسان حسی اور مادی لحاظ سے چاہتا ہے وہ خیر محسوس ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پہلی وہ خواہشات ہیں جو انسان کی زندگی اور وجود سے وابستہ ہیں اور دوسری قسم کی خواہشات وہ ہیں کہ جنہیں روحانی پہلو سے انسان چاہتا ہے‘ وہ منفعت یا سود کے الفاظ اگر استعمال کریں تو خیر محسوس… استعمال کریں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ علم خیر ہے‘ لیکن خیر معقول‘ البتہ روٹی‘ پانی خیر ہے‘ لیکن خیر محسوس اور انسان مجبور ہے کہ وہ اس چیز کی جستجو کرے جسے اس کا وجدان اپنی گہرائی کے ساتھ خیر قرار دیتا ہے‘ فطرتاً انسان اپنی قرار دی ہوئی خیر کی جستجو میں رہتا ہے۔ اگر ہم کہیں کہ خیر ہونے کا معیار کیا ہے؟ تو کہتے ہیں خیر کا معیار کمال ہے‘ یعنی اس خیر تک پہنچ کر انسانی وجود کو تقویت ملتی ہے اور وہ تکامل (ارتقاء) حاصل کرتا ہے۔ فلسفہ مزنگ کے ماننے والے چونکہ ہرگز نہیں چاہتے کہ غیر محسوس کی حقیقت و واقعیت کو قبول کریں‘ لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ حقیقت وہی ہے کہ جو مادی اور محسوس ہے‘ اس کے علاوہ کچھ نہیں‘ لہٰذا وہ مجبور ہیں اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان دو طرح کی خیر کا حامل ہے۔ جو لوگ دو طرح کی خیر کے قائل ہیں وہ دو طرح کی حقیقت… کے قائل ہیں‘ وہ انسان کے لئے دو طرح کی حقیقت کا نظریہ رکھتے ہیں اور عالم ہستی میں بھی دو طرح کی حقیقت کے قائل ہیں۔ انسان حقیقت محسوس کے ذریعے سے خیر محسوس کی جستجو کرتا ہے اور حقیقت معقول کے ذریعے سے خیر معقول کی جستجو کرتا ہے اور اس لحاظ سے کہ وہ بہرحال خیر ہی کی جستجو کرتا ہے‘ ہر دو پہلوؤں سے ایک ہی ہے۔ اگر وہ علم کی جستجو کرتا ہے تو جستجو کرتا ہے کہ جو خیر معقول ہے اور اگر دولت کی جستجو میں ہے تو یہ بھی ایک حقیقت ہے اور وہ حقیقت کی جستجو میں ہے‘ البتہ یہ خیر محسوس ہے۔ ان کے کام کی بنیاد چونکہ اس پر ہے کہ حقیقت صرف محسوس اور مادی ہے‘ لہٰذا ان کا کہنا ہے کہ انسان یا خیر کی جستجو میں ہے‘ یعنی مادی منفعت کی تلاش میں ہے یا ایسی چیز کی تلاش میں ہے کہ جو کوئی چیز نہیں فقط قدر (Value) ہے۔ یہی سود اور قدر کے الفاظ فلسفہ یورپ میں آئے ہیں اور یہ انسانی فلسفے سے کتنا بڑا انحراف ہے۔ اسی مقام پر وہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان سود اور منافع کی تلاش میں ہے اور سود یعنی ایسی چیز جس میں خیر ہے‘ عقل بھی مجبور ہے کہ کہے کہ اس کی جستجو کر کہ یہ امر منطقی بھی ہے یا پھر انسان ایسی چیزوں کی جستجو کرتا ہے کہ جن میں خیر نہیں ہے اور عقل بھی کہتی ہے کہ ان کے پیچھے نہ جا‘ لیکن انسان جاتا ہے اور اس طرح سے ایک غیر عقلی اور غیر منطقی کام انجام دیتا ہے‘ ایسے غیر عقلی اور غیر منطقی امور کے پیچھے جاتا ہے کہ منطق اور عقل جس کا ہرگز حکم نہیں دیتی۔ یوں ان لوگوں کے نزدیک وجود انسانی میں ایک طرح کا تضاد اور ایک طرح کا امر نامعقول ہے‘ چونکہ انسان ایسی چیزوں کی جستجو کرتا ہے کہ جن میں اس کے لئے کوئی خیر نہیں ہے‘ لہٰذا اس کا یہ طرز عمل عقل سے ہم آہنگ نہیں۔ کیا انسان کے سارے کام عقل سے ہم آہنگ ہیں؟ انسان غیر عاقلانہ‘ نامعقول اور غیر منطقی کام کرتا ہے۔ وہ ایسے کاموں کو انسان کے غیر منطقی کام قرار دیتے ہیں‘ لہٰذا توجیہہ کرتے ہوئے وہ مجبور ہیں کہ انہیں فقط قدر (Value) کا نام دیں‘ نہ کہ خیر کا۔ گویا ان چیزوں کی جستجو خیر کی جستجو نہیں ہے اور یہ امر اختیار کرنے کے قابل نہیں ہے‘ یہ لوگ اس مسئلے میں الجھ گئے ہیں کہ ان اقدار (Values) کی کس طرح سے توجیہہ کریں‘ کیونکہ ان کے نزدیک تو خیر فقط محسوس اور مادی ہے‘ جبکہ یہ اقدار صرف محسوس اور مادی نہیں ہیں۔ کیا نسیبائی انسان کے لئے ایک محسوس اور مادی چیز ہے؟ کیا یہ کوئی حجم رکھتی ہے؟ کیا فضیلت کوئی حقیقت رکھتی ہے؟ کیا حقیقت کوئی حقیقت رکھتی ہے؟ ایک طرف تو یہ لوگ ان امور کو غیر منطقی اور غیر عاقلانہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ تمام امور موہوم ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ اس فلسفے نٹشے اور دیگر فلسفیوں کے نظریات کے لازمی نتیجے کے طور پر کہیں کہ یہ سب امور موہوم ہیں‘ حقیقت وہی ہے جو منفعت ہے‘ جو کچھ منفعت کے علاوہ ہے حقیقت نہیں ہے۔ عقل بھی کہتی ہے کہ اس کے پیچھے نہ جاؤ‘ جو لوگ جرات رکھتے تھے انہوں نے یہ کہہ دیا اور جن میں اتنی جرات نہ تھی‘ درپردہ اسی بات کو ایک اور شکل میں کہہ گئے۔ کسی نے کہا کہ اقدار تکامل حاصل کر چکی ہیں‘ تو دوسرے نے کسی اور طرح سے یہ بات کہہ دی۔ ایگزس ٹینشلسٹوں (وجودی فلسفیوں) نے ایک راہ حل نکالی اور وہ یہ کہنے لگے کہ اقدار اور خالق میں یہ فرق ہے کہ اقدار ایک طرح کے تخلیقی امور ہیں‘ نہ کہ کشف کئے جانے والے امور (ایک کتاب ہے کہ جس کا نام ”جدال با مدعی“ ہے‘ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ بات یوں ہے کہ کسی مارکسسٹ نے ایک صاحب کا انٹرویو لیا۔ ان صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے انٹرویو میں تبدیلیاں کر کے شائع کیا گیا ہے‘ لہٰذا وہ مذکورہ کتاب کے مقدمے میں یہ بات لکھتے ہیں اور انٹرویو کرنے والے کو دنیا جہان کی گالیاں دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اب میں اس انٹرویو کو من و عن شائع کر رہا ہوں۔ اس کتاب کے دو حصے ہیں‘ پہلے حصے میں زندگی‘ تکامل (ارتقاء) اور ایسے ہی امور کی اقدار کو زیربحث لایا گیا ہے‘ کتاب کا دوسرا حصہ جدید شاعری اور آزاد نظم کے بارے میں ہے۔ اعتراض کرنے والا عجیب طرح کے سوال کرتا ہے‘ وہ شروع میں اس فلسفے کا حامی بن جاتا ہے کہ جس کے مطابق کسی بھی چیز کی کوئی حقیقت نہیں یا کم از کم اس فلسفے کا دفاع کرتا ہے کہ ہر چیز بے معنی اور بے حقیقت ہے اور زندگی کے لئے ایک راہ حل کے علاوہ دوسری راہ نہیں اور وہ ہے خودکشی۔ وہ فلسفہ خودکشی کا پیرو ہے‘ اب وہ خود‘ خودکشی کیوں نہیں کرتا؟ یہ سوال اسی سے پوچھا جانا چاہئے۔ دوسرے صاحب چاہتے ہیں کہ اس نظریے کو رد کریں اور آہستہ آہستہ اسی مسئلہ اقدار تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہاں پہنچ کر وہ ایگزس ٹینشلزم کی منطق کی پیروی کرتے ہیں (کیونکہ مارکسزم ان مسائل میں نارسا ہے‘ بلکہ بہت ہی نارسا ہے)‘ وہ صاحب کہتے ہیں کہ اقدار تخلیقی امور ہیں‘ نہ کہ کشف ہونے والے)۔
کشف کئے جانے والے امور سے مراد وہ امور ہیں جو حقیقت رکھتے ہیں۔ انسان علم و استدلال اور عاقلانہ (دانشمندانہ) طریقے سے‘ جو چیز بھی حقیقت رکھتی ہے‘ اس کو کشف کرتا ہے‘ لیکن اقدار ان امور میں سے ہیں کہ جنہیں انسان تخلیق کرتا ہے۔ یہ پہلے سے موجود نہیں کہ انسان انہیں کشف کر لے بلکہ انسان خود انہیں وجود میں لاتا ہے اور تخلیق کرتا ہے۔ اقدار کے بارے میں ایگزس ٹینشلسٹوں(وجودیوں) کا نظریہ بس یہی کچھ ہے‘ لہٰذا آج کل ادب میں یہ اس نظریہ کا بہت زیادہ ذکر ہو رہا ہے کہ ”انسان اقدار کی تخلیق کرتا ہے“ حالانکہ یہ بات غلط اور بے معنی ہے۔ انسان اقدار کی تخلیق کرتا ہے‘ یعنی چہ؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اپنی طبیعت میں مثلاً ایثار اور ”آثرہ“ (عربوں کے بقول) دونوں برابر ہیں‘ عدل و ظلم مساوی ہیں۔ اپنی ذات میں تو عدل و ظلم میں کوئی فرق نہیں ہے‘ لیکن انسان عدل کی قدر و اہمیت کا قائل ہے کہ جس سے عدل ظلم سے مختلف ہو جاتا ہے اور اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ قدر و اہمیت انسان سے عطا کرتا ہے جس طرح کہ انسان ہی نے ایثار کو اہمیت دی اور اسے ”آثرہ“ سے جدا کر کے قدر و اہمیت کا حامل بنا دیا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ عدل ظلم سے بہتر ہے‘ صدق جھوٹ سے بہتر ہے اور امانت خیانت سے بہتر ہے‘ یہ سب اپنی ذات میں مساوی ہیں۔ یہ انسان ہی ہے کہ جو انہیں قدر و قیمت عطا کرتا ہے۔ ان حضرات سے یہ پوچھنا چاہئے کہ ”انسان قدر (Value) کی تخلیق کرتا ہے“ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ ایک دفعہ اس کا معنی یوں بنتا ہے کہ انسان ایسی چیز کو‘ کہ جس کی کوئی حقیقت نہ ہو‘ حقیقت عطا کرتا ہے‘ یعنی اس سے پہلے اس کی کوئی حقیقت نہ تھی‘ انسان نے اسے حقیقت کا جامہ پہنایا اور اب اس چیز کا شمار حقیقی امور میں ہونے لگا ہے۔ واضح ہے کہ یہ کوئی ایسی اشیاء نہیں ہیں کہ انسان انہیں بنائے اور تخلیق کرے۔ انسان کی قدر تخلیق فن و صنعت میں ہے‘ وہ کسی مادہ پر کام انجام دیتا ہے اور اس کو ایک خاص شکل و صورت عطا کرتا ہے اور آپ قبول کرتے ہیں کہ یہاں شکل و صورت یا مادہ موجود ہی نہیں ہے۔ پس انسان ان کی تخلیق کرتا ہے‘ یعنی حقیقت واقعی انہیں عطا کرتا ہے‘ اس کا اصلاً کوئی معنی نہیں ہے اور اگر فرض کریں کہ حقیقت عطا کرتا ہے تو کیا معنویت (روحانیت) اصلاً کوئی حقیقت رکھتی بھی ہے یا نہیں؟ جبکہ آپ کہتے ہیں کہ معنویت (روحانیت) کی اصلاً کوئی حقیقت ہی نہیں ہے تو اس صورت میں کس طرح انسان ایک ایسی چیز کو حقیقت دے سکتا ہے جو اصلاً حقیقت پذیر نہ ہو۔ ان امور میں انسان کے تخلیق کرنے سے مراد وہی کچھ ہے کہ جسے ہم اعتباری کہتے ہیں‘ یعنی یہ حقیقی امور میں سے نہیں ہے‘ بلکہ اعتباری امر ہے‘ اعتباری یعنی وضعی اور قرار دادی۔ مثلاً آپ حضرات اس مدرسے میں باہم تعاون کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر آپ چاہیں کہ اس تعاون کے نتائج اس وقت بہتر ظاہر ہوں تو اس کے لئے چاہئے کہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیں اور اگر آپ تنظیم بنانا چاہیں تو پھر ضروری ہے کہ آپ اپنے میں سے مثلاً ایک مجلس منتظمہ کا انتخاب کریں‘ کوئی اجرائی کمیٹی بنائیں اور اپنے میں سے کسی کو اس مدرسے کے سربراہ کے طور پر منتخب کریں‘ ایک شخص کو اپنا سربراہ بنائیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں‘ جناب الف ہمارے سربراہ ہیں‘ یہاں آپ نے جناب الف کو ایک عہدہ دیا۔ اس مقام پر آپ نے خلق کیا اور کسی چیز کو وجود بخشا‘ لیکن یہ ایک قراردادی اور اعتباری چیز ہے‘ یعنی یہ حقیقت نہیں رکھتی‘ یعنی اب جناب الف وہم و ذہن میں اور اعتباری اور قراردادی طور پر اس سے مختلف ہیں کہ جو ایک گھنٹہ پہلے تھے‘ جبکہ سربراہ منتخب نہیں ہوئے تھے‘ لیکن عالم حقیقت اور نفس الامر میں وہی آدمی ہیں جو پہلے تھے۔ سربراہی عطا کرنا ایک قرارداد ہے‘ ایک اعتبار کرنا ہے اور ایک ایسی چیز ہے کہ جسے ذہنوں نے مصلحت کے طور پر قبول کر لیا ہے اور فرض کر لیا ہے‘ یعنی ایک مجازی چیز کا اعتبار کر لیا ہے۔ مختصر یہ کہ انسانی قدرت خلیق ایسے ہی امور میں ہے‘ ”لہٰذا انسان قدر کو وجود بخشتا ہے“ زیادہ سے زیادہ اس کا معنی یہ ہے کہ جن چیزوں کو ہم اقدار کہتے ہیں‘ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں‘ انسان ان کی قیمت فرض کرتا ہے (قدر سے قیمت ہی مراد ہے)‘ درحقیقت انسان کے لئے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے‘ لیکن انسان اس کے لئے قیمت قرار دیتا ہے۔ یہ بھی انسانی اصالتوں کی نفی ہے اور یہ ایک قراردادی اور موہوم چیز سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اب اہم مسئلہ یہ ہے کہ قراردادی امور میں انسان ”وسائل“ میں تو کچھ فرض کر سکتا ہے‘ ”اہداف و مقاصد“ میں نہیں۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ کاغذ کے نوٹ کی قیمت اعتباری اور قراردادی ہے‘ جبکہ اس کے برعکس سونا کہ جو انسان کے کام آتا ہے اور بہت سے امور میں مفید ہے‘ کمیاب بھی ہے اور کارآمد بھی‘ چاہے زیب و زینت کے لحاظ سے ہو یا کسی اور اعتبار سے‘ وہ خود ذاتی اعتبار سے انسان کے لئے قدر و قیمت رکھتا ہے (جبکہ نوٹ ذاتی طور پر کوئی قیمت نہیں رکھتا)۔ نوٹ کو بعض مقاصد کے حصول کے لئے ہم سونے کی جگہ فرض کرتے ہیں تاکہ مبادلہ آسان ہو‘ اس لئے ہم اس کی قیمت قرار دیتے ہیں‘ لہٰذا نوٹ کی ذاتی قیمت کچھ بھی نہیں‘ یعنی یہ ایک کاغذ‘ مثلاً ہزار کا نوٹ اگر ہمارے ہاتھ میں ہو تو اس کی حقیقت اور ذاتی قیمت اس جیسے کسی دوسرے کاغذ سے مختلف نہیں‘ لیکن اعتباری اور قراردادی لحاظ سے یہ اس سے مختلف ہے۔ یہ بھی اس لحاظ سے کہ ہم نے بعض مقاصد کے حصول کے لئے وسیلہ قرار دیا ہے‘ لہٰذا اگر ہم انسانی اصالتوں کو تخلیقی امور جانیں‘ کیونکہ تخلیق بمعنی حقیقت کوئی معنی نہیں رکھتی اور یہاں تخلیق کا معنی سوائے اعتبار کے کچھ بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سب چیزیں دیگر اہداف کے وسائل کے طور پر ہیں‘ کیونکہ یہ خود بیک وقت اعتباری ہیں اور ہدف ہر دو نہیں ہو سکتے‘ اعتباری بھی ہو اور ہدف بھی ہو۔ تو یہ اس کے مانند ہے کہ انسان ہدف نہیں رکھتا‘ کسی چیز کو ہدف فرض کرتا ہے اور بعد میں یہی چیز ہدف بن جاتی ہے اور یہ بالکل عربوں کے بت پرستوں جیسا کام ہے کہ بت بناتے تھے‘ بعد میں اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے اسی بت کی پوجا کرتے تھے:
اتعبدون ماتنحتون
”کیا جس چیز کو خود بناتے ہو‘ اسی کی طرح کرتے ہو؟“(صافات‘ ۹)
ہدف وہ چیز ہے کہ جو آپ سے بالاتر مرحلے پر ہے اور آپ کوشش کرتے ہیں کہ اس تک پہنچ جائیں اور جس چیز کو آپ خود بناتے ہیں‘ وہ آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے اور آپ سے نیچے ہے۔
انسانی اصالتیں اور فطری امور ہیں
یہی وجہ ہے کہ چیز بھی اس مشکل کی راہ کا حل نہیں ہے‘ لہٰذا ہم نے جو پہلے نتیجہ اخذ کیا ہے‘ اسی طرف لوٹتے ہیں کہ یہ انسانی اصالتیں اس وقت معنی و مفہوم اور حقیقت پیدا کرتی ہیں کہ جب یہ انسان کے لئے ایک طرح کے فطری امور ہوں کہ ان کا سرچشمہ انسان کی فطرت ہو اور یہ ایسی حقیقتیں ہوں کہ انسان اپنی حقیقت (انسانیت) کے ساتھ ان کی طرف حرکت کرے‘ بالکل اسی طرح جیسے محسوس کارہائے خیر ”نیکیاں“ میں انسان اپنی مخصوص (یا محسوس) حقیقت کے ساتھ ان محسوس حقائق کی طرف حرکت کرتا ہے‘ انہیں بھی ایسے حقائق ہونا چاہئے کہ جن کی طرف انسان اپنی معقول حقیقت کے ساتھ حرکت کرے۔ انسان کے ارتقاء کا تصور بھی فقط اس مفروضے کے ساتھ وابستہ ہے اور اگر اسے انسان سے خارج ”منہا“ کر لیا جائے تو انسانیت میں ارتقاء کا کوئی معنی نہیں رہتا‘ ہرچند کہ آلات ”اسباب“ میں ارتقاء ہو۔
لہٰذا اقدار حقیقی یا نیکی‘ خیر حقیقی ہی کا نام ہے۔ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ ہم ان چیزوں کو فوائد اور اقدار میں تقسیم کر دیں کہ انسان جن کا متلاشی ہے اور پھر کہیں کہ اقدار کی کوئی حیثیت نہیں‘ ان کا وجود منطقی نہیں ہے اور عقل نہیں کہتی کہ انسان ان کا متلاشی ہو‘ جبکہ انسان پر بھی ان کی جستجو کرتا ہے۔ گویا ان کے نزدیک انسان جنونی اور غیر معقول کاموں کا حامل ہے‘ اگرچہ ہم ایسے کام کو خلاف عقل نہ کہیں تو بھی بہرحال عقلی نہیں ہے‘ لہٰذا ایسا کرنا دیوانگی کے برابر ہو جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ امور ایک طرح کی لغویات یا فضولیات ہیں‘ البتہ ایسی فضولیات جو اچھی ہیں اور ضروری ہیں کہ باقی رہیں‘ جبکہ فضولیات کا اچھا اور ضروری ہوتا‘ اصولاً کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ مختصر یہ کہ اگر ان لوگوں کا نظریہ مان لیا جائے تو لامحالہ ہمیں ان امور کو انسانی فضولیات ”غیر عاقلانہ“ ماننا پڑے گا۔
اب اس بحث کو چھوڑتے ہیں اور دین کے فطری ہونے کے موضوع پر گفتگو کرتے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دین فطری ہے‘ ان کا مقصود کیا ہے؟ دین کے فطری ہونے پر ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ یعنی دین کے فطری ہونے کا کیا مصداق ہے اور اس کی کیا علامتیں ہیں؟ اور کیا وہ مصادیق یا علامتیں دین میں موجود ہیں یا نہیں؟ یہ بات ان سوالوں کا حصہ ہے کہ جو پہلے کئے جا چکے ہیں؟ یعنی فطری ہونے کی علامتیں کیا ہیں؟ اور کیا دین فطری ہے یا نہیں ہے؟ اور دین کے نقطہ آغاز کے بارے میں کیا کیا نظریات پیش کئے ہیں کہ جن میں سے ایک نظریہ اس کے فطری ہونے کا ہے؟ خصوصاً دین کے فطری ہونے کے مقابلے میں دیگر نظریات کیا ہیں؟ جو مقالہ میں نے گزشتہ گفتگو میں پیش کیا تھا‘ وہ اسی موضوع کے حوالے سے تھا‘ یعنی دین کا نقطہ آغاز کی وجہ کے بارے میں نظریات کا جائزہ۔
تقریباً بیس سال پہلے ایک مجلہ شائع ہوتا تھا کہ جس کا نام تھا‘ ”نشریہ سالانہ مکتب تشیع“ (شیعہ مکتب فکر کا سالانہ مجلہ)‘ شاید اس کے ساتھ آٹھ شمارے سالانہ کی صورت میں شائع ہوئے‘ تین چار شمارے سہ ماہی بھی شائع ہوئے۔ ان سالانہ مجلوں میں میرا قوی گمان ہے کہ پہلے شمارے میں ایک مقالہ شائع ہوا تھا، ”دین یا بعد چہارم“ (دین یا چوتھا پہلو)۔ جناب انجینئر بپانی نے اس کا ترجمہ کیا تھا‘ جناب انجینئر بازرگان نے اس پر مقدمہ اور حرف آخر تحریر کیا تھا۔ اگر آپ کو وہ مل جائے تو پیدائش دین ”دین کا نقطہ آغاز“ کے بارے میں نظریات کے لحاظ سے بہت اچھا ہے‘ اس میں ان نظریات کو نقل کیا ہے‘ البتہ اس مقالے کا مصنف خود اس بات کا حامل ہے کہ حس دینی فطری ہے۔
 

صرف علی

محفلین
باب ہفتم
مذہب کی اساس (نقطہ آغاز)اور سرچشمہ

مذہب کی اساس اور سرچشمہ کے بارے میں مخالفین کے نظریات جاننے کا ایک بنیادی فائدہ یہ ہو گا کہ ہم لامذہب افراد کے تعصب کو جان سکیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیں مذہبی تعصب کا طعنہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مذہبی لوگ اپنے نظریات کو انتہائی تعصب کے ساتھ ہی پیش کرتے ہیں۔ دراصل لامذہب لوگ متعصب ہیں‘ کیونکہ ان کا مفروضہ ہی نفی مذہب پر قائم ہے اور پھر انہوں نے اس نفی کی توجیہہ میں لغو گوئی سے کام لیا ہے۔ ایک غیر جانبدار انسان کا ایسی باتیں کرنا ممکن نہیں اور پھر ان کے نظریات کی پستی کا اندازہ آپ اس سے لگا سکیں گے کہ یہ لوگ مذہب کی توجیہہ کرتے ہوئے اس طرح اس میں پھنسے ہیں کہ انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
یورپ میں ایک علم مذہبی عمرانیات (Sociology of Religion) کے نام سے وجود میں آیا ہے۔ جیسے ہر علم کا کوئی بنیادی موضوع ہوتا ہے‘ اسی طرح اس علم کا بھی ایک موضوع مقرر کیا گیا ہے (ایسے موضوع کو ابتداء میں ثابت نہیں کیا جاتا‘ بلکہ مفروضے کے طور پر اختیار کیا جاتا ہے اور بعدازاں اس موضوع (مفروضہ) کی اساس پر اپنے نظریات کو پیش کیا جاتا ہے)۔ مذہبی عمرانیات (Sociology of Religion) میں شروع ہی سے یہ بات فرض کر لی گئی ہے کہ مذہب معاشرتی عمل اور ردعمل کا ایک مظہر (Phenomena) اور نتیجہ ہوتا ہے‘ یعنی اس کا خدا یا ماورائی دنیا سے کوئی اصولی تعلق نہیں ہوتا۔ اصلاً مذہب کی الٰہی اساس کے امکان کو مفروضے کے طور پر موضوع میں شامل ہی نہیں کیا گیا‘ مثلاً اگر ہم سے یہ کہا جائے کہ اس بات کی تحقیق کریں کہ لوگوں میں یہ فکر کیسے پیدا ہو گی کہ تیرہ کا عدد نحس ہوتا ہے؟ چونکہ انسان دیکھتا ہے کہ منطقی طور پر تیرہ‘ چودہ یا بارہ کے عدد میں کوئی ایسا فرق نہیں کہ جس کی بنیاد پر انسان کو یہ احتمال (امکان) پیدا ہو کر اس فکر کے پیچھے کوئی عقلی یا تجرباتی دلیل موجود ہے‘ لہٰذا کہا جاتا ہے کہ ضرور اس کی کوئی غیر منطقی بنیاد ہو گی اور غیر منطقی بنیاد کیا ہے؟
ان لوگوں نے دین اور مذہب کے بارے میں پہلی بنیاد ہی اس بات پر رکھی ہے کہ دین کی کوئی منطقی بنیاد ہو ہی نہیں سکتی۔ اب جبکہ اس کی بنیاد غیر منطقی ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غیر منطقی بنیاد کیا ہے؟ لہٰذا ان کا اصل موضوع ہی یہ ہے کہ دین کی کوئی منطقی اور الٰہی بنیاد ہی نہ بتائی جائے۔ (مقالے کے لکھنے والے نویسندہ نے شروع میں ایک مختصر سی تاریخ کا ذکر کیا ہے اور بعد میں کہا ہے) کہ جس کسی نے پہلی مرتبہ اس مسئلے کو منظم و تحلیل کے ساتھ پیش کیا وہ ایک مشہور مادی فلسفی ہے۔ کارل مارکس کے دو فکری منبعوں میں سے ایک وہ جرمن ہے کہ جس کا نام خویرباخ ہے‘ اسے کارل مارکس کے استاد کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے نہیں کہ کارل مارکس نے اس کے پاس جا کر اس سے درس لیا‘ بلکہ اس اعتبار سے کہ کارل مارکس نے اس کے افکار سے بہت استفادہ کیا اور اس کے افکار کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ کارل مارکس کی فکر کے دو رکن ہیں‘ منطق اور طرز تفکر۔ فکر کے لحاظ سے وہ ہیگل کے تابع ہے‘ یعنی منطق جدلیات‘ لیکسن ہیگل میٹریلسٹ (Materialist) نہیں تھا‘ اس کی ایک خاص قسم کی فکر تھی کہ جس کی وجہ سے بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ آئیڈیلسٹ (Idealist) ہے‘ جبکہ خدا کا بھی قائل نہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ وہ خدا کو مانتا تو ہے‘ مگر اس کا تصور خدا‘ دوسروں کے تصور خدا سے کچھ مختلف ہے۔ فویرباخ کی شہرت انہی مادی افکار کی وجہ سے ہے کہ جن میں مذہب کے بارے میں ایک تحلیل پیش کی گئی ہے۔ اس کے بقول مذہب انسان کی اپنے آپ سے بیگانگی (Self Alienation) کی حالت سے جنم لیتا ہے‘ یعنی انسان کو ایسے عوامل پیش آ جاتے ہیں کہ وہ خود اپنے آپ سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔
اب یہ اپنی جگہ پر ایک مسئلہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے کیونکر بیگانہ ہو جاتا ہے؟ کیا اصولی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے؟ کیونکہ بیگانگی کے دو رخ ہیں اور اس کے مقابلہ پر اپنائیت ہے۔ اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنے آپ سے بیگانہ ہو جائے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ سے اور اپنے سے غیر میں فرق نہ کر سکے‘ یعنی انسان ایک حقیقت رکھتا ہے‘ ایک اس کی حقیقی ”میں“ اور ”خود“ یعنی ذات ہے اور دوسرا ”ناخود“، یعنی ”نخود“ کو جو کہ وہ ”خود“ نہیں ہے‘ اشتباہاً ”خود“ سمجھنے لگتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ اپنے لئے اور ”خود“ کے لئے کام کرے‘ اس ”ناخود“ کے لئے کرنے لگتا۔ اس مسئلے پر ہم نے اجمالی طور پر کتاب ”سیری در نہج البلاغہ“ میں گفتگو کی ہے۔
خود بیگانگی اور خود فراموشی
مجھے یاد ہے کہ بیس سال پہلے تہران آنے کے دو سال بعد‘ میں ۱۳۳۱ھ شمسی ۱۹۵۱ء میں‘ میں تہران میں منتقل ہوا تھا‘ تو ایک تاجر دوست کے گھر میں قرآن کریم کی کچھ منتخب آیات کی روشنی میں واعظ و نصیحت کی محفل ہوا کرتی تھی‘ اس موقع پر پہلی بار مجھ پر یہ مسئلہ روشن ہوا۔ قرآن کریم سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ انسان پر کبھی ایسی حالت طاری ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ سے دور ہو جاتا ہے‘ وہاں پر میں اسے ”فاصلہ“ کے لفظ سے تعبیر کرتا تھا‘ اپنے آپ سے دور ہو جانے کی یہ تعبیر قرآن میں متعدد مقامات پر آئی ہے۔ اپنے آپ کو ”ہار جانا“ ہار جانا اسی معنی میں کہ جو جوئے میں استعمال ہوتا ہے یا کسی معاملے میں کہا جائے کہ فلاں شخص ”ہار گیا“ ہے‘ جبکہ انسان کے لئے اس بات کا یقین کرنا بہت مشکل ہے‘ کیونکہ یہ تو ہوا کہ انسان کوئی چیز ہار گیا جو اس کی ملکیت میں تھی‘ لیکن یہ کہ اپنے آپ کو ہار بیٹھے‘ یہ کیسے ممکن ہے؟ قرآن میں ارشاد ہوتاہے:
قل ان الخارسرین الذین خسروا انفسھم
”کہہ دیجئے! ہار جانے والے تو بس وہ ہیں‘ یعنی حقیقی ہار جانے والے وہ لوگ ہیں‘ جو اپنے آپ کو گنوا بیٹھے ہیں۔“
یعنی جو شخص مال ہار جائے وہ حقیقی ہار جانے والا نہیں ہے‘ یہ تو کوئی اہم چیز نہیں ہے‘ حقیقی زیاں کار تو وہ ہے کہ جو اپنے آپ کو کھو دے۔ ”خود کو بھول جانا“ یعنی خود فراموشی فلسفیانہ نکتہ نظر سے اس بات کا تصور بھی بہت مشکل ہے‘ کیونکہ اپنے بارے میں انسان کا علم‘ علم حضوری ہے اور علم حضوری قابل فراموش نہیں ہے۔ علم حصولی قابل فراموش ہے‘ یعنی اصلاً انسان جو ہر ذات علم ہے اور وہ خود دراصل وہی کچھ ہے جو اس کا اپنے بارے میں علم ہے۔
مولانا روم کا قول
اپنے آپ کو گنوا دینا اپنے تئیں فراموش کر دینا‘ یہ بات اسی زمانہ میں میرے لئے ایک فکر کی بنیاد بن گئی۔ البتہ بعد میں‘ میں نے دیکھا کہ حکماء اور خاص طور پر عرفاء اسلام اس مطلب کا ہم سے سالہا سال پہلے ادراک کر چکے ہیں اور انہوں نے اس کا ذکر بھی کیا ہے‘ اس حوالہ سے کہ انسان کا حقیقی ”میں“ کیا ہے؟ اور کون ہے؟ بلکہ عرفان کی اس میں حقیقی ”میں“ اور حقیقی ”خود“ کی تلاش پر استوار ہے‘ یعنی خیالی ”خود“ اور خیالی ”میں“ کے پردوں کو ہٹا کر حقیقی ”میں“ تک پہنچنے پر ”اپنے آپ کو کھو دینا“، ”اپنے آپ کو ہار بیٹھنا“، ”اپنے آپ کو گنوا بیٹھنا“، اس بات کا ایک خاص مفہوم ہے کہ جس کو ان لوگوں نے قرآن سے بہت اچھی طرح اخذ کیا ہے اور پھر اس کی شرح اور تفسیر خوب کی ہے‘ وہ مولانا روم نے بیان کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنی بات تمثیل کی صورت میں بیان کرتے ہیں‘ اس سلسلے میں اپنی (اپنے) ”دانی خود“ (ادنا پن) کو اپنی (اپنا) ”عالی خود“ (اعلیٰ پن) سمجھ بیٹھتا ہے یا یوں کہئے کہ اپنے نفسانی اور جسمانی پہلو کو روحانی اور معنوی پہلو کی بجائے حقیقی ”خود“ سمجھنے لگتا ہے‘ جبکہ اس کی حقیقی ”خود“ اس کا روحانی پہلو ہی ہے۔ مولوی مثال اس طرح سے بیان کرتے ہیں‘ فرض کریں کہ ایک شخص کے پاس کچھ زمین ہے اور وہ اس زمین پر عمارت بنانا شروع کر دیتا ہے۔ ریت‘ سیمنٹ‘ مٹی‘ لکڑی‘ لوہا اور تعمیر کا سارا سامان لے کر آتا ہے اور پھر ایک انتہائی خوبصورت گھر بناتا ہے‘ پھر اگلے دن اس گھر میں منتقل ہونا چاہتا ہے اور جب اس گھر میں ساز و سامان رکھنے لگتا ہے تو ایک دم متوجہ ہوتا ہے کہ گھر تو اس نے ہمسایہ کی زمین پر بنا دیا ہے‘ بڑی غلطی ہوئی۔ وہ دیکھتا ہے کہ جو زمین اس کی ملکیت ہے‘ وہ خالی پڑی ہے اور جو کچھ بھی اس نے بنایا ہے وہ دوسرے کی زمین پر بنا دیا ہے۔
قانون کے مطابق اسے حق نہیں پہنچتا کہ ہمسایہ سے کچھ لے‘ کیونکہ ہمسایہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تو نہیں کہا تھا کہ اسے بناؤ‘ بلکہ تم نے خود ہی میری اجازت کے بغیر ایسے بنایا ہے‘ تم اپنی عمارت اٹھا کے لے جاؤ۔ اب اگر وہ اس گھر کو گرانا چاہے تو پھر مزید رقم خرچ کرنا پڑے گی‘ لیکن اب وہ مجبور ہے کہ اسے یونہی رہنے دے اور چلا جائے۔ مولوی ایسی لطیف چیزوں کو ایک عجیب روحانی کیفیت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۱۱
در زمین دیگران خانہ مکن
کار خود کن کار بیگانہ مکن
کیست بیگانہ تن خاکی تو
کز برائی اوست غمناکی تو
”دوسروں کی زمین پر گھر مت بنا‘ اپنا کام انجام دے‘ غیر کا کام نہ کرتا پھر‘ غیر کون ہے؟ تیرا جسم خاکی کہ جس کے لئے تو پریشان ہے۔“
کہتے ہیں‘ ایک عمر تک تو اپنے جسم اور نفس کے لئے کام کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تو ”خود“ کے لئے کام کر رہا ہے۱۱
تا تو تن را چرب و شیرین می دھی
گوہر جان را نیابی فر بہی
گرمیان مشک تن را جا شود
وقت مردن گند آن پیدا شود
”جب تک تو اپنے جسم کو مرغن اور میٹھی چیزیں کھلاتا رہے گا‘ اپنے گوہر جاں اور روح کو صحت مند نہیں بنا سکتا۔ اگر جسم کو خوشبوددار رکھا جائے تب بھی مرنے کے بعد اس میں بدبو پیدا ہو جائے گی۔“
مشک را برتن مزن برجان بمال
مشک چہ بود؟ نام پاک ذوالجلال
”اپنے جسم پر خوشبو نہ لگا‘ بلکہ اپنی روح کو خوشبودار کر اور (روح کیلئے) خوشبو کیا ہے؟ (اللہ) ذوالجلال کا پاک نام۔“
جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد (باری تعالیٰ) ہے:
ولا تکونوا کا الذین نسوا اللہ فانسیھم انفسھم
(حشر‘ ۱۹)
”ان لوگوں کی مانند نہ ہو جاؤ کہ جو اللہ کو بھول گئے اور نتیجتاً اللہ نے انہیں خود ان کا اپنا آپ فراموش کروا دیا۔“
قرآن ”خود کو پانے“ اور ”خدا کے پانے“ کو لازم و ملزوم سمجھتا ہے۔ قرآن کے بقول صرف انہی نے اپنے آپ کو پایا ہے کہ جنہوں نے خدا کو پایا ہے اور جنہوں نے خدا کو پایا ہے‘ انہی نے اپنے آپ کو پایا ہے:
من عرف نفسہ عرف ربہ
اور اسی کے متقابل:
من عرف ربہ عرف نفسہ
قرآنی منطق کے مطابق ان دونوں میں جدائی ممکن نہیں‘ کیونکہ انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس نے اپنے آپ کو پا لیا ہے‘ جبکہ اس نے خدا کو نہ پایا ہو تو اس کا خیال غلط ہے‘ یہ بات معارف قرآن کی بنیادوں میں سے ہے۔
جسے آج کل اپنے سے بیگانگی یا صحیح تر الفاظ میں اپنے ساتھ بیگانگی کہا جاتا ہے‘ معارف اسلامی میں اس مسئلہ پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے اور بہت کچھ کہا بھی جا چکا ہے۔
یہ کس سلسلہ قرآن سے شروع ہوتا ہے‘ لہٰذا یہ ہزار سال سے زیادہ کا سابقہ رکھتا ہے اور اس کا ایک اپنا مخصوص سفر ہے۔ یورپ میں یہ بات ہیگل سے شروع ہوتی ہے‘ ہیگل کے بعد دیگر مکاتب نے بھی اس مسئلہ کا ذکر کیا ہے‘ بغیر اس کے کہ انہوں نے خود کو پہچانا‘ کیونکہ خود بیگانگی کے مسئلہ میں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خود کیا ہے‘ جس سے بیگانگی کی بات کی جاتی ہے؟ آخر آپ کہتے ہیں کہ انسان خود سے بیگانہ ہو گیا ہے۔ پہلے ہمیں اس ”خود“ کی تو پہچان کروائیں کہ وہ خود کیا ہے؟ تاکہ خود بیگانگی ہمارے لئے مشخص ہو سکے‘ جبکہ صورت حال تو یہ ہے کہ بغیر ”خود“ پر گفتگو کئے ہوئے اور بغیر اس ”خود“ کو پہچانے ہوئے‘ بلکہ اس ”خود“ کی نفی کرتے ہوئے خود بیگانگی کا قصہ لے بیٹھتے ہیں۔
ان مادی فلسفوں کی اساس یہ ہے کہ اصلاً ”خود“ ایک امر اعتباری اور فرضی ہے۔ تمام مادی فلسفوں کا نظریہ یہ ہے کہ انسان کی کوئی ”خود“ نہیں ہے کہ جسے آپ ”خود“ خیال کر سکتے ہیں‘ بلکہ یہ ایک اشتراکی اور ماخوذ مفہوم ہے‘ یہ دائمی تصورات کا ایک سلسلہ ہے‘ یہ تصورات آتے ہیں اور گزرتے چلے جاتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک ”خود“ بھی موجود ہے‘ یعنی کوئی ”خود“ موجود نہیں۔ یہ ہے ان لوگوں کا نظریہ‘ ایک طرف تو ان کے فلسفہ کی بنیاد یہ ہے کہ اصلاً کوئی خود موجود ہی نہیں ہے اور دوسری طرف لوگوں کے لئے خود بیگانگی کا فلسفہ گھڑنے لگے ہیں اور یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔
فویرباخ کی نظر میں دین کا نقطہ آغاز
فویرباخ ایک مادی فلسفی ہے۔ اس نے ایک عجیب بات کی ہے کہ دین اور مذہب کی اسی مذکورہ بنیاد پر ایک نفسیاتی اور عمرانی (Psychological & Sociological) استدلال پیش کرتے ہوئے شروع ہی سے یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ مذہب کی کوئی منطقی بنیاد نہیں۔ کہتا ہے کہ انسان کے دو قسم کے وجود ہیں‘ یہ بات بھی خود اس نے مذہب ہی سے لی ہے‘ انسان کا ایک وجود عالی ہے اور دوسرا پست‘ ہم اسے علوی پہلو اور سفلی پہلو کہتے ہیں۔ سفلی پہلو سے مراد انسان کا حیوانی پہلو ہے‘ اس پہلو سے اسے کھانے‘ سونے‘ غصہ کرنے اور خواہشات کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا‘ علوی پہلو سے مراد اس کی انسانیت ہے۔ فویرباخ بھی انسانی وجود کا حصہ سمجھتا ہے اور مجبوراً وہ اس پہلو ”اصالت“ کا قائل ہو گیا ہے‘ یہ وہی پہلو ہے کہ جو فضیلتوں کے ایک طویل سلسلے پر مبنی ہے۔ شرافت‘ کرامت‘ بزرگواری‘ رحمت‘ بھلائی‘ اچھائی‘ ان سب کا ذکر اسی پہلو کے ذیل میں آتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے اور اسے ضرور کہنا ہی چاہئے تھا کہ سب انسان ایسے ہوتے ہیں۔ کہتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو پستیوں کے حوالے کر دیتا ہے‘ یعنی اپنے سفلی پہلو کے تابع ہو جاتا ہے۔ پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ علوی وجود سے ہم آہنگ نہیں ہے‘ اب چونکہ وہ خود ایک پست اور انحطاط یافتہ حیوان بن چکا ہے‘ جبکہ خود اس کے اندر وہ خوبیاں اور کمالات بھی موجود ہیں تو وہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ مجھ سے ماوراء ہیں‘ پس وہ خود کو اپنے ہی وجود کی بنیاد پر گھڑ لیتا ہے۔ ایک انگریز فلسفی کا کہنا ہے کہ تورات میں آیا ہے:
ان اللہ خلق آدم علی صورتہ
”یعنی خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔“
مراد یہ ہے کہ آدم کو اس نے اپنے صفات کمالیہ کا نمونہ قرار دیا ہے۔
اس انگریز فلسفی نے تو یہ کہہ دیا ہے‘ لیکن مسئلہ اس کے برعکس ہے اور وہ یہ کہ اللہ نے انسان کو اپنی سیرت کے مطابق بنایا ہے‘ یعنی انسان اپنی ذات میں کمال کے ایک پہلو کا حامل ہے‘ وہ پہلو کہ جس میں تمام تر شرافت‘ کمال اور رحمت موجود ہے۔ اس پہلو کو اس نے اپنے آپ سے جدا کر دیا ہے‘ اس طرح سے انسان اپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا اور پھر وہ سوچنے لگا کہ یہ ساری خوبیاں اس وجود کی ہیں‘ جو مجھ سے ماوراء ہے اور اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سب تو اس کے اندر موجود ہے۔
فویرباخ کے بقول یہی وہ مرحلہ ہے کہ جہاں انسان خود اپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا‘ یعنی اس کے اندر جو امور موجود تھے‘ ان میں سے کچھ کو اپنے وجود سے جدا کر لیا اور فرض کر لیا کہ یہ سب کچھ اس کے ماوراء وجود میں ہے‘ لیکن کہتا ہے کہ تدریجاً یہی ماوراء نزدیک ہو گیا ہے کہ جو پہلے انسان سے دور ہوا تھا۔ بدوی اور قبائلی دور کے مذاہب میں دیوتاؤں (خداؤں) میں دور تھا‘ بعد میں یہودیوں کا خدا نزدیک ہو گیا‘ یہودیوں کا خدا انسان جیسا ہو گیا۔ اس خدا میں انسانوں جیسے احساسات‘ جذبات‘ غصہ اور رضامندی موجود ہیں۔ مسیحیت میں اس سے بھی نزدیک تر ہو گیا‘ یعنی انسانی شکل میں آ گیا جو مسیح ہے اور مسیح خدا ہو گیا‘ درحقیقت اس نے ایک دائرہ کا سفر طے کیا ہے۔ پہلے انسان نے اپنے آپ سے ان صفات کو جدا کیا اور پھر انہیں دور اور بہت دور فرض کر لیا۔ اس طرح سے دور کے اس موجود میں اور انسان میں کوئی رابطہ ہی نہ تھا اور آہستہ آہستہ وہ موجود انسان کی طرف لوٹ آیا‘ مسیح تک آ پہنچا‘ یعنی بہت نزدیک ہو گیا اور ایک انسان ہی خدا ہو گیا۔
چونکہ مسیحیت میں مسیح ہی خدا ہے‘ یعنی ایک ہی وقت میں انسان بھی ہے اور خدا بھی۔ بس ایک قدم کا فاصلہ رہ گیا ہے‘ انسان جس قدر اپنے آپ کو پہچانتا جاتا ہے‘ اتنا ہی اپنے آپ کو اس خود بیگانگی سے دور کرتا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کہتا ہے کہ دراصل میں خود ہی ہوں اور یہ سب صفات میری ہی ہیں‘ پھر ایک قدم بھی باقی نہیں رہتا۔ جبکہ اسلام مسیحیت کے بعد آیا ہے اور مسیحیت سے زیادہ تکامل یافتہ (تمام ارتقائی مراحل طے کئے ہونا) اس کے باوجود اس نے خدا کے اس انسانی پہلو کی یا ایک انسان کے خدا ہونے کی کہ جیسے مسیح کو قرار دیا جا رہا تھا‘ یعنی مسیح کی الوہیت اور ابن الہلیت (خدا کا بیٹا سمجھنا) کی شدت سے نفی کی ہے۔ مسٹر فویرباخ کے اس نظریے کے مطابق مذہب جلد ہی نابود اور ختم ہو جائے گا‘ یعنی انسان جس قدر اپنے آپ کو پہچانتا جاتا ہے‘ خدا کی ضرورت اس کے لئے کم ہوتی جاتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو صحیح طور پر پہچان لے تو مذہب کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی‘ پھر بجائے اس کے کہ انسان خدا کی پرستش (عبادت) کرے‘ اپنے آپ کو پوجنے لگتا ہے۔ خدا کی حمد و ثناء کرنے کی بجائے اپنی تعریف و مدح کرنے لگتا ہے۔
نظریہ فویر باخ پر تنقید
یہ نظریہ ایک تو اس حوالے سے رد ہو جاتا ہے کہ فویرباخ سے کہا جائے کہ آپ تو سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں‘ لہٰذا بطریق اولیٰ (بنیادی طور پر) آپ کے نزدیک انسان سو فیصد ایک مادی وجود ہے‘ لہٰذا آپ نے جو وجود انسانی کے دو پہلو بیان کئے ہیں‘ آپ اس دوگانگی کا کیسے استدلال پیش کریں گے؟ ان دو پہلوؤں کو مذاہب ہی بیان کر سکتے ہیں‘ کیونکہ وہی انسان کو ایک حقیقت خاکی اور ایک حقیقت ملکوتی کا مرکب جانتے ہیں۔
فاذا سویتہ و نفخت فیہ من روحی(ص‘ ۷۲)
ایک طرف سے تو ”سویتہ“ یعنی اسے میں نے کامل کر دیا‘ تمام ضروریات کے حوالے سے اس کی تکمیل کی۔ اس کے بعد کچھ اور بھی ہے اور وہ ہے ”و نفخت فیہ من روحی“ ”اور میں نے اس میں اپنی روح پھونکی“۔ اسی طرح ایک تعبیر سورہ ”قد افلح المومنون“ ہے:
و لقد خلقنا الانسان من سلالة من طین(مومنون‘ ۱۲‘ ۱۴)
یہاں تک کہ ارشاد ہوتا ہے:
ثم انشاء ہ خلقا اخر
”پھر اسے ہم نے ایک اور خلقت عطا کی۔“
یہ ”ایک اور خلقت“ اہل مذاہب تو کہہ سکتے ہیں‘ لیکن تم اسے کیونکر بیان کر سکتے ہو؟ دوسرے یہ کہ اس نظریے کے مطابق ہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ کوئی بھی انسان اس دنیا میں اپنی حقیقی منزلت و حیثیت پر باقی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انسان اپنی ذات میں دوگانگی کا حامل ہے‘ بعد میں جب انسان سماجی زندگی میں انحطاط پذیر ہوتا ہے تو اس پست اور حیوانی پہلو کی طرف گر جاتا ہے‘ اپنے بلند و برتر پہلو کو اپنے وجود سے جدا کر دیتا ہے‘ یہیں سے مذہب پر اعتقاد جنم لیتا ہے۔ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ پہلے ہم سب انسانوں کو حیوانیت میں گرا ہوا فرض کریں اور پھر ان سب تنزل یافتگان کو مذہبی فرض کریں‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ سے دو طرح کے رہے ہیں اور اسی طرح سے جو انسان حیوانیت میں جا گرے ہیں‘ وہ بھی۔ دوسری طرف ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جن لوگوں کا رجحان مذہب کی طرف ہوتا ہے‘ وہ کس طرح کے ہوتے ہیں؟ دنیا میں مذہب کے خواہشمند ہمیشہ کس طرح کے لوگ رہے ہیں؟ جبکہ یہ بات خود ہمارے دلائل میں سے ایک ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ شریف ہوتے ہیں‘ جن میں انسانی اقدار باقی ہوتی ہیں‘ کیا ان کا مذہب کی طرف رجحان ہوتا ہے یا ان لوگوں کا جو حیوانیت میں جا گرے ہوتے ہیں؟ یہ تو ایسی بات ہے کہ جس کا غیر مذہبی لوگ تک انکار نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کہتے ہیں‘ اگر دیکھیں کہ لوگ مذہبی ہیں تو یہ مذہبی ہونا ان کی ذاتی شرافت کا نتیجہ ہے‘ جس مذہب کی طرف ان کا رجحان ہے‘ یہ اس سے مربوط نہیں ہے‘ بلکہ یہ ان کی شرافت سے مربوط ہے‘ بلکہ مذہب کے خواہشمند ہمیشہ شریف النفس انسانوں میں سے ہوتے ہیں۔
آپ کہتے ہیں کہ چونکہ انسان اپنی شرافت سے تہی دامن ہو جاتا ہے اور حیوانیت میں جا گرتا ہے‘ یہ امر اللہ پر اعتقاد اور ایمان کی بنیاد بن جاتا ہے۔ جبکہ مسئلہ اس کے برعکس ہے‘ جن لوگوں کے اندر احساس شرافت زندہ ہو اور وہ انسانی اصالتوں پر باقی ہوں‘ وہی اللہ پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں اور وہی مذہب کے اصولوں کو مانتے ہیں‘ بہرحال ان صاحب کا نظریہ ایک منسوخ نظریہ ہے۔
 

صرف علی

محفلین
گسٹ کانٹ اور اسپنسر کا نظریہ
مذہب جہالت کا نتیجہ ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مذہب جہالت کا نتیجہ ہے‘ مجموعی طور پر یہ بات دو طریقوں سے بیان ہوئی ہے۔
اگسٹ کانٹ کا نظریہ اسپنسر اور دوسرے لوگوں کے نظریے سے مختلف ہے‘ اگسٹ کانٹ کا نظریہ تعلیل حوادث پر مبنی ہے۔ اس کی مراد یہ ہے کہ طبیعی طور پر انسان اصول علت و معلول کو تسلیم کرتا ہے‘ البتہ پہلے پہل کے انسان حوادث و واقعات کی اصل علت کو نہیں جانتے تھے‘ لہٰذا ان واقعات کو موجودات غیبی‘ خداؤں اور ایسی دوسری چیزوں سے منسوب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر بارش ہوتی تھی تو اس کی اصلی علت کو نہ جاننے کی وجہ سے کہتے تھے کہ بارش کے خدا ”دیوتا“ نے بھیجا ہے۔ طوفان آ جاتا تو کیونکہ اس کی بھی علت نہ جانتے تھے‘ کہتے تھے‘ طوفان کے خدا نے اسے بھیجا ہے۔ اسی طرح سے وہ دیگر حوادث و واقعات کی جیسے ہم توحید کے باب میں کہتے ہیں کہ یہ بات فقط شناخت کے مرحلے سے مربوط ہے۔
اسپنسر اور دوسرے لوگ اس بات کو ایک اور طرح سے بیان کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان روح اور بین کی دوگانگی کے حوالے سے اپنے وجود کے دو پہلوں کا معتقد ہے‘ اس لئے کہ اس نے خواب میں لوگوں خصوصاً مردہ لوگوں کو جب دیکھا تو اس نے سوچا کہ یہ خواب میں آنے والا ایک موجود ہے‘ جو خارج میں ایک حقیقت رکھتا ہے‘ کیونکہ مردے کا جسم تو مٹی میں مل چکا ہے‘ لہٰذا وہ اس بات کا معتقد ہو گیا کہ اس کی ایک روح ہے۔ چنانچہ وہ اس بات کا معتقد ہو گیا کہ ہم تمام انسانوں کی روح بھی ہے اور بدن بھی اور پھر اس نے سوچا کہ دریا کی بھی روح ہے‘ طوفان کی بھی روح ہے اور سورج میں بھی روح اور جان ہے۔
پھر جب انسان کو کوئی مشکل پیش آتی‘ قدرتی توانائیوں سے سامنا ہوتا تو وہ بالکل ویسا ہی کرتا جیسا وہ کسی بااقتدار انسان کے سامنے کرتا تھا کہ اسے ہدیہ و نذر پیش کرتا تھا اور کوئی چاپلوسی سے کام لیتا تھا وغیرہ‘ یعنی پرستش اور عبادت کو اس نے قدرتی توانائیوں کے لئے بھی انجام دینا شروع کر دیا۔ دراصل اسپنسر اس امر کی توجیہ کرنا چاہتا ہے کہ پہلی بار عبادت کہاں سے پیدا ہوئی‘ یعنی عبادت کا نقطہ آغاز کیا ہے؟ اس کے نزدیک یوں قدرتی توانائیوں کی پرستش کا سلسلہ وجود میں آیا۔
لہٰذا اگسٹ کانٹ فقط نظری اور فکری حوالے سے استدلال پیش کرتا ہے‘ جبکہ اسپنسر پرستش کی بنیاد کو بیان کرتا ہے کہ پہلی بار پرستش کہاں سے شروع ہوئی۔ اس کے نزدیک عالم طبیعت (کائنات) کی توانائیوں کی وجہ سے یہ سلسلہ شروع ہوا کہ جیسے انسان اپنے سے زیادہ طاقت ور انسانوں کی چاپلوسی‘ خوشامد اور جی حضوری کرے اور ان کے لئے ہدیے اور تحائف لے جائے‘ اسی طرح ان کے لئے بھی تحفے تحائف لے جانے اور قربانی کرنے لگے اور جیسے انسانوں کی خوشامد اور جی حضوری کرتے تھے‘ ان کی بھی عبادت کرنے لگے اور ان کا بھی ذکر و ثناء کرنے لگے۔
اس نظریے کے مطابق جب جہالت ختم ہو جائے گی کہ اگسٹ کانٹ کا کہنا ہے‘ انسان جب ان چیزوں کے اسباب کو جان لے گا اور سمجھ لے گا کہ ایسا نہیں ہے اور یہ کوئی جاندار چیزیں نہیں ہیں‘ سمندر بے جان ہے‘ زمین بے جان ہے‘ بارش بے جان ہے‘ یہاں تک کہ خود انسان ایک روح نہیں رکھتا‘ اس نظریے کے بارے میں بھی لازمی طور پر شک و شبہ میں پڑ جائے گا یا اس کے درست ہونے کا انکار کر دے گا۔ اس صورت میں پرستش اور عبادت کی کوئی بحث ہی باقی نہیں رہے گی‘ یعنی علم کی وسعت کے ساتھ ساتھ مذہب بھی ختم ہو جائے گا۔
مذکورہ مقالے کا مصنف جواب دیتا ہے کہ یہ بات دلائل کی بنیاد پر درست نہیں ہے‘ ایک یہ کہ تجربہ نے اس کے خلاف ثابت کر دیا ہے کہ جاہلوں میں مذہب بھی موجود ہے اور لامذہبیت بھی‘ اسی طرح عالموں میں بھی مذہب موجود ہے اور لامذہبیت بھی۔ یعنی مسئلہ مذہب و لامذہبیت‘ علم و جہل سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتا‘ اگر مذہب جہالت کا نتیجہ ہوتا تو پھر لوگ جتنے زیادہ جاہل ہوتے‘ اتنے ہی زیادہ مذہبی ہوتے اور جتنے زیادہ علم والے ہوتے‘ اتنے ہی لامذہب ہوتے۔ لہٰذا پہلے درجے کے علماء کو لازمی طور پر لامذہب ہونا چاہئے‘ جبکہ عملاً ایسا نہیں ہے اور پھر وہ کئی نام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ڈارون بھی لامذہب نہ تھا (انور خامنہ ای کے مقالے میں ایک نکتہ ہے کہ جس کے بارے میں‘ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ اس نے دو اشعار کو بطور سند ذکر کیا ہے اور ان سے جو مفہوم اس نے اخذ کیا ہے‘ میری نظر میں وہ درست نہیں۔ ایک مولانا روم کا یہ شعر ہے۱۱
ابلھی شو تا بمانی دین درست
”بے وقوف بن جا‘ اگر دین کو صحیح رکھنا ہے۔“
باوجود اس کے کہ ابوالعلاء معری کے بارے میں کچھ نظریات ہیں‘ البتہ کم از کم بعید ہے کہ اس نے یہ شعر اس مقصد کے لئے کہا ہے:
اثنان اہل الارض ذو عقل بلا دین وآخر دین لا عقل لہ
”اہل زمین کے دو گروہ ہیں یا تو دین دار ہیں کہ جو عقل نہیں رکھتے اور یا پھر عقلمند ہیں کہ جو دین نہیں رکھتے۔“
میرا خیال یہ ہے کہ ان دونوں اشعار میں ایسے دینداروں پر ایک طنز ہے کہ جو مثلاً کفر کا فتویٰ دیتے پھرتے تھے۔ یہ ان کا جواب تھا‘ ایسا نہیں کہ جیسا یہ ماہرین عمرانیات سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ یہ تھا کہ دین جہالت کی پیداوار ہے)۔
ابوالعلاء معری اگرچہ حکیم اور فلسفی تھا‘ لیکن شاعر مزاج بھی تھا‘ وہ ایسا شخص تھا کہ جو مختلف حالات میں مختلف باتیں کیا کرتا تھا۔ میں نے ابوالعلاء کے بارے میں زیادہ مطالعہ نہیں کیا‘ البتہ میں نے جتنا مطالعہ کیا ہے‘ اس کے مطابق بہت قوی ہے اور ایسی باتیں بھی مل جاتی ہیں جو ان چیزوں کے خلاف ہیں۔
رہی بات ”مولوی“ کے شعر کی‘ تو مجھے مذکورہ شعر کہیں نہیں ملا‘ البتہ ”مولوی“ کے بارے میں کوئی ایسی بات سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرا بہت قوی اندازہ یہ ہے کہ ”مولوی“ چونکہ عارف ہے اور اس لحاظ سے فلسفیوں سے اس کی ٹھنی رہتی ہے‘ وہ نظریہ تسلیم کو بیان کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب تک انسان کا حقیقت کے سامنے سر تسلیم ختم نہ ہو‘ اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ اپنا سب کچھ چھوڑ کر حقیقت کے پاس آ جائے اور ایک عارف کی فکر ہمیشہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ کہتا ہے:
” اپنی خود ”میں“ کو ایک طرف رکھ دو آگے بڑھو۔“
ایک حدیث کہ جس کا حدیث ہونا مسلم نہیں ہے:
علیکم بدین العجائز
”تمہیں عاجزوں کا دین اپنانا چاہئے۔“
مولوی نے اس حدیث تک کو نقل کیا ہے اور اس کے اس معنی میں دلائل دیئے ہیں‘ یعنی اس کی نگاہ میں ”عجائز“ ”عجز“ سے ہے‘ جس سے مراد ”انکساری کی حالت“ ہے۔ مولانا روم کے بہت سے اشعار میں عقل کی مذمت کی گئی ہے‘ جس عقل کی مذمت کی گئی ہے‘ وہ فلسفیانہ عقل ہے کہ جو عشق عارفانہ کے مقابلے میں ہے‘ یعنی عقل و عشق کا تضاد بیان کرتے ہوئے اس نے عقل کی مذمت کی ہے‘ عشق سے وابستگی اختیار کی ہے۔ البتہ عرفان یہی کچھ کہتا ہے:
آزمودم عقل دور اندیش را
بعد از این دیوانہ سازم خویش را
وہ کچھ اس طرح کی بات کرتا ہے‘ نہ کہ ان کی بات مشکل گھڑی میں عقل دور اندیشی کام نہ آئی‘ میں نے مجبور ہو کر دیوانگی کا راستہ اپنا لیا۔
رُسل کا نظریہ: ۱دین کمزوری اور خوف کا نتیجہ ہے
انور خامنہ ای کے بقول مذہب کی پیدائش کے بارے میں ایک اور نظریہ یہ ہے کہ مذہب انسان کی کمزوری اور ناتوانی کی پیداوار ہے اور یہ دراصل مسئلہ خوف ہے۔
اس مسئلے پر جس نے سب سے زیادہ زور دیا ہے‘ شاید وہ ”رُسل“ ہے۔ اس سے نقل کی گئی عبارات میں سے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:
رسل کی کتاب ”تعلیم و تربیت“ اور سماجی نظم سے ”برگزیدئہ افکار رُسل“ میں نقل کیا گیا ہے:
”اللہ اور حیات بعد از ممات پر اعتقاد‘ ہمارے لئے ”متشلگین“ (شکل کی بناء پر سوچنے والے لوگ) کی نسبت کم تر جرات کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا امکان مہیا کرتا ہے‘ یعنی دین پر اعتقاد زیادہ کم ہمت اور بزدل بنا دیتا ہے۔ زیادہ تر لوگ ان مذہبی احکام پر ایمان‘ اسی عمر میں کھو بیٹھتے ہیں‘ جس میں یاس و ناامیدی ”قنوطیت“ انسان پر جلد غالب آ جاتی ہے‘ لہٰذا جن لوگوں نے مذہبی تربیت بالکل حاصل نہ کی ہو‘ ان کی نسبت انہیں زیادہ سخت ناکامیوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ مسیحیت ایسے دلائل پیش کرتی ہے کہ جس کی بناء پر وہ دعوت دیتی ہے کہ ہم موت یا کائنات سے نہ ڈریں‘ لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جرات و بے باکی کی صفت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی‘ جبکہ مذہب کی طرف رجحان کا بہت سا حصہ انسان کے خوف ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مذہب کے حامی اس فکر و خیال کی بناء پر کہ خوف کی بعض اقسام کو خیال میں نہیں لانا چاہئے‘ رجحان کا اظہار کرتے ہیں۔ میری نظر میں یہ لوگ اس حوالے سے سخت غلطی پر ہیں۔ اس سے قطع نظر جو شخص مختلف قسم کے خوف سے بچنے کے لئے پرمسرت اعتقادات کا سہارا لیتا ہے‘ اسے نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے زندگی گزارنے کی ممکن طور پر بہترین راہ اپنائی ہے۔ جب تک مذہب خوف کا سہارا لیتا رہے گا‘ انسانی مقام و مرتبہ کم ہوتا رہے گا۔“
نیز ”رُسل“ کی کتاب ”انسانی سماج“ (اجتماع انسانی) سے نقل کیا گیا ہے کہ میرا خیال ہے کہ جو انسان زندگی کے ہولناک امور کو افسانوی رنگ دے کر برداشت نہیں کر سکتا‘ وہ ایک کمزور اور خوفزدہ موجود ہے۔ ایسا انسان اپنے وجود کے ایک حصہ میں خود اس حقیقت کا معترف ہے کہ جو کچھ وہ قبول کر رہا ہے وہ افسانہ ہے اور داستان کے علاوہ کچھ نہیں اور اس نے اسے صرف اطمینان قلب کی خاطر قبول کر رکھا ہے‘ لیکن ایسے افکار کا سامنا کرنے کی وہ ہرگز جرات و بہادری نہیں رکھتا‘ یہاں تک کہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے افکار کے غیر منطقی ہونے کو جانتا ہے‘ لہٰذا وہ ان کے بارے میں تعصب سے کام لیتا ہے اور ان کے بارے میں بحث و مباحثہ سے گریزاں رہتا ہے۔
بہ بالفاظ دیگر انسان نے کچھ ایسے مظاہر (Phenomans) دیکھے ہیں کہ جن سے وہ خود خوف زدہ ہوا اور اس خوف کی وجہ سے اسے اس بات کی ضرورت پڑی کہ اپنے اس داخلی اضطراب اور پریشانی کو کسی طرح سکون اور اطمینان میں تبدیل کرے۔ وہ علم اور ان مظاہر کی حقیقی شناخت حاصل نہ کر سکا کہ جو اس کی پریشانی کے خاتمے کے لئے مناسب راہ حل ہوتی۔ وہ مجبور ہوا کہ حقیقی علاج کی بجائے کسی خواب آور دل خوش کن چیز کا سہارا لے‘ مثلاً قضاء و قدر پر اعتقاد کے ذریعے اس نے اپنی زندگی کی ناہمواریوں کا حل تلاش کیا۔ بہشت پر اعتقاد کے ذریعے اس نے سوچا کہ اگر یہاں ہمیں خوشیاں حاصل نہیں تو اس کے عوض میں بہشت ہے‘ یوں ناہمواریوں کو اس نے اپنے لئے آسان بنا لیا اور اسی طرح باقی چیزیں ہیں۔“
تحقیق و تنقید
ہم اپنی اسی گزشتہ گفتگو کی طرف لوٹتے ہیں‘ شاید اس کی صحیح وضاحت نہیں ہو سکی۔ ہمارے علماء اصول کی اصطلاح میں کہا جا تا ہے کہ فلاں دلیل‘ فلاں دلیل پر حاکم ہے یا کہتے ہیں کہ اس دلیل پر وارد ہے۔ ان کی مراد یہ ہے کہ دو دلیلیں کبھی ایک دوسرے سے متعارض و مخالف نہیں ہو سکتیں‘ کیونکہ ایک دلیل کسی ایک شرط پر مبنی ہے‘ جب دوسری دلیل آتی ہے تو وہ پہلی دلیل کی شرط کو ختم کر دیتی ہے‘ جب شرط ختم ہو جاتی ہے تو اس کے سہارے پر قائل دلیل خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ نہ یہ کہ دو دلیلیں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں‘ ان کے لئے ٹکراؤ کی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔ اگر اس مسئلہ کی تفصیل میں چلا جاؤں تو اپنی اصلی بحث سے دور ہو جاؤں گا‘ جو افراد اس میں کچھ دخل رکھتے ہیں وہ اس مسئلہ کو جانتے ہیں۔
جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ان لوگوں کے مفروضے کی بنیاد ہی یہ ہے کہ دین کی پیدائش منطق کی بنیاد پر نہیں ہو سکتی۔ اب اس صورت حال میں ہم غیر منطقی امور یعنی خوف جہالت وغیرہ کا جائزہ لیتے ہیں۔
ان لوگوں سے یہ کہا جانا چاہئے کہ کسی انسان کی کوئی فکر ہرچند کہ باطل ہی کیوں نہ ہو‘ لیکن اس فکر کی طرف بھی انسانی رجحان کی بنیاد انسانی منطق ہی ہے۔ مثال کے طور پر چند ہزار سال قبل انسان یہ سوچتا تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے اور زمین ساکن ہے۔ کیا ہمیں کبھی اس سوال کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا وجہ ہوئی کہ انسان اس بات کا معتقد ہوا کہ زمین مرکز ہے اور سورج اور ستارے زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں؟ کیا یہ موت کا ڈر تھا اور یا ایسی ہی کوئی اور وجہ تھی؟ ہرگز نہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ انسان کی فکر اور منطق نے اسے یہ نظریہ اپنانے پر مائل کیا تھا‘ فکر اور منطق کے علاوہ کوئی اور عامل اس نظریے کے اختیار کرنے میں دخل انداز نہ تھا۔ اگرچہ یہ نظریہ درست نہ تھا مگر انسان دیکھتا تھا اور ظاہری طور پر اسے یہی دکھائی دیتا تھا کہ سورج اور ستارے زمین کے گرد گردش کرتے ہیں۔ جیسا وہ دیکھتا تھا وہی کچھ کہتا تھا‘ اس مسئلہ میں انسان کے دیکھنے اور اس کی فکر کے علاوہ کوئی اور وجہ نہ تھی‘ خارج سے یا ماوراء سے اس کے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ یہ بات تیرہ (۱۳) کے عدد کی نحوست پر اعتقاد کے مانند نہ تھی کہ کہا جا سکے کہ اس مقام پر عقل انسانی کے علاوہ کوئی اور عامل کار فرما تھا۔
ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ کیا انسان وہی چند ہزار سال پہلے کا انسان ہے؟ اگر انبیاء کے مسئلے کو نظرانداز بھی کر دیا جائے تو بھی خوش قسمتی سے آج علم فن و صنعت یہاں تک کہ فکر و نظر میں انسان کے چند ہزار سال پہلے کے جو آثار ملے ہیں‘ ان میں سے بعض تو بہت ہی اعلیٰ سطح کے ہیں اور بہت سے ایسے ہیں کہ جن تک آج رسائی نہیں ہے۔ قدیم ترین کتابیں کہ جو چین وغیرہ سے ملی ہیں‘ ایسے فلسفیانہ افکار پر مبنی ہیں کہ جو اس قدر دقیق اور بلند ہیں کہ آج کے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ اہرام مصر کے بارے میں پروفیسر ہشترودی جیسے آج کے لوگ باور نہیں کر سکتے کہ یہ اس زمانے کے انسانوں کے ہاتھوں بنے ہیں‘ یعنی یہ فن اور صنعت کی ترقی کا ایسا نمونہ ہے کہ کہتے ہیں کہ انہیں دیگر سیاروں سے آ کر انسانوں نے بنایا ہے۔ ہاں! کیا انسان وہی گزشتہ زمانے کا انسان اتنی بھی فکر نہ رکھتا تھا کہ اس کی عقل اسے مذہب اور خدا کی طرف لے جاتی؟
یہ جو آپ کہتے ہیں کہ حوادث اور واقعات کے بارے میں سوچتا تھا اور کہتا تھا کہ ان کی کوئی علت یا سبب ہے۔ تو بہت خوب! وہ ایک قدم اور اٹھا لیتا ہے اور سوچتا ہے کہ خود وہ علت کیا ہے؟ یہ ایک آسان سا قدم ہے کہ جسے انسانی فکر اٹھا سکتی ہے‘ اسی پہلے قدم پر نہیں ٹھہرتی اور یوں کہہ کے نہیں رک سکتی کہ اس کا نام ”الہ“ اور خدا ہے‘بلکہ فکر کہتی ہے یہ جو بارش ہے‘ کوئی چیز ہے کہ جو اسے برساتی ہے۔ پھر فکر اس چیز کی کھوج میں نکل پڑتی ہے کہ خود وہ چیز کیسی ہے؟ یہ بات انسان کے ابتدائی افکار کا حصہ ہے‘ اس کے لئے کوئی ایسا انسان نہیں چاہئے کہ جو مدرسہ گیا ہو اور تعلیم حاصل کی ہو‘ بلکہ ہر انسان جلد ہی اس بات کی طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں‘ یہ مقہور و مربوب کی صورت میں ہے۔
قرآن اور معرفت خدا
دیکھئے کہ قرآن ابراہیم کی داستان کو کس اعجاز آمیز پیرائے میں بیان کرتا ہے۔ وہ ابراہیم کو جو قدیم ترین انبیاء میں سے ہیں‘ یہاں تک کہ وہ مسیحأت اور یہودیت سے بھی پہلے ہیں۔ یہ واقعہ اس زمانے کا ہے کہ جب ابراہیم علیہ السلام ابھی بالکل نوجوان تھے‘ وہ بعض خاص وجوہ کی بناء پر معاشرے سے الگ تھلگ رہے تھے۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی نکتہ ہے کہ قرآن بیان کرتا ہے کہ ابراہیم کچھ خاص وجوہات کی بناء پر معاشرے سے دور رہے تھے اور اپنا بچپن انہوں نے غار میں بسر کیا تھا (میں نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی ہے کہ قرآن کی حی ابن یقظان ابراہیم ہے۔ حی ابن یقظان یعنی ایک ایسا انسان کہ جسے فلسفی حضرات فرض کرتے ہیں کہ وہ غار میں ہو اور ایک ایسی جگہ پر ہو کہ جہاں وہ کسی انسان کو نہ دیکھ پائے اور کسی سے کوئی فکر حاصل نہ کرے‘ اسی حالت میں بڑا ہو‘ پھر اسی حالت میں وہ دنیا کے سامنے آ جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کس طرح سے سوچتا ہے؟ لیکن قرآن کا اپنا ایک حی ابن یقظان ہے کہ جو ایک حقیقی انسان بھی ہے)۔ جب انہوں نے پہلی مرتبہ اس دنیا کو دیکھا‘ چمکتے ستارہ پر نظر پڑی تو اس نے ہر چیز سے زیادہ انہیں اپنی طرف جذب کر لیا‘ کہنے لگے:
ھذا ربی
اب چاہے یہ سوالیہ انداز ہو یا قبول کرنے کی صورت میں ”میرا رب مجھے چلانے والا ہے‘ مجھے پالنے والا‘ میری تدبیر کرنے والا۔“
پھر انہوں نے دیکھا کہ کچھ دیر بعد اس کی جگہ کچھ تبدیل ہو گئی اور وہ ڈوب گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے اندر کی طبیعت ان سے کہتی ہے کہ اپنے رب کی جستجو کر۔ وہ طبیعت اور حالت مقہور و مربوب اور مسخر ہونے کی ہے‘ جسے انہوں نے ”ھذا ربی“ کہا تھا‘ اسے بھی اسی حالت سے دوچار پایا‘ تو کہنے لگے:
لا احب الآفلین
”مجھے ان ڈوب جانے والوں کی تو خواہش نہیں ہے۔“
چاند پر نظر پڑی تو وہ بڑا نظر آیا‘ کہنے لگے:
ھذا ربی
اور جب دیکھا کہ وہ خود مربوب ہے‘ تو انہیں تعجب ہوا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ میرا رب کوئی ہے تو سہی لیکن یہ نہیں‘ حیرت ہے کہ اب کے بھی مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ کہنے لگے:
لئن لم یہدنی ربی
”اگر حقیقی پروردگار میری رہنمائی نہ کرتا تو میں سخت گمراہ ہو گیا تھا۔“
سورج کو دیکھا تو بول اٹھے:
ھذا ربی ھذا اکبر فلما افلت…
پھر وہ ان سب سے دست کش ہو گئے۔ انہوں نے سب کا حساب لگایا اور یہ ہے بھی بہت آسان سا مسئلہ‘ یہ سب کہ جنہیں دیکھ رہا ہوں‘ ایک سے ہیں۔ کہنے لگے:
سودا چینن کند خوش است کہ یکجا کند کسی
”یہ سب چیزیں متحرک اور مسخر ہیں‘ انہیں گردش دی جا رہی ہے۔“
انہیں سارا علم ایک واحد مربوب کی صورت میں نظر آیا۔ قرآن بھی کہتا ہے کہ پہلے انسان کی فکر بھی یہی کہتی تھی کہ پوری کائنات ایک مربوب کی طرح ہے‘ خدا بس وہی ہے کہ جس میں ان سب کی خصوصیات نہ ہوں۔
ابراہیم کہنے لگے:
وجہت وجھی للذی فطر السموات و الارض
”میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔“(انعام‘ ۷۹)
ان حضرات سے کہا جانا چاہئے کہ انسان شناسی کیا ہے؟ اس طریقے سے درست ہے یا اس طرح سے کہ جس طرح سے تم کہتے ہو؟ تفسیر میزان کا مطالعہ کیجئے تو اس کے مطابق آیت ”ذر“ بھی اسی مسئلے کی نشان دہی کرتی ہے:
و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظہور ھم ذریتھم و اشھد ھم علی انفسھم الست بر بکم قالوا بلی
(اعراف‘ ۱۷۲)
قرآن کہتا ہے کہ یہ امر تعلیم و تربیت سے مربوط نہیں ہے۔ پہلے زمانے کا‘ درمیانے زمانے کا اور آخری زمانے کا‘ گویا ہر زمانے کا انسان اس میں شامل ہے اور یہ بات انسان کی فطرت میں سے ہے:
الست بر بکم
”کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟“
یعنی انسان احساس کرتا ہے کہ وہ خود اور ہر وہ چیز جو اس کی سی خصلت و کیفیت رکھتی ہے‘ ان میں سے ہر کسی کا ایک رب ہے کہ جو مربوب نہیں ہے‘ کیونکہ اگر کوئی رب خود مربوب ہو گا تو وہ بھی دوسرے مربوبوں میں سے ہے۔
جب یہ موضوع ایک منطقی بنیاد رکھتا ہے‘ یعنی منطق اس امر کے لئے کافی ہے کہ انسان کو اس تک پہنچا دے تو یہ کیا بیماری اور عارضہ ہے کہ انسان ایسے دلائل اور ایسی تاویلات میں پڑے؟ یہ بات تو کچھ ایسی ہے جیسے کسی ہال کا دروازہ کھلا ہو اور وہاں ایک نشست کا آغاز ہو چکا ہو‘ پھر کسی آدمی کو ہم ہال کے کمرے میں دیکھیں اور کہیں کہ یہ آدمی کہاں سے آ گیا؟ کیا وہ ایئرکنڈیشن والے سوراخ میں سے آیا ہے؟ کیا وہ دیوار میں نقب لگا کر آیا ہو گا؟ یا کیا چھت پھاڑ کر آیا ہو گا؟ کہیں گے ارے بھائی‘ دروازہ کھلا ہے‘ وہاں سے آیا ہے‘ اگر دروازہ بند ہو‘ پھر کوئی اجنبی دکھائی دے تو ادھر ادھر دیکھنا چاہئے کہ کہاں سے آیا ہے؟ لیکن جب دروازہ کھلا ہو تو پھر یہ عارضہ ہی ہے کہ انسان سوچنے لگے کہ یہ کس سوراخ سے آ گیا ہے۔
قرآن کی منطق قوی ہے یا ان کی منطق؟ قرآن خاص طور پر حضرت ابراہیم کی مثال کا ذکر کرتا ہے۔ وہ ابراہیم جوسولہ (۱۶) برس کی عمر تک ایک ایسی جگہ پر تھے‘ جہاں سے وہ دنیا کو نہ دیکھ سکے‘ اتنا عرصہ وہ بس ایک غار ہی میں رہے۔ کہتے ہیں کہ شروع شروع کا انسان یعنی ابتدائی ترین انسان کہ جس کی فطرت بالکل بے آلائش اور ہر طرح کے خارجی اثرات سے محفوظ تھی‘ اپنی فطرت کے ذریعے اس طرح کے فیصلے پر پہنچتا ہے‘ یعنی یہ تو سادہ ترین مسائل میں سے ہے۔ یہ تو ہو گیا مسئلہ کا ایک پہلو۔
دوسرا پہلو یہ کہ کیا شروع شروع کا انسان اس کائنات میں اس حیرت انگیز نظم کو نہیں دیکھ پاتا تھا؟ کیا شروع شروع کا انسان درخت نہیں اگاتا تھا؟ جب وہ دیکھتا تھا کہ ایک سادہ سا بیج جب زمین میں بویا جاتا ہے تو وہ ایک درخت کی صورت اختیار کر لیتا ہے‘ پھر اس پر اس قدر پھول‘ پتے اور پھل نکل آتے ہیں۔ کیا یہ بات اسے ورطہ حیرت میں نہ ڈال دیتی تھی؟ کیا وہ اپنے جسم کے نظام کو نہ دیکھتا تھا؟ کیا یہی نظم و نسق انسان کو حیران نہ کر دیتا تھا کہ ہم کہہ سکیں کہ یہی امور انسان کے خدا اور مذہب کی طرف رجحان کا سبب بن گئے؟ اب آپ چاہیں تو اسے غلط کہہ لیں۔ میں کہوں گا‘ کیا یہ چیزیں انسان میں اس فکر کے پیدا کرنے کے لئے کافی نہ تھیں؟ جب فکر انسانی کے لئے یہ سب بنیادیں فراہم ہیں اور جب منطقی اور فکری دروازے کھلے ہیں تو پھر ہم کیسے ان سے آنکھیں پھیر لیں اور پھر کہیں کہ خوف انسانی فکر میں تصور خدا کی پیدائش کا سبب بنا ہے؟ (ہم کہہ چکے ہیں کہ فکر انسانی کی بنیاد یہ ہے کہ وہ غور و فکر کرے‘ چاہے غلط ہو جیسے زمین کی حرکت اور سورج ساکن ہونا)۔ کیا جہالت اور واقعات کے اسباسب کو نہ پہچاننا سبب بن گیا ہے؟ کیا اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے مردوں کو خواب میں دیکھا اور روحوں کی دوئی تک پہنچا؟ جب ایک سارا دروازہ کھلا ہے‘ تو پھر یہ کیا جنون ہے اور یہ کیا سبب ہے کہ انسان ایسی چیزوں کا متلاشی ہو؟ جبکہ اسے نہیں ہونا چاہئے‘ جبکہ اس کے پاس فکری اور منطقی بنیاد موجود ہے۔ اولاً ابتدائی انسان کے لئے بھی اسی قدر کافی ہے کہ خدا کا تصور اسے حاصل ہو۔ ثانیاً تاریخ شاہد ہے کہ جس دور کو یہ لوگ ماقبل تاریخ زمانہ کہتے ہیں‘ اس کے جس قدر تاریخی آثار موجود ہیں‘ ان سے بھی اس بات کا سراغ مل جاتا ہے کہ اس دور میں بھی بہت سے مفکر لوگ موجود تھے۔ اب ہمارے بقول وہ پیغمبر تھے اور ان کے بقول وہ فلسفی تھے کہ جو اس امر کے لئے کافی تھے کہ اس سلسلے میں انسان کی رہنمائی کر سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ
”ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان چونکہ واقعات و امور کی بنیادوں اور اصول سے بے خبر تھا‘ لہٰذا اس جہالت و لاعلمی کی وجہ سے انسانی فکر بھٹک گئی ہے۔“
گویا ایک جہالت اور دوسرا دلالت پر فطری اعتقاد‘ کیونکہ اگر علیت پر اعتقاد نہ ہو تو فقط جہالت (کسی عقیدہ کے اختیار کرنے کیلئے) کافی نہیں ہے۔ میں نے اسے پہلا قدم اور دوسرا قدم کا نام دیا ہے۔
پہلا قدم
یہ ہے کہ انسان کہتا ہے کہ یہ واقعہ بغیر کسی علت و سبب کے نہیں ہو سکتا۔ انسانی ذہن یہاں تک کہ ایک تین یا چار سال کے بچے کا ذہن بھی جب کسی واقعہ یا مسئلہ کا سامنا کرتا ہے تو سبب اور علت کو جاننے کا خواہش مند ہو جاتا ہے۔ مثلاً ایک تین چار سال کا بچہ جب کہیں سے کوئی آواز سنتا ہے‘ اب آپ چاہے اسے ایک مفہوم سے دوسرے کی طرف ذہن کے سفر کا نام دیں یا کچھ اور‘ بہرحال وہ ادھر ادھر دیکھنے لگتا ہے۔ وہ اس کی علت اور سبب کو جاننا چاہتا ہے‘ یعنی اس کا ذہن اس بات کو نہیں مانتا کہ آواز خود بخود پیدا ہو گئی ہے‘ یعنی ابتدائی انسان ہمیشہ علت کا متلاشی رہا ہے۔
دوسرا قدم
میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ دوسرا قدم ایک انتہائی سہل و آسان قدم ہے۔ یہ کوئی ایسا قدم نہیں ہے کہ بیسویں صدی آن پہنچے‘ تب انسانی فکر اس تک رسائی حاصل کرے‘ تب وہ کہتے کہ خود علت کیسے وجود میں آئی ہے؟ اسے علت کی علت کا مسئلہ کہتے ہیں اور پھر یہ مسئلہ پیش آئے کہ کیا ایک ایسی چیز ہے کہ جو ان تمام چیزوں کی علت ہو یا ایسا کوئی وجود نہیں ہے؟ یہ سوال بہت جلد انسان کے ذہن میں ابھر آتا ہے‘ جب یہ سوال ابھرے وہی بات جو قرآن کہتا ہے یعنی جو انسانی فطرت میں ہے کہ
”جب انسان مربوبیت کے پہلو کو دیکھتا ہے‘ یعنی تغیر و تبدل کا مشاہدہ کرتا ہے‘ جب دیکھتا ہے کہ چیزیں تغیر اور تبدل کا شکار ہوتی ہیں اور اپنی خواہش کے بغیر آتی جاتی ہیں‘ تو پھر وہ تغیر و تبدل کے عامل کی جستجو کرتا ہے۔“
”ثبات صرف تغیر کو ہے زمانے میں“ وہ دیکھتا ہے کہ تمام اشیاء تغیر و تبدل کے قانون کی پابند ہیں‘ یعنی محسوس کرتا ہے کہ ان سب کی سرشت میں یہ بات سمائی ہوئی ہے‘ یعنی یہ سب تغیر پذیر چیزیں ہیں کہ جن پر کوئی ایک طاقت یا کئی قدرتیں حکم فرما ہیں اور یہ سب کسی اور کی تابع فرمان ہیں‘ محکوم بھی ہیں اور مربوب۔ اس کے ذہن میں اچانک یہ بات ابھرتی ہے کہ کیا کوئی ایسی طاقت و قدرت موجود ہے جو فقط حاکم ہو محکوم نہ ہو‘ تغیر دینے والی ہو اور خود متغیر نہ ہو؟ ایسے سوال کا ذہن میں ابھرنا مکمل طور پر ایک طبیعی اور فطری امر ہے۔
منطقی فکر سے یہاں میری یہ مراد نہیں ہے کہ منطقی فکر ہمیشہ درست ہوتی ہے یا نہیں۔ یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور یہ کہ منطق نے انسان کی رہنمائی کی ہو‘ یہ ایک دوسرا مسئلہ ہے۔ منطق کبھی تو انسان کی رہنمائی کرتی ہے‘ اگرچہ وہ رہنمائی غلط ہو‘ لیکن بہرحال فکر ہے کہ جس نے انسان کی رہنمائی کی ہے‘ یعنی انسان کو خود اس کے اندر سے ہدایت ملی ہے‘ یعنی وہ اس کی قوت ادراک ہے کہ جس نے اسے یہاں تک پہنچایا ہے۔ قوت ادراک سے ماوراء کوئی عامل نہیں ہے‘ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ زمین کے ساکن ہونے اور اس کے گرد سورج کی گردش کا نظریہ ایک غلط نظریہ تھا‘ لیکن یہی انسان کے ادراک کی قوت تھی کہ جس کے باعث انسان کئی ہزار سال تک اس غلط نظریے پر قائم رہا۔ اس سے ماوراء کوئی عامل نہ تھا کہ جس کی بناء پر ہم یہ کہیں کہ چونکہ اب یہ غلط ثابت ہو گیا ہے‘ لہٰذا آئیں دیکھیں کہ کہیں اس کی علت کوئی خواب تو نہ تھا یا اس جیسی کوئی اور چیز؟ نہیں بلکہ انسان حس رکھتا ہے‘ فکر کرتا ہے‘ اپنی حس کی بنیاد پر وہ سوچتا اور فکر کرتا ہے۔ آنکھ بظاہر دیکھتی تھی کہ زمین حرکت نہیں کرتی اور سورج متحرک تھا‘ کچھ اوپر کو اٹھتا تھا اور پھر مزید اوپر کو اٹھتا تھا‘ اسے دیکھا تو انسان نے خیال کیا کہ اس کی اس حس نے کوئی غلطی نہیں کی‘ لہٰذا اس مسئلے کے ادراک اور فکر سے ماوراء کوئی علت نہیں ہے۔
لہٰذا ہم جو کہتے ہیں کہ ان مسائل کے لئے ہمیشہ منطق اور ادراک سے ماوراء کی علت کی جستجو آخر کیوں کی جاتی ہے؟ ہمیں اس صورت میں ادراک اور فکر کی قوت سے ماوراء کی علت کی کھوج میں نکلنا چاہئے کہ جب دیکھیں کہ ہم ادراک اور فکر کے حوالے سے اس کی کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے‘ پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہو سکتی‘ لہٰذا اس کا کوئی غیر ادراکی عامل موجود ہے‘ جسے یہ لوگ جہل کہتے ہیں‘ وہ اس جہل سے مختلف ہے کہ جس کا آپ ذکر کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انسان کے فکر و استدلال کیا ہیں؟ لیکن وہ اپنے استدلال میں غلطی کر بیٹھا۔ یہ وہی جہل ہے کہ جس کا ایک فلسفی اپنے فلسفے میں اور ایک عالم اپنے علم میں مرتکب ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک جہل سے مراد ایسا جہل ہے کہ جو ایک وہم کے سوا کچھ نہیں۔
مثال کے طور پر انسان نے ایک خواب دیکھا‘ خواب میں اس نے اپنی دوئی کو محسوس کیا۔ پھر سوچنے لگا کہ سب چیزیں روح رکھتی ہیں‘ مثلاً اگر بارش ہوئی تو فوراً اس نے اسے کسی چیز سے منسوب کر دیا اور پھر اس کا نام خدا رکھ دیا۔
یعنی لوگ حقیقی مادی اسباب و علل سے لاعلمی کی بناء پر فوراً اسے ایک ماوراء طبیعت (فطرت یا مادیت) عامل سے منسوب کر دیتے ہیں۔
ایسا ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ اصول دلالت کو بالکل قبول نہ کرتے ہوں‘ بلکہ کسی حد تک قبول کرتے ہیں‘ یعنی ان کے بیانات میں بھی۔ خاص طور پر اگسٹ کانٹ کے قول کے مطابق انسان نے شروع شروع میں علت دریافت کرنا چاہی‘ لیکن وہ بات کو یہیں پر چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فکر انسانی یہیں رک گئی اور توہمات کے پیچھے چل پڑی‘ یعنی فکر انسانی نے اس سے ایک قدم آگے نہ بڑھایا یا صرف اصول علیت کو قبول کر لیا اور پھر اس سے آگے نہ بڑھ سکی۔ گویا انسان اس سے آگے نہ سوچ سکا اور یہیں رک گیا اور چونکہ فکر انسانی اس مسئلہ کو حل نہ کر سکی‘ لہٰذا انسان نے مفروضے بنا لئے اور صرف توہمات کو اپنا لیا‘ جو کسی بھی فکر و منطق سے ہم آہنگ نہیں ہیں‘ یعنی انسان نے کوئی منطقی غلطی نہیں کی‘ بلکہ توہم اور مفروضہ کا شکار ہو گیا۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ آغاز سے انجام تک یہ انسان کی منطقی فکر تھی کہ جس نے اسے اس مقام تک پہنچایا۔ اگر فرض کریں کہ اس نے غلطی بھی کی ہو تو اس کی یہ غلطی منطقی نوعیت کی ہے۔ (شہید مطہری کی موجودہ تقریر کے آخری چند منٹ کا بیان ریکارڈ نہ ہو سکا‘ جو افسوس کا باعث ہے)
 

صرف علی

محفلین
باب ہشتم
دین فطری ہے​
کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے یہ چاہا ہے کہ یہ ظاہر کریں کہ یہ بیان دین کی مختلف توجیہہ و تعبیر ہے (استاد شہید کے خطاب سے قبل حسب معمول مذکورہ مقالے کے جائزے کا سلسلہ جاری رہا)‘ جبکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ تینوں مختلف تعبیریں نہیں ہیں‘ بلکہ ہر ایک نظریے اور مفروضے کے کسی پہلو کا بیان ہے۔ انہوں نے درحقیقت اجتماعی عامل کی طرف توجہ نہیں کی‘ وہ نظریہ اور ان کی توجہ انفرادی عامل کی طرف رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے نفسیاتی توجیہہ کی ہے‘ نہ کہ معاشرتی۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کا انہی مذکورہ دلائل کی بناء پر یعنی اپنی جہالت یا کسی اور سبب سے دین کی طرف میلان پیدا ہو گیا۔ ان کے حساب سے اس زمانے میں کہ جس کا نام ان کے بقول طبقات اور مالکیت کا کوئی نام و نشان نہ تھا‘ پھر بھی دین موجود ہو سکتا ہے‘ کیونکہ ان کے اعتبار سے دین کا سرچشمہ ایک شخص کا انفرادی اور نفسیاتی پہلو ہے۔
مارکسزم اور پیدائش دین
مارکسزم کے نظریے کے مطابق یوں نہیں ہے‘ بلکہ ان کے نزدیک حتماً قبول کرنا پڑے گا کہ دور اشتراکِ اولی میں دین ہرگز موجود نہ تھا۔ دین تو اس وقت پیدا ہوا کہ جب مالکیت پیدا ہوئی اور معاشرہ‘ لوٹنے والے اور لٹنے والے دو طبقوں میں تقسیم ہوا‘ جب امیر اور غریب پیدا ہوئے۔ ان کے نظریے کا ایک فرق تو یہ ہے کہ جو ذکر ہوا‘ اس نظریے کے مطابق دین حاکم طبقے نے وضع کیا۔ ان کے نظریے کے مطابق ہمیں قبول کرنا پڑے گا کہ شروع شروع میں دین کو گھڑنے والے خود حکمران طبقے کا حصہ تھے‘ لیکن گزشتہ نظریات میں طبقات کا کوئی ذکر نہ تھا‘ بلکہ وہ حاکم طبقے اور محروم طبقے میں تمیز نہیں کرتے اور ان میں فرق روا نہیں رکھتے تھے۔ لہٰذا اگر تاریخ یہ ثابت کرے کہ ایسا نہیں ہے‘ یعنی اگر تاریخ کہے کہ سارے دین یا اکثر ادیان محکوم طبقات میں ظاہر ہوئے تو ان کا نظریہ لازمی طور پر رد ہو جاتا ہے‘ کیونکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ دین کو حاکم طبقے نے بنایا ہے‘ تاکہ انہیں حاصل مراعات محفوظ رہ سکیں۔ کہتے ہیں کہ اس طبقہ کو کچھ مراعات اور امتیازات حاصل تھے‘ جبکہ دوسرے طبقے کے پاس محرومیاں تھیں۔ ان امتیازات کی حفاظت کے لئے ان لوگوں کو روحانی اور داخلی عامل کی بھی ضرورت تھی اور وہ عامل لازمی طور پر محکوم طبقے میں ایمان اور اعتقاد کی صورت میں ہونا چاہئے۔ ناگزیر ہے کہ اس طریقے سے حاکم طبقہ خود بے عقیدہ ہو‘ کیونکہ خود ہی تو انہوں نے یہ دین گھڑا ہوتا ہے‘ لہٰذا وہ محکوم طبقے کو معتقد بناتے ہیں‘ لہٰذا محکوم طبقے ہی کو باایمان‘ بااعتقاد ہونا چاہئے۔ اس اعتبار سے محکوم طبقے کے لئے دین کیا کردار ادا کرتا ہے؟ اولاً ان کے لئے تسلی کا ذریعہ بنتا ہے‘ ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ بھی اس دنیا میں تم سے کھو جائے گا‘ دوسری دنیا میں پا لو گے‘ غم نہ کھاؤ اور یہ سب باتیں اس لئے ہیں تاکہ وہ انقلاب برپا نہ کریں‘ اس لحاظ سے دین کی تمام تر تعلیمات کو تسلی اور تشفی کے لئے ہونا چاہئے۔ قضاء و قدر کا عقیدہ اس لئے ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام کا کیا فائدہ ہے؟ کیا تقدیر سے جنگ کی جا سکتی ہے؟ اگر انہیں احساس ہو کہ ان سے کچھ کھو گیا ہے اور لٹ گیا ہے تو ان سے کہا جائے کہ عالم آخرت میں اس کا ازالہ ہو جائے گا۔
لہٰذا (ان کے مطابق) دین کی تمام تر تعلیمات ان کے دل کی تسکین اور تمکین کے لئے ہیں‘ جبکہ اسلام جیسے ادیان میں موجود تعلیمات ایسی بھی ہیں کہ جو ایسی باتوں کے خلاف ہیں‘ یعنی وہ تعلیمات ہیں کہ جو انقلاب کی دعوت دیتی ہیں۔ نہ فقط یہ کہ دین حاکم طبقے سے ظاہر نہیں ہوا‘ بلکہ اس سے بالاتر حقیقت یہ ہے کہ حاکم طبقے سے ظاہر ہوا ہو یا دوسرے طبقے سے‘ محکوم اور محروم طبقے کے مفاد میں انقلاب اور قیام کی دعوت دیتا ہے۔ یہ بات ان کے نظریے سے ہم آہنگ نہیں ہے‘ کیونکہ ان کے حساب سے تو بات اس کے برخلاف نہیں ہو سکتی‘ ان تعلیمات کے اندر حاکم طبقے کے مفادات کے برخلاف کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ مثلاً جن اجتماعی نظاموں کے تحت ہم زندگی گزار رہے ہیں‘ ان میں امکان ہے کہ اخبارات‘ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن جیسے ذرائع ابلاغ سے انسان ایک لفظ بھی ایسا سن سکے جو عوام کو حکمران طبقے کے خلاف تحریک کرنے والا ہو؟ نہیں‘ حکمران طبقہ جو کچھ کہتا ہے وہ اپنی وکالت میں کہتا ہے اور ممکن نہیں ہے کہ اس کے برخلاف ہو‘ لہٰذا اگر دین کو حاکم طبقہ گھڑے تو اس کی تعلیمات میں قضاء و قدر جیسے مایوس کن اور عالم آخرت کے وعدوں کی صورت میں تسلی و تشفی دینے والے نظریات ہونے چاہئیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم فرض کریں کہ دیندار طبقہ جاہل بھی ہو‘ کیونکہ اگر وہ جاہل نہ ہو تو ایسی تعلیمات کو قبول نہیں کرے گا۔
اس حوالے سے دیکھیں تو پھر ہم یہ اعتراض نہیں کر سکتے کہ انہوں نے اس مسئلے میں مختلف طرح کے نظریات پیش کئے ہیں‘ یعنی یہ کہنا کہ دین حاکم طبقے کا ساختہ و پرداختہ ہے اور ان کا یہ کہنا کہ اس کے لئے عوام کی جہالت سے استفادہ کیا گیا ہے‘ یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں۔ ایک نظریہ یہ کہتا ہے کہ عوام چونکہ جاہل تھے‘ انہوں نے اپنے لئے دین کو اختراع کر لیا اور یہ کہتے ہیں کہ حاکم طبقے نے عوام کی جہالت سے استفادہ کرتے ہوئے دین کو اختراع کیا (ایک نظریے کو جو موجود تو نہیں‘ ہو سکتا ہے‘ کوئی کہے کہ محروم طبقے نے اپنی تسلی کے لئے خود سے دین کو گھڑ لیا ہو‘ مارکسسٹوں نے تسلی کو عامل قرار دیا ہے‘ لیکن کہتے ہیں کہ حاکم طبقے نے ان کے لئے تسلی کا سامان وضع کیا ہے)۔
مارکسزم کے نظریے کا تنقیدی جائزہ
اس نظریے کے کمزور پہلوؤں میں سے ایک تاریخ ادیان سے مربوط ہے‘ یعنی تاریخ ادیان اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جب سے انسان اس زمین پر ہے‘ ان قدیم ترین ایام سے‘ یعنی اس زمانے میں بھی کہ جسے یہ لوگ اولین دور اشتراک کہتے ہیں‘ پرستش کے آثار موجود ہیں۔ بلکہ ماکس مولر کا نظریہ تو مشہور نظریے کے اس لحاظ سے بھی برخلاف ہے کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ پرستش کا سلسلہ عالم طبیعت کی اشیاء‘ بتوں اور ارباب انواع کی عبادت سے شروع ہوا اور پھر خدائے واحد تک پہنچا‘ جبکہ ماکس مولر کہتا ہے کہ قدیم ایام کی آگاہی نے ثابت کیا ہے اور وہ ثابت بھی کرتا ہے کہ قدیم ترین ایام سے خدائے واحد کی پرستش موجود ہے۔
لہٰذا اس نظریے کے مطابق اولاً دور اشتراک اولی میں ممکن نہیں ہے کہ دین موجود ہو (جبکہ یہ بات تاریخ سے ہم آہنگ نہیں ہے)۔ ثانیاً یہ ادوار کہ جو طبقاتی ہیں‘ مثلاً دور جاگیرداری میں ہمیں یہ لازماً ماننا پڑے گا کہ تمام ادیان کو لانے والے اور ان کے اولین پیروکار حاکم طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ بات بھی ادیان کی مسلم تاریخ سے قطعی مطابقت نہیں رکھتی‘ یہود اور بنی اسرائیل کی تاریخ سے اس اعتبار سے ہم آہنگ نہیں ہے‘ کیونکہ اولاً موسیٰ اگرچہ خونی اور نسلی اعتبار سے محروم اور پسے ہوئے طبقے سے تعلق رکھتے تھے‘ لیکن طبقاتی لحاظ سے ان کا تعلق استعماری طبقے سے تھا‘ کیونکہ وہ فرعون کے بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ فرعون کے گھر میں بہت ناز و نعمت میں پلے تھے‘ انہیں درجہ اول کے شہزادے کی حیثیت حاصل تھی‘ کیونکہ اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور یہ ان کے بیٹے کی طرح تھے۔ جبکہ موسیٰ نے فرعون کے گھر میں‘ فرعون ہی کے ہاتھوں پسے ہوئے طبقے کی حمایت میں قیام کیا۔ اس بات کی کوئی اشتراکی توجیہہ نہیں کی جا سکتی یا ہم اس کی اساس قومی‘ نسلی اور خونی قرار دیں‘ جبکہ یہ بھی بہرحال مارکسزم سے مطابقت نہیں رکھتی‘ چونکہ یہ لوگ تاریخ کا اصل محرک طبقات کو سمجھتے ہیں‘ نہ کہ خون کو۔ دوسرے لفظوں میں یا تو ہم اسے موسیٰ کا نسلی تعصب قرار دیں کہ جب وہ بڑے ہوئے اور انہوں نے یہ سمجھا کہ ان کا اور فرعون کا خون مختلف ہے اور جو اس کے ہم نسل ہیں‘ ان کی حالت ایسی ہے اور ویسی ہے‘ لہٰذا خونی تعصب نے انہیں قیام پر ابھارا کہ جو بہرحال مارکسزم سے ہم آہنگ نہیں ہے اور اگر یہ نہ ہیں تو پھر جو کچھ بھی کہیں ان کی طرز زندگی سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ثانیاً فرعون کے گھر میں واقعاً موسیٰ نے بنی اسرائیل کی حمایت میں قیام کیا‘ چنانچہ یہ قیام محروم طبقے کی طرف سے تھا۔ یہ فرعونیوں کا قیام نہ تھا‘ بلکہ فرعونیوں کے خلاف قیام تھا‘ یعنی بنی اسرائیل کا قیام تھا اور یہ بات سو فیصد ان کی باتوں کے خلاف ہے‘ کیونکہ وہ تو کہتے ہیں کہ دین حاکم طبقے کا گھڑا ہوا ہے۔ ان کے نظریے کے مطابق تو یہ کہنا چاہئے کہ یہودیوں کا دین فرعونی مشینری نے گھڑا تھا‘ تاکہ بنی اسرائیل میں اطاعت و تسلیم کا احساس ابھارا جائے‘ جبکہ دین یہود تو اس لئے آیا کہ بنی اسرائیل کو قیام پر ابھارے۔
قرآن حکیم کے بقول
و تلک نعمة تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل(شعراء‘ ۲۲)
یہ بنی اسرائیل کی غلامی پر اعتراض ہے:
یا قوم ادخلوا الارض المقدسة التی کتب اللہ لکم (مائدہ‘ ۲۱) ”اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جاؤ کہ جو اللہ نے تمہارے لئے مقرر کی ہے۔“
یہ سب تحریک ہے… ڈرو نہیں… استقامت اختیار کرو… صبر کرو… اللہ پر توکل کرو… اللہ یہ کرے گا اور وہ کرے گا۔
اسلام بھی ایسا ہی دین ہے:
و نرید ان نمن علی الذین استفعفوا فی الارض و نجعلھم آئمة و نجعلھم الوارثین(قصص‘ ۵)
”ہمارا ارادہ ہے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں کہ جنہیں زمین میں کمزور بنا دیا گیا ہے اور انہیں پیشوا قرار دیں اور انہیں ہم وارث بنائیں۔“
یہ بھی فرمایا:
وعد اللہ الذین امنوا منکم و عملوالصلحت لیستخلفنھم فی الارض…
”تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں‘ ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں زمین میں ضرور جانشین بنائے گا… یہ نوید ہے ایسے لوگوں کے لئے کہ جن سے دوسروں نے زمین کی خلافت لے لی ہے۔ نوید اس امر کی ہے کہ ہم تمہیں زمین کی خلافت دیں گے‘ زمین کو تمہاری میراث قرار دیں گے۔“
… ان الارض للہ یورثھا من یشاء(قصص‘ ۵)
”زمین اللہ کی ہے‘ اس کی مرضی جسے وہ اس کا وارث بنائے۔“
نیز فرمایا:
و لقد کتبنا فی الذبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون(انبیاء‘ ۱۰۵)
”اور البتہ زبور میں ہم نے ذکر کے بعد یہ لکھا کہ زمین کا وارث ہم اپنے صالح بندوں کو بنائیں گے۔“
طہٰ حسین نے ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے‘ جس کا نام ”الوعدالحق“ جناب احمد آرام نے اس کا ترجمہ کیا ہے‘ بنام ”وعدئہ راست“ اس کتاب ”الوعدالحق“ کا عنوان یہی آیت ہے:
وعد اللہ الذین آمنوا منکم و عملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض…
اس کتاب میں غلاموں‘ مستفعضوں‘ محروموں اور زیردستوں سے تعلق رکھنے والے بیس (۲۰) منتخب افراد کا ذکر کیا گیا ہے‘ جنہیں اس قرآنی وعدہ نے حیات نو عطا کی‘ مثلاً عمار یاسر۱‘ ابوذر غفاری اور عبداللہ بن مسعود۔ یہ بہت اچھی اور قابل مطالعہ کتابوں میں سے ہے‘ بچوں اور جوانوں کو اس کے مطالعے کی نصیحت کی جانی چاہئے۔ تاریخ اسلام اصلاً ایسی ہی تاریخ ہے‘ عبداللہ بن مسعود آتے ہیں اور ابوجہل سے لڑتے ہیں‘ اپنے آقاؤں سے لڑتے ہیں‘ یعنی یہ غلاموں کا انقلاب ہے‘ بنیادی طور پر یہ امر اس نظریے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ تعلیمات تو کہتی ہیں:
لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم
(نساء‘ ۱۴۸)
نیز یہ بھی کہ
والشعراء یتبعھم الغاوون الم تر انھم فی کل واد یھیمون وانھم یقولون مالا یفعلون۔ الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات… وانتصروا من بعد ما ظلموا
(شعرا‘ ۲۲۴-۲۲۷)
”اور یہ جو شعراء ہوتے ہیں‘ ان کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ یہ ہر وادی میں پھر رہے ہوتے ہیں اور یہ جو کچھ کہتے ہیں وہ کرتے نہیں‘ مگر وہ لوگ کہ جو ایمان لائے اور عمل صالح بجا لاتے ہیں۔“
یعنی شعر‘ ہجو اور اس طرح کے پراپیگنڈا کے موقع پر اسلام اجازت دیتا ہے (کہ مظلوم فریاد کرے) یا اسی طرح غیبت کو حرام قرار دیتا ہے‘ مگر ایسے مواقع پر ایسے امور کوئی ایک دو نہیں ہیں‘ یہ تعلیمات اس منطق سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ گویا مارکسزم کا یہ نظریہ ایک ایسی بات ہے کہ جو لکھائی گئی ہے اور ان کے نزدیک اسے قبول کرنا چاہئے‘ اگرچہ یہ کسی حقیقت پر منطبق نہیں ہوتی۔
کیا دین جہالت کی پیداوار ہے؟
اس سے بڑھ کر ان لوگوں کی منطق ہے کہ جو دین کو صرف لوگوں کی جہالت کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسے ایک نفسیاتی مسئلے کے حوالے سے لیتے ہیں۔ مقالہ لکھنے والے نے بھی یہ اعتراض کیا ہے‘ وہ کہتا ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر لوگ جو اس قدر عالم ہو گئے ہیں‘ دین کو خود بخود ختم ہو جانا چاہئے۔
آپ موازنہ کریں‘ ہر غیر دینی عقیدہ کہ جو گزشتہ دور میں لوگوں کی جہالت کے نتیجے میں تھا‘ صرف علم کے آنے سے‘ جیسے چراغ کے آنے سے ظلمت چھٹ جاتی ہے‘ خود بخود نابود ہو گیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق علم کی ترقی کے ساتھ دین کو بالکل ناپید ہو جانا چاہئے‘ یعنی علماء میں دینداری کا وجود نہیں ہونا چاہئے‘ جبکہ خود رُسل کے بقول ہم دیکھتے ہیں کہ جہلاء کے طبقے میں لادین بھی ہیں اور دین دار بھی اور علماء کے طبقے میں بھی دیندار بھی ہیں اور لادین بھی۔ (یہی ہمارے ہاں بھی ہے جنہیں جھگڑے کرنے کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا‘ کیا ان کے درمیان دیندار زیادہ ہیں یا بے دین؟ ان میں دیندار بھی ہیں اور لادین بھی)۔
شاید ہر زمانے میں علمائے میں عالم ترین شخص دیندار ہوتا ہے‘ یہاں تک کہ خود ہمارے زمانے میں بھی یہی عالم ہے۔ ان کی منطق کے مطابق تو اصلاً محال ہے کہ آئن سٹائن دین و مذہب پر اعتقاد رکھتا ہو یا ماکس پلانک یا ولیم جیمز یا برکسن یا ڈارون اور ان جیسے اول درجے میں شمار ہونے والے دانشور دین پر اعتقاد رکھتے ہوں۔ ڈارونزم میں بہزاد لکھتا ہے کہ اگرچہ کلیسا نے ڈارون کی شدید تکفیر کی‘ اس کے باوجود آخرِ عمر تک خدائے یگانہ پر اس کا ایمان و اعتقاد باقی رہا۔ جبکہ یہی ڈارونزم مارکسیوں کے ہاتھ میں آج ایک بہت بڑا ہتھیار ہے‘ خود ڈارون کو اس کے علم نے لامذہب نہیں کیا۔ ایک اور جگہ میں نے پڑھا ہے کہ موت کا وقت آیا تو ڈارون نے کتاب مقدس اپنے سینے سے چمٹا رکھی تھی اور اسے چھوڑتا نہ تھا‘ یہ امر ایسی منطقوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
 

صرف علی

محفلین
علاوہ ازیں مارکسسٹوں کے نظریے کے مطابق آپ طبقاتی تفاوت کو ختم کر دیں تو دین خود بخود ختم ہو جائے گا‘ یعنی ضرورت نہیں ہے کہ آپ دین کے خلاف جنگ کریں۔ ان کی منطق یہ ہے کہ طبقاتی امتیازات کو ختم کر دیں‘ سوشلسٹ معاشرہ تشکیل دیں‘ دین کا وجود خود بخود ختم ہو جائے گا۔ جبکہ اس کا غلط ہونا خود سوشلسٹ ممالک میں آشکار ہو چکا ہے‘ خود سوشلسٹ ممالک اس کے خلاف بہترین دلیل ہیں۔ یہ جو لوگ ابھی تک سوویت یونین میں دین کے خلاف اس قدر پراپیگنڈا کرتے ہیں‘ کس لئے ہے؟ طبقاتی امتیازات نہیں ہیں‘ لیکن پھر بھی گاہے بگاہے کہتے رہتے ہیں کہ جوانوں میں دین رسوخ پیدا کر رہا ہے‘ اس کے خلاف کچھ کریں‘ جب علت ختم ہو گئی ہے تو معلول کو بھی ختم ہو جانا چاہئے۔ آپ تو کہتے ہیں کہ پیدائش دین کی وجہ طبقاتی امتیازات ہیں‘ اب جبکہ آپ کا معاشرہ طبقاتی نہیں ہے‘ پھر دین کی طرف میلان کیوں پیدا ہوتا ہے؟ لہٰذا ضرور اس کی بنیاد کچھ اور ہونا چاہئے یا دوسرے ممالک میں مثلاً اسلامی ممالک میں‘ ہمیں یوں فرض کرنا چاہئے کہ جونہی کوئی اسلامی ملک سوشلسٹ ہو جائے‘ سب مسجدوں کے دروازے خود بخود بند ہو جانے چاہئیں۔ جبکہ ہم دیکھتے رہے ہیں کہ نہ خود اسلامی ممالک کو اس کی فکر ہے اور نہ ہمیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے۔ مختلف ممالک سوشلسٹ ہو رہے ہیں اور ان میں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے‘ اگر کچھ لامذہب سوشلسٹ ممالک میں موجود ہیں تو طبقاتی ممالک میں زیادہ ہیں۔ اب طبقاتی ممالک میں دیکھیں کہ کیا دین و مذہب کے خلاف جنگ زیادہ تر حاکم طبقہ کر رہا ہے یا محکوم طبقہ؟ (ظاہر ہے کہ حاکم طبقہ زیادہ دین کے خلاف نبرد آزما ہے‘ جبکہ مارکسزم کے مطابق مذہب تو حاکم طبقے کا ساختہ و پرداختہ ہے‘ لہٰذا اسے تو اس کے خلاف برسرپیکار نہیں ہونا چاہئے)۔ یہ اجتماعی حقائق ہیں کہ جن کا ہمیں سامنا ہے‘ ان لوگوں کی منطق سے ان کی کس طرح سے توجیہہ ہو سکتی ہے؟ کیسے ان کی توجیہہ ممکن ہے؟
ویل ڈیورنٹ کی رائے
ویل ڈیورنٹ اگرچہ خود ایک لامذہب شخض ہے‘ اپنی کتاب ”درسہانی تاریخ“ میں ایک بات کہتا ہے کہ جو واضح طور پر ناراضگی و غصہ کی وجہ سے ہے۔ وہ دین کے بارے میں کی جانے والی توجیہات نقل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ درست نہیں ہیں اور آخرکار کہتا ہے:
”دین کی سو (۱۰۰) جانیں ہیں‘ اسے آپ جتنا بھی ماریں گے‘ پھر زندہ ہو جائے گا اور یہ ایک حقیقت ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کی سو جانیں ہیں؟ اتنا ہی کہہ دیں اور راحت پائیں کہ اس میں جان ہے‘ یہ کیوں کہتے ہیں کہ سو جانیں ہیں؟ انسانی فطرت کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔“
وہ کہتا ہے کہ
”مختلف جگہوں پر دین کے خلاف اتنی جنگ کی گئی ہے کہ وہ سمجھنے لگے کہ اب انہوں نے اسے بالکل جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے‘ اب ممکن نہیں ہے کہ دوسری نسل میں باقی رہے۔“
کہتا ہے کہ
”اسے جتنا بھی مارا گیا‘ یہ پھر سے زندہ ہو گیا۔“
سامعین میں سے کسی نے اس موقع پر کہا:
”جب تک تیری جان نہ نکل جائے۔“
واقعاً ایسا ہی ہے‘ یہاں تک کہ تیری جان نکل جائے‘ حتیٰ کہ یہی مقالہ لکھنے والا کہ جو ایک مادہ پرست (Materialist) شخص ہے‘ اس موقع پر خوب کہتا ہے۔ جب اسی طبقاتی نظریے کا ذکر کرتا ہے تو کہتا ہے:
”اس نظریے کے مطابق تو پیداواری اور ترقی پسند طبقے مثلاً مزدور طبقہ‘ ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں (یعنی ذاتاً ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں‘ اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں)‘ چونکہ ان کا تفکر ان کی زندگی کے تقاضوں کے نتیجے میں ترقی پسند اور سائنسی ہے۔ استعماری اور غیر پیداواری طبقات کے برعکس کہ جنہیں اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے مذہب کی ضرورت ہے۔“
اس کے بعد مقالہ نگار جواب دیتا ہے:
”یہ نظریہ بھی حقیقت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا‘ مشاہدات اور اعداد و شمار اس کے خلاف ثابت کرتے ہیں۔ کسان شاید معاشرے کا پیداواری ترین طبقہ ہے اور اس کے باوجود مذہبی ترین بھی ہے۔ روشن فکروں کے برعکس کہ جو عموماً غیر پیداوار ہوتے ہیں‘ لیکن تمام طبقوں کی نسبت مذہب سے ان کا تعلق کم ہوتا ہے (لہٰذا یہ بات روشن فکر طبقہ وغیرہ سے مربوط نہیں)‘ برسرکار مزدوروں کی نسبت بے کاروں کی مذہب سے وابستگی کم تر ظاہر ہوتی ہے۔ صنعتی ممالک کے مزدوروں میں مذہب کی طرف موجود صدی میں رجحان گزشتہ صدی سے زیادہ ہے اور آخری دہائیوں میں گزشتہ دہائیوں کی نسبت زیادہ ہے۔“
سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین اور عوامی جمہوریاؤں میں مذہب نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا‘ بلکہ اس کا نفوذ اور اثر و رسوخ روز افزوں ہے‘ جبکہ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے ہاں طبقاتی تقسیم ختم ہو چکی ہے‘ ان کے سب لوگ پیداواری ہیں۔ ان کی توجیہ اور استدلال کیا ہے؟ اس کی حیثیت ایک شکست خوردہ نظریے کے علاوہ کچھ نہیں‘ لیکن یہ لوگ ان باتوں کو اسی پیرائے میں دہراتے رہتے ہیں۔ پہلے انہوں نے کچھ خوبصورت عبارتیں بنا لیں ہیں اور اب ان کو دہراتے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں انہی باتوں کا بڑی دلنشین عبارتوں میں تکرار کرتے رہتے ہیں۔ کوئی اس پر سوچتا نہیں کہ کیا یہ باتیں درست بھی ہیں یا نہیں؟
ماکس مولر کا یہ خاص نظریہ کہ توحید کا عقیدہ مشرک سے پہلے موجود تھا‘ ایک ایسا نظریہ ہے کہ جو موجود تو ہے‘ لیکن اس کے ماننے والے زیادہ نہیں ہیں۔ اکثریت کا خیال یہی ہے کہ شرک کا عقیدہ توحید سے پہلے تھا‘ البتہ دین اسلام کی منطق کی رو سے توحید کا عقیدہ شرک سے پہلے تھا‘ یعنی شرک ایک منحرف شدہ توحید ہے۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ شرک کا وجود توحید سے قبل تھا‘ لیکن تاریخ حیات تک بھی ہے‘ انسان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جہاں بھی انسان کا کوئی نام و نشان ملتا ہے‘ وہاں عبادت کے آثار موجود ہیں‘ اشتراک اولی کا مسئلہ علامتوں ہی کے حوالے سے ان لوگوں نے اخذ کیا ہے۔ شروع ہی سے عبادت کی موجودگی کا نظریہ‘ میں دوسروں کے نقطہ نظر کو نقل کرنے کے طور پر بیان نہیں کرتا‘ بلکہ ایک دینی و مذہبی نظریے کے طور پر ذکر کرتا ہوں۔ جہاں جہاں پر بھی انسانی زندگی کا کوئی نشان ہے‘ چاہے وہ اشتراکی صورت میں ہو‘ چاہے غیر اشتراکی اور اختصاصی صورت میں‘ عبادت کے آثار ہیں۔ ابھی تک کسی ایسی انسانی زندگی کا کوئی سراغ نہیں ملا‘ جس میں عبادت کا وجود نہ ہو (اس موقع پر سامعین میں سے کسی نے سوال کیا)۔
بعض کا کہنا ہے کہ آگ سے پہلے کے زمانے میں عبادت کا کوئی نشان نہیں ملتا؟ جواب میں شہید مطہری نے فرمایا‘ اس بات کو میں ان خصوصیات کے ساتھ نہیں جانتا ہوں کہ یہ بات عمومی نظریے کے برخلاف ہے‘ تاہم آپ کا یہ کہنا بھی اشتراک اولی کے مسئلے سے میل نہیں کھاتا۔ آپ کہتے ہیں کہ جب آگ کا انکشاف ہوا عبادت بھی ظہور پذیر ہوئی‘ جبکہ ہم نے جس بنیاد پر مارکسسٹوں کے نظریے کو رد کیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ ان نظریے کے مطابق اشتراک اولی کے دور (البتہ اشتراک اولی کے دور سے پہلے بھی کچھ دور تھے‘ کہنا چاہئے کہ قبیلوں کی صورت میں سماجی زندگی کے دور تھے‘ وہی کھیتی باڑی کے دور سے پہلے کہ جو شکار وغیرہ کا دور ہے) میں اور کھیتی باڑی کے دور سے پہلے کہ جس میں ان کے نظریے کے مطابق مالکیت وجود میں آئی‘ امکان نہیں کہ پرستش موجود ہو۔ اب آپ کا یہ کہنا کہ آگ سے پہلے کے دور میں عبادت کا کوئی نشان نہیں ملتا‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ علاوہ ازیں ”کوئی نشان نہ ملنا“ اس کے نہ ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔
 

صرف علی

محفلین
باب نہم
دین کے نقطہ آغاز کے بارے میں ڈورکہیم کے نظریے کا جائزہ​
چھٹا نظریہ کہ جو دین اور مذہب کی پیدائش کے سرچشمہ کے بارے میں مذکورہ مثال میں بیان کیا گیا ہے‘ اس کا عنوان ہے ”بازگشت بہ از خود بیگانگی“۔
اس عنوان کے تحت فرانس کے ایک مشہور ماہر عمرانیات ڈورکہیم کا ذکر کیا گیا ہے۔ پیدائش مذہب کے بارے میں اس وقت ڈورکہیم کا نظریہ دنیا کے مشہور ترین نظریات میں سے ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ مذکورہ مقالہ کے مصنف نے اسے بیان کرنے میں اپنے کچھ خاص نظریات بھی اس میں مخلوط کر دیئے ہیں‘ یعنی یہ ہے کہ ہم ڈورکہیم (Mr. Emile Dur Kheim) کے نظریہ کو ایک طرح کی ”بازگشت بہ از خود بیگانگی“ قرار دیں‘ شاید اس مقالے کے مصنف کی اپنی مخصوص اصطلاح ہے‘ میں نے کسی اور جگہ یہ اصطلاح نہیں دیکھی۔ جہاں تک مجھے ڈورکہیم کے نظریات کا علم ہے‘ وہ ”اصالت اجتماعی“ (Socialism) کا قائل‘ یعنی معاشرے کے لئے اصالت کا قائل ہے اور درحقیقت فرد کے لئے اصالت کا قائل نہیں (Individualism)۔ اس معنی میں اس کا نظریہ یہ ہے کہ معاشرہ افراد کی ”ترکیب حقیقی“ کا نام ہے‘ نہ کہ ترکیب اعتباری کا۔
مرکب اعتباری اور مرکب حقیقی
(فزکس اور کیمسٹری کے طلبہ کے لئے آمیز (Mixture) اور مرکب (Compound) کی اصطلاحوں میں جو فرق ہے‘ وہی فرق مرکب اعتباری اور مرکب حقیقی کے مفہوم میں اپنے مقام پر پایا جاتا ہے)۔
ایک لحاظ سے مرکب کی دو قسمیں ہیں‘ اعتباری اور حقیقی۔ مرکب اعتباری یعنی چیزوں کا ایسا مجموعہ کہ جن کے درمیان ایک طرح کی وابستگی موجود ہوتی ہے‘ البتہ بغیر اس کے کہ کوئی شے اپنی انفرادیت کھو دے اور اپنے تئیں کل میں حل کر دے۔ مثلاً ہم کسی ایک جگہ پر موجود رختوں کے مجموعہ کو باغ کہتے ہیں‘ ایک درخت کو باغ نہیں کہتے‘ ان سب کو ملا کر باغ کہتے ہیں‘ لیکن باغ کا ہر جز اپنی مستقل حیثیت رکھتا ہے‘ یہ درخت بھی اپنی انفرادیت رکھتا ہے اور دوسرا درخت بھی۔ یہ درخت اگر اس باغ میں نہ ہوتا تو بھی یہی درخت ہوتا اور اگر یہاں تنہا ہوتا تو بھی یہی ہوتا اور اگر باغ میں ہونے سے اس میں کوئی تبدیلی بھی آئی ہے تو بھی بالکل سطحی ہے‘ گہری نہیں ہے۔ مثلاً اس باغ میں خوبانی کے ایک درخت کی ”انفرادیت“ درختوں کے مجموعہ میں شامل نہیں ہے‘ بلکہ علیحدہ ہے‘ اسی طرح سے یہی کیفیت دوسرے درختوں کی بھی ہے۔ ایسے مجموعے اور مرکب کو ہم مرکب اعتباری کہتے ہیں۔
لیکن مرکب حقیقی میں ہر چیز کی انفرادیت کل میں شامل ہو جاتی ہے‘ یعنی اس میں کسی چیز کی سابقہ حالت باقی نہیں رہتی‘ ہر چیز اس میں اپنی ماہیت کھو دیتی ہے اور نئی ماہیت اختیار کر لیتی ہے‘ وہی ماہیت کہ جو کل کی ماہیت ہوتی ہے جیسے (کیمیائی اور طبیعی مرکبات "Chemical & Physical Compounds") عالم طبیعت (Nature) میں موجود ہر مرکب اسی طرح کا ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو اگر ہم مرکب کہتے ہیں تو وہ دو مختلف عناصر (Elements) کے باہمی ملاپ سے تعمیرشدہ صورت ہے اور اس میں ان دونوں کی ماہیت تبدیل ہو چکی ہے‘ یعنی نہ اب آکسیجن پانی میں آکسیجن کی صورت میں موجود ہے اور نہ وہ اپنی خاصیت رکھتی ہے‘ اسی طرح اب ہائیڈروجن بھی ہائیڈروجن کی صورت میں موجود نہیں ہے۔ ان دونوں نے آپس میں مل کر ایک مرکب کی حیثیت اختیار کر لی ہے اور ایک تیسری ماہیت اختیار کر لی ہے اور حقیقت میں ایک نئی ماہیت وجود میں آ گئی ہے کہ جو پانی کی ماہیت ہے۔ ہاں پانی کا پھر سے تجزیہ کر کے اسے انہی ابتدائی عناصر میں تبدیل کیا جا سکتا ہے‘ لیکن اس وقت یہ وہ نہیں ہے اور یہی حالت دیگر طبیعی مرکبات کی ہے۔
انسانی معاشرے کی ترکیب کی نوعیت
اب ہم انسانی معاشرے کی ترکیب کا جائزہ لیتے ہیں‘ کیا یہ ترکیب حقیقی ہے یا اعتباری؟ اس میں شک نہیں کہ اگر ہمارے نزدیک معیار انسانی بدن اور جسم ہو تو انسانی معاشرہ ایک مرکب اعتباری ہے‘ اس لحاظ سے اس میں اور کسی باغ کے درختوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ فرد جن خصوصیات کے ساتھ پیدا ہوا تھا‘ آج بھی انہی خصوصیات کے ساتھ موجود ہے‘ وہ فرد بھی بالکل اسی طرح ہے اور یوں ہی سارے افراد ہیں۔ اگر کوئی شخص جیسے ہی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہو‘ ہم اسے کسی غار میں لے جا کر اس کی پرورش کریں‘ بیالوجیکل (Biological) اعتبار سے یہاں اس کی نشوونما میں کوئی فرق نہیں آئے گا‘ کیونکہ معاشرے میں رہتا ہے تو وہاں بھی بیالوجیکل اعتبار سے اس کی نشوونما ایسی ہی ہوتی‘ یہ نہیں ہے کہ ہرگز کسی حوالے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہماری مراد ہے کہ ماہیت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس کا بدن کوئی اور بدن ہو جائے گا۔ لیکن حیوانات کے برخلاف انسان کا ایک روحانی پہلو بھی ہے‘ حیوان کی خصوصیت اس کے بدن سے مربوط ہے‘ اس کی نفسیاتی حیثیت بھی تقریباً اس کے بدن کی خصوصیت کی طرح ہے‘ یعنی وہ ان دوسروں کے زیراثر نہیں ہوتا۔ نفسیاتی لحاظ سے اس کی جبلت میں جو چیز پائی جاتی ہے وہ دوسرے حیوانوں میں ہو یا نہ ہو‘ اس سے اس حیوان کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘ جبکہ انسان کا ایک معاشرتی پہلو بھی ہوتا ہے یا اگر ہم اپنی زبان میں کہیں تو انسان ایک روحانی پہلو کا بھی حامل ہے اور یہ وہ پہلو ہے جو اس کی شخصیت سے مربوط ہے‘ نہ کہ فرد سے۔ ایسا کس طرح سے ہے؟ پچھلے زمانے کے فلسفی بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ حیوانات کے جو آمادہ اور مستعد جبلت کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں‘ انسان ان کے برخلاف مکمل اور تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں آتا ہے۔ ہم نے جہاں فقرات کے بارے میں گفتگو کی ہے‘ وہاں اس بات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لوگ جو انسان کے لئے فطرت کے قائل نہیں ہیں‘ ان کے قول کے مطابق روح انسان اس کی پیدائش کے وقت ایک کورے کاغذ کی سی ہوتی ہے‘ یعنی اس پر کوئی نقش نہیں ہوتا‘ اس پر جو کچھ لکھیں وہی ثبت ہو جائے گا‘ جبکہ اس کے برعکس حیوانات کی کیفیت ایک لکھے لکھائے صفحے کی سی ہوتی ہے۔ اگر ہم فطرت کے بھی قائل ہوں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان صلاحیتوں کا سلسلہ کہ جو مکمل طور پر اور بالقوة انسان میں موجود ہے‘ وہ کسی پھل یا اس کے درخت کے بیج کی استعداد کی مانند ہے۔ جو لوگ فطرت سے انکاری ہیں‘ ان کے مطابق پیدائش کے وقت انسان ایک خالی صفحہ کی مانند ہے کہ جس پر جو بھی لکھا جائے وہی نقش ابھر آئے گا‘ اسے فرق نہیں پڑتا کہ اس پر آپ قرآن کی کوئی آیت لکھ دیں یا کوئی گالی لکھ دیں۔ جو لوگ فطرت کے قائل ہیں‘ ان کے مطابق انسان ایک بیج کی طرح ہے اور جب وہ بیج ہوتا ہے تو عملاً وہ درخت نہیں ہے‘ پتا نہیں ہے‘ شاخ نہیں ہے‘ پھل نہیں ہے‘ لیکن یہ سب کچھ بننے کی صلاحیت اس کی ذات میں موجود ہے۔ اگر ہم اسے جلا کر خاکستر کر دیں تو گویا ہم نے اس کی صلاحیتوں کو عملی صورت اختیار نہیں کرنے دی۔ لہٰذا بات اتنی ہے کہ انسان ایک مکمل اور تمامتر صلاحیتوں اور توانائیوں سے بھرپور موجود ہے‘ جسے معاشرہ سرگرمی بخشتا ہے‘ یعنی معاشرہ ہے کہ جو انسان کو روحانی شخصیت عطا کرتا ہے۔ انسان معاشرے سے زبان سیکھتا ہے‘ اس سے آداب‘ رسوم‘ افکار اور عقائد حاصل کرتا ہے۔ یہ معاشرہ ہے کہ جو اس کے ظرف روحانی کو پر کرتا ہے اور اس کی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے‘ اس طرح وہ بھی اپنی باری پر دوسروں پر اثرانداز ہوتا ہے۔ وہ فقط ایک مستقل اور اثرپذیر وجود نہیں ہے‘ بلکہ تاثیر بخش ہے اور فعال بھی ہے‘ یعنی ایک ہاتھ سے لیتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے دیتا ہے۔ ایک فرد کے لحاظ سے متعلم و طالب علم اور دوسرے کے اعتبار سے معلم و استاد ہے‘ بلکہ جب وہ معلم ہوتا ہے تو اس وقت وہ استاد بھی ہوتا ہے اور شاگرد بھی‘ سکھا بھی رہا ہوتا ہے اور سیکھ بھی رہا ہوتا ہے۔ یہ شخص اپنی فکر سے اپنی روحانی خصوصیتوں سے (اور جو کچھ اس نے سیکھا ہوتا ہے) یا اپنی تخلیقی مہارت سے اسے سکھاتا ہے اور اس سے سیکھتا ہے‘ یعنی انسان ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ معاشرے کے افراد نفسیاتی‘ روحانی اور ثقافتی لحاظ سے پانی کو تشکیل دینے والے عناصر کی مانند ہیں‘ یعنی ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں‘ بالکل اسی طرح جیسے آکسیجن اور ہائیڈروجن ایک دوسرے سے مل کر ایک نئی ترکیب اختیار کر لیتی ہیں‘ ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ افراد کے ایک مجموعے کے باہم میل ملاپ سے ایک دوسرے پر اثرانداز ہونے سے ایک مرکب حقیقی وجود میں آتا ہے کہ جسے قوم یا ملت کہتے ہیں‘ لہٰذا ثقافتی اعتبار سے انسان کے دو خود (Self) ہیں‘ ایک انفرادی اور دوسرا اجتماعی۔ پانی میں ہائیڈرجن اور آکسیجن بھی ایک خاص حد تک ایک دوسرے سے امتیاز رکھتی ہیں‘ ایک دوسری حد کے لحاظ سے اور ایک سطح پر دونوں پانی ہیں اور پانی ہونے میں انہوں نے آپس میں وحدت ”یکتائی“ پیدا کر لی ہے‘ اگر وہ اپنی ”میں“ کا احساس کرتیں تو ہر کوئی اپنے آپ میں یہ محسوس کرتی کہ میں پانی ہوں۔ پانی کو جو آکسیجن اور ہائیڈروجن کی مشترک ”میں“ ہے‘ اس اعتبار سے ہر فرد میں دور ”میں“ موجود ہیں‘ ایک انفرادی اور دوسری اجتماعی یا ”سماجی“۔
دین کی پیدائش کا سرچشمہ ڈورکہیم کی نظر میں
ایک اصول ڈورکہیم کی باتوں میں موجود ہے۔ اگرچہ جس انداز سے میں نے بات بیان کی ہے‘ ان حضرات کی کتابوں میں اس طرز پر نہیں ہے۔ ہم نے اپنی مشرقی اصطلاحات کے قالب میں بیان کی ہے‘ لیکن بات یہی ہے اور ڈورکہیم کے کلام سے مجموعی طور پر جو بات کھلتی ہے‘ وہ یہی ہے کہ اس کا انحصار اسی بات پر ہے‘ لیکن ڈورکہیم ان لوگوں میں سے ہے کہ جنہوں نے کچھ اور مسائل کی رو سے اس نظریے کا اظہار کیا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ اس نے اور اس سے پہلے ماہرین نے جو گزشتہ ابتدائی قبائل کا مطالعہ کیا‘ وہ قبائل کہ جو بالکل ابتدائی تھے‘ ویسے ہی قبائل کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان جیسے قبائل ہمارے زمانے میں اٹھارہویں صدی تک موجود رہے ہیں اور شاید اب بھی موجود ہوں‘ یعنی انہوں نے بزعم خود جو ابتدائی انسانوں کے ادیان کا مطالعہ کیا۔ اس کے مطابق آپ ان کی کتابوں میں دیکھئے کہ وہ لکھتے ہیں اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ انسان کے ابتدائی ترین حالات میں بھی ایک طرح کی عبادت موجود رہی ہے۔ مظاہر طبیعت (Nature) کی پرستش البتہ انہیں ایک طرح کا تقدس دینے کے ساتھ‘ مثلاً کہتے ہیں کہ بعض غاروں میں ایسے آثار‘ مثلاً ایسے پتھر ہیں اور سجدہ گاہوں اور تسبیحوں کی مانند چیزیں‘ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابتدائی انسان ان کے لئے ایک طرح کے تقدس کا قائل رہا ہے‘ انہیں چومتا تھا اور ان کے لئے غیر معمولی احترام کا قائل تھا۔ اس سلسلے میں کہ کیا کوئی دو طرح کا مذہب تھا یا ایک ہی طرح کا؟ اس میں اختلاف ہے‘ بعض کہتے ہیں کہ ایک ہی چیز ہے اور بعض کہتے ہیں کہ دو چیزیں ہیں۔ ایک اور بات جو انہوں نے ابتدائی اقوام کے بارے میں کہی ہے وہ ”توتم“ (Totem) اور توتم پرستی (Totemism) ہے۔ ان کا نظریہ ہے کہ گزشتہ ابتدائی اقوام اور بعض ہمارے زمانے کے نزدیک کی اقوام بھی ایک طرح کے حیوان کی پوجا کرتی رہی ہیں‘ کیونکہ ان کا ایک اعتقاد یہ تھا کہ وہ خود اور یہ حیوان ایک ہی نسل سے ہیں۔ حیوان سے انسان کے وجود میں آنے کا عقیدہ کہ جس کی سائنسی صورت ڈارونزم (Darwanism) ہے‘ کی غیر سائنسی صورت پہلی قوموں میں رہی ہے۔ مثلاً کسی قوم نے سمجھا کہ وہ گائے کی اولاد یا نسل ہے‘ لہٰذا ان کا نظریہ یہ ہے کہ گائے پرستی کا سرچشمہ اور ہندوستان میں گائے کا تقدس اسی وجہ سے ہے کہ بہت قدیم ہندی اقوام کا توتم گائے ہے‘ البتہ اس میں بعدازاں تبدیلی پیدا ہوئی اور وہ افکار ختم ہو گئے‘ لیکن گائے کا تقدس باقی ہے یا اس طرح بعض نے فلاں پرندہ کو اپنا توتم سمجھا (توتم ازم (Totemism) بعض قدیم قبائل اپنی نسل کی بنیاد کسی نہ کسی حیوان یا درخت سے منسوب کرتے تھے اور جس حیوان سے اپنے آپ کو منسوب سمجھتے تھے‘ اس حیوان یا درخت کی پوجا کرتے جس سے اپنے آپ کو منسوب کرتے‘ مثال کے طور پر ہندوؤں میں گاؤ پرستی کی رسم) یا اس طرح بعض نے فلاں پرندے کو اپنا توتم سمجھا۔
یہ فکر لوگوں میں کیسے پیدا ہوتی ہے کہ ہم فلاں حیوان کی نسل سے ہیں‘ پھر وہ اس حیوان کی پوجا شروع کر دیتے ہیں‘ اس حیوان کے تقدس اور غیر معمولی طاقت کے قائل ہو جاتے ہیں‘ اس حیوان کو قوم و قبیلہ کا محافظ سمجھنے لگتے ہیں اور ایسے ہی عقائد اپنا لیتے ہیں؟
اس امر کے استدلال میں کہتے ہیں کہ ڈورکہیم کا نظریہ تھا کہ یہ وہی انسانوں کی روح اجتماعی کا ظہور ہے۔ اس اعتبار سے کہ چونکہ واقعاً ہر انسان اپنے اندر دو ”میں“ محسوس کرتا ہے‘ ایک ”میں“ اس جہت سے کہ میں زید بن عمرو ہوں‘ یہ وہ ”میں“ ہے کہ جس کے مقابلے میں دوسرے فرد کا ”میں“ ہوتا ہے۔ یہ میرا مال ہے نہ کہ تیرا‘ اور دوسری ”میں“ کہ جو اجتماعی ہے (مثلاً ہم کہ جو ایرانی ہیں‘ ہمارے لئے ”ایرانی میں“ ایک مشترک ”میں“ ہے)‘ ہاں چونکہ ایسا ہے‘ یہ قبائل کہ جو اس حیوان کی پوجا کرتے رہے ہیں‘ درحقیقت اجتماع کو پوجتے رہے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہو جاتا ہے کہ اس قبیلے کے سب لوگ اس کی اولاد ہیں‘ بعد میں اگر اس کی پرستش کرتے تھے تو یہ فقط اس اعتبار سے نہ تھا کہ ہمارا نسب اس تک پہنچتا ہے‘ بلکہ اس لئے بھی کہ وہ اس معاشرے کا مظہر ہے‘ یوں درحقیقت وہ اپنے ہی اجتماع ”سماج“ کی پرستش پر عمل پیرا تھے۔
اب وہ شکل کہ جو بلند تر ہے اور زیادہ جدید (Modern) ہے‘ جس میں ڈورکہیم کی باتوں ہی کی تقلید کی گئی ہے‘ یہی ہے کہ جو مقالہ نگار نے بیان کی ہے۔ اس نے خود پرستی وغیرہ کی بات نہیں کی‘ اس نے وہی پہلا حصہ بیان کیا ہے کہ جو میں عرض کر چکا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ ایک طرح کی ”خود بیگانگی سے واپسی“ ہے (خود بیگانگی یعنی اپنی ذات کو اجنبی سمجھنا)‘ انسان میں درحقیقت دو ”خود“ موجود ہیں‘ ایک انفرادی ”خود“ اور دوسرا اجتماعی ”خود“۔ انسان اپنے بہت سارے کام اجتماعی ”خود“ اور ”میں“ کے لحاظ سے کرتا ہے‘مثال کے طور پر انسان کسی جگہ ایثار کرتا ہے‘ آپ ایثار کا یہ معنی کرتے ہیں کہ یہ غیر کو اپنے پر ترجیح دینے سے عبارت ہے‘ پھر آپ اس سلسلے میں دلائل پیش کرتے اور تجزیہ کرتے ہیں کہ انسان کو فطرتاً اپنے لئے کام کرنا چاہئے۔ انسان کے اندر کیا احساس ہے کہ دوسرے کو اپنے آپ پر مقدم کرنے لگتا ہے؟ یہ تو ایک ایسا کام ہے کہ جو منطقی محسوس نہیں ہوتا‘ لیکن بہرحال انسان ایسا کرتا ہے اور ایسا کرنے کو اپنی ذات کے لئے کئے جانے والے کام سے برتر بھی سمجھتا ہے اور اسے ایک مقدس کام خیال کرتا ہے۔
کہتا ہے کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ آپ ایثار کو سمجھتے ہیں کہ یہ دوسرے کو اپنے پر ترجیح دینے سے عبارت ہے‘ بلکہ ایثار کرنے والا خود ہی کو خود پر مقدم کر رہا ہوتا ہے‘ چونکہ اس کے دو ”خود“ ہیں‘ ایک اجتماعی اور دوسرا انفرادی۔ اب یہاں دوسرے خود نے ظہور کیا ہے‘ لہٰذا خود ہی نے خود کے لئے کام کیا ہے‘ لیکن انفرادی خود کے لئے نہیں‘ بلکہ اجتماعی خود کیلئے۔ چنانچہ اخلاق کی بھی اس صورت میں توجیہہ ہو جاتی ہے‘ قومیت اور قوم پرستی کا احساس اور قوم و ملت کے لئے ایثار اور معاشرے کے لئے قربانی کی بھی توجیہہ کی جا سکتی ہے۔ اس سے مراد دوسرے کے لئے کچھ کرنا نہیں‘ خود کے لئے کام کرنا ہے کہ جو اجتماعی خود ہے۔ مضمون نگار نے یہ گفتگو ”از خود گزشتگی“، ”ایثار یا جاں نثاری“ کے عنوان کی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ یہ تعبیر خود اپنی ہے (دوست احباب سے خواہش ہے کہ وہ خود وقت نکالیں اور متعلقہ کتب میں جہاں بھی مفصل تر ہو ڈورکہیم کا نظریہ تلاش کریں اور اس مسئلے پر بھی تحقیق ہو تو اچھا ہے‘ اس جگہ سے تقریر کا کچھ حصہ ریکارڈ نہیں ہو سکا)‘ اپنی اجتماعی خود گنوا بیٹھا ہے‘ اسے ”غیر“ سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ سے اسے جدا کر لیتا ہے۔ اپنے آپ میں دو ”خود“ محسوس کرتا ہے‘ انفرادی خود کہ جس میں ”میں“ ہے‘ ”نفس“ ہے‘ ”خود“ ہے‘ انفرادیت ہے اور ایک ”میں“ اور ہے کہ جس میں اجتماع ہے‘ معاشرہ ہے۔ پھر یوں وہ کام بھی دو طرح کا کرتا ہے‘ وہ کام کہ جو اجتماعی ”میں“ انجام دیتا ہے (اور وہ کام کہ جو انفرادی ”میں“ انجام دیتا ہے)‘ رفتہ رفتہ اس اجتماعی ”میں“ کو بھول جاتا ہے۔ بلاتشبیہ کہا جا سکتا ہے کہ جیسے اللہ کے بارے میں قرآن میں تعبیرات آئی ہیں کہ انسان درحقیقت اللہ کو فراموش کر دیتا ہے اور نتیجتاً وہ خود کو بھی بھلا دیتا ہے‘ پھر خوبیوں کے ایک سلسلے پر اس کی نظر پڑتی ہے‘ خیال کرتا ہے کہ خود تو انفرادی خود ہی میں منحصر ہے۔ بعدازاں جو کام اجتماعی ”میں“ کے ساتھ انجام دیتا ہے‘ ان کے لئے موضوع تلاش کرتا ہے‘ اب اس موضوع کو اپنی ذات سے باہر فرض کر لیتا ہے‘ اسے ”ماوراء طبیعت“۔ ایک معکوسی جہت سے ایسی بہت سی باتیں ایک عرفانی صورت اختیار کر لیتی ہیں۱۱#
سالہا دل طلب جام جم ازما می کرد
آنچہ خود داشت زبیگانہ تمنا می کرد
(دل جام جم کا برسوں تقاضا کئے رہا
خود پاس تھا جو‘ اس کی تمنا کئے رہا)
یہ بھی کہتا ہے کہ جناب! یہ وہی آپ کی خود ہے‘ وہی آپ کی اجتماعی خود ہے‘ ہاں البتہ آپ اسے کھو بیٹھتے ہیں‘ کیونکہ آپ اسے کھو بیٹھتے ہیں‘ اس لئے اب اسے اپنے غیر میں اور اپنے آپ سے باہر تلاش کر رہے ہیں اور یہ ہے ”از خود بیگانگی“ (خود کو فراموش کر دینا یا بھلا دینا)‘ یعنی انسان اپنے آپ کو فراموش کر بیٹھتا ہے‘ ”غیر“ کو ”خود“ کی جگہ سمجھتا ہے اور وہ غیر (ماوراء الطبیعہ ہے)۔
 
Top