محمد عمر

لائبریرین
۲۱۸

سلطنت دی، دو پائیں۔ یہ دونوں بدبَخْت جو لالچی تھے، اِنہوں نے جانیں گنوائیں۔ قِیامت تک مَطْعونِ خَلائِق رہیں گے۔ جتنے نیک ہیں؛ یہ قِصّہ سُن کر، بد کہیں گے۔ رنڈی اِن باتوں سے بَرسَر رحم ہوئی، بندر کی تسکین کی، کہا : تو خاطر جمع رکھ، جب تک کہ جیتی ہوں، تجھے بادشاہ کو نہ دوں گی، فاقہ قبول کروں گی۔ پھر اُسے رُوٹی کھِلا، پانی پِلا، کِھنّڈری میں لِٹا، سُو رہی۔

صبح کو چِڑیمار اُٹھا، بندر کے لے جانے کا قَصْد کیا۔ عورت نے کہا : آج اَور قسمت آزما، پھر جانور پکڑنے جا۔ جو رُوٹی مُیسّر آئے تو کیوں اِس کی جان جائے؛ ہم پر ہَتیا لگے، بد نامی آئے۔ نہیں تو کل لے جانا۔ وہ بولا : تو اِس کے دَم میں آ گئی۔ بندر نے کہا : ماشاء اللہ! رنڈی تُو خدا پر شاکِر ہے، تو مرد ہو کر مُضْطَر ہے؟ پاجی تُو زَن مُرید ہوتے ہی ہیں، پھر وہ پَٹَک جھٹک؛ جال، پھَٹکی اُٹھا؛ لاسا، کَمپالے؛ ٹَٹّی کندھے سے لگا گھر سے نِکلا۔ یا تو دن بھر خراب ہو کر دو تین جانور لاتا تھا؛ اُس رُوز دو پَہَر میں پچاس ساٹھ ہاتھ آئے، پھَٹکی بھر گئی۔ خوش خوش گھر پھرا۔ کئی روپے کو جانور بیچے۔ آٹا، دال، نُون، تیل، لکڑی خرید، تھوڑی مٹھائی لے، بھَٹّی پر جا کے ٹکّے کا ٹھرّا پیا۔ ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ جھومتے، گیت گاتے گھر کا راستہ لیا، مُفلسی کا غم بچّہ بھول گئے۔ جُورو سے آتے ہی کہا : اَری ! بَنومان جی کے کدم


۲۱۹

بڑے بھگوان ہیں۔ بھگوان نے دَیا کی، آج رُپیّا دلوائے، اِتنے جانور ہاتھ آئے۔ وہ گھر بَسی بھی بہت ہنسی۔ پہلے مٹھائی بندر کو کھلائی؛ پھر روٹی پکا، آپ کھا، کچھ اُسے کھِلا، پڑ رہی۔ بندر بِیچارا سمجھا : چَندے پھر جان بچی، جو فلک نہ جل مرے اور اِس کا بھی رشک نہ کرے۔ مُؤلِّف :

کیا شاخِ گُل پہ پھول کے بیٹھی ہے عَنْدِلیب

ڈرتا ہوں مَیں، چشمِ فلک کو بُرا لگے

جب لایا، بارِ یاس ہی لایا یہ، اے سُرور

گاہے نہ نَخلِ غم میں ثَمَر اِس سِوا لگے

اب روز بہ روز چِڑیمار کی ترقّی ہونے لگی۔ تھوڑے دنوں میں گھر بار، کپڑا لَتَّہ، گہنا پاتا درست ہو گیا۔ قَضارا، کوئی بڑا تاجِر سَرا میں اُس بھٹیاری کے گھر میں اُترا، جس کی دیوار تلے چِڑیمار رہتا تھا۔ ایک روز بعد نمازِ عِشا سوداگر وظیفہ پڑھتا تھا؛ نا گاہ آوازِ خوب، صدائے مرغوب، جیسے لڑکا پیاری پیاری باتیں کرتا ہے، اُس کے کان میں آئی۔ بھٹیاری سے پوچھا: یہاں کون رہتا ہے؟ وہ بولی : چِڑیمار۔ سوداگر نے کہا : اُس کا لڑکا خوب باتیں کرتا ہے۔ بھٹیاری بولی : لڑکا بالا تو کوئی بھی نہیں، فقط جُورو خَصَم رہتے ہیں۔ سوداگر نے کہا : اِدہر آ، یہ کس کی آواز آتی ہے؟ بھٹیاری جو آئی، لڑکے کی آواز پائی۔ وہ بولا : اِس صدا سے بڑے درد


۲۲۰

پیدا ہے؛ اِس کو میرے پاس لا، باتیں کروں گا۔ کچھ لڑکے کو دوں گا اور تیرا بھی مُنہ میٹھا کروں گا۔

بھٹیاری چِڑیمار کے گھر گئی۔ دیکھا : بندر باتیں کرتا ہے۔ اِسے دیکھ چُپ ہو رہا۔ وہ دونوں بھٹیاری کے پاؤں پر گر پڑے، مِنّت کرنے لگے، کہا : ہم نے اِسے بچّوں کی طرح پالا ہے، اپنا دُکھ ٹالا ہے۔ شہر پُر آشُوب ہو رہا ہے، بندر کُش بادشاہ اُترا ہے، ایسا نہ ہو، یہ خبر اُڑتے اُڑتے اُسے پہنچے؛ بندر چھِن جائے، ہم پر خرابی آئے۔ وہ بولی :مجھے کیا کام جو ایسا کلام کروں۔ سَرا میں آ کے سوداگر سے کہا : وہاں کوئی نہ تھا۔ اُس نے کہا: دیوانی! ابھی وہ آواز کس کی تھی؟ یہ غَور سُنیے کہ کیا معقول جواب وہ نامعقول دیتی ہے : بَلَیّاں لوں، بھلا مجھے کیا غَرضَ جو کہوں : بندر بولتا ہے۔ سوداگر خوب ہنسا، پھر کہا : تو سِڑَن ہے، اری بندر کہیں بولا ہے! پھر بولی : جی گریب پَروَر! صد کے گئی؛ اِسی سے تو مَیں بھی نہیں کہتی ہوں کہ بندر بولتا ہے، اور چِڑیمار کی جورو نے بتانے کو منع کیا ہے۔ سوداگر کو سخت خَلْجان، بہ مرتبہ خَفْقان ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے! مکان قریب تھا، خود چلا گیا۔ دیکھا تو فِی الْحقیقت ایک عورت، دوسرا مردِ مُچھَنْدَر، تیسرا بندر ہے۔ یقینِ کامل ہوا یہی بندر بولتا تھا۔ بھٹیاری سچّی ہے، گُو عقْل کی کچّی ہے۔ وہ سوداگر کو دیکھ کے بندر کو چھِپانے لگے، خوف سے تھرّانے لگے۔ اِس نے کہا : بھید کھُل گیا، اب پوشیدہ کرنا اِس کا لا حاصل ہے۔ مَصلَحت یہی ہے، بندر


۲۲۱

ہمیں دو۔ جو اِحتِیاج ہو، اِس کے جِلدو میں لُو۔ نہیں تو بادشاہ سے اِطّلاع کروں گا، یہ بے چارہ مارا جائے گا، چھِپانے کی علّت میں تمھارا سِر اُتارا جائے گا، میرا کیا جائے گا۔ وہ دونوں رُونے پیٹنے لگے۔ بندر سمجھا : اب جان نہیں بچتی، اِتنی ہی زیست تھی؛ چِڑیمار سے کہا : اے شخص! فَلَکِ کَج رفتار، گَردونِ دَوّارنے اِتنی جفا پر صبر نہ کیا، یہاں بھی چَین نہ دیا ؛ مناسب یہی ہے رَضائے اِلٰہی پر راضی ہو، مجھے حوالے کر دو۔ قضا آئی، ٹلتی نہیں۔ تقدیر کے آگے کسی کی تدبیر چلتی نہیں۔ فَردِ بَشَر کو حُکمِ قضا و قَدَر سے چارہ نہیں، اِس کے ٹال دینے کا یارا نہیں۔ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَ۔ْٔخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ۔

چِڑیمار نے کہا: دیکھو بندر کی ذات کیا بے وفا ہوتی ہے! ہماری محنت و مَشَقَّت پر نظریہ نہ کی، تُوتے کی طرح آنکھ پھیر لی، سوداگر کے ساتھ جانے کو راضی ہو گیا۔ بڑا آدمی جو دیکھا، ہمارے پاس رہنے کا مطلق پاس نہ کیا۔ بندر نے کہا : اگر نہ جاؤں، اپنی جان کھوؤں، تم پر خرابی لاؤں۔ آخر کار بہ ہزار گِریہ و زاری سوداگر سے دونوں نے قسم لی کہ بادشاہ کو نہ دینا، اچھی طرح پَروَرِش کرنا۔ یہ کہہ کر بندر حوالے کیا۔ سوداگر نے اِس کے عوض بہت کچھ دیا۔ بندر کو سَرا میں لا پیار کیا، بہ دل داری و نرمی حال پوچھا۔ بندر نے یہ چند شعر حَسْبِ حال، سودا کے، سوداگر کے رو بہ رو پڑھے، مرزا رفیع:


۲۲۲

نے بلبلِ چمن، نہ گُل نَو دَمیدہ ہوں

میں مَوسَمِ بہار میں شاخِ بُریدہ ہوں (۱)

گِریاں بہ شکل شیشہ و خَنداں بہ شکلِ جام

اِس مَے کدے کے بیچ عَبَث آفریدہ ہوں

میں کیا کہوں کہ کون ہوں سودا! نہ قولِ درد

جو کچھ کہ ہوں سُو ہوں، غرض آفت رسیدہ ہوں

اے عزیز! آتَشِ کارواں، نقشِ پاے یارانِ رَفتَگاں ظاہر ہوں؛ مگر پنہاں ہوں بلبلِ دور اَز گُلزار، گُم کردہ آشِیاں؛ صیّاد آمادۂ بیداد، گھات میں باغباں؛ کیوں کر نہ سرگرمِ فغاں ہوں۔ حضرتِ عشق کی عِنایت ہے، احبابِ زمانہ کی شکایت ہے، طُرفَہ حکایت ہے کہ حاجت رَوائے عالَم، محتاج ہے۔ تخت ہے نہ اَفسر ہے، نہ وہ سِر ہے نہ تاج ہے۔ غریب دِیار، چرخ مؤجِدِ آزار۔ شفیق و مہرباں نہیں، حالِ زار کا کوئی پُرساں نہیں۔ حیرت کا کیوں نہ مُبتَلا ہوں، اپنے ہاتھ سے اَسیرِ دامِ بَلا ہوں۔ خُود گرفتارِ پنجۂ ستم ہوا؛ کبھی مجھے جِن کا اَلَم تھا، اب اُنہیں میرا غم ہوا۔ مرنے سے اِس لیے ہم جی چھِپاتے ہیں کہ ہمدم میرے فراق میں موئے جاتے ہیں۔ مجھے دامِ مکر میں اُلجھایا، دوستوں کو میرے دشمن کے پھندے میں پھنْسایا، گردشِ چرخِ ستم گار سے عجیب سانِحۂ ہُوش رُبا سامنے آیا۔ میر تقی:

سخت مشکل ہے، سخت ہے بیداد

ایک مَیں خوں گِرِفتہ، سَو جلّاد (۲)

کوئی مشفق نہیں جو ہووے شفیق

بے کَسی چھُٹ، نہیں ہے کوئی رفیق

آہ، جو ہمدمی سی کرتی ہے

اب تو وہ بھی کمی سی کرتی ہے

اب ٹھہرتا نہیں ہے پائے ثَبات

ایک مَیں اور ہزار تَصْدیعات


۲۲۳

مصر؏ : گویم، مشکل و کرنگویم، مشکل۔


مگر آج خوش قسمتی سے آپ سا قَدْر داں ہاتھ آیا ہے، اِنتِشارِ طبیعت بَر طَرف ہو تو بہ دِل جَمْعِیِ تمام، آغاز سے تا انجام اپنی داستانِ غم، سانھۂ ستم گُزارِش کروں گا۔ سوداگر کے، اِس مضمونِ درد ناک سے، آنْسو نکل پڑے، سمجھا: یہ بندر نہیں، کوئی فَصیح و بَلیغ، عالیٰ خاندان، والا دودمان سِحر میں پھنس گیا ہے، کہا : اطمینانِ خاطر رکھ، تیری جان کے ساتھ میری جان ہے، اب زیست کا یہی سامان ہے۔ بندر کو تسکینِ کامل حاصل ہوئی۔ غزلیں پڑھیں، نَقْل و حِکایات میں سَر گرم رہا، اپنا حال پھر کچھ نہ کہا۔ تمام شب سوداگر نہ سویا، اِس کے بیانِ جاں کاہ پر خوب رُویا۔

اب بہت تعظیم و تکریم سے بندر رہنے لگا۔ مگر اَمرِ شُدَنی بہ ہر کیف ہُوا چاہے۔ راز فاش ہو، اگر خُدا چاہے۔ سوداگر کا یہ انداز ہوا : جو شخص نیا اِس کی ملاقات کو آتا، اُسے بندر کی باتیں سُنواتا۔ اُس کو اِستِعجاب سے فِکر ہوتا، اِس کا ہر جگہ ذِکر ہوتا۔ آخِرَش، اِس کی گُویائی کا چرچا کوچہ و بازار میں مچا اور یہ خبر اُس کُور نمک، مُحسنِ کُش کے گُوش زَد ہوئی۔ سُنتے ہی سمجھا یہ وہی ہے، بعدِ مُدّت فلک نے پتا لگایا، اب ہاتھ آیا۔ فوراً چُوبدار بندر کے لینے کو، سوداگر کے پاس بھیجا۔ یہ بہت گھبرایا۔ اَور تو کچھ بَن نہ آیا، بہ صَد عَجزو نِیاز عرضْداشت کی کہ غلام صاحبِ اَولاد نہیں، اِس اَندوہ میں


۲۲۴

دل مُضطر شاد نہیں۔ طبیعت بہلانے کو اِسے بچّہ سا لے کر فرزندوں کی طرح بڑی مَشقّت سے پالا ہے، رات دن دیکھا بھالا ہے۔ بندر ہے، مگر عَنْقا ہے۔ مُفارَقت اِس کی خانہ زاد کی جان لے گی، آیِندہ جو حضور کی مرضی۔

چُوبدار یہاں سے خالی پھِرا، وہ ظالِم اَظْلَم غَضَب میں بھَرا، وہاں کے بادشاہ کو لکھا کہ اگر سلطنت اور آبادیِ مَمْلکَت اپنی منظور ہو، سوداگر سے جلد بندر لے کر یہاں بھیج دو۔ نہیں تو اپنٹ سے اینٹ بجا دوں گا، نام و نشاں مِٹا دوں گا۔ یہ خَبْرِ وحشت اَثَر سُن کے غَصَنْفر شاہ مُتردِّد ہوا۔ مُشیرانِ خوش تدبیر، امیر وزیر سمجھانے لگے کہ خُداوندِ نعمت! ایک جانور کی خاطر آدمیوں کا کُشْت و خوں زَبوں ہے۔ حکم ہوا : کچھ لوگ سرکاری وہاں جائیں؛ جس طرح بَنے، سوداگر سے بِگڑ کر، بندر اُس کی ڈیوڑھی پر پہنچائیں۔ جب بادشاہی خاص دستہ سَرا میں آیا؛ بندر دست بَسْتَہ یہ زبان پر لایا کہ اے مؤنسِ غم گُسار، وفا شِعار! اِس اَجَل رَسیدَہ کے باب میں کَدو کوشش بے کار ہے، سَراسَر بیجا ہے۔ قضا کا زمانہ قریب پہنچا، دَرِ ناکامی وا ہے۔ مَبادا، کسی طرح کا رنج میری دوستی میں تمھارے دشمنوں کو پہنچے؛ تو مجھے حَشْر تک حِجاب و نَدامت رہے، خلقِ خُدا یہ ماجرا سُن کے بُرا بھلا کہے۔ سوداگر نے کہا : اِسْتَغْفِرُاللّٰہ یہ کیا بات ہے! جو کہا، وہ سِر کے ساتھ ہے۔

۲۲۵

جب بادشاہ کے لوگوں کا تقاضاے شَدید ہوا اور دن بہت کم رہا؛ بعدِ دَدّ و قدح، بہ مَعذِرَتِ بِسیار و مِنَّت بے شُمار، ہزار دینار دے کے اُس شب مُہلت لی اور صُبْح کے چلنے کی ٹھہری، بہ مؤجِبِ مَثَل، مصرع :

زر برسَرِ فولاد نہی، نرم شود

اِس عرصے میں یہ حال تباہ، ماجراے جان کاہ گلی کوچے میں زَبان زَدِ خاص و عام ہوا کہ ایک بندر کِسی سوداگر کے پاس باتیں کرتا تھا، وہ بھی کل مارا جائے گا۔ نہ حَدِّے کہ اُس کُشتَۂ اِنتِظار، مایوسِ دل فِگار یعنی ملکہ مہر نگار کو بھی معلوم ہوا۔ وہ شیداے جانِ عالم سمجھی کہ یہ بندر نہیں، شہ زادہ ہے۔ افسوس! صد ہزار افسوس! اب کون سی تدبیر کیجیے جو اِس بے کس کی جان بچے! دل کو مَسُوس، وزیر زادے کو کُوس، لوگوں سے پوچھا : دَمِ سَحَر کدھر سے وہ سوداگر جائے گا؟ یہ تماشا ہمارے دیکھنے میں کیوں کر آئے گا؟ لوگوں نے عرض کی : حضور کے جھَروکے تلے شاہراہ ہے، یہی ہر سِمت کی گُذَرگاہ ہے۔ یہ سُن کے تمام شب تڑپا کی، نیند نہ آئی۔ دو گھڑی رات سے برآمدے میں برآمد ہوئی اور ایک تُوتا پنْجرے میں پاس رکھ لیا۔ گَجَر سے پِیش تر بازار میں ہُلّڑ، تماشائیوں کا مِیلا سا ہو گیا۔ جس وقت تاجِرِ ماہ نے مَتاعِ انجم کو نِہاں خانۂ مغرب میں چھپایا اور خُسروِ رنگیں کُلاہ نے بندرِ مشرق سے نکل کر تخت، زَنگاری پر جُلوس فرمایا ؛ سوداگر نمازِ صُبْح پڑھ کر ہاتھی پر سوار


۲۲۶

ہوا ۔ کمر میں پِیش قَبض رکھ، گُود میں بندر کو بِٹھا، مرنے پر کمر مضبوط باندھ کر مجبور چلا۔ بندر سے کہا : پریشان نہ ہو، جب تقریر سے اور اِصرافِ کثیر سے کام نہ نکلے گا؛ جُو کچھ بَن پڑے گا، وہ کروں گا۔ اپنے بچے جی تجھے مرنے نہ دوں گا۔ قولِ مَرداں جان دارد۔ اور، مصرع :

بعد از سَرِ من کُن فَیَکوْں شُد، شُدہ باشد

سوداگر کا سَر اسے سَراسیمَہ آگے بڑھنا کہ خَلقت نے چار طرف سے گھیر لیا۔ بندر لوگوں سے مُخاطِب ہو کے یہ کہنے لگا، میر سوز :

برقِ تَپیدہ، یا شَرَرِ بَر جَہیدہ ہوں

جس رنگ میں ہوں مَیں، غرض از خودر میدہ ہوں (۱)

اے اہلِ بزم! مَیں بھی مُرَقّع میں دَہْر کے

تصویر ہوں، وَلے لَب حسرت گُزیدہ ہوں

صیاد! اپنا دام اُٹھا لے کہ جوں صبا

ہوں تو چمن میں، پر گُلِ عشرت نچیدہ ہوں

اے آہ و نالہ! مجھ سے نہ آگے چلو کہ مَیں

بِچھڑا ہوں کارواں سے، مسافر جَریدہ ہوں

غم ہوں، الم ہوں، درد ہوں، سوز و گداز ہوں

سب اہلِ دل کے واسطے مَیں آفریدہ ہوں

صاحِبو! دُنیاے دؤں، نَیرنگیِ زمانۂ سِفْلَہ پَروَر، بو قَلَمؤں


۲۲۷

عبرت و دید کی جا ہے۔ گرما گرم آیِندہ رَوِند کا بازار ہے۔ کَس و ناکَس جِنْسِ نا پایدار، لَہْو و لَعْب کا خریدار ہے۔ اپنے کام میں مصروف قضا ہے۔ جُو شَے ہے، ایک روز فنا ہے۔ مُعاملاتِ قضا و قَدَر سے ہر ایک ناچار ہے، یہی مَسْئَلَۂ جَبْرو اِختیار ہے۔ کوئی کسی کی عداوت میں ہے، کوئی کسی کا شیدا ہے۔ جسے دیکھا، آزاد نہ پایا؛ کسی نہ کسی بَکھیڑے میں مُبتَلا ہے۔ ایک کو اَتنا سوجھتا نہیں کیا لِین دین ہو رہا ہے۔ سُود کی اُمّید میں سَراسَر زِیاں ہے؛ سِڑی ہونے کا سودا ہے۔ اُس کی قُدرتِ ناطِقَہ دیکھو: مجھ سے نا چیز، بے زَباں کو یہ تکلُّفِ گویائی عنایت کیا؛ تم سب کا سامِعُوں میں چِہرہ لکھ دیا، باتیں سُننے کو ساتھ چلے آتے ہو ۔ جُدائی میری شاق ہے، جو ہے وہ مشتاق ہے، حالِ زار پر رحم کھا آنسو بہاتے ہو۔ یہ رَحیمی کی صفت ہے؛ شانِ قَہّاری دیکھو: اُسی تقریر کی دھوم سے، ایک ظالِم شوم سے مجھ مظلوم کا مُقابلہ ہوتا ہے۔ یقینِ کامل ہے کہ وہ قتل کرے گا، بے گُناہ کے خون سے ہاتھ بھرے گا۔ سَوَادُ الْوَجہِ فَی الدَّارَين ہو گا، تب اُسے آرام اور چَین ہو گا۔ یہ گُویائی، گُویا پیامِ مرگ تھا۔

دُنيا جاے آزمایِش ہے۔ سَفیہ جانتے ہیں یہ مُقام قابلِ آرام و آسایِش ہے۔ دو رُوزہ زیست کی خاطر کیا کیا ساز و ساماں پیدا کرتے ہیں۔ فرعونِ با ساماں ہو کے زمین پر پاؤں نہیں دھرتے


۲۲۸

ہیں۔ جب سِر کو اُٹھا آنکھ بند کر کے چلتے ہیں، خاکساروں کے سِر کُچلتے ہیں۔ آخِر کار حسرت و ارماں فَقَط لے کر مرتے ہیں۔ جان اُس کی جُستُجو میں کھُوتے ہیں جو شَے ہاتھ آئے ذِلّت سے، جمع ہو پریشانی مَشقّت سے، پاس رہے خِشَّت سے، چھوٹ جائے یاس و حسرت سے۔ پھر سِر پر ہاتھ دھر کر رُوتے ہیں۔ صُبح کو کوئی نام نہیں لیتا ہے، جو کسی اور نے لیا تو گالیاں دیتا ہے۔ ناسخ :

دُنیا اک زا لِ بِیسوا ہے

بے مہر و وفا و بے حیا ہے(۱)

مَردوں کے لیے یہ زن ہے رہِ زن

دنیا کی عدو ہے، دیں کہ دشمن

رہتی نہیں ایک جا پہ جم کر

پھرتی ہے بہ رنگِ نَرْد گھر گھر

انجامِ شاہ و گدا دو گز کَفَن اور تختۂ تابوت سے سوا نہیں۔ کسی نے اَدَھر سا، یا محمودی کا دیا، یا تحریرِ کربلا؛ کسی کو گَزی گاڑھا مُیسّر ہوا بہ صد کرب و بَلا۔ اُس نے صندل کا تختہ لگایا، اِس نے بِیر کے چَیلُوں میں چھِپایا۔ کسی نے بعد سنگِ مَرمَر کا مَقبَرہ بنایا، کسی نے مَرمَر کے گُور گڑھا پایا۔ کسی کا مزار مُطَلّا، مُنَقّش، رنگا رنگ ہے۔ کسی کی، مانِندِ سینۂ جاہِل، گُور تنگ ہے۔ حسرتِ دنیا سے کَفَن چاک ہوا، بستر دونوں کا فرشِ خاک ہوا۔ نہ امیر سَمْور و قاقُم کا فرش بِچھا سکا، نہ فقیر پھٹی شَطْرنْجی اور ٹوٹا بُوریا لا سکا۔ بعدِ چَنْدِے، جب گردشِ چرخ نے گُنبد گرایا، اینٹ سے اینٹ کو بجایا تو ایک نے یہ بتایا کہ دونوں میں یہ گُورِ شاہ ہے، یہ لَحَدِ فقیر ہے۔ اِس کو مَرگِ جوانی نصیب ہوئی، یہ اُسْتُخوانِ بُوسیدَۂ پیر ہے۔ سُو یہ بھی


۲۲۹

خوش نصیب، نیک کمائی والے گُور گڑھا، کَفَن پاتے ہیں؛ نہیں تو سیکڑوں ہاتھ رکھ کر مر جاتے ہیں، لوگ "دَر گُور" کہ کر چلے آتے ہیں۔ کُتّے بِلّی، چیل کوّے بُوٹیاں نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔ دامنِ دَشتِ عُریاں کَفَن، گُور بے چراغ، صَحرا کا صَحْن ہوتا ہے۔ یاس و حسرت کے سوا کوئی نہ سِرھانے رُوتا ہے۔ تمنّا چھُٹ کوئی پائِنْتی نہ ہوتا ہے۔

سالہا مَقْبروں کی عِماراتِ عالی اور ساز و ساماں کی دیکھ بھالی میں سریع السَّیر رہے، ہزاروں رنج گُورِ بے چراغِ غَریباں کی دید میں بیٹھے بِٹھائے سہے؛ طُرفۂ نَقْل ہے کہ والی وارث اُن کے سَریرِ سلطنت، مسندِ حکومت پر شب و رُوز جلوہ اَفروز رہے، مگر تنبیِہہ غافِلوں کو، قُدرتِ حق سے، گُنبدوں میں آشِیانۂ زاغ و زَغَن، میناروں پر مَسکَنِ بومِ شُوم، قبروں پر کُتّے لُوٹتے دیکھے۔ میر:

مزارِ غریباں تَاَسّف کی جا ہے

وہ سُوتے ہیں، پھِرتے جو کل جا بہ جا دیکھا رنگِ چمن صَرفِ خِزاں دیکھا۔ ڈَھلا ہوا حُسنِ گُل رُخاں دیکھا۔ اگر گُلِ خنداں پر جُو بن ہے، بہار ہے؛ غور کیا تو پہلوے نازنیں میں نَشتر سے زیادہ خَلِشِ خار ہے، گِریاں اُس کے حال پر بُلبلِ زار ہے۔ دُنیا میں دن رات زَق زَق بَق بَق ہے۔ کوئی چَہچہے کرتا ہے، کِسی کو قَلَق ہے۔ نُوش کے ساتھ گُزَندِ نیش ہے۔ ہر رہ رَو کو کڑی منزل در پیش ہے۔ ایک فقیر کے اِس نُکتے نے بہت جی کُڑھایا، مگر سب کو پسند آیا کہ بابا! دن تھوڑا، سَر پر بوجھ بھاری، منزل دور ہے؛ مسافر کے پاؤں میں حرص کے چھالے، ہوس کی بِیڑیاں، غفلت کا نشہ،
 

صابرہ امین

لائبریرین
ص212

نہ ہوا، بِیڑا پار نہ ہوا۔ مگر کچھ ڈَھبڈَھبا نے کا ڈَھب تھا، گُو گھاٹ کُڈَھب تھا ؛ ایک لڑکے کو کنارے پر بِٹھا، چُھوٹے کو کندھے پر اُٹھا ، دریا میں در آیا۔ نِصف پانی بہ صَد گِرانی طَے کیا تھا ؛ کَنارے کا لڑکا بِھیڑیا اُٹھا لے چلا۔ وہ چِلّایا، بادشاہ آواز سُن کر گھبرایا۔ پِھر کر دیکھنے لگا جو لگا، کندھے کا لڑکا پانی میں گر پڑا۔ زیادہ مُضطَرِب جو ہُوا، خود غُوطے کھانے لگا، لیکن زندگی باقی تھی، بہ ہرکَیف کَنارے پر پہنچا۔ دل میں سمجھا: بڑے بیٹے کو بھیڑیا لے گیا، چُھوٹا ڈوب کے مُوا۔ نَیرَنگیِ فلک سے عالَمِ حیرت، بی بی کے چُھٹنے کی غیرت۔ بیٹوں کے اَلَم سے دل کباب، سلطنت دینے سے خستَہ و خراب۔

اِسی پریشانی میں شُکر کرتا پھر چلا۔ سِہ پَہَر کو ایک شہر کے قریب پہنچا۔ دَرِ شہر پناہ خَلقت کی کثرت دیکھی، اُدھر آیا۔ اُس مُلک کا یہ دستورتھا: جب بادشاہ عازِمِ اِقلیمِ عَدَم ہوتا؛ اَرکانِ سلطنت، رؤَساے شہر وہاں آکر باز اُڑاتے تھے۔ جس کے سِر پر بیٹھ جاتا، اُسے بادشاہ بناتے تھے۔ چُنانچہ یہ روز وہی تھا۔ باز چھوڑ چکے تھے، ابھی کسی کے سِر پر نہ بیٹھا تھا۔ اس بادشاہِ گدا صورت کا پہنچنا، باز اِس کے سِر پر آ بیٹھا۔ لوگ معمول کے مُوافِق حاضر ہوئے، تخت رو بہ رو آیا۔ ہر چند یہ تخت پر بیٹھنے سے بازرہا، کہا: مَیں گُم کردہ آشِیاں سلطنت کے شایاں نہیں ہوں۔ میں نے اِسی عِلَّت سے اپنے مَرزبومِ شوم کوچھوڑا ہے، حُکومت
 

صابرہ امین

لائبریرین
ص 213

سے مُنہ مُوڑا ہے۔ مگر وہ لوگ اِس کے سِر پر باز کا بیٹھنا، عَنقا سمجھ، نہ باز رہے۔ جوجو شاہیں تھے تاڑ گئے، پَربیں پہچان گئے کہ یہ مُقَرَّر ہُماے اَوجِ سلطنت ہے۔ قصّہ مُختَصَر، رَگَڑ جَھگَڑ تختِ طاؤس پربِٹھا نَذریں دیں، تُوپ خانے میں شلَّک ہوئی۔ بڑے تُزُک ، حَشمت سے آشِیانہء سلطنت، کاشانہء دولت میں داخل کیا۔ تمام قَلَمرَو، نقد وجِنس، اَشیاے بَحری وبَرّی اِن کے تَحتِ حکومت، قبضہء تَصَّرُّف میں آیا۔ گَز، سکّے پر نام جاری ہوا۔ مُنادی نےنِدا دی، دُہائی پِھر گئ کہ جو ظُلم و جَور کا بانی ہوگا؛ وہ لَٹُورا، گردن مارا جائے گا، سزا پائے گا۔ سوز:

پَل میں چاہے تو گدا کو وہ کرے تخت نشین

کچھ اَچھنبا نہیں اِس کا کہ خدا قادِر ہے

کارخانہء قدرت عجیب وغریب ہیں؛ نہ اِعِتمادِ سلطنت، نہ قِیامِ غُربت وعُسرت۔ مرزا رفیع :

عَجَب نادان ہیں، جن کو ہےعُجبِ تاجِ سُلطانی

فلک بالِ ہُما کو پَل میں سَونپے ہے مگس رانی

یہ سلطنت توکرنے لگا مگر فُسُردَہ خاطِر، پَژمُردَہ دِل۔ بہ سَبَبِ شرم و حیا مُفَصَّل حال کسی سے نہ کہتا تھا، شب و روز غمگین واَندُوہ ناک پڑا رہتا تھا۔ جب وہ بُلبُلِ ہزار داستان یعنی فرزند، شمعِ دوٗد ماں یاد آتے تھے؛ دن کو پیشِ چشم اندھیرا ہوجاتا، ظِلِّ سُبحانی کوٗ کوٗ کرکے نہ نالہ و فریاد مچاتے تھے۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۰

فوج میں تو اس طرح کی کھلبل، ہلچل مچی تھی؛ اُدھر انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار نے ایک اونچا ٹیکرا تجویز کر، خیمہ بیا کیا۔ چلمن چھوڑ آ بیٹھیں، سیر دیکھنے لگیں۔ اس عرصے میں لشکر غنیم کی آمد ہوئی، یعنی شہپال جادو سیاہ رو نو لاکھ ساحر کا پرا ہمراہ رکاب شکست انتساب لے کر، تخت پر سوار، چالیس اژدر خوں خوار تخت اُٹھائے، شعلے نکلتے، بھاڑ سا مُنہ ہر ایک پھیلائے، بڑی کر و فر سے آیا۔ فوج بے قیاس وہ خدا ناشناس لایا اور سامنے جوانانِ تہمتن و گردانِ صف شکن کے اپنا پرا جمایا۔ پھر علم کالے آگے نکالے اور پرچم سیاہ ہم صورت بخت اُس گم راہ کے کھلے، دف ونے اور جھانجھ بجنے لگے، ادھر کوس و کور گرجنے لگے۔ دونوں لشکر لڑائی پر تُلے۔ وزیر اس کا کچھ پیام پہلے پیر مرد کے پاس لایا، دست ادب باندھ کر عرض کی: ایلچی کو زوال نہیں، زیادہ گوئی کی مجا ل نہیں، شہپال نے فرمایا ہے تمہارا جینا مرنا برابر ہے کہ گرم و سرد زمانہ دیکھ کر عمر طبعی کو پہنچے؛ مگر ان نوجوانوں پر، اپنے بے گانوں پر رحم نہ کیا۔ ان کے خون کا حساب اپنے اعمال کی کتاب پر لکھوایا، بوجھ اپنے ذمے لیا۔ پیر مرد خوش تقریر نے فرمایا ان اجل رسیدہ پیر نابالغ سے کہنا: طرفین سے جس کا خون زمین پر بہے گا؛ اُس کا مظلمہل مُواخذہ؛ تیری بیٹی جو فاحشہ تھی، اس کی گردن پر رہے گا۔ ہم سمجھتے تھے وہی ننگ خاندان تھی؛ لیکن اب معلوم ہوا : وہی زمین سے اُگتا ہے، جو بُوتے ہیں، ایسوں کے ویسے ہی ہوتے ہیں۔ تجھے سفید ڈاڑھی کی شرم نہ آئی، کہ وہ مری، تیرا کلنک کا ٹیکا مٹا۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۱

تو تو اُس سے زیادہ بے حیا، سیہ قلب نکلا۔ یہ مقام رزم ہے جائے نیزہ و شمشیر، یا بزم ہے جو محل تقریر ہو؟ گفتگو بے فائدہ ہے، لاطائل باتوں سے کیا حاصل۔ جو منظور ہو، بسم اللہ، اُس میں دیر نہ کر۔ دیکھیں آج کس کے حصے میں تخت و تاج ہوتا ہے اور گُور و کفن کو کون محتاج ہوتا ہے!


وزیر محجوب پھرا، شہپال سے سب حال کہا۔ پھر تو وہ کافر غدار، گبر ناہجار مژل مار دُم بُریدہ برخود پیچیدہ ہو، شُعلۂ غضب سے وہ ناری جل گیا۔ چہرے کا رنگ گرگٹ کی طرح بدل گیا۔ پہلے آپ حُقہ آتشی پیر مرد پر مارا، پھر لشکر کے سرداروں کو، جادوگر ناہجاروں کو للکارا۔ دوپہر تک عجیب و غریب سحر سازی، ہنگامہ پردازی، جادوگر اور جادوگرنیوں کی لڑئی رہی کہ دیکھی نہ سُنی۔ کسی نے کسی کو جلایا، کسی نہ بجھایا۔ کسی سنگ دل نے پتھر برسائے، سب کچھ سحر کے نیرنگ دکھائے۔


آخر کار جب جادوگری ختم ہوئی، لڑائی کی نوبت بہ گُرز و شمشیر و نیزہ و تیر آئی؛ پھر تو شہ زادہ جانِ عالم کی بن آئی، باگ اٹھائی۔ فوجِ جرار غازیانِ نام دار خبردار ہوئی، سپاہ مانند ابر چار سمت سے گھر آئی۔ صف کی صف دھر دھمکی، برق شمشیر چمکی۔ پہلوانوں کے نعرے نے رعد کا کام کیا۔ خوب لُوہا برسا، بوند بھر پانی کو ہر ایک زخمی ترسا۔ یہ سب تازہ دم، وہ دوپہر کے شل؛ سکڑوں ٹاپُوں میں کُچل گئے، گھوڑوں کی جھپٹ میں کُھندل گئے۔ شمشیر
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۲

صاعقہ خصال جانِ عالم کا یہ حال تھا: جس کی سر پر پڑی، خُود و سر اُس خُودسر کا کاٹا۔ حلق میں قطرۂ سیماب کی طرح اُتر، سینۂ پُر کینہ کو لہو چاٹا۔ وہی سر جو پناہ خُود میں تھا، پلک جھپکی تو گُود میں تھا۔ پھر گوڑے کے تنگ سے چُست گُزر، زخم کُشادہ کر، خانۂ زیں سے زمین میں قرار لیا۔ سر بالیں اُس کے قضا کو رُوتے دیکھا، اُسے خواب مرگ میں پاؤں پھیلائے سُوتے دیکھا۔ ملکُ الموت کی صدا آئی: وہ مار لیا۔ جس پر لپک کر ایک وار کیا، دو (۲) کیا؛ دو (۲) کو دار کیا۔۔ حواس خمسہ کسی کے درست نہ تھے، ششدر ہو گئے۔ ساتوں طبق زمین کے تھرائے، آسمان کو چکر ہوا، مُردے قبروں سے چونک کے باہر نکل آئے۔ جُو اٹکا، اُسے مار لیا، بھاگتے کا پیچھا نہ کیا۔


گھڑی بھر میں خون کا دریا بہ گیا۔ لاشوں کا انبار رہ گیا۔ کاسۂ سر حباب دریا کی طرح بہتے نظر آتے تھے۔ موج خوں میں دھڑ، دھڑا دھڑ غُوطے کھاتے تھے۔ دشمنوں کی کشتی زیست طوفانی تھی، آب تیغ کی طُغیانی تھی۔ فوج عدو کا زندگی سے دل سیراب اور اُچاٹ تھا۔ لہو لُہان ہر تلوار کا گھاٹ تھا۔ کُوسُوں تک لاشے پٹے تھے، یہ پاٹ تھا۔ آخر کار فوج کو شکست ہوئی۔ شہپال کو مارا، سر اُس خُود سر کا مثل خیارِ تر اُتارا۔ سپاہ باقی ماندہ اُس تیرہ بخت، نگو نسار کی فرار ہوئی، زندگی دشوار ہوئی۔ پھر تو غازیانِ فتح نصیب و جادُوانِ مُہیب لوٹ پو ٹوٹ پڑے۔ سب کچھ لوٹا، ساز و سامان اُن کا ذرہ نہ چھوٹا۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۳

ادھر نشان کُھلے، شادیانے بجے۔ وہ سب چادر پھراتے، ماتم کرتے، گریباں چاک، سرو رد آغشتۂ خاک، دم سرد بھرتے، جس کا مُنہ جدھر اُٹھا، بھاگے نکلے۔ میدان کُشتُوں سے اٹ گیا۔ جنگل لاشوں سے پٹ گیا۔ آج تک طُعمۂ زاغ و زغن اُسی بن سے ہے۔ صحرائی درندوں کے خوب پیٹ بھرے؛ بلکہ جانوروں کی دعوتوں کو، گوشت کے مُچے قیمہ کیے اُٹھا رکھے۔ بہت ہیضہ کر کر مرجے۔ وہ سر زمیں، قلعہ، خزانہ جانِ والم کے قبضے میں آیا۔ بڑی جُستجُو، تگایو سے وہ لوح اور نقش پایا۔ پیر مرد رخصت ہوا اور جتنے مدارج پند و نصیحت تھے، مُکرر سمجھائے۔ راہ کا خطر، مصیبتِ سفر، ہر منزل و مقام کا نفع و ضرر کہ کر، کہا: میری جان! اب ایسی حرکت، وہ سامان نہ کرنا جو پھر کوئی روز سیاہ دشمنوں کے سامنے آئے، دوستوں سے دیکھا نہ جائے۔ ہم سے باغ چھوٹے، کُوہِ الم ٹوٹے، لُو اللہ حافظ و ناصر رہے! رسول اُس کا تمہارا مددگار و یاور رہے!

روانہ ہونا شہ زادۂ جانِ عالم کا اُس دشت سے بافتح و ظفر اور اُترنا دریائے شُور کے کنارے پر۔ آنا جہاز کا، سوار ہونا یاران دم ساز کا۔ پھر جہاز کی تباہی، باہم کا تفرقہ، معشوقوں کی جُدائی۔ پھر جوگی کا سمجھانا،
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۴

توتے کا مل جانا، ڈوبتوں کا ترنا۔

آشنایانِ بحر تقریر و غواصان مُحیط تحریر، شناوران شط اُلفت و غریق لجۂ محبت نے گوہر آب دار سخُن کو سلک گُفتار میں مُنسلک کر کے زیب گُوش سامعان ذی ہوس اس طرح کیا ہے کہ بعد میں فتح جنگ جادو شہپال اور ہاتھ آنے خزانہ مالا مال کے، دو (۲) مہینے تک تفریحاً لشکر نُصرت اثر شب و رُوز اُس دشت میں جلوہ افروز رہا۔ جب پیر مرد باغ کو تشریف فرما ہوا، جانِ تالم نے کوچ کیا۔ چند مُدت کے بعد ایک روز خیمہ لبِ دریاے شُور ہوا۔ شہ زادہ معشوقوں سے باہم، تماشا بحرِ زخار و نظارہ امواجِ پیچ دار کا اور سیر دریائے ناپیدا کنار کی، پانی کا زور، ہوا سے دریائے شُور کا شُور، کیفیتِ لطمہ و گرداب دیکھتا تھا، دید دریائی جانوروں کی کرتا تھا۔ نظم :

آب کیسا کہ بحر تھا زخار

تُند و مواج و بیرہ و تہ دار (۱)

موج کا ہر کنایا طوفاں پر
مارے چشمک حباب، عُماں پر

گُذر موج جب نہ تب دیکھا
ساحل اُس کا نہ خشک لب دیکھا

ناگاہ ایک جہاز پُر تکلُف، بانقش و نگارِ بسیار صبا وار نمودار ہوا۔ شہ زادہ سمجھا : کوئی سوداگر کہیں جاتا ہے۔ جب قریب آیا، جہاز کو لنگر کیا اور ناخُدا درِ دولت پر شرف اندُوز ہو کر عرض کرنے لگا: ہم لوگ ملاح ہیں؛ یہا ں جو شاہ و شہر یار رونق افزا
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۵

ہوتا ہے، ہم اُسے دریا کی سیر و شکارِ بحری، جانور آبی دکھاتے ہیں۔ مُوافق قدر، جو قسمت میں ہوتا ہے، انعام پاتے ہیں۔ یہ سُن کر خواہش سیر دریا شہ زادے کے سفینۂ دل میں موج زن، لطمہ پیرا ہوئی، ملکہ سے کہا: چلتی ہو؟ اُس نے عرض کی: ہنُوز گرداب غم، تلاطُم اندُوہ و الم سے ساحل فرحت و طرب کی ہم کناری مُیسر نہیں ہوئی؛ آپ کو اور لہر آئی، نیا ڈھکُوسلا سوجھا۔ جانِ عالم نے کہا: دریا کی سیر جی مسرور کرتی ہے، خفقان دور کرتی ہے۔ طبیعت بہل جاتی ہے، لاکھ طرح کی کیفیت نظر آتی ہے۔ تم نے سُنا نہیں قولِ سعدی، مصرع :

بدریا در منافو بے شمار است (۱)

دو چار گھڑی دل بہلا چلے آئیں گے، ملاح محروم نہ رہ جائیں گے۔ ملکہ مہر نگار نے مُتردد ہو کر کہا: یہ سب سب ہے جو آپ نے فرمایا، خفقان کیسا، تمہارے دشمنوں کو نرا مالیخولیا ہے، میں نے بارہا انجمن آرا سے کہا ہے؛ سُو یہ مرض لا دوا ہے، پانی سے دونا ہوتا ہے۔ اس کے سوا، میرے دماغ میں بھی کیا خلل ہے؟ میرا دوسرے مصرع پر عمل ہے، سعدیؔ :

اگر خواہی سلامت، برکنار است (۲)

شہ زادہ بدمزہ ہوا، فرمایا: خیر ہم تو سِڑی ہیں، تنہا جائیں گے؛ تم نہ چلو، بیٹھی رہو، آرام کرو۔ جُدائی کی تاب محبت کے مُبتلا کو کہاں ہے، اُلفت کا یہی بڑا امتحاں ہے؛ ناچار اُسی دم ملکہ مہر نگار اُٹھی اور
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۶

انجمن آرا مع چند خواص ہمراہ ہوئیں، جہاز پر پہنچیں۔ بادبان کِھنچے، پالیں چڑھیں۔ مہر نگار مُضطرب وار یہ شعر پڑھنے لگی، حزیںؔ :

دریں دریاے بے پایاں، دریں طوفانِ موج افزا (۱)
دل افگندیم بسم اللہ مجرھا و مُرسھا

لوگ مصروف تماشا، ملکہ غریقِ بحرِ تفکُر، غُوطہ زنِ گِردابِ تحیُر، لطمۂ اندُوہ و الم کی آشنا۔ بار بار انجمن آرا سے کہتی تھی: خدا خیر کرے! دشمن نہ ایسی سیر کرے! بے طور موجِ الم سِر سے گزرتی ہے، خود بہ خود پانی دیکھ کر جان ڈرتی ہے، اللہ حافظ و نگہباں ہے۔ سراسر سامانِ بد نظر آتے ہیں، کلیجا خوف سے لرزاں ہے۔

القِصہ، چار گھڑی جہاز نے بادِ مُراد پائی، سیر دِکھائی، پھر آفت آئی، ناخُدا چلایا، ملاح ہراساں ہوئے۔ شہ زادے نے پوچھا: کیا ہے؟ عرض کی: طوفانِ عظیمُ الشان اُٹھا ہے۔ ابھی یہ ذِکر تھا، ہوا عالم گیر ہوئی، جہاز تباہی میں آیا، بادبان ٹوٹ گئے، مستول گرا؛ ملاحوں کے چھکے چھوٹ گئے، سنبھالنے کا مقدور نہیں رہا، آخرش تلاطُمِ آب، صدمہ پیچ و تابِ موج سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ کسی کو کسی کی خبر نہ ملی، کون ڈوب گیا، کون جیتا رہا۔ ایک سے دوسرا جُدا ہو گیا۔ جانِ عالم تختے کے سہارے سے ڈوبتا تِرتا، چار پانچ دن میں کنارے لگا۔ جب تکان پانی کی موقوف ہوئی، غش سے آنکھ کُھلی، دیکھا: کنارے گیا ہوں، بلکہ گُور کے کنارے لگ رہا ہوں۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۷

بڑی جِد و کد سے اُترا، آہستہ آہستہ بیٹھتا اُٹھتا ایک طرف چلا، بستی میں پہنچا۔ وہاں کے باشندے اس کا چہرہ اور جمال، یہ خراب حال دیکھ کر بہت گھبرائے، قریب آئے، کوئی بولا: یہ پری زاد ہے، مثل سرو آزاد ہے، چمنِ حُسن و خوبی کا شمشاد ہے۔ کسی نے کہا: ابھی تو دن ہے، یہ از قسم جِن ہے۔ غرضِ کہ جن جن نے اِسے جِن کہا تھا، پاس آ، کچھ خوف سا کھا، اِ س طرح بولے، اُستاد، مصرع :

کون ہو، کیا ہو، سچ کہو حور ہو یا پری ہو تم (۱)

شاہ زادۂ مصائب دیدہ نے دمِ سرف دلِ سوختہ سے بھر کے، چشم خوں بار تر کر کے اُن لوگوں سے کہا، لا اعلم :

حالے دارم چناں کہ دشمن خواہد
جانے دارم کہ فرقتِ تن خواہد
ناکامی خویش را اگر شرح دہم
دشمن بخدا زندگیِ من خواہد

اَیُھا الناس! میں گم کردہ کارواں، جرسِ کی طرح نالاں ہوں۔ دل گرفتہ، نقشِ پائے یارانِ رفتہ، حُمُق میں گرفتار ہوں، بچھڑوں کا طالب دیدار ہوں۔ غریب دیار، بے تاب، دانہ نصیب ہوا نہ آب، مُفارقتِ یارانِ چند سے خستہ و خراب۔ ہوش و حواس یک لخت زائل۔ ضُعف سدِ راہ، ناطاقتی ھائل۔ یاروں کی صورت نظر آئی نہیں، دیدۂ دیدار طلب میں بینائی نہیں۔ نہ تابِ رفتار، نہ طاقت گُفتار۔ مُؤلف :
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۸

بسانِ نقشِ پا بیٹھے جہاں، واں سے نہ پھر سَرکے
ٹھکانا پوچھتے ہو کیا بھلا ہم بے ٹھکانوں کا

بہ یادِ دوستاں پہروں مجھے ہچکی لگ آتی ہے
کہیں مذکور جب ہوتا ہے کچھ گزرے فسانوں کا

عَلَم سے آہ کے ثابت ہوئی غم کی ظفر ہم کو
کہ باعِث فَتح کا ہوتا ہے، کُھل جانا نشانوں کا

چُھڑائے جبر سے پیرِ فلک نے دوست سب میرے
مٹے گا داغ کب دل سے مرے اُن نوجوانوں کا

شرر مُنہ سے نکلتے ہیں سُرورِؔ دلِ حَزیں ہر دم
بھلا دیواں ہو کیوں کر جمع ہم آتش بیانوں کا

اس حِکایتِ جاں سُوز، شکایتِ چرخِ بے مہر، غم و اندوز سے سب رُونے لگے، کہا: یہ شاہ زادۂ عالی تبار ہے؛ اِلا، دل از دست دادہ، محبوبوں سے دور فُتادہ، اِس سبب سے دل افگار ہے۔ مِنت و سماجت سے مکان پر لے گئے۔ ہاتھ مۃنہ دُھلوا کھانا پانی حاضر کیا۔ شہ زادۂ جانِ عالم نے آب و طعام دیکھ رُو دیا، یہ کہاِ اُستاد :

ہو خاک بھوک کی اُس فاقہ مست کو پھر جھانجھ (۱)
جو اپنا خونِ جگر، روز ناشتا سمجھے

خدا جانے میرے بِچھڑوں کا کیا حال ہوا! کسی کو دانہ پانی مُیسر آیا، یا کچھ نہیں پایا! میں بھی کھاؤں گا، بھوکا پیاسا اِسی کُوفت میں مر جاؤں گا۔ وہ بولے :
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۶۹

حضرت سلامت! کھانے پینے سے انکار نادانی ہے، اِسی سے بشر کی زندگانی ہے۔ جو جیتے ہو تو کسی روز بِچھڑوں سے مل جاؤ گے، وگرنہ غُربت کے مر جانے میں گُور و کفن بھی نہ پاؤ گے۔ ناچار سب کے سمجھانے سے، دو ایک نوالے بہ جبر حلق سے اُتارے، پانی جو پیا، ہاتھ پاؤں سنسانئے، پیہم غش آئے۔ جب طبیعت ٹھہری؛ سب حالِ پُر ملال، جہاز کی تباہی، انیسانِ ہم راز کی جُدائی، اپنا ڈوبٹے اُچھلتے وہاں تک آنا، اوروں کا پتا نہ پانا بیان کر کے، بہ قولِ میرزا حُسین بیگ صاحِب یہ کہا، بیت :

ہمر ہاں رفتند و ما ما ندیم و دُز داں در کمیں (۱)
خانۂ ملاح در چین است و کشتی در فرنگ

سب تاسُف کرنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: یہاں سے دو منزل ایک پہاڑ ہے، کُوہِ مطلب برآر نام ہے، اُس جُوگی کا مقام ہے: مردِ باکمال، شیریں مقال۔ ہزاروں کُوس سے حاجت مند اُس کے پاس جاتے ہیں، سب کے مطلب بَر آتے ہیں۔ بس کہ اُس پر عنایتِ باری ہے، چشمۂ فیض اُس سے جاری ہے۔ مشہور ہے کہ آج تک کوئی شخص محروم، ناکام اُس مقام سے نہیں پھرا۔ یہ مُژدہ سُن کر چہرے پر بشاشت چھا گئی، گئی ہوئی جان اُسی آن بدن میں آ گئی، گھبرا کر یہ شعر پڑھا، حافظؔ :

آنا نکہ خاک را بہ نظر کیمیا کنند
آیا بود کہ گوشۂ چشمے بما کنند (۲)
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۰

اُسی دم چلنے کا عزم کیا۔ وہ لوگ مانع ہوئے، کہا : ابھی جانے کی طاقت آپ میں آئی نہیں، پاؤں میں راہ چلنے کی تاب و توانائی نہیں۔ دو چار روز یہاں آرام کرو۔ قُوت آ جائے تو مختار ہو۔ غرض کہ جانِ عالم نے اُن لوگوں کے سمجھانے سے وہاں مُقام کیا۔ عجب پریشانی میں صُبح کو شام کیا کہ گِزد وہ سب حلقہ ذن، یہ بہ اندُوہِ معشوقاں گَرِفتار رنج و محن۔ کبھی تو محزؤں چُپ رہتا، گاہ مثلِ مجنوں خود بہ خود بکنے لگتا۔ اور جب حواسِ خمسہ دُرُست ہوتے، یہ خمسہ پڑھتا، اُستادؔ :

ہر سو خبرِ اُلفت کیا آپ سے پہنچائی (۱)
آگے بھی مرے لب پر فریاد کبھی آئی
کیوں مجھ سے بگڑتا ہے اُو کافرِ ترسائی
تا داشت دلم طاقت، بودم بہ شکیبائی

چوں کار بجاں آمد، زیں پس من و رُسوائی

گاہے مرے لب پر ہے فریاد، گہے افغاں
پیارے! غمِ دورے سے میں سخت ہوں اب نالاں
یہ جاے ترحُم ہے، کر رحم ذرا جاناں
در زاویۂ الفت دور از تو چو مہجوراں

تنہا منم و آہے، آہ از غمِ تنہائی

ہے دن کو تو یہ عالم ظالم، ترے مجنوں پر
ہیں گرد کھڑے لڑکے، جھولی میں بھرے پتھر
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۱

سُونے کی کسے فُرصت، اے یار اِسے باوَر کر
شبہا منم واشکے، وزخوں ہمہ بالیں تر

عشق ایں ہُنرم فرمود، اَرعیب نفرمائی

اَعضا شِکنی گاہے، گہ دردِ جگر، دیکھو
رومال بھگوتا ہوں لاکھوں ہی کبھی رُو رُو
گردن زدنی ہوں میں، شکوہ کروں تیرا، گُو
صد رنج ہمی بینم اے راحتِ جاں از تو

از دیدہ تواں دیدن چیز یکہ تو بنمائی

تھا تاب و تحمل میں یکتا جگرِ خسروؔ
آگے تو نہ بہتی تھی سِلکِ گُہر خسروؔ
تو اب تو نوازشؔ لو چل کر خبرِ خسروؔ
بس دُر کہ ہمی ریزد از چشمِ ترِ خسروؔ

کز دست بروں رفت است سر رشتۂ دانائی

آخِرشِ، وہ رات کی رات بہ ہزار عُقوبات تڑپ تڑپ کر سحر کی، نمازِ صبح کے بعد پہاڑ کی راہ لی۔ چار دن میں ناچار وہ راہ طے کی، پہاڑ پر پہنچا۔ سنگِ سفید کا پہاڑ بہت آب دار، مانندِ ہمتِ جواں مردانِ صاف باطن سر بلند اور مثالِ طبعِ سَخُنوَراں فرح افزا و دل پسند۔ درہ ہائے فراخ کُشادہ، رُوشن۔ جوشِ نباتات، رُوئیدگیِ ریاحین و لالہ زار سے اور خرُوشِ مُرغانِ خوش الحاں سے رشکِ صد گلشن۔
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۲

چشمہ ہاے سرد و شیریں جا بہ جا، فرہاد کی روح کا ٹِھیکا۔ ہر قسم کا میوہ دار درخت قدرتِ حق سے اُگا، پھولا پھلا۔ پتھر ہر ایک معدنِ لعل۔ پرند چرند صاحبِ حُسن و جمال۔ یہ سیر دیکھتا چلا۔ ایک طرف درخت گنجان، گھنے؛ پُختہ مزار بیدار دِلوں کے بنے۔ اور منڈھی کا گُنبد بسانِ گُنبدِ گرداں، بیسُتوں کا جواب بنا۔ تِرسؤل کھڑا، کھارُوِے کھ جھنڈے پُھر پُھر اُڑتے، کلمہ شہادے بہ خطِ جلی اُس پر لکھا صاف معلوم ہوا۔

جب اُ س کے نزدیک آیا؛ دور دور تک مکان صاف، صحن شفاف پایا۔ مَٹُھ کے رؤ بہ رؤ درخت کے تلے چبوترے کے اوپر ایک جُوگی، سو سوا سے برس کا سِن و سال، مگر ٹانٹھا کمال۔ ڈاڑھی ناف سے بڑی، گِرہ لگی۔ جٹا ہر ایک راکھ سے بھری، قدم بُو ہو رہی، پاؤں پر پڑی۔ پلکیں دیدۂ حق بیں کا اسرار چھپانے کو، چشم حاسد کی گزند بچانے کو موچھوں سے ملیں۔ جسم میں موجِ دریا کی طرح جُھریاں پڑیں۔ کمر میں کردھنی مُوٹی سی مہین بان کی، عجب آن بات کی۔ کھاڑوے کا لنگُوٹ ستر عورتیں کا اُوٹ۔ گلے میں محمودی کی کفنی، سامنے گریبان پھٹا، کارِ سُوزنی، سِر پوشیدہ نہیں، کھلا، حُقہ چوگانی مُنہ سے لگا۔ افیونیوں کی شکل بنائے، شیر کی کھال بچائے، بھبؤت رمائے، دید وا دید سے بہ ظاہر آنکھیں بند، مگر دیدۂ دل کُھلا۔ خموشی پسند قلبِ گُویا بُولتا۔ سوتا نہ جاگتا، آسن مارے، دُنیا سے کنارے خُدا جانے کس پینک میں بیٹھا۔ پیٹ پیٹھ
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۳

سے لگا۔ تیر سا قدِ راست مثلِ کماں خمیدہ، گُویا چِلہ کھینچ چکا ہے۔ اُنار آسا رگیں عیاں۔ کھال سے ہڈیوں کے جُوڑ شمعِ فانوس نمط نُمایاں۔ تسبیحِ سُلیمانی، ایمان کی نشانی ہاتھ میں۔ "ہر بھجُو، ہر بھجُو" تکیہ کلام بات میں قشقہ، ٹیکا ماتھے پر ہندوؤں کا، اور سجدے کا گھٹا بدرِ کامل کی صورت چمکتا۔ زرد مِٹی بدن میں، ذِکِر حق دل و دہن میں۔ کہیں مُصلے پر سُبحہ و سجدہ گاہ رکھی، کپڑے کی جانماز بچھی کسی جا پُوتھی کُھلی، دھونی رمی؛ دونوں سے راہ دکھی۔ عجب رنت کا انسان، خُلاصہ یہ کہ ہندو نہ مسلمان، بہ قولِ مرزا سوداؔ :

کس کی مِلت میں گِنوں آپ کو، بتلا اے شیخ! (۱)
تو کہے گبر مجھے؛ گبر، مسلماں مجھ کو

ایک طرف تکیے میں دو چار کیاریاں، بیلے چنبیلی کی بہار، گُل کاریاں۔ کہیں مُرشدوں کے ڈھر، گُرؤ کی چھتری، بزرگوں کے مزار؛ اُن پر مولسری کے درخت سایہ دار قطار قطار۔ درختوں کی ٹہنیوں میں پِنجرے لٹکتے، جانور باہم بحث کرتے، اٹکتے، فاختہ کی کؤ کؤ، قُمری کی حق سرہ، کُوکلا کے دم، سناٹے کا عالم۔ کہیں مزگ چھالا بچھا، شِیر چوکی دیتا، دھونی لگی، لکڑ سُلگتا۔ کسی جا ببر کی کھال کا بِسترا، آہوے صحرائی اُس پر بیٹھا؛ اُداسا، تُونبال بے منتا دھرا۔ ایک سمت بھوانی کا مٹھ، تُلسی کا پیڑ ہرا بھرا، گِرد چشمہ پانی کا بھرا۔ جاے دل چسپ، مکانِ رُعب دار، گُلِ خُوِد رُو کی جُدا بہار۔ ایک طرف بھنڈارا جاری، کڑھا و چڑھا، مُوہن بُھوگ ملتا۔ کہیں پُلاو،
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۴

قلیے کی تیاری، چھاندا بٹ رہا تھا۔ کچھ مہنت بالکے، کچھ مُرید حال قال کے، کوئی چِلے میں بیٹھا، کوئی دُنیا سے ہاتھ اُٹھائے کھڑا کسی کے خِرقہ و تاج سر و تن میں، کوئی چواگن میں۔ کہیں کتھا ہوتی، کوئی وعظ کہہ رہا۔ ایک طرف خنجری بجتی، تنبورا چِھڑتا، بھجن ہوتے۔ ایک سمت حلقہ مُراقبے کا بندھا، توجُہ پڑ رہی، لوگ رُوتے۔ عجیب وہ گُرو مُرشِد، غریب یہ مُرید چیلے۔ روز ایک دو کو مونڈتا۔ تیسرے چوتھے دن عُرس، ہر ہفتے میں میلے۔ حاصِلِ کلا یہ کہ وہ عجب جلسہ تھا کہ دیکھا نہ سُنا۔ یہ اِجتماعِ نقیضین آرام و چین سے۔

شہ زادے کے پاؤں کی آہت جو پائی؛ مردِ آگاہ دل، رُوشن ضمیر نے پلک ہاتھ سے اُٹھائی، آنکھ مِلائی۔ دیدے لال لال چڑھے پُر رُعب و جلال۔ جانِ عالم کو بہ غور دیکھا۔ اِس نے جُھک کر مُؤدب شلام کیا۔ اُس خوش تقریر، شیریں مقال نے کہا: بھلا ہو بچہ! بڑی مصیبت فلک نے دکھائی جو یہ صورت یہاں تک آئی۔ آؤ بیٹھو، گُرو بھلا کرے۔ مُرشِد کی دُعا سے حق، حاجت روا کرے۔ ہم تمہارے امانت دار ہیں؛ سواری کھڑی ہے، چلنے کو تیار ہیں۔

جانِ عالم مُتحیِر تو ہو رہا تھ، زیادہ حیران ہوا کہ یہ کیا اسرار ہے۔ پاس جا بیٹھا۔ جُوگی اُٹھا، چشمے میں جا کر نہایا۔ گیروا چادرا پھینک، سفید اُوڑھ، عِطر لگا، جانِ عالم کے نزدیک آ، یہ نُکتہ زبان پر لایا: بابا! ایک دن ذوق شوق کے عالم میں ہمارے
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۵

مُرشِد گُرو نے تیرے حال سے خبر دی تھی کہ ایک شہ زادے کا جہاز تباہ ہو جائے گا، وہ بہ سُراغِ مطلب یہاں آئے گا؛ اُس کا کام تجھ سے، تیرا کام اُس کے سامنے پورا ہو جائے گا۔

اِس بات کے سُننے سہ زادے کو نہایت مسرت ہوئی، کہا: جُوگی جی! تمہارے نام سے میری زندگی ہوئی؛ وگرنہ دو چار دن میں گِرِیبانِ صبر چاک ہو جاتا، میں سِر پٹک کر ہلاک ہو جاتا۔ خوب صورتی کا بھی عجب مزہ ہے، جہان اِس کا شیدا ہے۔ عالم کو مرغوب ہے، طرح دار سب کا محبوب ہے۔ پیر فقیر، غریب امیر سب کو عزیز ہے۔ اِس کا خواہش مند ہر باتمیز ہے۔ جوگی سمجھانے لگا کہ یہ اِضطراب عالمِ اسباب میں بیجا ہے۔ دیر آید، دُرست آید۔ بابا! دُنیاکا یہ نقشہ ہے: کسی شے کو ایک وضع پر دو گھڑی ثبات و قرار نہیں۔ اس کی نیرنگی کا اِعتبار نہیں۔ گاہ خوشی، کبھی غم؛ یہ دونو ں امر باہم ہیں۔ کبھی وصل کی شام کو دل کیسا بشاش ہوتا ہے، کبھی ہجر کی صبح کو کلیجا پاش پاش ہوتا ہے۔ ایک شب بستر پر لذتِ ہم کناری ہے۔ ایک روز پہلو تِہی، گِریہ زاری ہے۔ کبھی شبِ وصل کیا کیا اِختلاط ہوتے ہیں۔ گاہ فصل کے دن سِر پیٹتے ہیں، رُوتے ہیں۔ آدمی جب رنج سے گھبرائے اور غمِ مفارقتِ دوست جان ہونٹوں پر لائے؛ دل کو یہ تسکین دے کر بہلائے، مصرع :

چناں نماند و چنیں نیز ہم نخواہد ماند (۱)

مصرع :

در پسِ ہر گریا، آخر خندہ ایست (۲)
 

شمشاد

لائبریرین
صفحہ ۲۷۶

مُصحفجیؔ :

زِندگی ہے تو خِزاں کے بھی گزر جائیں گے دن (۱)
فصلِ گُل جیتوں کو پھر اگلے برس آئے گی۔

جو وصل میں راحت و آرام پاتا ہے؛ وہی ہجر کے دُکھ، قلق اُٹھاتا ہے۔ تو نے اُن دونوں بھائی، جو توام پیدا ہوئے تھے، اُ ن کا قصہ سُنا نہیں، کہ پہلے اُنھوں نے کیا کیا صعوبت اُٹھائی، پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ شہ زادی آئی۔ جانِ عالم نے کہا : ارشاد ہو، کیوں ہے؟

حکایتِ پُر عبرت، جاں سوز، حیرت افزا، غم اندوز؛ یعنی سانحۂ برادرانِ توام۔ جانا شکار کا، دام قضا میں پھنسنا طائرانِ پُر اعجاز، عجائبِ روزگار کا۔ پھر ایک نے سلطنت پائی، دوسرے کے ہاتھ بہ صد خرابی شہ زادی آئی۔

جوگی نے کہا: ایک شہر میں دو بھائی تھے توام، پرورش یافتۂ ناز و نعم، رُوزگار پیشہ، نیک اندیشہ سو اے رشتۂ برادری، سر رِشتۂ دوستی و اِتحاد وہ نیک نِہاد باہم مُستحکم رکھتے تھے؛ مگر دونوں کی طبیعت مُتوجِہِ سیرو شکار، ہمت مصروفِ سیاحِیِ دِیار دِیار تھی۔ ایک روز شکار کھیلتے جنگل میں جاتے تھے، ہِرن سامنے آیا۔ چھوٹے بھائی نے تیر لگایا، کاری نہ لگا۔ ہِرن
 
Top